Baaghi TV

Tag: آزادیات

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

  • ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔

    بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ

    —چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔

    —سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔

    —پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔

    —خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔

    —جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔

    —خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔

    —جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔

    —ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

    اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔

  • ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز کیا ہوگی؟

    نہیں جانتے؟

    چلیں ہم آپ کو آج بتاتے ہیں کہ اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز یہ ہوگی کہ

    "امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا”۔

    اب یہ بھی سن لیں کہ یہ صرف ایک بریکنگ نیوز ہے جو فی الحال صرف آپ کو میری تحریر میں ہی پڑھنے کو ملے گی۔

    لیکن ایسا حقیقت میں کبھی بھی نہیں ہونے والا اور نہ ہی کبھی ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ایک دو دن کی کہانی نہیں بلکہ ایک لمبی داستان ہے جس کی توثیق آپ کو کچھ اس طرح سے بھی مل سکتی ہے اگر آپ آئی ایس آئی کے سابقہ چیف جنرل حمید گل کی گفتگو سن لیں یا ان کا کوئی انٹرویو پڑھ لیں جس میں اس بابت بات کی گئی ہو جیسے کہ جنرل حمید گل صاحب مرحوم فرما گئے کہ

    "بےشک میری قبر پر آکر پیشاب کر دینا اگر امریکہ یا اسرائیل کبھی بھی ایران پر حملہ کرے۔”

    حمید گل صاحب نے یہ بات یوں ہی ہوا میں تکا مار کے نہیں کی بلکہ اس کے پیچھے ان کی زندگی کا ایک اچھا خاصا تجربہ ہے۔

    جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے بھی اس میں رتی برابر شک نہیں لگا بلکہ جو میرے ذہن میں چل رہا تھا یہ بالکل اس کے عین مطابق ترجمانی تھی۔

    میں بچپن سے پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں میں یہ سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں کے امریکہ اور ایران کی آپس میں دشمنی ہے کیونکہ ایران اسرائیل کا دشمن ہے۔

    لیکن اصل مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ درپردہ یہ ایک دوسرے کے مفادات کے سب سے بہترین اوربڑے محافظ ہیں۔

    ایران کا خوف اور دبدبہ خطےمیں ایک تسلسل سے بنانے کا فائدہ امریکہ٫ اسرائیل اور ایران کو ہی ہوا۔

    کیونکہ اگر خطے میں ایران جیسی ریاست نہ ہوتی اور اس کا مذہبی یا مسلکی پس منظر نہ ہوتا جو مڈل ایسٹ میں موجود اس کے متضاد مسلک والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی عالمی سازشی دیگ کبھی بھی چولہے پر نہ چڑھتی۔

    ایک طرف امریکہ٫ ایران کو دھمکیاں لگاتا رہتا ہے لیکن کبھی ایک گولی بھی ایران پر نہیں چلاتا۔

    جبکہ دوسری طرف اسرائیل٫ ایران کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کی اٹھکیلیاں اور لاڈ بھی جاری رہتے ہیں۔

    اور ایران؟

    ایران کی تو کیا ہی بات ہے؟

    ایران ایک طرف امریکہ کو اپنے جوہری طاقت بننے کی دھمکی لگاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو تباہ کرنے کے دعوے کرتا رہتا ہے لیکن درحقیقت جب جب خطے میں کوئی جنگی یا درون خانہ سازشںی بساط سجتی ہے تب تب ایران ہر وہ چال چلتا ہوا نظر آتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو خطے میں محفوظ کرتی ہے۔

    کیا یہ اتفاق ہے کہ اس سال فروری میں محمد بن سلمان جب پاکستان کے دورے پر آئے تب بیک وقت بھارت اور ایران میں فالس فلیگ آپریشن اور من گھڑت دہشت گردی کے واقعات رو پذیر ہوئے۔

    جن کے ڈانڈے ان دونوں ممالک نے پاکستان سے زبردستی جوڑنے کی کوشش کی اور صرف کوشش نہیں کی بلکہ دھمکی بھی دی۔

    اور اسی کا تسلسل پھر پاک بھارت محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں ساری دنیا نے دیکھا اور جس میں بعد کی انٹیلی جنسیو رپورٹس کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیک وقت 3 سے 4 ممالک پاکستان کو اپنے حملے کی زد پر لینے کے لئے تیار بیٹھے تھے صرف بھارت ایک دفعہ کھل کر بسم اللہ کرتا۔

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ وہ 4 ممالک میں سے بھارت کے علاوہ باقی تین کون کون سے تھے؟

    ایران٫ اسرائیل اور امریکا۔

    اب یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ان تین ممالک کو بھارت کے علاوہ پاکستان سے کیا تکلیف ہے اور یہ کس وجہ سے درون خانہ ایک جیسے مفادات رکھتے ہیں جو پاکستان کی تباہی پر منتج ہیں۔

    سی پیک۔ ۔ ۔

    جی ہاں سی پیک ہی وہ مشترکہ تکلیف ہے جو بیک وقت بھارت٫ ایران٫ اسرائیل٫ امریکہ اور افغانستان کو ہے۔

    اس تکلیف کو تقویت اس وقت مزید پہنچی جب روس٫ سعودی عرب٫ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک سمیت چند یورپی ممالک نے بھی سی پیک میں اظہار دلچسپی دکھایا بلکہ یہاں تک کہ محمد بن سلمان جب پاکستان میں دورے پر آئے تب سی پیک کے حوالے سے اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی بات کرکے گئے جس سے خطے میں راتوں رات سیاسی اور نظریاتی بھونچال آیا۔

    اب یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس نہیں کہ ہم لوگ موجودہ عالمی صورتحال کو سمجھ نہ سکیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کسی صورت نہیں چاہتے کہ خطے میں پاکستان کسی بھی صورت جڑ پکڑے کہ اسے مشرق وسطی میں وہی حیثیت حاصل ہونا شروع ہو جو انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں حاصل تھی۔

    مطلب یہ سارے عرب ممالک کہیں سی پیک میں سرمایا کاری اور منافع کے لالچ میں پاکستان کی طرف جھک کر اسے خطے کا چوہدری نہ بنا دیں کہ ایک بڑا اسلامک بلاک تشکیل پا جائے لہذا ہر وہ طریقہ ہر وہ چال اپنائی جائے جس سے پاکستان کو اپنے لالے پڑے رہیں اور ہم خطے میں بلا شرکت غیرے چوہدری بن کر پنجائتیں سجاتے رہیں اور سب کو اپنی اپنی پڑی رہے۔

    اس میں جو سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے وہ اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے تین ہمسایہ ممالک یعنی افغانستان٫ ایران اور بھارت ہیں۔

    اب آپ کہیں گے کہ اتنی لمبی چوڑی بحث کا کیا فائدہ جب کہ امریکہ تو خطےمیں اپنا بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج لیکر بیٹھ گیا ہے۔

    درحقیقت یہ بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج خلیج میں ایران کی سرکوبی کے لئے نہیں بلکہ سعودی عرب کو کنٹرول میں رکھنے اور پاکستان پر قریب سے نظر رکھنے کے لئے اتاری گئی ہیں۔

    یہ اچانک سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملے٫ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر جھڑپیں اور تنازعات٫ افغانستان کی طرف سے عسکری اور نظریاتی مداخلت اور بھارت کی طرف سے دن رات پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے جبکہ امریکہ پاکستان کو دیدہ و نادیدہ شکنجوں میں لپیٹ رہا ہے۔

    اور پچھلے دو سالوں میں جو درحقیقت بریکنگ نیوز تھیں جن پر امت مسلمہ کا شدید ردعمل آنا چاہیے تھا خواہ وہ عسکری اور سیاسی ہوتا یا نظریاتی۔

    لیکن پہلی چوٹ پر چِلانے کے بعد باقی معاملات پر معذرت کے ساتھ امت مسلمہ سمیت وہ ممالک بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے جو انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔

    آغاز امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے کیا٫ پھر نئی امریکی حکومت نے پاکستان کے کردار کو مسخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا یہ کہہ کر کہ پاکستان ایک دھوکے باز ملک ہے جس نے امریکہ سے 33 بلین ڈالر کی امداد وصول کرکے امریکہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا٫ اس کے بعد امریکہ بنفس نفیس شام میں اتر آیا اور وہاں اس نے کیا کیا گل کھلائے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور سب سے آخر میں جو اہم پیشرفت ہوئی وہ یہ کہ گولان کی پہاڑیاں آفیشلی اسرائیل کے حوالے کردیں اور پورے حق سے کیں یہاں تک کہ انداز بھی جارحانہ تھا اور اب شنید ہے کہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر میں حائل سے سب سے بڑی رکاوٹ مسجد اقصیٰ کا انہدام بھی جلد ہی ٹرمپ کی مہربانی اور اجازت سے ممکن ہونے والا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ کا گھوم پھر کر ہر بل پاکستان پر پھٹا کہ پاکستان یکدم سفارتی اور خارجی سطح پر دنیا ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ میں ابھر کر سامنے آنے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکہ کی دور رس نتائج والی صیقل پالیسیوں کے خلاف تھا۔

    اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جو چیز٫ بات٫ شخصیت٫ نظریہ اور ملک
    امریکی پالیسیوں کے خلاف ہو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ اس کے مفادات کے حق میں نہیں۔

    اچھا ویسے امریکہ کے مفادات دراصل ہیں کیا؟

    سب سے پہلے تو امریکہ کی سپر ویژن برقرار رہے٫ اسرائیل ناصرف محفوظ رہے بلکہ دن بدن پھلے اور پھولے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اسلام یا اسلامی ممالک کسی صورت وہ طاقت نہ حاصل کر سکیں جو ماضی میں ان کو حاصل تھی۔

    یہ ہے امریکی مفادات کا وہ نچوڑ جس کے اردگرد رہ کر امریکہ کی ساری سیاسی و عسکری پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔

    میں پھر کہوں گا کہ اگر کسی بھائی کو یہ غلط فہمی ہو رہی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے خطے میں آکر بیٹھا ہے یا کسی بھی وقت امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے یا ایران جوابی کارروائی میں امریکا یا اسرائیل پر کوئی شدید حملہ کرے گا تو وہ یہ غلط فہمی دور کر لے کہ ایسا ہوتا ہوا فی الحال نظر نہیں آتا۔

    وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ "کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو”٫ اس وقت خطے میں "ساس” مطلب کہ امریکہ جو کچھ بھی "بیٹی” یعنی ایران کو سنا رہا ہے وہ دراصل "بہو” یعنی کے سعودی عرب اور پاکستان کو سنا اور جتا رہا ہے۔

    مجھے اس بات پر ایک سو ایک فیصد یقین ہے کہ امریکہ ناک ناک تنگ آچکا ہے پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور سی پیک کے بعد متوقع معاشی ترقی کو بھانپ کر لہذا اب امریکا کھل کر نہ سہی پر کسی حد تک جتا کر پاکستان کے سر پر بیٹھنے کے لئے خلیج میں اترا ہے کہ

    "بھائی تم میری باتوں کو یا شورشرابے کو دور کے ڈھول سہانے سمجھ کر کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔”

    مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کو اس صورتحال کا اندازہ تھا اسی وجہ سے ان کے درمیان گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہر طرح کا تعاون اور قربتیں بڑھی ہیں۔

    باقی اگر کسی کو ایک فیصد بھی یہ بات حقیقت لگتی ہے کہ امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے آیا ہے یا محدود پیمانے کا حملہ کرے گا تو چلو دیکھ لیتے ہیں پھر۔

    بیس سال تو مجھے ہوگئے ہیں یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔

    اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پھر یہ واقعی ایک بریکنگ نیوز ہوگی اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بریکنگ نیوز آپ کو اور مجھے کب اپنے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔