Baaghi TV

Tag: آسامی مسلمان

  • 19لاکھ آسامی مسلمانوں کیلئے حراستی مراکز قائم کرنے کا انکشاف

    19لاکھ آسامی مسلمانوں کیلئے حراستی مراکز قائم کرنے کا انکشاف

    19لاکھ رہائشی افراد کے لیے حراستی مراکز، بھارت نے آسامی مسلمانوں کو جیلوں میں محصور کردیا ، اطلاعات کے مطابق یہ حراستی سینٹرز اس وقت مسلمانوں سے بھرے پڑے ہیں،

    ذرائع کے مطابق چند دن قبل شمال مشرقی ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے تحت 19 لاکھ افراد شہریت سے محروم کردیے گئے تھے جس میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس حوالے سے بھارتی حکام کی طرف سے یہ جواز پیش کیا گیا کہ اس کا مقمصد یہ تھا کہ ریاست آسام نے ’غیر ملکی دراندازوں‘ کو الگ کرنے کے مقصد سے این آر سی کی حتمی فہرست جاری کی گئی جس میں 3 کروڑ 29 لاکھ لوگوں نے دستاویزات جمع کروائی تھیں تاہم حتمی فہرست میں 3 کروڑ 11 لاکھ لوگ شامل کیے گئے۔

    دوسری طرف آسامی مسلمانوں کو بے وطن کرنا اور پھر حراستی مراکز میں محصور کرنے کے حوالے سے بھارت کا کہنا ہے کہ ان افراد کو شہریت سے محروم کرنے کا مقصد غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افراد کو شناخت کرنا ہے کیونکہ ان میں سے اکثر بنگلہ دیش سے یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔

    دوسری طرف غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ آبادی کے ریکارڈ کے حامل رجسٹر میں تبدیلی کر کے عرصے سے ریاست میں قانونی طریقے سے رہائش پذیر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی

  • 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی ، بھارت نے ایسا کیوں کیا ؟ خبر نے مسلمانوں کو شدید غصہ دلا دیا

    19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی ، بھارت نے ایسا کیوں کیا ؟ خبر نے مسلمانوں کو شدید غصہ دلا دیا

    نئی دہلی: بھارت ایک طرف کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے تو دوسری طرف بھارت میں‌بسنے والے مسلمانوں کے کا جینا حرام کردیا ہے. اطلاعات کےمطابق انتہا پسند بھارتی حکومت نے مسلمان دشمنی میں تمام حدیں پار کرتے ہوئے آسام میں بسنے والے 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی ہے۔

    بھارت کی طرف سے آسام کے مسلمانوں پر ہونے والے اس ظلم کے بارے میں‌ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نیشنل رجسٹر سیٹیزن (این آرسی) وہ متنازع فہرست ہے جس میں لوگوں نے یہ شواہد حکومت کو دیئے ہیں کہ وہ 24 مارچ 1971 سے قبل شہر میں آئے تھے۔جن لوگوں کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے انہیں 120 دن کے اندر اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

    دوسری جانب اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھارتی حکومت ان لوگوں کے ساتھ کیا کرنے جا رہی ہے۔مودی سرکار نے اس ضمن میں مؤقف اپنایا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر بسنے والے بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تصدیق کے لئے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ برس ریاست کے شہریوں کی ایک عبوری فہرست جاری کی گئی تھی جس میں 40 لاکھ سے زیادہ باشندوں کو شہریت سے باہر رکھا گیا تھا۔انتہا پسند مودی سرکار نے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر شہر کی سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے ہزاروں پولیس اور فوجی اہلکاروں کو تعینات کررکھا ہے۔