Baaghi TV

Tag: آڈیو

  • مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست، عدالت نے فیصلہ سنا دیا
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ن لیگ کی رہنما مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جوڈیشل آفس چھوڑنے پر جج عدلیہ اور عدالت کا حصہ نہیں رہتا،ریٹائرمنٹ کے بعد جج کا اسٹیٹس پرائیویٹ شہری کا ہو جاتا ہے،ریٹائرڈ جج آرڈیننس 2003 کے تحت عدلیہ کا حصہ باقی نہیں رہتا،ریٹائرڈ جج ہتک عزت پر پرائیویٹ شہری کے طور پر عدالت سے رجوع کر سکتا ہے،ججز کا کام انصاف کی فراہمی ہے، ججز کو عوامی تنقید سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے،ایک آزاد جج تنقید سے کبھی بھی متاثر نہیں ہوتا،توہین عدالت کی کارروائی صرف عوامی مفاد میں عمل میں لائی جاتی ہے،ایک پرائیویٹ پرسن کی ہتک عزت پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں بنتی، قانون میں پرائیویٹ پرسن کی عزت کی حفاظت کیلئے دیگر شقیں موجود ہیں، سابق چیف جسٹس کو ان کی ذاتی حیثیت میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ،ذاتی حیثیت میں تنقید پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکتی،درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی جاتی ہے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدلیہ کو اسکینڈلائز کرنے کا مبینہ الزام ،مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا،درخواست خاتون وکیل کی جانب سے دائر کی گئی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ ثاقب نثار کے خلاف جو باتیں پریس کانفرنس میں ہوئیں وہ توہین عدالت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو خود متاثرہ ہے وہ بھی ہتک عزت کا دعویٰ کر سکتا ہے،ریٹائرڈ آدمی سے متعلق بات کرنے سے توہین عدالت نہیں ہوتی، چاہے چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو،وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ انصار عباسی والا شوکاز نوٹس کیس بھی آپ کے پاس ہے زیر سماعت ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ الگ کیس ہے اس کے ساتھ نہ ملائیں، پہلی بات یہ ہے کہ تنقید سے متعلق ججز اوپن مائنڈ ہوتے ہیں، سابق چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو، توہین عدالت نہیں ہوتی، ججز بڑی اونچی پوزیشن پر ہوتے ہیں تنقید کو ویلکم کرنا چاہیے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائردرخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی توہین عدالت کے مرتکب ہوئے دونوں نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شاہد خاقان اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے

    قبل ازیں گزشتہ روز گلگت بلتستان کے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اورنوازشریف کو کندھا دینے والے جج رانا شمیم کے الزامات پرجاری شوکاز نوٹسز میں سے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا ہےجبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں‌ ابھی تک گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم کا جواب داخل نہیں ہو سکا، دی نیوز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی اور ایڈیٹر عامر غوری کے جواب بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی ،نصف سی سی ٹی وی خراب نکلے،گرفتاریاں شروع

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،ابتدائی رپورٹ پیش،وزیراعلیٰ نے کیا اجلاس طلب

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،میڈیکل مکمل،سینے، کمر پر خراشوں کے ملے نشانات

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،عثمان بزدار نے اہم اجلاس کیا طلب

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ایک اور ملزم کی ضمانت،شناخت پریڈ کب ہو گی؟

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی کیس ، پولیس نے سب کی دوڑیں لگوا دیں

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ملزم کی درخواست ضمانت پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، عائشہ اکرم نے کتنے ملزمان کی شناخت کر لی؟

    مینار پاکستان، دست درازی،عائشہ اکرم نے کن ملزمان کی شناخت کی، نام سامنے آ گئے

    کس نے بلایا، کس نے چھیڑا، کس نے نازیبا حرکات کیں، سب سامنے آ گئے

    عدالتی شوکاز میں کہا گیاتھا کہ میر شکیل الرحمان دی نیوز کے ایڈیٹر انچیف کے طور پر اہم عہدے پر فائز ہیں، 15 نومبر کو دی نیوز پر انصار عباسی کی طرف سے خبر شائع، رپورٹ کی گئی، جس کا عنوان تھا ثاقب نثار نے 2018 الیکشن سے قبل نواز، مریم کو رہا نہ کرنے کی ہدایت کی۔شوکاز میں کہا گیا کہ جسٹس (ر) رانا محمد شمیم کے مبینہ بیان حلفی کا مواد خبر میں شائع کیا گیا، مبینہ حلف نامے، خبر کی رپورٹ میں بے بنیاد، توہین آمیز الزامات لگائے گئے، اس خبر کی رپورٹ کا مواد عدالت کے ساتھ بدسلوکی کے مترادف ہے، عدالت کی طرف سے کی گئی کارروائیوں پر جھوٹا الزام لگانا جرم ہے۔شوکاز میں کہا گیا کہ مواد کا مقصد عدالت کے سامنے زیر سماعت اپیلوں میں مداخلت معلوم ہوتا ہے، مریم نواز کی اپیلوں پر انصاف کے راستے کو موڑنے کی کوشش کی ہے، خبر لکھنے والے اور میرشکیل الرحمان نے حقائق کی تصدیق کی کوشش نہیں کی،اور ان لوگوں کا ورژن طلب کر کے پیش کیا گیا جن کے خلاف سنگین بد دیانتی کے الزامات تھے، اور اس عدالت کے رجسٹرار یا آزاد ذرائع سے تصدیق سے پہلے ہی رپورٹ کی اشاعت کی گئی۔شوکاز کے مطابق تصدیق کیے بغیر خبر کی اشاعت نہ صرف ادارتی بلکہ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، تصدیق کے بغیر خبر کی اشاعت شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی پامالی ہوتی ہے، منصفانہ مقدمے کی سماعت کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے تعصب کا نشانہ بنایا گیا، ایسی خبریں شائع کرنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔شوکاز میں کہا گیا کہ ایسی خبر عدالت اور ججز پر عوام کے اعتماد کو بغیر کسی خوف ختم کر دیتی ہے، اس قسم کی خبریں شہریوں کے حقوق اور آزادی کو مجروح کرتی ہے۔شوکاز کے مطابق اس خبر کی رپورٹ اور مذکورہ بالا کارروائیوں کو آرٹیکل 204 کے ساتھ پڑھا گیا، توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت قابل سزا مجرمانہ توہین کے مرتکب ہوئے، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری 7 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں، سابق چیف جج جی بی بھی 7 دن کے اندر تحریری جواب ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

  • مریم نواز ایک بار پھر بڑی مشکل میں پھنس گئی

    مریم نواز ایک بار پھر بڑی مشکل میں پھنس گئی

    مریم نواز ایک بار پھر بڑی مشکل میں پھنس گئی

    وزارت اطلاعات و نشریات نے مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کر دی

    تحقیقاتی کمیٹی ن لیگی دور حکومت میں میڈیا کو اشتہارات سے متعلق رپورٹ مرتب کرے گی تحقیقاتی کمیٹی ن لیگی دور حکومت میں من پسند صحافیوں کو نوازنے سے متعلق رپورٹ مرتب کرے گی کمیٹی میڈیا سیل کے ذریعے سرکاری رقوم کے غیر قانونی استعمال کے معاملات کی تحقیقاتی رپورٹ دے گی، وزارت اطلاعات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مریم نواز پربطورسرپرست میڈیا سیل حکومت کے 9 ارب رو پے سے زائد رقم خرچ کرنے کا الزام ہے مذکورہ میڈیا سیل سے پنجاب میں ایڈورٹائزمنٹ کو کنٹرول کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیںتحقیقاتی کمیٹی میڈیا سیل کے ذریعے سرکاری رقوم کے غیر قانونی استعمال کے معاملات کی تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ مرتب کرے گی

    قبل ازیں حکمران جماعت تحریک انصاف نے مریم نواز کے اشتہارات سے متعلق بیان کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا،پارلیمانی سیکریٹری عالیہ حمزہ نے اسپیکرقومی اسمبلی اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوھدری کو گزشتہ روز خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مریم نواز کس حیثیت سے اشتہارات دیتی رہیں، مریم کی آڈیو لیک سنگین مالی بے ضابطگیوں کا اعتراف ہے ،اعلیٰ عدلیہ کو بھی نوٹس لینا چاہئے اور تحقیقات ہونی چاہئے،

    گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں مریم نواز نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اشتہارات کے حوالہ سے لیک ہونے والی آڈیو میری ہے، اس آڈیو کے حوالہ سے بعد ازاں ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ یہ آڈیو 2009 کی ہے تا ہم مریم اورنگزیب کی اس بات کو غلط ثابت کر دیا گیا کیونکہ مریم نواز جن چینلز کے اشتہارات روکنے کی بات کر رہی تھیں وہ چینل 2009 میں لانچ ہی نہیں ہوئے تھے

    @MumtaazAwan

    نا اہل عمران نیازی کو کس نے وزیر اعظم بنایا؟ بنی گالہ،زمان پارک کی رسیدیں دینا پڑیں گی، نواز شریف

    نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

  • میڈیاکےخلاف مریم نوازکااقرارلمحہ فکریہ  :میڈیاکوآپس میں لڑانےکاثواب بھی مریم کوجاتاہے: فوادچودھری

    میڈیاکےخلاف مریم نوازکااقرارلمحہ فکریہ :میڈیاکوآپس میں لڑانےکاثواب بھی مریم کوجاتاہے: فوادچودھری

    اسلام آباد: پاکستانی میڈیا کے خلاف مریم نوازکا اقرارلمحہ فکریہ ہے:پاکستان خلاف پراپیگنڈہ مریم نوازکا میڈیا سیل چلا رہاہے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے میڈیا کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کون کرتا ہے آج مریم نواز نے اقرارکرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ شریف فیملی کو اپنی ذات کے سوا کسی کی عزت عزیز نہیں

     

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سیل کی سربراہی کا اعتراف کرلیا ہے اور یہ اعتراف دراصل پاکستانی میڈیا کے خلاف ہے ۔ان کا یہ کہنا تھا کہ میڈیا کوآپس میں لڑا کرنوازشریف کے لیے ہمدردی حاصل کرنا بھی مریم نواز کی اسٹراٹیجک پراکسی کا ایک مرکزی منصوبہ ہے

    وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مریم نوازمسلم لیگ(ن)کامیڈیاسیل چلارہی تھیں، وزیراعظم ہاؤس میں مریم نوازکااسپیشل میڈیا سیل بنایا گیاتھا، آج مریم نواز نے اپنے میڈیا سیل کا اعتراف کیا۔ منظم طریقے سے صحافیوں کو خریدا گیا۔ مخالف صحافیوں کے گروپ کو سزائیں دی گئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ن لیگی نائب صدر نے جن چینلز کو سزادی ان کےنام لیے، مریم نے جن کو سزانہیں دی ان کے نام نہیں لیے، مریم نے میڈیا سیل کی سربراہی کا اعتراف کرلیا ، لیگی نائب صدر نے 10ارب روپےمن پسند چینلز کو دیئے۔ جن صحافیوں کو فلیٹ اور پیسے دیئے گئے ان کی تحقیقات ہوں گی۔ ساراکام مریم نوازخودکررہی تھیں، پرویزرشیدکٹھ پتلی تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ والوں کو فلیٹس کے بارے میں بتانا ہو گا کیسےخریدے گئے، مسلم لیگ (ن) کے پاس جوشواہد ہیں عدالت کے سامنے رکھے، عام آدمی چاہتا ہے چوروں سے پیسے لیے جائیں

    یاد رہےکہ آج نوازشریف کی بیٹی مریم نوازکوحقائق کے سامنے اپنا جرم تسلیم کرنا پڑگیا،ادھر اپنے جرم کو تسلیم کرتے ہوئے مریم نے چینلز کے اشتہارات روکنے سے متعلق اپنی آڈیو کِلپ کے درست ہونے کا اعتراف کرلیا

    ذرائع کے مطابق ن لیگ کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے 4 چینلز کے اشتہارات روکنے سے متعلق اپنی آڈیو کے درست ہونے کا اعتراف کرلیا۔ان کے اعتراف جُرم کےساتھ ہی پارٹی کے خالص مسلم لیگی رہنما سخت پریشان ہیں اور ان کے سرشرم سے جُھک گئے ہیں‌

     

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھاکہ جس سازش کے مہرے ثاقب نثارہیں، اسی کے تحت عمران خان اقتدارمیں آئے، عمران خان ثاقب نثار کو نہیں خود کو بچا رہے ہیں۔

    مریم نواز نے جہاں اپنا جرم تسلیم کرکے ایک کارڈ کھیلا ہے وہاں وہ اسی کارڈ کے تناظر میں سابق چیف جسٹس کی آڈیوکواصلی قراردینے کی کوشش کررہی ہیں، مریم نواز کا کہنا تھاکہ حکومتی وزرا دفاع کرتے کرتے ہلکان ہورہے ہیں، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے ہوئے ہیں

     

  • ہاں میں بڑے عرصےسے یہ سازش کررہی ہوں:مریم نوازکا اعتراف جرم:پارٹی کا سرشرم سے جھُک گیا

    ہاں میں بڑے عرصےسے یہ سازش کررہی ہوں:مریم نوازکا اعتراف جرم:پارٹی کا سرشرم سے جھُک گیا

    لاہور:ہاں میں بڑے عرصےسے یہ کام کررہی ہوں:مریم نوازکا اعتراف جرم:پارٹی کا سرشرم سے جھُک گیا،اطلاعات کے مطابق نوازشریف کی بیٹی مریم نوازکوحقائق کے سامنے اپنا جرم تسلیم کرنا پڑگیا،ادھر اپنے جرم کو تسلیم کرتے ہوئے مریم نے چینلز کے اشتہارات روکنے سے متعلق اپنی آڈیو کِلپ کے درست ہونے کا اعتراف کرلیا

    ذرائع کے مطابق ن لیگ کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے 4 چینلز کے اشتہارات روکنے سے متعلق اپنی آڈیو کے درست ہونے کا اعتراف کرلیا۔ان کے اعتراف جُرم کےساتھ ہی پارٹی کے خالص مسلم لیگی رہنما سخت پریشان ہیں اور ان کے سرشرم سے جُھک گئے ہیں‌

     

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھاکہ جس سازش کے مہرے ثاقب نثارہیں، اسی کے تحت عمران خان اقتدارمیں آئے، عمران خان ثاقب نثار کو نہیں خود کو بچا رہے ہیں۔

    مریم نواز نے جہاں اپنا جرم تسلیم کرکے ایک کارڈ کھیلا ہے وہاں وہ اسی کارڈ کے تناظر میں سابق چیف جسٹس کی آڈیوکواصلی قراردینے کی کوشش کررہی ہیں، مریم نواز کا کہنا تھاکہ حکومتی وزرا دفاع کرتے کرتے ہلکان ہورہے ہیں، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے ہوئے ہیں۔

    اس دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ میڈیا کے اشتہارات روکنے سے متعلق ان دنوں سوشل میڈیا پر آپ کی ایک آڈیو کلپ وائرل ہورہی ہے اس حوالے سے کیا کہیں گی؟ جس پر مریم نواز نے کہا کہ وہ آواز ان ہی کی ہے اور آڈیو درست ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ آڈیو جوڑ جوڑ کر بنائی گئی ہے یا میری آواز نہیں ہے، وہ میری آواز ہے۔‘

    مریم نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’یہ کافی پرانی بات ہے ، تب میں پارٹی کا میڈیا سیل چلارہی تھی، وہ بہت پرانی ہے لیکن میں نے جب کہہ دیا کہ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ فلاں تقریر سے توڑ جوڑ کر بنائی گئی ہے تو یہ بات سامنے آگئی، آج کا جو ٹاپک ہے اسی پر رہیں، اُس معاملے پر میں بہت لمبی بات کرسکتی ہوں۔‘

    خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو میں مریم نواز کسی کو کہہ رہی ہیں کہ چار چینلز کو کوئی اشتہار نہیں جائے گا۔

     

  • جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

    جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ مبینہ آڈیو پر بات کرناچاہتی ہوں

    مریم نواز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ ویڈیو کو غیر مصدقہ ثابت کیا جا رہا ہے ،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا پہلا ردعمل تھا یہ تو میری آواز ہی نہیں، سب سے پہلے اُس چینل کا شکریہ ادا کرونگی جس نے ثابت کردیا کہ آواز ثاقب نثار صاحب کی ہے۔کہا گیا مختلف تقاریب کی گفتگو اٹھا کرآڈیوبنائی گئی ہے،پتہ نہیں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکس سے گفتگوکر رہے تھے ،لیک آڈیو کو غیر مصدقہ ثابت کیا جا رہا ہے ، مبینہ آڈیو کا فرانزک امریکی ادارے نے کی ،لیک آڈیومیں کہا گیا کہ نوازشریف کوسزا دینی ہے ،جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف جرم کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے مریم نواز کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں آڈیو کوجھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی جج ارشد ملک کی ویڈیو پر جسٹس کھوسہ صاحب نے کہا کہ انہوں نے عدلیہ کا منہ کالا کیا ہے تو اُس کا فیصلہ یہ ہوا کہ جج کو فارغ کردیا گیا مگر نواز شریف کے خلاف فیصلہ آج بھی برقرار ہے ،ن کا کہناتھا کہ پاکستان میں انصاف کس طرح سے عمل میں لایا جاتاہے ، یہ آپ سب کے سامنے ہے ، اصل جملے آپ چھپا گئے ہیں ، اس چینل سے سوال کرنا چاہتی ہوں ، جو پراپیگنڈہ کر رہے ہیں ،وہ جملے جو آپ ہضم کر گئے ہیں وہ جملے جو ثاقب نثار کے خلاف چارج شیٹ اور اقرار ہیں یہ جملے ثاقب نثار نے کس تقرریر میں کہے تھے اگر کوئی ایسی تقرریر ہے تو ہم بھی دیکھنا چاہیں گے ۔اصل بات کی طرف آتے ہیں بات یہ ہے کہ سب سے پہلی گواہی جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ہے جو اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز اور موجودہ جج تھے انہوں نے سنگین الزامات لگائے ، انہوں نے کہا کہ جب مریم نواز اور نوازشریف کی درخواست آئی تو جنر ل فیض گھر تشریف لائے اور کہاکہ ضمانت الیکشن سے پہلے نہیں دینی ہے ورنہ آپ بینچ میں نہ بیٹھیں وہ جج آج بھی موجود ہیں ، انصاف کے انتظار میں ریٹائر ہو گئے ہیں ، شوکت صدیقی کو عدالت بلایا جائے اور قرآن پر حلف لیا جائے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ارشد ملک جنہوں نے نوازشریف کو نیب کے مقدمے میں سزا دی تھی ان کی ویڈیو میں نے اس وقت ریلیز کی تھی پوری دنیا کے سامنے ارشد ملک کو سچ بولنے کی پاداش میں نکال دیا گیا ان کو سزا دے دی گئی

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے چیف جج کا ایک حلف نامہ سامنے آیا جس میں انہوں نے یہ بات کہی کہ جب ثاقب نثار چیف جسٹس تھے تو یہ خاندان کے ساتھ چھٹیاں منانے گلگت بلتستان آئے تھے ، چیف جج گلگت بلتستان کے گھر کے لان میں چائے پی رہے تھے جب ان کے سامنے ثاقب نثار نے فون کیا کہ مریم اور نوازشریف کو الیکشن سے پہلے ضمانت نہیں دینی ۔ آڈیو میں شکوک و شبہات کر سکتے ہیں لیکن شوکت عزیز تو حیات ہیں ان کو بلائیں ، پوچھیں، چیف جج گلگت بلتستان کو بلائیں اور ان سے پوچھیں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں ۔ثاقب ثنار سے جب پوچھا گیا کہ آپ ان الزامات کے آگے اپنا دفاع عدالت جا کر کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ کہ میں پاگل ہوں کہ کورٹ کچہری کے چکر لگاتا رہوں ۔ اس وقت کا وزیراعظم وہ کوئی پاگل تھا جس نے اپنے پورے خاندان اور پوری پارٹی کے سمیت جانتے ہوئے کہ یہ انتقام ہے ،وہ قانون کے سامنے پیش ہوتے رہے اپنی تین نسلوں کا حساب دیا ۔میں ثاقب نثار کو کہنا چاہتی ہوں کہ آج نہیں تو کل سچ قوم کو بتانا پڑے گا ابھی بھی وقت ہے قوم کو بتائیں جرات کریں ، کہ کس نے آپ کو نوازشریف اور مریم نواز کو سزا دینے پر مجبور کیا کس نے کہا کہ عمران خان کو آپ نے لانا ہے اگر آپ کی نظر میں وہ سزا نہیں بنتی تھی جس کا اعتراف آپ نے آڈیو میں کیا تو آپ نے قانون اور انصاف کا قتل کیوں کیا آپ نے وہ سزا کس کے کہنے پر دی یہ آپ کو ایک نہ ایک دن قوم کو بتانا پڑے گا ، آپ انصاف کی سب سے بلند کرسی پر بیٹھے تھے وہ کون تھا جسے آپ چیف جسٹس آف پاکستان ہوتے ہوئے بھی انکار نہیں کر سکے ،حکومت ثاقب نثار کو نہیں بلکہ خود کو بچار ہی ہے ، ثاقب نثار سے درخواست ہے کہ آپ اپنا دفاع خود کریں جب یہ آپ کا دفاع کرتے ہیں تو آپ کا کیس مزید خراب ہوتاہے ثاقب نثار سے کہنا چاہتی ہوں کہ جب گلگت بلتستان کے چیف جج کا حلف نامہ آیا تو آپ کا بھی حلف نامہ آنا چاہیے تھا یہ جواب نہیں آنا چاہیے تھا کہ میں کوئی پاگل ہوں کبھی پیش نہیں ہوں گا اب فرانزک رپورٹ آ گئی ہے تو آپ کو بھی فرانزک کیلئے خود کو پیش کرنا چاہیے

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ میں ہنس رہی تھی کہ حکومت کہتی ہے کہ سب کے پیچھے ن لیگ ہے مجھے بڑی ہنسی آئی تو میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ن لیگ نے نوازشریف کو اقامے پر نااہل کروایا کیا ن لیگ نے پارٹی لیڈران پر جھوٹے مقدمات بنائے ، کیا ن لیگ نے الیکشن چوری کیا اور عمران خان کو وزیراعظم بنایا راناثنااللہ پرمنشیات کا کلاسک کیس بنایا گیا ،سینیٹ انتخابات میں ن لیگ کےسینیٹرزسے شیرکا نشان چھین لیاگیا ،نوازشریف کوتا حیات نااہل کردیاگیا،مجھےکوئی عوامی عہدہ رکھےبغیر 7سال کیلئےنااہل کردیا کیاعمران خان کے اہلخانہ میں سے کوئی سنگین الزامات پرجیل گیا؟ 74سال میں ایسا کونسا کیس ہےجس میں مانیٹرنگ جج بٹھایا گیا ہو،حنیف عباسی کوانتخابات سے پہلے جیل میں ڈال دیا گیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار جس سازش کامہرہ بنے اس کے بینیفشری عمران خان ہیں میں اورمیری جماعت ملک میں آزاد عدلیہ چاہتےہیں،

    قبل ازیں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز، محمد صفدر کی اپیلوں پر سماعت ہوئی ،جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی مریم نواز کے وکیل عرفان قادر نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی، مریم نواز کے وکیل عرفان قادر کی درخواست عدالت نے منظورکر لی، کیس کی سماعت 21 دسمبر کو ہو گی

    عدالت پیشی کے موقع پر مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت اصل مجرم ہے،مریم نواز کا کہنا تھا کہ نیب حکومت کا آلہ کارہے،نیب سے جب ثبوت مانگے جاتے ہیں تو اسکو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیسز حکومت میں بیٹھے لوگوں کی طرف سے بنائے گئے ہیں ،میرے کیس میں التوا نیب مانگ رہا ہے میں نہیں، سا بق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو پر چک شہزاد میں پریس کانفرنس کرونگی،نیب تو حکومت کا ایک آلہ کار ہے، اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں،یہاں فارن فنڈنگ کیس نہیں چل رہا جس میں التوا مانگا جائے،احاطہ عدالت میں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے مریم نواز کو میڈیا سے گفتگو سے روک دیا اور کہا کہ یہ عدالت ہے یہاں میڈیا ٹاک نہ کریں

    مریم نواز کی عدالت پیشی کے موقع پر ن لیگی رہنما، کارکنان بھی موجود تھے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے

    قبل ازیں مریم نواز نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ عرفان قادر کے ذریعے عدالت عالیہ میں درخواست جمع کرائی درخواست میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ‘احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی تھی جو پاکستان کی تاریخ میں سیاسی انجینئرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی پرانی مثال ہے سابق جج شوکت عزیر صدیقی کی تقریر نے ساری کارروائی مشکوک بنا دی، ٹرائل اورریفرنس فائل کرنے کے احکامات بھی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، نیب کے لیے لازم ہے کہ وہ شفاف طور پر کارروائی کرے، عرفان قادر ایڈووکیٹ نے مریم نواز کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی ، درخواست میں مزید کہا گیا کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2017 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی، تاریخ میں پولیٹیکل انجینئرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی مثال ہے،

    جواب میں سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے پنڈی بار کی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ سابق جج، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اسی بیان پر سپریم جوڈیشل کونسل کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا سپریم کورٹ میں جمع شدہ جواب بھی مریم نواز کے جواب کا حصہ بنایا گیا ہے، جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب کے ذریعے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے ایک غیر قانونی ریفرنس دائر کیا گیا، 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے حکم پر وزیر اعظم اور پوری وفاقی کابینہ کو گھر بھیج دیا گیا، اور بعد میں نا اہل قرار دیا گیا۔ مریم نواز کی جانب سے جج ارشد ملک ویڈیو اور سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ کا بیان بھی جواب کے ساتھ جمع کر دیا گیا ہے، مریم نواز نے جواب میں اپنے خلاف چارجز ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔

    ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیلیں پہلے بھی زیر سماعت ہیں ، ان اپیلوں میں ن لیگ کی جانب سے ہی مسلسل تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اور مریم نواز کے وکیل وقت لے لیتے ہیں، اب لگتا ہے کہ مریم نواز ایک بار پھر اس امید سے ہیں کہ شاید عدالت انہیں بری کر دے ، اسلئے مریم نواز کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں سابق جج شوکت عزیر صدیقی کی تقریرکا بھی حوالہ دیا،

    6 جولائی 2018 کو شریف خاندان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

    قبل ازیں احتساب عدالت اسلام آباد میں برطانیہ میں فراڈ کرنے پر نیب تحقیقاتی کیس کی سماعت ہوئی نیب نے ملزم نثارافضل کے منجمد اثاثوں پراعتراضات مسترد کرنے کی استدعا کردی ،نیب کی جانب سے کہا گیا کہ فراڈ کے باعث نثار افضل کیخلاف منی لاندرنگ اورکرپشن سے اثاثے بنانے کے شواہد ہیں،احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنےنثارافضل کے وکیل سے29 نومبر کودلائل طلب کرلیے ،نیب نے کہا کہ 60 ملین پاونڈ برطانیہ میں فراڈ پر صغیر افضل کو سزا ہوئی ،نثار افضل پاکستان آ گیا ،فراڈ کے بعد نثار افضل نے غیر قانونی رقوم پاکستان منتقل کیں، برطانوی حکام لوٹی گئی رقم پاکستان سے واپس لے جانے کےلیے پرعزم ہیں،برطانوی حکام کی شکایت پر نیب نے نثار افضل کیخلاف تحقیقات شروع کیں،نثار افضل کیخلاف رقوم منتقلی کا مکمل ریکارڈ، گواہوں کے بیانات قلمبند کیے،ملزم نثار افضل کے اثاثے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر منجمد کیے، اعتراضات مسترد کیے جائیں،

    @MumtaazAwan

    نا اہل عمران نیازی کو کس نے وزیر اعظم بنایا؟ بنی گالہ،زمان پارک کی رسیدیں دینا پڑیں گی، نواز شریف

    نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب