Baaghi TV

Tag: آبدوز

  • مصر : 45 افراد سے بھری سیاحتی آبدوز ڈوبنے سے 6 افراد ہلاک

    مصر : 45 افراد سے بھری سیاحتی آبدوز ڈوبنے سے 6 افراد ہلاک

    قاہرہ: مصر کے ساحلی شہر الغردقۃ میں ایک سیاحتی آبدوز ڈوبنے سے چھ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ نو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : مقامی حکام کے مطابق آبدوز میں 45 غیر ملکی سیاح سوار تھے، جن میں سے 29 کو ریسکیو ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا ریڈ سی گورنریٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آبدوز سیاحتی تفریحی علاقے کے ایک ساحل کے قریب سفر کر رہی تھی، تاہم، فوری طور پر اس کے ڈوبنے کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں۔

    امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں میڈیا کو بریفنگ دینے کی اجازت نہیں تھی، تاہم، مصر میں روسی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ الغردقہ کے قریب ڈوبنے والی آبدوز میں سوار تمام سیاح روسی شہری تھے۔

    فیس بک پر جاری ایک بیان میں سفارت خانے نے بتایا کہ آبدوز میں 45 مسافر موجود تھے، جن میں بچے بھی شامل تھے یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ساحل سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔

    بحیرہ احمر میں جمعرات کے روز ڈوبنے والی سندباد آبدوز کئی سالوں سے الغردقۃ کے مشہور سیاحتی مقام پر سیاحوں کی تفریحی سیر کے لیے استعمال ہو رہی تھی اس آبدوز میں ماضی میں سفر کرنے والوں میں یوٹیوب چینل ”ولیئمز اسٹریٹ فیملی ڈائریز“ کے ممبران بھی شامل تھے، جنہوں نے پانچ ماہ قبل ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں آبدوز کے اندرونی مناظر دکھائے گئے تھے۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسافر ایک لمبی کیبن میں دونوں طرف نشستوں پر بیٹھے ہیں اور بڑے گول کھڑکیوں سے زیر آب مناظر دیکھ رہے ہیں ایک منظر میں شیشے کے بالکل قریب مچھلیوں کو تیرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے، جبکہ کاک پٹ میں دو عملے کے ارکان کنٹرول سنبھالے ہوئے نظر آتے ہیں، جہاں مختلف سوئچز اور مانیٹرز کے ساتھ سمندر کا واضح سامنے کا منظر موجود ہے۔

    سندباد آبدوز سیاحوں کو تین گھنٹے کی زیرِ آب سیر کی سہولت فراہم کرتی تھی، جس میں وہ بحیرہ احمر کے خوبصورت مرجان کی چٹانوں کا نظارہ کر سکتے تھےیہ آبدوز الغردقۃ کے قریب کام کر رہی تھی، جو برطانوی، جرمن اور دیگر بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ایک مشہور تفریحی مقام ہے۔

  • سمندر میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کے پھٹنے کی خوفناک آڈیو جاری

    سمندر میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کے پھٹنے کی خوفناک آڈیو جاری

    امریکی سائنٹیفک ایجنسی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموس فیرک ایڈمنسٹریشن نے ٹائی ٹینک کے ملبے کی طرف سفر کے دوران تباہ ہونے والی آبدوز ٹائٹن کی تباہی کے وقت کی خوفناک آڈیو جاری کردی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ادارے کی جانب سے جاری کردہ 20 سیکنڈ کی آڈیو میں کسی چیز کے پھٹنے کی آواز ہے اور پھر ایک شور سنائی دیتا ہے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب سفر کے دوران تباہ آبدوز ٹائٹن کی تباہی کے وقت کی آوازیں ہیں۔

    نیویارک پوسٹ کے مطابق اس ریکارڈنگ کو ایک مورڈ پیوسیو ایکوسٹک کے ذریعے حاصل کیا گیا جہاں سے تقریباً 900 میل دور اوشین گیٹ کی آبدوز پانی کے دباؤ میں پھنس گئی تھی اس حوالے سے امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا اس کلپ سے پتا چلتا ہے کہ یہ ٹائٹن کے آبدوز کے پھٹنے کی آواز کے اخراج کے صوتی اخراج کا مجموعہ ہے۔

    امریکی بحریہ کا طیارہ سان ڈیاگو بے میں حادثے کا شکار

    واضح رہے کہ اوشین گیٹ Expeditions کی تیار کردہ یہ آبدوز گزشتہ سال18 جون کو بحر اوقیانوس میں ٹائی ٹینک کی جانب جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی تھی اس کے نتیجے میں ٹائٹن آبدوز میں سوار کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اسٹاکٹن رش، دو پاکستانی شہری شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد سمیت ہیمش ہارڈنگ اور پال ہنری نارجیولیٹ ہلاک ہو گئےتھےکئی دن کی تلاش کے بعد اس کا ملبہ دریافت ہوا تھا اور حکام نے بتایا تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ آبدوز ٹائٹن لاپتا ہونے کے فوراً بعد ہی تباہ ہوگئی تھی۔

    شوبز چھوڑنے کیلئے مولانا طارق جمیل نے 3 کروڑ روپے کی آفر کی

  • امریکہ نے جوہری میزائل آبدوز تعینات کر دی

    امریکہ نے جوہری میزائل آبدوز تعینات کر دی

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن غزہ پر بات چیت کے لئے غیر معمولی حالات میں ترکی پہنچ گئے ہیں. امریکی فوج نے یہ اعلان کرتے ہوئے غیر معمولی قدم اٹھایا ہے کہ اس نے خطے میں ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوز بھیجی ہے۔

    اتوار کو دیر گئے، امریکی سینٹرل کمانڈ، نے کہا کہ ایک اوہائیو کلاس جوہری میزائل آبدوز خطے میں پہنچ گئی ہے – جوہری آبدوز کی پوزیشن کا ایک غیر معمولی عوامی اعلان جسے ایران کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھاجا رہا ہے،ایٹمی میزائل آبدوز اسرائیل کے عام علاقے میں کہیں تعینات ہے۔امریکا پہلے ہی دو طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ بھیج چکا ہے

    دوسری جانب اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر فلسطینی کارکن احد تمیمی کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے 2018 میں نوعمری کے طور پر عالمی سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب اسے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں فوجیوں کو تھپڑ مارنے کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تمیمی کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے قریب نبی صالح کے گاؤں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مغربی کنارے کے آباد کاروں کے قتل کا مطالبہ کیا تھا۔اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں تمیمی کی گرفتاری کو سراہتے ہوئے اسے "دہشت گرد” قرار دیا۔

    وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر کملا ہیرس پیر کے روز غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ رابطے کریں گی،وہیں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز اتوار کو اسرائیل پہنچے ہیں، اور وہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور موساد کے سربراہے علاوہ دیگر لوگوں سے بات چیت کریں گے۔اس کے بعد ان سے خطے کے دیگر ممالک کا سفر متوقع ہے جہاں وہ انٹیلی جنس ہم منصبوں سے "غزہ کی صورتحال، یرغمالیوں کے لیے مذاکرات کی حمایت، اور ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان تنازع کو وسیع کرنے سے روکنے کے لیے جاری امریکی عزم سمیت” مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

    چاند پر بھیجے گئے چندریان 3 مشن کی کامیابی کے بعد بھارت سمندر کی گہرائیوں میں انسان بردار مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے-

    باغی ٹی وی: بھارت کی جانب سے پراجیکٹ سمندریان کے تحت 3 افراد کو زیر آب 6 ہزار میٹر گہرائی میں بھیجا جائے گا، جس کے لیے ایک خصوصی آبدوز تیار کی جا رہی ہے اس مشن کا مقصد سمندر کی گہرائی میں موجود دھاتوں جیسے کوبالٹ، نکل اور مینگنیز کو تلاش کرنا ہے جبکہ سمندری ماحول کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی۔

    سمندریان، انسان اور بغیر پائلٹ کے ایکسپلوریشن پر مشتمل ہے اورر یہ ارتھ سائنس کی وزارت کی طرف سے شروع کی گئی ایک انتہائی اہم کوشش ہے بغیر پائلٹ کا مشن 7,000 میٹر سے آگے جا چکا ہے، جب کہ انسان بردار مشن کے لیے آبدوز زیر تعمیر ہے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ میں اپنے سائنسدانوں اور انجینئروں کے ساتھ تعمیر کی پیشرفت کی نگرانی کروں گا مجھے امید ہے کہ ہم اسے وقت پر مکمل کر لیں گے،سمندر میں زندگی اور زمین پر زندگی کا براہ راست تعلق ہے ہمیں اپنے مستقبل کو مزید محفوظ بنانا چاہیے اور خود کو بہتر علمی نظام سے مالا مال کرنا چاہیے، وقار کے ساتھ رہنا چاہیے اور فطرت کا احترام کرنا چاہیے خدا ہم پر مہربان ہے۔

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر …

    اس آبدوز کو Matsya 6000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کی تیاری لگ بھگ 2 سال سے جاری ہےاس آبدوز کی اولین آزمائش چنائی کے ساحل کے قریب خلیج بنگال میں 2024 کے شروع میں کی جائے گی یہ ٹائٹن آبدوز کی طرح کی آبدوز ہوگی جسے خصوصی طور پر سمندر کی گہرائی میں انسانی مشنز کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
    https://x.com/KirenRijiju/status/1701175948673269772?s=20
    واضح رہے کہ ٹائٹن وہ آبدوز ہے جو جون 2023 میں بحر اوقیانوس میں ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب جاتے ہوئے تباہ ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے بھارتی Matsya 6000 کے ڈیزائن کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں بھارت کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی (این آئی او ٹی) کے سائنسدان اس آبدوز کو تیار کر رہے ہیں اور اس کے ڈیزائن، میٹریل، آزمائشی مراحل اور اسٹینڈرڈ پروٹوکول طے کریں گے۔

    ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    بھارتی وزارت ارتھ سائنسز کے سیکرٹری ایم روی چندرن نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ سمندریان مشن پر کام جاری ہے اور اس کی آزمائش 2024 کی اولین سہ ماہی کے دوران سمندر کی 500 میٹر گہرائی میں کی جائے گی اس آبدوز کی تصویر اور دیگر تفصیلات بھارت کے وزیر ارتھ سائنسز کرن ریجیجو نے ایک ایکس پوسٹ میں شیئر کی تھیں،یہ پراجیکٹ 2026 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

    اس وقت امریکا، روس، جاپان، فرانس اور چین ایسے ممالک ہیں جو اس طرح انسان بردار مشن سمندر کی گہرائی میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں این آئی او ٹی کے ڈائریکٹر جی اے رام داس نے بتایا کہ 2.1 قطر کی گول آبدوز میں 3 افراد سفر کر سکتے ہیں، اس آبدوز کو 80 ملی میٹرموٹی ٹائیٹینیم کی چادر سےتحفظ فراہم کیا گیا ہے اور وہ 6 ہزار یٹر گہرائی میں سمندر کی سطح سے 600 گنا زیادہ دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہےیہ آبدوز ایک وقت میں 12 سے 16 گھنٹے سفر کرسکے گی جبکہ اس میں 96 گھنٹے کے لیے آکسیجن کی سپلائی موجود ہوگی۔

    اسلام آباد میں امریکی سفیرکی الیکشن کمشنرسےملاقات پرامریکا کی وضاحت

  • پانچ افراد کی موت،پھر بھی کمپنی ٹائی ٹینک کی باقیات دیکھنے کے خواہشمند ڈھونڈ رہی

    ٹائٹن حادثے میں 5 افرادکی موت سے بھی سبق نہ سیکھا گیا۔

    اوشین گیٹ ایکسپی ڈیشنز نے ٹائی ٹینک کی باقیات دیکھنے کے خواہش مندوں کے لئے سیاحتی سفر کا اشتہار ایک بار پھر جاری کر دیا ہے، ٹائٹن کے تباہ ہونے کے بعد بھی کمپنی کی جانب سے اشتہار جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹائی ٹینک کی باقیادت دیکھنے کے لئے ڈھائی لاکھ ڈالر کا سیاحتی سفر کریں،اگلے سال ٹائیٹینک کے ملبے تک جانے کے لیے 2 دوروں کا اشتہار ابھی تک کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود ہے، ابھی پچھلے حادثے کو ہوئے شاید دس دن بھی‌ نہیں ہوئے،

    اوشین گیٹ ایکسپی ڈیشنز کی ویب سائٹ پر موجود اشتہار کے مطابق، گہرے سمندر کی تلاش کرنے والی کمپنی اگلے سال 12 سے 20 جون اور 21 جون سے 29 جون تک، 250,000 ڈالر کی لاگت سے ٹائیٹینک کے دو دوروں کا منصوبہ بنا رہی ہے اس کرایے میں ایک آبدوز غوطہ خوری، نجی رہائش، تمام ضروری تربیت، مہم کا سامان اور جہاز کے کھانے کی قیمت شامل ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ پہلے دن مسافر اپنی مہم کی ٹیم سے ملنے اور جہاز پر سوار ہونے کے لیے سمندر کے کنارے واقع شہر سینٹ جانز پہنچیں گے

    واضح رہے کہ 1912 میں تباہ ہونے والے مسافر بردار بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کیلئے جانے والی آبدوز ٹائٹن 18 جون کو بحر اوقیانوس میں لاپتا ہوگئی تھی اوشین گیٹ کی ٹائٹن آبدوز کے حادثے میں پاکستانی کاروباری شخصیت شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد سمیت 5 سیاح مارے گئے تھے ،امریکی کوسٹ گارڈ نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ٹائٹن آبدوز کے ملبے سے ممکنہ طور پر انسانی باقیات بھی ملی ہیں

    سیاحوں کی آبدوز ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع 

    آبدوز ٹائٹن کے سفر کی رعایتی پیشکش ٹھکرا کر بچ جانے والا جے بلوم

    روس:ویگنر گروپ نے اپنے جنگجوؤں کوواپس بُلالیا

     اوشین گیٹ کمپنی کی آبدوز ’ٹائٹن‘ کا ملبہ نکال لیا گیا

  • ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات  شروع

    ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع

    کینیڈین حکام نے بحراوقیانوس میں سیاحوں کی آبدوز ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع کر دیں-

    باغی ٹی وی : کینیڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (ٹی ایس بی) نے کہا کہ وہ آبدوز ٹائٹن سے متعلق تمام امورکی ’’سیفٹی انویسٹی گیشن‘‘ شروع کررہا ہے کیونکہ اس کا سطحی معاون جہاز، پولر پرنس، کینیڈا کا جہاز تھا ٹی ایس بی کی ایک ٹیم جائے حادثہ سے تقریباً 400 میل شمال میں معلومات اکٹھی کرنے اور انٹرویو لینے کے لیے روانہ کی گئی۔

    واضح رہےکہ جمعرات کو کینیڈین جہاز کےتعینات کردہ روبوٹک ڈائیونگ گاڑی نےآبدوز ٹائٹن کےملبےکا پتا لگایا تھاجس میں دو پاکستانیوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے سیاحتی آبدوز کے امور دیکھنے والی کمپنی اوشن گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش بھی اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی کمپنی کے شریک بانی گلیرینو سہولن نے 2009 میں کہا تھا کہ اسٹاکٹن رش سمندر کی گہرائیوں کو تلاش کرنے کے خطرات سے “بڑی حد تک آگاہ” تھا۔

    روس:ویگنر گروپ نے اپنے جنگجوؤں کوواپس بُلالیا

    کمپنی اوشین گیٹ کی جانب سے ٹائٹن کے تباہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا گیا کہ اب ہمیں یقین ہے کہ ہم ہمارے سی ای او اسٹاکٹن رش، شہزادہ داؤد اوران کے بیٹے سلیمان داؤد، ہیمش ہارڈنگ او ر پال ہنری نار جیولیٹ کو کھو چکے ہیں، یہ تمام لوگ سچے ایکسپلورر تھے جنہوں نے مہم جوئی کا ایک الگ جذبہ دکھایا۔ اس المناک وقت میں ہمارے دل ان پانچوں روحوں اور ان کے خاندان کے ہر فرد کے ساتھ ہیں۔ ہمیں جانی نقصان کا غم ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق سرچ آپریشن میں شامل ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ملنے والا ملبہ آبدوز کے لینڈنگ فریم اور پچھلے کور پر مشتمل ہے، ملبہ ملنا نشاندہی کرتا ہے کہ آبدوز دھماکے سے تباہ ہوئی-

    آبدوز ٹائٹن کے سفر کی رعایتی پیشکش ٹھکرا کر بچ جانے والا جے بلوم

  • ٹائیٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے،ماہرین

    ٹائیٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے،ماہرین

    بحر اوقیانوس میں ٹائٹینک کی سیاحت کے لیے جانے والی آبدوز ٹائٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کے آثار تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائٹینک کا نظارہ کرنے سمندر کی تہہ میں جانے والوں کے بچنے کا امکان صرف ایک فیصد سے بھی کم ہےامریکا اور برطانیہ کی آبدوزوں کو آپریٹ کرنے والےبحریہ کے اہلکار بھی اتنا نیچے نہیں جاتے ہیں، اگر بحریہ کی آبدوز اتنا نیچے چلی جائے تو اس کا مطلب ہے تمام عملہ جان سے جان چکا۔

    ماہرین کے مطابق سطح سمندر کے مقابلے میں تہہ میں دباؤ چار سو گنا بڑھ جاتا ہے، یہ اتنا دباؤ ہے کہ کسی کمرے پر پریشر ہو تو ساری ہوا نکل جائے اور چھت کرچی کرچی ہوجائے اس دباؤ پر ٹائٹن میں سوراخ ہو تو اندر موجود افراد کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ وہ کب مرچکے تہہ میں ٹائٹن مل بھی جائے تو اسے باہر نکالنے کے لیے ڈھائی میل لمبے تار کا ہُک اس میں ڈالنا ہوگا جو تقریباً ناممکن ہے آبدوز میں موجود افراد کے لیے صرف چند گھنٹوں کی آکسیجن رہ گئی ہے۔

    لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف

    امریکی بحریہ کے کنٹریکٹر نے کہا ہے کہ ہر شخص منتظر ہے کہ امریکی بحریہ انہیں بچا لے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی آبدوز صرف دو ہزار فٹ نیچے جاسکتی ہیں، کوئی ایسا نہیں جو ٹائٹن تک جاکر لوگوں کو بچا سکے واحد امید یہ ہے کہ ٹائٹن خود سطح سمندر پر آجائے تاکہ لوگوں کو بچایا جاسکے۔

    ٹائٹن میں موجود ہامیش ہارڈنگ کے دوست کا کہنا ہے کہ انہیں تحفظ کے خطرات محسوس ہوئے تھے اس لیے انہوں نے ہامیش کے ساتھ ٹائٹن میں جانے سے انکار کردیا تھا۔

    20 سال سے جل پری کا روپ دھا رکر پانیوں میں سفر کرنےوالی خاتون

  • لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف

    لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف

    تین دن قبل بحر اوقیانوس کے وسط میں ٹائٹینک کی سیاحت کیلئے جانے والی گہرے سمندر میں لاپتہ ہوئی آبدوز کو ڈھونڈنے کے لئے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے-

    باغی ٹی وی :برطانوی اخبارمرر نے انکشاف کیا ہے کہ ٹائی ٹینک کے قریب لاپتا ہونے والی آبدوز کی کمزور سیفٹی پر ماضی میں خدشات کا اظہار کیا گیا تھا میرین ٹیکنالوجسٹ سوسائٹی نے ٹائٹن کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے اور کمپنی کے سی ای او کو متنبہ کیا گیا تھاکہ’ٹائٹن’ سانحے سے دو چار ہو سکتا ہے آبدوز کو آزاد انسپکٹرز سے چیک نہیں کرایا گیا تھا،کمپنی کے سابق افسر نے بھی سنگین سیفٹی خامیوں پرتوجہ دلائی تھی، افسر نے انتہائی گہرائی میں ٹائٹن کو مسافروں کے لیے شدید خطرے کا امکان ظاہر کیا تھا واضح نہیں ہوسکا اوشین گیٹ کے سی ای او نے ٹائٹن پر خدشات والے خط کا جواب دیا تھا یا نہیں۔

    بی بی سی کے مطابق سونار بوائے کے علاقے میں سگنل ملنے کے بعد امید کی ایک کرن جاگی تھی کہ ٹائٹن پر سوار پانچ افراد زندہ ہیں امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ تفتیش کے لیے زیر آب آپریشنز کو منتقل کر دیا گیا ہے، لیکن ابھی تک انہیں کچھ نہیں ملا ہے لیکن جمعرات کومقامی وقت کے مطابق تقریباً 11:00 بجے آکسیجن کی سپلائی ختم ہونے کی توقع ہے اگلے چند گھنٹے نازک ہیں۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کئی دکانوں کی رپورٹوں کے مطابق منگل کو تقریباً چار گھنٹے تک آدھے گھنٹے کے وقفے سے آوازیں سنی گئیں۔

    بی بی سی نے گہرے سمندر کے ماہرین سے بات کی ہے کہ اعداد و شمار کو دیکھے بغیر یہ طے کرنا مشکل ہے کہ یہ شور کیا ہو سکتا ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ وہ مختصر، تیز، نسبتاً زیادہ تعدد والی آوازیں ہو سکتی ہیں جو برتن کے اندر سے کسی سخت چیز کو نیچے کے سرے سے ٹکرانے سے بنتی ہیں۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

    برطانوی میڈیا کے مطابق اس ریسکیو مشن میں امریکی بحری جہاز ہورائزن آرکٹک آج رات تک شریک ہو جائےگا، ریسکیو مشینری امریکی کارگو طیاروں کے ذریعے کینیڈا کے ائیرپورٹ پہنچادی گئی ہےامریکا سے آنے والے آلات میں کیبلز، زیر سمندر 19ہزار فٹ تک جانے والے آلات شامل ہیں جب کہ امریکا سے آنے والے امدادی آلات، ہورائزن آرکٹک جہازپر نصب کرکے سمندرمیں بھیجے جائیں گے، ہورائزن آرکٹک جہاز ٹائی ٹینک پوائنٹ تک 15 گھنٹے میں پہنچے گا، آکسیجن کم ہونے کے سبب اس کوشش کو ریسکیو کی آخری کوشش سمجھا جا رہا ہے، جہاز کے ٹائی ٹینک پوائنٹ پہنچنے تک آکسیجن کی سطح مزید کم ہونے کا امکان ہے۔

    خبرایجنسی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکی کوسٹ گارڈز نے لاپتا آبدوز کی تلاش کے دوران زیر سمندر آوازیں سنے جانےکی تصدیق کی ہے جب کہ سرچ آپریشن میں شریک کینیڈا کے طیارے کو ٹائی ٹینک ڈوبنے کے مقام پر آبدوز موجود ہونےکے اشارے ملے ہیں۔

    آسٹریلیا کے سب میرین انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے فرینک اوون کا کہنا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں دستیاب معلومات کی بنیاد پر – آوازیں جہاز کے اندر سے آ رہی ہیں انہوں نے بی بی سی کو بتایا، "اگر 30 منٹ کا وقفہ ہوتا تو اس کا انسانوں سے تعلق کے علاوہ کچھ ہونے کا امکان نہیں تھا۔”

    جہاز میں سوار افراد میں 58 سالہ برطانوی تاجر ہمیش ہارڈنگ، 48 سالہ برطانوی پاکستانی تاجر شہزادہ داؤد، ان کا بیٹا 18 سالہ سلیمان اور 61 سالہ اسٹاکٹن رش شامل ہیں، جو اوشین گیٹ کے چیف ایگزیکٹو ہیں، جو کہ 250,000 ڈالر کی لاگت سے سفر کرتے ہیں۔

    لیکن مسٹر اوون کا کہنا ہے کہ یہ شور جہاز میں سوار پانچویں آدمی – 77 سالہ پال ہنری نارجیولیٹ، جو فرانسیسی بحریہ کے ایک سابق غوطہ خور اور معروف ایکسپلورر تھا، کی طرف سے "مشورے کی ایک چھوٹی سی آواز” کا ہے۔

    20 سال سے جل پری کا روپ دھا رکر پانیوں میں سفر کرنےوالی خاتون

    مسٹر اوون نے کہا، "وہ تلاش کرنے والی فورسز کو الرٹ کرنے کی کوشش کرنے کا پروٹوکول جانتا ہو گا تلاش کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکام بھی اسی طرح سوچ رہے ہیں۔

    لیکن پچھلی سمندری تلاشوں میں – جیسے کہ 2014 میں ملائیشین ایئر لائنز کی پرواز MH370، اور 2000 میں روسی آبدوز کرسک کے لاپتہ ہونے کے لیے – پانی کے اندر شور بھی سنا گیا، اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

    مسٹر اوون کا کہنا ہے کہ امید کی دوسری کرن یہ ہے کہ ان آوازوں کو سونار بوائے نے بالکل بھی اٹھایا تھا ٹائٹینک سمندر کی سطح کے نیچے 12,500 فٹ (3,800 میٹر) بیٹھا ہے، جہاں سونار بوائے بیٹھتے ہیں۔

    مسٹر اوون کا کہنا ہے کہ اگرچہ سمندر کی گہری تہوں سے آوازیں ان تک پہنچ سکتی ہیں، لیکن اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ آوازیں اسی سمندر کی تہہ سے آرہی ہوں[اوپر کی] تہہ کے نیچے شور سننا بہت مشکل ہے کیونکہ آواز درجہ حرارت میں اس کمی سے ریفریکٹ ہو جاتی ہےلیکن جب یہ اس آئسوتھرمل تہہ میں. سطح اور 180 میٹر کے درمیان آواز واقعی بالکل سیدھی ہوتی ہے۔

    بحر اوقیانوس میں لاپتا آبدوز کی تلاش میں پیشرفت

    مسٹر اوون کا کہنا ہے کہ اگر آوازیں واقعتاً ذیلی سے آرہی ہیں تو ریسکیورز کو اسے بہت جلد تلاش کرنے کے قابل ہونا چاہیئےاس علاقے کے ارد گرد بوئز کا ایک نمونہ رکھ سکتے ہیں تاکہ وہ کراس بیرنگ حاصل کر سکیں سونار بوائے ریسیور اس قسم کی معلومات کو واقعی بہت جلد تیار کرنے کے قابل ہے اسے تلاش کرنے میں بہت کم وقت لگے گا۔”

    تاہم، امریکی کوسٹ گارڈ کی تازہ ترین تازہ کاری کے مطابق، زیرِ آب گاڑیاں جنہیں شور کے ماخذ کو تلاش کرنے کے لیے منتقل کیا گیا ہے، ابھی تک کچھ نہیں ملا۔

    ٹائٹن آبدوز کیا ہے؟

    بنیادی طور پر یہ آبدوز نہیں بلکہ اس جیسی submersible کشتی ہے جو زیرآب سفر کر سکتی ہےاس میں ایک پائلٹ اور 4 دیگر افراد سفر کر سکتے ہیں جو عموماً ماہرین ہوتے ہیں یا ایسے سیاح، جو اس مہنگے سفر کا خرچہ اٹھا سکتے ہیں اسے ٹائٹینیم اور کاربن فائبر سے تیار کیا گیا ہے جس کی لمبائی 6.7 میٹر ہے جبکہ وزن 10 ہزار 432 کلوگرام ہے۔

    امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کا ممکنہ اعتراف جرم

    اسے تیار کرنے والی کمپنی اوشین گیٹ کے مطابق یہ سمندر کی 4 ہزار میٹر گہرائی میں جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، خیال رہے کہ ٹائی ٹینک کا ملبہ 3800 میٹر گہرائی میں موجود ہے سمندر کی گہرائی میں جانے کے لیے یہ 4 الیکٹرک thrusters استعمال کرتی ہے جبکہ سمندری ماحول کی کھوج کے لیے کیمروں، روشنیوں اور اسکینرز سے لیس ہے ٹائٹن کے اندرکسی منی (mini) وین جتنا بڑا کیبن ہے، جس میں لوگ موجود ہوتے ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹائٹن سے سمندر کا ویو پورٹ (جس سے سمندر کو دیکھا جا سکتا ہے) اس طرح کی کسی بھی submersible میں سب سے بڑا ہےاسے پلے اسٹیشن جیسے ایک کنٹرولر سے آپریٹ کیا جاتا ہے زیرآب جانے کے بعد باہری دنیا سے رابطے کے لیے یہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کی سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتی ہے۔

    چند دن قبل کمپنی نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سمندر کی گہرائی میں موبائل ٹاورز موجود نہیں تو ہم رابطوں کے لیے اسٹار لنک پر انحصار کرتے ہیں ٹائٹن میں 96 گھنٹوں کی آکسیجن سپلائی موجود ہوتی ہے۔

    اوشین گیٹ کے عہدیدار ڈیوڈ Concannon کے مطابق ٹائٹن میں آکسیجن سپلائی جمعرات کی صبح تک موجود رہے گی، تاہم سانس لینے کی رفتار سے یہ وقت کم ہو سکتا ہے۔

    سویڈن؛ چھوٹا اسپورٹس طیارہ کریش ہو گیا

    اسی طرح ایک ٹوائلٹ جیسا خلا موجود ہے پانی میں غوطہ لگانے پر ٹائٹن کو بحری جہاز پولر پرنس سے نیوی گیشن کی ہدایات ٹیکسٹ میسجز میں ملتی ہیں اس جہاز کا عملہ ٹائٹن کی لوکیشن کو مانیٹر بھی کر رہا ہوتا ہے اسی جہاز سے ٹائٹن کا رابطہ غوطہ لگانے کے بعد منقطع ہوا تھا جس کے بعد سے اس کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

    اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ٹائٹن کے ساتھ کیا ہوا مگر ماہرین کا خیال ہے کہ آبدوز ٹائی ٹینک کے ملبےمیں الجھ نہ گئی ہو، جبکہ پاور فیلیئر یا کمیونیکیشن سسٹم میں خرابی جیسے خیال بھی پیش کیے گئے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ٹائی ٹینک کا ملبہ سمندر کی تہہ میں پھیلا ہوا ہے اور یہ خطرناک ہے،ٹائٹن کا رابطہ ایک گھنٹے 45 منٹ بعد منقطع ہوا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ عملہ سمندر کی تہہ یا اس کے قریب پہنچ گیا ہوگا۔

    ایک خیال یہ بھی ہے کہ ٹائٹن کے پریشر hull میں لیک کا مسئلہ ہوا ہو ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں اگر ٹائٹن سمندر کی تہہ تک پہنچ گئی ہو اور اپنی پاور سے اوپر نہیں آ رہی تو آپشنز محدود ہیں وہ تہہ میں رہ سکتی ہے مگرایسی امدادی کشتیاں بہت کم ہیں جو اتنی گہرائی میں جا سکتی ہیں اور غوطہ خور وہاں تک نہیں جا سکتے۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

  • بحر اوقیانوس میں لاپتا آبدوز کی تلاش میں پیشرفت

    بحر اوقیانوس میں لاپتا آبدوز کی تلاش میں پیشرفت

    اوٹاوا: بحر اوقیانوس میں لاپتا آبدوز کے سرچ آپریشن میں شریک کینیڈا کے طیارے کو ٹائی ٹینک ڈوبنے کے مقام پر آبدوز موجود ہونےکے اشارے ملے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار بی بی سی کے مطابق زیر آب تلاش کے آلات نے آوازوں کا پتہ لگایا ہے، ہر 30 منٹ بعد آوازیں سنائی دی ہیں، یہ بات امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ ای میل تبادلے میں سامنے آئی ہے۔

    امریکی کوسٹ گارڈ نے لاپتہ آبدوز کی تلاش کے دوران زیر سمندر آوازیں سنی جانے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ آبدوز کی تلاش کے دوران کینیڈین طیارے نے زیرسمندر آوازوں کا پتہ لگایا ہے آبدوز کی تلاش کے لیے اضافی سونر ڈیوائسز کے استعمال کے بعد اضافی صوتی اثرات سنے گئے ہیں-

    لاپتا آبدوزکی تلاش میں امریکا اور کینیڈا کے بحری جہاز اور طیارے حصہ لے رہے ہیں جبکہ برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکا نے برطانوی آبدوز کو ریسکیو مشن میں شریک ہونے سے روک دیا ہے، دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ تلاش کسی معجزے سے کم نہیں، دیگر نے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ آبدوز دباؤکا شکار ہوکر اب تک پھٹ چکی ہوگی۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

    روسی ماہرین کا دعویٰ ہےکہ آبدوز کے ریسکیو آپریشن پر 100 ملین ڈالر اخراجات آسکتے ہیں آبدوز میں موجود افراد کے لیے آئندہ چندگھنٹے اہم ہیں کیونکہ آکسیجن کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے اور اگر کل دوپہر تک تلاش میں کامیابی نہ ملی تو پانچوں افراد آکسیجن سے محروم ہوجائیں گے۔

    برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہےکہ بدقسمت آبدوز ‘ٹائٹن’ تین برسوں کےدوران تین بار خراب ہوئی تھی۔

    برطانیہ کے ریئر ایڈمرل کرس پیری کا کہنا ہےکہ سمندر کی تہہ میں اس قدر اندھیرا ہوتا ہےکہ سرچ لائٹ سے بھی صرف 20 فٹ تک دیکھا جاسکتا ہے، ٹائٹن اگر بجلی سے محروم ہوچکی ہے تو اس میں موجود افرادکو 3 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت برداشت کرنا پڑ رہا ہوگا، ابھی یہی پتہ نہیں چل سکا کہ ٹائٹن تہہ میں ہے، سطح پر ہے یا کہیں درمیان میں ہے، ٹائٹن سمندر کی سطح پر آ بھی گئی ہو تو بھی دروازے صرف باہر سےکھلنےکے سبب اندر موجود لوگوں کا نکلنا ناممکن ہے۔

    ملائشیا نے بھی بھارتی تیجا طیارے خریدنے سے انکار کر دیا

    واضح رہے کہ بحراوقیانوس میں 111 سال قبل غرق ہونے والے جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے کا نظارہ کرنے کے لیے جانے والی لاپتہ آبدوز اتوار کے روز کینیڈا کے جزیرے نیو فاؤنڈلینڈ سے روانہ ہوئی تھی امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق اتوار کے روز سفر کے آغاز کے ایک گھنٹہ 45 منٹ بعد ہی آبدوز کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جہاز کا ملبہ نیو فاؤنڈلینڈ کے ساحل سے تقریباً 600 کلومیٹر دور ہے۔

    آبدوز میں ٹائی ٹینک جہاز کی باقیات کی سیر کے لیے جانے والے 5 ارکان میں سے 2 پاکستانی نژاد مسافر شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان بھی شامل ہیں، ان کے علاوہ ایک برطانوی ارب پتی اور آبدوز کے پائلٹ اور ایک تکنیکی ماہر آبدوز میں موجود ہیں۔

    بورس جانسن پر پارلیمنٹ میں داخلے پرپابندی

  • جنگ عظیم دوم میں غرق ہونیوالے جاپانی بحری جہاز کا ملبہ 81 سال بعد مل گیا

    جنگ عظیم دوم میں غرق ہونیوالے جاپانی بحری جہاز کا ملبہ 81 سال بعد مل گیا

    جنگ عظیم دوم کے دوران غرق ہونے والے جاپانی بحری جہاز کا ملبہ 81 سال بعد ساؤتھ چائنا سمندر سے مل گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: "سی این این” کے مطابق ایک جاپانی تجارتی بحری جہاز جو دوسری جنگ عظیم کے دوران 1000 جنگی قیدیوں کو لے کر ڈوب گیا تھا آسٹریلیا کے سمندر میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا تھا۔

    پائلٹ نے خاتون دوست کیلئے کاک پٹ کوبنایا کمرہ، شراب کا بندوبست کرنے کا بھی …

    آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہا ہے کہ ’ایس ایس مونٹی ویڈیو مارو‘ نامی بحری جہاز میں 864 آسٹریلوی فوجی سوار تھے، ان فوجیوں کو جنگ کے دوران جاپان نے قیدی بنا لیا تھاجولائی 1942 میں جہاز نے فلپائن کے ساحل سے سفر شروع کیا تھا جو لاپتہ ہوگیا تھا، اب اس کا ملبہ جزیرہ لوزون کے قریب سے برآمد کرلیا گیا ہے۔

    اس بحری جہاز کو امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا تھا، آبدوز کو ریڈار پر معلوم ہوا کہ یہ جاپانی بحریہ کا جہاز ہے لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ اس پر آسٹریلیا کی فوج کے قیدی بنائے گئے اہلکار سوار ہیں۔

    مونٹیویڈیو مارو کو فلپائن کے جزیرے لوزون کے شمال مغربی ساحل سے بحیرہ جنوبی چین میں 4,000 میٹر (13,000 فٹ) سے زیادہ کی گہرائی میں دریافت کیا گیا تھا، آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم رچرڈ مارلس نے ہفتے کے روز اپنے ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں تصدیق کی ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ملی خود کش حملے کی دھمکی

    آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ محکمہ دفاع کی مالی معاونت سے ایک تنظیم نے جہاز کا ملبہ 13 ہزار 123 فٹ نیچے سے برآمد کیااس جہاز میں ایک ہزار سے زائد جنگی قیدی اور مختلف ممالک کے شہری سوار تھے اس دریافت سےآسٹریلیا کی سمندری تاریخ کے سب سے المناک بابوں میں سے ایک” کا خاتمہ ہوا۔

    یہ جہاز تقریباً 16 ممالک سے تقریباً 1,060 قیدیوں کو لے جا رہا تھا، جن میں 850 آسٹریلوی سروس ممبران بھی شامل تھے، سابق آسٹریلوی علاقے نیو گنی سے اس وقت جاپان کے زیر قبضہ جزیرہ ہینان تک کیا جا رہا تھا جب ایک امریکی آبدوز نے ٹارپیڈو کر کے جہاز کو ڈبو دیا تھا۔ یکم جولائی 1942 کو جنگی قیدیوں کی نقل و حمل کے طور پر نشان زد کیا گیا۔

    بھارت کا G-20 اجلاس کی ممکنہ ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش