Baaghi TV

Tag: آرٹیکل

  • برطانوی اخبار میں لکھا آرٹیکل انہوں نے اپنے وکلا کو زبانی ڈکٹیٹ کیا تھا،عمران خان

    برطانوی اخبار میں لکھا آرٹیکل انہوں نے اپنے وکلا کو زبانی ڈکٹیٹ کیا تھا،عمران خان

    اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہاہے کہ برطانوی اخبار میں لکھا آرٹیکل انہوں نے اپنے وکلا کو زبانی ڈکٹیٹ کیا تھا –

    باغی ٹی وی : اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران صحافیوں نے سوال کیا کہ نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ آرٹیکل آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی مدد سے لکھا گیا،جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے آرٹیکل اپنے وکلا کو زبانی ڈکٹیٹ کیا تھا اور انہیں ہدایت کی تھی کہ باقی چیزیں وی لاگز سے لے لی جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ میں آخری بال تک لڑوں گا، نوازشریف کو جانتا ہوں وہ دو امپائرز کے بغیر نہیں کھیلتاوہ لندن پلان کے تحت گارنٹی لے کر پاکستان آیا ہے، نوازشریف ایک تصدیق شدہ منی لانڈرر ہے۔

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی 2 مختلف کارروائیوں میں 4 دہشت گرد ہلاک

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے ترجمان نےکہا تھا کہ برطانوی اخبار دی اکانومسٹ میں شائع آرٹیکل بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خود لکھا ہے بانی پی ٹی آئی کے دی اکانومسٹ میں چھپے آرٹیکل پر چلنے والی خبریں حقائق کے برعکس ہیں، دی اکانومسٹ میں چھپے آرٹیکل پر حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کیا جا رہا، دی اکانومسٹ میں چھپا آرٹیکل بانی پی ٹی آئی نے تحریر کیا ہے،بانی پی ٹی آئی کا دی اکانومسٹ میں چھپا آرٹیکل آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے نہیں لکھا گیا۔

    16 جنوری سے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

  • برطانوی جریدے میں شائع  آرٹیکل عمران خان کی اپنی تحریر نہیں،جیل حکام

    برطانوی جریدے میں شائع آرٹیکل عمران خان کی اپنی تحریر نہیں،جیل حکام

    راولپنڈی: جیل حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی جریدے میں شائع ہونےو الا بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا آرٹیکل ان کی اپنی تحریر نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کا آرٹیکل جیل سے نہیں نکلا، آرٹیکل چھپنے کے بعد جیل حکام نے معاملے کی چھان بین کی تھی ذرائع جیل حکام نے بتایاکہ عمران خان سے ملنے والوں کا مکمل اسکین کیا جاتا ہے، ان سے ملنے والوں کی مکمل ریکارڈنگ ہوتی ہے۔

    انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات پنجاب فاروق نذیر نے کہا کہ جیل میں ملاقات کرنے والوں کی مکمل چیکنگ ہوتی ہے، ایس اوپیزکے تحت ملاقات کرنے والے خالی ہاتھ آتے اور خالی ہاتھ جاتے ہیں،آرٹیکل جیل سے باہر جاتا تو بڑی کارروائی ہوچکی ہوتی، اڈیالہ جیل میں عمران خان کی کمرہ نما بیرک کو انتہائی سیکیورٹی زون قرار دیا گیا ہے اور 24گھنٹے بیرک کی سیکیورٹی کیمروں، جیل اسٹاف اور دیگر خفیہ آلات سے مانیٹرنگ جاری رہتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے آنے والے ہر شخص کی جیل قوانین کے مطابق تلاشی لی جاتی ہے، اس کے علاوہ بیرک پر تعینات ہونےوالے سیکیورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹی کے آغاز اور اختتام پر بھی تلاشی لی جاتی ہےعمران خان کو صرف کتابیں پڑھنے کی سہولت میسر ہے اور کتابیں بھی انہیں اچھی طرح جانچ پڑتال کے بعد دی جاتی ہیں۔

    آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ جیل بیرک میں بانی پی ٹی آئی کو کاغذ اور قلم کی سہولت میسر نہیں، کوئی ایسا ذریعہ انہیں مسیر نہیں ہے کہ عمران خان جیل میں کچھ لکھ سکیں اور ان کا لکھا ہوا جیل سے باہر جاسکے، اس لیے اس آرٹیکل میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ یہ آرٹیکل عمران خان نے خود لکھا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں راولپنڈی کی اڈیالا جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے برطانوی جریدے دی اکنامسٹ میں مضمون لکھا تھا اور ایک بار پھر الزام دُہرایا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہی امریکا کے دباؤ پر ان کی حکومت گرائی نگران حکومت نے کہا تھاکہ مبینہ طور پر بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آرٹیکل کے بارے میں جریدے کے ایڈیٹر کو لکھا جائے گا۔

  • آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا دیں: اعتزاز احسن

    آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا دیں: اعتزاز احسن

    لاہور:آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا کراسے خوف زدہ کیا جائے ،اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا دیں۔

    تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججمنٹ کی صحیح تشریح نہیں کی جا رہی۔

    انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا دیں، آئین مجروح کر کے ڈکٹیٹر شپ لگانے والوں پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، اسپیکر و دیگر نے آئین کوختم نہیں کیا، خلاف ورزی کی ہے۔

    اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہوتی ہیں، بعض اوقات عدالتیں بھی غلط فیصلے دے دیتی ہیں، کسی جج کا فیصلہ کالعدم ہو جائے تو کیا اس پرآرٹیکل 6 لگ جانا چاہیے؟

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما نے کہا کہ آرٹیکل 6 کو مذاق بنایا جا رہا ہے، آئین کو مکمل طور پرمعطل اور منسوخ کرنے پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، سپریم کورٹ کے ججمنٹ کی صحیح تشریح نہیں کی جا رہی۔

  • قانونی اصلاحات کریں، توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے،سپریم کورٹ

    قانونی اصلاحات کریں، توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی.

    بابر اعوان نے سپریم کورٹ میں کہا کہ یوٹیلیٹی بلز ادا نہ کرنے والا بھی رکنیت کا اہل نہیں ہوتا،مدت کا تعین نہ ہوتو نا اہلی تاحیات ہوگی،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی امیدوار الیکشن سے پہلے بل ادا کردے تو کیا تب بھی نا اہل ہوگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بل ادا کرنے کے بعد نااہلی ختم ہو جائے گی، جب تک نااہلی کا ڈکلیئریشن عدالت ختم نہ کرے نااہلی برقرار رہے گی، یوٹیلیٹی بلز کی عدم ادائیگی پر نااہلی تاحیات نہیں ہوسکتی،

    بابر اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر کوئی ڈی سیٹ ہو اور 15 دن بعد دوبارہ پارلیمنٹ آجائے، ہوسکتا ہے دوبارہ منتخب ہوکر کوئی وزیر بھی بن جائے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ آپ قانونی اصلاحات کریں، توبہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ آرٹیکل 63 (1) جی پڑھ لیں،آپ کہتے ہیں منحرف ارکان کو تاحیات نااہل کریں، بابر اعوان نے کہا کہ انحراف کرنا بڑا سنگین جرم ہے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ آرٹیکل 63(1)جی کی خلاف ورزی زیادہ سنگین جرم ہے،آرٹیکل 63(1)جی عدلیہ، فوج کی تضحیک اور نظریہ پاکستان سے متعلق ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم دراصل متفقہ ترمیم تھی،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ قانون میں جرم کی مختلف سزائیں دی گئی ہیں، کیا عدالت سزا میں ایک دن کا بھی اضافہ کرسکتی ہے؟

    بابر اعوان کی جانب سے مشرف مارشل لاء توثیق کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ،بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مشرف کو آئینی ترمیم کا اختیار دیا تھا، عدالت کے اختیارات لامحدود ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت سب کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے ،بابر اعوان نے کہا کہ اتنا حوصلہ بھی ہونا چاہیے کہ ان فیصلوں کا حوالہ سن سکیں، سپریم کورٹ آخری امید ہے اس کے بعد سڑکیں اور جلسے ہیں، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آئین کے تابع پارلیمان، ایگزیکٹو اور عدلیہ ہونی چاہیے، بابر اعوان نے کہا کہ عدلیہ ہی سب کو آئین کے تابع کرسکتی ہے،

    آئین شکنی، اب لگے گا عمران خان اور اسکے ہمنواؤں پر آرٹیکل 6، تیاریاں شروع

    سپیکرکی رولنگ غلط، پیچھے موجود تمام افراد پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے،قمرزمان کائرہ

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    عمران خان،عثمان بزدار آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے،احسن اقبال

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار