Baaghi TV

Tag: آزادی

  • ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی مسترد

    ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی مسترد

    ماسکو میں منعقدہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان، چین، روس، ایران، بھارت سمیت بڑی علاقائی طاقتوں نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ افغانستان میں کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

    اعلامیے میں زور دیا گیا کہ تمام ریاستیں افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں اور ملک کو بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔اجلاس میں شریک ممالک نے واضح کیا کہ کسی بھی بہانے سے افغانستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں غیر ملکی فوجی تنصیبات کا قیام خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ افغان عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی پہلی بار مکمل رکن کے طور پر شریک ہوئے۔

    اعلامیے میں افغان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔پاکستان کی شرکت ایسے موقع پر ہوئی جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے مطابق تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین سے حملے کرتے ہیں، تاہم طالبان انتظامیہ اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے جاری ہیں۔

    اسرائیلی جارحیت کے 2 سال ، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 92 فیصد مکانات ملبے کا ڈھیر

    کراچی پولیس نے برطانوی پولیس افسر کا گم سامان برآمد کر کےحوالے کر دیا

    راولپنڈی میں آپریشن، انتہائی مطلوب افغان ڈکیت سمیت 3 ملزمان ہلاک

    جاسوس کی گرفتاری پر بھارتی میڈیا نے وسیم اکرم کی تصویر دیکھا دی

  • گلگت بلتستان کا یوم آزادی،عام تعطیل،چنارباغ میں تقریب

    گلگت بلتستان کا یوم آزادی،عام تعطیل،چنارباغ میں تقریب

    گلگت بلتستان کا 77 واں جشن آزادی آج قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، یوم آزادی کے موقع پر پر آج گلگت بلتستان میں عام تعطیل ہے

    گلگت بلتستان میں جشن آزادی کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، مرکزی تقریب یادگار شہدائے چنارباغ میں ہوئی جس میں گورنر گلگت بلتستان، وزیر اعلیٰ بلتستان اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان نے پرچم کشائی کی، پولیس کے چاک وچوبند دستے نے سلامی دی،آرمی ہیلی پیڈ میں بھی جشن آزادی کی خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔

    وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو گلگت بلتستان کا یوم آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں.ہمارے آباؤ اجداد نے رنگ نسل سے بالا تر ہو کر ایک قوم کا ثبوت دیا. گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے.یکم نومبر1947 کو گلگت اور دیگر علاقے آزاد ہوئے.گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن اور جفا کش ہیں.آج ہم اپنے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں.آج ہم گلگت بلتستان کو عظیم سے عظیم بنانے کا عزم کریں.آج غازیان آزادی نے شریک ہو کر تقریب کو رونق بخشی،

    یکم نومبر 1947ء وہ دن جب گلگت بلتستان کو ڈوگرا راج سے آزادی ملی، گلگت بلتستان کے عوام کی جدوجہد کا مقصد پاکستان کے ساتھ الحاق تھا، گلگت اسکاؤٹس اور مقامی جانبازوں نے ڈوگرا راج کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مہاراجہ کے کنٹرول کا خاتمہ کر دیا،ڈوگرا راج کے خاتمے کے بعد گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا، 1948ء میں ایک سال کی جدوجہد کے بعد بلتستان کو ہندوستان کے تسلط سے بھی آزاد کرا لیا گیا، گلگت بلتستان سیاحتی، معاشی اور ثقافتی اعتبار سے بھی اہم مقام ہے

    1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی خواہشات کے برعکس گلگت بلتستان کو ہندوستان سے ملانے کا اعلان کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام نے مہاراجہ کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کیا،گلگت سکاؤٹ اور نوجوانوں نے ڈوگرہ کمانڈر گھنسارا سنگھ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ گلگت سکاؤٹ اور غیور عوام نے گلگت، ہنزہ اور نگر میں سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا،گلگت کی عوام نے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا اور بلتستان کے عوام نے بھی ڈوگرہ راج کے خلاف عَلَمِ بغاوت کی،گلگت سکاؤٹ اور نوجوانوں نے 72 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کروا کے پاکستان سے ملایا۔ یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان نے اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کیا،

    یکم نومبر کو گلگت بلتستان کا ڈوگرا راج سے آزادی کے موقعے پر ایک خوبصورت ملی نغمہ ریلیز کیا گیا ہے،ملی نغمہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مقامی گلوکاروں ذیشان حمزہ ، اور ہاشمی کی آواز میں ہے،ملی نغمہ نہ صرف گلگت بلتستان کی دلکش قدرتی مناظر کو پیش کرتا ہے بلکہ وہاں کے لوگوں کی بہادری ، ثقافت اور روایات کو بھی اجاگر کرتا ہے،یہ ملی نغمہ اپنی دھنوں کے ذریعے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کس طرح اس خطے کے لوگوں نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا،یکم نومبر 1947 کو شروع ہونے والی اس عظیم جدوجہد کا مقصد پاکستان کے ساتھ الحاق تھا۔ 14 اگست 1948 کو ڈوگرہ راج کے خاتمے کے بعد ، گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا،بے کار کبھی نہ جائے گی ، اجداد کی جو قربانی ہے ، رکھتے ہیں شہادت کا جزبہ ، یہ عشق ہماری دولت ہے،نغمہ کے یہ بول وطن سے محبت کے جزبہ کی عکاسی کرتے ہیں جو گلگت بلتستان کے لوگوں کے خون میں شامل ہے،یہ ملی نغمہ اتحاد ، محبت ، اور امن کا پیغام دیتا ہے ، جو کہ جی بی کے لوگوں کی روح کا حصہ ہے،آئیے اس خوبصورت لمحے کا حصہ بنیں اور اس نغمے کے ذریعے گلگت بلتستان کے غیور عوام کی آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو سراہیں۔

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • عزیزہم وطنو!چاہتاہوں کہ پاکستانی اپنے فیصلےخودکریں،امریکہ اوراغیارنہیں:یہی میرامشن ہے:عمران خان

    عزیزہم وطنو!چاہتاہوں کہ پاکستانی اپنے فیصلےخودکریں،امریکہ اوراغیارنہیں:یہی میرامشن ہے:عمران خان

    لاہور:عمران خان نےکہاہےکہ ہم ایسی حقیقی آزادی چاہتےہیں جس میں پاکستان کےفیصلےپاکستانی کریں۔تفصیلات کےمطابق سابق وزیراعظم اورچیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےکل کےلانگ مارچ کےآغازکےحوالےسےاہم ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ کل گیارہ بجے لبرٹی چوک سےحقیقی آزادی مارچ شروع ہورہا ہےعوام بھرپور شرکت کریں۔

    عمران خان نےکہا کہ حقیقی آزادی کی تحریک اس وقت تک جاری رہےگی جب تک باہرسےکٹھ پتلیوں کومسلط کرنےکا سلسلہ بند نہیں ہوجائےگا۔

    روس نےایک بارپھرپاکستان کوگندم درآمد کرنےکی پیشکش کردی

    چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ یہ لانگ مارچ کسی ذاتی مفاد کے لئے نہیں، یہ لانگ مارچ کسی کی حکومت کو گرانے یا لانے کے لئے نہیں بلکہ یہ لانگ مارچ انگریز سے حاصل کی گئی آزادی کے بعد حقیقی آزادی کے لئے ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ایسی حقیقی آزادی چاہتے ہیں جس میں پاکستان کے فیصلے پاکستانی کریں، ہم ایسی حقیقی آزادی چاہتے ہیں جس میں باہر سے مسلط کئے گئے کٹھ پتلیاں فیصلے نہ کریں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی؛کاروباری طبقہ انتہائی پریشان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حقیقی آزادی مارچ کی تحریک عوام کے فیصلے عوام کو کرنے دینے تک جاری رہے گی جبکہ ہم اس وقت تک حقیقی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک بیرونی سازش سے اقتدار میں آنے والے راستے بند نہ ہوجائیں۔

    دوسری جانب اس سے قبل لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل سے مارچ کا اعلان کررہا ہوں، اس لانگ مارچ کو سیاسی نہیں سمجھنا اس کو آزادی سمجھنا ہے۔

  • تیز گام ایکسپریس میں خواجہ سراؤں کا رقص،سعد رفیق کا نوٹس

    تیز گام ایکسپریس میں خواجہ سراؤں کا رقص،سعد رفیق کا نوٹس

    لاہور اور کراچی کے درمیان چلنے والی تیز گام ایکسپریس میں خواجہ سراؤں کے رقص کی ویڈیووائرل ہونے کے بعد وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے نوٹس لے لیا۔

    14 اگست پاکستان کی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی کو پاکستانیوں نے اپنے اپنے انداز سے منایا لیکن لاہور سے کراچی جانے والی ٹرین میں یوم آزادی عجیب انداز سے منایا گیا اور تیز گام کی ڈائننگ کار میں مجرا پارٹی کا اہتمام کیا گیا ۔

    خواجہ سراؤں کے نازیبا رقص کی ویڈیو سامنے آنے پر شہریوں نے شدید اعتراض کیا اور پاکستان ریلوے سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ریلوے ترجمان کے مطابق وزیر ریلوے سعد رفیق نےاس واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور کہاہےکہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

    ترجمان کے مطابق ٹرین کی کمرشل منیجمنٹ پرائیویٹ آپریٹر کے پاس ہے، شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے، پرائیوٹ آپریٹر کے مناسب جواب نہ دینے پر آپریٹر کا لائسنس کینسل کر دیا جائےگا۔

  • گوگل کی پاکستانیوں کو جشنِ آزادی کی مبارکباد

    گوگل کی پاکستانیوں کو جشنِ آزادی کی مبارکباد

    پاکستان کی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر گوگل نے بھی اپنے انداز میں پاکستانیوں کو مبارک باد پیش کر دی۔

    جہاں پاکستان میں 75 واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے وہیں گوگل نے اپنے ڈوڈل پر پاکستانی پرچم اور کراچی میں واقع فریئر ہال کی تصویر سجا کر پاکستانیوں کو جشنِ آزادی کی مبارک باد پیش کی ہے۔

    اس گوگل ڈوڈل پر کلک کرتے ہی سیکڑوں پاکستانی پرچم کے رنگ کی سبز و سفید جھنڈیوں کی بارش ہوتی نظر آتی ہے۔

    واضح رہے کہ2011ء سے یومِ آزادی کے موقع پر گوگل ہر سال نیا ڈوڈل پیش کر کے پاکستانیوں کو یومِ آزادی کی مبارک باد پیش کرتا آ رہا ہے۔

  • 75 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے،وزیراعظم نے پرچم کشائی کی

    75 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے،وزیراعظم نے پرچم کشائی کی

    ملک بھر میں آج 75 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ آج دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ نماز فجر میں ملکی ترقی، یکجہتی، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

    جشن آزادی پر مزار قائد پر گارڈ کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی، پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد پر اعزازی گارڈ کے فرائض سنبھال لیے ہیں۔تقریب میں کموڈور پاکستان نیول اکیڈمی محمد خالد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی.لاہور میں مزار اقبال پر بھی گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ہوئی جس کے دوران پاک فوج کے دستے نے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔

    اسلام آباد میں جناح کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی مرکزی تقریب منعقد ہوئی۔تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف مہمانِ خصوصی ہیں، جنہوں نے قومی پرچم بلند کیا.قریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے، قوم اور سمندر پار پاکستانیوں کو 75 واں یومِ آزادی مبارک ہو۔ان کا کہنا ہے کہ حقیقی آزادی ضرورتوں، بھوک، افلاس اور پسماندگی سے آزادی کا نام ہے، حالیہ بارشوں میں ملک بھر بالخصوص بلوچستان میں بہت نقصانات ہوئے۔
    وزیرِ اعظم نے کہا کہ شرپسند قوتوں کو ملی وحدت و باہمی اتفاق سے کچل دیں گے، کسی بھی قوم کے لیے اندرونی خلفشار، تقسیم اور انتشار سے بڑھ کر کوئی چیز خطرناک نہیں۔انہوں نے کہا کہ بارشوں کے دوران حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے پرچم کشائی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عبدالستار ایدھی اور ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے یوم آزادی پراپنے پیغام میں قوم کومبارکباد دی اور کہا کہ
    الحمداللہ آج پاکستان کو آزاد ہوئے 75 برس ہو گئے. یہ مملکت خداداد پاکستان اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام اورتحفہ ہے. قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت کی بدولت علامہ اقبال کے اس خواب اور مسلمانان ہند کی خواہش کی تکمیل ممکن ہوئی. یاد رکھیے کہ اس حقیقت کو پانے کے لیے خون کے دریاوں اور لاشوں کے انبار سے گزرنا پڑا تھا. اب یہ عہد کریں کہ ہمیں ایک عظیم تر قوم بننا ہے. اللہ تعالٰی نے ہمیں بہت سے خوبیوں سے نوازا ہے.جس میں جذبہ ایثار، حب الوطنی اور سرفروشی سر فہرست ہے.

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے پاکستان کے 75ویں یوم آزادی پر قوم کودلی مبارکباد دی،چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ پاکستان لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔تحریک پاکستان کے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ دن دھرتی کے ان تمام بہادربیٹوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کاموقع ہے،جنہوں نے مادر وطن کی سرحدوں کے دفاع اورحفاظت کرتے ہوئے جانیں قربان کیں۔ آزاد وطن کا حصول قائداعظمؒ کی شب و روز محنت اور علامہ اقبالؒ کے خواب کی تکمیل ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ یوم آزادی پربھارتی مقبوضہ جموں وکشمیرمیں کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔آزادی کی نعمت کے تحفظ کیلئے معاشرے میں باہمی تعاون اور خیر سگالی کو فروغ دینا ہوگا۔آج ہم اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم ثابت قدم رہیں گے اورقائداعظم ؒکے بتائے ہوئے ”اتحاد،ایمان اورنظم و ضبط کی مشعل کو تھامے ہوئے ہر چیلنج کو قبول کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو بانیان پاکستان کے نظریے کے مطابق تعمیر نو کی ہماری کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔ یوم آزادی کا پیغام ہے کہ ذاتی اختلافات ختم کرکے سب وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کیلئے ایک ہوں۔ آئیے! مل کر پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا عہد کریں۔

    وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ نے75ویں یوم آزادی پر قوم کو مبارکباددیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن ، محبت اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے قوم کو 75ویں یوم آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاہے کہ ہم سب کو ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے ۔ پاکستان کی 75ویں یوم آزادی کیا ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ گذشتہ 75سال کے دوران ملک نے کئی اتار چڑھائو دیکھے اور مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے اور پاکستان کو ایک جدید اور خوشحال ملک بنانے کیلئے سخت محنت کرنی چاہئے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے قوم کو 75ویں یوم آزادی پر مبارکباد دیتے ہوئے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کی دعا کی ہے۔

    سعودی عرب سے موصولہ اپنے بیان میں وزیر داخلہ نے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعا کی ہے۔ اپنے تہنیتی پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر ہم اپنے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفرت کا بیج بونے والے اپنے مذموم مقاصد میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے.

    وزارت خارجہ کے افسران نے پاکستان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر وطن عزیز کو شاندار موسیقی کا خراج تحسین پیش کیا ۔ افسران نے کلیم عثمانی کے لکھے ہوئے اور مہدی حسن کے گائے ہوئے مشہور ملی نغمہ ”یہ وطن تمہارا ہے ”کو دوبارہ ریکارڈ کیا۔

    اس مشہور ملی نغمے کا انتخاب اس کے طاقتور پیغام کے لیے کیا گیا تھا جو تمام پاکستانیوں کو اس وطن کے اثاثے کی حفاظت کی یاد دلاتا ہے جو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہمارے آبا اجداد کی جدوجہد آزادی کی بدولت معرض وجود میں آیا اور اس میں شہدا کا خون بھی شامل ہے ۔

    اس میں پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے کہ وہ اپنی شناخت کی قدر کریں اور یاد رکھیں کہ یہ ان کی محنت اور عزم اس ملک کو آگے لے جائے گا۔ اس گیت کی روح کے مطابق جس میں لوگوں کو اس موقع پر اٹھنے اور اپنے وطن کے محافظ کے طور پر اپنے فرض کو پہچاننے کی دعوت دی گئی ہے

    اس سے قبل رات گئے مختلف شہروں میں آتش بازی، ملی نغموں اور سبز ہلالی پرچموں کے ساتھ یوم آزادی کی شروعات ہوئی۔کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، حیدرآباد، کوئٹہ اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں یوم آزادی شروع ہوتے ہی آسمان پر رنگ ونور کی برسات ہوئی۔نوجوان سبز ہلالی پرچم اور جھنڈیاں لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ گلیوں، شاہراہوں، چوراہوں کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا جبکہ سرکاری عمارتوں پر چراغاں کیا گیا ہے۔

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں. رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لئے ماہ مقدس میں پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور رب کو عبادات کے ذریعے منانے کی اور اپنے گناہ بخشوانے کی کوشش کرتے ہیں. ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ در و دیوار، گلی محلوں بازاروں کو سجا کر اور ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجا اور لوگوں میں نیاز تقسیم کر کے اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں.

    محرم میں غم حسین رضی اللہ عنہ میں اتنے سوگوار ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں خوشیوں کی تقریبات کو ملتوی کر دیتے ہیں لوگ محبت حسین رضی اللہ عنہ میں اور قاتلین کربلا سے نفرت میں مجالس منعقد کرتے ہیں نوحے و مرثیے پڑھے جاتے ہیں.ماتمی جلوس نکال کر اور سینہ کوبی کر کے یزیدی لشکر کی مذمت کی جاتی ہے مظلوم کربلا کے سوگ میں کالے کپڑے پہن کر اپنے غم کا اظہار کیا جاتا ہے.

    محرم میں پانی کی سبیلیں لگا کر اور لنگر حسینی رضی اللہ عنہ تقسیم کر کے قاتلین کربلا کے اس عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جب انہوں نے کربلا کے مسافروں پر کھانا اور پانی بند کیا.

    اسی طرح اگست کے مہینے میں قومی یکجہتی کے اظہار کے لئے اور ایک الگ وطن حاصل کرنے کی خوشی میں گھروں پر اور عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں. گلی محلوں میں ملی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں گھروں کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے عمارتوں پر لائٹنگ کی جاتی ہیں اور ریلیاں نکال کر اپنی خوشی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے.

    لیکن ہوتا کیا ہے ہماری عبادات صرف رمضان المبارک، عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اظہار صرف ربیع الاول میں، مظلوم کربلا سے اظہار یکجہتی صرف محرم میں اور حب الوطنی کے جذبات صرف اگست میں بیدار ہوتے ہیں. کیا ان مہینوں کے علاوہ ہم مسلمان، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق حسین رضی اللہ عنہ اور محب وطن نہیں ہیں.

    آئیں ہم آج کے بعد مخصوص مہینے کے لئے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لئے مسلمان اور محب وطن بن جائیں اگست کا مہینہ ہے تو ہم اپنی ابتدا اسی مہینے سے کرتے ہیں ہم اپنی خود احتسابی کرتے ہیں کیا یہ ملک کسی مخصوص فرقے کے لئے حاصل کیا گیا یا مسلمانوں کے لئے، اگر مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تو ہم نے دیگر فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اس ملک کو جہنم کیوں بنا دیا.

    قائد اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمانوں کے لئے اس علیحدہ خطے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی سےزندگی گزار سکیں لیکن افسوس آج ہم اپنے قائد کے فرمان کو بھول کر سیاسی، نسلی، لسانی تعصبات کا شکار ہو گئے فرقہ بندیوں میں پڑ گئے جس قوم نے مضبوط ہو کر دیگر مظلوم مسلمان اقوام کی مدد کرنی تھی وہ آج خود مدد کے لئے غیر مسلم حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے.

    اس سب کی وجہ صرف فرقہ واریت اور عدم برداشت ہے ہم جب تک فرقہ واریت سے پاک رہے ہماری ترقی کی رفتار قابل رشک تھی دنیا کی دیگر اقوام ہمیں رشک سے دیکھتی تھیں لیکن پھر ہم نے آپس کی محبت ختم کر دی اور اپنا اتحاد ختم کر کے ٹکڑوں میں بٹ گئے آج یہ حالت ہے کہ ہم نے جن سے آزادی حاصل کی اب انہی کے ملک میں جانا اور وہاں اپنے خاندان سمیت مستقل رہائش اختیار کرنا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے.

    ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ایک ہیں لیکن ہم عملی طور پر اس پرچم کے سائے تلے ایک نہیں ہیں. ہمیں ایک ہونے کے لئے اپنے دلوں میں سے ہر قسم کے تعصبات کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں ایک دوسرے کی نیک نیتی پر یقین کرنا ہو گا ہمیں اس طرح آپس میں متحد ہونا پڑے گا جیسے 1947 میں تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد تھے.

    بڑے بڑے علماء کرام نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے کہ حقیقی آزادی قائد اعظم کی قیادت میں ملے گی آپ کو اپنا راہنما تسلیم کیا اور مساجد اور ممبر رسول سے لوگوں کو آپ کی قیادت پر متفق کیا. اسی جذبے کی ہمیں آج ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں”

  • برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب

    برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب

    لاہور:برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، برہان وانی کی شہادت 8 جولائی کوہوئی اس دن کی مناسبت سے برہان وانی کی شہادت کے نمایاں پہلوکچھ اس طرح ہیں

    ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حریت پسندرہنما برہان وانی کی شہادت کو 6 سال گزر چکے۔
    ۔ برہان وانی کا یومِ شہادت بھارت سے آزادی اور حقِ خود ارادیت کیلئے مزاحمت کے عہد کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
    ۔ برہانی وانی کو جموں و کشمیر میں ہندوستانی فورسز نے8جولائی2016کو شہید کیا۔
    ۔ صرف 15سال کی عمر میں ہندوستانی فوجیوں کے خلاف آواز اُٹھانے والے برہان وانی ایک ہونہار طالب علم تھے۔
    ۔ خالد وانی کی شہادت کے بعد ان کے چھوٹے بھائی برہان وانی نے بھارتی سامراج کے خلاف مزاحمت کی تحریک کو مشکل ترین حالات میں منظم کیا۔
    ۔ کشمیری نوجوانوں کے نزدیک برہان وانی ایک دَلیر حریت پسند اور ہیرو تھے۔
    ۔ برہان وانی نے وادی کشمیر کے جنگلوں، پہاڑوں اور بیابان علاقوں میں رہ کر مشکل ترین حالات میں بھارتی ا فواج کو کئی برس تک تگنی کا ناچ نچوایا۔
    ۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے حریت پسند رہنما برہان وانی کی کسی بھی قسم کی اطلاع دینے والے کو 10 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
    ۔ برہان وانی نے بھارتی دہشت اور وحشت کے سامنے آکر نہ صرف ان کو للکارا بلکہ پوری دُنیا کے سامنے بھارتی افواج کے جنگی جرائم کو بے نقاب بھی کیا۔
    ۔ برہان وانی کو بھارتی فوجیوں نے اس لیے شہید کیا کیونکہ وہ اپنی قوم اور لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے۔
    ۔ برہان وانی کو کشمیر کی نئی مسلح تحریک کا ‘پوسٹر بوائے’ بھی کہا جاتا ہے
    ۔ 8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پر عوامی تحریک شروع ہوئی تھی جسے دبانے کے لیے سرکاری کارروائیوں میں درجنوں افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
    ۔ امریکہ میں مقیم معروف کشمیری آرکیٹیکٹ ٹونی اشائی نے برہان وانی کیلئے لکھا کہ”میں انھیں نہیں جانتا لیکن میں نے سنا ہے کہ سب کشمیری ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں“۔
    ۔ اسوا شاہ نے برہان وانی کی نماز جنازہ کی تصویر شیئر کی اور لکھا ”دو لاکھ افراد ان کے جنازے میں شامل ہوئے اور لاکھوں کشمیریوں نے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی۔ وہ کشمیر کا بیٹا ہے۔ وہ ہمارا ہیرو ہے۔ وہ ہمارا برہان ہے۔“
    ۔ برہان وانی کی جرات و بہادری کو کشمیری عوام کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
    ۔ کشمیر کی تاریخ میں برہان وانی کو جرات اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

  • پاکستان میں اقلیتوں کومذہبی آزادی ہے،عبدالخبیرآزاد،مشکور ہیں،سکھ ونت سنگھ

    پاکستان میں اقلیتوں کومذہبی آزادی ہے،عبدالخبیرآزاد،مشکور ہیں،سکھ ونت سنگھ

    سکھ مذہب کے گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دن کی مرکزی تقریب”اکھنڈ بھوگ صاحب “ کا انعقاد کیا گیا.

    متروکہ وقف املاک بورڈ کے تحت گورودوارہ شری ڈیرہ صاحب میں منعقدہ تقریب میں چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبدالخبیر آزاد اورچیئر مین حبیب الرحمن گیلانی نے بطور مہمان خصوصی شریک کی.

    تقریب کے شرکاءکا استقبال ایڈیشنل سیکرٹری شیرائنز رانا شاہد سلیم ، ڈپٹی سیکرٹری شیرائنز محمد عمران گوندل اورپاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردار امیر سنگھ نے کیا

    تقریب میں سردار سکھ ونت سنگھ کی سربراہی میں بھارت سے آنے والا16 رکنی راگی گروپ اور144بھارتی سکھ یاتریوں سمیت پاکستان کے تمام صوبوں سے آنے والے نانک نام لیوا بھی تھے

    تقریب میں گورودوارہ شری ڈیرہ صاحب کے مہتمم سید اظہر، ترجمان بورڈ عامر ہاشمی،پی ایس جی پی سی کے ممبران، اور سکھ سنگتوں کے راہنماوں نے بھی شرکت کی.

    اس موقع پرچیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ دین اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کو مذہبی آزادی سمیت ہر شعبہ میں ترقی کے مواقع حاصل ہیں،حکومت پاکستان کی اقلیتوں کے لیے پالیسیاں روز روشن کی طرح سبھی پر عیاں ہیں،بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بادشاہی مسجد کے پلیٹ فارم سے کام کا آغاز میرے والد گرامی نے شروع کیا.

    مولانا عبدالخبیر آزاد نے مزید کہا کہ دنیا کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور انسانیت کی تعظیم کے مشن پر کام کرنا ہم سب کا فرض ہونا چاہیے،چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ حبیب الرحمن گیلانی نے کہا کہ پاکستان ایک گلد ستے کی مانند ہے،پاکستانی جھنڈے میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے،پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم شہریوں کو آئین میں دئیے گئے تمام حقوق حاصل ہیں،

    چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سمیت دنیا بھر سے آنے والے سکھ اور ہندو مذہب کے پیروکاروں کو خوش آمدید کہتے آئے ہیں اور کہتے رہیں گے ، خواہش ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت سے زیادہ سے زیادہ سکھ یاتری پاکستان آئیں اور اپنے مقدس مقامات پر ماتھا ٹیکیں، اور مذہبی رسومات ادا کریں.

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار سکھ مندرسنگھ نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر، یہاں جو محبت اور مان ملا، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں،بلا شبہ پاکستان میں سکھ مذہب کے مذہبی استھانوں کی بہتر انداز میں دیکھ بھال کی جاتی ہے، جس پر متروکہ وقف املاک بورڈ، حکومت پاکستان کے مشکور ہیں.

    دوران کے تقریب جو بولے سو نہال، ست سری اکال، سکھ مسلم دوستی زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے. پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی اور متروکہ وقف املاک بورڈ حکام کی جانب سے مہمانوں کو سروپے اور تحائف بھی پیش کئے گئے.

    مزید برآں متروکہ وقف املاک بورڈ کا ناجائز قابضین کے خلاف بھر پور آپریشن اڑھائی ارب روپے سے زیادہ کی مالیت کی 180دکانیں سیل کرتے ہوئے قبضہ حاصل کر لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بورڈ کے راولپنڈی آفس نے رالپنڈی میں باڑہ مارکیٹ کے ساتھ واقع کیانی مارکیٹ میں موجود اڑھائی ارب روپے سے زیادہ مالیت کی 180دکانیں ناجائز قابضین سے واگزار کروا لی گئیں۔ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر راولپنڈی محمد آصف خان کی سربراہی میں بورڈ کے عملہ سمیت اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی اور مقامی پولیس و انتظامیہ کی بھاری نفری نے آپریشن میں حصہ لیا۔

    آصف خان نے بتایا کہ یہ پراپرٹی متروکہ وقف املاک بورڈ کی ملکیت ہے جس پر گزشتہ کئی سالوں نے قابضین نے اس پر ناجائز قبضہ جما رکھا تھا اور اب عدالت عالیہ کے حکم پر ان کے خلاف بمطابق قانون کاروائی کی گئی ہے،انکا مزید کہنا ہے کہ دکانوں کو سیل کر کے انکا قبضہ حاصل کر لیا گیااور انکے خلاف مزید قانون کاروائی عمل میں لائی جا ئے گی۔اس کاروائی پر بورڈ چیئرمین نے متعلقہ سٹاف اورعملہ کی کارکرگی کو سراہا ہے۔