Baaghi TV

Tag: آم

  • نیپال میں بھی بھارتی آموں پر پابندی

    نیپال میں بھی بھارتی آموں پر پابندی

    نیپال نےبھارتی آموں کی امپورٹ پر اپنے ملک میں پابندی عائد کر دی ہے جبکہ نیپال حکومت کے اس اچانک فیصلے کی وجہ سے مقامی بازاروں میں پھلوں کی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم بھارتی آموں میں کیڑے مار ادویات کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائے جانے اور سرحدی علاقوں میں ضروری ٹیسٹنگ یعنی کوارنٹائن کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے اس کے علاوہ اس فیصلے کے پیچھے ایک اور مقصد مقامی سطح پر اگائے جانے والے پھلوں کو فروغ دینا بھی بتایا جا رہا ہے۔

    نیپالی نیوز ویب سائٹ ’دی رائسنگ نیپال‘ کے مطابق اس پابندی کے بعد نیپال کے شہر جنک پور دھام کے بازاروں میں مقامی آم تو نظر آ رہے ہیں، لیکن پھل فروشوں کا کہنا ہے کہ وہ کاروبار اور سپلائی کو لے کر شدید پریشان ہیں مقامی تاجروں کا ماننا ہے کہ ملکی پیداوار کو بڑھاوا دینا اچھی بات ہے، لیکن بغیر کسی طویل مدتی منصوبے کے اچانک امپورٹ روکنے سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

    بڑے ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    نیپال میں آموں کی اپنی پیداوار صرف دو مہینے ہی چلتی ہے،اس لیے ملک میں آم کی بڑی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بھارت سے آنے والا مال بہت ضروری سمجھا جاتا ہے جنک پور دھام کے فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھوبنیشور پُربے کے مطابق گرمیوں کے موسم میں آم کی مانگ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

    انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی امپورٹ پر پابندی کی وجہ سے مارکیٹ میں مال کی شدید کمی ہو سکتی ہےسپتری، سیراہا، مہوتری، دھنوشا اور سرلاہی جیسے اضلاع سے روزانہ 50 ٹن سے زیادہ آم جنک پور دھام پہنچ رہا ہے، لیکن صرف مقامی پیداوار سے پورے بازار کی مانگ کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا،امپورٹ پر پوری طرح پابندی لگانے کے بجائے حکومت کو سرحدوں پر کوارنٹائن سسٹم کو مضبوط کرنا چاہیے اور بھارتی پھلوں کو کوالٹی ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد ملک میں آنے کی اجازت دینی چاہیے اگر آموں پر یہ پابندی زیادہ عرصے تک برقرار رہی تو عام گاہکوں کو دگنی قیمتیں چکانی ہوں گی اور کاروباریوں کو بھی بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    منشیات ڈیلر پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے

    دوسری طرف، بھارت کو صرف نیپال ہی سے نہیں بلکہ جاپان سے بھی دھچکا لگا ہے جاپان حکومت نے کیڑوں پر قابو پانے کے ناقص انتظامات اور ’ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ‘ کےمعیار پر پورا نہ اترنے کا حوالہ دیتے ہوئے 25 مارچ 2026 کےبعد جاری ہونے والےسرٹیفکیٹ والے بھارتی آموں کی کھیپ پر روک لگا دی ہے جاپان نے یہ سخت قدم تقریباً دو دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد اٹھایا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے ضلع امروہہ کے وسیع باغات سے ہر سال بڑی مقدار میں آم خلیجی ممالک، امریکہ، جاپان اور یورپ بھیجے جاتے ہیں-

  • آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    گرمیوں کا موسم آتے ہی آموں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس بار آم ایک غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے خبروں میں ہیں ماہرین کے مطابق فروٹ فلائیز (پھلوں پر حملہ کرنے والی چھوٹی مکھیاں) آموں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ برآمدات اور گھریلو صفائی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحال ہی میں بھارت میں آموں کے سیزن کو اس وقت ایک بڑا جھٹکا لگا جب جاپان نے وہاں سے آموں کی درآمد پر عارضی پابندی لگا دی۔

    یہ فیصلہ بھارت میں آموں کی برآمد کے لیے منظور شدہ ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (وی ایچ ٹی) مرکز کے معائنے کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی اور حفظانِ صحت سے متعلق خامیوں کے بعد کیا گیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت میں پھلوں کو کیڑوں سے پاک کرنے والے مراکز کے طریقہ کار میں کچھ خامیاں پائی گئی ہیں، جس کی وجہ سے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگن پلی جیسی مشہور اقسام کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جاپانی قرنطینہ حکام نے مارچ میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے رحمان پور میں واقع وی ایچ ٹی مرکز کا معائنہ کیا، جہاں دھونی کاری اور جراثیم کشی کے طریقۂ کار میں بعض خامیاں پائی گئیں دوطرفہ برآمدی معاہدے کے تحت جاپان بھیجے جانے والے تمام آموں کے لیے وی ایچ ٹی عمل سے گزرنا لازمی ہے تاکہ پھل کیڑوں اور فروٹ فلائی کے لاروؤں سے پاک ہو۔

    معائنے کے بعد جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ 25 مارچ 2026 کے بعد جاری ہونے والے تصدیقی سرٹیفکیٹس کے حامل آموں کی کھیپ قبول نہیں کی جائے گی پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک جاپانی حکام مطمئن نہیں ہو جاتے کہ متعلقہ مرکز مطلوبہ عملی اور نباتاتی معیار پر پورا اترتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے مالی سال 25-2024 کے دوران قریباً 30 ہزار ٹن آم عالمی منڈیوں کو برآمد کیے، جن سے لگ بھگ 5 کروڑ 65 لاکھ ڈالر آمدنی حاصل ہوئی جاپان کو تازہ اور پراسیس شدہ آموں کی برآمدات کا حجم قریباً 15 لاکھ 40 ہزار ڈالر رہا، جس میں گجرات کے کیسر آم کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔

    واضح رہے کہ جاپان نے 1986 میں بھی فروٹ فلائی کے خدشات کے باعث بھارتی آموں پر پابندی عائد کی تھی طویل سائنسی جائزوں، نگرانی کے نظام اور وی ایچ ٹی سہولیات کی بہتری کے بعد 2006 میں بھارتی آموں کو دوبارہ جاپانی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

    موجودہ برآمدی انتظامات کے تحت بھارت کو الفانسو، کیسر، بنگان پلی، لنگڑا، چونسہ اور مالیکا سمیت 6 اقسام کے آم جاپان برآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے یہ آم آندھرا پردیش، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں قائم منظور شدہ مراکز سے برآمد کیے جاتے ہیں۔

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

    ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی مکھیاں صرف آموں کو ہی خراب نہیں کرتیں بلکہ ان کے ذریعے پوشیدہ انڈے ہمارے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں این ڈی ٹی وی کے مطابق اکلیولینڈ کلینک کی ایک رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ یہ مکھیاں میٹھے اور پکے ہوئے پھلوں کی خوشبو سے بہت تیزی سے راغب ہوتی ہیں ایک مادہ مکھی ایک وقت میں پانچ سو تک انڈے دے سکتی ہے گرمی اور حبس کے موسم میں یہ انڈے بہت تیزی سے بچے بنتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر ان مکھیوں سے بھر جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور جب یہ زیادہ پک جاتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی خوشبو فروٹ فلائیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے گئے آم ان کے لیے بہترین افزائش گاہ بن سکتے ہیں،بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فرو ٹ فلائیز صرف پھلوں کے قریب رہتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان مکھیوں کی افزائش کے لیے کچن کی سنک، کچرے کے ڈبے اور گیلے کپڑے یا اسفنج سب سے بہترین جگہیں ثابت ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ مکھیاں گھروں کے گرم اور نمی والے ماحول جیسے کہ گٹر کے دہانے، کچرا تلف کرنے والی جگہوں اور ری سائیکلنگ کے ڈبوں میں بہت زیادہ پھلتی پھولتی ہیں، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مکھیاں کاٹتی نہیں ہیں اس لیے نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن سائنسی تحقیق اس کے برعکس بتاتی ہے سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ فروٹ فلائیز مچھروں کی طرح کاٹتی نہیں، لیکن یہ جراثیم پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

    یہ مکھیاں گندی جگہوں، نالیوں اور خراب کھانے سے خطرناک جراثیم جیسے کہ ای کولائی اور سالمونیلا اپنے ساتھ لاتی ہیں اور جب یہ ہمارے تازہ کھانے پر بیٹھتی ہیں تو یہ جراثیم وہاں منتقل کر دیتی ہیں اس لیے یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کچن میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں یا اسفنج پر اگر تھوڑا سا بھی کھانا یا مائع رہ جائے تو یہ مکھیاں وہاں کھینچی چلی آتی ہیں، اس لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔

    ان مکھیوں سے گھر پر نجات پانے کے لیے ماہرین نے کچھ بہت آسان طریقے بتائے ہیں۔ سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ آم، کیلے یا دیگر پھل جیسے ہی پک جائیں، انہیں باہر رکھنے کے بجائے فریج میں رکھ دیں کیونکہ ٹھنڈا درجہ حرارت ان مکھیوں کو دور رکھتا ہےپھلوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کریں جوس، شربت یا میٹھی اشیاء کے گرنے کی صورت میں فوراً صفائی کریں اس کے علاوہ کچن کو صاف ستھرا رکھنا، گندے برتن جلد دھونا اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانا بھی ضروری ہے۔

    اگر گھر میں فروٹ فلائیز کی تعداد بڑھ جائے تو سیب کے سرکے سے آسان جال تیار کیا جا سکتا ہے ایک چھوٹے پیالے یا بوتل میں سیب کا سرکہ ڈالیں اور اس میں برتن دھونے والے صابن کے چند قطرے ملا دیں۔

    اس پیالے کو پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھانپ دیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کے سرکے کی میٹھی خوشبو ان مکھیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جیسے ہی وہ سوراخوں کے راستے اندر جاتی ہیں، صابن کے محلول میں پھنس جاتی ہیں یوں چند دنوں میں فروٹ فلائیز کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔

  • متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    پاکستان کی وزارت تجارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آم کی برآمدات کے اعداد و شمار قومی اسمبلی میں پیش کر دیے ہیں، جس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

    وزارت تجارت کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان نے یو اے ای کو 159.74 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے ہیں۔ اس دوران، پاکستان نے برطانیہ کو 131.96 ملین ڈالرز، سعودی عرب کو 29.61 ملین ڈالرز، اور قازقستان کو 93.86 ملین ڈالرز مالیت کے آم بھیجے ہیں۔اسی طرح، افغانستان کو 35.98 ملین ڈالرز، عمان کو 39.88 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے گئے۔ وزارت تجارت کے مطابق، اس عرصے کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 63 کروڑ 20 لاکھ 3 ہزار ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے۔رواں مالی سال کے دوران پاکستان نے 30.9 ملین ڈالرز مالیت کے ترشاوہ پھل بھی برآمد کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی آم عالمی منڈیوں میں اپنی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط برآمدی سامان کے طور پر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ اعدادوشمار پاکستان کی زرعی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانی آم دنیا بھر میں اپنی منفرد ذائقہ اور معیار کے باعث پسند کیے جا رہے ہیں۔

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

  • دبئی میں پاکستان مینگو فیسٹیول اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے تقریب

    دبئی میں پاکستان مینگو فیسٹیول اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے تقریب

    پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے دبئی میں پاکستان مینگو فیسٹیول اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا

    صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے تقریب میں شرکت کی،تقریب میں پاکستان کے نامزد کونسل جنرل اور سفیر سمیت دیگر ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی،تقریب میں سرمایہ کاروں سمیت دبئی میں مقیم پاکستانیوں نے بھی شرکت کی،صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا، اور کہا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے سیاحت کے شعبے میں دلچسپی اچھی بات ہے، پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے کئی اہم مقامات موجود ہیں، تھرپارکر میں ڈیزٹ سفاری پر گہری دلچسپی پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی قابل فخر ہے، پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے بہترین مواقع موجود ہیں، پاکستان میں مذہبی، ثقافتی سیاحت کے اہم مقامات موجود ہیں، میں سرمایہ کاروں کو دعوت دیتا ہوں وہ آکر اپنے ملک میں آسانی سے سرمایہ کاری کریں، غیرملکی سرمایہ کاروں نے بھی پاکستانی سیاحت میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے، ہم سرمایہ کاروں کو بہترین ماحول فراہم کریں گے، دبئی میں مقیم پاکستانی ہمیشہ اپنے ملک کی ترقی کیلئے فکرمند رہتے ہیں .

  • آم کی برآمدات کیلیے پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمدکا حکم

    آم کی برآمدات کیلیے پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمدکا حکم

    وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی اینڈ صنعت پیداوار رانا تنویر کی سربراہی میں ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کا اجلاس ہوا،

    ترجمان وزارت فوڈ سیکیورٹی کے مطابق اجلاس میں پلانٹ پروٹیکشن کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،آم کی ایکسپورٹ میں اضافہ کیلیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا ،وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر کا کہنا تھا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم فوری طور پر نفا ذ کیا جائے، یہ نظام آم کی ایکسپورٹ میں ویلیو چین کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کو یقینی بنائے گا ،پاکستانی آم کی کی دنیا بھر میں بڑی مانگ ہے،نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے،ملک کی معیشیت کو مضبوط کرنے کیلیے ایکسپورٹ کو بڑھانا ہمارا ایجنڈا اور مشن ھے ،آم کی برآمدات کیلیے پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے،محکمہ پلانٹ پروٹیکشن میں بد عنوانی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی،

    وفاقی وزیر رانا تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آم کی برآمدات کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کیلیے تمام تر ضروری اقدامات کو یقینی بنارھے ہیں،وزارت فوڈ سیکیورٹی ایکسپورٹ کے عمل کو بڑھانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر موثر اقدامات کو یقینی بنائیں،مینگوز پلانٹ کی انسپکشن کے دوران کوالٹی اور معیار پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، پاکستانی آموں کو ایکسپورٹ عالمی معیار کے مطابق یقینی بنائی جائے،اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مضبوط بنائیں،مینگوز کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلیے سٹیک ہولڈرز کے ساٹھ ملکر سفارشات مرتب کی جائیں،وزارت فوڈ سیکیورٹی ان سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلیے عملی اقدامات کرے گی ،

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • میرپورخاص میں 3 روزہ مینگو فیسٹیول کا افتتاح

    میرپورخاص میں 3 روزہ مینگو فیسٹیول کا افتتاح

    میرپورخاص میں 3 روزہ مینگو فیسٹیول کا افتتاح کردیا گیا،

    صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش خان مہر، صوبائی سیاحت و ثقافت نوادرات و آرکائیوز سید ذوالفقار علی شاہ صدر پیپلز پارٹی سندھ نثار کھوڑو ضلعی چیئرمین میر انور علی تالپور نے فیسٹیول کا افتتاح کیا،افتتاحی تقریب میں کمشنر, ڈپٹی کمشنر, ڈی آٸی جی, ایس ایس پی سمیت دیگر افسران موجود تھے ،مینگو فیسٹیول میں مختلف اقسام کے آم نمائش کیلئے رکھے گئے ہیں،محکمہ سیاحت و ثقافت کی جانب سے ہینڈی کرافٹس کے اسٹالز بھی فیسٹیول میں شرکاء کی توجہ کا مرکز بنے رہے

    پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    آموں کی نمائش لگانے کا مقصد میرپورخاص کے آموں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لیے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو آپس میں میل جول کروانا ہے تاکہ آموں کی نئی اقسام کے متعلق آ گاہی اور بہتر طور پر دیکھ بھال کے متعلق آگاہی دینا ہے تاکہ عام آدمی نمائش میں رکھی آموں کے مختلف اقساموں کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں بعد میں دوسرے دوست احباب کو تحفے کے طور بھیجتے ہیں ہر سال ٹیکنیکی سیشن زرعی سیمینار بھی منعقد کیا جاتا ہے تاکہ کاشتکاروں کو آموں کی نئی قسم ، پیداوار بڑھانے اور پیداوار کے نئے طریقوں کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے . 56ویں آموں کی نمائش کے انعقاد کے لیے رئیس عارف خان بھرگڑی کو مینگو فیسٹیول مینجمنٹ کمیٹی کا چیئر مین جبکہ گوھرام بلوچ کو مینیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے

    والدین نوجوانوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کریں:مریم نواز

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

     

  • پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    تحریر . غلام رضا کھوسو ، ڈائریکٹر اطلاعات میرپورخاص ڈویزن
    Ghulam raza khoso
    ضلع میرپورخاص جو این جی اوز اور سٹی آف مینگوز کے طور پر اپنی پہچان رکھتا ہے اور گذشتہ 55سالوں سے میرپورخاص میں ہر سال ضلعی انتظامیہ اور مینجمنٹ کمیٹی مینگو فیسٹیول کی کاوشوں سے ہر سال جون میں شہید بینظیر بھٹو ایگزہیبیشن ہال (فروٹ فارم) میرپورخاص میں آموں کی نمائش کا انعقاد کیا جاتا ہے . رواں سال بھی میرپورخاص میں 56واں مینگو فیسٹیول 31 مئی 2024 سے 2 جون 2024 تک سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش لگائی جائے گی .اس سلسلےمیں ضلعی انتظامیہ،محکمہ زراعت اور مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے انتظامات کا آغاز کیا گیا ہے .

    میرپورخاص میں آموں کی نمائش کا آغاز سن 1965 سے کیا گیا تھا جس کا مقصد نہ فقط صوبے بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں کے زمیندار کا آپس میں میل جول اور زرعی معلومات کا تبادلہ آموں کی پیداوار اور اقسام کا فروغ ہو سکے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں آموں کی پیداوار بہتر بنانے کے لیے کارآمد ہو سکے . حکومت سندھ کی جانب سے پانی کی کمی کے باعث ڈرپ ایریگیشن سسٹم کے ذریعے باغات کو پانی پہنچانے کے لیے کافی فنڈر مختص کئے گئے ہیں اور ابتدائی طور پر تجرباتی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے ، اس ضمن میں حکومت کی جانب سے میرپورخاص میں سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں یہ سسٹم قائم کیا گیا ہے .سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ سنٹر جو کہ گورنمنٹ فروٹ فارم کے نام سے 1904 میں قائم ہوا اس وقت اس کا نام زرعی فارم تھا اس کے بعد 1926 میں اس ادارے کو تجرباتی اسٹیشن بنایا گیا . 1958میں اس ادارےکو ترقی دے کر باغات کی تحقیق کا ادارہ بنایا گیا اس ادارے کے سب اسٹیشنز سندھ بھر کے مختلف اضلاع میں بھی قائم کئے گئے جس میں ٹماٹر کے لیے ضلع بدین، مرچوں کے لیے ضلع عمرکوٹ کے تحصیل کنری ، بیر اور پیاز کے لیے حیدرآباد ، چیکو ، کیلا، پپیتہ ، کھٹے میوات اور آموں کے لیے شہید بینظیر آباد ، کھجور کے لیے ضلع خیرپورمیرس ، امرود کے لیے ضلع لاڑکانہ میں تحقیقات کا سلسلہ جاری و ساری ہے جس میں کاشتکاروں کو تمام فائدہ مند مشوروں کے ساتھ ساتھ پیداوار بڑھانے کی اقسام دی جاتی ہے . اس ادارے کے پرانے آموں کے اقسام میں سندھڑی، الماس ، چونسہ ، طوطہ پری، الفانسو، کلیکٹر، لنگڑا ، صالح بھائی، دسہری، سوارنیکا، بیگن پالی ،گلاب خاصہ ، سرولی ،نیلم ، زافران ، انور رٹول وغیرہ جو ملکی و بیرون ممالک میں بے حد مشہور ہیں .نئی اقسام میں اس ادارے کی جانب سے کاشتکاروں میں متعارف کروائے گئے ہیں جن میں جاگیردار ، مہران ، شہنشاہ انمول وغیرہ شامل ہیں .

    آموں کے فوائد .
    پکے ہوئے اور کچے آموں میں بہت سے وٹامن پائے جاتے ہیں ، وٹامن اے ، وٹامن سی ، وٹامن ای ، انسان کو دل کی بیماریوں ، کینسر ، شوگر جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں. آموں میں 66فیصد تک کیلوریز ہوتے ہیں . ہمارے ملک پاکستان میں 110مختلف اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں ، زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آموں کی برآمد کو بڑھانے کے لیے نئی مارکیٹوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ آموں کی پروسیسنگ پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے آموں کی برآمد میں بھی اضافہ ہو سکے گا ،، ہمارے ملک میں آموں کے باغات کی کاشت شدہ ایراضی ساڑھے چارلاکھ ایکڑ ہے جبکہ ملک میں سالانہ 18 لاکھ ٹن آموں کی پیداوار ہوتی ہے اسی طرح ایک اندازے کے مطابق ضلع میرپورخاص میں 30 ھزار ایکڑ پر 120000 ٹن آموں کی پیداوار ہے .

    ضلعی انتظامیہ میرپورخاص کی جانب سے ڈویزنل کمشنر میرپورخاص ڈویزن فیصل احمد عقیلی اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سونو خان چانڈیو کی سربراہی میں میرپورخاص میں 31 مئی 2024 سے 2 جون 2024 تک سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں کھیلوں اور ثقافتی پروگرام کا بھی انعقاد کیا جائے گا .نمائش کو کامیاب بنانے کے لیے سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں اس کے علاوہ نمائش میں چھوٹے چھوٹے زمینداروں کو اپنے آموں کے اسٹال لگانے کے لیے شرکت کی دعوت دی گئی ہے.

    میرپورخاص میں 56ویں سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش کا باقاعدہ افتتاح 31 جون کو شہید بینظیر بھٹو ایگزہیبیشن ہال (فروٹ فارم) میں صوبائی وزیر زراعت کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اسی طرح دوسرے روز زرعی سیمینار اور سندھ کا روایتی کھیل ملاکھڑا کے مقابلے اور اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے وزیر اعلی سندھ کو دعوت دی گئی ہے جہاں وہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے زمینداروں میں انعامات تقسیم کریں گے .

    آموں کی نمائش لگانے کا مقصد میرپورخاص کے آموں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لیے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو آپس میں میل جول کروانا ہے تاکہ آموں کی نئی اقسام کے متعلق آ گاہی اور بہتر طور پر دیکھ بھال کے متعلق آگاہی دینا ہے تاکہ عام آدمی نمائش میں رکھی آموں کے مختلف اقساموں کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں بعد میں دوسرے دوست احباب کو تحفے کے طور بھیجتے ہیں ہر سال ٹیکنیکی سیشن زرعی سیمینار بھی منعقد کیا جاتا ہے تاکہ کاشتکاروں کو آموں کی نئی قسم ، پیداوار بڑھانے اور پیداوار کے نئے طریقوں کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے . 56ویں آموں کی نمائش کے انعقاد کے لیے رئیس عارف خان بھرگڑی کو مینگو فیسٹیول مینجمنٹ کمیٹی کا چیئر مین جبکہ گوھرام بلوچ کو مینیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ 56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص گذشتہ سالوں کے مقابلے میں منفرد اور بہتر طور پر منعقد کیا جائے گا .

  • پاکستان کا روشن مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے،سینیٹر رانا محمود الحسن

    پاکستان کا روشن مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے،سینیٹر رانا محمود الحسن

    چین کے شہر اورمچی میں 17 اگست سے 21 اگست کو ہونے والی آموں کی نمائش کے حوالے سے ایوان بالاء کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کنونیئر کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ پاکستان ان چند خوش قسمت ممالک میں سے ہے جہاں ہر طرح کا موسم اور بہترین معیار کا پھل دستیا ب ہے۔ پاکستانی آم کی دنیا بھر میں بہت طلب ہے اور جس معیار کا آم پاکستان میں ملتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اگر موثر حکمت عملی اختیار کی جائے اور ویلیو ایڈیڈ کے ذریعے ہم اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستانی آم کو پاؤڈر بنا کر اور چھوٹے حصوں میں خشک کر کے ویلیو ایڈیڈ کیا جائے تو خاصے مہنگے داموں فروخت کیا جا سکتا ہے۔

    کنونیئر کمیٹی نے وزرات کامرس، ٹی ڈیپ، ایوان بالاء، وزارت خارنہ امور اور دیگر متعلقہ اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے چین کے شہر اورمچی میں پاکستانی آموں کی نمائش انتہائی کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کے تعاون سے آئندہ برس بھی نمائش میں حصہ لیا جائے گا جس میں ہزاروں لوگوں کو لے کر جائیں گے تاکہ پاکستانی ایکسپورٹ موثر فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان کار روشن مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دے کر نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چین میں منعقدہ نمائش کے مثبت نتائج سامنے ہیں۔ میں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بھی بھر پور تعاون کیا جس کی وجہ سے یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا۔ پاکستان اور چین کا بارڈر 900 کلو میٹر پر مشتمل ہے وہاں ہماری اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں اور پاکستانی وفد نے وہاں کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، فارما سیوٹیکل، تحقیق کے اداروں سمیت مختلف اداروں کا دورہ کیا اور وہاں کے سرمایہ کاروں، کسانوں اور زمینداروں سے ملاقاتیں کیں۔ چین میں مکئی کی فی ایکڑ پیدا وار 250من کے قریب آتی ہے۔ پاکستان میں بھی پیدا وار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ چین کے ساتھ ہم آم، چیری، ابلا ہوا بڑا گوشت سمیت کئی اشیاء ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔

    چینی کی قیمت 200 تک پہنچ گئی

    چینی کی قیمت 300 تک پہنچنے کا خدشہ

    چینی کی برآمد پر پابندی عائد

    1 ارب سے زائد کی چینی افغانستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    پنجاب میں آٹا اورچینی کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    یوٹیلٹی سٹور پر چینی ناپید، اشیا مہنگے داموں فروخت، شہریوں کا احتجاج

    ٹی ڈیپ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس کمیٹی نے نمائش کے حوالے سے جو مقاصد طے کیے تھے وہ حاصل کر لیے گئے ہیں۔ پاکستانی آم کو بہت پسند کیا گیا ہے۔ ویلیو ایڈیشن کی اشد ضرورت ہے۔ ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ اور سرمایہ کاری فورم کی تجویز ہے جلد عملدرآمد ہو جائے گا۔ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت کامرس نے کمیٹی کو بتایا کہ کرونا وبا کی وجہ سے بارڈر بند تھا اپریل میں کھل گیاہے۔ چین کے ساتھ بذریعہ سٹرک ایمپورٹ، ایکسپورٹ شروع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، قازکستان، کرغستان اور پاکستان کے مابین ایک معائدہ بھی ہوا ہے اور بذریعہ سٹرک ایمپورٹ، ایکسپورٹ ہو سکتی ہیں۔ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔پاکستانی پھلوں کو جوسسز اور پلپ کی شکل میں بھی ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے بھی نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ ہمیں بھی بارڈر کھلنے کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ان ممالک کے ساتھ مچھلی، سمندری خوراک، لال مرچ، آم، چیری اور دیگر اشیاء کی ایکسپورٹ کو فروغ دینا چاہیے۔

    کنونیئر کمیٹی نے بعد ازاں وزارت کامرس اور ٹی ڈیپ حکام کو چین میں شاندار نمائش منعقد کرانے پر اعزازی شیلڈ بھی دیں۔خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار کے علاوہ وزارت کامرس اور ٹی ڈیپ حکام نے شرکت کی

  • پاکستانی باسمتی چاول کی یورپ کو برآمد بھارت سے زیادہ

    پاکستانی باسمتی چاول کی یورپ کو برآمد بھارت سے زیادہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کے کاپی رائٹ ترمیمی بل 2023 کے علاوہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے برآمدات کو فروغ دینے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات، ملکی و بین الاقوامی سطح پر منعقد کیے گئے صنعتی نمائشوں، مختلف ممالک میں تعینات ٹریڈ آفیسرز کی کارکردگی اور تعیناتی سے متعلق دیگر امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ادارے کی جانب سے ورکنگ پیپرز آج صبح فراہم کیے گئے ہیں بغیر سٹڈی کیے کس طرح سوال و جواب کر سکتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو قانون کے مطابق وقت پر ورکنگ پیپر فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر تجارت بھی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کرتے گزشتہ اجلاس میں واضح درخواست کی تھی کہ متعلقہ وزیر اپنی شرکت یقینی بنائیں ورنہ کمیٹی اجلاس میں احتجاجا واک آؤٹ کیا جائے گا انہوں نے کمیٹی سے علامتی طور پر واک آؤٹ بھی کیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ وفاقی وزراء پارلیمانی کمیٹیوں کو اہمیت دیں اور متعلقہ وزیر اپنی شرکت یقینی بنائیں ورنہ اس معاملے کو چیئرمین سینیٹ کے سامنے اٹھائیں گے۔

    قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ کمیٹی کا مقصد ملک کے اندر تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ایسی سفارشات مرتب کرنا ہے جو مجموعی معاشی و اقتصادی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب کریں اور ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے تمام ادارے اپنی توانائیوں کو بروئے کار لائیں اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کیلئے موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک میں ایکسپورٹ کی موجود ہ مقدار اور استعداد کیا ہے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کے ایجنڈے کے حوالے سے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پاکستان کے فنکار غریب ہیں انکو اپنے فن کی رائلٹی ملنا چاہیے۔سرکاری ٹی وی پی ٹی وی بھی فنکاروں کو انکی رائلٹی فراہم نہیں کر رہا۔حقوق دانش کے ادارے آئی پی او پاکستان کو اس سلسلے میں کافی کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی او کی ٹیم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ پاکستان کے لیجنڈ جب بیمار ہوتے ہیں تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ان کو ان کے فن کی رائلٹی ملنی چاہیے۔ پی ٹی وی پر پرانے ڈرامے تو چل رہے ہوتے ہیں مگر ان فنکاروں کو رائلٹی نہیں ملتی۔ 1980 کی دہائی میں رائلٹی دی جاتی تھی۔ فنکاروں کو ان کے حقوق کی آگاہی فراہم کرنی چاہیے۔ چیئرمین آئی پی او نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ فنکاروں کے تحفظ کیلئے قانون بنایا جا رہا ہے۔اس قانون پر مختلف شراکت داروں سے رائے طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایسا بل تیار کرنا ہے جس سے ملک کے فنکاروں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو سکے۔قائمہ کمیٹی کو ڈرافٹ بل تیار کر کے جلد فراہم کر دیا جائے گا اور سینیٹر فیصل جاوید سے شیئر بھی کیا جائے گا اور انہیں بریف بھی کیا جائے گا۔ جس پر چیئرمین کمیٹی ذیشان خانزاہ نے ہدایت کی کہ ملک کے فنکاروں کو ان کے حق کی فراہمی کے لئے بل کو زیادہ سے زیادہ سے موثر اور جلد سے جلد ڈرافٹ کر کے کمیٹی کو فراہم کیاجائے تاکہ کمیٹی اس کا تفصیل جائزہ لے کر فیصلہ کرکے۔

    چیف ایگزیکٹو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی زبیر موتی والا نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ پہلے برآمدات صرف امریکہ اور یورپ میں بڑھانے پر زور تھا۔اب ٹی ڈیپ پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں اور پاکستان کی پروڈکشن کی پروموشن پر بہت زیادہ فوکس کیا گیا ہے۔ پاکستان کی برآمدات کو افریقہ میں بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں۔ٹی ڈیپ کا مقصد برآمدات بڑھانے ہے۔نمائشوں میں 50 فیصد بڑی صنعتوں، 30 فیصد چھوٹی صنعتوں اور 10 فیصد ایکسپورٹرز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سیکرٹری وزارت تجارت نے کمیٹی کو تبایا کہ ٹی ڈیپ کی بورڈ ممبران صرف مخصوص شعبوں کے برآمد کنندگان ہی بن سکتے ہیں۔ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جرمنی کے لئے پرائیوٹ سیکٹر کے ایکسپورٹرز کو ہم نے سپورٹ کیا تھا اورایک ایکسپورٹر کو ویزہ نہیں مل سکا تھا۔دوبئی میں ایک شاندار نمائش کا انعقاد کیا گیاجس میں ہمارے ایکسپورٹرز کو اعزازی خطوط لکھے گئے۔

    صدر کینیڈا پاکستان چیمبر بشری رحمان نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس سال اگست میں شمالی امریکہ میں پاکستان کی سنگل کنٹری نمائش منعقد کی جا رہی ہے۔اس نمائش میں 57 پاکستانی کمپنیاں شرکت کریں گی۔ میں نے خود پاکستان کا پانچ مرتبہ دورہ کیا اور مختلف 12 شہروں کے چیمبرز اور متعلقہ انتظامیہ کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ نمائش کیلئے وزارت تجارت اور ٹی ڈیپ کی طرف سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کیلئے وسیع مواقعے موجود ہیں۔آئی ایم ایف سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ برآمدات کو بڑھایا جائے اس سے ملک کے بے شمار مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ٹی ڈیپ برآمد کنندگان کو ٹریول سبسڈی فراہم کر دے تو کافی کمپنیاں شرکت کر سکیں گی۔وزارت تجارت ان کاروباری افراد کو ویزہ حاصل کرنے میں مدد کرے۔ نمائش پرساڑھے چار لاکھ کینیڈین ڈالر خرچ ہوگا اگر کسی بھی قسم کی سبسڈی مل جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔ ٹریڈ کونسلرز کا شمالی امریکہ میں کام کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ مارکیٹ کو سمجھانا ہوتا ہے جو آسان نہیں ہے۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ نمائش کی کامیابی کے لئے قانون کے مطابق بھر پو رمدد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک فوکل پرسن تعینات کیا جائے جو کینیڈین سفارتخانے کے ساتھ ان کے معاملات کو ڈیل کرے۔ جس پر سیکرٹری وزارت نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو گا پالیسی کے تحت مدد کریں گے۔ پالیسی اور فنڈنگ کے حوالے سے کچھ ایشوز ہیں۔ متعلقہ سفیر اور کونسلر سے ان کی میٹنگ کا انتظام کرائیں گے اور پالیسی کے مطابق ان کی مدد بھی کی جائے گی۔ زبیر موتی والا نے کہا کہ ویزا ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔اسی وجہ سے جرمنی میں ہونے والی نمائش میں ایک پاکستانی ایکسپورٹر شرکت نہیں کر سکا۔اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اچھالا گیا حالانکہ یہ حقیقت نہیں تھی۔صرف ایک ایکسپورٹر ویزا نہ ملنے کے باعث نہ جا سکا۔ٹی ڈیپ ایکسپورٹرز کی مدد کرتا ہے اور کرے گا۔ڈالرز کے باعث بھی ٹی ڈیپ مسائل کا شکار ہے۔ ملک سے آم کی برآمدات بڑھانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔کوشش کر رہے ہیں کہ کجھور میں ویلیو ایڈیشن کر کے برآمد کی جائے۔پاکستان سے کجھور کی برآمدات کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔پنک نمک کی برآمد کو بھی بڑھا رہے ہیں۔جس پر سیکرٹری وزارت تجارت نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے کجھور کی فصل بہت متاثر ہوئی ہے ملک سے سالانہ تین لاکھ ٹن کجھور ایکسپورٹ ہوتی تھی مگر اس سال اس کا پانچ فیصد بھی نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین میں بھارت کو باسمتی کی خصوصی مارکیٹ نہیں ملی۔آسٹریلیا نے بھی بھارت کی درخواست مسترد کر دی ہے جبکہ امریکہ میں ابھی قانونی کاروائی جاری ہے۔ پاکستانی چاول کو برانڈ کر کے برآمد کیا جا رہا ہے۔اس وقت پاکستانی باسمتی چاول کی یورپ کو برآمد بھارت سے زیادہ ہے۔ پاکستانی برانڈ بہت اچھے ہیں اور ان کی بیرون ممالک مانگ بڑھ رہی ہے اور کئی ممالک میں پاکستانی ایکسپورٹ آئٹم نے انڈیا کو مات دے دی ہے۔

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    چیف ایگزیکٹو ٹی ڈیپ نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھڑی آم، کینو، پنک نمک کو جی آئی کے تحت رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے۔پاکستان کی سی فوڈ پروڈکٹس کی برآمدات کو بڑھانے کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ٹی ڈیپ افریقہ اور وسطی ایشیاء میں برآمدات بڑھانے کیلئے کوشش کر رہی ہے۔ٹی ڈیپ میں 26 گھنٹے یومیہ کی ڈیوٹی دینا پڑ رہی ہے۔حلال فوڈ مارکیٹ کیلئے کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں اس وقت کاروباری لاگت بہت بڑھ گئی ہے اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ برآمدات میں ویلیو ایڈیشن کیلئے اقدامات ناگزیرہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر کوئلہ سے بجلی پیداوار شروع کروانے میں نے کلیدی کردار ادا کیا۔حکومتی ادارے صرف نجی شعبے کی مدد کریں برآمدات بڑھ جائیں گی۔سبزیوں پھل آئی ٹی سی فوڈ اور افرادی قوت کی برآمدات سے ملک کو قلیل مدت میں بحران سے نکلا جا سکتاہے۔ لاہور میں ایک ایکسپو کا انعقاد کیا گیا جس میں افریقی ممالک سمیت 19 ممالک کی کمپنیوں نے شرکت کی۔ ہم بلیو اکانومی کی طرف جا رہے ہیں۔ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ملک میں فشری سیکٹر میں 450 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کی استعداد موجود ہے۔ہماری مچھلیاں اسمگلنگ ہو رہی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ ملک کی ترقی اور موجودہ معاشی حالات کی بہتری کے لئے ہماری پالیسیوں میں تسلسل ناگریز ہے۔ پہلی بار بزنس کمیونٹی کے لوگوں کی اس طرح کے اداروں میں شمولیت خوش آئندہ ہے اس سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آئے گی۔ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے اور زراعت میں بے پناہ پوٹینشل ہے۔

    قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ زرعی شعبے میں ہماری ایکسپورٹ کیا ہیں اور ہماری استعداد کیا ہیں۔ مشرقی و سطیٰ ممالک ہماری زرعی ایشیاء میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔قائمہ کمیٹی کو مختلف ممالک میں ایکسپورٹ بڑھانے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہماری ویب سائٹ پر ایکسپورٹ سے متعلقہ تمام معلومات موجود ہیں۔قائمہ کمیٹی نے ان کی تشہیر کرنے پر زور دیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹی ڈیپ میں ہر پروڈکٹ کا ایک پروڈکٹ آفسیر موجود ہے جو اس پیدا وار کے حوالے سے معلومات سمیت تمام امور کو دیکھتے ہیں۔ ڈیجیٹل گیلری بھی بنائی گئی۔ریسرچ پبلیکیشن پر بھی کام کیا گیا ہے۔ ملک میں 16 ہزار ایکسپورٹرز کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ ایس آر او ز کو آسان زبان میں ایکسپورٹرز کی آسانی کے لئے ویب سائٹ موجود ہے۔ مارکیٹ رسائی پر بھی موثر انداز میں کام کیا جارہا ہے۔ ایکسپورٹ کی تعداد بڑھانے کیلئے ضلعی سطح تک کا م کر رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے معلومات فراہم کر رہے ہیں تاکہ ان کی کپیسٹی کو بڑھایا جا سکے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران 197 بین الاقوامی ٹریڈ فیئرز اور 10 مقامی ٹریڈ فیئرز کا انعقادکیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے ٹریڈ فیئرز میں دونوں ایوانوں کی کمیٹیوں کے ممبران کو دعوت دینے کی ہدایت کر دی تاکہ ایکسپورٹ کے حوالے سے معاملات میں ان کو بھی آگاہی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ایکسپورٹ کے حوالے سے استعداد ہماری موجودہ صورتحال اور مختلف ممالک کے ساتھ موازنہ رپورٹ تیار کر کے آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو فراہم کی جائے۔