Baaghi TV

Tag: آکسفورڈ

  • عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

    عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

    سابق وزیراعظم، بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آکسفورڈ کی چانسلر شپ کے لیے نااہل کر دیا گیا ہے

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کے لئے تقریباً 40 امیدواروں کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں۔عمران خان خان کی امیدواری کا جائزہ آکسفورڈ کونسل کے ضابطے 7(d) 2002 کے ضابطے 8 اور چیریٹیز ایکٹ 2011 کے سیکشن 178 کی روشنی میں کیا گیا،عمران خان کو درج ذیل وجوہات کی بنا پر نااہل قرار دیا گیا ہے۔

    عمران خان کی مجرمانہ سزا، اس کے سیاق و سباق سے قطع نظر، ان کی ساکھ اور سالمیت کو متاثر کرتی ہے، جو آکسفورڈ جیسے باوقار ادارے میں چانسلر کے کردار کے لیے ضروری ہیں۔عمران خان کو سرکاری خزانے سے زیورات بیچنے پر سزا ہو چکی ہے، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی تھی ،آکسفورڈ یونیورسٹی اپنی عالمی شہرت اور اعلیٰ اخلاقی معیارات کو ترجیح دیتی ہے۔ عمران خان کی سزا سے ادارے کے امیج کو نقصان پہنچ سکتا تھا اور چانسلر کے کردار پر ناپسندیدہ تنازعہ پیدا ہو سکتا تھا، آکسفورڈ جیسے اداروں میں ممکنہ طور پر مضمر یا واضح گورننس قوانین ہوتے ہیں جو مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو قائدانہ کرداروں سے نااہل قرار دیتے ہیں . بطور چانسلر، عمران خان سے توقع کی جاتی کہ وہ بین الاقوامی سطح پر آکسفورڈ کی نمائندگی کریں ،تاہم عمران خان کی سزا اور پھر اسکا جیل میں ہونا ان فرائض کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور اسٹیک ہولڈرز اور سفارتی تعلقات کے ساتھ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ آکسفورڈ کو غیر سیاسی بنانا آکسفورڈ کو سیاسی فائدہ اور ذاتی فائدے کے لیے پلیٹ فارم استعمال نہیں کیا جائے گا۔میٹرکس چیمبرز کے مطابق، عمران خان کی مجرمانہ سزا اسے آکسفورڈ چانسلر شپ کے لیے درکار اخلاقی اور گورننس کے معیارات پر پورا اترنے سے نااہل قرار دیتی ہے۔

    صحافی وقار ستی ایکس پر کہتے ہیں کہ عمران خان کا آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے امیدواروں کی فہرست سے اخراج اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا صرف خالی نعروں اور جھوٹے دعووں پر نہیں چلتی۔بدزبانی، بدکاری اور مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ چانسلر بننے کا خواب دیکھنا ویسے ہی ہے جیسے صحرا میں پانی تلاش کرنا۔ پاکستان میں ان کے چاہنے والے ایک عرصے سے انہیں “واحد حق دار” قرار دے رہے تھے، لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ یہ سب محض فریب اور سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا تھا۔ آکسفورڈ نے ان جھوٹے دعووں کو زمین بوس کر دیا۔

    چانسلر کا انتخاب اور عمران خان کی شمولیت، آکسفورڈ یونیورسٹی بھی مشکل میں پڑگئی

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • عمران خان کا آکسفورڈ کا چانسلر بننے کا خواب "وڑ” گیا

    عمران خان کا آکسفورڈ کا چانسلر بننے کا خواب "وڑ” گیا

    عمران خان کے لئے بری خبر،بانی پی ٹی آئی آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلرشپ کی لسٹ سےباہر ہو گئے

    آکسفورڈ یونیورسٹی نے ویب سائٹ پر42 امیدواروں کی لسٹ جاری کردی جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کانام نہیں ہے،آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلرکی ووٹنگ کاپہلا راؤنڈ اٹھائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں ہوگا، عمران خان چانسلر کی لسٹ سے آؤٹ ہو چکے ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی انتظامیہ نے بیان میں کہا کہ پہلی مرتبہ اوپن درخواستیں طلب کی گئی تھیں، چانسلر الیکشن کمیٹی نے تمام درخواستوں کاجائزہ لیا ،جس کے بعد عمران خان کو چانسلر کے لئے بطور امیدوار نااہل قرار دے دیا گیا.

    آکسفورڈ یونین کے صدر اسرار خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں۔

    آکسفورد یونیورسٹی کے چانسلر کا عہدہ روایتی اور علامتی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس انتخاب میں نمایاں شخصیات حصہ لے رہی ہیں،امیدواروں میں برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن، مشہور برطانوی آرکیٹیکٹ سر نورمن فوسٹر اور معروف وکیل بیرسٹر پیٹر کریگ شامل ہیں،عمران خان بھی چانسلر بننے کے خواہشمند تھے، زلفی بخاری کوشش کر رہے تھے تا ہم پی ٹی آئی اور زلفی بخاری کو اس ضمن میں ناکامی ہوئی ہے

    قبل ازیں معروف برطانوی قانونی فرم میٹرکس چیمبرز نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے ضوابط کے مطابق چانسلر شپ کے لیے نااہل ہیں۔سینئر قانون دان ہیوساؤتھی کے مطابق عمران خان کے خلاف مجرمانہ سزا ہونے کے باعث وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے کے ضابطوں پر پورا نہیں اترتے۔ قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ٹرسٹیز یا چانسلر کے منصب پر فائز ہونے والے افراد سے شفافیت، دیانت داری اور غیر متنازع حیثیت کی توقع کی جاتی ہے۔

    آکسفورڈ وی سی ،عمران خان کی درخواست مسترد ہونا افسوسناک،میں معافی مانگتا ہوں، زلفی بخاری
    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لئے عمران خان کے کاغذات مسترد ہونے پر پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے عمران خان کا نام آکسفورڈ چانسلر کے الیکشن سے خارج کر دیا ہے۔ میرے وکلاء نے یونیورسٹی کو خط لکھ کر ان کی وجہ پوچھی ہے۔ ہم نے ان کی درخواست سے پہلے کئی وکلاء اور بیرسٹروں کی رائے لی تھی۔ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں جنہوں نے عالمی سطح پر حمایت کی ہے۔ میں دنیا بھر کے پاکستانیوں سے معذرت خواہ ہوں کہ میں اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوا۔ میں جانتا ہوں کہ میری قوم اور بہت سے لوگ عمران خان کو آکسفورڈ کے نئے چانسلر کے طور پر دیکھنا پسند کریں گے۔ عمران خان کی طرف سے میں تمام امیدواروں کو آئندہ انتخابات میں نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

    چانسلر کا انتخاب اور عمران خان کی شمولیت، آکسفورڈ یونیورسٹی بھی مشکل میں پڑگئی

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ کر لیا

    آکسفورڈ یونیورسٹی کی گورننگ باڈی کی جانب سے 300 سال کی روایت کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق سیاست دانوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا نیا چانسلر بننے سے روک دیا جائے گا۔آکسفورڈ کے ماہرین تعلیم کو بھیجی گئی اور برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو لیک ہونے والی ایک ای میل میں، یونیورسٹی کے رجسٹرار گیلین ایٹکن نے کہا کہ سیاست میں سرگرم افراد کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے سے روکا جائے گا

    یونیورسٹی کی کونسل سے نکلنے والے غیر معمولی فیصلے نے سینئر کنزرویٹو کی طرف سے غصے کو جنم دیا اور انتخابی عمل میں تبدیلیوں کے حوالہ سے نئی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں،سابق سینئر سرکاری ملازم ایٹکن کے طے کردہ معیار کی وجہ سے سیاستدان تھریسا مے، بورس جانسن اور عمران خان کے وائس چانسلر کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے جو امیدوار ہیں،

    یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی امیدوار مسز مے کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں رکن پارلیمنٹ کے طور پر دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن وہ کنزرویٹو کے لیے مہم جاری رکھیں گی، اب عمران خان کے لئے بھی مشکل پیدا ہو گئی ہے، عمران خان جیل میں ہیں، سزا یافتہ بھی ہیں، مقدمات بھی ہیں،اور الیکشن لڑنے کے بھی خواہشمند بھی ،وہیں پاکستان کا الیکشن لڑنے کے خواہشمند بھی ہیں، اس ضمن میں عمران خان نے سپریم کورٹ میں نااہلی کے خلاف درخواست جلد سماعت مقرر کرنے کے لئے ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، اب عمران خان کے لئے یہ فیصلہ مشکل ہو گا کہ اگر وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننا چاہتے ہیں تو انہیں سیاست سے دستبردار ہونا پڑے گا بصورت دیگر ان کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے.

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    دوسری جانب کئی برطانوی سیاستدانوں نے کرکٹر سے سیاست دان بننے والے عمران خان کی فروری میں موجودہ لارڈ پیٹن کے استعفیٰ کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کا اگلا چانسلر بننے کی حمایت کی ہے۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم، خان کو 2022 میں ایک متنازعہ عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان پر مقدمات قائم ہوئے، سزائیں بھی ہوئیں اور وہ اب جیل میں ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، عمران خان کو دوسرے امیدواروں سے مقابلے کا سامنا ہے، جن میں "برطانوی سیاست کے باوقار” پیٹر مینڈیلسن اور ولیم ہیگ، یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر لیڈی ایلش انجیولینی، اور مشرقی لندن کے بارٹینڈر ریان احمد شامل ہیں۔اگر لیڈی ایلش جیت جاتی ہیں، تو "وہ اس عہدے کی پہلی خاتون ہوں گی”

    آنے والے انتخابات میں کئی قابل ذکر پہلو شامل ہیں۔ ایک یہ کہ آنے والے چانسلر کو 10 سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جائے گا، دوسرا یہ کہ آکسفورڈ کے طلباء، عملے اور گریجویٹس کے "کانووکیشن” کے ذریعے ووٹنگ آن لائن ہوگی۔ ابتدائی ووٹنگ 28 اکتوبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں ہوگی، اگر امیدواروں کی تعداد 10 سے کم ہے، تو ووٹنگ کا صرف ایک دور ہوگا، اور نچلے درجے کے امیدواروں کو اس وقت تک ختم کردیا جائے گا جب تک کہ ایک امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر لے۔ اگر 10 یا اس سے زیادہ امیدوار ہوں تو ووٹنگ کا دوسرا دور نومبر میں ہوگا۔

  • اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران  کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ عمران خان کونسلر کا الیکشن نہیں لڑ سکتا، چانسلر بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، یہ اس قوم اور آکسفورڈ یونیورسٹی کیساتھ مذاق ہے

    بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ جو شخص اس ملک کی سیاست میں کونسلر تک منتخب نہیں ہو سکتا وہ کہتا ہے چانسلر بنوں گا،یہ دنیا کے ساتھ مذاق ہے، یہ اسکے ذہنی مریض ہونے کا واضح ثبوت ہے،عمران خان کی حرکتیں کیا رہی ہیں سب کے سامنے ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی معیار کا ادارہ ہے ،عمران خان کی اب حقیقت سامنے آ چکی ہے، ڈیلی میل نے سب کچھ لکھ دیا ہے، بین الاقوامی میڈیا نے عمران خان کو ڈس گریس کا لقب دیا، عمران خان نے پاکستان کے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی ،چوری کرنا عمران خان کی عادت ہے، ملک میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی آپ کا دیا ہوا تحفہ ہے، آپ نے اپنے دور حکومت میں طالبان کو ری انٹیگریشن کے نام پر جیلوں سے رہا کیا، آج قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔

    بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ یہ بڑا پرچار کرتے ہیں کہ ہم ہیومین رائٹس کے علم بردار ہیں،لوگوں کی عمران خان سے محبت نہیں، ’’کلٹ فالوونگ‘‘ ہے، اِس میں ذہن مفلوج اور مائوف ہو جاتا ہے، اِس بیماری کا کوئی علاج نہیں، اسٹاک ہوم سنڈ روم کی بیماری میں یہ مبتلا ہیں، عمران خان اپنی غیرقانونی حرکات کی وجہ سے پابندِ سلاسل ہیں، یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز ان کے ذریعے داغدار ہونے سے رہ نہ جائے،اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران خان کو شکست ہو گی، کر لیں یہ شوق پورا،عمران نیازی آج گھڑی چوری،190 ملین پاؤنڈ کرپشن، لوٹ مار ،ملک میں انتشار افراتفری پھیلانےکیوجہ سےپابندسلاسل ہیں،پاکستانی قوم کو اشتعال انگیزی دینے کی وجہ سے عمران پابند سلاسل ہیں، دن دہاڑے انہوں نے ڈکیتیاں کیں، اسکا حساب دینا پڑے گا، عمران خان نے ملکی معیشت، سفارتی تعلقات کا بیڑہ غرق کیا ،چوری چکاری طالبان کی سپورٹ کیوجہ سےنیازی کو ڈس گریسڈ کالقب دیا

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • عمران خان  آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے جیل سے چانسلر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کے اعلان پر شدید احتجاج شروع ہوگیا ہے۔
    عمران خان، جو ایک سال سے زائد عرصے سے بدعنوانی کے الزامات پر جیل میں ہیں، نے کنزرویٹو پارٹی کے لارڈ پیٹن کی جگہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، یونیورسٹی کو عمران خان کی امیدواری پر متعدد تحفظات موصول ہوئے ہیں ، جن میں ان کی طالبان کی حمایت اور ان کی سزا کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل عمران خان نے کہا، "بطور چانسلر، میں آکسفورڈ کے اصولوں، تنوع، مساوات اور شمولیت کی حمایت کرنے کا پُر جوش وکیل بنوں گا، نہ صرف برطانیہ میں بلکہ دنیا بھر میں۔”یونیورسٹی کو اس معاملے پر ای میلز اور ایک پٹیشن موصول ہوئی ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی امیدوار ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے، "اگرچہ عمران خان ایک ممتاز شخصیت ہیں، لیکن ان کے عوامی اور ذاتی ریکارڈ کے بعض پہلو انتہائی تشویشناک ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے طالبان کے ساتھ میل جول بڑھانے کی کوشش کی اور انہیں پاکستان میں دفتر قائم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اسامہ بن لادن کو ‘شہید’ کہا، جو کہ ایک متنازعہ بیان تھا اور اس پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔عمران خان کے امیدوار بننے کے خلاف لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ناقدین کو ہراساں کیا اور انہیں بدنام کیا۔یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کی فہرست اکتوبر کے اوائل میں جاری کی جائے گی، جبکہ الیکشن 28 اکتوبر کو ہوں گے۔

    ڈیلی میل نے عمران خان کے حوالہ سے سٹوری شائع کی ہے،ڈیلی میل کے مطابق عمران خان کے الیکشن لڑنے کے فیصلے کے خلاف آکسفورڈ یونیورسٹی میں سخت اشتعال اور مظاہرے ہوئے ہیں،ڈیلی میل نے اپنی سرخی میں عمران خان کو Disgraced وزیراعظم کا خطاب دے دیا ،آکسفورڈ یونیورسٹی کو عمران خان کے چانسلر کا الیکشن لڑنے کیخلاف غم و غصّے سے بھری ای میلز اور احتجاجی پٹیشن موصول ہونا شروع ہو گئیں ،ڈیلی میل کے مطابق ان ای میلز میں بانی پی ٹی آئی کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار دیا گیا ہے- پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کرپشن کیسز میں سزا یافتہ شخص کا آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے کے چانسلر کا الیکشن لڑنا قابل قبول نہیں ،

    طالبان اور اسامہ بن لادن کی پرجوش حمایت پر مبنی عمران خان کا شدت پسند موقف چانسلر کا امیدوار بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا،ڈیلی میل کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کئی مواقعوں پر طالبان کی حمایت اور ان کے شدت پسند ایجنڈے کا پرچار کیاہے – بانی پی ٹی آئی کے خلاف یونیورسٹی کو موصول پٹیشن میں اس طرح کے مزید ذاتی اور پبلک مفادات سے متصادم باتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،بانی پی ٹی آئی کی نجی زندگی پر بھی کئی داغ موجود ہیں،خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام اُنہی خواتین کے لباس کو ٹھہرانا بھی عوام نقطہ احتجاج بن گیا،خواتین کا مختصر لباس ان کی آبرو ریزی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے، ایسے لباس کے اثرات صرف روبوٹس پر نہیں ہوتے، لوگوں نے عمران خان کا پرانا موقف آکسفورڈ یونیورسٹی کو یاد کرا دیا

    تحریک انصاف کے سپورٹرز پر عمران خان کے مخالفین کو ہراساں کرنے کا بھی الزام ہے،عمران خان کے حامی اس پر تنقید کو روکنے کیلئے سوشل میڈیا ٹرولنگ سے کام لے رہے ہیں، برطانوی اخبار کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی انسانیت کے احترام ، اخلاقی اقدار اور لیڈر شپ کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے قابل قدر تاریخ ہے، عمران خان کا چانسلر کا الیکشن لڑنا اسے داغدار کر دے گا، عمران خان دہشت گردوں کا حامی ہے قومی اسمبلی سے خطاب میں اس نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

  • اے پی ایس طالب احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر بننے پر وزیراعظم شہباز شریف کی مبارک باد

    اے پی ایس طالب احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر بننے پر وزیراعظم شہباز شریف کی مبارک باد

    وزیر اعظم شہباز شریف نے طالب علم احمد نواز جو سانحہ اے پی ایس میں زخمی ہوئے تھے کو آکسفورڈ یونین کا صدر بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا: "عظیم اعزاز اور حوصلہ افزا سفر جو عزم اور سراسر قوت ارادی سے ہوا ہے۔ اے پی ایس پشاور پر ہولناک حملے میں بچ جانے والے احمد نواز باوقار آکسفورڈ یونین کے صدر بن گئے ہیں۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کے لیے قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ پاکستان کو تم پر فخر ہے احمد”


    احمد نواز ان بچوں میں شامل ہیں جو سانحہ اے پی ایس میں بچ گئے تھے۔ جب انہیں اسپتال لایا گیا تو یہ شدید زخمی تھے، انہیں بہتر علاج کے لیے برطانیہ بھیجا گیا جہاں وہ اب تک مقیم ہیں آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

    وزیراعظم نے قبل صدر پاکستان نے بھی احمد نواز کو مبارکباد دی تھی جس میں لکھا تھا کہ: "ہماری تمام امیدیں پاکستان کے نوجوانوں سےوابستہ ہیں۔میں سانحہ اے پی ایس میں بہادری سے مقابلہ کرنےوالے احمد نواز کو،جنھوں نے اسی سانحے میں اپنابھائی بھی کھویا،آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پرمبارکباد دیتا ہوں۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیےکہ تمام ترآزمائشوں کےباوجود پاکستان آگےبڑھتارہے گا.”


    طالب احمد نواز نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ:
    ہمارے وطن پاکستان کے سربرہان کی طرف سے مبارکباد ملنا اعزاز کی بات ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ: میں ہر قدم پر پاکستانیوں کی طرف سے ملنے والے تعاون اور پیار کے لیے انتہائی شکر گزار ہوں۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ: میری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے کام جاری رکھوں اور زیادہ مساوی دنیا کے لیے کام کروں گا۔


    واضح رہے جب اے پی ایس پشاور پر حملہ ہوا تھا تو اس میں ناصرف احمد نواز زخمی ہوئے تھے بلکہ ان کے ایک بھائی حارث نواز شہید ہوگئے تھے۔
    اس بارے میں احمد نواز نے بتاتے ہیں کہ: اے پی ایس سانحے سے ایک دن قبل جب ہم اسکول سے اپنے گھر واپس آئے تو پتا چلا کہ ہمارے گاٶں میں ہمارے کوئی رشتہ دار فوت ہو گئے ہیں۔ لہٰذا امی، ابو اور ہمارا چھوٹا بھائی “عمرنواز” وہاں چلے گئے۔ ابو رات کو تقریبا ایک بجے واپس آگئے تو دیکھا حارث ابھی تک جاگ رہا تھا۔
    انہوں نے جاگنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ چونکہ امی گھر نہیں ہیں تو وہ اگلے روز سکول جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ابو غصہ ہو گئے اور اسے فوری طور پر سونے کا کہا تاکہ اگلی روز جلد اٹھ کر سکول جا سکے۔ اگلے روز جب ہم سکول جا رہے تھے تو وہ مجھ سے بہت لڑ رہا تھا۔ کاش ہمیں پتا ہوتا کہ آج کے بعد وہ کبھی واپس نہ آئے گا تو ہم اسے کبھی زبردستی سکول نہ بھیجتے۔
    پس منظر
    احمد نواز جب پاکستان اسپتال میں زندگی اور موت سے لڑ رہا تھا تو ان کے والد سے اسپتال کے ایک ڈاکٹر نےکہا کہ آپکا ایک بیٹا حارث نواز شہید ہو چکا ہے اور دوسرا بیٹا شدید زخمی ہے۔ آپ اسے جلد ازجلد بیرون ملک علاج کیلئے لے جائیں۔ تو ان کے والد کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے ہر کسی سے احمد کےعلاج کیلئے منت سماجت کی مگر انہیں اس وقت صرف نا امیدی ملی تھی۔

    آخرکار احمد کے والد محمد نواز نے مایوس ہو کر کہا کہ اگر میرے بیٹےکو علاج کیلئے نہ بھیجا گیا تو میں انہیں ایمبولینس میں ڈال کر وزیراعظم ہاٶس کے سامنے لے جا کر احتجاج کرونگا۔ اس بیان پر پوری پاکستانی قوم یہاں تک کہ مختلف ممالک سےکالیں آئیں۔ پھر اس وقتکی وفاقی حکومت حرکت میں آئی تھی، اور یوں ویزے جاری کیے گئے تھے-

    سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نےاحمد نواز کے علاج کیلئے دو لاکھ پاٶنڈ اسپتال میں جمع کروائے تھے اور پھر علاج کے لیے باہر بھجوایا گیا۔

  • پاکستانیوں کے لیے “آکسفورڈ پاکستان پروگرام” کے نام سے ایک بڑے پلیٹ فارم کا آغاز

    پاکستانیوں کے لیے “آکسفورڈ پاکستان پروگرام” کے نام سے ایک بڑے پلیٹ فارم کا آغاز

    لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال، جہاں بے نظیر بھٹو اور ملالہ یوسفزئی دونوں نے اپنی انڈر گریجویٹ ڈگریوں کے لیے تعلیم حاصل کی، میں پاکستانی طلباء کے لیے تعلیمی رسائی اور عوامی سفارت کاری کے ایک بڑے اور نئے پلیٹ فارم کا آغاز “آکسفورڈ پاکستان پروگرام” کے نام سے کیا گیا ہے۔

    لانچ میں تقریباً 200 معزز مہمانوں نے شرکت کی جن میں ملالہ یوسفزئی، پاکستان کے ہائی کمشنر معظم علی خان، برطانوی ممبر انِ پارلیمان ناز شاہ، یاسمین قریشی، اور پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین صہیب عباسی شامل تھے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی سے سینئر ماہرین تعلیم اور منتظمین نے بھی تقریب میں شرکت کی، جن میں ایل ایم ایچ کی پرنسپل پروفیسر کرسٹین جیرارڈ، مینسفیلڈ کالج کی پرنسپل ہیلن ماؤنٹ فیلڈ کیو سی، اکیڈمک رجسٹرار ڈاکٹر سائرہ شیخ ، ڈائریکٹر بارئے داخلہ انڈر گریجویٹ ڈاکٹر ثمینہ خان شامل تھیں ، ڈائریکٹر برائے داخلہ گریجویٹ ڈاکٹر نادیہ پولینی اور چیف ڈیولپمنٹ آفیسر لیزل ایلڈر نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

    آکسفورڈ پاکستان پروگرام (“او پی پی”) اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جس کے ذریعے آکسفورڈ میں پاکستانی اور برطانوی پاکستانی طلباء کی کم نمائندگی کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک ٹھوس کوشش کی جا رہی ہے۔پروگرام کا مقصد پاکستان کی اکیڈمک پروفائل کو بڑھانا، اور آکسفورڈ یونیورسٹی اور پاکستان کے درمیان تعلیمی تبادلے کو فروغ دینا بھی ہے۔او پی پی کی قیادت آکسفورڈ کے ماہرین تعلیم اور سابق طلباء کر رہے ہیں، جن میں پروفیسر عدیل ملک، ڈاکٹر طلحہ جے پیرزادہ، ہارون زمان، اور مناہل ثاقب شامل ہیں۔

    او پی پی کے شریک بانی اور اکیڈمک لیڈ ڈاکٹر عدیل ملک نے سیکیورٹی پر روایت سے ہٹ کر پاکستان میں علمی بات چیت کو وسیع کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کس طرح سماجی سائنس کے چند مرکزی سوالات کے لیے ایک مفید تجربہ گاہ کے طور پر کام کر سکتا ہے جن میں ماحولیاتی تبدیلی، سماجی انصاف سے لے کر ٹیکس اصلاحات تک شامل ہیں۔

     

    ڈاکٹر مالک نے علامہ محمد اقبال لیکچر سیریز (“اقبال لیکچر”) کا آغاز کیا، جسے شاعر، فلسفی اور قانون دان علامہ محمد اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
    اقبال لیکچر کی افتتاحی تقریب جمعرات 19 مئی 2022 کو دادابھائے فاؤنڈیشن کے تعاون سے منعقد کی گئی، جس میں کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر وائل بی حلق نے “سلطنت اور دولت کی اخلاقیات: ابن خلدون اور جدید ریاست” کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ اس لیکچر کو پاکستان بھر کی 20 یونیورسٹیوں میں لائیو سٹریم کیا گیا۔

    او پی پی کے شریک بانی ڈاکٹر طلحہ جے پیرزادہ نے بتایا کہ او پی پی کے حصے کے طور پر مختلف اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے اگلے پانچ سالوں میں تقریباً 1 ملین پاؤنڈ کے وعدے حاصل کیے جا چکے ہیں، جس میں پاکستانی نژاد آکسفورڈ میں گریجویٹ طلباء کے لیے اسکالرشپ پروگرام بھی شامل ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کی 220 ملین آبادی میں سے 60 فیصد سے زائد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہونے کے باوجود ہر سال پاکستان کے بیس سے زائد طلباء فنڈز کی کمی کی وجہ سے آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گریجویٹ پیشکش لینے سے قاصر ہیں۔

    او پی پی کے ایک اور شریک بانی، ہارون زمان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح برطانیہ کی دوسری سب سے بڑی نسلی اقلیتی برادری ہونے کے باوجود، برطانوی پاکستانی آکسفورڈ یونیورسٹی میں سب سے کم نمائندگی کرنے والے گروپ ہیں۔مسٹر زمان نے او پی پی کے برسری پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا، جو آکسفورڈ میں موجودہ پاکستانی نژاد گریجویٹ طلباء کو اضافی مالی مدد فراہم کرتا ہے۔

    انہوں نے او پی پی کے رسائی پروگرام کا بھی آغاز کیا، جو آکسفورڈ کے طلباء اور حالیہ سابق طلباء کے اسکولوں کے دوروں کو سہولت فراہم کرے گا، تاکہ برطانیہ کے اسکولوں میں آکسبرج کے متوقع درخواست دہندگان سے بات چیت کی جا سکے جو برطانوی پاکستانی طلباء کی زیادہ تعداد والے علاقوں میں واقع ہیں، ساتھ ہی پاکستان میں سکولوں کے ساتھ ورچوئل مصروفیات بھی شروع کی جائیں۔

    او پی پی کی آؤٹ ریچ لیڈ مناہل ثاقب نے او پی پی کا انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جس کے ذریعے او پی پی آکسفورڈ اور پاکستانی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل افراد کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے کے لیے وینچر فار پاکستان کے ساتھ شراکت کرے گا۔ یہ پروگرام شرکاء کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کا تجربہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

    اس موقع پر ورلڈ بینک میں پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر ناجی بینہسین نے او پی پی کے ساتھ ایک نئے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان کیا جس کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی کے چار اور پاکستان کی ایک پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے چار طلباء ہر سال اسلام آباد میں موجود عالمی بینک کے دفتر میں انٹرن شپ کرنے کے قابل ہوں گے۔

    ملالہ یوسفزئی، جو اب تک نوبل انعام حاصل کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت ہیں، نے او پی پی کے حصے کے طور پر آکسفورڈ میں پاکستانی خواتین کے لیے گریجویٹ اسکالرشپ کے قیام کا اعلان کیا اور خواہش ظاہر کی کہ او پی پی یونیورسٹی میں ایک دیرپا منصوبہ بنے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی او پی پی کو تعلیمی رسائی اور مصروفیت کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم کوشش قرار دیا۔انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ او پی پی کی طرف سے LMH کی حمایت کی جا رہی ہے، وہ کالج جہاں ان کی پیاری والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے تعلیم حاصل کی تھی۔
    LUMS کے بانی سید بابر علی نے بھی اس اقدام کو ایک تاریخی کوشش قرار دیا جس میں بڑی تبدیلی کی صلاحیت موجود ہے۔

    روڈس ہاؤس کی وارڈن اور رہوڈز ٹرسٹ کی سی ای او ڈاکٹر الزبتھ کس نے پاکستان کے لیے دوسری روڈز اسکالرشپ کے لیے روڈز ٹرسٹ کی مہم کا اعلان کیا، جس کو او پی پی کی حمایت حاصل ہے۔TRG Global کے سی ای او محمد خیشگی کی قیادت میں پاکستانی رہوڈز کے اسکالرز کا ایک گروپ اس مقصد کے لیے پہلے ہی 60 ہزار ڈالرز اکٹھا کر چکا ہے۔

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • سانحہ اے پی ایس میں زخمی ہونیوالا نوجوان آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین کا صدر منتخب

    سانحہ اے پی ایس میں زخمی ہونیوالا نوجوان آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین کا صدر منتخب

    سانحہ اے پی ایس میں زخمی ہونیوالا نوجوان آکسفورڈ یونیورسٹی طلبہ یونین کا صدر منتخب

    آرمی پبلک اسکول پشاورپر دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والا طالبِ علم آکسفورڈ یونیورسٹی کا طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوگیا ہے

    احم نواز کا بھائی اے پی ایس دہشت گردانہ حملے میں شہید بھی ہو چکا ہے، احمد نواز کی عمر 21 برس ہے اور وہ آکسفورڈ یونین کا صدر بن گیا ہے، احمد نواز، 14 سال کی عمر میں برطانیہ آئے تھے، نے بتایا کہ اس نے پچھلی رات کا زیادہ تر حصہ خوشی سے روتے ہوئے گزارا اور اس نے سب سے پہلے جس شخص کو یہ خبر سنائی وہ اس کی ماں تھی۔ نواز کی عمر 14 سال تھی جب ان کے اسکول پر حملے میں انہیں گولی لگی تھی، آرمی پبلک اسکول پشاور پر دسمبر 2014 میں دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں 148 افراد جاں بحق جبکہ 114زخمی ہوئے تھے ،احمد نواز ان طلبہ میں شامل تھے جو دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچنے میں کامیاب رہے وہ حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور انہیں علاج کی غرض سے برطانیہ بھیجا گیا تھا جہاں صحت مند ہونے کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ برطانیہ سے مکمل کیا

    اب احمد نواز آکسفورڈ یونیورسٹی کی طلبا یونین کا صدر بن گئے ہیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر احمد نواز نے اپنے آکسفرڈ یونیورسٹی کی طلبا یونین کے صدر بننے کوبڑا اعزاز اور تاریخی لمحہ قراردیا ،احمد نواز کا کہنا تھا کہ آج تاریخی دن میں ہمیشہ انکو یاد رکھوں گا جنہوں نے میرا ساتھ دیا میں اپنے والدین کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے ہر چیز میں ناقابل یقین حد تک مدد کی! میرے وہ دوست جو اس سفر میں میرے ساتھ رہے۔اور آخر کار میری ٹیم، جس نے اس تاریخی لمحے کو حقیقی معنوں میں رونما کرنے کے لیے انتہائی غیر معمولی محنت کی ہے!شکریہ

    احمد نواز کے والد محمد نواز نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اور الحمدللہ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والا پہلا نوجوان ہے جس نے یہ سنگ میل حاصل کیا۔آکسفورڈ یونین الیکشن میں سخت ترین مقابلے کے بعد تاریخی فتح بے نظیر بھٹو کے بعد احمد نواز دوسرے پاکستانی ہیں جنہوں نے یہ مقام حاصل کیا

    احمد نواز کے والد محمد نواز خان نے ایک اور ٹویٹ میں مزید کہا کہ الیکشن سے ایک دن پہلے میں اور میری اہلیہ آکسفورڈ گئے اور ہم نے احمد نواز کی حوصلہ افزائی کی۔جب اس نے اپنے والدین کو اپنے آس پاس دیکھا تو اسے حوصلہ ملا،والدین کے طور پر ہم اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی ہی کر سکتے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی سانحہ اے پی ایس کی ذمہ دار ٹی ٹی پی قیادت سے قطر میں ملتے رہے، شرجیل میمن

    سانحہ اے پی ایس،سپریم کورٹ کا انکوائری کمیشن رپورٹ بارے بڑا حکم

    سانحہ اے پی ایس، آرمی چیف میدان میں آ گئے، قوم کو اہم پیغام دے دیا

    سانحہ اے پی ایس، وزیراعلیٰ پنجاب نے دیا اہم ترین پیغام

    سانحہ آرمی پبلک سکول: 3 ہزار صفحات پر مشتمل انکوائری کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ کے سپرد

    حکومت جواب دے ،پشاوردھماکے میں کون ملوث ہے،سراج الحق

    خٹک صاحب مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ یہ …………….کام بھی کرتے ہیں، خواجہ آصف

    ہمیں قانون نہ سکھایا جائے،صبر کریں، اب تماشا نہیں چلے گا،پرویز خٹک کا اسمبلی میں دبنگ اعلان

    علی امین گنڈا پور کا مولانا کو الیکشن لڑنے کا چیلنج اسمبلی میں کس نے قبول کیا؟

    حلف پاکستان کا اور نوکری کسی اور کی، ایسے نہیں چلے گا،مراد سعید

    سانحہ اے پی ایس، سپریم کورٹ میں نواز شریف کو بلانے کا مشورہ دیا جائے،وزیراعظم کو بریفنگ

    سانحہ اے پی ایس: زخم مندمل نہ ہوسکے،ٹویٹرپرٹاپ ٹرینڈ

    سانحہ اے پی ایس،حکومت نے سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگ لیا