Baaghi TV

Tag: آرمی ایکٹ

  • قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی اور عدالتی نظام میں بہتری: حکومت کے اصلاحاتی فیصلے قابلِ تحسین

    حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سروسز چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ایک دانشمندانہ قدم ہے جو قومی سلامتی اور خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ کسی بھی سروسز چیف کو اپنی پالیسیوں کے موثر نفاذ اور پچھلی حکمت عملیوں کے نتائج کو جانچنے کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔ 3 سال کی مختصر مدت میں اہم پالیسیوں کو کامیابی سے آگے بڑھانا مشکل ہے۔ خاص طور پر خطے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ سروسز چیف کی مدت طویل ہو، تاکہ ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

    اسی طرح، سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کو 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کا اقدام بھی قابلِ تحسین ہے۔ پاکستانی عدالتوں میں کیسز کی بھرمار ہے، اور ججز کی کم تعداد کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ ججز کی تعداد میں اضافہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گا، اور عام شہریوں کے لیے فوری انصاف کا حصول ممکن بنائے گا۔

    یہ دونوں اقدامات نہ صرف ملکی استحکام بلکہ عوامی فلاح اور قانونی نظام کی مضبوطی کے لیے اہم سنگِ میل ہیں۔ ان اقدامات سے پاکستان کی سیکیورٹی اور عدالتی نظام میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی، اور ملکی ترقی کی راہ ہموار ہوگی

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے

    بل کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔ اس ترمیمی بل کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیا گیا اور ووٹنگ کے بعد منظور کر لیا گیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”

    چیف آف آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی تعیناتی کے مختلف ملکوں میں مختلف دورانیہ ہیں: مثلا امریکہ میں چار سال انگلینڈ میں تین سے چار سال، بھارت میں تین سال چائنہ میں پانچ سال، فرانس میں چار سال روس میں غیر معینہ مدت، جرمنی میں تین سے پانچ سال، جبکہ آسٹریلیا میں چار سال ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان میں سروسز چیفس کی مدت تعیناتی میں اضافہ کر کے پانچ سال کر دیا گیا ہے "تو اس میں کوئی نئی بات نہیں، ملکی مفاد میں حکومت کو اچھے فیصلے کرنے کا اختیار ہے، حکومت کا یہ فیصلہ ملکی سلامتی و دفاع کے لئے بہترین اور شاندار ہے

    کسی بھی ملک کے سروسز چیفس مختلف ممالک میں اپنی اپنی روایات اور چیلنجز کا سامنا کر تے ہیں،ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت کم از کم پانچ برس ہو،

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو مختصر حکمنامہ سنایا تھا، مختصر حکم نامے میں سپریم کورٹ نے سویلین کا فوجی عدالتوں ٹرائل روکتے ہوئے ان کے مقدمات عام عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا،پانچ رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن کر رہے تھے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس مظاہر اکبر نقوی بھی بنچ کا حصہ تھے،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ 125 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلہ بنچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے فیصلے کی ابتدا لارڈ ایٹکن کے 1941 کے ایک جملے سے کی ، لارڈ ایٹکن نے اپنی مشہورزمانہ تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین خاموش نہیں تھے، برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین وہی تھے جو حالت امن میں تھے، تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا ایک سیکشن 1967 میں اس وقت شامل ہوا جب ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، ایف بی علی کیس میں جب سزائیں دی گئیں اس وقت ملک میں عبوری آئین تھا، 9 اور 10 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، شہدا کے مجسموں کو نقصان پہنچا گیا، کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہوا، اعلیٰ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملوث ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا، سب کی ایک ہی متحد آواز تھی کہ ایسے واقعات پر قانون حرکت میں آنا چاہیے ، اس کے بعد مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہونا شروع ہوئیں، فوجی حکام نے متعلقہ دہشت گردی کی عدالتوں سے رجوع کر متعلقہ ملزمان کی حوالگی مانگی، نتیجے میں 103 ملزمان کو فوجی عدالتوں کی حراست میں دیا گیا،

    ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اہم وضاحت کر دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات کے تحت ایسے سزا یافتہ افراد جو تمام اپیلوں کا حق استعمال کر چکے ان کے کیسز پر اثر نہیں پڑے گا،

    13 دسمبر کو سپریم کورٹ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینےکا فیصلہ معطل کیا تھا

    9 مئی،ملزمان کیخلاف فوجداری قوانین کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے،جسٹس یحییٰ آفریدی
    سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی ایکٹ کی شقوں کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا 20 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا،اختلافی نوٹ میں کہا کہ تقریباً 50 برس قبل ایف بی علی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 5 ججز نے دیا،یہ عدالت اصول طے کر چکی ہے کہ ایک بڑے بینچ کا فیصلہ چھوٹے عدالتی بینچز تبدیل نہیں کرسکتے ،5 ججوں کا عدالتی فیصلہ 5 جج ختم نہیں کرسکتے، میری دانست میں 21ویں آئینی ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد اس کیس کو 9 رکنی بینچ سنتا تو مناسب ہوتا،سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ پر ایف بی علی کیس کا اطلاق ہوتا ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ میں آرمی ایکٹ کے سیکشن 2(1) ڈی ٹو کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ انکا عمل کسی بیرون ملک کی ایماء پر سازش کے تحت تھا، ایف بی علی کیس میں سپریم کورٹ نے طے کیا کہ سیکشن 2(1) ڈی ٹو دفاع پاکستان سے متعلقہ ہے، 9 اور 10 مئی میں ملوث ملزمان کے خلاف فوجداری قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے،ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے کہ کس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ملوث ملزمان نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ایسا کیا،9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 2892 مرد و خواتین گرفتار ہوئے،103 مرد ملزمان کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا،اس کیس کو سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ کو سننا چاہئے تھا،

    آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک
    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کا معاملہ، جسٹس عائشہ ملک کا اضافی نوٹ سامنے آ گیا، جسٹس عائشہ ملک نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ریاست کے تینوں ستونوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کیلئے ضروری ہے وہ ایگزیکٹو کے زیر اثر نہ ہو،آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، 9 مئی کے گرفتار 103 ملزمان پر آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں لگائی گئیں،آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہ ہونے کے باوجود ملزمان کو عسکری حکام کی حوالگی کی درخواستیں دی گئیں، متعلقہ مجسٹریٹ کو ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے بامعانی فیصلہ دینا چاہئے تھا،اٹارنی جنرل نے ان ممالک کی مثالیں دیں جہاں سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوتا ہے،جمہوریت اور آزادی کی خاطربہتر ہوتا اٹارنی جنرل ان ممالک کی مثال دیتے جہاں ایسا نہیں ہوتا،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا 9 مئی کے ملزمان عام شہری ہیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی 9 مئی کے بیشتر ملزمان بری ہو جائیں گے،

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ ،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ ،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا،

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں دونوں قوانین کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے،عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست شعیب شاہین کی وساطت سے دائر کی، درخواست میں کہا گیا کہ آرمی ترمیمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ پرصدرمملکت نے دستخط نہیں کیے آرمی ترمیمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ آرٹیکل 10 اے ،8اور19 کےمنافی ہے ،درخواست میں صدر، سیکرٹری قومی اسمبلی، وزارت قانون اور داخلہ کو فریق بنایا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواست کے فیصلہ تک دونوں قوانین کو معطل کیا جائے

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اس حوالہ سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو 10 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    صدر مملکت نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

    دونوں بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس ہو چکے ہیں صدر مملکت کو دونوں بل گزشتہ حکومت نے بھیجے تھے صدر کے دستخط کے بعد دونوں بلز قانون کی شکل اختیار کر گئے ہیں،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل منظورہونے کے بعد توثیق کیلئے صدر مملکت کو بھیجے گئے تھے 27 جولائی کو سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل اس وقت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا تھا

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔قوم کے دل کی آواز  ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔قوم کے دل کی آواز ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اتحادی حکومت نے بوقت رخصت بہت سے ترمیمی بل منظور کئے ہیں ۔ ان ترامیم میں کچھ کے ساتھ یقینا اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے لیکن آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔۔ایک ایسا بل ہے جو پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے ۔اس بل کے ذریعے صرف فوج کے ڈسپلن کو ہی بہتر نہیں بنایا گیا بلکہ پاک فوج کے وقار اور احترام کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔اس بل کی چند اہم ترامیم یہ ہیں :
    کسی بھی دوہری شہریت والے کو فوج میں کمیشن نہیں ملے گا۔ پاکستان اور افواج کی سیکیورٹی اور مفاد سے متعلق معلومات افشا کرنے پر 5 سال قید ہوگی۔راز افشا کرنے والے شخص سے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ، برطرفی یا استعفے پر فوجی افسر 2 سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔حساس اداروں سے ریٹائرڈ افسران 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی شق کی خلاف ورزی پر 2 سال تک قید کی سزا ہوگی۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی افسر بغیر اجازت پاک فوج کے مفادات سے ٹکراﺅ کرنے والے ادارے میں ملازمت نہیں کرسکے گا ۔ کوئی حاضر سروس یا سابق فوجی الیکڑانک، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا پر پاک فوج کو اسکینڈلائز نہیں کرے گا،اسکینڈلائز کرنے پرآرمی ایکٹ کے تحت کارروائی اور پیکا قوانین کے تحت سزا ہوگی۔پاک فوج کو بدنام کرنے، نفرت ابھارنے یا نیچا دکھانے پر 2 سال تک سزا، جرمانہ یا دونوں ہو سکیں گے۔

    امر واقعی یہ ہے کہ یہ تمام ترامیم بے حد اہمیت کی حامل ہیں اور ہر محب وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہیں ۔ خاص کر موجودہ حالات میں جبکہ کچھ عناصر ایک منظم طریقے سے پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ۔۔۔۔لہذا ایسے ملک دشمن افراد کے خلاف قانون کا شکنجہ کسنا بے حد ضروری تھا ۔ اسلئے کہ پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ءکی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضاﺅں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کو دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔

    الغرض 1965ءکی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کو دندان شکن جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ” سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع ان کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت ان کا جذبہ شہادت ہے اور ”جہاد فی سبیل اللہ“کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں ۔اس وقت بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد پھر سراٹھا رہے ہیں ۔ بہادر افواج کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کررہے ہیں ۔ جب ہم رات کے وقت اپنے گھروں میں اور اپنے بستروں آرام کی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے وطن کے جیالے پاسبان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ۔

    9مئی کے دن جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام واقعات 1970ءمیں ملک کے خلاف کی جانے والی دشمنی کا ہی تسلسل ہے ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار وں، ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کےلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرات نہ ہو ۔

  • آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری،تحریک انصاف کا اراکین کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

    آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری،تحریک انصاف کا اراکین کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اہم ترین اجلاس ہوا

    چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے اجلاس کی صدارت کی ،اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات کی جماعتی سطح پر تیاریوں اور سیاسی حکمت عملی سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں ایوان بالا میں آرمی ایکٹ کی منظوری کے عمل میں تحریک انصاف کے اراکین کے کردار کا بھرپور جائزہ لیا گیا،

    چئیرمین تحریک انصاف کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری میں تحریک انصاف کے اراکین کے کردار کی باضابطہ تحقیقات کی منظوری دی گئی،سینٹر شبلی فراز پر مشتمل یک رکنی کمیشن معاملے کی جامع تحقیقات کرے گا ،سینٹر شبلی فراز پر مشتمل یک رکنی کمیشن بلاتاخیر تحقیقات مکمل کر کے چئیرمین تحریک انصاف کے ملاحظے کیلئے پیش کرے گا ،شبلی فراز کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں پارٹی پالیسی سے انحراف کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کو آگے بڑھایا جائیگا۔

    واضح رہے کہ پارلیمنٹ سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پاس کیا گیا ہے،تحریک انصاف کے اراکین بھی پارلیمنٹ میں تھے تا ہم انہوں نے بھی مخالفت نہیں کی، یہ وہی بل ہے جو تحریک انصاف لے کر آئی تھی مگر پاس نہیں ہوا تھا، اب پی ڈی ایم حکومت نے تحریک انصاف کے بل کو ہی پاس کروایا تو عمران خان نے اراکین کے خلاف تادیبی کاروائی کے لئے کمیٹی بنا دی.

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا گیا،بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف لرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • 9 مئی :حساس ادارے کے دفتر پر حملےکے 4 ملزمان کیخلاف آرمی ایکٹ کےتحت مقدمہ چلانےکی اجازت

    9 مئی :حساس ادارے کے دفتر پر حملےکے 4 ملزمان کیخلاف آرمی ایکٹ کےتحت مقدمہ چلانےکی اجازت

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے 4 ملزمان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی: فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 9 مئی کو حساس ادارے کے دفتر پر حملےکے 4 ملزمان کے خلاف آرمی ایکٹ کےتحت مقدمہ چلانےکی اجازت دےدی عدالت نےحکم کے مطابق ملزمان کےخلاف آرمی سیکرٹ ایکٹ کےتحت بھی کارروائی ہوگی۔

    9 مئی حملوں کی ابتدا اورسوشل میڈیا پر اخلاقیات کی تباہی عارف علوی نے کی …

    عدالتی حکم کے بعد حساس ادارے کی ٹیم نے ملزمان کو سینٹرل جیل سے تحویل میں لے لیا ہے پولیس حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ کی سماعت آرمی ایکٹ کے تحت ہوگی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 25 مئی کو بھی لاہور کے جناح ہاؤس میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں ملوث 16 ملزمان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دی جاچکی ہے۔

    گرفتار خواتین پر تشدد کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جارہا ہے،آئی جی پنجاب

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت سے کمانڈنگ افسر نے ملٹری ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے 16 شرپسندوں کی حراست مانگی تھی، عدالت نے کمانڈنگ افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق ایم پی اے میاں اکرم عثمان سمیت 16 ملزمان کو کمانڈنگ آفیسر کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کمانڈر افسر کے مطابق ملزمان آفیشنل سیکرٹ ایکٹ کےسیکشن 3، 7 اور 9 کےتحت قصوروارپائے گئے ہیں، ملزمان کےخلاف آرمی ایکٹ 1952 کےتحت ٹرائل ہوسکتا ہے پراسکیوشن نےکمانڈرکی درخواست پراعتراض نہیں کیاسپرنٹینڈنٹ کیمپ جیل 16 ملزمان کو مزید کاروائی کے لیے کمانڈنگ افسر کے حوالے کردے-

    ڈالرکی اونچی اُڑان، 312 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  • جناح ہاؤس حملہ: 16 ملزمان کو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے کمانڈنگ افسر کے حوالے کرنے کا حکم

    جناح ہاؤس حملہ: 16 ملزمان کو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے کمانڈنگ افسر کے حوالے کرنے کا حکم

    لاہور کے جناح ہاؤس میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے،لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے لیے 16 ملزمان کو کمانڈنگ افسر کے حوالے کردیا۔

    باغی ٹی وی: لاہورکی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جناح ہاؤس میں جلاؤ گھیرا اور توڑپھوڑ کےکیس کی سماعت ہوئی جس میں کمانڈنگ افسرنے آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے لیے 16 شرپسندوں کی حراست مانگی۔

    عائشہ گلالئی مسلم لیگ ق میں شامل

    انسداد دہشت گردی عدالت نے کمانڈنگ افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق ایم پی اے میاں اکرم عثمان سمیت 16 ملزمان کو کمانڈنگ آفیسر کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

    لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایس پی کیمپ جیل 16 ملزمان کو مزید کارورائی کے لیے کمانڈنگ افسر کے حوالے کرے، کمانڈر افسر کے مطابق ملزمان آفیشنل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 3، 7 اور 9 کے تحت قصور وار پائے گئے ہیں-

    بھارتی کرکٹ بورڈ کی پاکستان کےہائبرڈ ماڈل کو ماننے والی خبروں کی تردید

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ کمانڈنگ افسر کے مطابق ملزمان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہوسکتا ہے اوراب ملزمان کے خلاف مزید کارروائی آرمی ایکٹ 1952 کے تحت ہوگی پراسکیوشن نے کمانڈر کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا، سپرنٹینڈنٹ کیمپ جیل 16 ملزمان کو مزید کاروائی کے لیے کمانڈنگ افسر کے حوالے کردے۔

    یاد رہے کہ 16 ملزمان کے خلاف خصوصی عدالت میں ٹرائل ہوگا ملزمان میں میاں اکرم عثمان،عمار ذوہیب، علی افتخار، علی رضا، محمد ارسلان، محمد عمیر، محمد رحیم، ضیا الرحمان، وقاص علی، رئیس احمد، فیصل ارشاد، محمد بلال حسین، فہیم حیدر، ارزم جنید، محمد حاشر خان اور حسن شاکر شامل ہیں۔

    ایشیاکپ: میزبان ملک سمیت شیڈول کو حتمی شکل دے دی گئی،فیصلہ کب کیا جائے گا؟

  • آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    پاکستان میں نو مئی کو رونما ہونیوالے واقعات ایک سیاہ دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،پاکستانی قوم نے دیکھا کہ سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کیا گیا، دس قیمتی جانیں گئیں، یہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جانے والا حملہ تھا جس کا مقصد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا اور بنایا گیا، بدقسمتی سے حملہ آور، شرپسند جو چاہتے تھے وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئے،جن مقامات پر شرپسندوں نے حملہ کیا ان میں جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور، آئی ایس آئی دفتر فیصل آباد شامل ہیں، ایم ایم عالم نے 1965 کی جنگ میں چھ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اس کے مشہور طیارے کو بھی آگ لگا دی گئی، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں بھارت آج تک کامیاب نہیں ہو سکا لیکن پاکستان میں موجود گمراہ کن پاکستانی شرپسندوں نے اپنے رہنما کی عقیدت میں آ کرسب کچھ تباہ کر دیا،

    نو مئی کو پاکستان میں ہونیوالے تباہی کی کاروائیوں کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرپسند افراد اور جو بھی اس میں ملوث ہیں انکے خلاف 1952 کے آرمی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی، آرمی کی تنصیبات پر حملوں کے مقدمے ہوں گے، اس حوالہ سے ایمنسٹی انٹرنینشل کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر دنوشیکا ڈسانائیکے کا کہنا ہے کہ "یہ دہشت زدہ کرنے کا ایک طریقہ ہے اوراس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اختلاف کرنے والوں میں ایک ایسے ادارے کیلئے خوف پیدا کیا جائے جس ادارے کا آئینی حدود سے تجاوز کرنے پر کبھی بھی احتساب نہیں کیا گیا ،پاکستان کی طاقتور فوج کا حوالہ دیتے ہوئے ،آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ کیوں؟ "وائس آف امریکا

    بیرون ممالک کے لوگ اور یہ ایجنسیاں اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہیں کہ ان کے معاشرے کی روایات ہم سے الگ ہیں، کیا وہ لوگ تشدد کرتے ہیں، جب انکا کوئی رہنما گرفتار ہوتا ہے تو اپنے ہی وطن کو آگ لگاتے ہیں؟ کیا وہ شہریوں پر تشدد کرتے ہیں اور سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کرتے ہیں؟ پاکستان میں حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا اسکے بعد اب جو لوگ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل اور مقدمے کو سخت اور غلط کہہ رہے ہیں انہوں نے ان واقعات کی مزمت بھی نہیں کہ بلکہ وہ اسوقت خاموش رہے جب سپریم کورٹ سے عمران خان جو ایک ملزم تھا اور اسکے کیس کی سماعت تھی اس کو گاڑی بھیجی گئی،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل پر اعتراض کرنیوالوں نے کیا انصاف کے غیر مساوی ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا؟ عمران خان کو اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے سے قبل سول لائنز پولیس کے گیسٹ ہاؤس میں بطور مہمان رکھا گیا، کیا عدالتوں سے عمران خان کو ملنے والے اس ریلیف پر عدم اطمینان کا کوئی واویلا کیا گیا؟

    لیکن جب فوجی عدالتیں پی ٹی آئی کے حمایتی اور شرپسند عناصر کے خلاف مقدمے چلائیں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شور کیوں؟ اب وقت آ گیا ہے کہ باہر کے لوگ اور ایسی ایجنسیز پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہیں،واضح ہے کہ ریاست اب پیچھے نہیں ہٹے گی اور کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں ہو گی،کیونکہ انصاف کو برقرار رکھنے کا عزم اور امن کی بحالی غیر متزلزل ہے،

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش