عمران خان دی بندہ کی عزت کرسکدا اے….فواد چودھری کی آڈیو لیک
تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کی نئی آڈیو لیک ہوئی ہے، آڈیو لیک کا سلسلہ رکا نہیں بلکہ جاری ہے، فواد چودھری کی نئی آڈیولیک میں فواد چودھری تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان دی بندہ کی عزت کرسکدا اے جو لیڈر روز اپنی بات بدل لے
فواد چودھری نے لیکڈ آڈیو میں کہا کہ یہ کوئی پارٹیاں ہیں، مجھے بتائیں کوئی ایک پارٹی ہے جس میں سڑکچر ہو،اور میرٹ کے اوپر ہے لیڈرلیڈر روز اپنے ویژن چینج کر لی، اوپر پرابلم ہے،آڈیو میں مزید کیا کہا گیا، سنئے،
واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان کی کئی آڈیو سامنے آ چکی ہیں، عمران خان کی خفیہ پلاننگ، عمران خان کے یوٹرن سب سامنے آ چکے ہیں، عمران خان کی امریکی سازش کا تانے بانے بھی آڈیو نے کھول کر رکھ دیئے، عمران خان کا کردار انکی آڈیوز نے بے نقاب کر دیا ہے، ایک طرف سینیٹ میں خریدوفروخت کی انہوں نے مخالفت کی دوسری جانب انکی ایک ایسی آڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ خود خریدوفروخت کی بات کر رہے ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کی آڈیو لیک ہوئی ہے
صحافی غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مونس الہیٰ کی آڈیو ٹویٹ کی ہے اور ساتھ پیغام میں لکھا ہے کہ مونس الہی کی مبینہ آڈیو لیک!!! مونس الہی کی چوہدری وجاہت حسین سے مبینہ گفتگو؛ قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ؛ ق لیگ کی 80 سالہ بزرگ MNA مسز فرخ کو اغوا کر لینے/غائب کر دینے کی پلاننگ
مونس الہی کی مبینہ آڈیو لیک!!!
مونس الہی کی چوہدری وجاہت حسین سے مبینہ گفتگو؛
قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ؛ ق لیگ کی 80 سالہ بزرگ MNA مسز فرخ کو اغوا کر لینے/غائب کر دینے کی پلاننگ۔۔!!! pic.twitter.com/BGwzQrMeDE
بعد ازاں غریدہ فاروقی نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مونس الہی سے متعلق مبینہ آڈیو لیک! اس مبینہ آڈیو میں آواز موسٰی الہی کی ہے جو مونس الہی سے متعلق بات کر رہے ہیں۔
دوسری جانب غریدہ فاروقی کے دعوے کے برعکس کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری وجاہت کی اپنے بیٹے حسین الہٰی کے ساتھ گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی ہے مبینہ آڈیو میں چوہدری وجاہت کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’ووٹ کاﺅنٹ ہوگا کہ نہیں؟‘جس کے جواب میں حسین الہٰی کہتے ہیں ’جو ووٹ آف کانفیڈنس ہوگا اس میں ہمارا ووٹ تو کسی طرف نہیں آئے گا۔حسین الہٰی کہتے ہیں ’اُنہوں نے بس 186 پورے کرنے ہیں نہیں 172 پورے کرنے ہیں نیشنل اسمبلی میں، پارلیمانی پارٹی اُن کے پاس ہے، ابھی پارلیمانی لیڈر تو مونس بھائی ہیں۔،مبینہ آڈیو میں حسین الہٰی کہتے ہیں اُن کے پاس تین ہیں اور ہم دو ہیں۔‘چوہدری وجاہت حسین کہتے ہیں ’تو ایک عورت غائب کر دیں گے‘، جواب میں حسین الہٰی کہتے ہیں ’ہاں یہ ہے عورت غائب ہوجائے پھر کچھ ہوسکتا ہے۔مبینہ آڈیو میں چوہدری وجاہت حسین کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’بوڑھی عورت ہے ویسے بھی مرنے والی ہے‘، جواب میں حسین الہٰی کہتے ہیں کہ ’مونس بھائی کو آئیڈیا دیتا ہوں، عورت کو ووکیشن پر بھیج دیں۔چوہدری وجاہت حسین کہتے ہیں ’جی؟‘ حسین الہٰی دوبارہ کہتے سنے جاسکتے ہیں کہ ’مونس بھائی کو آئیڈیا دیتا ہوں، عورت کو ووکیشن پر بھیج دیں‘، جس کے جواب میں چوہدری وجاہت حسین کہتے ہیں ’اس کو غائب کرنے میں 10 منٹ لگنے ہیں اور لاہور میں کردیں گے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایک آڈیو دو روز قبل سامنے آئی ہے جس میں رازو نیاز کی باتیں ہو رہی ہیں
آڈیو پر مختلف شخصیات کا ردعمل سامنے آیا ہے، اب سابق رکن اسمبلی ، تحریک انصاف کی سابق رہنما، عظمیٰ کاردار کا ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں عظمیٰ کاردار زلفی بخاری کو کھری کھری سناتی ہیں، عظمیٰ کاردار کہتی ہیں کہ ہاں بھئی زلفی، چٹ پٹی اور مصالحے دار آڈیو بارے کیا خیال ہے، جب میری تم نے جعلی آڈیو کوسامنے لا کر واویلا اور شور مچایا تھا تواب خود بھی پارٹی سے نکلنے کا بندوبست کر لو، فرانزک کروا لو،پاکستان سے نہیں انگلینڈ سے بھی کرواؤ، اسکے بعد جو ریزلٹ آتا ہے اسکو سپریم کورٹ میں لے جاؤ تا کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے اور مجھ سے زیادہ تو بہت سی راز و نیاز کی باتیں تو تم مرشد سے کر رہے ہو بھیا، اب اپنا بستر گول کرو، الیکشن بھول جاؤ، جہاں سے آئے تھے وہیں واپس جاؤ، اب تمہارا یہاں پر کوئی کام نہیں رہا
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی مبینہ محبت بھری کال سامنے آئی ہے ،اس نئی آڈیو لیک میں السلام علیکم سے بات شروع ہو تی ہے، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے زلفی بخاری کو کال کی کیونکہ پہلے ہپلو اور سلام بشریٰ بی بی نے کیا، بشری بی بی کہتی ہیں، کیسے ہیں، آپ زلفی بخاری کہتے ہیں کہ ٹھیک ہوں، مرشد آپ کیسی ہیں، بشریٰ بی بی کہتی ہیں اللہ کا شکر ہے، خان صاحب کی کچھ گھڑیاں ہیں،انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو بھیج دوں، آپ انکو کہیں بیچ دیں، آپ ٹھیک تو ہیں،کہاں ہیں آپ ، کوئی افیئر تو نہیں چل رہا آجکل،جس پر زلفی بخاری کہتے ہیں کہ افیئر نہیں مرشد نہیں، میرا افیئر نہیں چل رہا میرا ابھی، جس پر بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ جھوٹ بول رہے ہو،زلفی بخاری کہتے ہیں کہ نہیں نہیں آپ خود چیک کر لیں، ایسا کچھ نہیں ہے ، بشریٰ بی بی زلفی بخاری کو مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ چیک، شکل سے تو لگ رہا ہے، مجھے آپ کی بات پر یقین ہی نہیں ہے،زلفی بخاری کہتے ہیں کہ نہیں وہ تو…
واضح رہے اسے قبل بھی بھی زلفی بخاری اور بشری بی بی کی مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے ،آڈیو میں بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ خان صاحب نے کہا ہے کہ ان کی کچھ گھڑیاں ہیں انہیں بیچ دیں،:گھڑیاں خان صاحب کے زیراستعمال نہیں، زلفی بخاری نے بشری بی بی کو جواب دیا کہ ضرور مرشد کردوں گا،
عظمیٰ کاردار نے انکشاف کیا ہے کہ انکی جعلی کال لیک کی سازش مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ نے کی تھینجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ میرے خلاف سازش مسرت چیمہ، جمشید چیمہ نے کی تھی، آج میں سامنے لا رہی ہوں اور چیلنج کرتی ہون، انہوں میری آواز ڈبنگ کروا کے اسکو منفی طور پراپیگنڈ ہ کیا اور ایک جعلی کال ریکارڈنگ میرے نام سے پھیلائی پروگرام میں اینکر سجاد میر عظمیٰ کاردار کو روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن عظمیٰ کاردار نہ رکیں اور مسلسل بولتی رہیں.پروگرام میں مسرت جمشید چیمہ بھی موجود تھیں، مسرت جمشید چیمہ کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے تمہارے جیسی خاتون کو پہلے ہی سمجھ لیا تھا، عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، مسرت جمشید چیمہ نے عظمیٰ کاردار کو کہا کہ باہر نکلو تو تمہیں پتہ چلے آپ نے پارٹی سے غداری کی، میں جب بات میں نہیں بول رہی تو کیوں بولا جا رہا،عوام میر جعفر بننے والوں کو پہچان چکی ہے،
میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی آڈیو لیک کا سلسلہ جاری ہے
اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے انتہائی قریبی فواد چودھری کی آڈیو لیک ہوئی ہے، فواد چودھری کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، آڈیو میں فواد چودھری کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سیاستدانوں کو فریم ورک آپس میں بنانا چاہیے فواد چوہدری نے مبینہ کال میں فون پر دوسری جانب موجود شخص کو کہا کہ وہ میرا میسج براہ راست شہباز شریف کو بھیجیں.
فون پر دوسرا شخص کون ہے اس بارے میں کنفرم نہیں ہو سکا تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری جانب موجود شخص کا نام ذوالفقار احمد ہے جو وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کا قریبی دوست ہے ذوالفقار احمد نے فواد چوہدری سے استفسار کیا کہ عمران خان کو نا اہل کیا جا سکتا ہے؟ جس کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ایسا ہو گا تو صورتحال مزید خراب ہو گی آپ میرا پیغام شہباز شریف کو بھجوا دیں
واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان کی کئی آڈیو سامنے آ چکی ہیں، عمران خان کی خفیہ پلاننگ، عمران خان کے یوٹرن سب سامنے آ چکے ہیں، عمران خان کی امریکی سازش کا تانے بانے بھی آڈیو نے کھول کر رکھ دیئے، عمران خان کا کردار انکی آڈیوز نے بے نقاب کر دیا ہے، ایک طرف سینیٹ میں خریدوفروخت کی انہوں نے مخالفت کی دوسری جانب انکی ایک ایسی آڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ خود خریدوفروخت کی بات کر رہے ہیں
آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی آڈیو لیک ہونے کے بعد انہیں خدشہ پیدا ہوا گیا ہے کہ شاید زمان پارک میں جہاں وہ رہائش پذیر ہیں وہاں بھی جاسوسی کے آلات نصب ہیں، اس لئے عمران خان کی ہدایت پر زمان پارک میں جاسوسی کے آلات کی تلاشی کے لئے خصوصی سرچ آپریشن کیا گیا ہے
زمان پارک میں عمران خان کی رہائشگاہ پر جاسوسی آلات نصب ہونے کے خدشے کے پیش نظر آپریشن میں خصوصی ٹیم نے حصہ لیا، آپریشن کے بعد عمران خان کی رہائشگاہ کو کلیئر قرار دے دیا گیا، ٹیم کے پاس سرویلنس آلات کا پتہ لگانے کے لیے جدید آلات موجود تھے
عمران خان لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد پر مبینہ حملے کے بعد زمان پارک آ گئے تھے اور ابھی تک وہیں مقیم ہیں ،عمران خان سے پارٹی رہنماؤں، کارکنان،سمیت صحافیوں کی بھی زمان پارک میں ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، پنجاب میں جاری سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے عمران خان کی رہائشگاہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے، تا ہم عمران خان کی رہائشگاہ کی جاسوسی کے حوالہ سے باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان کے "اپنے” ہی اسکی جاسوسی کروا رہے ہیں، عمران خان کے قریبی افراد کو ہی عمران خان کی جاسوسی کروا رہے ہیں، عمران خان جب بنی گالہ میں مقیم تھے تو وہاں بھی ایک ڈیوائش شہباز گل نے دکھائی تھی تو ڈیوائس عمران خان کے کمرے میں انکے قریبی افراد کے علاوہ کوئی بھی نہیں لے جا سکتا تھا، غالب امکان ہے کہ وہ ڈیوائس بھی عمران خان کے کسی انتہائی قریبی بندے نے رکھوائی تھی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما ، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ ، بشریٰ بی بی اور زلفی بخاری کی آڈیو آںے کے بعد برس پڑیں
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ یہ ہے ایمان دار عمران خان کی کہانی جن کی بیگم صاحبہ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر گھڑیوں کا کاروبار کر رہی تھیں۔۔آج بشری بی بی نے نیازی صاحب کو پکا گھڑی چور ثابت کر دیا
یہ ہے ایمان دار عمران خان کی کہانی جن کی بیگم صاحبہ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر گھڑیوں کا کاروبار کر رہی تھیں۔۔آج بشری بی بی نے نیازی صاحب کو پکا گھڑی چور ثابت کر دیا pic.twitter.com/wzEflhqq9t
ایک اور ٹویٹ میں حنا پرویز بٹ کہتی ہیں کہ مرشد پاک تو گھڑیاں بیچتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، ایک اور ٹویٹ میں حنا پرویز بٹ کہتی ہیں کہ زلفی بخاری نہ ہو گیا OLX ہوگیا، جسے مرشد پاک کہہ رہی ہیں “سب کچھ بیچ دو”. ایک اور ٹویٹ میں ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ کہتی ہیں کہ بشری بی بی کی آڈیو نے عمران خان کے گھڑی چور ہونے پر مہر ثبت لگا دی،گھڑی چور اب ذرا بھی شرم باقی ہے تو دوسروں کو چور کہنا بند کر دو کیونکہ تم خود انٹرنیشنل چور ثابت ہو چکے ہو۔
واضح رہے کہ زلفی بخاری اور بشری بی بی کی مبینہ آڈیو سامنے آ گئی ،آڈیو میں بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ خان صاحب نے کہا ہے کہ ان کی کچھ گھڑیاں ہیں انہیں بیچ دیں،:گھڑیاں خان صاحب کے زیراستعمال نہیں، زلفی بخاری نے بشری بی بی کو جواب دیا کہ ضرور مرشد کردوں گا،
خیبرپختونخوا کے سابق مشیر اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ مجھے راستے سے ہٹانے کے لئے آڈیو لیک اسکینڈل کا منصوبہ بنایا گیا اس میں 20 ویں گریڈ کا افسر بھی شامل تھا-
باغی ٹی وی : مبینہ آڈیو لیک کے شکارخیبرپختونخوا کے سابق مشیر اطلاعات نے دو سال بعد خاموشی توڑدی نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف ایڈیٹیڈ فیبریکیٹیڈ آڈیو کی سازش تیار کی گئی۔ مجھے راستے سے ہٹانے کے لئے آڈیو اسکینڈل کا منصوبہ بنایا گیا۔
اجمل وزیر نےالزام عائد کرتے ہوئے کہا ہےکہ سازش باہر کے یا چھوٹے لوگوں نے نہیں کی،گریڈ 20 کا افسر بھی سہولت کار تھا۔انکوائری 11 مہینے لٹکائی گئی،پھر اعلان ہوا کہ اجمل وزیر بے گناہ ہےان لوگوں نے جعلی آڈیو بنائی،میں اصلی ویڈیو،آڈیو اور دستاویز جلد ریلیز کروں گا مواد کا تعلق میری ذات سے ہے،جو ظلم زیادتی میرے ساتھ کی گئی۔
خیال رہے کہ اجمل وزیر کی ایک آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں وہ اشتہاری ایجنسی سے کمیشن کے معاملے پر بات کررہے تھے جس میں جی ایس ٹی اور ٹیکسز میں چھوٹ سے متعلق بات چیت کی گئی جس کے بعد وزیراعلیٰ کے پی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اجمل وزیر کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
سابق مشیر کیخلاف انکوائری میں ثابت نہیں ہوسکا تھاکہ آڈيو ٹيپ درست بھی ہے يا نہيں، انکوائری کميشن آڈيو ٹيپ کا اجمل وزير سے کوئی تعلق بھی ثابت نہ کرسکا تھا اور انہیں کلین چٹ ملی تھی۔
اس وقت اجمل وزیر نے کہا تھا کہ میرے خلاف سازش ہوئی، سازشوں نے راستہ روکنے کے لیے گھٹیا طریقہ اپنایا۔ اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کا قائل ہوں الزامات پر سامنا کروں گا۔ مختلف اجلاسوں اور بریفنگز کو ایڈٹ کرکے من گھڑت آڈیو تیار کرائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ کو ایک جگہ سے کاٹ دوسرے سرے کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آڈیو کو ایڈٹ کرکے پیش کیا گیا ہے، جس بنیاد پر یہ آڈیو بنائی گئی ہے وہ اس اشہاری کمپنی کی فہرست ہے جو ٹی وی چینل کو ملنا تھا۔ اطلاعات کے رولز کے مطابق سٹیرنگ کمیٹی کا چیئرمین اطلاعات کا وزیر ہوتا ہے، سٹیرنگ کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے جس کی صدارت وزیر صحت نے کی تھی۔
سابق مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ جس معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے میرا تعلق نہیں، اشتہار محکمہ صحت کا تھا۔ چیئرمین وزیر صحت ہوتا ہے۔ میں کمیٹی میں اعزازی ممبر تھا۔ فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اب ہیکر آگے کیا کرنے جا رہا ہے۔ کون کون سے تبدیلی سرکار کے نام نہاد لیڈروں کی Happy hours کی گفتگو منظر عام پر آنے والی ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی بہت ہی اہم اور دلچسپ معلومات شیئر کروں گا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اور بتاوں گا کہ عمران خان۔۔۔! کیسے ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہےمیرئ گزشتہ دو تین ویڈیو سے نہ صرف عمران خان بلکے تحریک انصاف کی نیندیں حرام ہوئی ہوئی ہیں، میٹنگ ہو رہی ہیں کہ اس کا منہ کیسے بند کریں ،کیسے بونکنے والوے کتوں کی تعداد میں اضافہ کریں کیسے اس پر کیچڑ اچالیں ، کیسے اس پر الزام لگائیں کہ یہ تو وزارتیں مانگ رہا تھا، یہ تو عہدے مانگ رہا تھا۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے خلاف ٹویٹر پر باتیں وہ کر رہے ہیں جو خود عمران خان کے غلام ہیں، انکے گھر کی روزی روٹی عمران خان قومی خزانے سے دلواتا ہے۔ ظاہری سی بات ہے نمک تو ہلال کرنا ہے۔ لیکن میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ بس ۔۔! بہت ہو گیا۔ ا س سے زیادہ جہالت، گمراہی، دھونس دھاندلی اور فراڈ برداشت نہیں کروں گا۔ دماغوں سے کھیلنے کا گندا دھندا بے نقاب کر کے رہون گا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اداروں کو تباہ کرنے کی بیرونی آقاوں کی چالیں چلنے والے ان ضمیر فروشوں کو ننگا کر کے چھوڑوں گا۔امریکی سی آئی اے کے ریٹائر فرموں کی بنائی ہوئی کمپین کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنو گا۔پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والوں کے خلاف سر عام جہاد کروں گا۔معصوم دماغوں سے کھیلنے والوں کے اصلی چہرے بے نقاب کروں گا۔ایک عرصے سے میں تحریک انصاف کی فسطائیٹ دیکھ رہا تھا ، ان کی کسی بھی چال کو اٹھا کے دیکھ لو اس کے پیچھے سازش اور ڈرامہ، دھونس دھاندلی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔جہانگیر ترین نے سر دھڑ کی بازی لگا دی، حکومتیں بنوا دی، جب پارٹی میں اس کا قد بڑا ہونے لگا تو اسے ہی کاٹ دیا گیا۔ وہ شوگر مافیا بن گیا۔ وہ ڈاکو بن گیا۔ علیم خان نے علم بغاوت کھڑا کیا۔ اس کی سوسائٹیوں کو واویلا شروع کر دیا، آٹھ سال اس کے پیسوں سے جلسے کرتے رہے اس وقت منافقوں کی طرح آنکھیں بند رکھی۔بشری بی بی کے ساتھ علیم خان کے پیسوں سے پروئیوٹ جہاز پر عمرہ کرنے پہنچ گئے۔مگر پھر جب اس نے چھوڑا تو وہ تو تھا ہی گندا۔۔ارکان اسمبلی چھوڑ کے گئے تو انہیں خریدنے کی کوشش کی، وہ نہ بکے تو، ان پر بکنے کا الزام لگا دیا۔ انہیں مشرک بنا دیا ان کے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیا، جو عمران خان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس کی اصلیت دیکھانے کی کوشش کرتا ہے ، اس کے حواری پہلے ہی کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ عمران خان کو گندا کرنے والے خود گندا ہوں گے۔کبھی سوچا ہے اس بات کا کیا مطلب ہے۔ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے۔ نہیں۔۔ کیونکہ انہیں پتا ہے کہ انہوں نے اب اپنے گندے دماغوں سے ان پر حملہ کرنا ہے، ان کے خلاف سازشوں کے جال بننے ہیں، ارسلان بیٹا کو فون کر کے Spoon feeding کرنی ہے، میر جعفر، میر صادق، غداری کے ٹائٹل بانٹنے ہیں۔جو ووٹر عمران خان کے ساتھ نہیں انہیں جاہل کہنا ہے، ان کے ضمیر کو سویا ہوا کہنا ہے۔ انہیں سوسائٹی سے الگ کرنا ہے۔ عمران خان کی حمایت کو فیشن بنانا ہے، لائی لگ قوم کو ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا ہے۔جنرل باجوہ ملاقات سے انکار کر دیں، ان کے نامناسب باتیں ماننے سے انکار کر دیں تو ٹویٹر پر ٹرینڈ چلانا شروع کردو۔ چندے کا پیسا سیاست میں ساکھ بنانے پر بہا و، قومی وسائل سے اپنی سوشل میڈیا بریگیڈ تیار کرنا شروع کر دو اور پھر لوگوں کو دیکھاو۔ کہ دیکھو، عمران خان کتنا مقبول ہے۔ اس قوم کے دماغوں کے ساتھ کھیل رہا ے جس نے غری آدمی کو کبھی ووٹ نہیں دیا۔جو الیکشن لڑنے والا Pradoپر نہ آ ئے وہ مقابلے سے باہر ہو جاتا ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں تو جانتا تھا لیکن اپنے ارد گرد اپنے پیاوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا تھا ، لیکن مجال ہے کوئی سمجھ آ جائے۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے نوعمری کے بچے کو غلط محبت کے نقصانات سمجھانے سے زیادہ مشکل یہ کام ہے کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ عمران خان مکاری، عیاری ، دھوکہ ، فراڈ کی چادر اوڑے ہوئے ہے۔ ا سنے نہ صرف پاکستان بلکے دنیا بھر کے آمروں کی عوام کو فریب دینے کے سارے طور طریقوں پر ریسرچ کروا کر ۔ ایک ساتھ اس معصوم قوم کے دماغوں میں فتور کی صورت میں ٹھونس رہا ہے۔ اس کی باتوں اور کاموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ باہر سے جتنا سفید ہے اندر سے اتنا ہی کالا ہے۔ ضد اس میں ہے، بدلے کی روش اس میں ہے، بے رحمی کو یہ اپنا غرور سمجھتا ہے۔قربانی دینے کا جذبہ اس میں نہیں ہے۔ اس کی خاندانی زندگی اس کی شخصیت کی عکاسی کرتی ہے، اس کی جوانی کے کرتوت اس کی اخلاقی پستی کی مشالیں دیتا ہے۔بقول محسن بیگ کے بڑھاپے میں مرشد کے گھر جاتا ہے اور مرشد کو ہی ساتھ لے آتاہے۔ اس بات پر کس کو شک ہے کہ انسان اپنی کمپنی سے پہچانا جاتا ہے۔جن کی دوست فرح گوگی اور احسن گجر ہوں، ان کے کردار کی مثالیں تو زمانہ دیتا ہے۔ لیکن یہاں ہماری آنکھیں بند ہو جاتی ہے۔ عمران خان سن لو۔۔!
تمھاری چار دن کی چاندنی تھی اب آگے صرف اندھیری رات ہے۔میں حیران تھا کہ اس نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو کیسے گمراہ کر دیا۔ لیکن پھر مجھے کسی نے وہ مثال دی کہ جب دل آتا ہے تو گدھے پر بھی آجاتا ہے۔جب تک اس کا اصل چہرہ بے نقاب نہیں ہوتا اس کی موجیں لگی رہیں گی۔ اس نے نہ صرف اداروں بلکے ہر ایک کو اپنے جھوٹ اور پراپیگنڈا سے اتنا بے بس کر دیا کہ اللہ کی پناہ۔ لیکن کہتے ہیں نہ کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ظلم جب حد سے گزر جائے تو مٹ جاتا ہے۔اللہ اس ظلم کو مٹانے کے لیے فرشتے بھیجتا ہے، اور اس دنیا میں روپ دھار کے آتے ہیں اور ظلم کو نیست و نابود کر دیتے ہیں۔عمران خان کے جھوٹ کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ دنیا میں کسی بھی جھوٹے آدمی کا مقابلہ آسان نہیں ہوتا جو بڑی بے شرمی سے منہ پر جھوٹ بول دے۔ پاکستان میں ہیکر کو اس وقت ایک فرشتہ ہی سمجھا جا رہا ہے، جس نے عمران خان کی اپنی آواز سے اس کے فریب، اس کے دھوکے، اس کے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔جو کچھ سامنے آنے والا ہے ، ابھی تو اس کا اشر اشیر بھی نہیں آیا، عمران خان جوتے چاٹے گا۔معافیاں مانگے گا۔ ہیکر سے ڈیلیں کرے گا۔ لیکن اللہ کا منظور ہوا تو جھوٹ کا چہرے نقاب ہو چکا ہے اب یہ مٹ کے رہے گا۔میں یہ سمجھتا ہوں ہوں کہ اس ملک میں گند کی سیاست ختم ہونی چاہیے، تنقید کریں لیکن تعمیری، جو اس ملک کے لیے اچھی ہو، جو اس ملک کی عوام کے لیے اچھی ہو۔ جس سے یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو یہ نہیں کہ اگر ہم اقدار میں نہیں تو ملک جائے بھاڑ میں اپنی سیاست کرو، معیشت برباد کرو، آئی ایم ایف کو خط لکھو کہ اس وطن عزیز کی مدد نہ کرو جو ہمیں پال رہا ہے۔اب اسے اندھا سپورٹ کرنے والوں کی آنکھیں کھل رہی ہیں، اب وہ کہتے ہیں ہم تو سیاست میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے، اس ملک میں سارے سیاستدان ایک جیسے ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب جو آڈیو لیکس کی نئی قسط سامنے آنے والی ہے ، ہیکر کے مطابق اس میں عمران خان اور وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کا پول کھلنے والا ہے۔ میں حیران ہوں ان کی عقل پر جو عمران خان کو مومن سمھتے ہیں۔ مجھے ایک بات بتائیں کہ ریاست مدینہ کا دعوہ کرنے والا کسی ایسے شخص کو وزیر اعظم کیسے بنا سکتا جو دن میں بھی منرل واٹر پی کر جھومتا نظر آئے۔ اور نہ صرف جھومے بلکے تقریر کرتے ہوئے بھی اسے شرم نہ آئے۔ جبکہ مبینہ طور پر ہیکر کی ایک اور پوسٹ منطر عام پر آئی ہے کہ جلد تحریک انصاف کے وہ لیڈر جو ہر وقت عمران خان کے ارد گرد منڈلاتے ہیں ان کی انتہائی نازیبا گفتگو سامنے آنے والی ہے۔ جس میں کم از کم پانچ تحریک انصاف کے لیڈر، انتہائی خوشی کے موڈ میں ہیں اور پارٹی چل رہی ہے۔جب ن لیگ کی آڈیو لیکس ہوئی تو تحریک انصاف نے بڑی خوشی منائی۔ لیکن اب رونا رو رہے ہیں کہ سب یہ بات کر رہے ہیں کہ آڈیو میں عمران خان نے خریداری کی بات کی، جعلی سائفر کی بات کی، میر جعفر اور صادقSpoon feeding کی بات کی لیکن۔۔ وزیر اعظم ہاوس میں کوئی بھی سیکیورٹی بریچ کی بات نہیں کر رہا۔
اس کی بھی بات ہو گئی لیکن پہلے جو آپ کی آڈیوز لیک ہونے کی پارٹی شروع ہوئی ہے اسے ختم ہونے دیں، کیونکہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔
آڈیو لیکس،اہم پیشرفت، دو ہیکر گرفتار،مزید گرفتاریوں کا امکان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آڈیو لیکس تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیک ہونے کے بعد تہلکہ مچا ہوا تھا، وزیراعظم شہباز شریف کی آڈیو لیک ہوئیں جس میں ن لیگی رہنما بھی شامل تھے تو بعد ازاں عمران خان کی آڈیو لیک ہونا شروع ہو گئیں، گزشتہ جمعہ کو ایک ہی دن میں عمران خان کی دو آڈیو لیک ہوئی ، ان آڈیو نے عمران خان کا اصل چہرہ قوم کو دکھایا
وزیراعظم ہاؤس کی لیکڈ آڈیو بارے تحقیقات کے لئے کمیٹی بنائی گئی ہے، عمران خان نے آج عدالت جانے کا اعلان کیا ہے تا ہم خبر یہ ہے کہ تحقیقاتی اداروں نے دو ہیکرز کو گرفتار کیا ہے، جن سے تحقیقات جاری ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ہیکرز کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا ہے، ایک ہیکر کا تعلق راولپنڈی کے تعلیمی ادارے اور دوسرے کا وسطی پنجاب سے ہے،
تحقیقاتی اداروں کی جانب سے ہیکرز سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ہیکرز سے انکے ہینڈلرز بارے بھی تحقیقات کی جار ہی ہیں، ہیکرز سے تحقیقات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی سیکورٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیل ہونے کا امکان ہے وہیں وزیراعظم ہاؤس کی سیکورٹی کے کئی افراد گرفتار بھی ہو سکتے ہیں
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی تھی. وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کیس میں عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی تھی۔ کابینہ کمیٹی نے یکم اکتوبر کو اجلاس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی تھی۔ کابینہ کمیٹی کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے سمری میں سفارش کی گئی تھی کہ ایف آئی اے سینئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ جبکہ ایف آئی اے دیگر اداروں سے بھی اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے۔
حالیہ آڈیو لیکس نے ملکی سائبر سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ آڈیو لیکس کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، حکومتی وزرا اور یہاں تک کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہوچکی ہے. 20 اگست کو ہیکرز کے ایک فورم پر ’انڈی شیل‘ کے نام سے اکاؤنٹ بنانے والے ایک مبینہ ہیکر نے اپنے پاس آڈیوز کی موجودگی سے متعلق ایک پوسٹ کی تھی۔ مبینہ ہیکر نے اپنی پوسٹ کا نام Pakistani PM office Data leaked یعنی ’پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کا لیک شدہ ڈیٹا‘ رکھا تھا۔ اس کی کم از کم بولی 180 بٹ کوائن رکھی گئی تھی جو پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔
تمھارے مخالفین کے خلاف جو ہو وہ حلال اور جو تمھارے خلاف ہو وہ حرام؟ مریم نواز برس پڑیں
سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آڈیو لیکس پر عدالت جانے کا اعلان کیا ہے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہے،آڈیو لیکس نے وزیراعظم آفس و ہائوس کی پوری سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگا دیا،بحیثیت وزیر اعظم میری رہائش گاہ پر میری محفوظ ٹیلی فون لائن بھی بگ ہوگئی،آڈیو لیکس کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے عدالت جانے کا ارادہ رکھتے ہیں،عدالت سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا کہیں گے تا کہ تحقیقات کی جا سکیں کہ کون سی ایجنسی ذمے دار ہے، کون ایسی آڈیو کو لیک کر رہا ہے جو ایڈیٹڈ ہیں،یہ اہم ہے کہ حساس معاملے کو غیر قانونی طور پر ریکارڈ اور بعد میں ہیک کیا گیا، آڈیو لیکس سے پاکستان کی قومی سلامتی کی رازداری عالمی سطح پر سامنے آ گئی،
عمران خان کی ٹویٹ پر ن لیگی رہنما مریم نواز نے ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ تمھاری بات کی اس لیے کوئی حیثیت نہیں کیونکہ جب تم وزیرِ اعظم تھے تو اپنے مخالفین کی ریکارڈنگز کو جائز قرار دیتے تھے اور اسکو حلال کہتے تھے اور کہتے تھے کہ ایجنسیوں کاتو کام ہی یہی ہے۔ تمھیں اصل تکلیف یہ کہ تمھیں نا اب تمھارے مطلب کی جے آئی ٹی ملے گی نا تمھارے آنکھوں کانوں والی ایجینسیاں۔
تم تو کہتے تھے ہماری ایجنسیاں دنیا کی outstanding ایجنسیاں ہیں جن کو سب پتہ ہوتا ہے اور پتہ ہونا بھی چاہیے۔ جو میں کرتا ہوں جو میں فون کرتا ہوں انکو سب پتہ ہوتا ہے۔تمھارے مخالفین کے خلاف جو ہو وہ حلال اور جو تمھارے خلاف ہو وہ حرام؟ تمھاری ہر بات میں فتنہ، شر اور سازش ہے۔ شرم کرو! https://t.co/xbHT1SbmXX
مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ تم تو کہتے تھے ہماری ایجنسیاں دنیا کی outstanding ایجنسیاں ہیں جن کو سب پتہ ہوتا ہے اور پتہ ہونا بھی چاہیے۔ جو میں کرتا ہوں جو میں فون کرتا ہوں انکو سب پتہ ہوتا ہے۔ تمھارے مخالفین کے خلاف جو ہو وہ حلال اور جو تمھارے خلاف ہو وہ حرام؟ تمھاری ہر بات میں فتنہ، شر اور سازش ہے۔ شرم کرو!
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس معاملے پر چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی تھی. وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کیس میں عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی تھی۔ کابینہ کمیٹی نے یکم اکتوبر کو اجلاس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی تھی۔کابینہ کمیٹی کی سفارشات کو سمری کی شکل میں کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کیا گیا تھا۔وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دیدی تھی. کابینہ کمیٹی کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے سمری میں سفارش کی گئی تھی کہ ایف آئی اے سینئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ جبکہ ایف آئی اے دیگر اداروں سے بھی اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے۔
حالیہ آڈیو لیکس نے ملکی سائبر سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ آڈیو لیکس کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، حکومتی وزرا اور یہاں تک کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہوچکی ہے. 20 اگست کو ہیکرز کے ایک فورم پر ’انڈی شیل‘ کے نام سے اکاؤنٹ بنانے والے ایک مبینہ ہیکر نے اپنے پاس آڈیوز کی موجودگی سے متعلق ایک پوسٹ کی تھی۔ مبینہ ہیکر نے اپنی پوسٹ کا نام Pakistani PM office Data leaked یعنی ’پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کا لیک شدہ ڈیٹا‘ رکھا تھا۔ اس کی کم از کم بولی 180 بٹ کوائن رکھی گئی تھی جو پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔