Baaghi TV

Tag: آرمی چیف

  • رحم کی  اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    رحم کی اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے 9 مئی کے حملوں میں ملوث 19 ملزمان کی رحم کی اپیلوں کی منظوری ایک طرف جہاں ان کی انسان دوست سوچ کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ فوجی عدالتوں کی شفافیت اور انصاف کے نظام کی پختگی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔یہ افراد اپنی دو سالہ سزا مکمل کرنے کے قریب تھے، اور ان کی اپیلیں محض انسانیت کی بنیاد پر منظور کی گئیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوجی عدالتیں انصاف کے اصولوں کے مطابق اور آئین کے تحت کام کر رہی ہیں۔

    یہ اقدام نہ صرف فوجی عدالتوں پر تنقید کرنے والوں کی زبانوں کو بند کرتا ہے، بلکہ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انصاف اور رحم کے معاملے میں متوازن نقطہ نظر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔پی ٹی آئی کے بیانیے کے برعکس، فوج نے فسادیوں کے ساتھ بدلہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں دکھایا۔ سزا سنانے اور رحم دینے کے حوالے سے کیے گئے فوری فیصلے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فوج انصاف کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے، انسانی ہمدردی کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔

    آرمی چیف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ریاست ان لوگوں کو ریلیف فراہم کرے گی جو حقیقی پچھتاوے کا مظاہرہ کریں گے، لیکن بدامنی اور تشدد کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی ادارہ اپنے قیدیوں کو قانونی راستوں کی پیشکش کر رہا ہے، جن میں رحم کی درخواستیں شامل ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پورا عمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ان رحم کی اپیلوں کی منظوری آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انسانیت پسندی اور فوج کی انصاف کے ساتھ وابستگی کا غماز ہے، اور اس سے یہ تمام بے بنیاد قیاس آرائیاں رد ہو جاتی ہیں جو اس عمل کو سیاسی مقاصد سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

  • سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سانحہ نومئی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 19 مجرمان کی سزا معافی کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    9 مئی کو ہونے والے ہنگاموں اور احتجاج کے بعد فوج نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی بھی فرد کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کر رہی۔ 9 مئی میں ملوث 19 افراد کو فوجی عدالت سے ملنے والی سزائیں معاف کرنے کے فیصلے کو ایک طاقتور پیغام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نےیہ فیصلہ انسانیت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد آئین اور قانون کی بالادستی کو فروغ دینا ہے۔سزاؤں کی معافی کا یہ فیصلہ غیر جانبدارانہ طور پر آئین اور قانون کے مطابق کیا گیا ہے، اور کسی بھی سیاسی یا دیگر نوعیت کے دباؤ سے آزاد ہے۔

    "9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے ساتھ انتقامی کارروائی کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر سزاؤں کی معافی کا فیصلہ کیا گیا جو آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے رحم دل اور نرم دل قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔” فوج کا مقصد ہمیشہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فیصلے کرنا ہے، جو عناصر انسانی حقوق کے نام پر ملٹری قانون اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کر رہے تھے، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک سخت جواب ہے۔ یہ فیصلہ فوج کی جانب سے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ آئین کی بالادستی اور قانون کے احترام میں مکمل طور پر پختہ ہے۔

    "نومئی کے مجرمان کی سزا معافی کا یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کے تحت لیا گیا ہے اور اس میں کسی بھی سیاسی مفاد یا پروپیگنڈے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ان سزاؤں کا معاف کیا جانا صرف اور صرف انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا یا اس پر بے بنیاد قیاس آرائیاں کرنا حقیقت سے دور ہوگا۔”فیصلے سے واضح ہو گیا کہ فوج کی کارروائیاں ہمیشہ قانون اور آئین کے تحت ہوں گی، اور کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو پاکستان میں ہونے والے ہنگاموں میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوج کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، اور اس کے بعد کئی افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ جن کی سزاؤں میں کمی یا معافی دینے کا فیصلہ ایک نیا پیش رفت ہے، جسے حکومت اور فوج دونوں کے درمیان ایک اچھے تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    آج 9 مئی کے 19 مجرمان کو، جنہیں دو سال کی سزا سنائی گئی تھی، ان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل کرتے ہوئے معافی دے دی گئی اور رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا یہ فیصلہ کئی اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے اور ملٹری کورٹ کے عمل کی شفافیت اور آئینی اصولوں کی پیروی کی واضح مثال ہے۔یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ملٹری کورٹس کا ٹرائل مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق اور شفافیت پر مبنی ہے۔ وہ عناصر جو فوجی عدالتوں اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کرتے رہے ہیں، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک زور دار جواب ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملٹری عدالتیں نہ صرف انصاف فراہم کرتی ہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غیر جانبدار رہتی ہیں۔

    آئینی بینچ کی اجازت کے بعد، جس رفتار سے سزائیں سنائی گئی تھیں، اسی تیزی سے مجرمان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل درآمد کیا گیا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لیا گیا ہے اور ان افراد کی باقی ماندہ سزا، جو تقریباً چار سے پانچ ماہ تھی، کو معاف کر دیا گیا۔ یہ عمل اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قانون کی بالادستی اور آئین کی تکمیل میں غیر جانبداری کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔

    یہ 19 مجرمان وہ ہیں جنہوں نے اپنے رحم کی درخواست خود دی تھی اور ان کی سزا میں معافی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی۔ یہ لوگ تقریباً ایک سال اور چھ ماہ کی سزا مکمل کر چکے تھے اور صرف چند ماہ کی باقی سزا تھی، جس کو معاف کیا گیا۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوج کسی بھی فرد کے ساتھ انتقامی کاروائی نہیں کر رہی بلکہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس سے پہلے بھی اپریل 2024 میں 20 مجرمان کی سزاؤں کو معاف کیا تھا، اور اب ان 19 مجرمان کے معاملے میں بھی انسانیت اور ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی رحم دلی اور انسانیت کے تئیں ہمدردی کا واضح اظہار ہے۔یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ملٹری ٹرائل اور قانون کی شفافیت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف قانون کی شفافیت کا پتا چلتا ہے بلکہ انصاف کی فراہمی میں غیر جانبداری کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ باقی مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے کا حق برقرار ہے اور وہ اپنے قانونی اور آئینی حقوق کے مطابق مزید کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نظام انصاف میں انسانی ہمدردی اور رحم کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا اور اس پر بے تکی قیاس آرائی کرنا غیر مناسب ہے۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد صرف مجرمان کی باقی ماندہ سزا میں کمی لانا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ قانون اور آئین کی بالادستی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ ملٹری کورٹس کی شفافیت، انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلوں کا لینا، یہ سب چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج کے ٹرائل سسٹم میں انصاف کی فراہمی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • آرمی چیف  کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان  کے لئے بے مثال خدمات

    آرمی چیف کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان کے لئے بے مثال خدمات

    سال 2024 – استحکام ِ پاکستان کی روشن نوید،پاک فوج کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ،نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان کے لئے بے مثال خدمات سامنے آئی ہیں،خوارج اور دہشتگردوں کے لئے ریاست پاکستان کی واضح پالیسی کی بدولت رواں سال آپریشنز میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں،

    سال2024 کے دوران مجموعی طور پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف 59,775 مختلف نوعیت کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے،کامیاب آپریشنز کے دوران 925دہشتگردوں بشمول خوارج کو واصلِ جہنم کیا گیا جبکہ سینکڑوں گرفتار کئے گئے،دہشتگردی کے اس ناسور سے نمٹنے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر169سے زائد آپریشنز افواجِ پاکستان، انٹیلی جنس، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اَنجام دے رہے ہیں،رواں سال ان آپریشنز کے دوران73 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی ہلاکتیں ہوئیں،جہنم واصل ہونے والے دہشتگردوں میں فدا الرحمن عرف لعل ، ژوب ڈویژن ، علی رحمان عرف طحٰہ سواتی اور ابو یحییٰ بھی شامل ہیں، ریاستی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے باعث 14 مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو قومی دھارے میں شامل کیا،سیکیورٹی فورسز کی کامیاب حکمت عملی کے باعث 2خودکش بمباروں کو گرفتار کر کے ملک کو بڑی تباہی سے بچایا گیا،آرمی چیف دہشتگردوں ، خوارج اور اُن کے سہولت کاروں کے بارے میں واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی سر زمین سے آزادانہ دہشتگرد کارروائیوں پر تحفظات ہیں،ایک پاکستانی کی جان اور حفاظت ہمارے لیے افغانستان پر مقدم ہے،

    رواں سال غیر ملکی جریدے نے بھی آرمی چیف کو دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف توانا آواز بننے پر خراجِ تحسین پیش کیا ،غیر قانونی سر گرمیوں کے خلاف بھی رواں سال بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی گئیں،ریاست پاکستان کا واضح موقف ہے کہ غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث مافیہ دہشتگردو ں کا سہولت کار ہے ،واضح ریاستی پالیسی کے پیش نظر رواں سال سمگلنگ ، بجلی چوری، بھتہ خوری، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی،رواں سال غیر قانونی سر گرمیوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں واضح کمی واقع ہوئی

    آرمی چیف کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت رواں سال پاکستان نے اہم سنگِ میل عبور کئے،کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت اہم ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا،غزہ ، لبنان اور کشمیر کے مظلوم عوام کے لئے پاکستان اقوام ِ عالم میں ایک مؤثر آواز بن کر اُبھرا،سال 2024ء میں سفارتی سطح پر بھی اہم کامیابی حاصل ہوئی اور پاکستان نے اہم ایس سی او کانفرنس کی میزبانی کی،اس کانفرنس میں چین، روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے وزرائے اعظم، ایران کے نائب صدر اور بھارت کے وزیر خارجہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ،اس کے علاوہ رواں سال کئی اہم ممالک کے سربراہان نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور متعدد معاہدوں پر دستخط کئے،

    معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایس آئی ایف سی نے رواں سال اہم کامیابیاں حاصل کیں،ایس آئی ایف سی کی معاونت سے متعدد بین الاقوامی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مستحکم ہوئے ،ایس آئی ایف سی کے تحت کئے جانے والے اقدامات سے معیشت میں بہتری کے واضح امکانات روشن ہوئے،ایس آئی ایف سی کی معاونت سے ترسیلات زر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی اور سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بُلند سطح پر پہنچی،شرح سو د میں واضح کمی اورڈیفالٹ کا راگ الاپنے والوں کے بیانیے کی نفی ہوئی،خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور اہم ملک کیساتھ تجارت بڑھانے کیلئے نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) نے اہم سنگ میل عبور کیے،این ایل سی نے نہ صرف وسطی ایشیائی ریاستوں بلکہ روس، مشرقی یورپ ، چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لئے راہ ہموار کی

    آرمی چیف کا واضح موقف ہے کہ قواعد و ضوابط کے بغیر آزادی اظہارِ رائے تمام معاشروں میں اخلاقی قدروں کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے ،گمراہ کن پروپیگنڈا ، فیک نیوز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے رواں سال قانون سازی بھی کی

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

    آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

  • آرمی چیف کی  کرسمس تقریب میں شرکت

    آرمی چیف کی کرسمس تقریب میں شرکت

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ کرسمس ہمدردی، سخاوت اور خیرسگالی کا اظہار ہے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سینٹ جوزف کیتھولک کیتھیڈرل چرچ میں کرسمس تقریب میں شرکت کی اور مسیحی برادری سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھرمیں مسیحی برادری کو کرسمس کی دلی مبارکباد دی جبکہ مسیحی برادری نے چرچ آمد پر آرمی چیف کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ملکی ثقافتی، سماجی، اقتصادی اور قومی ترقی میں اقلیتوں بالخصوص مسیحی برادری کی شراکت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مسیحی برادری قوم کے لیے فخر اور طاقت کا باعث ہیں، کرسمس ہمدردی، سخاوت اور خیرسگالی کا اظہار ہے۔

    مسلمان، کرسچن، ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ میر ے سر کا تاج ہیں،مریم نواز

    آئی ایس پی آر کےمطابق آرمی چیف نے قائداعظم محمد علی جناح کو بھی زبردست خراج عقیدت پیش کیا، آرمی چیف نے کہا کہ قائدا عظم کے آزادی،مساوات، مذہبی رواداری کے نظریات چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قوم کی رہنمائی کرتے ہیں، قائداعظم کے نظریا ت علاقائی سالمیت کے تحفظ سے لے کر اندرونی استحکام کوفروغ دینے کے لیے حوصلہ افزائی کرتےہیں۔

    ملک کو نقصان پہچانے والے خود کو پاکستانی نہیں کہہ سکتے،امیر مقام

    آرمی چیف نے کہا کہ قائد کی دور اندیش قیادت، غیرمتزلزل عزم نے پاکستان کی تعمیرکی راہ ہموارکی، ایمان، اتحاد اور نظم وضبط کے اصولوں پر ثابت قدمی نے قوم کی تعمیر کا خاکہ بھی فراہم کیا، پاکستان کو قائدکے تصورکردہ پرامن، خوشحال ملک میں تبدیل کرنےکے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کریں اور تمام شہری اس کے لیے انتھک محنت کریں۔

    جنوبی وزیرستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 13 خوارج ہلاک

  • بیٹے نےجان کا نظرانہ دے کر سر فخر سے بلند کیا ،والد سلیم شہید

    بیٹے نےجان کا نظرانہ دے کر سر فخر سے بلند کیا ،والد سلیم شہید

    مادر وطن کے دفاع کی خاطر پاک فوج کے جوان اپنے خون کی قر بانی دیتے چلے آرہے ہیں.ان شہداء میں سپاہی محمد سلیم شہید بھی شامل ہیں، جنہوں نے کوئٹہ کے قریب مچھ کے مقام پر دہشت گردوں سے مقابلے میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا.

    سپاہی محمد سلیم شہید کے لواحقین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا.سپاہی محمد سلیم شہید کے والد نے بیٹے کی شہادت کے موقعے پر کہا:”سلیم بہت ذہین اور اچھا بچہ تھا, ہمیشہ عزم کرتا تھا کہ ملک کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لیے اپنی جان قربان کرنی ہے”مجھے فخر ہے اپنے بیٹے پر کہ پاکستان کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا،
    سلیم کی کمی ہر وقت ستاتی ہے اللہ پاک اس کے درجے بلند کرے اور اس کی شہادت کو قبول کرے ،وہ جب بھی چھٹی آتا تھا تو ہمارا بہت خیال رکھتا تھا، اس بار بھی وہ 20 دن کی چھٹی گزار کے کوئٹہ گیا اور وہاں پہنچ کر ہمیں کال کی کہ میں پہنچ گیا ہوں، اسی رات کو کوئٹہ کے قریب مچھ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جہاں سلیم ڈیوٹی پر تھا، اگلے دن ہمیں اطلاع ملی کہ وہ شہید ہو گیا،میں پوری قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنے ملک کے لیے ویسا ہی قربانی کا جذبہ رکھیں جیسا سلیم کا تھا، سلیم نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر کے پورے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے،

    سپاہی محمد سلیم شہید کی والدہ نے بیٹے کی شہادت کے موقعے پر کہا کہ "مجھے اپنے بیٹے سلیم کی شہادت پر فخر ہے”سلیم کی شہادت پر دل انتہائی غمگین ہے کیونکہ میں اس کی ماں ہوں، مگر میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوں، اللہ کی شکر گزار ہوں کہ میرے بیٹے کو شہادت کا رتبہ حاصل ہوا، سلیم ہم سب سے بہت محبت کرتا تھا، بہن بھائیوں، چھوٹے بچوں اور خاندان کے ہر فرد کے ساتھ وہ ہمیشہ اخلاق اور محبت سے پیش آتا تھا، جس وقت سلیم کی شہادت کی خبر ملی، وہ انتہائی مشکل لمحہ تھا، مگر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے بیٹے کو شہادت کا رتبہ دیا، رات کو سوتے وقت میں ہمیشہ پاکستانی فوج اور پاکستان کے لیے دعا گو ہوتی ہوں کہ اللہ ان کا حافظ و ناصر ہو،

    سپاہی محمد سلیم شہید کے بھا ئی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بھائی، بھائی کا مضبوط سہارا ہوتا ہے، اور ہم دونوں میں بہت محبت تھی، ہم نے ساتھ پڑھا اور ساتھ کھیلا ” میں کھیتوں میں کام کر رہا تھا جب مجھے فون آیا کہ سلیم شہید ہو گیا، وہ لمحہ دل پہ بہت بھاری تھا، مگر مجھے فخر بھی محسوس ہوا کہ میرا بھائی شہادت کا بلند مرتبہ حاصل کر چکا ہے، اس کی کمی ہر جگہ ہر وقت محسوس ہوتی ہے لیکن مجھے اپنے بھائی کی شہادت پر فخر ہے، خدا اسکے درجات بلند کرے، ہمارے فوجی بھائی جو سرحدوں اور پاکستان بھر میں ڈیوٹی پر ہیں، میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایمانداری سے اپنے فرض کو پورا کریں اور دہشت گردی کا خاتمہ کریں،

    خوارج کی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام، 16 جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    26 نومبر شرپسندی کا شکار پاکستان رینجرزپنجاب کا ایک اور اہلکار شہید

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 7 خوارج ہلاک،ایک جوان شہید

  • آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

    چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے تعینات فوجی افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران آرمی چیف کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔افسران اور جوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف ان کے غیر متزلزل عزم اور ثابت قدمی کو سراہا اور ان کی قربانیوں پر قوم کے فخر کا اعادہ کیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہداء پاکستان کا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ قوم کی بھرپور حمایت سے پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے اور انشاء اللہ ملک بھر میں دیرپا امن و استحکام کی بحالی کو یقینی بنائے گی۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جرأت، ثابت قدمی اور غیر متزلزل عزم ملک کی خودمختاری کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مسلح افواج اور ایل ای اے کے جوانوں کو قوم کا حقیقی ہیرو قرار دیا جن کی بہادری اور بے لوث لگن پورے ملک کو متاثر کرتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج فتنہ الخواج کے خاتمے تک اس کا تعاقب جاری رکھے گی اور سہولت کار، تخریب کار اور فنانسر کو ریاست کے خلاف ان کی مذموم سرگرمیوں کی قیمت چکانی پڑے گی۔وانا پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔’

    ذیابیطس اور وزن میں کمی کی ادویات بینائی کا سبب بننے لگیں

    پی ٹی آئی نے دشمن کا خواب پورا کیا،عطا اللہ تارڑ

    ترکیہ میں ایمبولینس ہیلی کاپٹر تباہ،4 افراد ہلاک

  • بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی  رپورٹ 3 سال بعد سامنے آ گئی

    بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی رپورٹ 3 سال بعد سامنے آ گئی

    نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف کی موت، ہیلی کاپٹر کریش کی رپورٹ سامنے آ گئی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی چیف آف اسٹاف جنرل پبن کی ہیلی کاپٹرکریش میں موت سے متعلق رپور ٹ 3 سال بعد منظر عام پر آئی ہے جس میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی ہیلی کاپٹر کریش میں موت کی وجہ کو انسانی غلطی کو قرار دے دیا گیا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا میں پارلیمانی کمیٹی برائے دفاع کی پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2021 کو ہیلی کاپٹر حاد ثہ انسانی غلطی کی وجہ سے ہوا تحقیقاتی ٹیم نے حادثے کی ممکنہ وجہ جاننے کے لیے تمام گواہوں سے بات چیت کی، فلائٹ ڈیٹا، ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈ کے مکمل تجزیہ کے بعد رپورٹ مرتب کی گئی، 22-2021 میں مجوعی طور پر 9 حادثات پیش آئے تھے، 8 دسمبر کو بھارتی جنرل کے ہیلی کاپٹر کا حادثہ انسانی کوتاہی کی وجہ سے ہوا۔

    واضح رہے کہ بھارتی فضائیہ کا ایم آئی 17 جنرل پبن راوت، ان کی اہلیہ اور بھارتی افواج کے 12 اہلکاروں کو لے کر تامل نائیڈو میں موجود سولر ایئر فورس بیس سے روانہ ہوا تھا بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر ویلنگٹن میں ڈیفنس اسٹاف سروسز کالجز جا رہا تھا۔ اور لینڈنگ سے چند منٹ قبل پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔

  • شہداء  کے لواحقین کی  بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    شہداء کے لواحقین کی بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    پاکستانی فوج کے سربراہ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، کی خصوصی ہدایت پر شہداء اور ان کے لواحقین کی بہبود کے لیے "مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہداء کے ورثاء کے ساتھ فوری اور براہ راست رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ ان کی فلاح و بہبود کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔

    گریف کونسلنگ سیل میں خصوصی مددگار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو پاکستان فوج کے افسران اور ماہرین نفسیات پر مشتمل ہیں۔ یہ ٹیمیں شہادت کے بعد شہید کے خاندان کے افراد سے تعزیت کے لیے ان کے آبائی علاقے میں جاتی ہیں۔ اس دوران ماہر نفسیات شہید کے لواحقین سے تفصیلی ملاقات کرتے ہوئے ان کے ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کی تشخیص کرتے ہیں۔گریف کونسلنگ سیل کی ٹیم شہداء کے ورثاء کی معاشی، سماجی، رہائشی اور تعلیمی ضروریات کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتی ہے اور ان کے حل کے لیے اقدامات تجویز کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، شہداء کے ورثاء کو ان کی مراعات اور سہولیات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ ان کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہداء کے خاندان کو مراعات اور سہولیات کے حصول میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

    آرمی چیف کی جانب سے شہداء کی قبروں پر پھولوں کے گلدستے رکھے جاتے ہیں اور مرحوم کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مددگار ٹیم میں شامل ماہر نفسیات، شہداء کے غمزدہ خاندانوں میں موجود ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے علاج میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طریقے سے نہ صرف شہداء کے ورثاء کی فلاح کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ انہیں زندگی گزارنے کے لیے نئی امید اور حوصلہ بھی دیا جاتا ہے۔

    اگرچہ شہید کی زندگی کا کوئی مداوا نہیں، تاہم گریف کونسلنگ سیل کی مددگار ٹیمیں شہداء کے لواحقین کے لیے زندگی گزارنے میں نئی امید پیدا کرتی ہیں۔ یہ اقدام ایک عملی مظاہرہ ہے کہ شہداء کے ورثاء کی فلاح و بہبود کے لیے فوج اپنے فرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کر رہی ہے۔ شہداء نہ صرف قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں بلکہ ان کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام شہداء کے لواحقین کی مدد کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور یہ پاکستانی فوج کی شہداء کے خاندانوں کے لیے ایک اور عظیم پیشکش ہے۔

    پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

  • آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

    آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے کیمبرین پٹرول میں طلائی تمغہ جیتنے والی پاک فوج کی ٹیم کی ملاقات ہوئی ہے،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ٹیم کے ارکان کو شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

    کیمبرین پٹرول کی مشق 4 سے 13 اکتوبر 2024 تک برطانیہ میں منعقد ہوئی تھی اور اسے عالمی سطح پر سب سے مشکل ترین فوجی مشقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس سال کی مشق میں 143 ممالک کی افواج کی ٹیموں نے حصہ لیا، اور پاک فوج کے دستے نے ایک بار پھر اپنی بے مثال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی بار طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ اس فتح نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی افواج کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ "کیمبرین پٹرول میں جیت نہ صرف پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جذبے کی علامت ہے، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔ اس شاندار کامیابی کے ذریعے ہماری افواج نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔”آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مزید کہا کہ "پاک فوج کے جوانوں نے اپنی قربانیوں اور محنت سے دنیا کو یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پاکستان کی افواج نہ صرف مضبوط ہیں بلکہ ان کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بے نظیر ہے۔”

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کیمبرین پٹرول میں جیتنے والی ٹیم کے ارکان کو ان کی محنت اور عزم کے لئے شاباش دی اور ان کی کامیابی کو قوم کے لیے ایک عظیم اعزاز قرار دیا۔

    کیمبرین پٹرول ایک انتہائی دشوار گزار فوجی مشق ہے جس میں دنیا بھر کی افواج اپنی جسمانی، ذہنی، اور تکنیکی صلاحیتوں کا امتحان لیتی ہیں۔ یہ مشق برطانیہ کے دیہی علاقوں میں منعقد کی جاتی ہے اور افواج کے درمیان سخت مقابلے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس میں حصہ لینے والے دستوں کو جنگی ماحول میں مختلف مشکل ترین حالات سے نمٹنا پڑتا ہے، جس کے دوران ان کی فنی مہارت، جسمانی طاقت، اور ٹیم ورک کا سختی سے امتحان لیا جاتا ہے۔پاکستانی فوج کا یہ کامیابی کا تسلسل پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کی دنیا بھر میں پہچان بن چکا ہے، اور یہ ملک کی دفاعی قوت کی ایک اور بڑی مثال ہے۔