Baaghi TV

Tag: آمدن

  • پاکستان ریلویز نے 6 ماہ کے دوران 46 ارب روپے کما لیے

    پاکستان ریلویز نے 6 ماہ کے دوران 46 ارب روپے کما لیے

    پاکستان ریلویز کو 6 ماہ کے دوران کتنے ارب روپے کی آمدن ہوئی، حکام نے اس حوالے سے رپورٹ جاری کردی۔

    سی ای او ریلوے عامر علی بلوچ کے مطابق پاکستان ریلویز نے 6 ماہ کے دوران 46 ارب روپے کما لیے۔ یہ آمدن پچھلے سال کے اسی دورانیے کی آمدن سے 5 ارب روپے زیادہ ہے۔مجموعی آمدن میں شامل 24 ارب روپے پاکستان ریلوے نے مسافر ٹرینوں سے کمائے جب کہ مال گاڑیوں سے 16 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔اسی طرح لینڈ، کوچنگ و دیگر ذرائع سے 6 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے۔سی ای او ریلوے کے مطابق ریکارڈ آمدن ریلوے کی درست سمت کو ظاہر کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2025 ریلوے کے لیے تبدیلی کا سال ثابت ہو گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مارچ تک کراچی کے لیے نئی ٹرین چلانے کا وعدہ پورا کریں گے۔

    کراچی میں دھرنوں کا راج، لاکھوں شہری پریشان

    نئے سال کا تحفہ،مختلف موٹرویز کے ٹول ٹیکس میں اضافہ

    نئے سال کا تحفہ،مختلف موٹرویز کے ٹول ٹیکس میں اضافہ

    کراچی: نمائش چورنگی پر کشیدگی، مظاہرین نے موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی

    نئے سال پر پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ

  • یوٹیوب کی کمائی حرام ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک

    یوٹیوب کی کمائی حرام ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک

    پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا ہے کہ یو ٹیوب کے اشتہارات کی آمدنی حرام ہے

    عوامی لیکچر کے دوران ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہارات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام قرار دیا ،ڈاکٹر ذاکر نائیک کا کہنا تھا کہ بعض اشتہارات کی نوعیت اسلامی اصولوں سے متصادم ہو سکتی ہے، اس لئے یو ٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن حرام ہے ،یوٹیوب سے کمائی حرام ہے، ایڈ پر لڑکیاں آ جائیں گی، میوزک آ جائے گی،اللہ مجھے روز لاکھوں دیتا ہے تو میں کیوں یوٹیوب سے لوں؟ ایڈ کیسے بین کریں گے، لڑکیاں تو بین نہیں کر سکتے، ہرانسان سمجھتا ہے میں اسلام سیکھوں، یوٹیوب سے کما سکتا ہوں ،لیکن نہیں کما رہا، میری کوئی بھی ویڈیو کاپی کر سکتا ہے، میری ویڈیو کے تھمب نل پر لڑکیوں کی تصاویر لگائی جاتی ہیں، میں ہٹ کروں تو اسکا پیسہ میرے پاس آ جائے گا، لیکن ایسا نہیں کرتا، میری ویڈیوز سے لوگ لاکھوں کما کر رہے ہیں،میں کہتا ہوں تم لوگ پیسہ کماؤ مجھے ثواب کمانے دو،

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایک صارف کا کہنا تھا کہ کوئی یہ پاکستانی مولویوں کو بتا دے کہ یوٹیوب کی کمائی ذاکر نائک نے حرام قرار دے دی ہے اور خاص طور پر پاکستانی مولوی تو وہی کام کرتے ہیں جو ان کے لیے اس میں اسانی نکلے اس کو حلال قرار دیتے ہیں جس میں یہ خود کچھ نہ کر سکے اس کو وہ حرام کرا دیتے ہیں

    ڈاکٹر ذاکر نائیک پی آئی اے حکام پر برس پڑے

    لڑکیوں کو شیلڈ کیوں نہیں دی؟ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے خود بتا دیا

    پاکستان میں رہ کرجنت میں جانے کے امکانات امریکا سے کئی گناہ زیادہ ہیں،ڈاکٹرذاکرنائیک

    کراچی اجتماع میں اداکارہ یشما گِل کا ڈاکٹر ذاکر نائیک سے اہم سوال

    ہندو رکن اسمبلی کے جبری تبدیلی مذہب کے سوال پر ڈاکٹر ذاکر کا جواب

    دھمکی یا ہتھیار دکھاکر تبدیلی مذہب حرام ہے،ڈاکٹر ذاکر نائیک

    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میڈیا کو سب سے بڑا اور خطرناک ہتھیار قرار دیا

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیکچر کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف سے مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ملاقات، اسلامی تعلیمات کے فروغ پر گفتگو

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کا فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے نیٹو طرز کے اسلامی اتحاد کی تجویز

  • خدا کے بندے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟ — محمد علی وٹو

    خدا کے بندے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟ — محمد علی وٹو

    اللّہ کریم قرآن مجید میں فرماتے ھیں کہ اے میرے بندوں بیشک تمہیں آزمایا جائے گا مال دے کر آولاد دے کر اور حاکمیت یا اختیار دے کر اب جب اللّہ کریم اپنے کسی بھی بندے کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ھے تو یہاں سے اس بندے کی آزمائش شروع ھوتی ھے۔

    اللّہ کریم آزمائش اس طریقے سے لیتا ھے کہ آپ کو اور نوازتا جاتا ہے اور آپ کے اختیارات میں اور اصافہ کرتا جاتا ہے لیکن یہاں یہی پنج وقتہ نمازی اور بڑے اہتمام سے اپنے آپ کو حاجی صاحب، صوفی صاحب کہلوانے والے صدقہ و خیرات دینے والے سخی حضرات اور حقوق اللّہ کو پورے اھتمام کے ساتھ ادا کرنے والوں کو جب حقوق العباد پورے کرنے کی باری آئے تو مختلف حیلے بہانوں سے بات کرتے نظر آئیں گے کہ ھم نے کاروبار چلانا ھے.

    اور کاروبار چلانے میں جس قانون و ضوابط کو بھی بالا طاق رکھنا پڑے رکھ لیں گے تو یہاں آکر یہ اللّہ کریم کے بندوں کے خدا بننا شروع ھو جاتے ھیں اور لوگوں کی مجبوریوں سے کھیلتے ہیں اور مجبور بے روزگار ان جیسوں کے ھاتھوں اپنی مجبوریوں کا اونے پونے داموں سودا کرتے ھیں کیونکہ سلسلہ حیات بھی تو چلانا ھے کسی نا کسی طرح چاھے اس کے لیئے آپ کو اپنا آپ کو گروی ھی کیوں نہ رکھنا پڑے (یہاں میں ایک تصیح کرتا جاؤں کہ سبھی کاروباری حضرات اور اختیارات کے حامل لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ بہت سے اللّہ کریم کے بندے حقوق اللّہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی پورے اھتمام سے ادا کرتے ہیں).

    اب ھمارے معاشرے میں ھمارے ملک میں بہت سے شعبہ ھائے زندگی میں کاروبار اور ادارے چل رھے ھیں تو ان میں سے ایک ریسٹورنٹ انڈسٹری ھے اور ریسٹورنٹ انڈسٹری بھی آگے بہت سے سیکٹرز میں تقسیم ھے اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ بھی ریسٹورنٹ انڈسٹری کے اندر آتے ہیں اب آگے جو انٹرنیشنل فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ھیں وہ کسی نا کسی طریقے سے گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کو اپنی کمپنی میں لاگو کرتے ھیں.

    لیکن جو ریسٹورنٹ مقامی طور پر کام کرتے ہیں لگتا ہے گورنمنٹ نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے رھیں اور گورنمنٹ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بیٹھی ھوئی کالی بھیڑیں ان مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کی طرف سے قانون و ضوابط کی کھلم کھلا کھلاف ورزی پر کچھ لے اور کچھ دے کر مک مکا کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ جس طرح مرضی چاھیے بنیادی انسانی حقوق اور گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر استعمال کر سکیں.

    اب جیسا کہ میرا تعلق ریسٹورنٹ انڈسٹری سے ھے اور میں پچھلے سات سے آٹھ سال سے اس انڈسٹری سے وابستہ ھوں اور اس دوران مختلف انٹرنیشنل اور مقامی ریسٹورنٹ میں کام کر چکا ہوں اس دوران بہت سے معاملات نظروں سے گزرے اور اپنے سامنے گورنمنٹ کے قانون و ضوابط کی دھجیاں بکھرتے ھوئے دیکھتا رہا لیکن باامر مجبوری یا آپ اس کو جو بھی نام دینا چاہیں دے لیں خاموش رھے لیکن اب اس پلیٹ فارم جس کا نام ھی باغی بلاگرز ھے اپنے تائیں اور نا سہی اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی آواز تو بلند کر ھی سکتے ہیں.

    جیسے کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ میں انٹرنیشنل و مقامی ریسٹورنٹ میں کام کر چکا ھوں اس دوران انٹرنیشنل ریسٹورنٹ تو کسی نہ کسی طرح گورنمنٹ کے قانون و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے پایا مکمل نہ سہی لیکن کسی حد تک لیکن جتنے بھی مقامی ریسٹورنٹ میں کام کا تجربہ ھوا اس میں مقامی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ گورنمنٹ کے اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پائے گئے جیسا کہ مقامی ریسٹورنٹ میں ملازم کی سیلری اور کام کے اوقات گورنمنٹ کے طے شدہ قوانین کے مکمل الٹ ھیں.

    اور اور تو اور ان کو تنخواہیں گھنٹوں کے حساب سے دی جارھی ھیں اور وھاں استحصال ھی استحصال ھو رھا ھے ملازمین سے8 گھنٹے کے تیرہ سے چودہ ھزار دس گھنٹے کے پندرہ سے سے سولہ ھزار اور بارہ گھنٹے کے صرف اٹھارہ سے بیس ھزار تنخواہیں دے رھے ھیں حالانکہ ان کی روزانہ کی سیل ایوریج بھی لاکھوں میں ھوتی ھے اور یہ ریسٹورنٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ رجسٹرڈ بھی نہیں ھوتے ھیں.

    مطلب کوئی ٹیکس بھی نہیں دیتے اور لیبر انسپکٹر صرف دکھاوے کے طور پر انسپکشن کر کے اپنی جیب گرم کروا کر ستو پی کر سبھ اچھا ہے کی رپورٹ دے کر سو رھے ھے وھاں کوئی سوشل سیکورٹی والہ کوئی ای او بی آئی والہ کوئی پوچھنے والہ نہیں آتا کوئی میڈیکل کی سہولت نہیں اور جب ان کا دل کرے یہ کھڑے کھڑے کسی بھی ملازم کو جوب سے نکال دیتےہیں.

    مطلب مجبوریوں کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ کوئی جاب سیکورٹی بھی نہیں اور جو تنخواہیں دیتے ھیں وہ بھی کیش میں دیتے ہیں تاکہ کوئی ریکارڈ بھی نہ رھے کیونکہ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے مقامی انتظامیہ کی پہلے ھی مٹھی گرم کی ھوتی ھے اور یہ لوگوں کی مجبوریوں سے کھلواڑ کر کے اپنے آپ میں ھی اللّہ کے بندوں کے خدا کیسے بن جاتے ہیں؟