Baaghi TV

Tag: آبی معاہدہ

  • مودی کی ہدایت پر  پاکستان کیجانب بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں،بھارتی وزیر کا اعتراف

    مودی کی ہدایت پر پاکستان کیجانب بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں،بھارتی وزیر کا اعتراف

    بھارت کے ایک سینئر وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال دو ایشیائی حریف ممالک کے درمیان اہم آبی معاہدہ معطل کرنے کے بعد بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ سال 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جو کشمیر میں ہونے والے ایک حملے کے بعد کیا گیا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے بھارتی وزیرِ بلدیات و آبی وسائل سی آر پاٹل نے منگل کے روز کہا کہ نئی دہلی اس بات کو یقینی بنا نے کے لیے اقدامات کر رہا ہے کہ ایک قطرہ پانی بھی وہاں نہ جائے یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر کیا گیا ہے اور اس عمل کی نگرانی وزیر داخلہ امت شاہ خود کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اس مقصد کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے۔

    سی آر پاٹل نے کہا کہ معاہدہ اب بھی موجود ہے، تاہم اسے معطل حالت میں رکھا گیا ہے بھارت اور پاکستان دریاؤں کے اس نظام کے معاہدے کے فریق ہیں جس میں چھ دریا شامل ہیں جن کے سرچشمے بھارت میں ہیں مگر وہ دریائے سندھ کے طاس کے ذریعے پاکستان کی طرف بہتے ہیں۔

    ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے تحت سندھ طاس کے چھ دریاؤں کا انتظام کیا گیا تھا تین مغربی دریاسندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے حقوق پاکستان کو دیے گئے تھے جبکہ تین مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے تھے اس دریاوی نظام سے آنے والا پانی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں لاکھوں افراد اس پر بجلی، پینے کے پانی اور زرعی آبپاشی کے لیے انحصار کرتے ہیں، کیونکہ ملک کی معیشت بڑی حد تک زراعت پر مبنی ہے۔

    معاہدے کے مطابق بھارت پر لازم ہے کہ وہ سالانہ 43 ملین ایکڑ فٹ پانی پاکستان کی طرف جانے دے، جو پاکستان کے کل سطحی پانی کا تقریباً 80 فیصد بنتا ہے اور اس کی زراعت، شہروں اور پن بجلی کے نظام کے لیے ایک بنیادی ذریعہ ہے بھارت کو مغربی دریاؤں کا پانی صرف ایسے کاموں کے لیے محدود طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے جن میں پانی ختم نہ ہو، جیسے پن بجلی بنانا لیکن بھارت یہ نہیں کر سکتا کہ وہ پانی کے بہاؤ میں ایسی تبدیلی کرے جس سے پاکستان کی پانی کی ضرورت متاثر ہو –

  • بھارت اور پاکستان کے درمیان  سندھ طاس معاہدہ  تاحال معطل

    بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ تاحال معطل

    بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی معاہدہ "سندھ طاس معاہدہ” تاحال معطل ہے، حالانکہ دونوں ممالک نے حالیہ شدید جھڑپوں کے بعد سیز فائر پر اتفاق کر لیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، بھارت کے چار اعلیٰ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان نے بھی اس معاہدے کی معطلی پر اعتراض کیا ہے اور عالمی سطح پر قانونی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، کیونکہ یہ معاہدہ پاکستان کی 80 فیصد زرعی زمین کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

    یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، جس کے تحت دریائے سندھ، جہلم، اور چناب پاکستان کو، جبکہ بیاس، راوی اور ستلج بھارت کو دیے گئے تھے۔ تاہم، بھارت نے گزشتہ ماہ اس معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا، جس کی وجہ بھارت کے مطابق کشمیر میں ہندو سیاحوں پر ہونے والا حملہ تھا۔ پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    پاکستان کے واٹر منسٹری کے ایک اہلکار نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ حالیہ سیز فائر مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔ بھارتی حکومت کے ایک ذریعے نے بھی کہا کہ معاہدے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔اس معاملے پر نہ تو بھارت کی وزارتِ خارجہ اور نہ ہی پاکستان کے متعلقہ وزرا کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔

    یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان کے خلاف دیگر اقدامات بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں، جن میں تجارتی سرگرمیوں کی بندش، سرحدی سختیاں، اور ویزہ پابندیاں شامل ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ملکوں میں جنگ بندی ہو چکی ہے، لیکن یہ تمام پابندیاں فی الحال برقرار رہیں گی۔

    پشاور سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ،وزیر اعظم شہباز شریف

    سیز فائر کے بعد فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے بحال