Baaghi TV

Tag: آپریشن

  • لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل

    لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل

    لاہور میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل نے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے-

    لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو اسکینڈل نے تہلکہ مچا دیا، جہاں دورانِ آپریشن ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کی ویڈیوز بنانے کا انکشاف سامنے آیا، نہ صرف طبی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ ڈاکٹرز کے درمیان مبینہ مقابلہ بازی نے مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

    معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ایک سیکیورٹی گارڈ کے مبینہ طور پر مریض کو اسپائنل اینستھیزیا دینے کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جو کہ صرف ماہر ڈاکٹر کا کام ہوتا ہےیہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، مریضوں کی پرائیویسی اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

    واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایم ایس اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے جواب طلب کر لیا، جبکہ متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو معطل کر دیا گیا ہے 5 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر ختم کر دی،یہ اقدام پالیسی اینڈ پروسیجر مینوئل کی شق 13.2 کے تحت غفلت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اٹھایا گیا۔

    متاثرہ ڈاکٹرز میں ڈاکٹر طیبہ فاطمہ، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر آمنہ رشید شامل ہیں، جبکہ معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کو بھی بھجوا دیا گیا ہے ادھر شہری جنید ستار بٹ ایڈووکیٹ نے پولیس میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ مریضوں کے وقار اور اعتماد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔

  • قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

    قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں کارروائی کی، جس کا ہدف بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے۔

    انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس آپریشن کے دوران فورسز نے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اس موقع پر دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والا کمپاؤنڈ، جو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کام کر رہا تھا، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں اسے کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

    اس سے قبل گزشتہ روزحکومتِ بلوچستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 39 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے نام، تصاویر اور کوائف اخبارات میں شائع کر دیے ہیں کوئٹہ سے شائع ہونے والے بڑے اخبارات کے صفحہ اول پر نصف صفحے کے اشتہار میں ان افراد کے سروں کی قیمت مقرر کرتے ہوئے مجموعی طور پر ایک ارب 38 کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اشتہار میں شامل افراد کے نام، عرفیت، مستقل اور عارضی پتے اور تصاویر جاری کی گئی ہیں، جبکہ ان کے بارے میں مستند اور قابلِ عمل معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 5 لاکھ روپے سے لے کر 25 کروڑ روپے تک انعام مقرر کیا گیا ہے۔

  • دیر بالا :پولیس اور سی ٹی ڈی کا  کامیاب آپریشن، 5 خوارج ہلاک،  8 پولیس اہلکار معمولی زخمی

    دیر بالا :پولیس اور سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، 5 خوارج ہلاک، 8 پولیس اہلکار معمولی زخمی

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں پولیس اور سی ٹی ڈی نے فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 5 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    دیر بالا کے علاقے دو بندو سلام کوٹ میں ٹارگٹڈ آپریشن فتنہ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، آپریشن میں دہشت گردوں کے ساتھ سلام کوٹ کے مقام پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 5 دہشت مارے گئے، ہلاک ہونے والے 4 دہشتگرد کی لاشیں بھی مل گئیں، ایک لاش علی الصبح ملی، 3 لاشیں کچھ دیر قبل دیر ہسپتال لائی گئیں،فورسز کے آپریشن کے دوران ایک شہری بھی جاں بحق ہوا، جب کہ 8 پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے، جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    یہ دہشتگرد کچھ روز قبل پولیس پر حملے میں ملوث تھے، مقامی آبادی بھی اس آپریشن میں پولیس کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے اور فورسز کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا جا رہا ہےآپریشن کے دوران جاں بحق ہونے والے شہری کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کی گئی۔

    خیبر پختونخوا سیلاب، پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کامیاب ٹارگٹڈ آپریشن پر پولیس کے افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے، کہا کہ پولیس کے بہادر جوان پاک سرزمین کی حفاظت کے لیے چوکس ہیں، دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک پولیس اپنے فرائض تندہی سے انجام دیتی رہے گی۔

    آئی جی ذوالفقار حمید نے جوانوں کے جذبے، دلیری اور بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوان وطن کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں، اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ان کا عزم آہنی ہے، ہمیں اپنے جوانوں پر فخر ہے۔

    ہنگو، ایف سی قافلہ پر حملہ،3 اہلکار شہید،17 زخمی

  • کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم کے علاقے بگن میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے متاثرین کے لیے ہنگو میں عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان افراد کو مناسب پناہ گزینی اور امدادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان نے میڈیا کو بتایا کہ بگن سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے محمد خواجہ کے علاقے میں عارضی کیمپ قائم کیا جائے گا۔ اس کیمپ میں سیکڑوں ایکڑ اراضی پر ہزاروں خاندانوں کے لیے خیمہ بستی قائم کی جائے گی۔ کیمپ میں رہائش کے علاوہ دیگر سہولتوں کا بھی انتظام کیا جائے گا، جن میں اسکول، مساجد، بی ایچ یو (بنیادی صحت مرکز) اور دیگر ضروری سہولتیں شامل ہوں گی۔ڈی سی ہنگو گوہر زمان نے مزید بتایا کہ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے خیموں اور دیگر امدادی سامان کے 22 ٹرک فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے 4 ٹرک کا سامان ہنگو کی ضلعی انتظامیہ کو موصول ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے کیمپ کے قیام کے لیے کام شروع کر دیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر پناہ اور ضروری اشیاء فراہم کی جائیں گی۔

    ڈی سی ہنگو نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کرم کے متاثرین کو جو نقل مکانی کر چکے ہیں، انہیں تمام تر سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور وہ ایک محفوظ ماحول میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔

    یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گزشتہ دنوں کرم کے علاقے بگن میں کھانے پینے کا سامان لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا۔ حملے کے بعد حکام نے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بحال کیا جا سکے اور مقامی عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    کمشنر اور آر پی او کوہاٹ کا کُرم کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرم میں پائیدار امن کے لیے کوہاٹ معاہدہ تاریخی معاہدہ ہے۔ کرم میں بلا تفریق امن دشمن عناصر کے خلاف قانون حرکت میں ہے۔ کرم میں شر پسندوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ کوشش ہے کہ کرم میں انسانی المیہ پیدا نہ ہو۔شر پسند کرم عوام میں گھل مل گئے ہیں۔ کرم میں فریقین امن کے لیے پر عزم ہیں۔ امن معاہدے پر ہر صورت عمل درآمد کرائیں گئے، سوشل میڈیا کے ذریعے شر پھیلانے والوں کے خلاف بھی کاروائی کر رہے ہیں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن دہشت گردوں اور امن دشمنوں کے خلاف ہے

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    بھارت مالیاتی فراڈ کا مرکز ، عالمی سطح پر بڑھتے دھوکہ دہی کے واقعات

  • پنجگور آپریشن، مسنگ پرسن کا  ڈرامہ بے نقاب، ایک اور مسنگ پرسن دہشتگرد نکلا

    پنجگور آپریشن، مسنگ پرسن کا ڈرامہ بے نقاب، ایک اور مسنگ پرسن دہشتگرد نکلا

    پنجگور میں حالیہ آپریشن نے ایک ایسا چہرہ بے نقاب کیا ہے جو پہلے "مسنگ پرسن” کے طور پر پیش کیا گیا تھا، مگر حقیقت کچھ اور ہی نکل کر سامنے آئی۔

    ذاکر عبدالرزاق، جس کی گمشدگی کا ڈرامہ رچایا گیا تھا اور بعد میں اس کی "گھر واپسی” کو پروپیگنڈے کا حصہ بنایا گیا تھا، دراصل ایک دہشتگرد تنظیم کا رکن تھا اور اس کا "مسنگ” ہونا صرف ایک جھوٹا دعویٰ تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ذاکر عبدالرزاق کبھی مسنگ نہیں ہوا،اس کی گمشدگی کے دعوے کے باوجود ذاکر عبدالرزاق اصل میں پہاڑوں میں چھپ کر دہشتگردوں کی صفوں میں شامل تھا۔ اس کی "واپسی” کو اس کے سہولت کاروں نے "بازیابی” کا رنگ دے کر سیکورٹی فورسز کو بدنام کرنے کی ایک گہری سازش تیار کی تھی۔

    14 دسمبر 2024 کو سیکورٹی فورسز نے پنجگور میں دہشتگردوں کے خلاف ایک کامیاب آپریشن کیا جس میں تین دہشتگرد مارے گئے۔ ان دہشتگردوں میں ذاکر عبدالرزاق کا نام بھی شامل تھا، جو اس آپریشن میں صف اول میں تھا اور جو دراصل دہشتگرد تنظیم کا حصہ تھا۔دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں نے اس آپریشن کے بعد اعتراف کیا کہ ذاکر عبدالرزاق بھی ان کے گروہ کا رکن تھا اور اس کی ہلاکت نے ان کے نیٹ ورک میں بڑا خلا پیدا کیا ہے۔ یہ اعترافات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ذاکر عبدالرزاق کا تعلق دہشتگرد تنظیم سے تھا اور اس کی "گمشدگی” کا دعویٰ محض ایک سازش تھی۔

    پنجگور آپریشن میں ذاکر عبدالرزاق کی ہلاکت کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے حامیوں کی طرف سے کیے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ یہ آپریشن نہ صرف دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ان کی جانب سے اٹھائے گئے "مسنگ پرسن” کے دعوے کس حد تک جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تھے۔سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پاکستان کی فوج دہشتگردی کے خلاف اپنے عزم میں مستقل ہے اور ملک کے امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    کوئٹہ،خود کش دھماکہ کرنیوالا ماہ رنگ بلوچ کا مسنگ پرسن نکلا

    بیلہ کیمپ میں حملہ کرنے والا ایک مسنگ پرسن نکلا

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    اب اسلام آباد سے لوگ مسنگ ہونا شروع،حکومت کیا کر رہی ہے؟ عدالت

  • آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے خلاف میدان عمل میں جانفشانی سے برسر پیکار ہیں،

    ضلع خیبر میں فتنہ الخوارج کے خلاف جاری آپریشن میں شامل پاک فوج کے بریگیڈ کمانڈرزفرنٹیئرکور کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہمیں مشن سونپا گیا کہ خوارج کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہے،دہشت گرد داخل ہوئے تو ہم نے بھر پور مقابلہ کیا، کوہ سفید میں برف پوش پہاڑ ہیں جہاں سے گزر کر دہشت گرد وادی تیراہ میں آئے، ہم نے آپریشنز میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، جوانوں نے فتنہ الخوارج کی دراندازی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا خارجی دہشت گردوں نے تیراہ میں مخفی ٹھکانے بنا رکھے تھے. فتنہ الخوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز کوشاں اور پرعزم ہے، پاک فوج کے متحرک دستوں نے خوارج کے خلاف مؤثر کارروائی شروع کی،اللہ کے فضل و کرم اور جوانوں کی بہادری کی وجہ سے ہم نے خوارج کو زبردست نقصان پہنچایا اور ان کی اعلی قیادت کو ختم کر دیا، ہمارا مشن ہے کہ آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے، دہشت گردوں کی نقل وحمل کو بھی نقصان پہنچایا ہے،یہ راستہ انتہائی کٹھن تھا لیکن ہم نے ہمت کا مظاہرہ کیا ہمارے حوصلے بلند ہیں، امن کے لئے ہماری کوشش و کاوش جاری رہے گی، قوم کی دعاؤں سے اس آپریشن میں ہمیں فتح حاصل ہوئی÷

    واضح رہے کہ بیس اگست سے خارجی دہشت گردوں کی سرزمین پاکستان پر موجودگی کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ وادی تیراہ میں خوارج کی بڑی تعداد بشمول نام نہاد لشکر اسلام ، جماعت الاحرار افغانستان سے دراندازی کر کے پاکستان میں داخل ہوئی۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز کو بڑی کامیابیاں ملیں۔ ہلاک دہشت گردوں میں خوارج کا اہم سرغنہ ابو ذر عرف صدام بھی شامل ہے۔ 20 اگست سے اب تک مجموعی طور پر 37 دہشتگرد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 14 دہشتگرد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود دیگر خوارج دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • بلوچستان حملوں پر پارلیمنٹ کا بند کمرہ اجلاس بلایا جائے،رضا ربانی

    بلوچستان حملوں پر پارلیمنٹ کا بند کمرہ اجلاس بلایا جائے،رضا ربانی

    سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے پیش نظر پارلیمنٹ کا مشترکہ بند کمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا

    رضا ربانی نے بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور سویلینز پر حالیہ حملے ملک میں عدم استحکام کے لیے کیے گئے، ایسی کارروائیاں کامیاب نہیں ہوں گی،حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے، بند کمرہ اجلاس میں پارلیمنٹ کو دہشت گردی بڑھنے سے متعلق بریفنگ دی جائے،قوم تمام اقسام کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز کے ساتھ کھڑی ہے، قوم کی مدد سے دہشت گردی کو شکست دی جائے گی۔

    ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ دہشت گردوں کا اصل ہدف بلوچستان کی ترقی ہے۔ سی پیک کے ترقیاتی پراجیکٹس کی بحالی ملک دشمن عناصر کو کھٹک رہی ہے۔ جیسے جیسے سی پیک منصوبہ تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے دہشت گردانہ کارواٸیاں تیز ترین ہوتی جا رہی ہیں۔ بولان کے ریلوے ٹریک کا پل تباہ کرنا بھی دہشت گردوں کے مذموم عزاٸم واضح کرتا ہے۔ ماہ رنگ باز کا مسنگ پرسنز اور بلوچی حقوق کا رنڈی رونا تو بس ایک بہانہ ہے۔ بلوچستان کو ان دہشت گردوں نے کھنڈرات بنانا ہے۔

    https://twitter.com/abira_0/status/1828415516525883900

    سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جس طرح 25 اور 26 کی رات نسل اور زبان کی بنیاد پر قتل عام ہوا ہے یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ ایک بلوچی کے طور پر میرا چہرہ بری طرح مسخ ہوا ہے اور یہ طعنہ آنیوالے برسوں تک میرے ساتھ جڑا رہے گا کہ رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر مارا گیا۔ میں اس تکلیف کو نہیں بھول سکتا،یہ ایک بہت بڑا ظلم ہوا ہے، میرا خیال تھا کہ ہاؤس اس پر بات کرے گا لیکن قومی اسمبلی میں کسی نےبات نہیں کی،یہاں سینیٹ میں بھی بات نہیں ہو رہی،کیا یہ وقت آ گیا ہے ، ہم کتنے گرگئے ہیں کہ ایسے واقعات پر خاموش رہیں، جو مزدوری کرنے گئے تھے وہ مار دیئے گئے، ہم نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، جب اس طرح قتل عام ہو گا تو وہاں کوئی کاروبار نہیں کرنے جائے گا ،وفاقی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں.

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • شمالی وزیرستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائی،دو دہشتگرد جہنم واصل،کیپٹن اسامہ شہید

    شمالی وزیرستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائی،دو دہشتگرد جہنم واصل،کیپٹن اسامہ شہید

    شمالی وزیرستان، پاک فوج کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پاک فوج کے جوان کیپٹن اسامہ بن ارشد وطن عزیز پر قربان ہو گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری تھا، دہشت گردوں کے ٹھکانے کا پتہ لگایا گیا جس کے بعد سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ ہوئی،فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو دہشت گرد جہنم واصل ہوئے ہیں ، دوسری جانب دہشت گردوں کی فائرنگ سے کیپٹن اسامہ بن ارشد شہید ہو گئے ہیں،کیپٹن محمد اسامہ قیادت کرتے ہوئے بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہیں،کیپٹن محمد اسامہ کا تعلق 14ویں ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) پاکستان آرمی سے تھا.

    دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا-صدر مملکت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کیپٹن اسامہ بن ارشد کی جنوبی وزستان میں شہادت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہارکیا اور کہا کہ قوم کیپٹن اسامہ کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی-ہم اپنے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو وطن کے دفاع کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں-دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا-صدر مملکت نے شہید کیپٹن اسامہ کے لیے دعاء مغفرت، ورثاء کے لیے صبر جمیل کی دُعاکی.

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیرستان میں دہشتگردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن اسامہ بن ارشد کی شہادت پر شدید رنج و الم کا اظہارکیا،وزیراعظم نے شہید کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعاکی،

    کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد نے وطن کی حفاظت کی خاطر جام شہادت نوش کیا۔چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی ورشہید کیپٹن کے بلندی درجات کی دعا کی ہے۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد نے وطن کی حفاظت کی خاطر جام شہادت نوش کیا۔پوری قوم کو اپنے شہداء پر فخر ہے۔امن کے دشمنوں کو اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وطن کیلئے دھرتی کے ان بہادر ثپوتوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانی اور مالی قربانیاں دیں ہیں ۔ دہشت گرد پوری انسانیت کے قاتل ہیں دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہماری سیکیورٹی فورسز بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہیں دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے ایک صفحے پر ہیں.

    شہید کیپٹن محمد اسامہ جیسے بہادر بیٹے پاکستان کا فخر ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےشمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید کیپٹن محمد اسامہ نے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان وطن پر نچھاور کی۔شہید کیپٹن محمد اسامہ نے جان دے کر دہشتگردوں کے کو جہنم واصل کیا اور مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔شہید کیپٹن محمد اسامہ جیسے بہادر بیٹے پاکستان کا فخر ہیں۔قوم اپنے بہادر سپوت کیپٹن محمد اسامہ کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں نے اپنے قیمتی لہو سے امن کی آبیاری کی ہے۔

    کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد شہید قوم کا بہادر بیٹا تھا، ہماری دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا،بلاول
    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےسکیورٹی آپریشن کے دوران پاک فوج کے کیپٹن کی شہادت پر اظہارِ افسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ کیپٹن محمد اسامہ بن ارشد شہید قوم کا بہادر بیٹا تھا، ہماری دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا،سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے دے کر دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہے ہیں،پاکستانی قوم دہشتگردوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے متحد و پرعزم ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید کیپن کے اہلخانہ سے دلی تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا ہے

    ژوب،ایک ماہ میں 29 دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

     

  • امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    امریکی کانگرس کی قرارداد 901 کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ آپریشن گولڈ سمتھ کا ایک حصہ ہے۔جس کا مقصد پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد 901 پیش کی گئی تھی جو پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کی حمایت کیلیے تھی، یہ قرارداد ریپبلکن سینیٹر رچرڈ میک کارمک نے گزشتہ برس 30 نومبر 2023 کو پیش کی تھی۔امریکی سینیٹر کی اس قرار داد کو 21 مارچ 2024 کو امریکی کمیٹی برائے خارجہ امور میں بحث کے لئے بھیجا گیا تھا،جس کے بعد 24 جون 2024 کو قرارداد کو ایوان میں غور کے لیے پیش کیا گیا ،امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد 901 کی وقفے وقفے سے ٹیبلنگ کے اوقات کافی دلچسپ ہیں ، قرارداد 901 میں پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ بھی کسی صورت درست نہیں ہیں،اصل میں یہ قرارداد ترقی کرتے پاکستان کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش و سازش ہے

    امریکی کانگریس کی قرارداد 901 "آپریشن گولڈ اسمتھ 2.0” کی ایک کڑی نظر آتی ہے،جو کہ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو نشانہ بنانے والی بدنامی کی مہم ہے، جس کا آغاز ایک سیاسی جماعت نے کیا تھا اور وہی ان سارے عوامل کے پیچھے ہے، حقائق کے برعکس بات کرنا، پروپیگنڈہ پھیلا کر قرارداد 901 کا مقصد جمہوریت اور انسانی حقوق کے شعبوں میں پاکستانی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بے بنیاد شکوک و شبہات کو جنم دینا ہے۔

    حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی رکھنے والا ملک ہے، پاکستان میں 8 فروری کو رواں برس پرامن انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں حکومت تشکیل میں آئی جو جمہوریت کے روح کے مطابق کام کر رہی ہے، حکومت بجٹ پیش کر چکی ہے.پاکستانی معیشت سنبھل رہی ہے، مہنگائی میں کمی ہو رہی ہے، جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے،تو پاکستان میں انسانی حقوق کے حالات پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک سمیت پاکستان قدرے بہتر ہے.

    پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی حکومت کو مکمل حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے، دہشت گردوں، انکے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان نے ابھی چند دن قبل ہی آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے.

    فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی سیاسی حکومت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سخت معاشی اقدامات کے ذریعے ڈالر کے غیر قانونی بہاؤ، اسمگلنگ اور کارٹیلز کی اجارہ داری کو کنٹرول کرنے میں کامیابی ہوئی ہے۔ نتیجتاً، فصلوں کی پیداوار کی سطح میں بہتری آئی ہے، افراط زر میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے اور تمام معاشی اشاریے تیزی کا رجحان دکھا رہے ہیں۔ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج تاریخ میں پہلی بار 78 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گئی۔ معروف اقتصادی ویب سائٹ بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی 27 فیصد اسٹاک ریلی ایشیا میں آگے ہے اور اس سال کے آخر تک 10 فیصد مزید اضافہ متوقع ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا تجربہ کامیاب رہا ہے، جس کا منافع اپنے قیام کے ایک سال کے اندر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت پاکستان ریاست اور اس کے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ عوام اور افواج کے درمیان سماجی معاہدہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے حوالہ سے قرارداد اسرائیل اور بھارت نواز رکن کانگریس کے ذریعے جمع کروائی گئی، امریکی قرارداد جس شخص نےامریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی، اِس شخص کا نام رچ میک کارمک (Rich McCormick) ہے۔ یہ کانگریس میں امریکہ میں اسرائیلی لابی کو کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران اِس نے اپنی ایک ٹویٹ میں اسرائیلی بربریت کی کھلم کھلا سپورٹ کی اور فلسطینی مسلمانوں کو برائی سے تشبیہ دی ہے ،آج کل یہ شخص پی ٹی آئی کا سب سے بڑا لابیسٹ ہے۔ پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ اپنی ریاست کے خلاف اِس سازش کو سمجھیں، اور اپنے گردو نواح اُن لوگوں کو پہچانیں جو اِس سازش کے آلہ کار ہیں اور پاک فوج کو کمزور کر کے پاکستان کو عراق اور لیبیا بنانا چاہتے ہیں۔

    یہ لابی پہلے سے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف ہے جس کا پی ٹی آئی سے براہ راست گٹھ جوڑ ہے،امریکہ میں ایک لابسٹ فرم کی خدمات بھی اسی سلسلے میں حاصل کی گئی تھیں جس نے 9 مئی کو فالس فلیگ آپریشن ثابت کرنے والی رپورٹ چھپوانے کیلئے ایک امریکی سینیٹر کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کئے۔ آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالے سے باتیں سوشل میڈیا پر پہلے ہی زیر گردش ہیں، خبریں اور تجزیئے شائع کرانا آپریشن گولڈ سمتھ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی مخصوص سیاسی جماعت نے 25 ہزار ڈالر ماہانہ کے عوض امریکی فرم کی خدمات حاصل کیں،بیرون ملک مخصوص جماعت کے حامی پاکستان میں انتخابات سے متعلق گمراہ کن پراپیگنڈہ کر تے رہے، مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے تمام حدیں پار کر چکی۔ آپریشن گولڈ سمتھ کا مقصد پاکستان پر سفارتی اور انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے دباؤ بڑھانا ہے۔

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے اب آپ دیکھیں گے کہ عنقریب پاکستان کے میڈیا میں آپ کو خبریں آئیں گی ایک اور پینڈورا باکس کھلے گا ایک طوفان بدتمیزی مچایا جائے گا آن لائن ہو گا پاکستان میں نہیں ہوگا پہلے باہر ہو گا اور اسی سے آپ کڑیاں ملا سکتے ہیں پہلے باہر ہو گا پھر پاکستان میں آئے گا پھر ٹی وی پر ہم بحث کریں گے مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں آپریشن گولڈسمتھ انتشار پھیلائے گا اور لوگوں کو مزید کنفیوز رکھے گا لوگ اب جو سیٹل ہونا شروع ہو گئے ہیں امیدیں بننا شروع ہو گئی ہیں کہ اب گورننس بہتر ہو رہی ہے،ان میں انتشار پھیلے گا-

  • آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام، وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ اعلان کردہ وژن کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات سے کیا جارہا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز میں نوگو ایریاز میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ان کارروائیوں کےلیے مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ضرورت تھی، اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں اور دہشت گردوں کی پاکستان میں منظم کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کو شکست دی جا چکی ہے، بڑے پیمانے پر کسی فوجی آپریشن پرغور نہیں کیا جا رہا ہےجہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہوگی، عزم استحکام پاکستان میں پائیدارامن واستحکام کےلیے ایک کثیر جہتی وژن ہے، عزم پاکستان مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے جس کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کےنفاذ میں نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے، عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے، قومی ایکشن پلان سیاسی میدان میں قومی اتفاق رائے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردوں کی باقیات، سہولت کاری اور پرتشدد انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، عزم استحکام سے ملکی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے مجموعی طور پر محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے گا، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے سے شروع کیے گئے اس مثبت اقدام کی پذیرائی کرنی چاہیے، تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ اس موضوع پر غیر ضروری بحث کو بھی ختم کرنا چاہیے۔

    سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کے لئے نہیں پاکستان کیلئے سٹینڈ لیں، وزیر دفاع
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کا موازنہ ضرب عضب ،راہ نجات اور ردالفساد سے کیا جارہا ہے لیکن ان آپریشنز کی نوعیت مختلف تھی مگر مقاصد ایک ہی تھے اور یہ آپریشن بھی دہشتگردوں کے خلاف ہے جس کا آغاز کیا جائے گا، تین جماعتیں ووٹ بینک محفوظ رکھنے کے لیے آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں، ووٹ بینک کے لیے نہیں ملک کے لیے اسٹینڈ لیں، اپوزیشن جماعتوں کی تشویش ضرور دور کریں گے، آپریشن پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، آپریشن کے سیاسی عزائم نہیں، مقصد دہشت گردی کی لہر ختم کرنا ہے، آپریشن کا فوکس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہو گا

    تحریک انصاف دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایپکس کمیٹی میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا، صوبوں کو مالی مدد کرنا ہو گی، عدلیہ نے قومی سلامتی کی کوشش میں سپورٹ نہ کیا تو آپریشن مؤثر نہیں رہے گا، تحریک انصاف کے دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، دہشت گردوں کی واپسی تباہی لے کر آئی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے کہا تھا وزیرِ اعظم کے کہنے پر قدم اٹھا رہے ہیں، ماضی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے گا، اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اس وقت اور آج کل صورتِ حال میں بہت فرق ہے، فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردوں کا قبضہ ہوچکا تھا، فاٹا کے علاقے نوگو ایریاز بن چکے تھے، آج ایسی صورتحال نہیں،ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان میں بی ایل اے رات کے وقت کارروائی کرتے ہیں، سوات میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی تھی،پانچ چھ ہزار دہشت گروں اور طالبان کو یہاں بسایا گیا، طالبان کے مشہور لیڈروں کو معافی بھی دی گئی، اس اقدام سے تباہی آئی، امن نہیں آیا، امن پارہ پارہ ہوا، آپریشن عزم استحکام کے حوالہ سے بیورو کریسی اور میڈیا کی حمایت کی بھی اشد ضرورت ہوگی، پچھلے آپریشن میں نقل مکانی ہوئی تھی، یہ آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے، ہم نے دونوں جنگیں امریکی تحفظات کے لیے لڑیں، ردالفساد اور ضرب عضب کے بعد امن قائم ہوا تھا.

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی