Baaghi TV

Tag: آسمان

  • برمنگھم میں آسمان گلابی ہوگیا، لوگ خوفزدہ

    برمنگھم میں آسمان گلابی ہوگیا، لوگ خوفزدہ

    برطانیہ کے شہر برمنگھم میں رات گئے آسمان اچانک گہرے گلابی اور سرخی مائل رنگ میں ڈھل گیا،جس سےخوف اور تجسس کی فضا پیدا ہو گئی-

    العربیہ کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب شہر شدید برف باری کی زد میں تھا خراب موسمی حالات کے باعث آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی، سڑکوں پر مشکلات بڑھ گئیں اور کئی سہولیات عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں انہی حالات کے دوران آسمان کا یہ غیر فطری رنگ لوگوں کے لیے مزید خوف کا باعث بن گیا۔

    برمنگھم کے رہائشیوں نے فوراً موبائل فونز کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کردیں ان مناظر میں شمالی لندن کے قریب واقع اس شہر کے آسمان پر چھایا گلابی رنگ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا شہریوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ شاید یہ منظر اس برفانی طوفان یا کسی قدرتی آفت سے جڑا ہولیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ آسمان کا یہ رنگ کسی قدرتی مظہر کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی روشنیوں کا اثر تھا۔

    برطانوی اخبار ’’میٹرو‘‘ کے مطابق مختلف تصاویر کے جائزے سے پتا چلا کہ یہ گلابی روشنی صرف برمنگھم کے چند مخصوص علاقوں تک محدود تھی اور برطانیہ کے کسی دوسرے شہر میں ایسا منظر دیکھنے میں نہیں آیا برمنگھم سٹی فٹبال کلب کے اسٹیڈیم سے نکلنے والی طاقتور ایل ای ڈی لائٹس اس رنگ کا سبب بنیں شدید برف باری اور گھنے بادلوں میں موجود ذرات نے ان روشنیوں کو بکھیر دیا، جس کے نتیجے میں یہ گلابی روشنی پورے آسمان پر پھیلتی ہوئی نظر آنے لگی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیڈیم میں یہ خصوصی لائٹس میدان کی گھاس کو محفوظ رکھنے اور تیزی سے بحال کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، خاص طور پر بارش یا خراب موسم کے بعد، فضائی تصاویر میں بھی اسٹیڈیم کی روشنیاں اسی وقت نمایاں دکھائی دیں جب شہری اس عجیب منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہے تھےاسٹیڈیم کے قریب لی گئی تصاویر میں آسمان کا رنگ زیادہ گہرا اور روشن دکھائی دیا، جبکہ جیسے جیسے فاصلے میں اضافہ ہوا، اس کی شدت کم ہوتی چلی گئی۔

    sky

    ماہرین کے مطابق برف اور بادلوں میں موجود ذرات عام حالات کے مقابلے میں روشنی کو زیادہ منعکس کرتے ہیں، جس کے باعث زمینی روشنی خلا میں جانے کے بجائے واپس زمین کی طرف پلٹ آتی ہے اور پورے شہر میں عجیب رنگ بکھیر دیتی ہے-

  • آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ  دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    دنیا بھر میں لوگ 25 اپریل کو آسمان پر ایک مسکراتے چہرے کو دیکھیں گے۔

    دنیا بھر میں ستاروں کے شوقین افراد کو 25 اپریل، جمعہ کے روز ایک منفرد اور شاندار منظر کا سامنا ہوگا جب تین سیارے، زہرہ (وینس)، سیٹرن (زحل)، اور چاند کی ہلالی شکل آسمان پر ایک ”مسکراہٹ“ بنائیں گے یہ نایاب سیاروی ہم آہنگی کچھ ہی وقت کے لیے نظر آئے گی، لیکن یہ دنیا بھر میں دیکھی جا سکے گی،اس نظارے میں زہرہ اور زحل آنکھوں جبکہ پتلا چاند منہ کا کام کرے گا۔

    تِریپل کنجَنکشن اُس وقت کو کہا جاتا ہے جب تین آسمانی سیارے ایک ساتھ آسمان پر ایک خاص ترتیب میں نظر آئیں، جیسا کہ 25 اپریل کو ہوگا اس دن صبح کے وقت، زہرہ، زحل اور ہلالی چاند آسمان کے مشرقی افق پر بہت قریب نظر آئیں گے، اور یہ ترتیب ایک مسکراہٹ کی مانند دکھائی دے گی۔

    راولپنڈی :7 سالہ بھانجی کےقتل اور زیادتی کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    اس سیاروی ہم آہنگی کو دنیا بھر میں دیکھا جا سکے گا، بشرطیکہ آسمان صاف ہو، آپ کو 25 اپریل کی صبح، سورج اُٹھنے سے ایک گھنٹہ قبل،صبح ساڑھے 5 بجے مشرقی افق کی طرف دیکھنا ہوگا زہرہ مشرقی افق زیادہ بلند ہوگا جبکہ زحل کچھ نیچے ہوگا چاند ان دونوں اسے کافی نیچے ہوگا اور اتنا پتلا ہوگا کہ محسوس ہوگا کہ وہ مسکرا رہا ہےزہرہ اور زحل تو اتنے جگمگا رہے ہوں گے کہ انہیں آنکھوں سے دیکھنا آسان ہوگا مگر چاند کی مسکراہٹ کی بہترین تفصیلات دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کا استعمال بہتر ہوگا۔

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس آسمانی چہرے کو دنیا بھر میں دیکھا جاسکے گا بس مطلع صاف ہونا ضروری ہوگا اس نظارے کو دیکھنے کے لیے ضروری ہوگا کہ آپ 25 اپریل کو سورج طلوع ہونے سے ایک گھنٹے قبل مشرقی افق پر دیکھیں، اگر افق صاف ہوا تو اس مسکراتے ‘چہرے’ کے نیچے سیارہ عطارد کو بھی دیکھنا ممکن ہوگا،یہ نایاب واقعہ لیریڈ میٹر شاور کے عروج کے بعد ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ رات کا آسمان پہلے ہی سرگرمیوں سے بھرا ہوا ہوگا، یہ ایک شاندار قدرتی منظر کا حصہ بننے کا بہترین موقع ہے۔

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

  • اگلی نسل آسمان پر ستارے نہیں دیکھ سکے گی،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اگلی نسل آسمان پر ستارے نہیں دیکھ سکے گی،ماہرین نے خبردار کر دیا

    لندن: سائنسدانوں ںے خبردار کیا ہے کہ روشنی کی آلودگی کے باعث بالخصوص شہروں میں رہنے والی آبادی اگلے دوعشروں میں ستاروں بھرے آسمان کے دلفریب منظر سے محروم ہو جائے گی۔

    باغی ٹی وی: ممتاز برطانوی سائنسدان سر مارٹِن ریس نے بھی کہا ہے کہ رات کا تاروں بھرا آسمان ہماری تہذیب کا حصہ رہا ہے اور اگلی نسل اب یہ منظر نہیں دیکھ سکے گی سائنسدانوں نے پایا ہے کہ روشنی خارج کرنے والے ڈائیوڈس (ایل ای ڈی) اور روشنی کی دیگر اقسام کا بڑھتا ہوا استعمال ستاروں بھرے آسمان کے دلفریب نظارے کی کم کر رہا ہے-

    گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر کے شہروں میں طرح طرح کی طاقتور روشنیاں بڑھتی جارہی ہیں جس سے رات کی تاریکی ختم ہو رہی ہے اور روشنی کی اس دھند میں ستارے تیزی سےغائب ہورہے ہیں 2016 کے بعد سے اب تک کرہ ارض کی ایک تہائی آبادی رات کوملکی وے کے شاندار نظارے سے محروم ہوچکی ہے اس کی موجودہ شرح سےزیادہ تر بڑے برج 20 سالوں میں ناقابل فہم ہو جائیں گے،جو ثقافتی اور سائنسی طور پر نقصان شدید ہو گا۔

    مقابلہ حسن میں بیوی کا دوسرا نمبر آنے پر شوہر نے فاتح کا تاج ہی …

    دوسری جانب، جرمن مرکز برائے ارضی طبعیات کے ماہر کرسٹوفر کائبہ نے کہا اگر آج پیدا ہونے والا کوئی بچہ رات 250 ستارے دیکھ سکتا ہے تو 18 برس کی عمر میں آسمان پر نظرآنے والے ستاروں کی تعداد کم ہوکر صرف 100 تک ہوجائے گی۔

    ماہرین نے زور دیا کہ چند اقدامات سے روشنی کی آلودگی کم کی جاسکتی ہے۔ روشنی کے اوپر چھتری نما رکاوٹ رکھی جائے۔ روشنیوں کا رخ زمین کی جانب رکھا جائے۔ اسی طرح روشنیاں مدھم رکھی جائیں اور سفید یا نیلی روشنیوں کی جگہ سرخ یا نارنجی روشنیاں ہی استعمال کی جائیں۔

    سعودی خلابازوں کا مشن مکمل،10 دن بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

  • آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    تحریر۔ محمد انور بھٹی

    بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا۔ یعنی ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا میں نے بچپن میں اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ لیکن آج یہ محاورہ پھر سے میرے ذہن میں آیا تو میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔تو مجھے اس کا اطلاق ریلوے کے ضعیف العمر پینشنرز،بیواؤں اور یتیم بچوں پر ہوتا نظر آیا۔کیونکہ ریلوے کے یہ ریٹائرڈملازمین آج کل کچھ اسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آرہےہیں۔پاکستان ریلوے ملازمین دورانِ سروس جن مشکلات،دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں شاید ہی کسی اور سرکاری ادارے کے ملازمین کو ایسی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔یہ اپنے پیاروں سے سینکڑوں میل دور جنگلوں، تپتے صحراؤں ،ٹھٹھرتے ہوئے میدانوں اور سنگلاخ چیٹانوں کے درمیان اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں ۔یہاں دورانِ سروس انہیں جن دکھوں ،تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام پریشانیوں اور تکالیف کے باوجود بھی یہ ملازمین اپنی ڈیوٹیاں خندہ پیشانی، عزم ،حوصلہ اور ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔دوران سروس ہر ایک ملازم کی دو اہم ترجیحات ہوتی ہیں ۔ایک تو یہ اپنے ادارے کی ساکھ کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیتے ہیں دوسرا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا خاندان معاشرے میں اچھے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ اور جب یہ اپنی سروس مکمل کر چکیں تو یہ اس معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ باقی مانندہ زندگی برابری کی سطع پر گزار سکیں۔ریٹائرڈ منٹ کے بعدان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اِن کے اہل خانہ کے سر پر بھی اپنی چھت ہوگی۔ یہ بھی اپنے جواں سال بیٹوں کے سروں پر سہرے سجائیں گے۔ اپنی بیٹیوں کے ماتھے پر جھومر سجاکرانکےہاتھوں پر مہندی رچاکر انکی ڈولیوں کو سجا کر اپنے گھروں کو باعزت طریقےسے روانہ کریں گے۔

    مگر انتہائی قابل افسوس امر بات ہے کہ جن محنت کشوں نے بڑی جاں فِشانی کے ساتھ اپنی زندگی کےتیس سے (30) سے چالیس (40) سال اپنے ادارے اور ملک وقوم کی خدمت میں قربان کئےاور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج ان محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ادارے اور ریاست کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی انسانی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اور دوران سروس وفات پاجانے والے ملازمین کے خاندانوں کوریاست کی جانب سے ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ ضعیف العمرریٹائرڈ ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے معاشی اور معاشرتی طور پر انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ معاشی بدحالی کے سبب ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوکر یہ محنت کش مختلف قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکرمعذوری کا شکار ہوکر ویل چیئر اور چارپائیوں پر آچکے ہیں اکثیریت بیماریوں کی تاب نہ لاکر اپنی آنکھوں میں اپنے جواں سال بچوں کے ماتھے پر سہرے سجانے ،بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانے اور اپنے بچوں کے سروں پر اپنی چھت ہونےکے خواب سجائےہوئے بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس دارِ فانی سے کوچ فرماچکے ہیں۔باقی ماندہ اپنے حقوق کے حصول کی مد میں ارباب اختیار کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔مگر ان کی داد وفریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ جبکہ یہ ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ ہے کہ وہ ان محنت کشوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اعلٰی خدمات اور قربانیوں کے صلے میں ان کےحقوق کی ادائیگی بڑی خندہ پیشانی اور جذبہ ایثار کےساتھ ادا کرتی۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    زیاں اور خسارہ بلا شبہ ناکامی کی علامت ہے لیکن زیاں سے بھی بڑھ کرالمیہ یہ ہے کہ فرد یا ملت کے دل ودماغ سے (احساس زیاں)بھی جاتا رہے۔ چِہ جائےکہِ ریاست کی جانب سے اِ ن محنت کشوں کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جاتی۔مگر ان کو ان کے حقوق حاصل کرنے کی مد میں اس قدر پیچیدگیاں پریشانیا ں اور مشکلات کھڑی کردی گئی ہیں ۔کہ ان محنت کشوں کو اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ ان قانونی پیچیدگیوں اور بھول بھلیوں کے سبب ان کی عزت نفس بھی مجروح ہونے سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہے۔ باقی تمام واجبات کی ادائیگیاں تو اپنی جگہ بے حسی، لا قانونیت اور مردہ ضمیری کی یہ حد ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضع ہدایات کے باوجود ان کو انکی ماہانہ پینشن کی ادائیگی بھی بروقت نہیں کی جارہی ہے ۔

    عمر کے اس حصے میں ان ضعیف العمر پینشنرز ، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگی گزارنے کا تمام تر دارمدار اس پینشن کی مد میں ملنے والی رقم پر ہے۔اس کے علاوہ ان کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اس معاشرے میں جن گھمبیر صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ ادارے ،ریاست اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان ریلوے کے پینشنرز کی ادائیگی کو اتنا طویل اور بوجھل بنادیا گیا ہے کہ پینشن کی ادائیگی پچھلے ایک سال سے مسلسل تاخیر کاشکار ہورہی ہے ۔وزارت ریلوے کی مالیاتی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ کیلئے ہر ماہ کی 22 تاریخ کو وزارت خزانہ کو درخواست بھیجی جاتی ہے۔التجا کی جاتی ہے ۔کہ پینشنرز کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیئے فنڈ جلد مہیا کئے جائیں تاکہ ان کی پینشن کی بروقت ادائیگی کردی جائے۔ وزارت خزانہ آفس اس درخواست پر عمل درآمد کرکے اس درخواست کو ایک ہفتہ میں نمٹا دے تو اس کو پینشنرز کے لیے خوش بختی کی علامت سمجھاجائے وگرنہ دوسرا ہفتہ بھی اسی کاروائی میں گزرجاتا ہے۔ اس کے بعد اے جی پی آر کی اپنی بھول بھلیوں والا کھیل شروع ہوجاتا ہےاس کھیل کو کھیلنے کے لیئے انہیں بھی دو سے تین روز درکار ہوتے ہیں ۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جاکراس پینشن کی مد میں درکار فنڈ کو اسٹیٹ بینک کی رونق بننانصیب ہوتاہے ۔اسٹیٹ بینک کی راہداریوں سے ہوتا ہوا یہ فنڈ اب پاکستان میں موجود مختلف کمرشل بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہانپر یہ مثال صادر آتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔ پاکستان کے کمرشل بینکوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہوئی ہیں ۔کیونکہ ان کو پینشنرز کی ترجیحات کے مقابلے میں اپنی ترجیحا ت انتہائی عزیز ہیں ۔ بظاہر تو یہ رقم پینشنرز کی امانت ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے یکسر مختلف ہے۔یہی وجہ ہے یہ پینشنرز کی پینشن اپنی سہولت کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں ۔شنید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کئی قانون اور قائدے بنائے گئے ہیں جن کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ پینشنرز کو اولین ترجیح دیکر اُن کی پینشن کی رقم اُن کے اکاؤنٹ میں بروقت منتقل کرنے کے پابند ہونگے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ احکامات لگتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں یہ احکامات صرف کاغذ کے ٹکڑے کی زینت بننےتک محدود ہیں۔ ضعیف، لاغر ،بیمار اور معاشی حالات کےستائے ہوئے یہ پینشنرز جب اپنی پینشن کی حصولی کے لیئے بینکوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں بینک انتظامیہ کی جانب سے جس بے توقیری اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کی کسی بھی انسانی معاشرے میں مثال نہیں ملتی ہے۔کمر شل بینکوں کے برتاؤ اور سخت گیر رویوں سے یوں ظاہر ہوتاہے کہ ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا وجود ان کمرشل بینکوں پر ایک وزن کم نہیں ہے۔جبکہ کریڈٹ کارڈ سروس ، ایس ایم ایس اور باقی دوسری سہولیات کی مد میں ان کمرشل بینکوں کو پینشنرز سے لاکھوں روپے وصول ہوتے ہیں اس کے باوجوداسٹیٹ بینک سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ ان بینکوں کو منتقل ہوجانے کے بعد کمرشل بینک اس رقم کو دو تین روز تک اپنے پاس رکھنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں ۔ یہ پینشنرز کے ساتھ جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام چلاتے ہیں ۔ پینشنرز کی پینشن کے فنڈ ان کےپاس موجود ہونے کے باوجود یہ مختلف حیلے اور بہانے تراش کر اُن کی پینشن کی رقم کبھی بھی بروقت ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان مجبور ولاچار پینشنرز کو بیماری کی حالت میں بار بار بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں ذہنی تناؤ کے ساتھ ساتھ جسمانی تکالیف اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی خواہشات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاس ملک وقوم کی خدمت اور ادارے کے وقار کی بحالی کو فوقیت دی۔ و ہ لوگ آج بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی داد رسی کرنے والا آج کوئی نہیں ہے انکی بیوائیں اور یتیم بچے جس طرح کسمپرسی اور بد حالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں آج ان کے لیئے سوموٹو لینے والا کوئی نہیں ہےان بہتری اور فلاح کے لیئے کوئی قانون سازی کرنے والا نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ جوتھوڑی بہت قانونی مراعات اِن کوتفویض کی گئی ہیں ان پر بھی عمل درآمد کرنے کی کسی میں سکت نہیں ہے۔آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے ۔اورماں بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔میری اس ریاست کے مطلق اختیار رکھنے والوں سے بدستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا یہ ضعیف العمر پینشنرز اس ملک اور قوم کے لیئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس ملک اور قوم کے لیئےاپنی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ خداراانکی قدر کیجئے یہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر دو سال سے ادھر اُدھر مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو انکے حقوق لوٹائے جائیں۔ وہ بیوائیں اور یتیم بچے جن کو انکے ڈیوز کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آج بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انکو ان کے رکے ہوئے ڈیوز کی فوری طورپر ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔ آخر میں میری گورنر اسٹیٹ بینک سے التجا ہے کہ آپ کی طرف سے پینشنرز کی سہولیات کی مد میں کمرشل بینکوں کے لئے جو قانون/ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان پر کمرشل بینکوں کو سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے۔تاکہ یہ ضعیف العمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم بچے بھی اس معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

    خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر

    نہ ھو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

    کسی کے مصیبت گزر جاۓ سر پر

    پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

    کرو مہربانی تم اہل زمین پر

    خدا مہربان ھو گا عرش بریں پر