حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کشمیری خاتون رہنما آسیہ اندرابی کو بھارتی عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے انصاف کے برعکس قرار دیا ہے-
مشعال ملک نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور کشمیری قیادت کی آواز دبانے کی کوشش ہے، متنازع قوانین کے ذریعے آزادی کی جدوجہد کو کچلا جا رہا ہے اور یہ صرف چند افراد کی سزا نہیں بلکہ پوری قوم کے حق خودارادیت پر حملہ ہے، ایسے فیصلے انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہیں اور کشمیر ی قیادت کو خاموش کرانے کی سازش عروج پر ہے۔
انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو تاریخ اسے جرم سمجھے گی مشعال ملک کے مطابق یہ فیصلہ نہیں بلکہ ایک قوم کی آواز کا گلا گھونٹا گیا ہے اور ایسی سزائیں انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔
ٓٓکشمیری آج ایک قابض فوج کے خلاف آپ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔جب میں ایک دفعہ اپنے والد سے ملنے جیل میں گیا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ جیل میں کیوں ہیں تو میرے بھائی نے کہا کہ ابو ہوم ورک نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے ان کو انڈیا نے جیل میں ڈال دیا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ایک دفعہ مجھے اپنے ابو کی بہت یاد آرہی تھی تو میں نے جان بوجھ کر ہوم ورک نہیں کیا۔میں نے سوچا کہ شائد اس طریقے سے میں اپنے والد کے ساتھ رہ سکوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا تو میں اپنے والد کے پاس گیا تو میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی کمر سے اپنی شرٹ ہٹائی تو اس پر ٹارچر کے نشان تھے۔میں نے اپنی آنکھیں بند کیں میں نہیں دیکھ سکا تو میں نے اپنے ابو سے کہا یہ کس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔یہ کس نے کیوں آپ کے ساتھ کیا ہے تو ابو نے کہا انڈیا۔۔چھوٹا سا تھا تب میں۔۔کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔جو بھی پاکستان میں ارباب اقتدار ہیں آپ انہیں کہیں وہ کشمیر کے لیے کچھ کریں کیونکہ صرف باتوں سے نو لاکھ فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کو ضرورت ہے تب تک جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بہت ظلم ہوچکاہے۔پچھلے سترسال سے کشمیری لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی قوم اس ایشوکو اٹھائے۔کشمیر میں لوگ کیا سڑکوں یا کسی ڈویلپمنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں نہیں انڈیا سب کچھ دینے کو تیار ہے۔وہ سری نگر کو سمارٹ سٹی بنانے کو تیار ہے۔کشمیر ی کہتے ہیں ہمیں روٹی،کپڑااور مکان نہیں چاہیے ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔یہ بات یاد رکھیں کہ کہ کشمیریوں کا آپ پر ایک قرض ہے اویہ مسئلہ کسی خاص فرد یا خاندان کا نہیں سب پاکستانیوں کا ہے۔۔
یہ الفاظ ایک ایسے نوجوان کے ہیں جس کی والدہ اور والدہ اپنے آپ کو تحریک آزادی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔جن کا جر م یہ ہے وہ آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔یہ احمد بن قاسم کے الفاظ ہیں جو انہوں نے شاہراہ دستور پر ملین مارچ سے خطاب کے موقع پر کہے ایک وقت تھا ان کی والدہ پاکستان کے نام پاکستان کے صاحب اقتدار کے نام کشمیریوں کا پیغام بھیجا کرتی تھیں آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی وجہ سے زندان میں ہیں اس لیے آج خود بیٹا اپنی والدہ کا پیغام پاکستانیوں کو پہنچا رہا تھا۔احمد بن قاسم نے ان مختصرالفاظ میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ان کی مشکلات اور ان کی فریاد کو ہمارے سامنے رکھ دیا،احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو جنہیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا بھی کہاجاتا ہے،چھبیس سال سے اودھم پور کی جیل میں پابندسلاسل ہیں۔انہیں پہلی مرتبہ 1993ء میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا اور پھر بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2003ء میں انہیں تاحیات عمر قید کی سزا سنادی تھی۔یوں ان کی ساری زندگی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزری ہے۔بھارتی حکومت اور فوج نے اس طویل عرصہ میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کیں لیکن غاصب بھارت کا ظلم وجبر انہیں جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1993میں گرفتاری اور6سال کی نظربندی کے بعدعدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیاتھا لیکن بھارتی فورسز نے انہیں 2002ء میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائرپورٹ پر اس وقت دوبارہ گرفتار کرلیا جب وہ لندن میں کشمیر کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جرم میں گرفتاررکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی سے شادی کے بعد ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم سیدہ آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتوکی سزا برقرار رہی۔ مسلم دینی محاذ کے سربراہ بھی ہیں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 26 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے لیکن کوئی ان کی آواز سننے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ احمد نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ان کے والد بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔ذرائع کیمطابق احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھارت کی طرف سے بہت بھاری پیشکش کی گئی۔ ان کو اسلامک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے تعینات کرنے کی پیش کش کی گئی،اس کے علاوہ 2002 کے دوران آئی بی کے چند افسران نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی پیش کش بھی کی تھی۔ اسی طرح انہیں وزارت تعلیم کاقلمدان بھی سنبھالنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔احمد کی والدہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ تحریک آزادی کے لیے آوازبلند کرنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں۔آج بھی سیدہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔انہیں بھی صرف پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے وہ اپنے پروگراموں میں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں۔اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہراتی ہیں تو ان کے گھر کو بھارت کی طرف سے سیل کردیا جاتا ہے۔وہ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی ہیں ان پر غداری مقدمہ کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔وہ برملا دوٹوک کہتی ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ جینا مرنا پسند کرتے ہیں۔احمد جس طرح سے کہہ رہے تھے کہ ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔ان کی والدہ کا یہی جرم تھا وہ کہتی تھیں کہ اسلام کی بنیاد پر،ایمان کی بنیاد پر،قرآن کی بنیاد پر،محمدﷺ کی محبت کی بنیاد پر ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔آج کشمیر میں مسلسل کرفیو کو ۱سی سے زائد دن گزر چکے ہیں ہمیں جاگنا ہوگا۔لوگ کہتے ہیں جلسوں،تقریروں اور پرچم لہرانے سے کیا ہوتا ہے آج وہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،جیلیں کاٹ رہے ہیں،گولیاں کھا رہے ہیں ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کرسکیں۔آسیہ اندرابی کہا کرتی ہیں کہ پاکستان مدینہ ثانی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہی کہتے ہیں آج ریاست مدینہ کی بیٹی کا لخت جگر ہم سے فریاد کررہا ہے کہ کشمیریوں کا آپ پر قرض ہے ہمیں اس قرض کا بدلہ چکانا ہوگا۔
مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.
پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.
کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.