Baaghi TV

Tag: آٹا بحران

  • چونیاں،الہ آباد،چھانگامانگا میں آٹا بحران شدت اختیار کر گیا

    چونیاں،الہ آباد،چھانگامانگا میں آٹا بحران شدت اختیار کر گیا

    چونیاں،باغی ٹی وی(نامہ نگار)چونیاں،الہ آباد،چھانگامانگا میں آٹا بحران شدت اختیار کر گیا بوڑھی خواتین اور مرد حضرات کی نایاب آٹے کے لئےشدید دھند اور سخت سردی میں لمبی لمبی قطاریں۔تفصیلات کے مطابق چونیاں الہ آباد کنگن پور چھانگا مانگا میں آٹا نہ ملنے کی وجہ سے شہریوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے، آٹا شہریوں کی پہنچ سے دور ہو گیا۔شہری صبح صبح شدید دھند اور سخت سردی میں دوکانوں کا رخ کرتے ہیں اور دوکانوں کے سامنے لمبی لمبی قطاریں لگا کر آٹا ملنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور شام کو آٹا ملے بغیر اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں اگر کسی کو آٹا ملتا ہے تو مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے تحصیل انتظامیہ عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے دور دراز سے آنے والے خواتین بوڑھے بچے آٹے کے لئے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے ہمارے گھروں میں آٹا نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو بھوکے پیٹ سکول بھیجنا پڑتا ہےآٹا دوکانوں سے سرکاری ریٹ فی من 2600 روپے ملتا ہے اور آٹا چکیوں سے 6000 روپے کا مل رہا ہے دوکانداروں سے اس بارے میں بات ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ملز سے مہنگے داموں آٹا خریدنا پڑتا ہے تو سستے داموں ہم کس طرح شہریوں کو آٹا فراہم کریں تحصیل انتظامیہ کے افسران بالخصوص اسسٹنٹ کمشنر چونیاں غریب شہریوں کو آٹے کی فراہمی کو یقینی بنائیں شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور اسسٹنٹ کمشنر چونیاں سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد ہمیں سستے داموں آٹا فراہم کیا جائے تاکہ ہم اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکھیں

  • آٹے کا بحران آنے والا ہے، سابق وفاقی وزیر کا دعویٰ

    آٹے کا بحران آنے والا ہے، سابق وفاقی وزیر کا دعویٰ

    آٹے کا بحران آنے والا ہے، سابق وفاقی وزیر کا دعویٰ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ پنجاب میں ابھی تک کابینہ نہیں بن سکی،

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ لوٹوں کا کیس شیطان کی آنت کی طرح ختم ہونے میں نہیں آرہا،پنجاب حکومت عارضی طور پر کام کررہی ہے،26 ارکان کو ڈس کوالیفائی کریں تو حکومت ختم ہو جائے گی ملک کا سب سے بڑا صوبہ انتظامی بحران کا شکار ہے،ملک میں آٹے کا بحران آنے والا ہے روس سے 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم لے رہے تھے،نواز شریف اینڈ کمپنی نے پنجاب کی گیس دیگر صوبوں میں بانٹ دی ،پیپلز پارٹی کے کہنے پر پنجاب کا پانی سندھ کو دیا جارہا ہے،پنجاب میں پانی کی کمی کے باعث فصلیں متاثر ہوں گی،پنجاب میں تاحال کابینہ تشکیل نہیں پا سکی عمران خان لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے،

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کو گورنر اورا سپیکر پنجاب اسمبلی تسلیم نہیں کرتے ،منحرف اراکین قومی اسمبلی بھی نہیں بچ پائیں گے پنجاب دنیا کے 10 بڑے ممالک جتنا بڑا صوبہ ہے گزشتہ روز وزیر اطلاعات نے مراسلہ تسلیم کیا اور کمیشن بنانے کا اعلان کیا،حکومت کی مرضی کا کمیشن نہیں مانتے ،امید ہے چیف جسٹس جلد کمیشن کے معاملے پر کوئی فیصلہ کرینگے ،وفاق میں بھی حکومت کے پاس اکثریت نہیں 3اراکین حکومت کا ساتھ دینے کو تیار نہیں امید ہے 20 مئی سے قبل وفاقی حکومت فارغ ہوجائے گی

    اسد عمرنے کی بجٹ کی مخالفت، غریب عوام کے دل جیت لئے

    ہمیں چور کہا جاتا ہے لیکن بتایا جائے چینی مہنگی کرکے عوام کو کون لوٹ رہا ہے؟ خواجہ آصف برس پڑے

    شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین نہیں بلکہ شریف برادران،اہم انکشافات سامنے آ گئے

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

  • قصور میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا

    قصور میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا

    قصور
    ریاست مدینہ کے دعویداروں کے وعدے دھرئے کے دھرئے رہ گئے زمیں نگل گئی یا آسماں کھا گیا آٹا بحران کا جن بوتل سے باہر حکمرانوں نے پھر سے غریب عوام کو آٹے کا گداگر بنا دیا ضلع قصور میں آٹا بحران شدت اختیار کر گیا غریب یومیہ مزدوری کرنے والی عوام بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے مزدوری ڈھونڈیں یا پورا پورا دن لائنوں میں لگ کر بلیک میں آٹا حاصل کرنے کیلئے دھکے کھائیں بے آسرا غریب عوام کی زندگی عذاب میں مبتلا ، کوئی پرسان حال نہیں جائیں تو جائیں کہاں۔
    تفصیلات کے مطابق ملک چلانا موجودہ حکومت کے بس کی بات نہیں کیونکہ آٹا بحران کا جن بوتل سے باہر ریاست مدینہ کے دعویداروں کے لئے کھلا چیلنج بن گیا ہے حکمرانوں  نے پھر سے غریب عوام کو آٹے کا گداگر بنا دیا آٹا بحران پھر سے شدد اختیار کر گیا ہے غریب یومیہ مزدوری کرنے والی عوام بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے مزدوری ڈھونڈیں یا پھر پورا پورا دن لائنوں میں لگ کر بلیک میں آٹا حاصل کرنے کیلئے دھکے کھائیں بے یارو مددگار، بے آسرا غریب عوام کی زندگی عذاب میں مبتلا ہو چکی ہے اور کوئی پرسان حال نہیں جائیں تو جائیں کہاں علاوہ ازیں دیگر ضروریات زندگی کے زیر استمال ادویات، کھانے پینے کی تمام تر اشیاء سبزی، دالیں، دودھ دہی، چینی، چائے پتی، پھلوں میں آئے دن قیمتوں میں عدم استحکام اور مسلسل اضافے کے باعث راتوں رات قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں پیاز، ٹماٹر، لہسن ، ادرک، لیمن دیگر مثالہ جات، کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے غریب کی کمر ٹوٹ گئ یومیہ دیہاری دار مزدور اپنے بچوں کو دال روٹی مہیا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ غریب عوام کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں شہر کے مختلف علاقوں، کوٹ فتح دین، کوٹ اعظم خان، شہباز روڈ، جناح کالونی، غوثیہ کالونی، روڈ کوٹ، پرانا لاری اڈا،قادر آباد، ڈنگی پورہ، بستی چپ شاہ،کالج روڈ، کوٹ عثمان خان،کوٹ رکن دین خان، دوسہرا گراؤنڈ، موری گیٹ،کوٹ غلام محمد خان،کوٹ علی گڑھ، کوٹ قتل گڑھی،بھسرپورہ، بستی صابری، کوٹ مراد خان، بستی چراغشاہ،بستی برات شاہ۔سلامت پورہ۔روڈ کوٹ دیگر علاقوں میں آٹے کی عدم دستیابی سے عوام شدید ذہنی و جسمانی پریشان میں مبتلا ہو چکی ہے متاثرہ شہریوں، عوامی، فلاحی، سماجی سربراہان، سول سوسائٹی حلقوں، ڈسڑکٹ بار کے سینئر وکلاء نے حکام بالا، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈیوٹی مجسٹریٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی بحران پر قابو پایا جائے یہ ریاست کی زمہ داری ہے کہ عوام کو فوری ریلیف دیتے ہوئے خود ساختہ مہنگائی کو روکا جائے اور سرکاری نرخوں پر آٹا اور سبزیاں فروخت نہ کرنے والے دوکانداروں کے خلاف سخت سے کاروائی عمل میں لائی جائے ریاست کیطرف سے غریب عوام کو بھی جینے کا بنیادی حق میسر ہو سکے

  • وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کی بجائے بحران کا زمہ دار جہانگیر ترین کیوں؟ محبوب اسلم

    وفاقی کابینہ کا سربراہ وزیر اعظم ھوتا ھے اور صوبائی کابینہ کا سربراہ وزیر اعلی تو پھر سارا ملبہ جہانگیر ترین پر کیسے گرایا جا سکتا ھے؟؟؟

    اھلیان پاکستان
    السلام و علیکم

    یہ سوال واقعی قابل توجہ ھے کہ جب وفاقی کابینہ اور صوبائی کابینہ میں یہ سارے چور ملکر چینی اور آٹے کا بحران پیدا کر رھے تھے اور سبسڈی اور درآمدات کی پالیسیاں منظور کروائی جارھی تھیں تو اسوقت یہ وزیر اعظم اور پنجاب کےوزیر اعلی کدھر تھے؟؟؟ صاف ظاھر ھے کہ اسکی دو ھی وجوھات ھو سکتی ھیں یا تو یہ رَج کے نااھل تھے یا اندر سے ملے ھوئے تھے!

    مجھے چونکہ کم ازکم وزیر اعظم کیساتھ کام کا تھوڑا بہت تجربہ ھے تو میرا خیال ھے کہ یہ دونوں ھی وجوھات رھی ھونگیں کہ یہ بندہ رَج کے نا اھل بھی ھے اور چوروں کی سر پرستی کا ٹریک ریکارڈ بھی رکھتا ھے۔ یقین نہ آئے تو جسٹس وجیہ الدین سے کبھی پوچھ لیا جائے!

    دوسری طرف ملبہ جہانگیر ترین پر اسلئیے گرایا جارھا ھے کہ اس کو جتنا عمران خان نے استعمال کرنا تھا وہ کر لیا اور اب اسکی ضرورت نہیں رھی۔۔۔اب وہ پرانی والی بات کہاں۔۔۔اگر یقین نہ آۓ تو پارٹی کے اگر لاکھوں نہیں تو ھزاروں ایسے عمران خان کے ”ساتھی“ مل جائینگے جن کا خون چوس کر ھڈیاں عمران خان نے پھینک دیں!

    جہاں تک بات ھے رپورٹ شائع کرنے کے کریڈٹ کی تو شنود ھے کہ رپورٹ پہلے ھی میڈیا کو لیک ھو چکی تھی تو پھر آگے بڑھکر قبول کرنے کے علاوہ چارہ کچھ بچا نہ تھا وگرنہ اگر عمران خان نے کرپشن کا قلع قمع کرنا ھوتا تو خسرو بختیار کو ایک گندا کچھا اتروا کر دوسرا نہ پہنایا جاتا اور یہی حال سیٹھ داؤد رزاق کیساتھ کیا گیا کہ ان ساروں نے خوب پیسہ بنایا اور
    جواب میں صرف انکی وزارت بدل دی گئی۔۔۔

    شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
    رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی!!!

    باقی رھی مونس الہی کی بات تو وھاں تک تو مجال کس کی ھے کہ یہ خاندان بوٹ والوں کا سدا وفادار ھیں بقول چوھدری صاب ھن مٹی پاؤ تے آگاں ودو؟؟؟

    لیکن معاملہ اتنا آسان بھی نہیں ھے کیونکہ آخر پارلیمانی نظام حکومت میں کابینہ کا فیصلہ وزیر اعظم کی مرضی سے آگے چلتا ھے تو پھر بہرحال آخری ذمہداری تو عمران خان کی ھی بنتی ھے اِدھر ادھر کی جتنی بھی ھانک لیں آخر تو ذمہداری سیلیکٹڈ کی ھی بنتی ھے؟؟؟

    اور یہ معاملات اگرکورٹ تک پہنچتے ھیںں تو پھر ان معاملات کا کھرا وھاں جا کر ملیگا جہاں اقتدار کی طاقت ھے کہ جتنا بڑا اختیار اتنی ھی بڑی ذمہداری۔۔۔لیکن یہ عمران خان کی پرانی عادت ھے کہ اختیار اور پاور تو انجوائے کرو اور ذمہداری ھمیشہ دوسروں پر ڈالو۔۔۔یوں آثار تو یہ نظر آرھے ھیں کہ یہ سارا معاملہ دب جائیگاکہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں؟؟؟

    دوسری طرف کچھ بھولے بادشاہ امید لگائے بیٹھے ھیں کہ عمران خان کب استعفی دے رھا ھے۔۔۔لیکن اسمیں انکا کوئی قصور نہیں ھے۔۔۔یقین نہ آئے تو خود عمران خان سے پوچھ لیں جو ھمیں یہ بتاتے بتاتے ھلکان ھو جاتا تھاکہ کیسے مغرب میں وزیر اعظم اپنی کابینہ کی اسطرح کی کرپشن پر استعفی دے دیتے ھیں؟؟؟

    لیکن صاحب۔۔۔ھماری قوم کے یہ نصیب کہاں؟ کہاں ھم ایک اسلامی جمہوری مملکت اور مدینہ کی ریاست اور کہاں وہ کافر مغربی ممالک؟؟؟ بھلا جس وزیر اعظم اور سپہ سالار کی ضامن جید ”علما“ کی آنسوؤں کی لڑی ھو اسے کونسی غیرت استفعی پر راضی کر سکتی ھے۔۔۔لا حول پڑھیں صاحب لا حول؟؟؟

    اللہ ھی پاکستان کا حامی و ناصر ھو۔۔۔ھم نے تو کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی؟؟؟

    دعا گو
    محبوب اسلم

  • قصور میں آٹے کا بحران برقرار انتظامیہ دعوے کرنے میں مصروف

    قصور میں آٹے کا بحران برقرار انتظامیہ دعوے کرنے میں مصروف

    قصور
    آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا روزانہ کی بنیاد پر ایک، دو کلو خریدنے والے مزدور سخت متاثر ضلعی انتظامیہ دعوے کرنے میں مصروف
    تفصیلات کے مطابق قصور میں آٹے کا بحران سخت شدت اختیار کر چکا ہے پورے قصور شہر میں 3 سے 4 جگہوں سے آٹا مل رہا ہے وہ بھی گھنٹوں لائن میں لگ کر اس کے علاوہ قصور شہر کی سب سے بڑی فلور مل اتفاق رولر فلور مل نے شہریوں و دکانداروں کیلئے داخلہ بند کر رکھا ہے ایسے میں سب سے زیادہ متاثر غریب دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوا ہے جو روزانہ ملنے والی دیہاڑی سے ایک، دو کلو آٹا خرید کر اپنا وقت گزارتے ہیں ایک 20 کلو کا تھیلہ جو کہ ان کے 5 ،7دن کا خرچ ہے اسے حاصل کرنے کا مطلب ہے 700 روپیہ کی دیہاڑی ضائع کرنا اسی لئے زیادہ تر لوگوں نے تندور سے روٹی خریدنا شروع کر دی ہیں آٹے کی قلت کی بدولت تندور والوں نے روٹی کا وزن بہت کم کر دیا ہے ضلعی انتظامیہ قصور بلند و بالا دعوے کرنے تک محدود

  • قصور میں آٹے کا بحران

    قصور میں آٹے کی مصنوعی قلت قیمتیں پھر بڑھ گئیں
    تفصیلات کے مطابق قصور شہر کی سب سے بڑی نجی اتفاق فلور مل کھارا روڈ نے قصور کے تاجروں کو خوار کرنا شروع کر دیا ہے تاجروں سے ہفتہ پہلے پیسے وصول کئے جاتے ہیں اور پھر اپنی مرضی کے مطابق آٹا دیا جاتا ہے تاجر مجبور ہو کر لاہور اور دیگر شہروں سے آٹا خرید رہے ہیں جس کی بدولت کرایہ کی آڑ میں تاجر 10 کلو آٹے کا تھیلا 410 روپیہ کے بجائے 440 روپیہ کا فروخت کر رہے ہیں تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں قصور سے ہی آٹا ملے تو ہمیں باہر سے آٹا نا منگوانا پڑے اور نا ہی ہمارا کرائے کی مد میں اضافی خرچ ہو لہذہ ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی فلور ملوں کی مانیٹرنگ کرے اور انہیں قصور شہر کو آٹا مہیا کرنے کا پابند بنائے
    جبکہ دوسری جانب آٹا چکی مالکان 1900 روپیہ فی من آٹا فروخت کر رہے ہیں اور فلور مل کا آٹا 1760 روپیہ فی من فروخت ہو رہا ہے جبکہ سرکاری قیمت 1620 روپیہ فی من ہے لوگوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اور ڈی سی قصور سے نوٹس لے کر کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • سیاسی آٹامافیا،پیداکردے گابحران،ذمہ دارہوگا عمران خان ؟

    لاہور:سیاسی آٹآمافیا،پیداکردے گابحران،ذمہ دارہوگا عمران خان ؟حکومت کے خلاف اپوزیشن نے ایک اورکارڈ کھیلنے اور بدنام کرنے کے لیے آٹامافیا کے ساتھ مل کرعارضی بحران پیدا کیا جائے گا ، بظاہرعام مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں اضافےکےسبب آٹےکےبحران کاخدشہ، دوسری طرف اس بحران سے نبٹنے کے لیے محکمہ خوراک کی خصوصی ٹیموں نےمارکیٹ میں آٹےکی موجودگی اور قیمت کا جائزہ لینا شروع کردیا۔

    اردوکے شہر میں انگریزی کا راج—از…..فا طمہ قمر

    مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں خودساختہ اضافےکےسبب لاہورسمیت صوبہ بھر میں آٹے کے بحران کا خدشہ ہے، اس صورتحال کےپیش نظروزیرخوراک سمیع اللہ چوہدری کی ہدایت پرمحکمہ خوراک کی خصوصی ٹیموں نےمارکیٹوں میں سروے شروع کردیا ہے، ٹیموں کی جانب سےدکانوں پرسرکاری قیمت آویزاں کرائی جارہی ہے، سرکاری نرخنامےمیں بیس کلوآٹےکےتھیلےکی قیمت 808 روپےمقرر ہے جبکہ عام مارکیٹ میں آٹےکاتھیلا 815 سے820 روپے میں فروخت ہورہاہے۔

    مولانا فضل الرحمن کے ساتھی مفتی سلطان محمد قاتلانہ حملے میں زخمی

    غلہ منڈی میں گندم کی فی من قیمت1600روپےتک پہنچ گئی۔ فی من گندم کی سرکاری قیمت 1375 روپےمقررہے، فلورملز نےمحکمہ خوراک سےمقررکردہ کوٹہ بڑھانےکا مطالبہ بھی کردیاہے، محکمےکی جانب سےہر مل کو45 بوریاں فی چکی فراہم کی جارہی ہیں، اہم ملزنےفی چکی 60 بوریاں فراہم کرنےکامطالبہ کیاہے۔

    ہسپتالوں میں مریض‌،سڑکوں پرمسافررسوا:حق دیتے نہیں مانگتے ہیں یہ نام نہاد مسیحا