Baaghi TV

Tag: آصفہ عنبرین قاضی

  • پاکستانی اداکارہ کا  ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    پاکستانی اداکارہ کا ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    ( کسی بھی اداکارہ سے خوبصورتی کا راز پوچھیں تو وہ ہمیشہ ,, اندر کی خوبصورتی اور ڈھیرا سارا پانی بتاتی ہیں ، مجال ہے جو حقیقت بتا دیں ۔ ایک ایسی ہی سلیبرٹی کا انٹرویو پڑھیے )

    *آخر میں اپنے دیکھنے والوں کو اس خوبصورتی کا راز بتانا چاہیں گی ؟
    کوئی راز نہیں ڈئیر

    *نہیں! آپ کے پرستار جاننا چاہتے ہیں ۔

    کوئی خاص راز نہیں، Its peace of mind actually

    *تو کیا باقی لڑکیاں مینٹل ڈس آرڈر کا شکار ہیں یا انھیں مرگی کے دورے پڑتے ہیں؟

    اوہ نو ۔۔۔ ایسا تو نہیں ، ایکچویلی دن میں پندرہ سے بیس گلاس پانی بس۔۔۔

    * یہ پانی جاتا کہاں ہے؟ مطلب بیس گلاس پانی پی کر آپ ہل جل کیسے لیتی ہیں ؟ شوٹنگ کب کرتی ہیں اور لیٹرین کتنی بار جاتی ہیں
    یہ تو مینج کرنے پہ ہے نااا سویٹ ہارٹ

    * کیسے مینج ہوتا ہے، ہماری خواتین آدھا گلاس پانی پی لیں تو تین بار بس رکواتی ہیں ۔ آپ کا پانی بخارات بن کے اڑ جاتا ہے کیا؟

    نو ، نو ایکچوئیلی میں کھانے میں صرف سبزیاں اور دالیں لیتی ہوں بس ۔۔۔۔ اس لیے سکن گلو کرتی ہے۔

    *ادھر شلجم ، گوبھی اور ثابت مسور منہ کو آ جاتی ہیں مگر مجال ہے جو منہ پر رونق آئے ۔ کیا آپ سبزیاں ” Tony & Guy” سے لیتی ہیں؟

    او مائی گاڈ۔۔۔ یہ سب نیچرل بیوٹی ہے ، بالکل قدرتی

    *آپ کی نیچرل ہے تو کیا باقی لڑکیاں پلاسٹک کی بنی ہیں ؟ بتا کیوں نہیں دیتی آپ

    کیا بتاوں ۔۔۔ رئیلی کچھ بھی نہیں لگاتی ، یہ سب انر بیوٹی ہے ڈارلنگ !

    مان لیتی ہوں میم ۔۔۔

    اوکے میری شوٹنگ کا وقت ہوگیا ، چلتی ہوں ۔ بااائے

    *ارے ، ارے ۔۔۔ سنیے ! آپ کا بیگ میرے دوپٹے سے الجھ کر الٹ گیا ہے ، رکیے

    اوہ سوری ۔۔ یہ تو سب چیزیں بکھر گئیں مائی گاڈ

    *کوئی بات نہیں میڈم ، میں اٹھا دیتی ہوں ۔۔۔

    یہ رہا آپ کا مسکارا ، یہ بلش آن ، اور یہ فاونڈیشن، کنسیلر ، فیس پاوڈر ۔۔۔ یہ میز کے نیچے فیس پرائمر ، آئی پرائمر ، لپ گلوس ، آئی شیڈوز’ ہائی لائٹر ، برونزر بھی پڑے ہیں ، یہ لیجیے ۔۔۔ یہ واقعی ” Inner beauty ” ہی ہے کیونکہ پرس سے نکلی ہے ۔

    غازے کی تہہ نے ڈھانپ لیں چہرے کی سلوٹیں،

    تازہ پلاسٹر میں ۔۔۔۔۔۔ عمارت قدیم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

  • بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    آج ایک دوست نے چوبیس سالہ انجینئر لڑکے کی تصویر دکھائی جس نے کراچی کے مال کے اندر اونچائی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ۔ اس قدر خوبرو اور گبھرو جوان کہ دیکھ زبان گنگ رہ گئی۔ اس کی موت کو بیروزگاری سے جوڑا گیا۔ اسی مال میں میری دوست کے بڑے بھائی چیف سیکیورٹی آفیسر ہیں ۔ ایف آئی آر میں ذہنی دباو اور بیروزگاری بتایا گیا یوں معاملہ دب گیا۔

    چونکہ واقعہ مال کے اندر ہوا تھا تو دوسرے روز وہی چیف سیکیورٹی آفیسر اس لڑکے کی ماں سے ملے اور رہن سہن سے اندازہ ہوا کہ مالی معاملات تو ہر گز خراب نہ تھے ۔ بار بار پوچھنے پر ماں نے بتایا کہ اس واقعے سے پہلے اس کی والد سے تکرار ہوئی تھی اور تکرار کی وجہ رشتہ تھا۔ والدین بھتیجی کو بہو بنانا چاہ رہے تھے جبکہ لڑکے نے بتایا کہ وہ فلاں جگہ رشتہ کرنا چاہتا ہے آپ پرپوزل لے کر جائیں ۔ والدین نے انکار کردیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ اگلے ہفتے منگنی کی رسم ہوگی۔ اس سے پہلے بھی لڑکا تین چار بار ذکر کر چکا تھا لیکن وہی انکار۔۔۔
    اس روز مال سے اس کی منگنی کی تیاری کے سلسلے میں شاپنگ ہو رہی تھی ، وہ ذہنی اذیت برداشت نہ کر سکا اور سب سے اوپر والی منزل سے چھلانگ لگا دی۔

    یہ بظاہر ایک عام قصہ ہے ، ہم عموما اولاد پر نافرمان اور جذباتی ہونے کا لیبل لگا دیتے ہیں لیکن کبھی دوسرے رخ کو دیکھنا گوارا نہیں کرتے ۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں اکثر اپنے والدین کے فیصلوں پر سر جھکا لیتے ہیں ساری عمر کمپرومائز بھی کر لیتے ہیں لیکن والدین جبرا کیسے یہ رشتے جوڑ سکتے ہیں ؟

    بچوں سے پسند نا پسند پوچھ لی جائے اور اگر وہ بتا دیں تو اس میں انا اور ہٹ دھرمی کا کیا سوال ؟؟ ہم میں سے اکثر کو دوسروں کی لائے ہوئے کپڑے ،جوتے اور دیگر استعمال کی چیزیں پسند نہیں آتیں تو دوسرے کا منتخب کردہ ہمسفر کیسے پسند آ سکتا ہے ؟؟

    میں نے تو حقیقی زندگی میں ایسے جوڑے دیکھے ہیں جن کی پسند کو رد کرکے اپنی پسند مسلط کئی گئی اور ایک چھت تلے رہ کر بھی ان کے دل نہ جڑ پائے ۔ ہم یہی سوچتے ہیں کہ زندگی ہی تو گزارنی ہے گزر جائے گی لیکن یہی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔۔۔۔۔۔ زندگی گزارنی نہیں ،جینی ہوتی ہے ۔۔۔ !!!