Baaghi TV

Tag: آرمینیا

  • آرمینیا اور آذربائیجان پرہونے والے مذاکرات منسوخ

    آرمینیا اور آذربائیجان پرہونے والے مذاکرات منسوخ

    برسلز:آرمینیا اور آذربائیجان پرہونے والے مذاکرات منسوخ ،اطلاعات کےمطابق آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نے دونوں فریقوں کے درمیان امن مذاکرات میں ثالثی کے لیے فرانسیسی رہنما ایمانوئل میکرون سے یریوان کے مطالبے پر اگلے ماہ برسلز میں آرمینیائی وزیر اعظم کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ہے۔

    پاکستان اورترکی کوقابل تجدید توانائی کےحصول کیلئےمل کر کام کرنا ہو گا:وزیراعظم

    آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ 7 دسمبر کو بیلجیئم کے دارالحکومت میں وزیر اعظم نکول پاشینیان سے ملاقات نہیں کریں گے جب آرمینیائی رہنما پر یہ الزام لگا کر امن مذاکرات کے اگلے مرحلے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فرانس کو باکو اور یریوان کے درمیان ایک دلال کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ نگورنو کاراباخ علاقے پر طویل عرصے سے جاری تنازعے میں فرانس جانبدارانہ کردار ادا کررہا ہے جو قابل مذمت ہے

    آذربائیجان اس سے قبل فرانس پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے الگ ہونے والے خطے پر کئی دہائیوں سے جاری تنازع میں آرمینیا کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

    باکو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نے کہا کہ پشینیان "صرف اس شرط پر میٹنگ پر رضامند ہوئے” کہ میکرون شرکت کریں۔ "اس کا مطلب ہے کہ میٹنگ نہیں ہوگی،”

    وزیرخزانہ نے پاکستان کےدیوالیہ ہونےکی قیاس آرائیوں کو پھرمسترد کردیا

    آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نےپشینیان پر "امن مذاکرات کو ختم کرنے کی کوشش” کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی رہنما نے "آذربائیجان مخالف موقف” اپنایا ہے اور وہ باکو کی "توہین” کر رہے ہیں۔آذربائیجان کے صدر نے مزید کہا کہ ’’یہ واضح ہے کہ ان حالات میں اس رویہ کے ساتھ فرانس آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن عمل کا حصہ نہیں بن سکتا‘‘۔

  • آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں 105 آرمینیائی فوجی ہلاک

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں 105 آرمینیائی فوجی ہلاک

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں آرمینیا کے 105 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشینیان کا کہنا ہے کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق آذربائیجان سے جھڑپوں میں ہمارے 105 فوجی مارے گئے ہیں۔ آرمینیا نے اس سے پہلے ہلاک فوجیوں کی تعداد 49 بتائی تھی جبکہ آذربائیجان نے جھڑپوں میں اپنے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 50 بتائی ہے۔

    آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان پیر کی شب سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں، جھڑپوں کو دونوں ممالک کے درمیان 2020 کی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکت خیز جھڑپیں کہا جارہا ہے۔

    خیال رہے کہ 2020 میں بھی آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ’نگورنو کاراباخ‘ کے تنازع پر 6 ہفتے جنگ جاری رہی اور اس جنگ میں آذربائیجان نے فتح حاصل کی اور کئی علاقوں پر آرمینیا کا قبضہ چھڑایا۔

    واضح رہے کہ عالمی سطح پر ’نگورنو کارا باخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا تھا جب کہ اسی قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے والا واحد ملک ہے۔

    یہ تنازع 1988 سے جاری ہے جس پر متعدد جنگیں بھی ہوچکی ہیں اور اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع،

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع،

    تہران :آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع، اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

    ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

    آرمینیا کی وزرات دفاع کے مطابق آذری فوج نے اس کی فوجی پوزیشوں پر صبح پانچ بجے سے آرٹلری، ہیوی توپ خانے اور ڈرون سے بمباری شروع کر دی جس کا آرمینیا کی افواج نے مناسب جواب دیا لیکن آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا پر الزام عائد کیا کہ اس کی افواج نے دشکسان، کلباجر اور لاچین کے سرحدی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تخریبی کاروائیاں کی ہیں اور آذری فوجی پوزیشنوں پر فائرنگ کی ہے جن میں مارٹر کا استعمال بھی کیا گیا۔

    گزشتہ ہفتے آرمینیا نے آذربائیجان پر اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کا الزام لگایا تھا۔

    یاد رہے کہ ایک دوسرے کے جانی دشمن آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان پہلی مرتبہ 1980ء میں لڑائی ہوئی تھی جب یہ دونوں علاقے سابق سوویت یونین کے کنڑول میں تھے جس میں آرمینیا کی افواج نے آذربائیجان سے نگارنوکاراباخ کے علاقے چھین لئے تھے۔

    2020ء میں ہونے والی جنگ میں آذربائیجان نے اپنے علاقے واپس چھین لئے تھے اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگوں اور جھڑپوں میں 30,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • آرمینیا نے پاکستان کیساتھ تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہارکردیا

    آرمینیا نے پاکستان کیساتھ تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہارکردیا

    لاہور:آرمینیا نے پاکستان کیساتھ تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہارکردیا ،اطلاعات کے مطابق آذربائیجان کے ہاتھوں جنگ میں ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد آرمینیائی صدر آرمین سارکیسیان نے کہا ہے کہ فی الحال پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر تعلقات نہیں ، آذربائیجان کی حمایت کے باوجود اسلام آباد سےتعلقات استوار کرنے کے خواہشمند ہیں۔

    عرب میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے آرمینیا کے صدر نے کہا ہے کہ میں ذاتی طور پر تعلقات بنانے کی کوشش میں ہوں اور میں صدارت کے عہدے پر اس لئے نہیں آیا کہ کوئی میرے حریف یا دشمن کی حمایت کرتا ہے تو مجھے اس سے بات نہیں کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان اکتوبر2020 میں جنگ ہوئی تھی، آرمینیا کی جانب سے آذربائیجان کے اس نگورنو کاراباخ پر قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے والا واحد ملک ہے۔

    اپنے انٹرویو میں آرمین سرگسیان نے کہا کہ ہم اسلام آباد کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور پاکستان کیساتھ جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور یہ بالکل نہ سمجھ آنی والی بات ہے۔

    ان کا کہنا تھا مجھے پاکستان کے ساتھ بات چیت اور بھارت کے ساتھ ہمارے گہرے اور اچھے تعلقات میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا،ہمیں بات چیت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ یہ ہمیں کہاں لے جاتی ہے۔