Baaghi TV

Tag: آثار قدیمہ

  • یو اے ای میں چھٹی صدی عیسوی کا قدیم گمشدہ شہر  دریافت

    یو اے ای میں چھٹی صدی عیسوی کا قدیم گمشدہ شہر دریافت

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ماہرین آثار قدیمہ نےقدیم گمشدہ شہر دریافت کیاہے۔

    باغی ٹی وی : یو اے ای کے شہر ام القیوین میں کام کرنے والے ماہرین کے خیال میں یہ قدیم گمشدہ شہر Tu’am ہوسکتا ہےزمانہ قدیم میں یہ شہر ایک ایسےخطےکا دارالحکومت تھاجسے اب متحدہ عرب امارات کےنام سےجانا جاتا ہےاور یہ شہر سچے موتیوں کی تجارت کے حوالے سے جانا جاتا تھاچھٹی صدی عیسوی میں یہ شہر اپنے عروج پر پہنچا اور قدیم عربی تحریروں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

    طاعون اور خطے میں مختلف تنازعات کے باعث یہ شہر گمنام ہوگیا مگر اب ماہرین کا ماننا ہے کہ اسے دریافت کرلیا گیا ہے اس خطے میں ایک گاؤں اور مذہبی عمارت کے آثار گزشتہ چند برسوں کے دوران ملے ہیں،رواں برس ماہرین آثار قدیمہ نے ایسے آثار دریافت کیے جو بڑی عمارات کی جانب اشارہ کرتے ہیں جن کے اردگرد تنگ گلیاں تھیں،اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم میں یہ ایک گنجان آباد شہر تھا جہاں کا سماجی نظام مختلف طبقات میں تقسیم تھا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا والد سے محبت کے عالمی دن پر پیغام

    اس شہر میں دریافت ہونے والی عیسائی عبادت گاہ ممکنہ طور پر چھٹی صدی عیسویٰ کے آخر یا 7 ویں صدی کے شروع میں تعمیر کی گئی تھی پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ یہ بستی عیسائی پادریوں کا مسکن تھا مگر اب تک کے تحقیقی کام سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ بہت بڑا شہر تھا۔

    ایم کیو ایم پاکستان نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے شہری اور سندھ دشمن …

    ماہرین کے مطابق یہ یو اے ای میں اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا تاریخی مقام ہے اور یہ وہ شہر تھا جس کا ذکر ابتدائی اسلامی جغرافیائی ذرائع میں بھی کیا گیا اور اسے اب تک دریافت نہیں کیا جاسکا تھا یہ شہر کافی بڑا تھا اور اس کے موتیوں کی تجارت کے باعث یہاں کے رہائشی کافی امیر تھے جن کا طرز زندگی شاہانہ تھا،یہاں کے تاجروں کا نیٹ ورک عرق، ایران اور بھارت تک پھیلا ہوا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور تاجکستان کے صدر درمیان ٹیلیفونک رابطہ،عید الاضحیٰ پر مبارکباد

  • مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    قاہرہ: مصر میں آثارِ قدیمہ کے ایک مشہور مقام سے انسانی بریدہ ہاتھوں کے پنجے ملے ہیں جو کلائی سے لے کر انگلیوں تک محفوظ ہیں۔

    باغی ٹی وی : "یروشلم پوسٹ” کے مطابق نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق طیل الدابہ کے علاقے سے یہ آثار ملے ہیں جرمن ماہرین 2011 سے یہاں تحقیق کررہے ہیں جو ڈیلٹا کے کنارے قدیم مصری شہر آوارس کے پاس ہی واقع ہےماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہاتھ 3673 برس قبل کاٹے گئے تھے-

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    12ہاتھوں میں سے 11 مرد اور ایک خاتون کا ہے اس طرح مصر میں مفتوحہ افواج کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کے اولین ثبوت سامنے آئے ہیں یہ ہیکسوس عہد سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ابتدا 1650 قبل مسیح میں ہوئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق اس عمل کی تقریب کو ’سنہری اعزاز‘ (گولڈ آف آنر) کا نام دیا جاتا تھا کیونکہ ایک قدیم کتبے پر کندہ اس رسم کے متعلق یہی معلومات ملی ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فتح پانے والے فوجی یا سپہ سالار بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ثبوت کے طور پر اس کے بریدہ ہاتھ یا پیر لے کر واپس لوٹتے تھے۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    ملنے والے سارے دائیں ہاتھ شاہی تخت والے کمرے سے ملے ہیں اور شاید انہیں شاہی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ تمام ہاتھوں کے ایکسرے سے انکشاف ہوا ہے کہ انہیں انسانی بازو سے بہت صفائی سے کاٹ کر الگ کیا گیا تھاشاید فراعین بادشاہوں کے سامنے انہیں ٹرافی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تھا۔

  • 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:”الجزیرہ کے مطابق” مصری ماہرین آثار قدیمہ نے دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک فرعونی مقبرہ دریافت کیا ہے، جس میں ملک میں اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم اور "سب سے مکمل” ممی موجود ہے۔

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق مصر کے علاقے سکارا میں زمین سے 20 میٹر نیچے موجود ایک کمرے سے تقریباً 25 ٹن وزنی تابوت میں ایک ممی ملی۔

    10 افراد پر مشتمل ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق جب تابوت کو کھولا گیا تو اس میں سونے کے پتوں میں لپٹی ہوئی ایک ممی ملی جس کے سر پر ایک بینڈ اور سینے پر ایک بریسلٹ موجود تھا جس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ کسی امیر انسان کی ممی ہے۔

    سونے کے پتے سے ڈھکی ہوئی ممی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 4 ہزار 3 سو سال پرانی ہے جس کی دریافت آثار قدیمہ کیلئےاہمیت کی حامل ہےممی کیساتھ مجسمے، مٹی کے برتن دیگر اشیاء بھی ملی ہیں، یہ ممی مصر میں اب تک پائی جانے والی سب سے قدیم اور مکمل غیر شاہی ممی ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق ایک اور مقبرہ راز کا محافظ اور محل کے عظیم رہنما کے معاون میری کا تھا،”خفیہ محافظ” کا پجاری لقب محل کے ایک سینئر اہلکار کے پاس تھا جس نے خصوصی مذہبی رسومات انجام دینے کی طاقت اور اختیار دیا تھا۔

    ہاؤس نے مزید کہا کہ تیسری قبر فرعون پیپی اول کے اہرام کمپلیکس کے ایک پادری کی تھی اور چوتھی قبر فیٹیک نامی جج اور مصنف کی تھی۔

    مصر کی قدیم نوادرات کی سپریم کونسل کے سربراہ مصطفیٰ وزیری نے کہا کہ فیٹیک کے مقبرے میں اس علاقے میں اب تک پائے جانے والے "سب سے بڑے مجسموں” کا مجموعہ شامل ہے۔

    مقبروں کے درمیان بے شمار مجسمے پائے گئے، جن میں سے ایک مرد اور اس کی بیوی اور کئی نوکروں کے ہیں۔

    بچوں کی مزید قبریں دریافت ہونے پرہرطرف خوف کی فضا

  • سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے آثار قدیمہ اور ہیریٹیج عمارتوں کی حفاظت کیلئے ایک ارب روپے کا فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: وزیرسیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و نوادرات سردارشاہ کا کہنا ہے کہ آثار قدیمہ اور ہیریٹیج عمارتوں کی حفاظت کیلئے فنڈ کی رقم سے آثار قدیمہ کے تحفظ، مرمت اور بحالی میں مدد ملے گی۔

    پاکستان ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے،آئی ایم ایف

    صوبائی وزیر ثقافت اور نوادرات سردار شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں 1 ارب روپے کا فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اینڈومینٹ فنڈ کی مدد سے آثار قدیمہ کے تحفظ، مرمت اور بحالی میں مدد ملے گی۔

    صوبائی وزیر سردار شاہ نے کہا کہ اینڈومینٹ فنڈ میں پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا بین الاقوامی اداروں کو بھی فنڈ میں حصہ لینے کی دعوت دیں گے، فنڈ سے ثقافتی ہنر کی ترویج، تربیت، تحقیق کرنے والوں کی بھی مدد کرنا ممکن ہوسکے گا۔

    سردار شاہ نے مزید کہا کہ اینڈومینٹ فنڈ فار آرکیالوجیکل سائٹس اینڈ ہیریٹیج بلڈنگز کے لیے 25 کروڑ روپے بھی جاری ہو چکے۔

    ٹھٹھہ : میونسپل کمیٹی کاعملہ صفائی غائب ، پیپلزپارٹی کاجیالا اپنے محلے کی صفائی…

  • 3700 سال پرانی کنگھی پر دنیا کا قدیم ترین تحریری جملہ دریافت

    3700 سال پرانی کنگھی پر دنیا کا قدیم ترین تحریری جملہ دریافت

    ایک نئی تحقیق کے مطابق 3700 سال پرانی کنگھی پر 7 الفاظ پر مشتمل نقش کاری کو کسی بھی انسانی زبان کے حروف تہجی پر مشتمل قدم ترین تحریری جملہ قرار دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تحقیق میں بتایا گیا کہ ہاتھی دانت سے بنی کنگھی پر درج جملہ کنعانی زبان کا ہے جو قدیم ترین حروف تہجی ہے، کنعانی زبان ہی لاطینی زبان کا ماخذ بنی تھی جسے آج انگریزی اور بہت سی دوسری یورپی زبانیں لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہےجو موجودہ عہد کے اسرائیل، فلسطین اور اردن میں بولی جاتی تھی۔

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    اس کنگھی میں جس بارے میں جملہ لکھا گیا وہ موجودہ عہد کے والدین کے لیے بھی پریشانی کا باعث بننے والا مسئلہ ہے یعنی سر میں جوئیں، کیونکہ تحریر کے مطابق شاید یہ کنگھی سر اور داڑھی سے جوئیں نکال دے۔

    مٹی کے برتنوں اور تیر کے نشانوں پر کنعانی خطوط کے الفاظ کی نشاندہی کی گئی ہے کنعانی زبان کے حروف تہجی کے کچھ حصے شاعری اور سنگ میل کے ذریعے شناخت کیے گئے ہیں جس میں یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی Hebrew کے آثار قدیمہ کے پروفیسر یوزف گارفنکل کے مطابق یہ حروف تہجی پر مبنی پہلی زبان ہے اور اس وجہ سے یہ دریافت انسانوں کی لکھنے کی صلاحیت کی تاریخ کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

    یروشلم جرنل آف آرکیالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے ایک مصنف گارفنکل نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی دریافت نہیں ہوا، یہ کسی بادشاہ کا شاہی فرمان نہیں بلکہ انسانوں کے عام مسئلے کا اظہار کرنے والا جملہ ہے آپ فوری طور پر اس شخص سے جڑ گئے ہیں جس کے پاس یہ کنگھی تھی-

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    ایسا مانا جاتا ہے کہ 5 ہزار سال قبل پہلا تحریری نظام تشکیل پایا تھا جسے میسوپوٹیمیا (جو اب عراق ہے) کی قدیم تہذیب سمیری نے اپنایا تھا قدیم مصر کی طرح یہ تحریری نظام بھی حروف تہجی کی بجائے تصویری علامات پر مشتمل تھا اور سیکڑوں مختلف تصاویر الفاظ، خیالات اور آوازوں کی نمائندگی کرتی تھیں۔

    گارفنکل نے کہا کہ کنعانی لوگ پہلے ایسے حروف کا استعمال کرتے تھے جو ان کے تحریری نظام میں آوازوں کی نمائندگی کرتے تھے، جو بعد میں فینیشین، یونانی اور بالآخر لاطینی حروف تہجی میں تبدیل ہوئے جو آج کل سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کنعانی افراد نے حروف تہجی کو ایجاد کیا اور آج دنیا کا ہر فرد حروف تہجی کے نظام کو استعمال کرکے لکھتا یا پڑھتا ہے، اس لیے یہ انسانوں کی ایک اہم ترین کامیابی تھی انہوں نے کہا کہ جب آپ انگریزی میں لکھ رہے ہیں، تو آپ واقعی کنعانی استعمال کر رہے ہیں۔

    یہ کنگھی 2016 میں دریافت کی گئی تھی مگر اس وقت تحریر کا علم نہیں ہوسکا تھا 2021 میں ایک محقق نے کنگھی کی آئی فون سے لی گئی ایک تصویر کو زوم کیا تو اسے تحریر نظر آئی جس کے بعد تحقیق کی گئی۔

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

  • بھارت میں جڑواں پہاڑوں پر واقع غاروں میں پہلی صدی قبل مسیح کی درسگاہیں دریافت

    بھارت میں جڑواں پہاڑوں پر واقع غاروں میں پہلی صدی قبل مسیح کی درسگاہیں دریافت

    بھارتی ریاست اڈیشہ کے جڑواں پہاڑوں ادے گیری اور کھنڈا گیری میں واقع غاروں میں درسگاہیں دریافت ہوئیں جن کے بارے ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی صدی قبل مسیح کی درس گاہیں تھیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے ” انڈپینڈنٹ اردو ” کو ادے گیری اور کھنڈا گیری میں ان آثار قدیمہ کی تاریخی معلومات سیاحوں تک پہنچانے والے ایک مقامی گائیڈ سبھاش چندر پردھان نے بتایا کہ ان کی تعمیر جنگ کلنگا کے بعد ہوئی۔ اس وقت یہاں جین مذہب کے پیروکار موریا سلطنت کے راجہ اشوک سے چھپنے کے لیے آباد ہوئے۔

    ’بلیک بیوٹی‘ نامی شہابی پتھرمیں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود

    جنگ کلنگا موریا سلطنت اور کلنگا سلطنت کے درمیان پہلی صدی قبل مسیح کے زمانے میں لڑی گئی تھی، جس کے بعد راجہ کلنگا نے جین مذہب اور اشوک نے بدھ مت اختیار کر لیا تھا جنگ سے پہلے دونوں کا مذہب ایک ہی تھا ان غاروں کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران چھپنا تھا مگر بعد میں انہیں درس و تدریس کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

    یہ دو پہاڑ ہیں ایک ادے گیری اور ایک کھنڈا گیری یہ زلزلے سے پہلے ایک تھے ادے کا مطلب عروج اور گری کا مطلب پہاڑی۔ اس لیے اسے ادے گیری کہتے ہیں کھنڈا کا مطلب میٹھا اس لیے اسے سویٹ ہل بھی کہتے ہیں۔

    یہ ایک یک سنگی ڈھانچہ ہے یہ بھارت کا پہلا مونو لیتھک سٹرکچر ہے جبکہ دوسرا الورا اجنتا ہےاڈیشہ کے ان غاروں میں کئی نقوش ہیں جین مذہب کے مذہبی پیشوا اور مبلغ کے نقوش بھی یہاں ہیں ہر پیشوا کی نشانی بھی ہے رشوناتھ سے لے کر مہاویر 24 پیشواؤں کی مورتیاں بھی ہیں جین مذہب کے ایک پیشوا رشو کی علامت آدی ناتھ یعنی گائے کی سواری اور پیشوا مہاویر کی علامت شیر ہے، جو یہاں غاروں میں بنی ہوئی ہے یہاں باقی جین مبلغوں کی علامتیں بھی ہیں، جو یہاں کے غاروں میں موجود ہیں یہ آثار بتاتے ہیں کہ کلنگا سلطنت کتنی ترقی یافتہ تھی۔

    قازقستان کے ایک غار سے 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات دریافت

    سبھاش کے مطابق یہاں سب سے پہلا غار رانی غار ہے یہ 10 منزلہ تھا جو اب دو منزلہ بچا ہے آٹھ منزلیں زلزلے میں گر گئیں اس میں ہاتھی غار بھی ہے یہاں بھارت کے سب سے طاقت ور راجہ کلنگا کی نشانی ہے۔ پالی زبان۔ برہمنی سکرپٹ۔ کلنگا کی شہری اور فوجی ترقی کی نشانیاں ہیں۔ شانتی مایتری اور پریتی لکھا ہے۔ وہاں سواستک بھی ہے جو رحم دلی معافی اور امن سے عبارت ہے ان غاروں میں سیوریج سسٹم بھی ہے۔ اس کا مطلب ہےکہ یہاں پانی کی ترسیل تھی ٹھنڈے پانی کا بندوبست تھاپانی کے ذریعے پیغام رسانی اورمواصلات کا بندوبست بھی تھا۔ ان کے پاس ٹیکنالوجی تھی ہمارے پاس کچھ نہیں۔

    جین کی مذہبی روایتوں میں ادے گیری اور کھنڈا گیری کی باقیات کی بہت اہمیت ہے۔ یہ دونوں مراکز اب حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت آتے ہیں۔

    آثار قدیمہ کی ویب سائٹ کے مطابق ان غاروں کو بنانے کی وجہ جینی بھکشوؤں کو مراقبہ گاہیں فراہم کرنا تھا جسے بعد میں جین مذہب کی تعلیم کے لیے بطور درس گاہ استعمال کیا گیا محکمے کے نوٹس میں لکھا ہے کہ رتنا گیری اور کھنڈا گیری میں پہلے 117 غاریں تھیں جو زلزلے اور زمانے کی دست و برد کے بعد صرف 33 بچی ہیں۔

    انٹرنیٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق جنگِ کلنگ اشوک اعظم کی سلطنت موریہ کی فوج اور سلطنت کلنگ کی فوج کے درمیان ہوئی تھی، موریا سلطنت پر اس وقت اشوکا کی حکومت تھی جو چندر گپت موریا کا پوتا تھا کالنگا ایک جاگیردارانہ ریاست تھی جو مشرقی ساحل پرواقع تھی۔یہ جنگ دنیا کی سب سے بڑی خون خرابے والی جنگوں میں سے ایک ہے۔

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    یہ جنگ وہ واحد بڑی جنگ تھی جو اشوکا نے تخت سنبھالنے کے بعد لڑی اس جنگ میں اڑھائی لاکھ افراد مارے گئے۔ دراصل کالنگا کی جنگ امن کی بحالی اور اقتدار کے لیے تھی۔ کالنگا ایک خوشحال علاقہ تھا جس میں امن پسند اورہنرمند لوگ رہتے تھے۔ کالنگا کے شمالی علاقے کو اتکلا کہا جاتا تھا۔کالنگا میں کئی بندرگاہیں بنائی گئیں اور اس کی بحریہ بڑے زبردست افراد پر مشتمل تھی۔

    ہندوستان کی تاریخ میں کوئی جنگ اتنی اہمیت کی حامل قرار نہیں دی جاتی جتنی کالنگا کی جنگ ہے۔ ایک تو اس جنگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور پھراس کے نتائج بہت حیران کن تھے۔ تاریخ عالم کی بڑی جنگوں میں ایک جنگ کالنگا کی بھی ہے۔ کالنگا کی فوجی طاقت کی ایک اہم وجہ ہاتھیوں کی طاقت تھی۔ چندرگپت موریا کے زمانے کے یونانی سفیر نے بالواسطہ طور پر کالنگا کی فوجی طاقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس کے مطابق موریا سلطنت کے پہلے شہنشاہ کے زمانے میں کالنگا کے بادشاہ نے اپنے لیے 60,000 سپاہی باڈی گارڈ کے طور پر رکھے تھے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس 1 ہزار گھڑ سوار اور 700ہاتھی تھے۔ اگر بادشاہ کو اپنے اور اپنے محل کے تحفظ کیلئے اتنی بڑی فوج کی ضرورت تھی تو اس سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ اپنی ریاست کے تحفظ کیلئے اس کے پاس کتنی بڑی اور طاقتور فوج ہوگی۔

    دراصل تقریباً 150 قبل مسیح میں شہنشاہ کھار بیل نے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ باختر کے ڈیمیٹریس اول کا ہم عصر تھا، موجودہ بھارت کا ایک بڑا حصہ فتح کر لیا کھار بیل ایک جین حکمران تھا۔ اس نے ادے گیری پہاڑی کے اوپر مٹھ (خانقاہوں کے مساوی) تعمیر کی۔ تاریخی دستاویزات میں درج ہے کہ کورکھشیتر کی جنگ سے سالہا سال قبل کلنگا ایک با اختیار ریاست تھی اس وقت کالنگا کا کوئی بادشاہ نہیں تھا۔

    عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار

    اس وقت سلطنت کلنگا ہندوستان کی عظیم قوتوں میں شمار ہوتی تھی۔ میگھا واہانا، جسے چیدی خاندان کہا جاتا ہے، کے راجا کھار بیل کے عہد میں تقریباً پہلی یا دوسری صدی قبل مسیح یہ غار بنائے گئے تھے یہ وہ عہد تھا جب ریاست کلنگا کو سمندری تجارت کی وجہ سے مقامی رسم و رواج میں ناپاک مانا جاتا تھا۔ مورخین کا ماننا ہے کہ خود مختار کلنگا کی بحری تجارت کی وجہ سے موریہ سلطنت کو سیاسی اور تجارتی خطرات لاحق ہوئے ان خطرات کے پیش نظر راجہ اشوک نے جنگ عظیم چھیڑی تھی اور قتل و غارت کی ایک داستان رقم کردی، جس سے شرمندہ ہو کر اشوک نے ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کرلیا۔

    حالانکہ وہ کلنگ پر قبضہ نہیں کر پائے بدھ مت اختیار کرنے کے بعد اشوکا کو یہ یقین ہو گیا کہ بدھ مت تمام انسانوں‘ جانوروں اور پودوں کیلئے سودمند ہے۔ اس نے دوسری ریاستوں میں بھی بدھ ازم کو فروغ دیا یہ بات اپنی جگہ بہت حیران کن ہے کہ وہ اشوکا جو ایک سفاک شہنشاہ تھا اور جسے خون کا پیاسا کہا جاتا تھا‘ کالنگا کی فتح کے بعد اسکی کایا کلپ ہو گئی اور وہ پچھتانے لگا کہ اس جنگ میں اتنا انسانی خون کیوں بہا؟ تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک فاتح بادشاہ فتح کے بعد اتنا پرملال ہوا کہ اس نے اپنا مذہب ہی تبدیل کر لیا-

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    پہلی صدی قبل مسیح میں چیدی شاہی خاندان نے کلنگا پر حکمرانی شروع کی۔ اس خاندان کے تیسرے حکمراں کھار بیل تھے جن کا شمار اس وقت کے عظیم ترین حکمرانوں میں کیا جاتا ہےکھار بیل کے عہد میں یہ غار بنے تھے۔ غاروں کے فن تعمیر سے چیدی عہد کی طرز تعمیر اور مہارت کا پتہ چلتا ہے۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شیشوپال گڑھ (موجودہ ریاست کا ایک علاقہ) کی کھدائی جو مسٹر بی بی لال کی نگرانی میں 1984 میں ہوئی۔ اس میں یہاں سے چیدی خاندان کے عہد کے ایسے نایاب جنگی ہتھیار ملے ہیں جسے صرف رومی فوج استعمال کرتی تھی۔

    مؤرخین کہتے ہیں کہ اس امر سے چیدی حکمرانوں کے بین الاقوامی تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔ کھار بیل نے بھی اپنے پیش رؤوں کے مطابق سلطنت کو مضبوط کرنےکی کوشش کی کھاربیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیدائشی جینی تھا اور اشوک کی طرح اس نے کوئی دوسرا مذہب اختیار نہیں کیا۔ جین مذہب کی اشاعت کے لیے کھاربیل نے مندروں کی تعمیر کے علاوہ پہاڑ وں کو کٹوا کرغار بنوائے۔

    یہ دونوں پہاڑ، جو کہ پہلے ایک تھے، ہندوستان کی مشرقی ساحل پر واقع اڈیشہ کی راجدھانی بھوبنیشور سے تقریباً سات کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں اور سال بھرسیاحوں کی نگاہِ ستائش و حیرت کا مرکز بنےرہتے ہیں ان غاروں کو پہلی مرتبہ 19ویں صدی عیسوی میں برطانوی افسر انڈریو سٹرلنگ نے دریافت کیا تھا۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • تاج محل معاملہ : آثار قدیمہ نے 22 بند کمروں کی تصاویر جاری کردیں

    تاج محل معاملہ : آثار قدیمہ نے 22 بند کمروں کی تصاویر جاری کردیں

    تاج محل کے تہہ خانے میں بند 22 کمروں کی تصاویر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے جاری کر دی ہیں-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کنفیوژن نہ پھیلائیں اے ایس آئی کے مطابق یہ تصویریں اس وقت لی گئیں جب ان کی مرمت ہو رہی تھی۔

    تاج محل پر درخواست خارج،عدالت برہم ، درخواست گزار کی سخت سرزنش

    آگرہ اے ایس آئی کے سربراہ آر کے پٹیل کے مطابق، تصاویر اے ایس آئی کی ویب سائٹ پر جنوری 2022 کے نیوز لیٹر کے طور پر بھی دستیاب ہیں۔ کوئی بھی ان کی ویب سائٹ پر جا کر ان تصاویر کو دیکھ سکتا ہے ان بند کمروں میں تزئین و آرائش کا کام کیا گیا تھا۔ اس کام پر تقریباً 6لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

    سیاحت کے شعبے سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ ان کمروں میں کیا ہے اس کے بارے میں غلط باتیں نہ پھیلائیں۔ یہ تصاویر صرف اس کی روک تھام کے لیے جاری کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ بی جے پی رہنما ڈاکٹر رجنیش کمار کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی تھی جس میں تاج محل کے ان 22 کمروں کو کھولنے کی اپیل کی گئی تھی ہائی کورٹ کی بنچ نے درخواست کو خارج کر دیا تھا۔بلکہ عرضی گزار پر برہمی کا اظہار بھی کیا تھا-

    درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آپ کمیٹی کے ذریعے حقائق کی کھوج مانگ رہے ہیں آپ کون ہیں یہ آپ کا حق نہیں ہے اور نہ ہی یہ آر ٹی آئی ایکٹ کے دائرہ کار میں ہے پہلے تاریخ کا مطالعہ کریں ،پی ایچ ڈی کریں اور پھر عدالت آئیں۔

    بھارت، چھتیس گڑھ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو پائلٹ ہلاک

    دوسری جانب اس درخواست کی حمایت کرتے ہوئے راجستھان سے بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ دیا کماری نے کہا تھا کہ تاج محل کی زمین ان کے شاہی خاندان کی ہے۔ شاہی خاندان کے کچھ ٹکڑے اب بھی تہہ خانے کے کمروں میں موجود ہیں۔

    دریں اثنا، دن کی شدید گرمی کے باوجود ہفتہ کو 20 ہزار سے زیادہ سیاحوں نے تاج محل کا دورہ کیا۔ 13,814 سیاحوں نے اپنے ٹکٹ آن لائن خریدے تھے جبکہ 7154 سیاحوں نے آف لائن ٹکٹ خریدے تھے۔

    بھارت:کورونا وائرس نے پھرسراُٹھا لیا:ہلاکتوں میں تیزی

    انڈین ایکسپریس کے مطابق جاری کی گئی تصاویر کے بارے میں، اے ایس آئی کے آگرہ سرکل کے اہلکاروں نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ہر ماہ، ہر ایک حلقہ اپنے دائرہ کار میں کیے گئے کام کی جھلکیاں دہلی ہیڈ کوارٹر کو بھیجتا ہےجن میں سے کچھ اے ایس آئی کے نیوز لیٹر میں شامل کیے جاتے ہیں۔

    آگرہ سرکل کے اہلکار نے کہا کہ یہ دسمبر 2021 اور فروری 2022 کےدرمیان تھا کہ ان خلیوں میں تحفظ کا کام کیا گیا تھا شائع شدہ تصاویر دسمبر 2021 کی تھیں۔ اس کے بعد بھی بہت زیادہ کام ہوا اور تصویریں لی گئیں۔ آیا انہیں نیوز لیٹر کے اگلے شماروں میں جگہ ملتی ہے یا نہیں یہ ایک ادارتی فیصلہ ہوگا یہ صرف تاج محل ہی نہیں ہے۔ ہم نے جامع مسجد، اعتماد الدولہ اور آگرہ فورٹ میں کام کیا، اور ان میں سے کچھ تصویریں مذکورہ شمارے میں بھی شائع ہوئی ہیں-

    بھارت نے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کر دی