بھارتی ریاست اترپردیش کے شہرغازی آباد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں 3 کمسن بہنوں نے مبینہ طور پر آن لائن گیمنگ کی لت اور والدین کی جانب سے مخالفت کے بعد 9 ویں منزل سے کود کر اجتماعی خودکشی کر لی۔
واقعے کے بعد بچیوں کا 8 صفحات پر مشتمل ایک نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے والدین سے معذرت کرتے ہوئے اپنی گیمنگ سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے،نوٹ ایک جیب میں رکھی ڈائری میں تحریر کیا گیا تھا جو ہندی اور انگریزی میں لکھا گیا ہے، بچیوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پوری ڈائری ضرور پڑھیں کیونکہ اس میں لکھی ہر بات سچ ہے-
نوٹ میں لکھا تھا کہ اس ڈائری میں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب پڑھ لو کیونکہ یہ سب سچ ہے، ابھی پڑھو! مجھے بہت افسوس ہے ممی پاپا سوری، اس جملے کے ساتھ ایک روتا ہوا ایموجی بھی بنایا گیا تھا،یہ نوٹ پولیس نے تفتیش کے لیے اپنے قبضے میں لے لیا ہے بچیوں کے کمرے کی دیوار پر بھی ایک جملہ لکھا ہوا ملا کہ ’میں بہت، بہت اکیلی ہوں-
انڈیا ٹوڈے کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 16 سالہ نشیکا، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں اور ایک کوریائی ٹاسک بیسڈ آن لائن گیمنگ ایپ کی عادی تھیں،جس کی لت انہیں کورونا وبا کے دوران لگی۔
والد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی بیٹیاں کھیل کے آخری مرحلے پر تھیں، مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا وہ آخری ٹاسک مکمل کر رہی تھیں اس گیم میں کل 50 ٹاسک تھے، اور میری 14 سالہ بیٹی اس کھیل کی لیڈر تھی، فیصلے کرتی تھی کہ کون سا کمانڈ مکمل کرنا ہے وہ ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں اور کسی کو شک نہیں ہونے دیا کہ وہ ایسا کر رہی ہیں،والد نے شک ظاہر کیا کہ بچیوں نے کھیل کے ایک ٹاسک کے تحت بالکونی سے چھلانگ لگانے کے لیے چھوٹی ٹو اسٹیپ سیڑھی استعمال کی ہے-
ان کی گیم سے اس حد تک وابستگی تھی کہ انہوں نے اپنے لیے کوریائی نام بھی رکھے ہوئے تھے اور گیم میں دیے گئے ٹاسک بھی پورے کرتی تھیں نوٹ میں اس بات کے واضح شواہد ملے ہیں نوٹ میں لکھا تھا ’ہم کوریا کو چھوڑ نہیں سکتے، کوریا ہی ہماری زندگی ہے آپ ہمیں آزاد نہیں کر سکتے، ہم اپنی زندگی ختم کر رہے ہیں۔
والد چیتن کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس گیم کے بارے میں علم نہیں تھا، اگر معلوم ہوتا تو وہ بچیوں کو ہرگز کھیلنے کی اجازت نہ دیتےجو کچھ ہوا وہ انتہائی خوفناک ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا کسی اور بچے کے ساتھ ہو، میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کو ویڈیو گیمز سے دور رکھیں۔‘
بھارتی میڈیا کے مطابق، رہائشیوں نے رات کے سناٹے میں زور دار آواز سنی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو سیل کیا اور لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیں۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ اتُل کمار سنگھ کے مطابق، واقعہ رات 12 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا اور فوری کارروائی کے باوجود بچیوں کو زندہ نہیں بچایا جا سکا،پولیس نے یہ واضح کیا ہے کہ ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ خودکشی کا براہِ راست تعلق آن لائن گیمنگ سے تھا تفتیش میں خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بچیوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے سائبر ماہرین کو بھی اس معاملے میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ آن لائن ایپ کے استعما ل اور ڈیجیٹل تعاملات کی جانچ کی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر پولیس نمیش پٹیل کے مطابق کمزور تعلیمی کارکردگی اور مالی مسائل کے باعث بچیاں زیادہ تر گھر پر ہی رہتی تھیں حالیہ دنوں میں اہلِ خانہ نے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کردی تھیں، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ ملک بھر میں والدین اور نوجوانوں کے درمیان آن لائن سرگرمیوں اور ان کی ممکنہ خطرناک عادات کے بارے میں ایک مرتبہ پھر ایک فکری بحث کو جنم دیا ہےیہ اندوہ ناک حادثہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی بچوں اور نوجوانوں میں آن لائن گیمز کی لت یا خطرناک ٹاسکس کی وجہ سے المناک نتائج سامنے آ چکے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا میں موجود کچھ گیمز اور چیلنجز محض تفریح نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی صحت اور جان کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں، ان سے مسلسل مکالمہ کریں، اور انہیں ایسی آن لائن سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت آگاہی اور رہنمائی فراہم کریں۔






