Baaghi TV

Tag: آرٹیکل 63 اے

  • آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے

    آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی گزشتہ روز کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : حکم نامے میں کہا گیا کہ نظرثانی کی درخواست 3 روز زائد المیعاد ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک نے زائد المیعاد ہونے کی مخالفت نہیں کی جبکہ علی ظفر کی جانب سے نظرثانی درخواست زائد المیعاد ہونے پر اس کی مخالفت کی گئی،یہ واضح ہے کہ فیصلے کی وجوہات کے بغیر نظرثانی نہیں مانگی جا سکتی کیونکہ تفصیلی فیصلہ جاری ہونے پر ہی غلطی کی وجوہات سامنے آسکتی ہیں لیکن 63 اے کی نظرثانی تین ماہ اور 21 دن تفصیلی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے دائر کی گئی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو متعدد متفرق درخواستوں پر دلائل کی اجازت دی گئی، علی ظفر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مانگی، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ملاقات کے لیے عدالتی ہدایات جاری کی گئیں۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 19 مارچ کو سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے، عدالتی آرڈر کے بعد صدر عارف علوی نے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا، صدارتی ریفرنس اور 184 کی درخواستیں یکجا کر کے سنی گئیں، سابق چیف جسٹس نے 24 مارچ کو سماعت کے لیے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا، 14 اپریل کو بانی پی ٹی آئی نے بابر اعوان کے ذریعے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی، بابر اعوان نے نشاندہی نہیں کی کہ 11 سال سے زیر التواء بھٹو ریفرنس پر پہلے سماعت کی جائے، ڈاکٹر بابر اعوان بھٹو ریفرنس کیس میں بھی وکیل تھے۔

    سپریم کورٹ کے حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ صدر وفاق کے اتحاد کی علامت اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، آئین یا قانون میں صدارتی ریفرنس میں تمام شہریوں کو نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ، عمران خان کے وکیل کے اعتراضات قابل جواز نہیں، نظرثانی درخواست آؤٹ آف ٹرن مقرر ہونے کا جواز درست نہیں، اس لیے مسترد کیا جاتا ہے، بینچ کی تشکیل پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے اعتراض اٹھایا، چیف جسٹس نے اپنے جوابی خط میں بینچ تشکیل سے متعلق وضاحت کی حالانکہ چیف جسٹس قانونی طور پر وضاحت دینے کے پابند نہیں، جسٹس منیب اختر نے بینچ میں شامل ہونے پر اپنی عدم دستیابی سے آگاہ کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے بھی بینچ میں شامل ہونے سے انکار کیا، جسٹس منصور کے انکار کے بعد جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ میں شامل کیا گیا ، بینچ کی دوبارہ تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجز قانون کے مطابق ہے، سپریم کورٹ، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی یا چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، یہ اعتراض بھی مسترد کیا جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے صدارتی آرڈیننس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا، چیلنج کرنے کے ساتھ علی ظفر نے آرڈیننس کے تحت عدالتی کاروائی کی ریکارڈنگ اور ٹراسکرپٹ تیار کرنے کا بھی کہا۔

  • آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آرٹیکل 63 اے تشریح نظرِ ثانی کیس کی عدالتی کارروئی سے علیحدہ ہو گئی-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پر سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ میں شامل ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے کہا ہے کہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگئی ہے، ملاقات میں پولیس افسران بھی ہمراہ بیٹھے رہے، ملاقات کوئی وکیل اور کلائنٹ کی ملاقات نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی نے خود ویڈیو لنک پر پیش ہونے کی استدعا کی ہے، پہلے معلوم ہو جائے کہ بانی پی ٹی آئی کو خود دلائل کی اجازت ملتی ہے یا نہیں، ان سے ملاقات آزادانہ نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کون سی خفیہ باتیں کرنا تھیں، آپ نے صرف آئینی معاملے پر بات کرنا تھی، علی ظفر صاحب، آپ بلا جواز قسم کی استدعا کر رہے ہیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، میں باںی پی ٹی آئی کی ہی بات کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ افسر آف کورٹ ہیں، 5 منٹ ضائع ہو چکے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے بینچ کی تشکیل درست نہیں، حصہ نہیں بنیں گے، اگر بانی پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دیں گے تو پیش نہیں ہوں گے، حکومت کچھ ترامیم لانا چاہتی ہے، بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لیے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے بات کرنی ہے تو آج سے نہیں بلکہ شروع سے کریں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں جو بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ آپ کرنے نہیں دے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی گفتگو کر رہے ہیں تاکہ کل سرخی لگے، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آج بھی اخبار کی ایک سرخی ہے کہ آئینی ترمیم 25 اکتوبر سے قبل لازمی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس بات کا معلوم نہیں، حکومت آئینی ترمیم لا رہی ہے اور تاثر ہے عدالت ہارس ٹریڈنگ کی اجازت دے گی، ہم اس بات پر آپ پر توہین عدالت لگا سکتے ہیں، کل آپ نے ایک طریقہ اپنایا، آج دوسرا طریقہ اپنا رہے ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ ہماری عزت کریں، ہارس ٹریڈنگ کا کہہ کر بہت بھاری بیان دے رہے ہیں، ہارس ٹریڈنگ کیا ہوتی ہے؟ آپ کو ہم بتائیں تو آپ کو شرمندگی ہو گی، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ ہارس ٹریڈنگ کو روکتا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالتوں کا مذاق بنانا بند کریں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے 63 اے پر اپنی رائے دی تھی کوئی فیصلہ نہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں اگلے 7 منٹ میں کمرۂ عدالت سے باہر ہوں گا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویری گُڈ، ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ اگر کیس کا فیصلہ دیتے ہیں تو مفادات کا ٹکراؤ ہو گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو بول رہے ہیں اسے نہ سنیں گے نہ ریکارڈ کاحصہ بنائیں گے، کیا آپ بطور وکیل یا عدالتی معاون ہمیں دلائل دے سکتے ہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ بطور عدالتی معاون دلائل دے سکتا ہوں، جس کے بعد سپریم کورٹ نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

    سپریم کورٹ بار اور پیپلزپارٹی نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا، چیف جسٹس نے علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ کے دلائل سے مستفید ہونا چاہتے تھےعلی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں، اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لئے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر صدارتی ریفرنس پر فیصلہ نہیں رائے ہے تو اس پر عملدرآمد کیسے ہو رہا ہے؟ کیا صدر نے کہا تھا یہ رائے آگئی ہے، اب ایک حکومت کو گرا دو؟چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کو یاد ہے حاصل بزنجو نے ایک سینیٹ الیکشن پر کیا کہا تھا، سینیٹ جیسے ادارے میں الیکشن کے دوران کیمرے لگائے گئے، علی ظفر صاحب آپ کیوں ایک فیصلے سے گھبرا رہے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ دلائل دیں شاید ہم یہ نظر ثانی درخواست مسترد بھی کر سکتے ہیں جس پر علی ظفر نے بطور عدالتی معاون دلائل کا آغاز کر دیا،علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے حوالے سے صدر نے ایک رائے مانگی تھی، اس رائے کے خلاف نظرثانی دائر نہیں ہو سکتی، صرف صدر پاکستان ہی اگر مزید وضاحت درکار ہوتی تو رجوع کر سکتے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایک درخواست آپ نے بھی اس کیس میں دائر کی تھی جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ہم نے فلور کراسنگ پر تاحیات نااہلی مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا آپ اس پر پارلیمان میں قانون سازی کر سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا 63 اے کا فیصلہ دینے والے اکثریتی ججز نے رائے کا لفظ لکھا یا فیصلے کا لفظ استعمال کیا؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ یہ تو اس عدالت نے طے کرنا ہے کہ وہ رائے تھی یا فیصلہ، چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب آپ اس حد تک نظر ثانی کی حمایت کرتے ہیں کہ لفظ فیصلے کی جگہ رائے لکھا جائے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں اور جسٹس میاں خیل پہلے والے بنچ کا بھی حصہ تھے، ہم دونوں ججز پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، علی ظفر نے جواب دیا کہ اعتراض کسی کی ذات پر نہیں بلکہ بنچ کی تشکیل پر ہے۔

    علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ بار کی اصل درخواست تحریک عدم اعتماد میں ووٹنگ سے متعلق تھی، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوں کو غلط طور پر ایک ساتھ یکجا کیا، عدالت نے آئینی درخواستیں یہ کہہ کر نمٹا دیں کہ ریفرنس پر رائے دے چکے ہیں، نظر ثانی کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی آئین یا سزائے موت سے ناخوش ہوسکتا ہے لیکن عملدرآمد کرنے کے سب پابند ہوتے ہیں، کیا کوئی جج حلف اٹھا کر کہ سکتا ہے آئین کی اس شق سے خوش نہیں ہوں، ہر ڈکٹیٹر کہتا ہے تمام کرپٹ ارکان، اسمبلی اور ایوان کو ختم کر دوں گا، سب لوگ ملٹری رجیم کو جوائن کر لیتے ہیں، پھر جمہوریت کا راگ شروع ہو جاتا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں دیئے گئے حق زندگی کے اصول کو کافی آگے بڑھا چکی ہے، کسی بنیادی حق کے اصول کو آگے بڑھانا آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں ہوتا، آئین میں سیاسی جماعت بنانے کا حق ہے، یہ نہیں لکھا کہ جماعت الیکشن بھی لڑ سکتی ہےعدالتوں نے تشریح کر کے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کا اہل قرار دیا، بعد میں اس حوالے سے قانون سازی بھی ہوئی لیکن عدالتی تشریح پہلے تھی، عدالت کی اس تشریح کو آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں کہا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جج کون ہوتا ہے یہ کہنے والا کہ کوئی رکن منحرف ہوا ہے؟ پارٹی سربراہ کا اختیار ہے وہ کسی کو منحرف ہونے کا ڈیکلیئریشن دے یا نہ دے، ارکان اسمبلی یا سیاسی جماعتیں کسی جج یا چیف جسٹس کے ماتحت نہیں ہوتیں، سیاسی جماعتیں اپنے سربراہ کے ماتحت ہوتی ہیں۔

    جسٹس امین الدین خان نے استفسارکیا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کا انتخاب کون کرتا ہے؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ ارکان پارلیمان اپنے پارلیمانی لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ کرنے کا حق تو رکن پارلیمنٹ کا ہے، یہ حق سیاسی جماعت کا حق کیسے کہا جا سکتا ہے جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ارکان اسمبلی کو ووٹ دینے یا نہ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دیتی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت پر عمل نہ کرنے پر پارٹی سربراہ نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس حساب سے تو پارٹی کیخلاف ووٹ دینا خودکش حملہ ہے، ووٹ بھی شمار نہیں ہوگا اور نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا، اگر کوئی پارٹی پالیسی سے متفق نہ ہو تو مستعفی ہو سکتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ یہ امید ہوتی ہے کہ شاید ڈی سیٹ نہ کیا جائے اور نشست بچ جائے، عدالت نے قرار دیا کہ کسی کو ووٹ کے حق کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تشریح جمہوری ہے؟ ججز منتخب نہیں ہوتے انہیں اپنے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے، آپ تو جمہوریت کے بالکل خلاف بات کر رہے ہیں، تاریخ یہ ہے کہ مارشل لاء لگے تو سب ربڑ سٹیمپ بن جاتے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ملکی تاریخ کو مدنظر رکھ کر بات کرتے ہیں، اسی مقصد کیلئے پارلیمانی پارٹی بنائی جاتی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک پارٹی سربراہ کا اختیار ایک جج استعمال کرے تو کیا یہ جمہوری ہوگا؟ جج تو منتخب نہیں ہوتے، انحراف کے بعد کوئی رکن معا فی مانگے تو ممکن ہے پارٹی سربراہ معاف کردے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تاریخ میں تو یہ ہے کہ آمریت آئے تو سب 10 سال چپ کر کے بیٹھ جاتے ہیں، جیسے ہی جمہوریت آتی ہے، سب شروع ہو جاتے ہیں، میگنا کارٹا کے بعد برطانوی جمہوریت سے آج تک وہاں کئی لوگ ناخوش ہیں، اس کے باوجود وہاں جمہوریت چل رہی ہے، یہاں بھی جمہوریت چلنے دیں۔

    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے فیصلے میں لکھا ہے ہارس ٹریڈنگ کینسر ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ غلط الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، جج صرف یہ طے کر سکتا ہے کوئی چیز آئینی و قانونی ہے یا نہیں، یہ کوئی میڈیکل افسر ہی بتا سکتا ہے کینسر ہے یا نہیں۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ووٹ نہ گنے جانے کے حوالے سے قانون سازی کیوں نہ کی؟ تحریک عدم اعتماد آنے والی تھی، اس وقت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا گیا، اس وقت پارلیمنٹ کی جگہ سپریم کورٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، ریفرنس دائر کرنے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتماد اڑا دی، یہاں چیف جسٹس سے کچھ ججز نے رابطہ کیا تو سوموٹو لیا گیا۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 63 اے کا فیصلہ صرف ایک جج کے مارجن سے اکثریتی فیصلہ ہے، کیا ایک شخص کی رائے پوری منتخب پارلیمان پر حاوی ہے؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ پارلیمان کو اگر یہ تشریح پسند نہ ہو تو وہ کوئی دوسری قانون سازی کر سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک بندہ سوچتا رہے میں فلاں فلاں کو قتل کروں گا مگر کرے نہ تو کیا سزا ہوگی؟ کیا میں سرخ اشارہ محض توڑنے کا سوچوں تو کیا میرا چالان ہو سکتا ہے؟جمہوریت اس لئے ڈی ریل ہوتی رہی کہ یہ عدالت غلط اقدامات کی توثیق کرتی رہی، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ کل یہاں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ دے کر دیکھیں، کیا ایسے ڈرا دھمکا کر فیصلہ لیں گے،سوشل میڈیا پر چل رہا ہوتا ہے فلاں جج نے ایک ٹھاہ کر دیا، فلاں نے وہ ٹھا کر دیا، اداروں کو اہم بنائیں، شخصیات کو نہیں۔

    علی طفر نے کہا کہ جو کچھ باہر چل رہا ہے اس پر میں آنکھیں بند نہیں کر سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ میں اندر کی بات بتا رہا ہوں، اندر کچھ نہیں چل رہا، وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ میرا مشورہ ہوگا آپ تمام ججز آپس میں مل کر بیٹھیں، ججز رولز بنا لیں، سکون ہو جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ججز کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ ادارہ ٹوٹ گیا ہے،آپ ہمیں مفت کا مشورہ دے رہے ہیں تو ایک مفت کا مشورہ ہمارا بھی ہے، آپ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر معاملات طے کر لیں، پھر کہہ دیا جائے گا آپ نے مشورہ دیا ہے، ہم صرف ساتھ بیٹھنے کا کہہ رہے ہیں، بیٹھ کر جو مرضی کریں۔

    علی ظفر نے کہا کہ میں نے ساڑھے 11 بجے کے بعد جو بھی گفتگو کی وہ بطور عدالتی معاون کی، بطور وکیل بانی پی ٹی آئی میں کیس کی کارروائی کا حصہ نہیں ہوں،اس کے ساتھ ہی عدالتی معاون علی ظفر نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔

    عدالت نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا ’آپ نے باعزت طریقے سے دلائل دیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کے مشورے پر انشاء اللہ غور کریں گے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ نیو گینی میں منحرف رکن کا ووٹ نہ گنے جانے کا قانون بنایا گیا تھا، نیو گینی میں عدالت نے اس قانون کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں کسی جمہوری ملک میں ووٹ نہ گننے کا قانون نہیں، امید ہے ایک دن ہم بھی میچیور جمہوریت بن جائیں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نےپیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا صدر مملکت نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی اکثریتی رائے سے متفق ہیں یا اقلیتی سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ صدر مملکت کی جانب سے ریکارڈ پر کچھ نہیں آیا کہ کس سے متفق ہیں کس سے نہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت معاملہ صدر مملکت کو بھیج دیں کہ وہ فیصلہ کریں کس رائے سے متفق ہیں؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے معاملہ صدر مملکت کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواستیں بھی ریفرنس کے ساتھ ہی نمٹائی گئی ہیں، آئینی درخواستیں نمٹانے کا معاملہ صدر مملکت کو نہیں بھیجا جا سکتا، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ریفرنس پر آنے والے رائے کی ریاست پابند ہوگی، ریاست سپریم کورٹ کی رائے کی پابند ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر کوئی رکن ووٹ نہ ڈالے تو وہ بھی نااہل ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے جماعت کا سربراہ رکن کے نہ پہنچنے کی وجہ تسلیم کر لے، آرٹیکل 63 اے واضح ہے تو اس کی تشریح کی کیا ضرورت ہے، سپریم کورٹ میں منحرف اراکین کی اپیلیں بھی آنی ہوتی ہیں، اگر عدالتی فیصلہ ہی نااہلی کا باعث بنے تو اپیل غیر موثر ہو جائے گی۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تحریری صورت میں ہی تصور کی جائے گی، حسبہ بل کیس کے مطابق ریفرنس پر رائے جس نے مانگی اس پر رائے کی پابندی لازم ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر صدر مملکت رائے پر عمل نہ کرے تو کیا ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ عدالت صدر مملکت کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔

    فاروق ایچ نائیک نے منحرف رکن سے متعلق پی ٹی آئی کی عائشہ گلالئی کیس کا بھی حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے نام غلط لیا، شاید آپ کو ان سے پبلکلی معافی مانگنی پڑ جائے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ یہ گلالئی پشتو کا لفظ ہے جس کا مطلب بھی دیکھ لیں۔

    بعد ازاں عدالت نے آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاسپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، فیصلہ پانچوں ججز نے متفقہ طور پر سنایا ہے۔

    بعدازاں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو نہ سنے جانے پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ہے، عمران خان کو موجودہ بینچ پر اعتراض ہے، ہمارا موقف واضح ہے کہ بینچ کو قانون کے مطابق تشکیل نہیں دیا گیا۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022ء کو اُس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکن لارجر نے صدر مملکت کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر تین دو کی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا۔

    ججز نے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں کیا کیا جائے گا اور پارلیمنٹ ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے پانچ رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

  • آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دیدی

    آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دیدی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت آج ہو رہی ہے سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل سید مصطفین کاظمی اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی،جس پر چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل کو کمرہ عدالت سےباہر نکالنے کا حکم دیا-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ کا حصہ ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت سے انکار کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا، ججز کمیٹی نے جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ کا حصہ بنایا۔

    سماعت کے آغاز پر 63 اے تفصیلی فیصلے سے متعلق رجسٹرار کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق کیس کا تفصیلی فیصلہ 14 اکتوبر 2022 کو جاری ہوا،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے شہزاد شوکت سے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہو چکے تھے۔

    صدر سپریم کورٹ بار نے عدالت کو بتایا کہ تفصیلی فیصلے کے انتظار میں نظرثانی دائر کرنے میں تاخیر ہوئی، مختصر فیصلہ آ چکا تھا لیکن تفصیلی فیصلے کا انتظار کررہے تھے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عام بندے کا کیس ہوتا تو بات اور تھی، کیا سپریم کورٹ بار کو بھی پتہ نہیں تھا نظرثانی کتنی مدت میں دائر ہوتی ہے۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ مفادِ عامہ کے مقدمات میں نظرثانی کی تاخیر کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے، مفادِعامہ کے مقدمات کو جلد مقرر بھی کیا جاسکتا ہے، نظرثانی 2 سال سے سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی تھی۔

    اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے کہا کہ نظرثانی درخواست تاخیر سے دائر ہوئی جس کے باعث مقرر نہیں ہوئی، میں پہلے ایک بیان دے دوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں بیان نہیں گزارشات سنتے ہیں، بیان ساتھ والی عمارت پارلیمنٹ میں جا کر دیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ نظرثانی درخواست تاخیر سے دائر ہوئی جس کے باعث مقرر نہیں ہوئی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں نظرثانی فیصلے کے خلاف ہوتی یا اس کی وجوہات کے خلاف ہوتی؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ کل کے دلائل بہت میٹھے تھے، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آج کے دلائل کل سے بھی زیادہ میٹھے ہوں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کو کل کے دلائل پسند آئے تھے، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ شیریں اور تلخ کی ملاوٹ سے ہی ذائقہ بنتا ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آج میں تلخ دلائل دوں گا، میں نے درخواست دائر کی لیکن سپریم کورٹ آفس نے منظور نہیں کی، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں درخواست کا بتا دیں، آپ نے صبح دائر کی ہوگی۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھے دلائل دینے کے لیے وقت درکار ہے، مجھے بانی پی ٹی آئی سے کیس پر مشاورت کرنی ہے، آپ نے کہا تھا آئینی معاملہ ہے، وہ سابق وزیرِ اعظم ہیں، درخواست گزار بھی ہیں، ان کو آئین کی سمجھ بوجھ ہے، ان کو معلوم ہے کیا کہنا ہے کیا نہیں، مجھے اجازت دیں کہ ان سے معاملے پر مشاورت کرلوں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل شروع کریں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ یعنی آپ میری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست مسترد کر رہے ہیں، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ کل بھی ملاقات کر سکتے تھے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے مشاورت کرنی تھی تو کل بتاتے، عدالت کوئی حکم جاری کر دیتی، ماضی میں ویڈیو لنک پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بلایا تھا، وکلا کی ملاقات بھی کرائی تھی، وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین تھا آپ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست منظور نہیں کریں گے۔

    کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکیل مصطفین کاظمی روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ کس کی طرف سے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کر رہا ہوں، چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ آپ بیٹھ جائیں اگر آپ نہیں بیٹھ رہے تو پولیس اہلکار کو بلا لیتے ہیں جس پر مصطفین کاظمی نے کہا کہ آپ کر بھی یہی سکتے ہیں، باہر ہمارے 500 وکیل کھڑے ہیں، دیکھتے ہیں کیسے ہمارے خلاف فیصلہ دیتے ہیں۔

    اس موقع پر مصطفین کاظمی ایڈووکیٹ نے بینچ میں شریک 2 ججز جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ 5 رکنی لارجر بینچ غیر آئینی ہے، 2 ججز کی شمولیت غیر آئینی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل مصطفین کاظمی کو کمرہ عدالت سے باہرنکالنے کا حکم دے دیا اور عدالت میں سول کپڑوں میں موجود پولیس اہلکاروں کو ہدایت دی کہ اس جینٹل مین کو باہر نکالیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ملکی اداروں کو اس طرح دھمکا کر چلانا چاہتے ہیں؟ میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ برداشت کا مظاہرہ کیا، میری عدم برداشت کی ایسی تربیت ہی نہیں ہے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کتنے اراکین پارلیمنٹ کو جیل بھیجا ذرا بتائیں، کوئی جتنا مرضی برا بھلا کہتا رہے ہم کیس چلائیں گے۔

    چیف جسٹس بولے کہ ہم اپنی توہین برداشت نہیں کریں گے، جسٹس مظہر عالم میاں نے کہا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر سیاسی باتیں نہ کریں، جب کہ وکیل طیب مصطفین کاظمی کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا بیرسٹر علی ظفر صاحب یہ کیا ہورہا ہے؟ آپ آئیں اور ہمیں بے عزت کریں، ہم یہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے، علی ظفر نے جواب دیا میں تو بڑے آرام سے بحث کررہا تھا اور آپ بھی آرام سے سن رہے رہے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز سے بدتمیزی کا یہ طریقہ اب عام ہوگیا ہے، کمرہ عدالت سے یوٹیوبرز باہر جاکر اب شروع ہوجائیں گے۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ یہ ٹرینڈ بن چکا ہے فیصلہ پسند نہ ہو تو عدالتی بنچ پر ہی انگلیاں اٹھانا شروع کر دو، ہم یہاں عزت کیلئے بیٹھے ہیں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے جس کے دل میں جو آتا ہے کہتا چلا جاتا ہے ہم پیسوں کے لیے جج نہیں بنے، آپ کو پتا ہے جتنی جج کی تنخواہ بنتی ہے اتنا تو وکیل ٹیکس دے دیتا ہے آئینی اداروں کو دھمکیاں لگانے کا سلسلہ بند کریں۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ کہا جاتا ہے عدلیہ میں دو گروپ بنے ہوئے ہیں کیا ہم قومی اسمبلی یا سینیٹ کے ممبران ہیں جو گروپنگ کریں گے؟ اگر کوئی جاہل یا ان پڑھ ایسی بات کرے تو سمجھ بھی آتا ہے یہ جو شخص یہاں آیا تھا میں نے اسے سپریم کورٹ میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، یہ شخص شکل سے تو خاندانی لگ رہا تھا، کیا یہ اپنے بزرگوں کو بھی ایسے ہی کہتا ہوگا؟ ہم اپنی نوجوان نسل کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں؟ چند لوگ ملک یا اداروں میں ہیں جو چاہتے ہیں پاکستان اسی طرح چلایا جائے جو ہمدردی تھی وہ بھی شاید آپ کو اب نہ ملے۔

    چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی علی ظفر نے کہا کہ اس کیس میں ہمیں کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا، کل عدالت نے جو طریقہ اپنایا وہ غیر قانونی ہے، ایک ہی دن سب کو اکٹھا کر کے کہہ دیا کہ کون کون نظر ثانی کی حمایت کرتا ہے؟ اس کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرنا ضروری تھا بیرسٹر علی ظفر نے بینچ پر اعتراض کیا کہ یہ بینچ قانونی نہیں ہے یہ بینچ ترمیمی آرڈیننس کے مطابق بھی درست نہیں اب میرے دلائل سخت ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے لہجے میں آج تک تلخی نہیں دیکھی علی ظفر نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں یہ عدالت فیصلہ دے چکی چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی جماعت نے اس ایکٹ کی مخالفت کی تھی علی ظفر نے کہا کہ دلائل میں کسی نے کیا کہا وہ اہم نہیں آپ کا فیصلہ اہم ہے۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ آپ کی جماعت کل پارلیمنٹ میں موجودہ آرڈیننس کو ختم کرنے کا بل لاسکتی ہے، کل آپ کی جماعت ایسا قانون بنا دے تو کیا میں کہہ سکتا ہوں یہ ججز کی پسند یا ناپسند کی بات نہیں، قانون معطل تھا، اس کے باوجود میں نے چیف جسٹس بن کر دو سینئر ججز سے مشاورت کی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جسٹس منصور نے آپ کا حوالہ بھی دیا جب آپ سینئر جج تھے، آپ بھی ایک عرصے تک چیمبر ورک پر چلے گئے تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ میرے اعمال میں شفافیت تھی سمجھتا تھا قانون کو بل کی سطح معطل نہیں ہونا چاہیے، کیا ہم فل کورٹ میٹنگ بلا کر ایک قانون کو ختم کر سکتے ہیں؟ میری نظر میں میرے کولیگ نے جو لکھا وہ آئین اور قانون کے دائرے میں نہیں تھا، کل میں میٹنگ میں بیٹھنا چھوڑ دوں تو کیا سپریم کورٹ بند ہو جائے گی؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کل میرے کزن نے مجھے کہا سپریم کورٹ تو برباد ہو گئی ہے، میں نے پوچھا کیا وجہ ہے؟ کزن نے کہا پریکٹس اینڈ پروسیجر کی وجہ سے سپریم کورٹ برباد ہوئی، میں نے کزن سے پوچھا کیا آپ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر پڑھا ہے، اس نے کہا نہیں، ہم لوگوں کو قانون پڑھا نہیں سکتے، صرف ضمیر کے مطابق قانون کے تحت فیصلے کرسکتے ہیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ جسٹس منیب 30 ستمبر کو بینچ کا حصہ نہیں بنے جسٹس منیب کی غیر موجودگی میں بینچ کو بیٹھنا نہیں چاہیے تھا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ ججز کا انتخاب خود نہیں کرسکتے ایسا طرز عمل تباہ کن ہے، کیا ماضی میں یہاں سینیارٹی پر بینچ بنتے رہے؟ آپ نے بار کی جانب سے کبھی شفافیت کی کوشش کیوں نہ کی؟ 63 اے پر آپ کا ریفرنس آیا، فوری سنا گیا، اُس وقت 10 سال پرانا بھٹو ریفرنس زیر التوا تھا، بابر اعوان دونوں ریفرنسز میں بطور وکیل پیش ہوئے، شفافیت کا تقاضا تھا بابر اعوان پہلے دن کہتے پہلے پرانا ریفرنس سنیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پہلے یہ فیصلہ کیا جائے کہ یہ بنچ قانونی ہے پہلے یہ طے ہوجائے پھر میں دلائل دوں گا۔

    چیف جسٹس نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض مسترد کردیا اور کہا کہ آپ نے کہا فیصلہ سنادیں تو ہم نے سنا دیا ہم سب کا مشترکہ فیصلہ ہے بینچ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بینچ تشکیل دینے والی کمیٹی کے ممبران بینچ کا حصہ ہیں، وہ خود کیسے بینچ کی تشکیل کو قانونی قرار دے سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو ججز کمیٹی کے ممبران کسی بینچ کا حصہ ہی نہ بن سکیں، آپ ہمیں باتیں سناتے ہیں تو پھر سنیں بھی، ہم پاکستان بنانے والوں میں سے ہیں توڑنے والوں میں سے نہیں، ہم نے وہ مقدمات بھی سنے جو کوئی سننا نہیں چاہتا تھا، پرویز مشرف کا کیس بھی ہم نے سنا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ آپ نے بہت کوشش کی ہم ناراض ہو جائیں ہم کم از کم آپ سے ناراض نہیں ہوں گے،وکیل پیپلز پارٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ویسے جس انداز میں آج دلائل دیے گئے میری رائے مزید پختہ ہوچکی کہ ملک میں آئینی عدالت بننی چاہیے،چیف جسٹس پاکستان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میں اس پر کچھ نہیں کہوں گا۔

    چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دی اور کہا کہ وہ اس وقت سے لے کر صبح دس بجے تک جب چاہیں ملاقات کرسکتے ہیں، کوئی مسئلہ ہو تو علی ظفر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے فون پر فوری رابطہ کریں، عدلیہ میں شفافیت آچکی آمرانہ دور گزر چکا اور آمرانہ دور کو سپورٹ کرنے والا دور بھی گزرچکا، اب نہ اداروں میں آمرانہ دور آئے گا اور نہ ملک میں۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ پتا نہیں ہم کل رہتے بھی ہیں یا نہیں، اگر ججز کمیٹی میں ایک ممبر انکار کردے تو کیا ہونا چاہیے آپ تجویز دے دیں، ہم وہ تجویز آنے والے چیف جسٹس پاکستان تک پہنچا دیں گے، فی الحال تو ہماری رائے یہی ہے کہ دو ججز کی کمیٹی اپنے امور جاری رکھ سکتی ہے۔

    وکیل بانی پی ٹی آئی بیرسٹر ظفر نے کہا کہ فیصلہ لکھنے والے جج کو بنچ میں ضرور ہونا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہمارے پاس ایسا اختیار ہے ہم کسی کو پکڑ کر بینچ میں بٹھا سکیں؟

    جسٹس جمال نے کہا کہ اگر کوئی خود بینچ میں نہ آنا چاہے تو کیا ہم جرگہ لے کر چلے جائیں؟ بتائیں ہم کیا کریں؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ عدالت کو اس کیس میں جلدی کیا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ تقریباً ڈھائی سال بعد کیس لگ رہا ہے اور آپ اسے جلدی کہہ رہے ہیں؟ طویل سماعت کے باوجود آپ نے کیس کے میرٹس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا، فرض کریں ایک وزیراعظم اپنے دفتر کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرے، اس وزیراعظم کے اپنے ممبران اسے ہٹانا چاہیں تو اس فیصلے سے وہ راستہ بند کردیا گیا ہے، اس عدالتی فیصلے کی موجودی میں تو اپوزیشن بھی عدم اعتماد کی تحریک نہیں لاسکے گی پارلیمنٹ اگر خود سے چاہے تو آرٹیکل 63 اے اور آرٹیکل 136 کو ختم کردے۔

    علی ظفر نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ اس ادارے سپریم کورٹ کیلئے کچھ کریں، میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں،جسٹس جمال نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے بہت کوششیں کیں، ملاقات کیلئے اکیلے جائیں جلوس لے کر نہ جائیے گا۔

    وکیل پیپلز پارٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا میں فلور کراسنگ کا تصور ہے، ان ممالک کا ماننا ہے کہ فلور کراسنگ سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے کہا کہ ایسی باتیں نہ کریں کہیں آپ کو آپ کی پارٹی نکال نہ دے۔

    فاروق نائیک نے کہا کہ میری ایک بار صدر آصف زرداری سے ملاقات ہوئی انھوں نے کہا ایسا قانون نہ بنانا جو کل تمھارے آگے آئے،جسٹس جمال نے کہا کہ آپ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہیں کیا آپ نے وکیل کے کنڈکٹ کا نوٹس لیا ؟ اس پر فاروق نائیک نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت سے بدتمیزی کرنے والے وکیل کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔

    بعدازاں کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔

  • آرٹیکل 63 اے کیس: آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا،چیف جسٹس

    آرٹیکل 63 اے کیس: آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ کے نئے بینچ کی تشکیل پر اعتراض عائد کردیا-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے نظرثانی اپیلوں پر سماعت سماعت کر رہا ہے، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل لارجر بینچ میں شامل ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت اور پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل علی ظفر نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو بعد میں سنیں گے ابھی آپ بیٹھ جائیں، جس پر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں بینچ کی تشکیل نو پر اعتراض ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سے کہا ہے کہ آپ کو بعد میں سنیں گے، ہم چیزوں کو اچھے انداز میں چلانا چاہتے ہیں آپ بیٹھ جائیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جو ہوا ہے، وہ کورٹ میں بتادوں، کل جسٹس منیب اختر کو خط لکھا، اُنہوں نے وہ پوزیشن برقراررکھی، میں نے جسٹس منصورعلی شاہ کو کمیٹی میں بلایا، وہ نہیں آئے، ان کے سیکرٹری سے رابطہ کیا تو اُن کے اسٹاف نے اُن سے رابطہ کیا، اسٹاف نے بتایا کہ جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچا، میں نہیں چاہتا دوسرے بینچز کو ڈسٹرب کیا جائے، نعیم افغان کو نئے لارجر بینچ میں شامل کرلیا گیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے آج کے اجلاس کے منٹس جاری کیے، کمیٹی کے منٹس سپریم کورٹ ویب سائٹ پربھی اپ لوڈ کردیے گئے ہیں آج کل سب کومعلوم ہے سپریم کورٹ میں کیا چل رہا ہے، آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا، اب لارجر بینچ مکمل ہے کارروائی شروع کی جائے۔

    سپریم کورٹ بار کے وکیل اور صدر شہزاد شوکت نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 18 مارچ کو سپریم کورٹ بار نے درخواست دائر کی، 21 مارچ کو 4 سوالات پر مبنی صدارتی ریفرنس بھجوایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ریفرنس اور آپ کی درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جاسکتا تھا؟۔

    سپریم کورٹ بار کے وکیل نے کہا کہ 27 مارچ اس وقت کے وزیراعظم نے ایک ریلی نکالی، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر بات نہ کریں۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ اس کیس میں صدارتی ریفرنس بھی تھا اور184/3 کی درخواستیں بھی تھیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس پر رائے اور 184/3 دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، دونوں کو یکجا کرکے فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ صدراتی ریفرنس پر صرف رائے دی جاسکتی ہے، فیصلہ نہیں دیا جاسکتا، کیا دونوں دائرہ اختیار مختلف نہیں ہیں؟ صدارتی ریفرنس پر صرف صدر کے قانونی سوالات کا جواب دیا جاتا ہے، صدراتی ریفرنس پر دی رائے پر عمل نہ ہو تو صدر کے خلاف توہین کی کارروائی تو نہیں ہوسکتی،میں سرپرائزڈ ہوں کہ کیسے دو حدود ایک ساتھ کلب کی گئیں، اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست دی گئی، اس وقت حکومت کس کی تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سپریم کورٹ بار کے وکیل شہزاد شوکت سے استفسار کیا کہ اس وقت صدر پاکستان کون تھا؟ جس پر شہزاد شوکت نے بتایا کہ اس وقت عارف علوی صدر مملکت تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ وہی حکومت بطورِ حکومت بھی اس کیس میں درخواست گزار تھی، شہزاد شوکت نے آرٹیکل 63 اے پڑھ کر سنا دیا۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ صدر کی جانب سے قانونی سوالات کیا اٹھائے گئے تھے؟ جس پر وکیل سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں 4 سوالات اٹھائے تھے، آرٹیکل 63 اے کے تحت خیانت کے عنصر پر رائے مانگی گئی، عدالت نے کہا آرٹیکل 63 اے کو اکیلا کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، عدالت نے قراردیا کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لیے اہم ہیں، عدالت نے قراردیا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوں کے لیے کینسر ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فیصلے میں منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا بھی لکھا گیا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ منحرف ارکان کا ووٹ کاسٹ نہیں ہوگا ڈی سیٹ کرنے کا حکم فیصلے میں نہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ آئین میں تحریک عدم اعتماد،وزیراعظم اوروزیراعلی کا انتخاب اورمنی بل کی وضاحت موجود ہے، جب آئین واضح ہے تو اس میں اپنی طرف سے کیسے کچھ شامل کیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ برطانیہ میں حال ہی میں ایک ہی جماعت نے اپنے وزیراعظم تبدیل کیے، اس دوران جماعت نے ہاؤس میں اکثریت بھی نہیں کھوئی۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ فیصلے میں کہاگیا انحراف کرپٹ پریکٹس جیسا ہے، فیصلے میں کہاگیاکہ کوئی ایک مثال موجود نہیں جس میں انحراف ضمیر کی آواز پر کیا گیا ہو، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے ضمیر کا معاملہ طے کرنا مشکل ہے، کیا فیصلہ آرٹیکل 95 اور 163 کو متاثر نہیں کرتا؟ کیا پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے جیسا نہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جو لوگ سیاسی جماعتیں بدلتے رہتے ہیں انہیں ضمیر والا سمجھیں یا نہیں، فیصلے سے اختلاف کرنے والا جج بھی باضمیر ہوگا یا نہیں، ہم کون ہوتے ہیں کہنے والے کہ تم باضمیر نہیں ہو۔

    صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے دلائل دیے کہ فیصلے میں رضا ربانی کا حوالہ بھی دیاگیا کہ انہوں نے ضمیر کیخلاف جاکر پارٹی کو ووٹ دیا، پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی سربراہ الگ الگ ہدایات دیں تو کیا ہوگا؟ ایسے میں تعین کیسے کیا جاسکتا ہے کہ کس کی ہدایات ماننا ضمیر کی آواز ہوگا؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل62/1ایف پر جسٹس منصورعلی شاہ کا فیصلہ موجود ہے،فیصلے میں وضاحت موجود ہے نااہلی سے متعلق کونسی شقیں ازخود نافذ ہوتی ہیں اورکونسی نہیں۔

    وکیل شہزادشوکت نے استدعا کی کہ گزارش ہےکہ فیصلے کو واپس لیاجائے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں فیصلے میں کیا غلط ہے؟ شہزادشوکت نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ آئین دوبارہ لکھنے جیسا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ فیصلہ صرف یہ نہیں کہتا آپ کا ووٹ گنا نہیں جائے گا، فیصلہ کہتا ہے پارٹی کہے تو ووٹ لازمی کرنا ہے، پارٹی کےکہنے پر ووٹ نہ کرنے پر رکن کے خلاف کارروائی کا کہاں گیا ہے؟ نظرثانی درخواست کب دائر ہوئی۔

    شہزاد شوکت نے بتایا کہ 2022 میں نظرثانی درخواست دائر کی، چیف جسٹس نے کہا کہ عابد زبیری بھی جب صدر سپریم کورٹ بار بنے تو اپیل واپس نہیں لی، سپریم کورٹ بار کے دونوں گروپ نظرثانی درخواست پر قائم رہے، چلیں تسلی ہوئی کہ نظرثانی بار سیاست کی وجہ سے نہیں تھی شہزاد شوکت نے جواب دیا کہ نظرثانی خالصتاً آئینی مسئلہ ہی تھا۔

    وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی نے نظرثانی اپیل کی حمایت کردی چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ نظرثانی کی مخالف کون کررہا ہے؟

    عمران خان کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو دیا کہ بانی پی ٹی آئی کا وکیل ہوں لیکن نوٹس تاحال موصول نہیں ہوا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ویسے بتادیں آپ نظر ثانی کے حامی ہیں یا مخالف ہیں؟

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں نظر ثانی کی مخالفت کروں گا، پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ووٹ نہ گنا جانا آئین میں نہیں لکھا، اگر ووٹ گنا ہی نہیں جائے گا تو مطلب ہے میں نے کچھ غلط نہیں کیا، انحراف کا اطلاق تب ہوگا جب ووٹ گنا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلے میں جن ملکوں کے فیصلوں کا حوالہ ہے ان ممالک میں انحراف کی سزا کا بھی بتائیں، فریقین یہ بھی بتائیں کیا صدارتی ریفرنس اور 184/3 کی درخواستوں کو یکجا کیا جاسکتا ہے، پارلیمانی جمہوریت کی ماں برطانیہ ہے وہاں کی صورتحال بتائیں، نظر ثانی منظور ہونا یہ نہیں ہوتا کہ فیصلہ غلط ہے، وجوہات غلط ہوتی ہیں، نظرثانی کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے، آپ فیصلے کا نتیجہ نہیں صرف وجوہات دیکھ سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی سماعت ملتوی کردیتے ہیں، جو وکلا رہ گئے ہیں، ان کے دلائل کل سنیں گے،بعد ازاں، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔

    اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا تھا۔

    بینچ میں شامل جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے اور اس کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا۔

    اس معاملے پر مختلف نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں لیکن ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی تھی۔

    آرٹیکل 63 کیا ہے؟

    آرٹیکل 63 اے آئین پاکستان کا وہ آرٹیکل جو فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد اراکین اسمبلی کو اپنے پارٹی ڈسپلن کے تابع رکھنا تھا کہ وہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہ کر سکیں اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کے اسمبلی رکنیت ختم ہو جائے۔

    فروری 2022 میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے سوال پوچھا کہ جب ایک رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالتا ہے تو وہ بطور رکن اسمبلی نااہل ہو جاتا ہے، لیکن کیا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ اس کو ووٹ ڈالنے سے ہی روک دیا جائے۔

  • ضمیرفروش کوریلیف یاجڑسےغلط روش کاخاتمہ:قوم کامستقبل سپریم کورٹ کےہاتھوں میں چلاگیا

    ضمیرفروش کوریلیف یاجڑسےغلط روش کاخاتمہ:قوم کامستقبل سپریم کورٹ کےہاتھوں میں چلاگیا

    ضمیرفروش کو ریلیف یاجڑسےغلط روش کا خاتمہ:قوم کا مستقبل سپریم کورٹ کےہاتھوں میں’’آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ ریفرنس تیار ہوگیا ہے جو کل پیش کیا جائیگا۔

    وفاقی وزیر اسد عمر نے ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلیے سپریم کورٹ ریفرنس تیار ہوگیا ہے جو کل عدالت عظمیٰ میں پیش کردیا جائے گا۔

    اسد عمر نے ٹوئٹر پیغام میں مزید کہا ہے کہ انشا اللہ اس کیس سے پاکستان کی سیاست میں ضمیر بیچ کر لوٹا بننے کا گھناؤنا کاروبار ہمیشہ کیلیے ختم ہوجائے گا اور حرام کے پیسے کی سیاست میں اثر ورسوخ میں کمی آئیگی۔

     

     

    آرٹیکل 63A کی تشریح کے لئے سپریم کورٹ ریفیرینس تیار ہو گیا. کل کورٹ میں پیش کیا جائے گا. انشاءاللہ اس کیس سے پاکستان کی سیاست میں ضمیر بیچ کر لوٹا بننے کا گھناؤنا کاروبار ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا، اور ہرام کے پیسے کی سیاست میں اثرو رسوخ میں کمی آئے گی

    واضح رہے کہ اس سے قبل بابر اعوان کی ہدایت پر ہارس ٹریڈنگ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سمری وزارت پارلیمانی امور نے وزیر اعظم کو ارسال کی تھی، جو انہیں موصول بھی ہوگئی۔

    ریفرنس میں منحرف ارکان کے پارٹی مخالفت میں ووٹ ڈالنے پر رائے لی جائے گی، سپریم کورٹ سے رائے لی جائے گی کہ کیا ارکان پر آرٹیکل 63 اور 62 لاگو ہو سکتا ہے؟سپریم کورٹ سے پوچھا جائے گا کیا ہارس ٹریڈنگ پر ارکان تا حیات نا اہل ہو سکتے ہیں؟

     

    یاد رہےکہ اس سے پہلےپیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے اور کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا۔

     

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور جو کچھ نہیں ہو رہا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا اور آرٹیکل 63 اے صرف اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے تاہم ان کا ووٹ پارلیمنٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن کے نااہل کرنے تک ووٹ ڈالنے والا ممبر رہتا ہے۔

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چند روز قبل ایک بڑا سنگین معاملہ سامنے آیا اور کہا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والا او آئی سی اجلاس کو کو روک دیں گے تاہم پھر حکومت نے بہت اچھا فیصلہ کیا کہ او آئی سی کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالنے سے گریز کیا۔

    پی پی رہنما نے مزید کہا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ چند روز قبل پی ٹی آئی کے رہنما راجہ ریاض کیا کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس 24 بندے موجود ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اتنی ٹکٹس نہیں ہیں جتنے بندے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو سودے بازی ہورہی ہے، آپ پیسے پر بک جاو یا پھر الیکشن ٹکٹ پر ، کہلائی گی تو یہ سودے بازی ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ضمیرفروشی سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے

    واضح رہے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کی حمایت کرنے پر پاکستان تحریک انصاف نے 14 ارکان قومی اسمبلی کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں جب کہ 63 اے کی تشریح کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس فائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔