Baaghi TV

Tag: آزادی

  • کارکنوں کی قربانی سے حقیقی آزادی حاصل ہوتی ہے،عمران خان

    کارکنوں کی قربانی سے حقیقی آزادی حاصل ہوتی ہے،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لانگ مارچ میں مرنے والے کارکن کے گھر آمد ہوئی،

    اس موقع پرتحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی موجود تھے،ممبر صوبائی اسمبلی افتخار علی مشوانی نے عمران خان کو کارکن سیعد احمد کے حوالے سے تفصیلات بتا ئیں ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سعید احمد جان کے بچوں سے بھی ملے عمران خان نے پی ٹی آئی کے جاں بحق رکن کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ،عمران خان کا کہنا تھا کہ سعید احمد جان آزادی مارچ میں جاں بحق ہوئے ،سعید احمد جیسے کارکنوں کی قربانی سے حقیقی آزادی حاصل ہوتی ہے سعید احمد جان کی کی قربانی کو بھولنے نہیں دیا جائے گا، پارٹی کو سید احمد کی قربانی پر فخر ہے، پارٹی سعید احمد کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی، سعید احمد کے بچوں کا ہر ممکن خیال رکھا جائے گا،

    https://twitter.com/ZahirKh00992313/status/1530121106006454272

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ شہید کا سب سے بڑا رتبہ دین میں ہے، ہم اپنے شہیدوں کو نہیں بھولیں گے، وزیراعلیٰ محمود خان، میں چیئرمین پی ٹی آئی لواحقین کی پوری مدد کریں گے، ایسے لوگوں کی قریانیاں ہی رنگ لاتی ہیں لانگ مارچ کے وقت ہمارے لوگ جاں بحق ہوئے پی ٹی آئی کے شہدا کے لیے پارٹی ایک ایک کروڑ روپے اکٹھا کرے گی ،ہمارے ساتھیوں پر تشدد کیاگیا ملک کی توہین ہے 30سال سے پاکستان کو کھانے والے حکمران ہیں، یہ حکومت سازش کے تحت آئی ضمانت پر رہا شخص وزیراعظم ہیں فیصل عباس کو راوی پل سے پھینکا گیا وکلا کو پولیس نے گاڑیوں سے نکال کر تشدد کیا،چن چن کر ہمار ے لوگوں پر تشدد کیاگیا، عمر ایوب کو بےدردی سے مارا گیا،کون سی پولیس اس طرح بیٹیوں،بچوں اور رہنماوں کو مارتی ہے، پراپیگنڈا کیاگیا کہ ہم انتشار پھیلانے آرہے ہیں،لاہور لبرٹی چوک پر خواتین پرشیلنگ کی گئی شہباز شریف اوررانا ثنااللہ کو ماڈل ٹاون واقعے میں سزا ہوتی تو آج یہ نہ ہوتا،کارکن اوررہنما مایوس تھے کہ ہم وہاں جا کر کیوں واپس آئے،پنجاب پولیس میں چن چن افسران کو اوپر لایا گیا، پنجاب پولیس کو استعمال کیا گیا،ہم عدالتوں کے پاس گئے اور پھر فیصلہ آیا، ہمیں لگا عدالتی حکم کے بعد رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی،پولیس ہماری اور یہ لوگ ہمارے ہیں، انتشار ہوتا تو ملک کا بڑا نقصان ہوتا،

    مجھے خون خرابے کا خدشہ تھا،واپسی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،عمران خان
    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کارکن اور رہنما مایوس تھے کہ ہم وہاں جاکر کیوں واپس آئے، مجھے اسی رات خون خرابے کا خدشہ تھا،لوگ غصے میں تھے میں اگر اسی رات جا کر بیٹھ جاتا تو خون خرابہ یقینی تھا،میں نے ملک کو نقصان سے بچانے اور دشمن کو خوش نہ کرنے کے لیے واپسی کا راستہ لیا،ہماری اسلا م آباد سے واپسی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،میں 6دن دے رہاہوں الیکشن کی تاریخ کااعلان نہ کیا گیا تو مکمل تیاری سے نکلیں گے،کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس امپورٹڈ حکومت کو قبول کرلیں گے،جب تک زندہ ہوں ان کے سامنے کھڑا رہوں گا میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی ،ساری باتیں بےبنیاد ہیں،میں کرپٹ عناصر کے خلاف نکلنے کو جہاد سمجھتا ہوں ،جب تک زندہ ہوں ان کےخلاف رہوں گا،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جو ہوا ہماری تیاری ویسے نہیں تھی،ڈی چوک سے متعلق جو اطلاعات آئیں خدشہ تھا بڑامسئلہ نہ پیدا ہو،اسلام آبا د میں بھی حالات ٹھیک نہیں تھے ،شہریوں پر شیلنگ کی اطلاعات تھیں،سپریم کورٹ نے جو حکم جاری کیا سمجھا کہ اب راستے کھل گئے ہوں گے اسلام آباد پہنچنے پر پتہ چلا کہ وہاں تو شیلنگ جاری ہے،سپریم کو رٹ کو تمام صورتحال سے متعلق خط لکھا ہے،سب کچھ نظرآ رہاہے کون کیا کررہا ہے،سید احمد جان اور فیصل عباس آزادی مارچ کے شہید ہیں جو حقیقی آزادی کی خاطر باہر نکلے انہیں جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے، ہم پارٹی کی سطح پر انکے لیے ایک ایک کروڑ روپیہ اکٹھا کریں گے

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کون نفرت پیدا کررہا ہے،کون پولیس اور اداروں کے خلاف زہر اگل رہا ہے قومی اسمبلی میں یہ لوگ جو کررہے ہیں یہ غیر قانونی ہے،یہ لوگ ملک کو بغاوت کی طرف دھکیل رہے ہیں لوگوں کو اگر احتجاج کا حق نہیں دیا تو لوگ کیا کریں گے اگر انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو پھر کال دوں گا میری رقم بیرون ملک پڑی ہوتی تو شاید مجھے ملک کی فکر نہ ہوتی،اب قوم کو پتہ چلنا چاہیے کون حق پر کھڑا ہے، آئی ایم ایف کے دباو پر 30روپے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا،ان سے آئی ایم ایف کا دباو برداشت نہ ہوا،یہ باہرکے ممالک چاہتے ہی نہیں کہ پاکستان معاشی طورپرمستحکم ہو، ہمارے اوپر بھی آئی ایم ایف کا دباو تھا مگر ہم ان کے زیراثر نہیں آئے

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ڈونلڈ لو نے ہمارے سفیر سے کہا تھا کہ عمران خان روس کیوں گیا تھا روس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد گیا تھا،روس سے ہم تیل اور دیگر اہم معاہدے کرنے گئے تھے،بھارت نے روس سے 30فیصد کم قیمت پر تیل خریدا بھارت اسلحہ بھی روس سے خرید رہا ہے،ہمارے ساتھ امریکہ کا اتنا غصہ کیوں ہے،میری جنگ موجودہ حکومت کے ساتھ ہے،مجھے غلامی قبول نہیں ہے،وزیر اعظم کہتا ہے کہ بھکاری ہیں اس لیے غلامی قبول کرنی پڑے گی،6دن کی مہلت ہے ، قوم کو پھر باہر نکالوں گا،میرا فیصلہ ہے میں ان کو قبول نہیں کروں گا سپریم کورٹ سے تحفظ مانگتے ہیں جو ہمارا حق ہے،مجرموں کی حکومت قبول نہ ہی بیرونی دباو،ہم نے مذاکرات کے لیےدروازے کھلے رکھے ہیں.سازش میں کون ملوث تھا،سب جانتے ہیں،تشدد کے احکامات دینے والے بیورکریسی اورافسران جوابدہ ہوں گے ،میرا کوئی کیمپ نہیں، محمود خان کا حق ہے وہ کسی مارچ میں شرکت کریں،ہم نے ای وی ایم کے لیے اپوزیشن کو دعوت دی تھی،ا ی وی ایم سے دھاندلی نہیں ہونی تھی،ا ی وی ایم بھارت میں کامیاب ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتا،انہوں نے الیکشن ٹھیک کروایا تو نتائج مان لیں گے،

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

  • مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں

    مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں ،اطلاعات کے مطابق کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یو م حق خود ارادیت اس تجدید عہدکے ساتھ منارہے ہیں کہ اپنے حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد آزادی کو جاری رکھا جائے گا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 1949 ء میں آج ہی کے دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظورکی تھی جس میں عالمی ادارے کے زیر اہتمام رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے کشمیریوں کے حق کی حمایت کی گئی تھی۔

    آج دنیا بھر میں ریلیوں ، سیمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ اقوام متحدہ کو یاد دلایا جائے کہ وہ تنازعہ کشمیرکے حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور کشمیریوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے بچائے۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 5جنوری 1949ء کو منظور کی گئی قراردارتنازعہ کشمیر کے حل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ عالمی ادارہ اپنی منظورکردہ قراردادوں پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کراسکاہے جس کی وجہ سے کشمیری مسلسل شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

  • ایران کے سفیر کی وزیر ریلوے سے ملاقات

    ایران کے سفیر کی وزیر ریلوے سے ملاقات

    ایران کے سفیر کی وزیر ریلوے سے ملاقات
    وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی سے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر سید محمد علی نے وزارت ریلوے میں ملاقات کی ۔

    ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات اور ریلوے پروجیکٹس کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات میں مزید بہتری پید ا ہو رہی ہے۔
    ایران کے سفیر نے کہا پاکستان اور ایران کی دو ستی لازاول ہے ایران اور پاکستان کے درمیان اخوت اور محبت کے رشتہ بہت مضبوط ہیں،وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کا کہنا تھا کہ
    پا کستان ریلویز مستقل طور پر ملکی اور بین لاقوامی سپلائرز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے اپنے کسٹمرز کو بہتر بنانے میں کوشاں ہے۔ایرانی سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے خواہاں ہے۔

    ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے دو طرفہ معاملات کے امور اور ریلوے کے حوالے سے بھی زیر بحث آئے ۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون جاری رکھنے اور اسے وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا ملاقات کے میں چئیر مین ریلوے حبیب الرحمٰن گیلانی۔ ڈی جی پلا ننگ ودیگر شامل تھے

    قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان مختلف مذاہب ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن وآشتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہے۔ مغرب اظہار رائے کی آزادی کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی نہ کرے،اسلام امن کا دین ہے جو تشدد وانتہا پسندی کو قبول نہیں کرتا مختلف تہذیبوں کے گہوارے کے طور پر پاکستان،مختلف ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ہے انتہا پسندی، بالادست نظریات، تنازعات اور دیرینہ جھگڑوں سے تقسیم درتقسیم کا شکار آج کی دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی نے نہایت کلیدی اہمیت اور خاص حیثیت حاصل کرلی ہے شرانگیز پراپیگنڈے کے باوجود دنیا میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے جو تشدد وانتہا پسندی کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے فروغ یا حوصلہ افزائی کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام نسلی برتری کے نظریات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازات کو سختی سے مسترد کرتا ہے

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

  • بھارتی ظلم کشمیریوں کی آزادی کو روک نہیں سکتا ،عبدالعلیم خان کی یوم کشمیر پرخصوصی گفتگو

    بھارتی ظلم کشمیریوں کی آزادی کو روک نہیں سکتا ،عبدالعلیم خان کی یوم کشمیر پرخصوصی گفتگو

    مسئلہ کشمیر کا پر امن حل نا گزیر،بھارت عالمی قوانین روند رہا ہے:عبدالعلیم خان
    وزیر اعظم عمران خان نے مودی کو ہر فورم پر بے نقاب کیا: یوم کشمیر پرخصوصی گفتگو
    کشمیر کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو قومی موقف کا ساتھ دینا چاہیے: ٹویٹ

    سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلے کا حل نکالنا ضروری ہے اور اب بھارتی ظلم و استبداد زیادہ دیر تک کشمیریوں کی آزادی روک نہیں سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل میں ناکامی عالمی امن بھی تباہ کر سکتی ہے لہذا مودی ہوش کے ناخن لے،اُسے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا ہی ہوگا۔

    یوم کشمیر کے حوالے سے سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے اپنی خصوصی گفتگو اور ٹوئٹ میں کہا کہ 5فروری کا دن کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب سمیت ہر عالمی فورم پر مودی اور بھارت کو مکمل طور پر بے نقاب کیا اور کشمیر کے حوالے سے ہونے والی زیادتیوں پر آواز اٹھائی۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات سے بالا ترہوکر قومی موقف کا ساتھ دینا چاہیے۔سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ وادی کشمیر پر ناجائز قبضہ بر قرار رکھنے کے لئے بھارت تمام عالمی قوانین کو روند رہا ہے لیکن دن بدن مسئلہ کشمیر ابھی نہیں تو کبھی نہیں کی صورت اختیار کر رہا ہے اور انشاء اللہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا ہی ہوگا۔ عبدالعلیم خان کہنا تھا کہ بھارتی فوج کو بھی کشمیر میں ذلت اور رسوائی کا سامنا ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جلد رنگ لانے والی ہے-

  • مودی کبھی کشمیری عوام کو فتح نہیں کر سکے گا، سربراہان جمعیت علماءپاکستان کا خطاب

    مودی کبھی کشمیری عوام کو فتح نہیں کر سکے گا، سربراہان جمعیت علماءپاکستان کا خطاب

    کشمیر کی آزادی سے ہی پاکستان کی تکمیل ہے کشمیری عوام کی جدوجہد سے وادی کشمیر میں آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا:ڈاکٹر محمد زبیر

    قاری زوار بہادر کا کہنا تھا کہ مودی بھارتی عوام کو جنگ کا ایندھن بنانے پر تلا ہوا ہے پاکستانی قوم اپنے وطن کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیں گے- بھارت پاک افواج اور قوم کے جذبات کا کئی بارآزماچکا، بچہ بچہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہے جے یو پی کے زیر اہتمام ملک بھر میں ”یوم یکجہتی کشمیر “منایا گیا-

    لاہورمیں جمعیت علماءپاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر میں ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا گیااس سلسلہ میں لاہور میں کشمیری شہداءکے لئے قرآن خوانی کی گئی اوراس موضوع پر خطابات کیے گئے مقررین نے کہا ہے کہ مودی کبھی کشمیری عوام کو فتح نہیں کر سکے گا اقوام عالم بھارت میں 70 سال سے مقبوضہ کشمیر میں عوام کے ساتھ ظلم وستم اور سکھوں پر گزشتہ 2 ماہ سے تشدد کے خلاف آواز بلند کریں18 ماہ سے مقبوضہ کشمیر کے عوام لاک ڈاﺅن میں ہیںلیکن بھارتی حکومت یاد رکھے کشمیر کی آزادی سے ہی پاکستان کی تکمیل ہے کشمیری عوام کی جدوجہد رنگ لگائے گی اور وادی کشمیر میں آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا مودی سرکار بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گی جو پاکستان اور کشمیریوں کی دشمنی میں اندھی ہو چکی ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اب تک لاکھوں کشمیری بے گناہوں کا خون بہا چکا ہے اور وہاں مسلسل کشمیریوں کے خلاف ظلم وستم کا بازار گرم رکھے ہوئے ہے پاک بھارت سرحد پر کشیدگی روزانہ کا معمول بن گئی ہے اور بھارت سرحدی خلاف ورزیوں کے ذریعے پاکستان نے نہتے عوام کو نشانہ بناتارہتا ہے ۔

    مودی سرکار ہوش کے ناخن لے اور خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے سے باز رہے نریندر مودی بھارتی عوام کو جنگ کا ایندھن بنانے پر تلا ہوا ہے پاکستانی قوم اپنے مادر وطن کی سا لمیت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس کی حفاظت کریں گے ۔رہنماﺅں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے بھارتی حکمران مودی اور فوجی قیادت کسی غلط فہمی میں نہ رہے بھارت ماضی میں پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کے جذبات کا کئی بارآزماچکا ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ اپنی مسلح افواج اور حکومت کے ساتھ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماءپاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر،علامہ قاری محمد زوار بہادر، ڈاکٹر جاوید اعوان،سید محمد صفدر شاہ گیلانی، علامہ ابو یاسر اظہر حسین فاروقی، حافظ نصیر احمد نورانی، رشید احمد رضوی، مفتی تصدق حسین ، محمد ارشد مہر، مولانا سلیم اعوان،مفتی جمیل رضوی ،مولانا نعیم جاوید نوری، حاجی شوکت علی، مولانا زوار حسین،قاری لیاقت علی رضوی، قاری خلیل مہروی،مولانا مستنصر نورانی، مولانا شبیر حسین فریدی نے مختلف تقاریب میں یوم یکجہتی کشمیرسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔دریں اثناءجمعیت علماءپاکستان کے زیراہتمام ملک بھر میں ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا گیا جے یو پی کے مرکزی دفتر لاہور میں موصولہ اطلاعات کے مطابق کراچی میں ، سکھر میں ، راولپنڈی میں، اسلام آباد میں، فیصل آباد میں جمعتہ المبارک کے اجتماعات اور مختلف پروگرام میں یوم یکجہتی کشمیرکے موضوع پر خطابات کیے۔

  • یوم یکجہتی کشمیر اور اہلیانِ کشمیر سے ہماری یکجہتی کی حقیقت – محمد نعیم شہزاد

    یوم یکجہتی کشمیر اور اہلیانِ کشمیر سے ہماری یکجہتی کی حقیقت – محمد نعیم شہزاد

    درد کی بھی ایک زبان ہوتی ہے جس کو سمجھنے کے لیے دل کی آنکھ درکار ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ بظاہر خوشحال اور پرسکون نظر آنے والے چہروں کے پیچھے کتنے کرب چھپے ہوتے ہیں۔ وقت کی تیزی اور گردشِ زمانہ نے انسان کو کس قدر بے حس بنا دیا ہے کہ دوسرے کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ مگر جو درد میں ڈوبا ہو اس کی زندگی کس بھنور سے گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے۔ فیض کہتے ہیں

    زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
    ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

    قریب پون صدی کی غلامی کی زندگی، اذیت ناک صبحیں، درد بھری شامیں اور محرومیوں بھرے ماہ و سال، ایک لرزا دینے والا تصور پیدا کرتے ہیں۔ سال میں ایک دن اس بے بسی و بے نوائی کی گھٹن زدہ زندگی کے نام کر دینا اس کی محرومیوں کا مداوا نہیں کرتا مگر ذہن کے بند دریچوں پر ہلکی سی دستک ضرور دے جاتا ہے۔ پیلٹ گن سے بے نور آنکھیں، باپ کے سائے سے محروم یتیم بچے، اجڑے سہاگ والی دوشیزائیں، بے ردا ہوتی حیا و شرم والی خواتین اور نوجوانوں کے کٹے پھٹے لاشے عالمی مردہ ضمیر کو جھنجھوڑنے سے قاصر ہیں۔ جس باقاعدگی سے ہم یکجہتی کی رسمِ دنیا نبھا رہے ہیں اسی باقاعدگی سے نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ سالہا سال کی مکرر یکجہتی اور ہمدردی اب کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی اور وہ زبان حال سے کہنے پر مجبور ہیں

    مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
    یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے

    ذرا چشم تصور میں اس معصوم بچے کو لائیے جس کی بینائی پیلٹ گن چھین لے گئی۔ درد کی اس تصویر کو دیکھتے ہی دل غم سے بھر جاتا ہے۔ آج بھی اسی غم نے مجبور کیا کہ اپنا ما فی الضمیر سپرد قلم کر دوں شاید کہ دل میں دہکنے والی آگ کچھ ٹھنڈی ہو اور سکون قلب نصیب ہو۔

    درد ہو دل میں تو دوا کیجے
    اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے

    اس کے ساتھ ہی یہ سوچ ذہن کو پریشان کرتی ہے کہ عالمی امن کے ٹھیکیدار اور بڑے بڑے طاقتور ممالک کیوں ایسے محکوم لوگوں کے درد کا مداوا کیوں نہیں کرتے؟ کیا عالمی قوانین کا اطلاق صرف پاکستان جیسے امن پسند ملک کے لیے ہی ہے؟ کیا بھارت جیسی نجاست کو کوئی پوِتر اور پاک کرنے والا نہیں ہے؟ دو سال ہونے کو ہیں کہ بھارت نے کشمیر کی حیثیت کو زبردستی تبدیل کر دیا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے خطے میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مکروہ سازش پر جتا ہوا ہے۔ دنیا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے اس کی کارستانیاں دیکھ رہی ہے ۔

    درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے
    زندگی بے مزا نہ ہو جائے

    عالمی برادری اور ادارو ں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور بھارت کے مکروہ عزائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے۔ اس طرح اگر اہالیان کشمیر کو بھارت مظالم کا تختہ مشق بنائے رکھا تو ایشیا میں امن کی مخدوش صورتحال پوری دنیا پر اثر انداز ہو گی۔ بقول حفیظ جالندھری

    دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب
    میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

  • "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    صدیوں پہلے اللّٰہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے میں اپنے پروردگار سے دعا مانگتے ہیں۔۔۔۔:
    رَبِّ ھَب لِی مِنَ الصّٰلِحِین¤
    "میرے رب مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔۔۔”
    اللّٰہ تعالی نے اپنے خلیل کی دعا قبول کرتے ہوئے بردبار لڑکے کی بشارت دی۔۔۔
    مگر آزمائش کا دور ابھی باقی تھا۔۔۔بیٹا جب دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللّٰہ کے خلیل پیغمبر خواب میں دیکھتے ہیں کہ اسے ذبح کر رہے ہیں۔۔۔
    اپنے فرمانبردار اور صالح بیٹے سے مشاورت کی۔۔۔۔کیونکہ پیغمبروں کے خواب بھی وحی ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔!!!
    تو بیٹے نے نہایت عاجزی اور ثابت قدمی سے کہا:
    ابا جان!
    آپ کو جو حکم اللہ کی طرف سے ملا ہے۔۔۔۔اسے بجا لایئے۔۔۔
    کر گزریئے۔۔۔!!!!!
    ان شآ ء اللّٰہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔۔۔
    باپ اپنے لاڈلے بیٹے کو لے کر چل پڑا۔۔۔۔اور چھری تلے گردن رکھ دی۔۔۔
    جہانوں کا خالق اپنے بندے کی فرمانبرداری کے نظارے عرش پر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔:
    فرشتے کے ذریعے ندا آئی۔۔۔”یقیناً تو نے خواب سچ کر دکھایا۔۔۔”
    تیرے اس بھاری عمل کی لاج اب ہم یوں رکھیں گے کہ قیامت تک تیری اس سنت کو زندہ رکھیں گے۔۔۔۔
    اور اہل ایمان قیامت تک اللّٰہ کی رضا کے لیئے تیری اس قربانی کی یاد میں اپنے جانور اللّٰہ کی راہ میں قربان کرتے رہیں گے۔۔۔
    "اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔
    ابراھیم علیہ السلام پر سلام ہو۔
    ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
    بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔۔۔”(سورۃ الصّٰفٰت)
    اسکے ساتھ یہ سبق بھی ابراھیم علیہ السلام کی سنت کی اتباع کرنے والوں کے لیئے اہمیت رکھتا ہے کہ جب وقت آ گیا حق کے لیئے وہ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔۔۔!!!!

    بیسویں صدی کے باسیانِ ہندوستان نے بھی ایک خواب دیکھا تھا کہ اگر ان غیور و باشعور مسلمانوں کے لیئے برصغیر کے اندر الگ سے ایک نمائندہ ریاست قائم ہو جائے۔۔۔جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق جی سکیں۔۔۔۔اپنے دین کی تعلیمات پر آذادی سے عمل کر سکیں۔۔۔
    ظاہر سی بات تھی کہ یہ انسانوں کی زبان سے نکلتی بات تھی۔۔۔جسے دیوانے کا خواب بھی کہا گیا۔۔۔۔نا قابل عمل بھی کہا گیا۔۔۔مگر سنت ابراہیمی سے پیار رکھنے والوں نے تاریخ کے انمٹ ابواب پر خونِ دل سے تحریر کر دیا کہ لا الہ الا اللہ کے وارث کسی دور میں بھی قربانیوں سے ہچکچائے نہیں ہیں۔۔۔
    امتحان بڑا سخت تھا۔۔۔
    سفر بڑا کٹھن اور راہیں بڑی دشوار گزار تھیں۔۔۔!!!!
    مال کی قربانی تھی۔۔۔۔جان کی بھی۔۔۔۔
    گھر بار کی۔۔۔تو خاندان کی بھی۔۔۔
    مگر قافلہ ہجرت چل پڑا تھا۔۔۔جانبِ منزل۔۔۔۔آبلہ پا۔۔۔سورج کی حدت اور موسم کی شدت سے بے پرواہ ہو کر۔۔۔
    ایک ہی امید کا چراغ دلوں میں جلائے۔۔۔کہ خواب سے تعبیر تک کا سفر طے ہو جائے۔۔۔
    آذاد دھرتی۔۔۔پاک وطن۔۔۔پاکستان کی مٹی کا بوسہ نصیب ہو جائے۔۔۔!!!!!!
    ردا و آنچل۔۔۔۔
    لختِ جگر۔۔۔۔
    ماؤں کی ممتا۔۔۔
    شفقتِ پدری۔۔۔۔
    کی قربانیاں دے کر یہ قافلہ ہجرت اپنے مشن میں کامیاب ٹھہرا تھا۔۔۔۔
    14اگست 1947ء اقوام عالم کی تاریخ کا تابناک دن جب دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کی ریاست”پاکستان” کے انوکھے اور پیارے نام کے ساتھ ابھری۔۔۔
    دشمن کے سینے آگ سے بھڑک اٹھے تھے مگر۔۔۔۔۔
    اللّٰہ کا وعدہ بھی برحق تھا:
    "ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔”

    اس پاک وطن کی عمارت۔۔۔۔ انسانوں کے اعضاء اور پاکیزہ لہو کے گارے سے چُنی گئی۔۔۔
    کتنی نسلوں کی قربانیوں سے ملا۔۔۔۔
    اے وطن تو ہماری وفا کا صلہ۔۔
    خواب سے تعبیر تک سفر تو کس عزم سے طے ہوا تھا۔۔۔۔شاید ہم جیسے اس کا ادراک کبھی صحیح معنوں میں نہ کر سکیں۔۔۔
    ہاں چودہ اگست تک جوش و خروش باقی رہے گا۔۔۔پھر وہی ڈگر۔۔۔؟؟؟
    لیکن سوچنا یہ ہے کہ اپنی اپنی”میں”سے ہٹ کر ہم سب مل کر اس پاک وطن کی مضبوطی اور نا قابل تسخیر دفاع میں شامل ہو جائیں۔۔۔
    اس آذادی کے تحفہ کی دل و جان سے قدر اور بقاء کے لیئے کمر بستہ ہو جائیں۔۔۔
    اس پاک وطن کے دفاع میں اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹ جائیں۔۔۔
    اور پاکستان کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام پہنچا دیں کہ ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں عید و یومِ آذادی مناتی یہ قوم کبھی کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹی اور اس کے جوان بیٹے آج بھی اپنے پاکیزہ لہو سے اس کے در و دیوار کا بھر پور دفاع کر رہے ہیں۔۔۔
    جس طرح 12،13،14اگست کو ہم مالی قربانی کریں گے۔۔۔۔
    اسی طرح 14اگست کو یوم آزادی مناتے ہوئے اس عہد کا اعادہ بھی کریں گے کہ اس دیس کی حرمت ہمیں جانوں سے بڑھ کر ہے۔۔۔۔!!!
    اور لاریب اس وطن پاک کو بھی قیامت تک پائندہ و سلامت رہنا ہے۔۔۔۔۔!!!!!
    ہم اس دھرتی کے روشن مستقبل کے خواب کو کبھی بکھرنے نہیں دیں گے۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔
    آیئے!
    اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس وطن کی ترقی و استحکام کے لیئے اپنے اپنے کردار کا از سر نو جائزہ لیں۔۔۔۔کہ آذادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے۔۔۔سب سے پہلی چیز یہی”آذادی” ہے۔۔۔۔
    کیونکہ جب ہم آذاد ہوں گے تو آزادانہ اپنے تمام عملوں کو بھی بجا لا سکیں گے۔۔۔۔!!!!!
    اس کا بہترین مشاہدہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کی حالت زار سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔!!!
    تو سلامت وطن۔۔۔۔تا قیامت وطن۔۔۔!!!
    دل دل کی آواز۔۔۔۔ہر دل کی آواز "پاکستان زندہ باد”

  • تشکیل پاکستان اور عوام کا جذبہ ایثار ۔۔۔ ثنا صدیق

    تشکیل پاکستان اور عوام کا جذبہ ایثار ۔۔۔ ثنا صدیق

    پاکستان انتہائی کٹھن حالات میں معرض وجود میں آیا اس کا قیام انگریزوں اور ہندوں کی مرضی کے خلاف تھا بلکہ ہندو تو یہاں تک کہا کرتے تھے کہ پاکستان صرف چھہ ماہ تک ہی قائم رہ سکتا ہے کیونکہ ہندوستان کو تقسیم خاص کر ہندوں کی مرضی کے خلاف کیا گیا تھا انہیں مجبورا اس تقسیم کو ماننا پڑا تھا اس لیے انہوں نے کبھی بھی پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا الٹا پاکستان کو ختم کرنے کی سازش میں مصروف ہیں
    پنڈت لال نہرو نے ایک موقع پر کہا تھا:
    "یہ تقسیم عارضی ہے ہندوستان ایک دفعہ پھر متحد ہو کر رہے گا جناح کو پاکستان لینے دو لیکن اقتصادی حربوں اور دوسرے طریقوں سے اتنی مشکلات پیدا کر دی جائیں گی کہ بااخر پاکستان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا اور دوبارہ ہندوستان میں شمولیت کی درخواست کرے گا”
    لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے، قائداعظم کی مدبرانہ قیادت سے اور پاکستان کی عوام کے جذبہ و ایثار اور اتحاد کی بدولت نہ صرف قائم ہوا بلکہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا
    انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس کی تاریخ جون 1948 تک مقرر کی گی تھی فروری 1947 کو برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ جون 1948 کو برصغیر کو اقتدار منتقل کر دیا جائے گا اور ساتھہ یہ ابھی طے نہیں کیا گیا تھا کہ اقتدار کس کے حوالے کیا جائے گا لیکن پٹیل کے کہنے کی وجہ سے لارڈ ماونٹ بیٹن نے برطانوی حکومت کو لکھہ بھیجا کہ دو ماہ کے اندر اندر انتقال اقتدار کی منظوری کا قانون پاس کرے اگر اقتدار کی منتقلی 1948 کو ہوتا تو دونوں حکومتوں کو اثاثے، فوج اور دیگر سازوسامان کی تقسیم کا وقت مل جاتا مگر دو ماہ کے قلیل عرصے میں پاکستان کی تقسیم سے پیدا ہونے والے مسائل کا اندازہ لگانا نہ صرف مشکل تھا اس کو سلجھانا بھی ناممکن تھا اس کے پیچھے وہ سازش تھی جو کانگریس کی پاکستان کو ناکام کرنے کی تھی ہندوں کی یہ سازش تھی اگر انتقال اقتدار میں طویل وقت مل گیا تو مسلم لیگ اس کے لے کئی انتظامات کر لے گی لیکن افراتفری کی صورت میں اقتدار منتقل ہو جائے تو مسلمان اس کو سنبھال نہیں سکے گے اسی سارش کے تحت انگریز اور ہندوں کے گٹھہ جوڑ سے قانون آزادی ہند 1947 کو پاس کروایا گیا ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان کے لیے بہت سے مسائل تھے کچھہ مسائل تو ایک نئی ریاست کو لازما پیش اتے ہیں لیکن زیادہ تر مسائل ہندوں کے پیدا کردہ تھے بھارت کے لیڈروں نے یہ مسائل اس لیے پیدا کیے تھے کہ پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا نہ ہو سکے لیکن پاکستان کی عوام کا بے دریغ قربانیاں اور جذبہ ایثار نے دنیا کو دکھایا کہ یہ پاکستان ختم ہونے کے لیے نہیں بلکہ ہمشہ قائم رہنے کے لیے تشکیل پایا گیا ہے
    پاکستان کی عوام نے قائداعظم کی قیادت کے علاوہ مسلمانوں کی بے پناہ جذبہ اخوت اور ایثار کی وجہ سے قائم ہوا وہ اپنا علحدہ وطن اور اسلامی ریاست کے حصول کے لیے اپنا سب کچھہ قربان کرنے کے لیے تیار ہو گے قیام پاکستان کے بعد سب سے سنگین مسئلہ مہاجرین کا تھا اگرچہ پاکستان تو بن گیا تھا لیکن اتش زنی اور خنجر زنی کے واقعات بڑی تعداد میں رونما ہو رہے تھے سب سے زیادہ تکلیف دو صورتحال مہاجرین کی تھی کیونکہ ہندوں نے ٹھان لیا تھا کہ کوئی مسلمان زندہ بچ کر نہ جائے اگر مسلمان زندہ بچ بھی جائے تو زخمی اور برباد کر دیا جائے ہندوں اس قدر اشتعال تھے کہ زیادہ تکلیف دہ صورتحال مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی تھی جن کے پاس لباس کے سوا کچھہ نہ تھا پاکستان کی عوام نے اپنے ان بے یارومددگار اور بے خانماں بھائیوں کو جس فراخ دلی اور جذبہ اخوت سے دل کے ساتھہ لگایا وہ ہماری اعلی تاریخی روایات کا ایک حصہ ہے اقتصادی میدان میں اور دوسرے شعبوں یہاں ماہرین کی کمی تھی اس کو جس محنت اور دل لگی سے پورا کیا گیا وہ ہماری قومی خلوض دیانت اور محنت کی عمدہ مثالیں ہیں پاکستانی قوم انتہائی کٹھن حالات میں بھی احساس محرومی اور کمتری کا شکار نہیں ہوئی بلکہ قومی جذبہ سے سرشار تعمیر وطن کے لیے تیار ہو گئی انتظامیہ کے سامان کی قلت کے پیش نظر خیموں اور فوجی بارکوں میں بیٹھہ کر محنت سے دن رات کام کیا گیا ڈاکٹروں نے آلات کی عدم موجودگی کے باوجود زخمی مہاجرین کا خلوص دل سے علاج کیا غرضیکہ کہ ہر شعبہ ذندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے ثابت کیا کہ قوموں کی بقاء کے لیے وسائل کی کمی نہیں بلکہ محنت دل لگی خلوص ایثار و قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح پاکستانی عوام نے چند مہنوں میں دنیا کو خاص کر ہندوؤں کو دکھا دیا کہ پاکستان ہمشہ رہنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

  • اک قرض…. جو ابھی چکانا باقی ہے… ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اک قرض…. جو ابھی چکانا باقی ہے… ڈاکٹر ماریہ نقاش

    لمحوں کی قید سے آزاد ہو کر پل بیتتے رہے….لمحوں اور پلوں کے تانا بانا بنتے بنتے …گھنٹوں, ہفتوں اور مہینوں کے گزرنے کا پتا ہی نہ چل سکا….اور ماہ و سال کی پت جھڑ اور شب و روز کی قید سے آزاد ہو کر اک بار پھر اگست کا مہینہ آن نازل ہوا….
    وہی آزادی کا مہینہ جسے باقی عام مہینوں پر اس لیے بھی برتری حاصل ہے کہ اس مہینے میں ملک آزاد ہوا تھا ….آج آزادی کے اکہترویں سال جب قلم ہاتھ میں لیے میں لکھنے بیٹھی تو بڑے بوڑھوں سے سنے آزادی اور قربانی کے کئ قصے ذہن کی سکرین پر اک تسلسل کے ساتھ گردش کرنے لگے…
    کہیں لڑکیوں کو عصمت بچانے کیلیے بھاگتے ہوۓ دیکھ رہی ہوں …..
    کہیں عزت لٹنے کے خوف سے کنویں میں کودتی لڑکیاں دکھائ دے رہی ہیں…
    کہیں ماں کی چیخوں کے درمیان بچے کو برچھے میں پروتا ہوا منظر آنکھوں کو دھندھلا کر رہا ہے…
    کہیں باپ کی کٹتی ٹانگیں دل کو افسردہ کر گئیں….
    کہیں بھائی کے چیختے وجود سے گردن الگ ہوتے دیکھ کر وجود لرز سا گیا….
    اور کہیں بیٹا بازو کٹوا کر بوڑھے باپ کی ڈھال بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ دکھا تو روح لرز گئ…
    گھبرا کر ان مناظر کو نظروں سے دل و دماغ سے اوجھل کرنا چاہا نکالنا چاہا ….
    تو….. یہ کیا….؟؟؟
    میں ناکام کیوں ہو گئی..؟؟؟
    یہ اذیت اور درد بھرے مناظر میری سوچ و فکر کی قید سے آزاد کیوں نہیں ہو رہے؟؟؟
    کیوں مجھے اس آزادی کے پر کیف نشے اور خوبصورت آزاد فضاؤں میں اکیلا نہیں چھوڑ رہے؟؟؟
    ذہنی قید سے آزاد ہو کر ان آزاد فضاؤں کا مزہ کیوں نہیں لوٹ پا رہی….؟؟؟
    یہ اک آزاد ملک ہے جسکی آزاد باشندی ہوں میں….میری اک اک سانس آزاد ہے…پھر کیوں یہ خطرناک مناظر مجھے اپنی قید سے آزاد نہیں کر رہے…؟؟؟
    کوئ گھنٹہ بھر ان سوچوں سے لڑنے کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچی…آئیے قارئین کرام….!!!
    آپ بھی سنتے چلیے….
    کیا معلوم
    کبھی نہ کبھی…
    کہیں نہ کہیں….
    کسی بھیڑ میں یا تنہائی میں…
    کبھی دکھ میں یا درد میں…
    کبھی جلوت میں یا خلوت میں…
    کبھی خوشی میں یا غم میں….
    کسی سوچ میں یا فکر میں…
    آپ بھی کبھی اس کیفیت کا شکار ہوۓ ہوں….
    تو ناظرین کرام….!!!
    یہ آزادی اک ایسی حقیقت ہے جسے آپ کبھی بھی محسوس کریں تو کچھ افسردہ یادیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں….
    آزادی کو تصور کرتے ہی وہ قربانیاں آپکی بے قراری اور بے چینی کی وجہ بن جائیں گی….
    جیسے دھوپ اور چھاؤں کاساتھ ہے….
    دریا اور کنارے کا سنگم ہے….
    سمندر اور ساحل دونوں اک دوسرے کا لازمی جزو ہیں….
    بادل اور بارش…..
    آندھی او طوفان…
    کا ساتھ ہے….بالکل اسی طرح آزادی اور قربانی کا ساتھ بھی ازل سے ہے…
    آج ہم آزاد ملک کے باشندے ہیں….آزادی حاصل کر کے بے فکر ہیں….بے فکری کی نیند سوتے جاگتے ہیں….
    مگر یاد رکھیے ہم سب پر اس آزاد سر زمین کا اک قرض ہے…جو ہم سب کو اپنی اپنی حیثیت میں رہتے ہوۓ اتارنا ہے…
    یاد رکھیے…!!
    کوئی بھی کیفیت مستقل نہیں ہوتی….
    کوئی بھی عروج ہمیشگی حاصل نہیں کر سکتا …
    کوئی ذی روح ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا….
    اسی طرح آزادی ہمیشہ قائم رہنے والی چیز کا نام نہیں….
    اسے قائم رکھنا ہے…
    میں نے…
    آپ نے….
    ہم سب نے ملکر…
    جب تک اس ملک کے سبھی لوگ اپنے اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کریں گے….اس ملک کی درو دیوار دائم و قائم اور سلامت رکھنے میں آرمی کا ساتھ نہیں دیں گے…تو یاد رکھیے دنیا کی ابتدا ہی اسی شرط پر ہوئ تھی….( کہ اک دن ہر چیز کو زوال ہے )سواۓ رب تعالی کے….
    ارے وہاں تو ماں, بیٹی, باپ, بھائی سب کٹے تھے…مرے تھے….
    ہمیں تو یہاں صرف ملک کی سرحدوں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے…
    چاہے وہ فنڈز کی صورت میں ہو…
    یا آرمی کے روپ میں جوان بیٹے کی شکل میں ہو…
    چاہے نیک خواہشات اور تمناؤں کی شکل میں ہو ….
    یا چھوٹی موٹی کوششوں کی شکل میں….
    یا…..
    اک فکر و خیال اور جذبات کو ابھارتی ہوئ تحریر کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو….
    قارئین….!!!
    میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہی ہوں… یہ اپنی سوچ میں.,,, قلم اور کاغذ کے ذریعئے آپ تک پہنچا رہی ہوں….اب آپکی باری ہے….چاہے پڑھ کر نظر انداز کریں…
    یا
    عمل کریں….
    اور وطن سے محبت کا ثبوت دیتے ہوۓ دوسروں سے بھی عمل کروائیں….اور ملک دوست بن جائیں…..
    کیونکہ…..!!!
    آزادی اک قرض ہے…جسے ہم سب نے ملکر چکانا ہے….

  • ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ہم ایک بار پھر یوم آزادی منانے جا رہے ہیں،یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں تحریک آزادی میں شامل ہمارے قومی رہنماؤں اوراسلاف کی قربانیوں کے نتیجے میں برطانوی سامراج سے آزاد ہوکر دنیا میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا دوسرا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یوم آزادی ہر سال کیطرح 14اگست کو سرکاری و قومی سطح پر شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔مسلم لیگ نے برصغیر کو قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ اقبال‘ نواب بہادر یار جنگ‘ خواجہ ناظم الدین‘ شیر بنگال‘ مولوی فضل الحق اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنما دئیے جن کی محنت اورجہد مسلسل کے نتیجہ میں آج ہم ایک آزاد وطن میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ آج یوم آزادی کی اہمیت‘ اسلاف کی قربانیوں اور ان کے پیغام کو بھر پور اندازمیں اجاگر کرنے اور ہرمکتبہ ہائے فکر خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے،
    ہمیں اس وطن کی ترقی و دفاع کیلئے ہر وقت کام کرنا چاہئیے، اپنے محافظوں کی عزت کریں، انکے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں، اپنے اپنے شعبہ سے انصاف کریں،
    ہم سب کو چاہئیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھرپور شکر ادا کریں، اور رب العزت کا شکریہ ادا کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ ہم شکرانے کے نوافل ادا کریں اور اپنے سر کو اللہ کے سامنے جھکا دیں،
    ناکہ ہم اس مہینے میں اپنوں کی قربانیوں، شہادتوں کا مذاق بننے کا سبب بنیں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسرز نکال کر منہ پر پینٹ کر کے آوارہ گردی کریں اور بلا وجہ کے تماشے کر کے اھل وطن کو تنگ کریں۔