Baaghi TV

Tag: آسانیاں

  • سیلاب زدگان کیلئے ہر ممکن آسانیاں پیدا کریں گے، مراد راس

    سیلاب زدگان کیلئے ہر ممکن آسانیاں پیدا کریں گے، مراد راس

    صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب مراد راس کی سیلاب سے ہونے والے نقصان و تباہی کا جائزہ لینے کے لئے پنجاب کے ضلع راجن پور پہنچ گئے۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کا کہنا تھا کہ سیلاب کی بدولت لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ یہاں راجن پور میں لوگوں کی فصلیں تباہ اور بہت سی عمارتیں سیلاب سے متاثر ہوئیں ہیں۔

    مراد راس نے بتایا کہ راجن پور میں بہت سے سکول بھی سیلاب کی تباہی کی بدولت متاثر ہوئے اور آج ہم نے کئی ایسے سکولوں کا دورہ کیا جن میں پانی کھڑا ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ پنجاب سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے دن رات کام کر رہی ہے۔ سیلاب زدگان کیلئے ہر ممکن آسانیاں پیدا کریں گے۔ مراد راس نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں لوگوں کو اشد ضرورت خوراک اور ٹینٹوں کی ہے۔ متاثرین جب تک چاہیں حکومتِ پنجاب کے قائم کردہ فلڈ ریلیف کیمپوں میں رہ سکتے ہیں۔

    صوبائی وزیر تعلیم نے مخیر خضرات سے درخواست کی کہ مصیبت کی اس مشکل گھڑی میں عوام کی مدد کیلئے اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔مراد راس کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے کبھی کسی بھی مشکل لمحے میں ملک کے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے ضلع راجن پور کے دورے کے موقع پر حکومتِ پنجاب کی جانب سے سیلاب زدگان کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے قائم کردہ فلڈ رلیف کیمپوں کا دورہ کیا اور اس موقع پر کیمپوں میں مقیم افراد سے ان کو درپیش مسائل کے حوالے بھی دریافت کیا۔

    وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کی ضلع راجن پور آمد پر سردار بیرسٹر علی رضا خان دریشک، سردار محمد اویس خان دریشک، سی ای او ایجوکیشن راجن پور و دیگر نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔

  • اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    مسائل دو طرح کے ہیں۔ اختیاری اور غیر اختیاری۔ یعنی ایک وہ مسائل جنھیں آپ حل کرسکتے ہیں۔ مثلا : امتحان میں ناکامی، تعلیمی قابلیت میں کمی، غربت، وقتی بیماری، بے روزگاری، خاندانی جھگڑے وغیرہ۔ اور دوسرے وہ مسائل جو آپ چاہتے ہوئے بھی حل نہیں کرسکتے۔ مثلا : یتیم ہونا، ضعیف ہونا، معذوری،مستقل بیماری، مناسب رشتہ نہ ملنا وغیرہ

    پہلی قسم کے مسائل کا حل: ٹھنڈے دماغ سے سوچ و بچار اور مخلص سمجھدار لوگوں سے مل کر ان مسائل پر بات کیجئے۔ اور حل تلاش کیجئے۔ آپ کو نہ صرف ایک، بلکہ ایک ہی مسئلے کے کئ حل مل جائینگے۔ ان میں سے جو مناسب اور آسان لگے، اسے اختیار کیجئے۔ اور ہمت کرکے اسے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنائے رکھیں۔

    دوسری قسم کے مسائل کا حل: ان مسائل کو قبول کیجئے۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑائیے۔ انہی مسائل کے یا ان جیسے مسائل کا شکار بیشمار افراد ملیں گے۔ ان افراد میں سے جو ان مسائل کے باوجود کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سے ملئے، یا ان کے بارے میں جانئے کہ وہ کیسے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ یقینا آپ بھی انکے اصول اور عادات و اطوار کو اپنا کر اچھی زندگی گزارنے لگیں گے۔

    امید ہے ان باتوں پر عمل کرکے آپ کے مسائل کم ہونگے۔ مگر یاد رکھیں۔ یہ مسائل کم تو ضرور ہوسکتے ہیں۔ ختم نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ دنیا، دنیا ہے۔ جنت نہیں۔ یہ تو جنت کی خوبی ہے کہ وہاں نہ کوئ خوف ہوگا نہ حزن۔ لہذا جب یہ دنیا ہے ہی ایسی کہ یہاں کے مسائل ختم نہیں ہوسکتے، تو ان مسائل کے ساتھ ہی جینا سیکھئے۔

    وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
    جس دور میں جینا مشکل ہو اس دورمیں جینا لازم ہے

    اور بحیثیت مسلمان ہمیں ہر حال میں صبر و شکر کی عادت اپنانی چاہیئے۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سارے دین کا خلاصہ ہی صبر و شکر ہیں۔ کیونکہ ہر انسان ان دو ہی حالتوں میں ہوتا ہے۔ تنگدستی یا فراخی۔ تنگدستی ہے تو صبر کریں۔ اللہ کی تقدیر پر راضی ہوں۔ فراخی ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ صابرین کے لیے اللہ کا اعلان ہے:

    اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
    بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

    اور شکر کرنے والوں کے لئے یہ خوشخبری ہے:

    لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

    ہر لمحہ ہر پل خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہم پر بارش کے قطروں کی طرح برس رہی ہے۔ ان نعمتوں کو یاد کیجئے، ان پر شکر ادا کیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ جب راحت ہی راحت ہو، آسانیاں ہوں۔ تو کبھی ان نعمتوں کا احساس تک نہیں کرتا۔ اور ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جیسے یہ راحتیں، آسانیاں اس کا حق ہیں، اور اسے ہمیشہ ملنی چاہئیں۔ لہذا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور جب کوئ پریشانی آتی ہے تو واویلا شروع کردیتا ہے۔

    اسی کو باری تعالیٰ نے فرمایا:

    فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ[15] وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ[16]
    ترجمہ: پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔ [15] اور لیکن جب وہ اسے آزمائے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کردے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ [16]

    ایک اور جگہ فرمایا:

    اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾
    ترجمہ:
    انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

    ( آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

    اللّٰہ تعالیٰ نے غازیوں کے گھوڑوں کی قَسمیں ذکر کر کے فرمایا : بیشک انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا بڑا ناشکرا ہے ۔

    حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ناشکرے سے مراد وہ انسان ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مکر جاتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ناشکرے سے مراد گناہگار انسان ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو مصیبتوں کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۴۰۲)