Baaghi TV

Tag: آگ

  • کوہلو کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، ریسکیو آپریشن جاری

    کوہلو کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، ریسکیو آپریشن جاری

    کوہلو کے علاقے کوہ جاندران میں لگی آگ پے24 گھنٹوں بعد بھی مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔

    جنگلات حکام کے مطابق محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کوہلو کے اہلکار اور مقامی رضاکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں آگ نے وسیع رقبے کے جنگلی درخت اور جھاڑیاں جلا دی ہیں اور جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا ہے ڈویژنل فارسٹ آفیسر جان محمد کاکڑ نے بتایا کہ آگ بجھانے تک ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن جاری رکھا جائے گا، دشوار گزار پہاڑی علاقے کی وجہ سے ریسکیو عملے کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم فیلڈ میں موجود عملہ مسلسل آگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں مصروف ہےبعض مقامات پر آگ کی شدت برقرار ہے اور مکمل کنٹرول میں وقت لگے گا،عملہ محدود وسائل کے باوجود مسلسل آپریشن میں مصروف ہے اور ریسکیو ٹیمیں مرحلہ وار آگ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • گل پلازہ آتشزدگی واقعے کی ابتدائی رپورٹ جاری

    گل پلازہ آتشزدگی واقعے کی ابتدائی رپورٹ جاری

    کراچی:حکام فائر بریگیڈ نے گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    حکام فائر بریگیڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گل پلازہ کی عمارت کا عقبی حصہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہےفرقان نامی فائر فائٹر عمارت گرنے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ کے ایم سی فائر بریگیڈ کا ایک فائر فائٹر ملبے کی زد میں آ کر زخمی ہوا ہے 6 افراد کی اموات اب تک رپورٹ ہوچکی ہیں، 17 افراد زخمی ہوئے، ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں لگی آگ پر 60 فیصد تک قابو پایا جا چکا ہے۔

    فائر بریگیڈ حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وقفے وقفے سے عمارت کے اندر آگ دوبارہ بھڑکنے کا سلسلہ جاری ہے، 3 جانب سے عمارت کو گھیرے میں لے کر فائر فائٹنگ جاری ہے،پانی وافر مقدار میں موجود ہے، فی الحال آگ مکمل بجھانا سب سے بڑا چیلنج ہے، عمارت کا اسٹرکچر انتہائی کمزور ہو چکا ہے، سامنے کا حصہ کسی وقت بھی گر سکتا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو واقعے کی فوری انکوائری کی ہدایت کی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے آگ کے باعث جانی نقصان پر اظہار افسوس کیاانہوں نے کمشنر کراچی کو آتشزدگی کی وجوہات معلوم کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، انہوں نے گل پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کی اور کہا کہ غفلت یا لاپرواہی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے، مراد علی شاہ نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کراچی کی کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ فوری کرانے کا حکم بھی دیا۔

  • انڈونیشیا کے نرسنگ ہوم میں آتشزدگی،16 افراد ہلاک

    انڈونیشیا کے نرسنگ ہوم میں آتشزدگی،16 افراد ہلاک

    انڈونیشیا کے نرسنگ ہوم میں آگ لگنے سے 16 افراد ہلاک ہوگئے۔

    فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق انڈونیشیا کے شہر مناڈو میں واقع ریٹائرمنٹ ہوم میں اتوار کی رات تقریباً 8:30 بجے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی،آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔

    شہر کے فائر اور ریسکیو ایجنسی کے سربراہ نے بتایا کہ کئی لاشیں نرسنگ ہوم کے کمروں سے برآمد ہوئیں آگ پر تقریباً ایک گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا، تاہم پولیس اب بھی آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہی ہے پولیس جاں بحق افراد کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے اور متاثرین کے اہل خانہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسپتال سے رابطہ کریں کئی لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت مشکل ہو گئی ہے۔

    ہم بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں،عظمیٰ بخاری

    واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں دارالحکومت جکارتہ میں 7 منزلہ دفتری عمارت میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    ٹیریان وائٹ عمران خان کی بیٹی،نادرا میں ریکارڑدرست کیا جائے،خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع

  • کراچی : لانڈھی ایکسپورٹ پروسسنگ زون کی فیکٹری میں آتشزدگی ، 5 منزلہ عمارت منہدم ، 7 افراد زخمی

    کراچی : لانڈھی ایکسپورٹ پروسسنگ زون کی فیکٹری میں آتشزدگی ، 5 منزلہ عمارت منہدم ، 7 افراد زخمی

    کراچی کے لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 5 منزلہ عمارت منہدم ہو گئی ، جس میں 7 افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ کپڑوں کی فیکٹری میں لگی تھی، جس کے بعد وہ تیزی سے پھیل کر دیگر قریبی عمارتوں تک جا پہنچی، آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم فوری طور پر ملازمین کو نکالنے کے لیے کوئی خاطر خواہ نکلنے کے راستے یا انتظامات نظر نہیں آئے ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جھلسنے والے مزدوروں کو عمارت سے نکال لیا فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کو پھیلنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ اطراف کی فیکٹریوں کو بھی خالی کروا لیا گیا ہے، آگ لگنے کے دوران فیکٹری سے مرد و خواتین ملازمین کنسٹرکشن لفٹ سے لٹک کر باہر نکلے-

    ٹرمپ روسی صدر سے براہ راست ملاقات کریں گے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین و مرد ملازمین فیکٹری کی کنسٹرکشن لفٹ سے لٹک کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ آگ لگنے سے متاثرہ فیکٹری پانچ منزلہ ہے، جہاں سے لٹک کر نکلنے کے دوران ممکنہ حادثہ کسی ملازم کی جان بھی لے سکتا تھا۔

    ایشیا کپ 2025: بھارتی میڈیا کا ہاکی انڈیا کے آفیشل کے حوالے سے دعوی جھوٹا نکلا

  • طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    ایک شخص نے طلاق کے فیصلے پر غصے میں آ کر میٹرو ٹرین میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس سے ٹرین میں بھگدڑ مچ گئی اور چھ افراد زخمی ہو گئے۔

    یہ افسوسناک واقعہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پیش آیا،67 سالہ ملزم جس کی شناخت ”وون“ کے نام سے ہوئی ہے، اس پر الزام ہے کہ اس نے 31 مئی کو صبح کے اوقات میں چلتی ٹرین میں آگ لگا کر مسافروں کی جان خطرے میں ڈالی، واقعے کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ سفید ٹوپی پہنے شخص نے مصروف میٹرو کوچ میں اچانک فرش پر پٹرول چھڑک دیا جس سے مسافروں میں کھلبلی مچ گئی۔

    جیسے ہی پٹرول زمین پر پھیلا مسافر گھبرا کر بھاگنے لگے۔ ایک خاتون جلدی میں پھسل کر گر گئیں اور اس کے جوتے وہیں رہ گئے۔ چند لمحوں بعد مذکورہ شخص کو گھٹنے ٹیک کر آگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

    ملزم کو گرفتار کر کے اس پر قتل کی کوشش اور آتشزدگی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے پولیس کے مطابق وون نے تفتیش میں بتایا کہ وہ طلاق کے فیصلے سے شدید دلبرداشتہ تھا اور اس نے کئی ہفتے قبل ہی پٹرول خرید لیا تھاابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس کی سابقہ بیوی بھی ٹرین میں موجود تھی یا نہیں۔

    استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس فعل کے ذریعے نہ صرف آگ بھڑکائی گئی بلکہ زہریلی گیسوں کے اخراج سے مسافروں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں جو ایک دہشت گردی کے مترادف جرم ہے۔ اگر انخلاء میں دیر ہو جاتی تو جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا تھا،حکام کے مطابق چھ افراد زخمی ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کو جلنے کی چوٹیں آئیں یا نہیں۔

  • لاس اینجلس آتشزدگی کی تحقیقات میں نئے انکشافات

    لاس اینجلس آتشزدگی کی تحقیقات میں نئے انکشافات

    کیلیفورنیا: لاس اینجلس کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے متعلق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ آگ کا آغاز 7 جنوری سے نہیں بلکہ یکم جنوری سے ہو گیا تھا۔

    باغی ٹی وی: امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق آتشزدگی کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ آگ کا آغاز 7 جنوری سے نہیں بلکہ یکم جنوری سے ہو گیا تھا متاثرہ علاقے کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہی پہاڑوں پر ایک جگہ بھی یکم جنوری کو آگ لگی تھی تاہم اس آگ سے مختصر رقبہ متاثر ہوا تھا۔

    رہائشیوں نے شکوہ کیا کہ انتظامیہ نے اس آگ پر توجہ نہیں دی اور اسے بڑھنے سے روکنے کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اُٹھایا گیا بعد ازاں لگنے والی آگ کو بجھانے میں پیشہ ورانہ طریقہ کار اختیار کرنے کے بجائے عجلت سے کام لیا گیا۔متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے آگ سے متعلق معلومات کے تاخیر سے لوگوں تک پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا جس کے باعث زیادہ نقصان ہوا۔

    ملک میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا,کیسز کی تعداد 72 تک پہنچ گئی
    fire
    امریکی میڈیا نے بھی 2 جنوری اور 7 جنوری کی سیٹلائٹ تصاویر بھی جاری کیں جن میں ایک ہی مقام سے آگ کا دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا،رہائشیوں کا بتانا ہے کہ ان پہاڑوں پر یکم جنوری کو بھی ایک آگ لگی تھی جس سے 10ایکڑ سے کچھ کم رقبہ متاثر ہوا تھا لیکن اسے بہت حد تک نظر انداز کیا گیا۔

    رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یکم جنوری اور 7 جنوری کو لگنے والی آگ میں یقینی طور پر کوئی تعلق ہے، رہائشیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یکم جنوری کو لگنے والی آگ نئے سال کے جشن پر ہونے والی آتش بازی کے نتیجے میں لگی۔

    اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    واضح رہے کہ لاس اینجلس میں ایک سے زائد مقامات میں آگ لگی ہوئی ہے جن میں پیسیفک پیلیسیڈز میں لگنے والی آگ بھی شامل ہے، یہ آگ اب تک 23 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے کو متاثر کرچکی ہے۔

  • لاس اینجلس ،  آسکرز ایوارڈز تقریب منسوخ ہونے کا امکان

    لاس اینجلس ، آسکرز ایوارڈز تقریب منسوخ ہونے کا امکان

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگی بدترین آتشزدگی نے شہر کی صورت حال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے، جس کے باعث رواں برس کی 97 ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) تقریب منسوخ ہونے کا امکان ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایسی سنگین صورتحال کے باعث آسکرز کی تقریب کو منسوخ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

    لاس اینجلس میں گزشتہ ہفتے سے جاری بدترین آتشزدگی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں خوفناک تباہی آئی ہے۔ شہر کی موجودہ حالت کے پیش نظر، برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹی وی آرٹس کی سالانہ ٹی پارٹی، اے ایف آئی ایوارڈز لنچ اور کریٹکس چوائس ایوارڈز جیسی اہم تقاریب بھی ملتوی کر دی گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق، آسکر ایوارڈز کی تقریب رواں برس 2 مارچ کو شیڈول کی گئی تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس کی منسوخی کا امکان ہے۔ اس فیصلے کا تعین ہالی وڈ کے مشہور اداکار ٹام ہینکس، ایما اسٹون، میریل اسٹریپ، اور ہدایتکار اسٹیون اسپیلبرگ کی قیادت میں ایک کمیٹی کرے گی جو حالات کا بغور جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔

    لاس اینجلس میں لگی آتشزدگی کی شدت کے باعث معروف شخصیت میگھن مارکل نے اپنی نیٹ فلکس سیریز کی ریلیز کو بھی روک دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر میں حالات انتہائی نازک ہیں اور جشن یا تفریحی سرگرمیاں اس ماحول میں مناسب نہیں ہیں۔آگ کے باعث گزشتہ ماہ کے آغاز میں لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آتشزدگی کی وجہ سے 97 ویں اکیڈمی ایوارڈز کی نامزدگیاں بھی ملتوی کر دی گئی تھیں۔ اصل میں یہ نامزدگیاں 17 جنوری کو اعلان کی جانی تھیں، تاہم اب ان کا اعلان 19 جنوری کو کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، آسکرز کی منسوخی کے حوالے سے بورڈ کا موقف ہے کہ ایسی صورتحال میں جب کئی افراد نے جان و مال کا ناقابل تلافی نقصان اٹھایا ہو، جشن منانا مناسب نہیں۔ اگرچہ یہ آتشزدگی اگلے ہفتے تک ختم بھی ہو جائے، لیکن شہر اس درد اور نقصان سے مہینوں تک نمٹنے میں لگا رہے گا۔

    لاس اینجلس میں آتشزدگی سے اب تک 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہزاروں گھر جل کر خاکستر ہو چکے ہیں۔ شہر میں ہالی وڈ کی مشہور شخصیات جیسے کہ پیرس ہلٹن، بلی کرسٹل، مارک ہیمل، ایڈم بروڈی، لیٹن میسٹر، فرجی، اینا فارس اور اینتھونی ہاپکنز سمیت دیگر شخصیات کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔اس تمام صورتحال میں لاس اینجلس کی آتشزدگی نے نہ صرف مقامی افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر تفریحی صنعت کی بڑی تقاریب کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

    لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    اٹک: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت زیرو ویسٹ مہم جاری

  • لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    لاس اینجلس جنگلات میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری

    امریکا کے شہر لاس اینجلس میں جنگلات میں لگی آگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو اور فائر آرمز (اے ٹی ایف) اس تحقیقاتی عمل کی قیادت کر رہا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اے ٹی ایف کے عہدیدار جوز میڈینا نے کہا ہے کہ "ہم جانتے ہیں کہ ہر کوئی جواب چاہتا ہے اور کمیونٹی کا حق ہے کہ وہ ان وجوہات کے بارے میں معلومات حاصل کرے، مگر ابھی آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔”اے ٹی ایف نے یہ بھی بتایا کہ وہ مقامی لا انفورسمنٹ، فارسٹ سروس اور یو ایس اٹارنی کے ساتھ مل کر اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات کر رہا ہے۔ تحقیقاتی عمل میں 75 سے زائد افراد شریک ہیں، جو کہ دو مختلف مقامات سے آگ کے آغاز کی وجوہات کا پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لاس اینجلس میں حالیہ آگ کی تباہ کن صورتحال نے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ اب تک 40 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ جل کر تباہ ہو چکا ہے، 12 ہزار سے زائد گھر خاکستر ہو چکے ہیں اور 30 کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔اس آتشزدگی کی ایک اور ہولناک کہانی سامنے آئی ہے، جب شمالی لاس اینجلس کے علاقے الٹاڈینا میں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ڈیلیس کی جلی ہوئی لاش کی باقیات ملی۔ 95 سالہ اداکارہ نے مشہور فلموں "بلوز برادرز”، "لیڈی سنگز دی بلوز” اور "دی 10 کمانڈمنٹس” میں اہم کردار ادا کیے تھے۔ ان کی پوتی کیلی نے فیس بک پوسٹ پر ان کی موت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کی دادی کی باقیات ان کے گھر سے ملی ہیں۔کیلی نے ایک ویڈیو میں جلی ہوئی سائیکل، ریفریجریٹر اور دروازہ دکھایا اور کہا کہ انہوں نے اپنی دادی کو آخری بار اس وقت دیکھا تھا جب وہ انہیں منگل کی رات کو ان کے الٹاڈینا والے گھر چھوڑ کر آئیں۔ کیلی نے مزید بتایا کہ اس وقت آگ کی ابتدا ہوئی تھی اور دو پہاڑوں کے درمیان لگی آگ اتنی خطرناک محسوس نہیں ہو رہی تھی، تاہم وہ اپنے کینسر سے متاثرہ بہن بھائی کی دیکھ بھال کے لیے واپس آ گئی تھیں۔لاس اینجلس میں تیز ہوائیں ہونے کے باعث آگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

    لاس اینجلس آگ، رہائشیوں کو بے دخلی سے بچانے کے لیے قراردادیں منظور
    لاس اینجلس میں افسران نے رہائشیوں کو بے دخلی سے بچانے کے لیے قراردادیں منظور کر لیں، اور ان لوگوں کے لیے فنڈ قائم کیا جنہوں نے اپنے گھر اور کاروبار کھو دیے،لاس اینجلس سٹی کونسل نے منگل کے روز کئی قراردادوں کی منظوری دی تاکہ رہائشی جنگل کی آگ سے ہونے والے نقصان سے بازیابی کر سکیں اور معمول کی حالت میں واپس آ سکیں، منظور شدہ اقدامات میں وفاقی ایمرجنسی فنڈز کی تیز تر منتقلی، مٹی کے پھسلنے کے امکانات کا جائزہ اور رہائشیوں کو بے دخلی اور قیمتوں کے بڑھنے سے بچانے کے اقدامات شامل ہیں، خاص طور پر ان افراد کو جو نقل مکانی کرنے والے ہیں یا پالتو جانوروں کے مالک ہیں۔ایک تجویز میں یہ شامل تھا کہ آگ سے متاثرہ کرایہ داروں کے لیے کرائے میں اضافے کو ایک سال کے لیے روک دیا جائے اور بے دخلی پر پابندی عائد کی جائے، لیکن اس تجویز کو کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔

    لاس اینجلس آگ، عوامی جائیداد اور انفراسٹرکچر کو نقصان کا تخمینہ تقریباً 360 ملین ڈالر
    فیڈرل فنڈز کے حوالے سے قرارداد میں کہا گیا کہ "ایک ابتدائی اندازے کے مطابق عوامی جائیداد اور انفراسٹرکچر کو نقصان کا تخمینہ تقریباً 360 ملین ڈالر لگایا گیا ہے،” اور مزید کہا کہ ان فنڈز کی کمی سے ضروری خدمات جیسے عوامی تحفظ، لائبریریاں، پارکس اور بے گھر افراد کی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔علیحدہ طور پر، لاس اینجلس کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز نے منگل کو ایک فنڈ قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ ان رہائشیوں یا کاروباروں کی مدد کی جا سکے جنہوں نے اپنی روزگار یا گھر کھو دیے ہیں۔بورڈ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے تاکہ وہ فنڈ کے لیے ضروریات کو مرتب کریں، جو "فلاحی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری، نجی شعبے سے عطیات حاصل کرنے اور ان افراد کی امداد کرنے کے اختیارات پر مشتمل ہو سکتا ہے جو ہوا کے طوفان اور اہم آگ کے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں،” اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق۔کیترن بارگر، بورڈ کی چیئر، نے اجلاس میں کہا، "ہم جانتے ہیں کہ ضروریات کی فہرست بہت وسیع ہے اور اس میں بچوں کی دیکھ بھال سے لے کر رہائشی امداد، اجرت کی واپسی تک شامل ہوں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈ "فنڈ دینے والوں کو کاؤنٹی بھر میں شدید ضروریات کی حمایت کرنے کا موقع دے گا۔”

    لاس اینجلس فائر ڈیپارٹمنٹ نے 7 جنوری کو تقریباً 1,000 فائر فائٹرز اور درجنوں فائر انجنوں کو پالیسیڈز فائر سے پہلے علاقے میں تعینات نہیں کیا تھا، جب ہوا کی رفتار بڑھنے لگی تھی، رپورٹ کے مطابق ایل اے ایف ڈی نے پانچ پانی لے جانے والے انجنوں کا عملہ بنایا تھا، جب کہ اس وقت 40 سے زیادہ انجن دستیاب تھے۔ فائر حکام نے دوسرا شفٹ مکمل کرنے کے لیے فائر فائٹرز کو ڈیوٹی پر رکھنے کا حکم نہیں دیا، جس سے عملے کی تعداد دوگنا ہو سکتی تھی۔ایل اے ایف ڈی چیف کرسٹِن کراؤلی نے لاس اینجلس ٹائمز کو ایک بیان میں ان کی ردعمل کی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "جو منصوبہ انہوں نے تیار کیا، میں اس کے پیچھے ہوں کیونکہ ہمیں شہر بھر میں تمام وسائل کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ کی کٹوتیوں کی وجہ سے ایل اے ایف ڈی کی میکانک پوزیشنز میں کمی آئی تھی جس کی وجہ سے کچھ "ریڈی ریزرو” انجن سروس سے باہر ہو گئے تھے۔

    لاس اینجلس آگ،متاثرین کی امداد کے لئے کنسرٹ کا اعلان
    لاس اینجلس کلپرز کا گھر، انگل ووڈ میں واقع انٹوٹ ڈوم، 30 جنوری کو فائر ایڈ کے عنوان سے ایک خیرات کنسرٹ کی میزبانی کرے گا، جس کا مقصد جنگل کی آگ سے متاثرہ کمیونٹیز کی دوبارہ آبادکاری کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔اس کنسرٹ کا اہتمام ایگ، لائیو نیشن اور ایرون انزوف کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس میں مشہور فنکاروں کی پرفارمنس متوقع ہے۔

    اب تک، آگ نے 25 افراد کی جان لے لی ہے، جن میں سے 9 پالیسیڈز فائر اور 16 ایٹن فائر میں ہلاک ہوئے۔حکومتی اقدامات میں لاس اینجلس میں 15 پوسٹل کوڈز میں ریئل اسٹیٹ کے غیر منصفانہ اور زبردستی نقد آفرز کو روکنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا گیا۔دو اسکول جو پالیسیڈز میں جل گئے تھے، عارضی کیمپس پر دوبارہ کھلیں گے۔

    جیسیکا سمپسن اور ایرک جونسن کے درمیان طلاق کی تصدیق

    ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے شراب کی خریداری کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ

  • لاس اینجلس،آتشزدگی سے چند دن قبل پرندوں کا  دوسری جگہ جانے کا منظر

    لاس اینجلس،آتشزدگی سے چند دن قبل پرندوں کا دوسری جگہ جانے کا منظر

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگی آگ کے نتیجے میں تباہی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور تیز ہواؤں کی وجہ سے یہ آگ مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق، لاس اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی ہوئی آگ پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ آگ کی شدت کے باعث اب تک تقریباً 40 ہزار ایکڑ رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے، اور آگ کے اثرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تباہی کے نتیجے میں 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ کئی افراد ابھی تک لاپتا ہیں۔مقامی حکام کے مطابق، آگ کے باعث 12 ہزار سے زائد مکانات اور عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور تقریباً 2 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس تباہ کن صورتحال کو قابو پانے کے لیے 12 ہزار سے زائد فائر فائٹرز، 1,100 فائر انجن، 60 طیارے اور 143 واٹر ٹینکرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں، تاہم ابھی تک ان تمام کوششوں کے باوجود آگ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔لاس اینجلس اور ونچورا کاؤنٹیز میں تیز ہوائیں چل رہی ہیں جو اس آگ کو مزید پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ یہ ہوائیں 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں جس کی وجہ سے جلتی ہوئی چیزیں اڑ کر دیگر علاقوں میں پھیل رہی ہیں۔ حکام کے مطابق، اس ہفتے کے دوران آگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔آگ کے شروع ہونے کے مقام کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر Palisades کے مقبول ہائیک ٹریل سے شروع ہوئی، تاہم اس کی درست وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    لاس اینجلس، امریکہ میں آتش زدگی کے دوران ایک عجیب اور دلچسپ منظر سامنے آیا، جب ہزاروں پرندے جنگل سے دوسری جگہ کی طرف کوچ کرتے ہوئے نظر آئے۔ یہ واقعہ آتش زدگی کے چند دن پہلے کا تھا، اور یہ منظر نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ ماہرین حیوانات کے لیے بھی حیرانی کا باعث بن گیا۔ماہرین کے مطابق، پرندوں کا یہ طرز عمل اپنی زندگی کو خطرے سے بچانا ہوتا ہے۔ یہ پرندے آتش زدگی کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنی رہائش گاہ کو چھوڑ کر نئی جگہ پر منتقل ہو گئے تھے۔ وہ زیادہ محفوظ علاقوں کی طرف جا رہے تھے۔


    اس واقعے کے دوران، پرندوں کی ہجوم میں پرواز کا منظر بہت ہی دلکش تھا،پرندے آوازیں بھی لگا رہے تھے، یہ منظر نہ صرف قدرتی توازن کو دکھاتا ہے بلکہ ماہرین کے لیے بھی یہ ایک اہم موضوع بن گیا ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آتش زدگی نے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ آتش زدگی کی شدت کی وجہ سے مقامی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا ہے۔ پرندوں کی یہ کوچنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنے قدرتی ماحول کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔مقامی افراد اور ماہرین حیوانات اس وقت اس حیران کن طرز عمل کی تفصیل سے تحقیق کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ پرندے کس طرح اپنے قدرتی ماحول میں تبدیلیاں اور آفات سے خود کو محفوظ رکھتے ہیں۔

  • لاس اینجلس، تباہ کن آگ سے 77 سالہ اداکار جیمز ووڈس کا گھر محفوظ

    لاس اینجلس، تباہ کن آگ سے 77 سالہ اداکار جیمز ووڈس کا گھر محفوظ

    امریکی شہر لاس اینجلس کے پیسیفک پیلیسیڈز میں 6 روز سے بھڑکتی ہوئی آگ نے علاقے میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ اس آگ پر اب تک صرف 11 فیصد قابو پایا جا سکا ہے، اور اس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ ہزاروں گھر راکھ میں تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن ان تباہی کے درمیان ایک گھر ایسا بھی ہے جو معجزاتی طور پر بچ گیا، اور وہ گھر جیمز ووڈس کا ہے۔

    امریکی اداکار جیمز ووڈس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا گھر آگ کی لپیٹ میں آنے کے باوجود محفوظ رہا۔ اداکار نے لکھا کہ "معجزاتی طور پر ہم اپنے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بارے میں ہمیں لگ رہا تھا کہ وہ تباہ ہو چکا ہے، لیکن ہمارا گھر اب بھی موجود ہے۔”77 سالہ جیمز ووڈس نے اپنے گھر کی چھت سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں آگ کے دھوئیں کے ساتھ اردگرد کے تمام گھروں کو جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں جیمز ووڈس کے گھر کے آس پاس موجود گھروں کو راکھ میں تبدیل ہوتے ہوئے واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔

    اداکار نے مزید بتایا کہ "جب آگ ہمارے گھر کے قریب پہنچی تو ہم فوری طور پر انخلا کرنے پر مجبور ہوئے۔ ہم اپنے گھر کو چھوڑتے وقت صرف اپنے جسم پر موجود کپڑے ہی ساتھ لے سکے، اور اس وقت بہت زیادہ افراتفری تھی۔ ہمارے اردگرد ہر گھر میں آگ لگی ہوئی تھی۔”جیمز ووڈس نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے گھر کی تزئین و آرائش تین سال تک کی تھی اور حال ہی میں اس میں منتقل ہوئے تھے، جس کے بعد یہ آگ ان کے لیے ایک بڑا دھچکا بن کر آئی۔

    علاوہ ازیں، امریکی سرمایہ کار ڈیوڈ اسٹینر کا گھر بھی لاس اینجلس کی آگ میں محفوظ رہا۔ ڈیوڈ اسٹینر کا تین منزلہ گھر جو 9 ملین ڈالر کی مالیت کا ہے، امریکی پروڈیوسر سے خریدا گیا تھا۔ ان کا گھر بھی آگ سے بچ گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ گھروں نے اس تباہ کن آگ کے باوجود اپنی حفاظت کی ہے۔

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

    20 سال قبل سپمسن نے لاس اینجلس میں خوفناک آتشزدگی کی پیشگوئی کی تھی؟