Baaghi TV

Tag: آلودگی

  • دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور ایک بار پھر پہلے نمبر  پر

    دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور ایک بار پھر پہلے نمبر پر

    لاہور: دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور ایک بار پھر پہلے نمبر پر آگیا۔

    باغی ٹی وی : اے کیو آئی کے مطابق لاہور کا ائیرکوالٹی انڈیکس 553 ریکارڈ کیا گیا جسے خطرناک درجے کی فضائی آلودگی کہا جاتا ہے،اس کے علاوہ بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرےنمبر پر رہا، نئی دہلی کا ائیر کوالٹی انڈیکس 425 پارٹیکیولیٹ میٹرز ہے.ادھرآلودہ ترین شہروں میں کراچی ساتویں نمبر پر ہے اور اس کا ائیر کوالٹی انڈیکس 186 ریکارڈ کیا گیا۔

    دوسری جانب کراچی میں آج سے درجہ حرارت میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔

    القادر ٹرسٹ کیس:عمران خان اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی

    محکمہ موسمیات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شہر میں درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے جس کے باعث 21 جنوری تک دن میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 28 ڈگری تک ریکارڈ کیا جا سکتا ہے مغربی ہواؤں کے سسٹم کی وجہ سے 22 جنوری سے شہر میں سردی کی ایک نئی لہر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

    پہلا مرحلہ عارضی،دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے،نیتن یاہو

    محکمہ موسمیات کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم خشک اور رات میں خنکی رہنے کا امکان ہے جبکہ آج شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 10.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا شہر میں شمال مشرق سے 8 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں اور ہوا میں نمی کا تناسب 53 فیصد ہے۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

  • آلودہ شہروں میں لاہور آج پھر سرفہرست، ریڈ الرٹ جاری

    آلودہ شہروں میں لاہور آج پھر سرفہرست، ریڈ الرٹ جاری

    لاہور: آلودہ شہروں میں لاہور آج پھر سرفہرست، لاہور کو اسموگ کے نئے اسپیل کا خطرہ ہے، جس کے باعث محکمہ ماحولیات نے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں517 اے کیو آئی کے ساتھ آج پھر سرفہرست ہے جبکہ بھارتی شہر دہلی کا دوسرا اور کلکتہ کا تیسرا نمبر ہےلاہور میں جوہر ٹاؤن کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 320 تک جا پہنچا ہے جبکہ مال روڈ کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 475 ریکارڈ کیا گیا ہے اسی طرح عسکری 10 کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 511 تک پہنچ گیا ہے۔

    لاہور میں آلودگی میں کمی نہ آسکی، گرین لاک ڈاؤن بھی اسموگ کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا، پنجاب حکومت نے بچوں کو آلودہ فضا سے بچانے کے لیے 9 نومبر تک پرائمری اسکولوں میں تعطیلات کا اعلان کردیا۔

    اے این ایف کی کارروائیاں، 63.83کلو گرام منشیات برآمد، 11ملزمان گرفتار

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 19 جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 81 فیصد تک جا پہنچا ہے جبکہ لاہور میں فی الحال بارش کا کوئی امکان نہیں، آئندہ 24 گھنٹوں میں بھارتی ہواؤں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گا، جس کے باعث لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس پھر سے شدید متاثر ہونے کا امکان ہے، لاہور اور اس کے گردونواح میں داخل ہونے والی ہوا کی رفتار 4 سے 8 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

  • آلودگی کے اعتبار سے لاہور دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر

    آلودگی کے اعتبار سے لاہور دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر

    لاہور: آلودگی کے اعتبار سے لاہور دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے-

    باغی ٹی وی : شہر میں سموگ کی اوسط شرح 235 ریکارڈ کی گئی ہے،لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن کا ایئر کوالٹی انڈیکس 410، سید مراتب علی روڈ کا اے کیو آئی 276 جبکہ ڈی ایچ اے کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 260 ریکارڈ کیا گیا ہے، بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث گلے، سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن جیسی بیماریاں بڑھنے لگی۔

    دوسری جانب شہر لاہور کا آج کم سے کم درجہ حرارت 21 جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سموگ کی صورتحال میں جنگی بنیادوں پر کام کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے تمام محکموں کو ماحولیاتی قوانین پر سخت ترین عمل درآمد کرنے کی ہدایات کی ہیں۔

    پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس ٹیم پر حملہ کرنے والے 3 خوارجی ہلاک

    ادیبہ،شاعرہ ، مترجم اور صحافی،ثمینہ راجہ

    پنجاب میں سوشل میڈیا کے جھوٹے دعوے کا سراغ، نئی جے آئی ٹی تشکیل

  • لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر

    لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر

    لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایئر کوالٹی انڈیکس میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا، شہر آج بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا –

    باغی ٹی وی : فضائی آلودگی کے اعتبار سے لاہور نے دنیا بھر کے شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا،لاہور کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 707 پر جا پہنچا، لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 916، ڈی ایچ اے میں اے کیو آئی 842 جبکہ مراتب علی روڈ کے علاقے کا ایئرکوالٹی انڈیکس 810 ریکارڈ کیا گیا۔

    لاہور میں میں بڑھتی فضائی آلودگی سے شہری نزلہ، زکام، کھانسی جیسی بیماریوں کا شکار ہونے لگے، طبی ماہرین نے اسموگ کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے شہریوں کو ماسک کے استعمال کی ہدایت کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کا ایران کی جوہری اور تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے سے …

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، گھروں کی صفائی کے دوران جھاڑو کی بجائے گیلا کپڑا استعمال کریں، گھر سے باہر نکلتے وقت چشمے کا استعمال کریں، سفر کے دوران یا بعد میں آنکھوں کو پانی سے اچھی طرح دھوئیں، ہلکا اور ڈھیلا ڈھالا لباس پہنیں، سر پر ٹوپی یا رومال ضرور رکھیں، ناک اور منہ کو ماسک یا رومال سے ڈھانپ کر رکھیں۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر لاہور کو دنیا کا آلودہ شہر بنانے والی فیکٹریاں مسمارکر دی گئی، محکمہ تحفظ ماحول کے اسکوارڈز نے مزید 4 انڈسٹریل یونٹس گرادئیے ، یہ فیکٹریاں مسلسل محکمہ تحفظ ماحول کے نوٹسز کے باوجودایمشن کنٹرول سسٹم نصب نہ کررہی تھیں، محکمہ تحفظ ماحول کی جانب سے 941 گاڑیاں چیک، جن میں سے دھواں دیتی 234 گاڑیوں کے چالان ، 72 بند جبکہ 503,000 روپے کے جرمانے کیے گیے۔

    معیشت کی بہتری کے لیے ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے،وفاقی وزیر خزانہ

    لیہ میں زگ زیگ پر منتقل نہ ہونے والے 6، شیخوپورہ میں 1 جبکہ راولپنڈی میں 4 بھٹے گرادیے گیے وزیراعلی مریم نواز شریف نے محکمہ تحفظ ماحول کوکسی بھی دباٶ کے بغیرانسداد اسموگ کے لیے مکمل کیپسٹی میں ایکشن لینے کی ہدایت ہے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ لاہوریوں کو اب اپنے شہر کو اسموگ فری بنانے کے لیے ان ایکشن ہونا پڑے گا، لاہوری انسداد سموگ ایکشن پلان کا حصہ بنتے ہوئے نہ خود اسموگ کا باعث بنیں اور نہ کسی اور کو اپنا شہر گندا کرنے دیں، کسی بھی اسموگزدہ سرگرمی کی 1373 پر فوری اطلاع دیں، کسی کو بھی اپنی اور اپنے معصوم بچوں کی زندگیوں سے مت کھیلنے دیں، اسموگ موت ہے اور اس سے بچنا ہرشہری کا حق ہے، اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیں، آج شروع کریں گے تو 8 سے 10 سال تک فرق نمایاں ہوگا۔

    اسرائیلی میڈیا کا ایران کی جوہری اور تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے سے …

  • لاہور آلودگی کے اعتبار سے دنیا بھر کے شہروں میں سرفہرست

    لاہور آلودگی کے اعتبار سے دنیا بھر کے شہروں میں سرفہرست

    لاہور: آلودگی کے اعتبار سے لاہور نے ایک بار پھر دنیا بھر کے شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا، سموگ کے باعث سانس لینا بھی دشوار ہوگیا ہے،طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔

    باغی ٹی وی:شہر کی فضاؤں پر گردوغبار، دھوئیں اور آلودگی کا راج برقرار ہے، اسکولوں، کالجوں اور دفاتر میں نگراں پنجاب حکومت کی چار روزہ چھٹیوں کی پالیسی بھی کارگر ثابت نہ ہو سکی، لاہور شہر کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 397 ریکارڈ کیا گیا ہے، عامر ٹاؤن میں اے کیو آئی 444، مال روڈ کے اطراف میں ایئر کوالٹی انڈیکس 394 رہا،محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں بارش برسنے کا کوئی امکان نہیں، شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 13 جبکہ زیادہ سے زیادہ 26 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔

    سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شمولیت

    یاد رہے کہ گزشتہ روز بڑھتی ہوئی سموگ کے پیش نظر عدالت عالیہ نے ہفتے میں دو روز ورک فرام ہوم کا حکم دیا ہے۔ ہفتے کے روز تمام سکولز اور کالجز کو بند کر دیا گیا جبکہ عدالت نے ڈی جی ماحولیات کو بھی تبدیل کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں،اسموگ اور آلودگی کنٹرول کرنے کے لئے سیف سٹی کیمروں کے ذریعے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی آپریشن تیز کر دیا گیا ہے،سیف سٹی کیمروں کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں سے دھواں چھوڑنے والی 37 گاڑیاں کو پکڑ لیا گیا ہے۔

    پیپلز پارٹی کا خیبرپختونخوا میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کا اعلان

  • وائس چانسلرز کانفرنس کا 24 نکاتی اعلامیہ جاری

    وائس چانسلرز کانفرنس کا 24 نکاتی اعلامیہ جاری

    پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن اورسنٹر فار پیس اینڈ سیکولرسٹڈیز کے اشتراک سے سوک ایجوکیشن کے موضوع پر منعقدہ وائس چانسلرز کانفرنس کا 24 نکاتی اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

    چیئرمین پنجاب ہائیرایجوکیشن ڈاکٹر شاہد منیر کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پنجاب کے 30 وائس چانسلرز نے طلبہ وطالبات کے لیے ڈگری کا اجرا سوشل فیلڈ ورک سے مشروط کرنے کی سفارش کردی ،جامعات کو پرامن بنانے کے لیے صوبائیت ،علاقائیت اور فرقہ وارنہ بنیادوں پر گروہ سازی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی ۔ جامعات میں سپورٹس کلچرکو فروغ دیا جائے گا ۔آ ئین ،قانون اور انسانی حقوق کے موضوعات پر سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا ۔اہم قومی ایشوز پر یونیورسٹیز ورکنگ پیپر تیار کرکے حکومت کو سفارشات دیا کر یں گی ۔ بین المذاہب مکالمے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔باہمی رواداری کے لیے مذاہب کی مشترکہ اقدار کو فروغ دیاجائے گا ۔اقلیتی طلبہ وطالبات کو محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کیا جائے گا ۔منشیات اور ہراسمنٹ کے حوالے سے زیر و ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

    جامعات میں بڑی تعداد میں سٹوڈنٹس سوسائٹیز کے قیام کی بھی سفارش کی گئی ،جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ نوجوانوں میں سماجی ،رفاہی اورسیاسی موضوعات پر مکالمے اور مباحث کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جامعات کے وائس چانسلرز سماجی حقائق سے متعلق تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کریں گے ،دیہات کو’’ کاؤنٹیز‘‘ بنا کر تعلیم و روزگار کے مساوی مواقع پیدا کرنے کی بھی سفارش کی گئی،سوک ایجوکیشن کا فروغ بہتر اور روشن مستقبل کی ضمانت قرار دیا گیا، زیور تعلیم سے محروم ڈھائی کروڑ بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لیے حکومت کوروڈ میپ دینے کی بھی سفارش کی گئی،گلوبل سٹیزن شپ کے تناظر میں عمرانی علوم کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔سوچ وفکرکی آزادی، مساوات، بھائی چارے کے فروغ کے لیے جامعات میں مثالی ماحول پیدا کیا جائے گا۔ جامعات میں سول سوسائٹی کی تنظیمو ں کے اشتراک سے ’’شہری تعلیم کانیٹ ورک‘‘ تشکیل دینے کی بھی سفارش کی گئی، کردارسازی کے لیے عوامی و سماجی نظام وضع کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ گلوبل وارمنگ، موسمی تغیرات کے تناظر میں آلودگی میں اضافہ کی روک تھام کے لیے جامعات طلبہ میں آگاہی مہم چلائے گی ۔سماجی اخلاقیات اورانسان کی عزت نفس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسلامی تعلیمات کو اجاگر کیا جائے گا ۔جھوٹی اوربے بنیاد خبروں کے ذریعے جامعات کے تقدس اورانکے وقار کو مجروح کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے گی میڈیا کو صحافتی ضابطہ اخلاق کا پابند بنانے اورخلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت تادیبی کا رروائی کی بھی سفارش کی گئی، اسلام وطن عزیز ، ریاست پاکستان اور اسکے اداروں کے احترام کا شعور اجاگر کیا جائے گا.

  • آلودگی کی روک تھام کیلئے گرین ایکشن پلان کے نفاذ پر غور

    آلودگی کی روک تھام کیلئے گرین ایکشن پلان کے نفاذ پر غور

    آلودگی کی روک تھام کیلئے گرین ایکشن پلان کے نفاذ پر غور

    صوبائی وزیر تحفظ ماحول پنجاب محمد بشارت راجہ کی زیر صدارت سموگ کی روک تھام سے متعلق ایک اجلاس کے دوران گرین ایکشن پلان کے نفاذ کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔

    سیکرٹری تحفظ ماحول پنجاب عثمان علی خان، تحریک انصاف کے رہنما راجہ بہروز کمال اور ہاؤسنگ ماہرین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں گرین ایکشن پلان کے تحت اس بات پر غور کیا گیا کہ لاہور میں زیادہ سے زیادہ پھلدار اور بڑے پتوں والے درخت لگائے جائیں۔ پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر گلبرگ مین بلیوارڈ پر نیم اور پھلدار پودے لگائے جائیں گے کیونکہ نیم کا درخت رات کو بھی آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ اجلاس میں شریک ماہرین نے تجویز دی کہ نئے تعمیراتی منصوبوں میں سپیشل پلانٹیشن لازمی قرار دی جائے۔ چھتوں پر پودے لگانے اور لان بنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ سیکرٹری تحفظ ماحول پنجاب عثمان علی خان نے کہا کہ پنجاب بالخصوص لاہور میں سموگ کے عوامل میں بڑا کردار ہمسایہ ملک سے آنے والی آلودہ ہوائیں ہیں جہاں فصلوں کی باقیات جلانے کا کلچر زیادہ ہے۔ اس موقع پر تجویز دی گئی کہ ہمسایہ ملک سے آلودگی کی آمد روکنے کیلئے لاہور کی سرحد پر جنگلات لگائے جائیں اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا جائے۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ کی وکس VICSسرٹیفکیشن کو ٹوکن کی تجدید کے ساتھ مشروط کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

    وزیر تحفظ ماحول پنجاب محمد بشارت راجہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ آلودگی پھیلانے والے ممالک میں پاکستان کا نمبر 137 واں ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں ہم اٹھوایں نمبر پر ہیں۔ حالیہ بدترین سیلاب اس کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہی کی خصوصی منظوری سے پنجاب حکومت نے صنعتی آلودگی پر کنٹرول کے لئے 2 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ پنجاب حکومت الیکٹرک ٹرانسپورٹ چلانے کا فیصلہ کرچکی ہے لیکن مسئلے کے دیرپا حل کے لئے ہمیں کنٹرول ماڈ سے سپورٹ ماڈ کی طرف جانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فصلی باقیات جلانے سے روکنے کا حل ہیپی سیڈر کی رعایتی نرخوں پر فراہمی ہے۔ مجوزہ سکیم کے تحت محکمہ زراعت ہیپی سیڈر کا 80 فیصد خرچہ خود برداشت کرے گا جبکہ کسان کو صرف 20 فیصد ادائیگی کرنا پڑے گی۔ سیکرٹری تحفظ ماحول عثمان علی نے بتایا کہ حال ہی میں نیپال میں ہونے والی کھٹمنڈو کانفرنس میں تسلیم کیا گیا کہ پاکستان میں آلودگی کے زیادہ عوامل بیرونی ہیں۔ ورلڈ بینک کے تعاون سے اگلے سال سرحد پر 3 ائیر کوالٹی مانیٹرز نصب کریں گے جس سے سموگ کے سیزن میں موسمیاتی تغیر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • آلودگی کے سبب 2019ء میں دنیا بھر میں 90 لاکھ اموات ہوئیں، لانسیٹ کمیشن رپورٹ

    آلودگی کے سبب 2019ء میں دنیا بھر میں 90 لاکھ اموات ہوئیں، لانسیٹ کمیشن رپورٹ

    واشنگٹن ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں لوگ جنگ، دہشتگردی، ملیریا، ایچ آئی وی، ٹی بی، منشیات اور شراب سے زیادہ آلودگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ 2019ء میں 90 لاکھ افراد آلودگی کے باعث ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ 24 لاکھ اموات بھارت میں ہوئیں۔

    لانسیٹ کمیشن کی بدھ کے روز شائع ہونے والی نئی عالمی رپورٹ کے مطابق ہوا، پانی اور مٹی میں انسانوں کی پھیلائی گئی آلودگی کی وجہ سے اگرچہ فوری طور پر موت واقع نہیں ہوتی لیکن اس کے نتیجے میں لوگ امراض قلب، کینسر، سانس کے مسائل، اسہال اور دیگر سنگین بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مصنف رچرڈ فویلر کا کہنا ہے کہ 2019ء میں دنیا بھر میں قبل از وقت ہر چھ اموات میں سے ایک یا تقریباً 90 لاکھ اموات آلودگی کے سبب ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلودگی انسانی صحت اور کرہ ارض کی صحت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے جبکہ کیمیائی آلودگی بھی ایک اور بڑا عالمی خطرہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بالخصوص جنوبی اور مشرقی ایشیائی ملکوں میں صنعت کاری کے سبب فضائی آلودگی اور کیمیائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو قبل از وقت اموات کی بڑی وجہ ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آلودگی کی وجہ سے ہونے والی اموات کے نتیجے میں 2019ء میں 4.6 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا جو عالمی اقتصادیات کا تقریباً چھ فیصد ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیڈ، آرسینک، کیڈمیم، پارہ اور جراثیم کش ادویات کی وجہ سے مٹی اور پانی کے آلودہ ہونے کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک سے برآمد کی جانے والی دالیں، سی فوڈ، چاکلیٹ اور سبزیاں بھی آلودہ ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے عالمی فوڈ سیفٹی کو لاحق خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ بچوں کے کھانے پینے کی چیزوں میں بھی نقصان دہ دھاتیں پائی گئی ہیں۔

  • ماحولیاتی آلودگی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار۔ پاکستانی تاریخ کا پہلا مقدمہ

    مقدمہ کے حقائق
    نام مقدمہ-شہلا ضیاء بنام واپڈا ( پی ایل ڈی 1994سپریم کورٹ 693)
    سال 1992 میں اسلام آباد کے چار رہائشیوں نےٖ، ایف 6/1 اسلام آباد کے رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا-اس ضمن میں ایک شکایتی خط 15 اگست 1992 کو چیئرمین واپڈا کے نام ارسال کیا گیا جس میں رہائشیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں نصب کی جائیں گی اور برقی مقناطیسی فیلڈ کی موجودگی علاقے کے رہائشیوں خاص طور پر بچوں ، کمزوروں اور دھوبی گھاٹ خاندانوں کے لئے ایک سنگین خطرہ ثابت ھوگی- مزید یہ کہ بجلی کی تنصیبات اور ٹرانسمیشن لائنیوں کا وجود گرین بیلٹ کے لیئے نقصان دہ ھونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مظر صحت ھے-
    شہریوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسی بھی رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر اسلام آباد میں نافذالعمل منصوبہ بندی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ھے جہاں گرین بیلٹس کو ماحولیاتی اور جمالیاتی وجوہات کی بناء پر شہر کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے جولائی 1991 سے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کی بابت مختلف احتجاجی کوششوں کا بھی حوالہ دیا اور واضع کیا کہ اس ضمن میں کوئی قابل اطمینان اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ خط ایل یو سی این کے ڈاکٹر طارق بنوری نے انسانی حقوق کے معاملے کے طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کو قانونی جائزہ لینے کے لئے بھیجا جس میں دو سوالات اٹھائے گئے –
    اول یہ کہ کیا کسی سرکاری ایجنسی کو یہ حق حاصل ھے کہ وہ اپنے اقدامات سے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالے ؟ اور
    دوم یہ کہ کیا حلقہ بندی کے قوانین میں شہریوں کودیئے گئے حقوق شہریوں کی رضامندی کے بغیر واپس لیے جا سکتے یا ان قوانین میں ردوبدل کیا جاسکتا ھے ؟
    اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں شہریوں کی زندگی اور صحت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا جاسکتا تھا جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیا گیا- جواب دہندگان نے موقف اختیار کیا کہ ریکارڈ کے مطابق گرڈ اسٹیشن کی مجوزہ جگہ کو گرین ایریا کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے- جواب دہندگان نے مزید استفسار کیا کہ مجوزہ جگہ قریب واقع مکانات سے تقریبا چھ سے دس فٹ کی ڈپریشن میں ہےاور علاقے میں رہائش گاہوں سے کم از کم 40 فٹ دور شروع ہوتی ہے لہذا گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے رہائشیوں کے لیئے قدرتی منا ظر متاثر نہ ھوں گے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اخذ کرنا بلکل بےبنیاد ھے کہ ٹرانسمیشن لائینوں اور گرڈ اسٹیشن سے 132 K.V. کی ہائی ولٹیج پیداوار کسی طرح بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جواب دھندگان نے استفسار کیا کہ اسی طرح کے 132 کے وی گرڈ اسٹیشن گنجان آباد علاقے راولپنڈی ، لاہور ، ملتان اور فیصل آباد میں قائم کیے گئے ہیں ، لیکن صحت کی خرابی کی بابت کوئی اطلاع موصول نہیں ھوئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان گرڈ اسٹیشنوں میں کام کرنے والے اور گرڈ اسٹیشنوں کے احاطے میں رہائش پذیر لوگوں سے ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ یہ کہ تنصیبات کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید کہا گیا کہ انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگیوں پر 5000 کے وی سے زیادہ وولٹیج کی اضافی ہائی وولٹیج لائنوں کے برقی مقناطیسی اثرات ترقی یافتہ ممالک میں زیرِ مطالعہ ہیں ، لیکن اس طرح کے مطالعے کے نتائج کی اطلاعات متنازعہ ہیں۔
    مقدمہ کا فیصلہ
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاءفریقین مقدمہ کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اُنھیں الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ یا کسی بھی گرڈ اسٹیشن ، فیکٹری ، بجلی گھر یا دیگر ایسی تنصیبات و تعمیرات سے پیدا ہونے والے خطروں سے بچایا جائے۔
    آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کو ذیر غور لائے جہاں شہریوں کی ایک کثیر تعداد کی زندگی و صحت کے متاثر ہونے کا احتمال ہو ۔ مذید یہ کہ کیس میں اُٹھائے جانے والے مسئلے میں شہریوں کی فلاح و بہبود شامل ہے کیونکہ ملک بھر میں "ہائی ٹینشن لائینوں” کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہ کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ طرزِ زندگی ، صنعت و تجارت اور روزمرہ معاملات زندگی میں توانائی کا کردار لازم وملزوم ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کا انحصار ذیادہ توانائی کی پیدوار و تقسیم پر منحصر ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشی ترقی اور خوشحالی کے مابین توازن برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیئے ایک پائیدار ترقی کی پالیسی اپنائی جائے۔ کوئی بھی ایسی پالیسی بنانے کے لیئے واپڈا کو اپنے گرڈاسٹیشن سے متعلقہ منصوبہ بندی و طریقہ کار کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور امریکہ کی طرز پر ایسے طریقوں کو اپنانا چاہیے جن کے ذریعے تناﺅ کی اعلیٰ تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ واپڈا کو حکم دیا گیا کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب کے لیئے سائنسی نقطہ نظر اپنانا چاہیے اور سائنسی و تکنیکی معاونین کی مدد لینی چاہے۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے فریقین کی باہمی رضا مندی سے NESPAK کو بطور کمشنر مقرر کیا تا کہ وہ سائینسی وتکنیکی بنیادوں پر گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب سے متعلق واپڈا کے منصوبے کی جانچ پڑتال کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی تمام ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کی پیداور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں توانائی کی پیدا وار کی ضرورت باقی ممالک کی نسبت زیادہ ہے ۔ لیکن معاشی ترقی کی جستجو میں ایسے اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے جو انسانی زندگی کے لیئے مہلک ہوں اورماحول کو آلودہ اور تباہ کردیں۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضع کیا کہ واپڈا نے وزارت پانی و بجلی کی مشاورت سے بجلی کی تقسیم کے لیئے گرڈاسٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہےلیکن اس منصوبے کو تشکیل دینے کے دوران نہ ہی شہریوں کو سماعت کا کوئی موقع دیا گیا اور نہ ہی علاقے کے رہائشیوں کا موقف سنا گیا ہے۔ واپڈا نے یہ منصوبہ یکطرفہ طور پر تیار کیا ہےجبکہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے شہریوں اور علاقے کے رہائیشیوں کی زندگی و صحت متاثر ہونے کا شدید احتمال ہے۔ سپریم کورٹ نے بتایا کہ امریکہ میں ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے پبلک سروس کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے اور عوامی رائے واعتراضات کو سننے کے بعد ایسے منصوبوں کی منظوری دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں کوئی بھی ایسا طریقہ کار نہیں اختیار کیاگیا ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں بہت سے گرڈ اسٹیشنوں و بجلی کی ترسیل کے لیئے لائینوں کی تنصیب کی ضرورت ہے لہذا حکومت پاکستان کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر پہنچانے جانے والے سائینسدانوں و دیگر ممبران پر مشتمل ایک اتھارٹی یا کمیشن تشکیل دے جو کسی بھی گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق منصوبے کی منظوری دے اور پہلے سے قائم شدہ گرڈ اسٹیشنوں اور بجلی کی ترسیل کی لائینوں کا انسانی زندگی و ماحول پر اثرات کا مطالعہ کرے۔ اگر حکومتِ پاکستان وقت پر ایسے اقدامات اُٹھائے تو مستقبل میں بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
    واپڈا نے بحث کے دوران یہ اعتراض اُٹھایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو آرٹیکل 184 کے تحت یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ کسی بھی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کوئی بھی فیصلہ دے کیونکہ گرڈ اسٹیشن سے متعلق منصوبہ باقائدہ مطالعہ کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اور گرڈ اسٹیشن و ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کے انسانی صحت و زندگی پر اثرات کو پرکھا گیا ہے اور یہ کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے واپڈا کے اعتراض کو رد کرتے ہوئے یہ تجزیہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت کسی بھی فرد کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ماسوائے اس کے کہ قانون اس کی اجازت دے۔ لفظ زندگی انسانی وجود کے تمام حقائق کا احاطہ کرتا ہے۔ لفظ زندگی کی تعریف آئین پاکستان میں نہیں دی گئی لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس کی تعریف کو پودوں یا جانوروں کی زندگی یا انسانی زندگی کا پیدائش سے موت تک کےعمل تک محدود کر دیا جائے۔ زندگی میں ایسی تمام تر آسائشیں و سہولیات شامل ہیں جن سے ایک آزاد ملک میں بسنےوالا شہری باعزت طریقے سے قانونی و اآئینی طور پر لطف اندوز ہو سکے۔
    مضمون نگار سیدہ صائمہ شبیر سینئر ریسرچ آفیسر سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں
    syeda_saima@yahoo.com