Baaghi TV

Tag: آرٹیمس 1

  • آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے آرٹیمس 1 مشن کامیابی سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرٹیمس 1 مشن میں شامل اورین اسپیس کرافٹ 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا اورین اسپیس کرافٹ کی پرفارمنس توقعات سے بھی زیادہ بہتر رہی ہے۔

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    واضح رہے کہ آرٹیمس 1 مشن کو 16 نومبر کو روانہ کیا گیا تھا اور اورین اسپیس کرافٹ اس وقت زمین سے 2 لاکھ 30 ہزار میل سے زیادہ دور پہنچ چکا ہے اور چاند سے 55 ہزار میل دور ہے۔

    ناسا کو توقع ہے کہ یہ مشن 21 نومبر کو چاند تک پہنچے گا اور وہاں اسپیس کرافٹ کے 4 میں سے ایک مین انجن کو چلایا جائے گا اورین اسپیس کرافٹ چاند کی سطح سے 81 میل اوپر سے گزرے گا۔

    4 دن بعد ناسا کی جانب سے دوسرے انجن کو چلایا جائے گا جس سے اورین اسپیس کرافٹ چاند کے دور دراز واقع مدار تک جاسکے گا اس کے بعد اسپیس کرافٹ کو زمین کی جانب واپس لایا جائے گا اور سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ اسپیس کرافٹ 11 دسمبر کو واپس پہنچے گا۔

    یہ کیپسول چاند کی سطح سے محض 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔ جبکہ زمین سے اس کا سب سے زیادہ فاصلہ 70 ہزار کلومیٹر تک ہوگا۔ کوئی بھی ایسا خلائی جہاز جو انسانوں کو لے جانے کے قابل ہو زمین سے اتنے زیادہ فاصلے پر کبھی نہیں گیا ہے۔

    آرٹیمس 1 مشن کی کامیابی مستقبل میں چاند کے لیے انسانی مشنز کی راہ ہموار کرے گی آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا۔

    واپسی پر کیپسول کی رفتار بہت تیز ہو گی، یہ 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گا جو آواز کی رفتار سے 32 گنا زیادہ ہے اس کے اندر کی ڈھال کو شدید حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا جو تین ہزار سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔

    فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی فرانس کی ٹیم کو بڑا جھٹکا

    اورین کیپسول کوچاند کی طرف لے جانے کے لیے راکٹ کو خلا میں کئی کام کرنے پڑے۔ جہاز اب اپنے یورپی پروپلشن موڈیول پر انحصار کرے گا تاکہ بقیہ مشن پر اسے محفوظ طریقے سے چلایا جا سکے۔

    یورپی خلائی ایجنسی کے انسانی خلائی پروازکےڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیوڈ پارکرنےبی بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ جب ہم چاند کے گرد اس انتہائی دلچسپ راستے میں مدار میں داخل ہوں گے تو وہ بہت زبردست لمحات ہوں گے۔ ہم پہلی مرتبہ چاند سے بہت آگے جا رہے ہیں۔

    آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجا جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔

    ٹویٹرنے بڑے پیمانے پراستعفوں کے درمیان تمام دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے

  • چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا طاقتور ترین خلائی راکٹ چاند کیلئے 29 اگست کو فلوریڈا کے لانچ پیڈ سے اڑان بھر رہا ہے-

    باغی ٹی وی : اسپیس لانچ سسٹم نامی میگا راکٹ 98 میٹر لمبا، 26 سو ٹن وزنی ہے اور اس مشن کو آرٹیمس 1 کا نام دیا گیا ہے اور یہ لگ بھگ 5 دہائیوں بعد انسانوں کی چاند پر واپسی کے لیے اہم ترین ٹیسٹ ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار


    یہ راکٹ پاکستانی وقت کے مطابق 29 اگست کی شام 5 بج 33 منٹ پر چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا جس میں اورین اسپیس کرافٹ بھی ہوگا راکٹ کو اسی لانچ پیڈ سے روانہ کیا جائے گا جہاں سے نصف صدی قبل چاند پر بھیجے جانے والے اپولو مشنز بھیجے جاتے تھے۔

    ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ اس راکٹ سے اتنی آگ خارج ہوگی جو فلوریڈا کے ساحل پر لاکھوں افراد دیکھ سکیں گے اور ناسا کو امید ہے کہ مشن کی کامیابی سے چاند پر انسانوں کی واپسی کا راستہ کھل جائے گا۔


    یہ راکٹ 8 منٹ میں زمین کے نچلے مدار میں پہنچ جائے گا آرٹیمس 1 مشن کا دورانیہ 42 دن یعنی 6 ہفتے ہے اور یہ اس دوران چاند کے دور دراز کے حصے کے اوپر رہے گا۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    اورین اسپیس کرافٹ میں کوئی انسان تو سفر نہیں کرے گا مگر کچھ کھلونے ضرور ہوں گے جن سے ناسا کو جدید اسپیس سوٹ اور ریڈی ایشن لیولز کی جانچ پڑتال کا موقع مل سکے گا اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو ناسا کی جانب سے 2025 میں انسانوں کو چاند پر اتارا جائے گا جن میں پہلی بار ایک خاتون بھی شامل ہوگی۔

    ویسے 2025 کے انسانی مشن سے قبل بھی مئی 2024 میں آرٹیمس 2 کو بھیجا جائے گا اور وہ بھی انسانی عملے پر مشتمل ہوگا، مگر وہ چاند پر اتریں گے نہیں۔


    آرٹیمس 2 دسمبر 1972 کے اپولو 17 مشن کے بعد پہلا مشن ہوگا جب انسانوں کو زمین کے مدار سے دور بھیجا جائے گا اپولو 17 آخری مشن تھا جب انسانوں کو چاند پر بھیجا گیا تھا اور اب تک مجموعی طور پر 12 انسان وہاں جاچکے ہیں-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ اکتوبر کے وسط میں زمین پر لوٹے گا زمین میں داخل ہوتے وقت اس کی رفتار 25 ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی اور 2800 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا مقابلہ کرکے یہ ریاست کیلیفورنیا کے قریب سمندر میں اترے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔

  • ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    امریکی خلائی ادارہ ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے نیا طاقتور راکٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے نئے اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) نامی نیا میگا راکٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ پیڈ پر پہنچایا جارہا ہے یہ راکٹ وہاں سے 29 اگست کو چاند کے مشن پر بھیجا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    پہلے مشن میں انسانوں کو نہیں بھیجا جائے گا مگر مستقبل کے مشنز میں انسانوں کو 5 دہائیوں کے بعد چاند پر بھیجا جائے گا۔


    یہ نیا راکٹ لگ بھگ 100 میٹر لمبا ہے جسے 16 اگست کی شب (مقامی وقت کے مطابق) لانچ پیڈ کی جانب بھیجا گیا جس کو منزل پر پہنچنے کے لیے 11 گھنٹے کا وقت لگے گا۔

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    اس راکٹ سے آرٹیمس 1 نامی مشن کو بھیجا جائے گا تاکہ مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے سسٹم کی آزمائش ہوسکے آرٹیمس 1 کے بغیر انسانوں کے اولین مشن میں ناسا کے اورین اسپیس کرافٹ اور یورپین ایجنسی کے سروس موڈیول کو چاند پر بھیجا جائے گا اس مشن میں اون بھرا کھلونا بھی خلاباز کے طور پر سوار ہوگا۔


    ناسا کو توقع ہے کہ اس مشن کی کامیابی کے بعد آرٹیمس 2 مشن کو 2024 تک بھیجا جاسکے گا جس میں خلابازوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا اس کے بعد 2025 میں آرٹیمس 3 مشن کو بھیجا جائے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔


    واضح رہے کہ قبل ازیں یورپین اسپیس ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ شوان دی شیپ (برطانیہ کا ایک معروف ٹی وی کردار) نئے اسپیس لانچ سسٹم کی پہلی پرواز کا حصہ ہوگی، جس سے آرٹیمس پروگرام کا آغاز ہوگا اسی پروگرام کے تحت آئندہ چند برسوں میں چاند پر انسانوں کی واپسی ہوگی۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں