Baaghi TV

Tag: آکسیجن

  • کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن دریافت

    کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن دریافت

    ماہرین فلکیات نے کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن اور بھاری دھاتوں جیسے عناصر دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق یہ کہکشاں زمین سے 13.4 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کائنات کے ابتدائی دور میں بنی تھی بگ بینگ کے نتیجے میں کائنات 13.8 ارب سال قبل وجود میں آئی تھی۔

    یہ غیر معمولی طور پر بڑی اور روشن کہکشاں، جسے ”JADES-GS-z14-0“ کا نام دیا گیا ہے، سب سے پہلے جنوری 2024 میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے دریافت کی گئی تھی یہ دوربین انفراریڈ روشنی میں مشاہدہ کرتی ہے، جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتی، اور کائنات کی قدیم ترین کہکشاؤں کی کھوج میں مدد دیتی ہے۔

    حماس کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ

    یہ روشنی، جو کہکشاں سے نکل کر زمین تک پہنچی، 13.4 ارب سال کا سفر طے کر چکی ہے، یعنی ماہرین 300 ملین سال پرانی کائنات کو دیکھ رہے ہیں بعد ازاں، چلی کے آٹاکاما ریجن میں موجود ALMA“ (Atacama Large Millimeter/submillimeter Array)“ نامی رصد گاہ نے اس کہکشاں کا مزید مشاہدہ کیا اور حیران کن طور پر وہاں آکسیجن اور بھاری دھاتوں کی موجودگی کا سراغ لگایا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کہکشائیں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی تھیں۔

    لیڈن یونیورسٹی کے ماہر فلکیات سینڈر شوؤس نے کہا، ’یہ ایسا ہے جیسے وہاں کسی نوجوان کو پایا جائے جہاں صرف نوزائیدہ بچے ہونے چاہیے تھے،یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ ابتدائی کہکشائیں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی اور پروان چڑھیں۔

    کچے میں 45 ڈاکو ہلاک اور67 کو گرفتار کیا گیا ، مجتبیٰ شجاع الرحمان

    JADES-GS-z14-0 کی ساخت اور اس میں بھاری دھاتوں کی مقدار نے ماہرین کو ششدر کر دیا ہےعام طور پر، کہکشائیں ہائیڈروجن اور ہیلیئم جیسی ہلکی گیسوں سے بنتی ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ ستارے بھاری عناصر پیدا کرتے ہیں لیکن اس کہکشاں میں توقع سے 10 گنا زیادہ بھاری عناصر پائے گئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہاں کئی نسلوں کے بڑے ستارے پہلے ہی پیدا ہو کر ختم ہو چکے ہیں۔

    اٹلی کی اسکولا نورمالے سپیریوری کے ماہر فلکیات ڈاکٹر اسٹیفانو کارنیانی کہتے ہیں کہ ’یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں ابتدائی کہکشائیں بہت تیزی سے اپنا ماس اکٹھا کر لیتی ہیں، جو موجودہ ماڈلز کے برعکس ہے۔

    اوکاڑہ: غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    یہ کہکشاں اپنی بڑی جسامت اور حیرت انگیز روشنی کی وجہ سے بھی ماہرین کے لیے دلچسپی کا باعث بنی ہے شوؤس کے مطابق، جیمز ویب نے تقریباً 700 دور دراز کہکشاؤں کا جائزہ لیا، لیکن یہ کہکشاں سب سے زیادہ دور ہونے کے باوجود تیسری سب سے روشن نکلی۔

    عام طور پر، ماہرین کا ماننا تھا کہ قدیم کہکشائیں زیادہ چھوٹی اور مدھم ہوں گی، کیونکہ اس وقت کائنات بھی چھوٹی تھی مگر JADES-GS-z14-0 نے اس نظریے کو چیلنج کر دیا ہے شوؤس نے کہا کہ یہ ابتدائی کہکشائیں آج کی معروف کہکشاؤں سے بہت مختلف ہیں یہ زیادہ کمپیکٹ، گیس سے بھرپور اور بے ترتیب ہیں اس دور میں ستارے ایک محدود جگہ میں بہت تیزی سے تشکیل پا رہے تھے، جس سے کہکشاؤں میں زیادہ شدت دیکھی جا سکتی ہے۔‘

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، تھانہ آئی نائن حملے میں ملوث 2 خطرناک دہشتگرد گرفتار

    یہ دریافت اس بات کا بھی اشارہ دیتی ہے کہ ابتدائی کہکشاؤں میں ستارے زیادہ بڑے اور زیادہ مقدار میں پیدا ہوئے ہوں گے، جو ان کی غیر معمولی روشنی کی وضاحت کرتا ہے۔

    شوؤس نے اس کا موازنہ شمعوں سے کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے پاس ایک بڑی لو والی شمع ہو سکتی ہے (جو بڑے ستاروں کی طرح زیادہ روشن ہوتی ہے) یا ایک چھوٹی، دیرپا جلنے والی شمع (جو عام ستاروں کی مانند ہوتی ہے)، ماہرین اس کہکشاں کا مزید مطالعہ کرنا چا ہتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ منفرد ہے، یا اگر مزید ایسی کہکشائیں بھی موجود ہیں جو جلدی تشکیل پا کر روشن ہو چکی تھیں۔

    یوکرین کا روسی نیوکلئیر بمبار طیاروں کے بیس پر حملہ

    یورپی ماہر فلکیات گیرگو پاپنگ نے کہا یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی کہکشائیں بگ بینگ کے بعد توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی تھیں یہ ALMA رصدگاہ کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو کائنات کے ابتدائی حالات کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے۔‘

    کارنیانی نے کہا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور ALMA کی مشترکہ تحقیقات کائناتی سحر انگیزی کے ابتدائی رازوں سے پردہ اٹھا سکتی ہیں، اور یہ بتا سکتی ہیں کہ ابتدائی ستارے اور کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں، یہ دریافت کائنات کے جنم کے بعد ہونے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

    موجودہ حالات میں قومی اتفاقِ رائے کی اشد ضرورت ہے، طارق فضل چوہدری

  • زمین پر موجود آکسیجن کو وجود میں آنے کیلئے تقریباً 20 کروڑ سال کا عرصہ لگا ،تحقیق

    زمین پر موجود آکسیجن کو وجود میں آنے کیلئے تقریباً 20 کروڑ سال کا عرصہ لگا ،تحقیق

    یوٹاہ: سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق زمین پر موجود آکسیجن کو وجود میں آنے کے لیے تقریباً 20 کروڑ سال کا عرصہ لگا ہے-

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے جیو کیمسٹ کی رہنمائی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں جنوبی افریقا کے ٹرانسوال سپر گروپ کے مرین شیلز کا مطالعہ کیا گیا،جس میں سائنسدانوں نے پایا کہ زمین پر موجود آکسیجن کو وجود میں آنے کے لیے تقریباً 20 کروڑ سال کا عرصہ لگا ہے،جسے انہوں نے نے ‘گریٹ آکسیڈیشن ایونٹ (جی او ای)’ کا نام دیا ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق تقریباً 2.5 ارب برس قبل پہلی بار آکسیجن زمین کے ایٹماسفیئر میں اکٹھی ہونی شروع ہوئی جس نے ارتقائی مراحل سے گزرنے والے سیارے میں پیچیدہ زندگی کے نمو کے لیے اسٹیج سیٹ کیا، مطالعے میں مستحکم تھیلیئم (ٹی آئی) کے آئسو ٹوپس ریشو اور ریڈاکس سینسیٹو عناصر کی جائزہ لیا گیا جسمیں سائنس دانوں نے سمندر میں آکسیجن کے مقدار میں اتار چڑھاؤ کو دریا فت کیا جو ماحول میں موجود آکسیجن میں تبدیلوں سے مطابقت رکھتے تھے۔

    بھارتی گلوکارہ الکا یاگنک میں نایاب بیماری کی تشخیص

    جامعہ میں اسسٹنٹ پروفیسر چیڈلِن اوسٹرینڈر کا کہنا تھا کہ یہ وقوعہ گریٹ آکسیڈیشن ایونٹ (جی او ای) کم از کم 20 کروڑ سال تک جاری رہا اور سمندروں میں آکسیجن اکٹھے ہونے کا سراغ لگانا اب تک مشکل رہا ہےزمین کے وجود کے ابتدائی نصف عرصے میں اس کا ماحول اور سمندر بڑے پیمانے پر آکسیجن سے خالی تھے، یہ گیس جی او ای سے قبل سمندر میں سیانو بیکٹیریا نے پیدا کی لیکن ان ابتدائی ایام میں یہ معدنیات اور آتش فشانی گیسز سے ملنے کے بعد ہونے والے ری ایکشنز کی وجہ سے فوراً ختم ہوجاتی تھی۔

    مستقبل میں ہمیں اسمارٹ فونز کی ضرورت نہیں ہوگی،ایلون مسک

  • ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    واشنگٹن: ناسا نے پہلی بار اپنے پریسیورنس رووَر کی مدد سے مریخ پر آکسیجن پیدا کی جس سے ایک خلاباز تین گھنٹے تک سیارے پر زندہ رہ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق رووَر جس نے فروری 2021 میں مریخ پر لینڈنگ کی تھی، نے اپنی مشین میں نصب آکسیجن پیدا کرنے والی ڈیوائس( MOXIE( Mars Oxygen In-Situ Resource Utilization Experiment، کا استعمال کرتے ہوئے دو سالوں کے دوران وقفے وقفے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تبدیل کرکے آکسیجن پیدا کی مریخ پر پہنچنے کے بعد سے مائیکرو ویو سائز کے آلے نے 4.3 اونس (122 گرام) آکسیجن پیدا کی ہے یہ مقدار کتے کے 10 گھنٹے سانس لینے کے برابر مقدار ہے۔

    اپنی کارکردگی کے عروج کے دوران، MOXIE نے فی گھنٹہ 12 گرام آکسیجن 98 فیصد خالص یا اس سے بہتر پیدا کی، جو کہ اس آلے کے لیے NASA کے اہداف سے دوگنا ہے 7 اگست کو، MOXIE نے اپنی تمام ضروریات پوری کر کے 16ویں اور آخری بار کام کیا۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    ناسا کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کامیابی امید دلاتی ہے کہ انسانی زندگی ایک دن سُرخ سیارے پر برقرار رہ سکتی ہےواشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹر میں اسپیس ٹکنالوجی مشن ڈائریکٹوریٹ رُکن سائنسدان ٹرڈی کورٹس نے کہا کہ ہمیں MOXIE جیسی کی ٹیکنالوجی پر فخر ہے جو مقامی وسائل کومستقبل کے ریسرچ مشنوں کے لیے مفید مصنوع میں تبدیل کر سکتی ہےاس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ایک ایسے مستقبل کے قریب آ گئے ہیں جس میں خلاباز زمین سے دور رہتے ہوئے سرخ سیارے پر رہ سکتے ہیں۔

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

  • چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    فلوریڈا: ناسا کا کہنا ہے کہ چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: ناسا کے مطابق ایک حالیہ ٹیسٹ کے دوران، ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کے سائنسدانوں نے چاند کی مصنوعی مٹی سے کامیابی کے ساتھ آکسیجن نکالی یہ پہلا موقع تھا جب یہ اخراج خلاء کے ماحول میں کیا گیا ہے، جس سے خلانوردوں کے لیے چاندی کے ماحول میں ایک دن نکالنے اور وسائل کے استعمال کی راہ ہموار ہوئی ہے، جسے ان-سیٹو ریسورس یوٹیلائزیشن کہتے ہیں۔

    واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف

    اس ضمن میں جانسن اسپیس سینٹر میں ایک کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ کاربوتھرمل ریڈکشن ڈیمنسٹریشن (کارڈ) نامی ایک ٹیسٹ ویکیوم چیمبر میں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ویکیوم چیمبر میں ہوا بالکل نہیں ہوتی بلکہ اس میں خلا جیسی کیفیت ہوتی ہے۔

    اسی ویکیوم چیمبر میں چاند جیسی مٹی کی سیمولیٹڈ کیفیت پر یہ تجربہ کیا گیا ہے۔ یہاں مٹی سے مراد باریک ذرات کی وہ دھول ہے جو چاند کو ڈھانپے ہوئے ہےمٹی سے آکسیجن کے کامیاب حصول کےبعد چاند پر انسانی موجودگی کو طویل عرصے تک ممکن رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق …

    15 فٹ قطر کے تھرمل ویکیوم چیمبر میں عین چاند جیسی کیفیات پیدا کی گئیں اور لیزر سے گرم کرکے مٹی کو گرم کرکے پگھلایا۔ اس عمل کو کاربوتھرمل کا نام دیا جاتا ہےکیونکہ اس طرح مادوں میں پھنسی ہوئی گیسوں کو باہر نکالا جاتا ہے۔ اس کے بعد ویکیوم چیمبر سے کاربن مونو آکسائیڈ اور آکسیجن کشید کی گئی ہے۔

    توقع ہے کہ اس عمل سے چاند پر رہنے والے ماہ نورد بھی اپنی آکسیجن خود بناسکیں گے۔

  • گلوبل فنڈز کا سندھ کے 4 اسپتالوں کو آکسیجن جنریشن پلانٹ دینے کا اعلان

    گلوبل فنڈز کا سندھ کے 4 اسپتالوں کو آکسیجن جنریشن پلانٹ دینے کا اعلان

    کراچی :گلوبل فنڈ محکمہ صحت سندھ کو 4 آکسیجن جنریشن پلانٹس دے گا، آکسیجن جنریشن پلانٹس سی 19 آر ایم گرانٹ کے تحت دیئے جائیں گے، پلانٹس سندھ حکومت کی ری پروگرامنگ ریکوئسٹ پر دیئے جارہے ہیں۔ جنریشن پلانٹس کی تنصیب سے اسپتالوں کو سستی آکسیجن 24 گھنٹے میسر ہوگی۔

    محکمہ صحت سندھ کے ذرائع کے مطابق گلوبل فنڈ محکمہ صحت سندھ کو 4 آکسیجن جنریشن پلانٹس دے گا، پلانٹس چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ، پیپلز میڈیکل کالج اسپتال نوابشاہ، لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد اور جامشورو میں لگائے جائیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق آکسیجن جنریشن پلانٹس سی 19 آر ایم گرانٹ کے تحت دیئے جائیں گے، پلانٹس سندھ حکومت کی ری پروگرامنگ ریکوئسٹ پر دیئے جارہے ہیں، چاروں پلانٹس کی مالیت مجموعی طور پر لگ بھگ ایک ارب روپے ہے۔

    ذرائع کے مطابق چاروں پلانٹس بالترتیب 80 کیوبک میٹر فی گھنٹہ، 82 کیوبک میٹر فی گھنٹہ، 200 کیوبک میٹر فی گھنٹہ اور 400 کیوبک میٹر فی گھنٹہ آکسیجن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    آکسیجن جنریشن پلانٹس کیئے ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول ایچ آئی وی / ایڈز سندھ ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے درخواست دی تھی، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گلوبل فنڈ محکمہ صحت سندھ کو 4 آکسیجن جنریشن پلانٹس دے رہا ہے اور یہ پلانٹس نومبر کے آغاز میں سندھ پہنچ جائیں گے۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے سابق صدر ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آکسیجن کی انسانی زندگی میں بہت اہمیت ہے اور اگر کسی انسان کو 3 منٹ تک آکسیجن نہ ملے تو اس کا برین ڈیڈ ہونا شروع ہوجاتا ہے، خون میں آکسیجن کا ایک مخصوص لیول پر مینٹین رہنا ضروری ہوتا ہے اور آکسیجن کی زیادتی بھی نقصاندہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہوا میں آکسیجن اور نائٹروجن موجود ہوتی ہے، جس میں آکسیجن 21 فیصد ہوتی ہے جو ہوا کے ذریعے ہمیں ملتی ہے، کرونا وائرس کی وباء کے ایام میں آکسیجن کی اہمیت کا لوگوں کو اندازہ ہوا، جب ہر گھر میں آکیسجن سیلنڈر استعمال ہورہے تھے اور آکسیجن کی قلت ہوگئی تھی، اس کی بلیک میں فروخت کی جارہی تھی۔

    ڈاکٹر مرزا علی اظہر کا کہنا تھا کہ اسپتال میں آکسیجن جنریشن پلانٹس کی تنصیب سے ان اسپتالوں کو 24 گھنٹے آکسیجن میسر ہوگی، ان سے سپلائی منقطع نہیں ہوتی اور آکسیجن کی تیاری پر لاگت میں بھی کمی آجائیگی۔