Baaghi TV

Tag: آن لائن

  • تین بہنوں کی نویں منزل سے کود کر خودکشی،گیمنگ ایپلیکیشن سے ٹاسک پر شبہ

    تین بہنوں کی نویں منزل سے کود کر خودکشی،گیمنگ ایپلیکیشن سے ٹاسک پر شبہ

    بھارتی ریاست اترپردیش کے شہرغازی آباد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں 3 کمسن بہنوں نے مبینہ طور پر آن لائن گیمنگ کی لت اور والدین کی جانب سے مخالفت کے بعد 9 ویں منزل سے کود کر اجتماعی خودکشی کر لی۔

    واقعے کے بعد بچیوں کا 8 صفحات پر مشتمل ایک نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے والدین سے معذرت کرتے ہوئے اپنی گیمنگ سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے،نوٹ ایک جیب میں رکھی ڈائری میں تحریر کیا گیا تھا جو ہندی اور انگریزی میں لکھا گیا ہے، بچیوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پوری ڈائری ضرور پڑھیں کیونکہ اس میں لکھی ہر بات سچ ہے-

    نوٹ میں لکھا تھا کہ اس ڈائری میں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب پڑھ لو کیونکہ یہ سب سچ ہے، ابھی پڑھو! مجھے بہت افسوس ہے ممی پاپا سوری، اس جملے کے ساتھ ایک روتا ہوا ایموجی بھی بنایا گیا تھا،یہ نوٹ پولیس نے تفتیش کے لیے اپنے قبضے میں لے لیا ہے بچیوں کے کمرے کی دیوار پر بھی ایک جملہ لکھا ہوا ملا کہ ’میں بہت، بہت اکیلی ہوں-

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 16 سالہ نشیکا، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں اور ایک کوریائی ٹاسک بیسڈ آن لائن گیمنگ ایپ کی عادی تھیں،جس کی لت انہیں کورونا وبا کے دوران لگی۔

    والد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی بیٹیاں کھیل کے آخری مرحلے پر تھیں، مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا وہ آخری ٹاسک مکمل کر رہی تھیں اس گیم میں کل 50 ٹاسک تھے، اور میری 14 سالہ بیٹی اس کھیل کی لیڈر تھی، فیصلے کرتی تھی کہ کون سا کمانڈ مکمل کرنا ہے وہ ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں اور کسی کو شک نہیں ہونے دیا کہ وہ ایسا کر رہی ہیں،والد نے شک ظاہر کیا کہ بچیوں نے کھیل کے ایک ٹاسک کے تحت بالکونی سے چھلانگ لگانے کے لیے چھوٹی ٹو اسٹیپ سیڑھی استعمال کی ہے-

    ان کی گیم سے اس حد تک وابستگی تھی کہ انہوں نے اپنے لیے کوریائی نام بھی رکھے ہوئے تھے اور گیم میں دیے گئے ٹاسک بھی پورے کرتی تھیں نوٹ میں اس بات کے واضح شواہد ملے ہیں نوٹ میں لکھا تھا ’ہم کوریا کو چھوڑ نہیں سکتے، کوریا ہی ہماری زندگی ہے آپ ہمیں آزاد نہیں کر سکتے، ہم اپنی زندگی ختم کر رہے ہیں۔

    والد چیتن کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس گیم کے بارے میں علم نہیں تھا، اگر معلوم ہوتا تو وہ بچیوں کو ہرگز کھیلنے کی اجازت نہ دیتےجو کچھ ہوا وہ انتہائی خوفناک ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا کسی اور بچے کے ساتھ ہو، میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کو ویڈیو گیمز سے دور رکھیں۔‘

    بھارتی میڈیا کے مطابق، رہائشیوں نے رات کے سناٹے میں زور دار آواز سنی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو سیل کیا اور لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیں۔

    پولیس سپرنٹنڈنٹ اتُل کمار سنگھ کے مطابق، واقعہ رات 12 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا اور فوری کارروائی کے باوجود بچیوں کو زندہ نہیں بچایا جا سکا،پولیس نے یہ واضح کیا ہے کہ ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ خودکشی کا براہِ راست تعلق آن لائن گیمنگ سے تھا تفتیش میں خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بچیوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے سائبر ماہرین کو بھی اس معاملے میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ آن لائن ایپ کے استعما ل اور ڈیجیٹل تعاملات کی جانچ کی جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر پولیس نمیش پٹیل کے مطابق کمزور تعلیمی کارکردگی اور مالی مسائل کے باعث بچیاں زیادہ تر گھر پر ہی رہتی تھیں حالیہ دنوں میں اہلِ خانہ نے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کردی تھیں، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ ملک بھر میں والدین اور نوجوانوں کے درمیان آن لائن سرگرمیوں اور ان کی ممکنہ خطرناک عادات کے بارے میں ایک مرتبہ پھر ایک فکری بحث کو جنم دیا ہےیہ اندوہ ناک حادثہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی بچوں اور نوجوانوں میں آن لائن گیمز کی لت یا خطرناک ٹاسکس کی وجہ سے المناک نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

    ڈیجیٹل دنیا میں موجود کچھ گیمز اور چیلنجز محض تفریح نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی صحت اور جان کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں، ان سے مسلسل مکالمہ کریں، اور انہیں ایسی آن لائن سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت آگاہی اور رہنمائی فراہم کریں۔

  • تاجروں سے تعلقات،آن لائن فراڈ کرنیوالا گروہ گرفتار

    تاجروں سے تعلقات،آن لائن فراڈ کرنیوالا گروہ گرفتار

    اے ایس پی ٹاون شپ ڈاکٹر خدیجہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن فراڈ کرنے والا گروہ انڈسٹریل ایریا پولیس نے گرفتار کر لیا،

    اے ایس پی خدیجہ عمر کا کہنا تھا کہ ملزمان تاجروں سے تعلقات استوار کرتے پھر خریداری کر کے فراڈ کرتے تھے۔ملزمان خریداری کی جعلی واٹس ایپ اور جیز کیش سلپ بنا کر بھجوا دیتے تھے،ملزمان میں حاجی صدیق، عثمان علی، عباد اور آصف شامل ہیں،ملزمان ڈکیتی، فراڈ سمیت متعدد مقدمات میں چالان ہو چکے ہیں،ملزمان کے قبضے سے لاکھوں کی نقدی اور ہتھایا جانے والا سامان برآمد کر لیا گیا ہے،ملزمان کو گرفتار کرنے پر ایس ایچ او شبیہ رضا اور ٹیم کو شاباش دی گئی

    دوسری جانب تھانہ مصطفیٰ ٹاؤن پولیس کی کارروائی ،گھروں میں واردات کی نیت سے ملازمت کرنے والے میاں بیوی گروہ گرفتار کر لیا گیا،ملزمان گھروں میں موجود افراد کو نشہ آور اشیاء کھیلا کر گھر میں موجود قیمتی اشیاء چوری کر کے فرار ہو جاتے تھے. ملزمان نے چند روز قبل ٹیک سوسائٹی لاہور میں شہری کے گھر چوری کی واردات کی تھی. مصطفیٰ ٹاؤن پولیس نے گوپے راہ چھاپہ مار کر ملزمان کو گرفتار کیا ،ملزمان سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں اور متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے،ملزمان کے قبضہ سے 10 لاکھ روپے چھ تولا زیور اور 700 ڈالر برآمد کیا گیا،ملزمان قبضہ سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی،ملزم عنصر اور بیوی رابیعہ کیخلاف مقدمہ درج، تفتیش جاری ہے

    گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

  • دنیا کے تین صدیوں پرانے اخبار کی اشاعت بند کرنے کا اعلان

    دنیا کے تین صدیوں پرانے اخبار کی اشاعت بند کرنے کا اعلان

    آسٹریا سے شائع ہونے والے دنیا کے سب سے پرانے اخبار نے اشاعت بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق Wiener Zeitung، دنیا کے قدیم ترین اخبارات میں سے ایک، اپنی روزانہ کی پرنٹنگ کو ختم کرنے اور آن لائن منتقل ہونے کے لیے تیار ہے گزشتہ تین صدیوں سے شائع ہونے والے اخبار نے جمعرات کے ایڈیشن میں باضابطہ طور پر اشاعت بند کرنے کا اعلان کیا۔

    کراس بارڈر ادائیگیوں میں چینی کرنسی نے پہلی بارامریکی ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیا

    یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو یہ فیصلہ کیا ہے جس میں آسٹریا کی حکومت اور اخبار کے درمیان سرکاری ملکیت والے روزنامے کے مستقبل کے بارے میں برسوں سے جاری تنازعہ میں حتمی قدم ہے۔

    اخبار بند کرنے کا فیصلہ آسٹریا کی پارلیمنٹ میں سرکاری اخبارات بند کرنے کا بل پیش ہونے کی مناسبت سے کیا گیا ہے، بل میں سرکاری اخبارات کو ڈیجیٹل کرکے نئے صحافیوں کیلئے تربیت گاہ میں تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    جاپانی وزیراعظم کا صنفی امتیاز میں کمی کیلئے بڑی کمپنیوں میں خواتین سربراہان کی

    پارلیمنٹ کے تیسرے صدر، نوربرٹ ہوفر نے ایک نئے قانون کے بارے میں کہا کہ بل کی منظوری تک دنیا کا سب سے قدیم اخبار 30 جون تک کاغذی شکل میں شائع ہوتا رہے گا یکم جولائی سے اشاعت کو بنیادی طور پر آن لائن منتقل کرنے کے لیے یہ اکثریت کے ساتھ منظور کیا گیا ہےدستیاب فنڈز کے لحاظ سے کاغذ ہر سال کم از کم دس پرنٹ اشاعتوں کو برقرار رکھے گا۔

    2004 میں، آسٹریا کے وینر زیتونگ کو سب سے پرانے اخبارات میں شمار کیا گیا جو اب بھی زیر گردش ہیں وہ اشاعت جو آسٹریا ہنگری، روسی اور عثمانی سلطنتوں، پہلی اور دوسری عالمی جنگوں اور سرد جنگ سے بچ چکی ہے، اب ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھے گی۔

    آسٹریا کے اخبار ’ووینر ٹسایٹنگ‘ نے 1703 میں سرکاری سرپرستی میں اشاعت شروع کی تھی، ایڈیشن کے سرورق پر سال اشاعت 1703 اور سال اختتام 2023 چھاپا گیا-

    ترکیہ میں روس کی مدد سے تیار ہونے والےنیوکلیئر پلانٹ کا افتتاح

    1703 میں Wiennerisches Diarium کے نام سے قائم کیا گیا، بعد میں 1780 میں اس کا نام تبدیل کر کے Wiener Zeitung رکھ دیا گیا، سابقہ ​​نجی دو ہفتہ وار اخبار کو 1857 میں آسٹریا کے شہنشاہ فرانز جوزف اول نے قومی کر دیا تھا، جو ملک کا سرکاری گزٹ بن گیا۔

    اس کے نائب منیجنگ ایڈیٹر میتھیاس زیگلر نے اے ایف پی کو بتایا، "کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ حکومت صرف وینر زیتونگ برانڈ کو اس کی 320 سال پرانی تاریخ کے ساتھ رکھنا چاہتی ہے، جبکہ کوئی نہیں جانتا کہ مستقبل کی اشاعت کیسی ہوگی۔”

    75 روپے کا نیا کرنسی نوٹ لین دین کیلئے قابل استعمال ہے،اسٹیٹ بینک

  • مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ بنانیوالے ملزمان کو رہا کرنیکا حکم

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ بنانیوالے ملزمان کو رہا کرنیکا حکم

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ بنانیوالے ملزمان کو رہا کرنیکا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کے حوالہ سے ایپ بنانے والے دو ملزمان کی عدالت نے ضمانت منظور کر لی ہے اور عدالت نے ملزمان کو رہا کر نے کا حکم دے دیا ہے’

    بھارت میں آن لائن ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کی نیلامی کا انکشاف ہوا تھا پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا اب انسانی بنیادوں پر عدالت نے اومکار یشور ٹھاکر اور نیرج کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے، نیرج بلی بائی کیس کا ملزم ہے جبکہ اومکار پر الزام ہے کہ اس نے سلی ڈیز ایپ بنائی تھی

    عدالت نے دوران سماعت کہا کہ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے جبکہ ایف ایس ایل کے نتائج آنا باقی ہی مقدمہ جس مرحلے پر ہے اس وقت ملزمان حقائق سے چھیڑ چھاڑ بھی نہیں کر پائیں گے،عدالت میں یہ بھی دلیل دی گئیکہ ملزمان نے پہلی بار جرم کیا ہے اور انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھنا مناسب نہیں ہوگا،ملزمان کو رہا کرنے کے حکم کے ساتھ عدالت نے شرائط بھی رکھی ہیں یعنی مشروط ضمانت دی ہے، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان ملک سے باہر نہیں جائیں گے جب بھی بلایا جائے گا حاضر ہوں گے، تفتیشی افسر کے ساتھ رابطے میں رہیں گے، فون مسلسل آن ہو گا اور اپنی لوکیشن سے پولیس کو آگاہ کرتے رہیں گے

    سلی ڈیلز کا معاملہ سب سے پہلے گزشتہ سال جولائی میں اس وقت سامنے آیا جب ایک ایپ پر متعدد مسلم خواتین کی تصاویر شیئر کر کے انہیں نیلامی کے لئے پیش کیا گیا تھا اکے چند ماہ بعد بلی بائی ایپ بھی منظر عام پر آئی، جس کے ذریعے ایک مرتبہ پھر خواتین کو نیلامی کے لئے پیش کیا گیا۔ ایک خاتون صحافی کی شکایت کے بعد اس معاملہ کی تحقیقات شروع کی گئی رواں برس ماہ جنوری میں پولیس نے سب سے پہلے بلی بائی ایپ بنانے والے ملزم نیرج بشنوئی کو گرفتار کیا تھا پھر دو دن بعد 8 جنوری کو سلی ڈیلز تیار کرنے والے اومکاریشور ٹھاکر کو بھی گرفتار کر لیا گیا

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں جس کی وجہ سے بھارتی خواتین میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر ایک عورت کو ٹرول کرنا یعنی اس کا مذاق اڑانا بہت سے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ آسان کام ہوتا ہے اور یہ ٹرولِنگ زیادہ تر ذاتی حملوں پر مبنی ہوتی ہے۔لیکن انڈیا میں مسلمان خواتین کی ہراسانی کے لیے کم ظرفی کی تمام حدیں پار ہوتی نظر آتی ہیں۔

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں تصاویر ان خواتین کی ہیں جو ٹویٹر صارف ہیں اور ان کے کافی تعداد میں فالوؤرز ہیں۔ ایپ کو آن لائن سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی سہولت کار کمپنی Github پر ڈیزائن کیا گیا ہے ’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ کا نام ’بُلی بائی‘ ہے،

    ایپ کھولنے والے صارفین کو’آج کے دن آپ کی بلی بائی‘ کی ٹیگ لائن کے ساتھ خواتین کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر ایڈٹ شدہ ہیں بھارت میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر ممتاز شخصیات سمیت سینکڑوں خواتین کو نئے سال کے موقع پر ایپ پر اپنی تصاویر ملی ہیں اس کے بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر اس ہراسانی کے بارے میں احتجاج کیا، جس کا خصوصاً مسلمان خواتین کو بھارت میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے کافی گھنٹوں کے بعد بھارتی حکومت نے کارروائی کا وعدہ کیا۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ سال میں دوسری بار ہوا ہے کہ خواتین کی آن لائن نیلامی کیلئے ایپ بنائی گئی اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں Sulli Deal نامی ایپ متعارف ہوئی تھی جس نےBulli Bai کی طرح ہی سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر آئن لائن نیلامی کیلئے پوسٹ کی تھیں 80 سے زائد مسلمان خواتین کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ’گٹ ہب‘ نامی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی ہیں جس کے ساتھ لکھا گیا تھا ’آج کی سلی ڈیل‘۔ سلی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

    ہندو انتہا پسندوں کی بھارت میں ہولی پر مسلم خواتین مخالف مہم

    فلسطینی بھی وجود رکھتے ہیں وہ بھی انسان ہیں،مسلم امریکن خواتین اراکین برس پڑیں

    تب بھی مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے دہلی اقلیتی کمیشن اورخاتون کمیشن نے نوٹس لیا تھا اس ضمن میں دہلی اقلیتی کمیشن اور خاتون کمیشن نے دہلی پولیس کمشنر کو ایک نوٹس بھجوایا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلم خواتین کے خلاف ایسی بیہودہ مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے،دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان کا کہنا تھا کہ ملزم کنال شرما اور کچھ دیگر ملزمان نے مسلم خواتین کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا ہے۔ ایسے لوگ ہندو مت کو بدنام کر ہے ہیں بھارت میں جو لوگ دیویوں کی پوجا کرتے ہیں ان کے احساسات کو بھی انہوں نے مجروح کیا ہے۔ دہلی پولیس کو ان تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے-

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انڈیا میں بسنے والے سترہ کروڑ مسلمانوں کا خیال ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں۔
    گائے کے تحفظ کو بنیاد بناتے ہوئے سخت گیر ہندوؤں کے مسلمانوں پر تشدد کے واقعات نے مسلمان کمیونٹی کو خوف و مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    بھارت میں ایک بار پھرمسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کا انکشاف

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار

  • کرنسی ڈیلرز و ایکسچینج کمپنیوں کو FBR سے براہ راست منسلک کرنیکا فیصلہ

    کرنسی ڈیلرز و ایکسچینج کمپنیوں کو FBR سے براہ راست منسلک کرنیکا فیصلہ

    اسلام آباد: کرنسی ڈیلرز و ایکسچینج کمپنیوں کو FBR سے براہ راست منسلک کرنیکا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ و ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام اور زرمبادلہ کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے کیلیے ملک میں غیر ملکی کرنسی کا کاروبار کرنے والے بڑے ڈیلروں اور ایکسچینج کمپنیوں میں پوائنٹ آف سیلز سسٹم نصب کرکے ایف بی آر کے ساتھ منسلک ہونے کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا ہے کہ پندرہ دن کے اندر اندر اپنی آرا و تجاویز اور اعتراضات جمع کرواسکتے ہیں، گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ان ترمیمی رولز کو لاگو کردیا جائے گا۔

    مجوزہ ترمیمی مسودے کے ذریعے انکم ٹیکس رولز میں 33 جی رول میں ایک نئی سیریل شامل کی جارہی ہے جس کے ذریعے فارن کرنسی ایکسچینج کمپنیوں ڈیلرز کو بھی انکم ٹیکس مانیٹرنگ کے حوالے سے پوائنٹ آف سیل سسٹم نصب کرنے والے شعبوں کی فہرست میں شامل کیا جارہا ہے۔

    ایف بی آر کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس کی مانیٹرنگ کیلئے بھی لوگوں کی آمدنی کا سراغ لگانے اور انکم ٹیکس میں ود ہولڈنگ کی مانیٹرنگ سے متعلق سلام آباد کراچی اور لاہور سمیت ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں بڑے ہسپتالوں،پیتھالوجیکل لیبارٹریوں،میڈیکل ڈائیگناسٹک لیبارٹریوں کلینک ،میڈیکل پریکٹشنز، جم کلب ہیلتھ کلبوں، ریسٹورنٹس، انٹر سٹی ٹرانسپورٹ سروس کمپنیوں،کوریئر سروس و کارگو سروس، بیوٹی پارلروں، کاروبار اور دکانوں، رٹیل آوٹ لیٹس سمیت دیگر شعبوں کیلئے انکم ٹیکس میں بھی پوائنٹ آف سیل نصب کرنے کو لازمی قراردے رکھا ہے جس کیلئے انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترمیم کرکے سات اے کے نام سے پورا نیا چیپٹر شامل کیا گیا ہے اور اب اسی قانون کے تحت غیر ملکی کرنسی کا کاروبار کرنے والے بڑے ڈیلروں اور ایکسچینج کمپنیوں میں پوائنٹ آف سیلز سسٹم نصب کرکے ایف بی آر کے ساتھ منسلک ہونے کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

    ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کرنسی کا کاروبار کرنے والے بڑے ڈیلروں اور ایکسچینج کمپنیوں و اداروں کو انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کی جانب سے پی او ایس رجسٹریشن نمبر جاری کیا جائیگا اور انٹیگریٹڈ سسٹم کے ساتھ ایکٹو کروانے کیلئے سسٹم کے جاری کردہ پی او ایس رجسٹریشن نمبر کے علاوہ کاروبار کانام، برانچ نام، برانچ کا اڈریس، سی پوائنٹ کا شناختی نمبر، رجسٹریشن کی تاریخ پر مشتمل تمام کوائف دینا ہونگے اور ان نوٹیفائیڈ سروسز پرووائڈرز صرف منظور شُدہ الیکٹرانک فسکل ڈیوائس(ای ایف ڈی) کے ذریعے سروسز فراہم کی جاسکیں گئیں جو کہ ون سیل اینڈ سروس ڈیٹا کنٹرولر(ایس ڈی سی) اور کم از کم ایک پوائنٹ آف سیل کے منسلک ہونے پر مشتمل ہوگی اور یہ سیل اینڈ سروس ڈیٹا کنٹرول فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو متعلقہ سیلز اینڈ سروس سنٹر کا ڈیٹا منتقل کرے گا۔

    اس سسٹم کو یومیہ،ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر کلوزنگ ڈیٹا پر مشتمل ریکارڈ رکھنا ہوگا اور ایف بی آر کو ہر انٹیگریٹڈ سیل اینڈ سروس سنٹرر کا یومیہ،ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر سمری رپورٹ بھجوانا ہوگی تمام آوٹ لیٹس پر ہونیوالے لین دین کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کی جائے گی۔

  • جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پولیس سے متعلقہ آن لائن خدمات کی فراہمی یقینی

    جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پولیس سے متعلقہ آن لائن خدمات کی فراہمی یقینی

    پولیس موبائل خدمت مرکز،رواں ہفتے کا شیڈول
    بروز پیرچائنہ سکیم گجر پورہ، منگل مین بازار حنیف پارک بادامی باغ،بدھ80 فِٹ روڈ ہنجروال،
    جمعرا ت اعظم گارڈن مصطفی ٹاؤن،جمعہ نواب ٹاؤن جبکہ بروز ہفتہ سندر فرائض سرانجام دے گا۔
    لاہور،07 فروری 2021: ڈی آئی جی آپریشنزلاہورساجد کیانی نے کہا ہے کہ جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پولیس سے متعلقہ آن لائن خدمات کی فراہمی یقینی بنائے ہوئے ہیں۔موبائل پولیس خدمت مرکز شہر کے مخصوص پوائنٹس پر مقررہ اوقات میں فرائض انجام دے رہا ہے۔ شہریوں کو ایک ہی چھت تلے ویری فکیشن سرٹیفکیٹس، گمشدگی رپورٹ، تجدید ڈرائیونگ لائسنس سمیت 14اقسام کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ موبائل پولیس خدمت مرکزبروز پیرچائنہ سکیم گجر پورہ، منگل مین بازار حنیف پارک بادامی باغ،بدھ80 فِٹ روڈ ہنجروال، جمعرا ت اعظم گارڈن مصطفی ٹاؤن،جمعہ نواب ٹاؤن جبکہ بروز ہفتہ سندر فرائض سرانجام دے گا۔شہری اپنے علاقہ میں موبائل پولیس خدمت مرکز سے استفادہ کریں۔

  • آن لائن کلاسیں سٹارٹ پی ٹی سی ایل خراب

    آن لائن کلاسیں سٹارٹ پی ٹی سی ایل خراب

    قصور
    پتوکی کے نواحی علاقے حبیب آباد اور گردونواح میں پی ٹی سی ایل کا نظام بری طرح متاثر طالب علم پریشان

    تفصیلات کے مطابق حبیب آباد میں PTCL کی تاریں اور کھمبے دہائیوں پرانے ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جن کی بدولت آئے روز تاریں ٹوٹ جاتی ہیں اور سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے
    جبکہ دوسری جانب حکومت کی طرف سے طالب علموں کی آن لاٸن کاسیں توشروع کر دی گئی ہیں مگر تیز ترین انٹرنیٹ سروس PTCL کی سروس ناکام ہو چکی ہے جس کی بدولت طالب علم مہنگے انٹرنیٹ پیکجز لگانے پر مجبور
    شہریوں نے اعلٰی احکام سے نوٹس کی اپیل کی ہے