Baaghi TV

Tag: آزاد میڈیا

  • شرجیل میمن سے آزاد کشمیر کے وزیراطلاعات کی ملاقات ، آزادی اظہار رائے پر تبادلہ خیلال

    شرجیل میمن سے آزاد کشمیر کے وزیراطلاعات کی ملاقات ، آزادی اظہار رائے پر تبادلہ خیلال

    ‏سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے آزاد جموں کشمیر کے وزیر اطلاعات مظہر سعید شاہ نے ملاقات کی.

    باغی ٹی وی کے مطابق دونوں وزراء کی جانب سے قومی مسائل ، آزاد جموں و کشمیر اور سندھ کے معاملات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال
    آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات مظہر سعید شاہ کے ساتھ مولانا اعجاز محمود، ملک آصف رضا ، حسن عاصم ، محمد ارقم شاہ اور ولی اللہ پر مشتمل وفد نے بھی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وفد کو پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کی جانب سے صحافیوں کے لئے کئے گئے اقدامات سے متعلق آگہی دی . اس موقع پر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی محض ایک اصول نہیں ہے, جمہوریت کا بنیادی جز ہے، میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کے بلا خوف و خطر آزادی سے کام کرنے والے ماحول کی فراہمی حکومت سندھ کا عزم ہے، ایک متحرک، آزاد میڈیا ایک شفاف اور جوابدہ حکومت کے لیے بہت ضروری ہے،حکومت سندھ میڈیا انڈسٹری میں طویل المدتی ترقی کو فروغ کے لئے کوشاں رہی ہے، صحافیوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ ، آزادی اظہار کو یقینی بنانا شہید بی بی، پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کا ویژن رہا ہے،حکومت سندھ پی پی پی کی قیادت کی رہنمائی میں، آزادی صحافت کو برقرار رکھنے اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، آزاد پریس جمہوری معاشرے کا ستون ہے ، طاقت کو جوابدہ بنانے کے لیے اظہار رائے کی آزادی بہت ضروری ہے، اس موقع ہپر شرجیل میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ نے صحافیوں ، میڈیا ورکرز اور میڈیا ہاؤسز کی مدد کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں .
    وزیر اطلاعات آزاد جموں کشمیر مظہر سعید شاہ نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو کشمیری چائے کا تحفہ پیش کیا جبکہ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مہمان وزیر اطلاعات آزاد جموں کشمیر مظہر سعید شاہ اور وفد کے دیگر ارکان کو سندھی اجرک اور سندھی ٹوپی کا تحفہ پیش کیا.

    ‏وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی میں اعلی سطحی اجلاس

    کراچی میں ایف آئی اے کے حوالہ ہنڈی کے خلاف چھاپے، 5 ملزمان گرفتار

  • آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اس وقت وطن عزیز کی بدنصیب عوام ایک طرف سیلابی ریلوں میں بہہ رہی ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کے سیلاب میں عوام چلا اٹھے ہیں۔ مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگا رہے ہیں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی۔ موجودہ پی ڈی ایم کی حکوت نے اس کو اذیت ناک بنا دیا ہے ۔اگر پچھلی حکومت کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سارا وقت کرپشن ڈھونڈنے میں لگا رہا اب پی ڈی ایم کی حکومت عمران خان کو ناک آئوٹ کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ معیشت کس طرح بحال کی جائے عوام کے دکھوں کا مداوا کس طرح ہوگا اس پر توجہ اور غور و فکر کرنا سیاستدانوں نے چھوڑ ہی دیا ہے ۔

    سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے ،پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے بالخصوص ملک کے وزرائے اعظموں کو عبرت کا نشان بنانا شروع کر دیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیشہ ہی ملک کے وزرائے اعظم عبرت کا نشان بنتے رہے۔ بھٹو اور اس کے خاندان کا صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دیا گیا نوازشریف کو خاندان سمیت جلاوطن اور بھارت کا یار قرار دیا گیا اور اب اس ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ عمران خان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا کیا۔ یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں ایک دوسرے کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دینے والے سیاستدانوں نے اب ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے کہ ایک جماعت کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

    دوسری طرف میڈیا دو گروپوں میں تقسیم ہو کر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ رہا ہے جو سیاستدان ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشتگرد قرار دیتے ہیں وہ آزاد میڈیا کے دوست ہو نہیں سکتے۔ میڈیا قومی فریضہ ادا کرے تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا نے ہمیشہ قومی سلامتی، جمہوری اداروں کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ سے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید ہیں ۔ سوال یہ ے کہ اگر یہ امید بھی ختم ہو گئی تو اس بدنصیب عوام کا کیا ہوگا۔ جس کو دال، روٹی، بجلی گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھا دیا گیا ہے ۔ سیاستدانوں کو اور سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے ساتھ اور جمہور کے ساتھ مذاق کرنے کے بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جمہوری اداروں کو بچانے ، ملک کی بقا و سالمیت کی فکر کرنے عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔