Baaghi TV

Tag: آسٹریلوی

  • آسٹریلیا کا پاکستان کے خلاف جارحانہ آغاز

    آسٹریلیا کا پاکستان کے خلاف جارحانہ آغاز

    آسٹریلیا نے دوسرے ٹی20 انٹرنیشنل میں پاکستان کے خلاف جارحانہ آغاز کیا ہے اور ابتدائی 3 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 48 رنز بنالیے۔

    سڈنی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 ٹی20 میچز پر مشتمل سیریز کا دوسرا میچ کھیلا جارہا ہے۔ آسٹریلیا کے کپتان جوش انگلس نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔آسٹریلیا نے پچھلے میچ کی فاتح سائیڈ کو برقرار رکھا ہے جب کہ پاکستان نے ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے، حسیب اللہ کی جگہ صفیان مقیم کو پلینگ الیون میں شامل کیا گیا ہے۔آسٹریلیا پلینگ الیون،جوش انلگس (کپتان)، جیک فریزر میک گرک، میتھیو شارٹ، گلین میکسویل، ٹم ڈیوڈ، مارکس اسٹوئنس، ایرون ہارڈی، زیویئر بارٹلیٹ، نیتھن ایلس، ایڈم زامپا اور سپینسر جانسن.پاکستان پلینگ الیونمحمد رضوان (کپتان)، بابراعظم، صاحبزادہ فرحان، عثمان خان، سلمان علی آغا، عرفان خان، عباس آفریدی، شاہین آفریدی، حارث رؤف، نسیم شاہ، صفیان مقیم،واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی20 میچ بارش سے متاثر ہوگیا تھا جس کے باعث میچ (7 اوورز فی اننگز) تک محدود کردیا گیا تھا جس میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 29 رنز سے شکست دی تھی۔

    قلات میں دہشت گردوں کا حملہ، 7 سیکیورٹی اہلکار شہید

    برطانیہ سے آئے شخص کے قتل میں بیوی ملوث نکلی

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے لیے شاہ محمود کو عدالت پہنچا دیا گیا

  • پہلی باحجاب آسٹریلوی سینیٹر افغانستان سے ہجرت کی کہانی بتاتے رو پڑیں

    پہلی باحجاب آسٹریلوی سینیٹر افغانستان سے ہجرت کی کہانی بتاتے رو پڑیں

    آسٹریلیا میں پہلی باحجاب سینیٹر فاطمہ پیمان پارلیمان میں اپنے اولین خطاب میں افغانستان سے پاکستان اور پھر پرتھ پہنچنے اور اس کے بعد نسل پرستی کا سامنا کرنے کے باعث سیاست میں آنے کی روداد سناتے ہوئے رو پڑیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں اپنے اولین خطاب میں فاطمہ پیمان نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت آنے کے بعد ہم لوگ خوف زدہ ہوکر پاکستان چلے گئے۔

    بعد ازاں ان کے والد ایک کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچے اور چار سال انتھک محنت کے بعد اہل خانہ کو پاکستان سے بلالیا اور پھر ہم سب دوبارہ مل کر رہنے لگے لیکن یہاں مصائب کم نہ ہوئے۔

    خاتون سینیٹر نے مزید کہا کہ والد کو آسٹریلیا میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، انہیں محنت کی انتہائی قلیل اجرت دی جاتی اور روزگار میں بھی عدم تحفظ تھا۔ مجھے بھی آسٹریلیا میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سب بہت غیر یقینی تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ آسٹریلیا نسل پرستی سے آزاد ہوگا۔

    27 سالہ فاطمہ پیمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار مجھے آسٹریلیا میں اجنبی کا احساس تب ہوا جب یونیورسٹی میں میرے ایک ساتھی طالب علم نے حجاب کا مذاق اُڑایا گیا اور یہ بھی سننے کو ملتا رہا کہ جہاں سے آئی ہو، وہاں واپس جاؤ۔

    جون میں سینیٹر منتخب ہونے والی فاطمہ پیمان نے کہا کہ اس موقع پر میں نے ہار نہ مانی اور سیاسی جدوجہد کا حصہ بنی۔ اس دوران میرے والد کا کینسر کے مرض میں محض 47 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا اور والدہ ہروقت غمزدہ رہنے لگیں۔

    سینیٹر فاطمہ پیمان نے کہا کہ میں اپنے والد کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنھوں نے مجھے اتنا اعتماد، حوصلہ اور ہمت دی کہ آج میں اس مقام پر ہوں۔

    خیال رہے کہ فاطمہ پیمان کے دادا افغان پارلیمنٹ کے رکن تھے جب طالبان کی پہلی حکومت بنی اور پورے خاندان کو پاکستان منتقل ہونا پڑا تھا۔