Baaghi TV

Tag: آیت اللہ خامنہ ای

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی

    ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی

    ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ جنازے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو صبح جنازے کا مرکزی جلوس نکالا جائے گا، اس کے بعد میت کو قم منتقل کیا جائے گا جہاں سے جسد خاکی کو عراقی شہر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، 9 جولائی کو شہید سپریم لیڈر کی ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کی جائے گی آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہید ایرانی سپریم لیڈر کی نماز جنازہ پڑھائی۔

    امریکی اور اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والے سابق رہبرِ اعلیٰ کے آخری دیدار کے لیے تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں ہزاروں سوگوار جمع ہو گئے ہیں اور ہر آنکھ اشکبار ہےاس بڑے موقع پر ایرانی شوریٰ نگہبان نے انہیں شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، جبکہ تعزیتی تقریب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف، وزیرخارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے کمانڈر سمیت تمام اعلیٰ حکام شریک ہوئے ہیں۔

    حکومتِ ایران نے اس موقع پر سات روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور چھ جولائی کو عام تعطیل جبکہ آٹھ جولائی کو یومِ سوگ منایا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آخری رسومات میں دنیا کے سو ممالک کے نمائندوں سمیت ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔ اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنے کے لیے ایران کی وزارتِ تعلیم نے بڑا قدم اٹھایا ہےوزارتِ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ جنازے میں دور دور سے آنے والے مسافروں کے رہنے کے لیے ملک بھر میں پانچ ہزار اسکول اور تقریباً 40 سے 50 ہزار کلاس رومز کھول دیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو رکنے میں کوئی تکلیف نہ ہو، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی تہران پہنچ کر تعزیتی اجتماع میں شرکت کی، فاتحہ خوانی کی اور ایرانی صدر سمیت اعلیٰ قیادت سے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

    آخری رسومات کے دوران تہران کا ماحول انتہائی جذباتی دکھائی دے رہا ہے گرینڈ مصلیٰ کے بڑے صحن میں جمع ہزاروں لوگوں نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھا رکھے ہیں، جنہیں ایران میں خون کا بدلہ اور انتقام لینے کی علامت سمجھا جاتا ہےوہاں موجود لوگ مسلسل ’امریکا مردہ باد‘ اور ’انتقام، انتقام‘ کے نعرے لگا رہے ہیں، جس سے پوری فضا گونج رہی ہے صبح سویرے سے ہی شہر کے میٹرو اسٹیشنوں پر ہزاروں لوگوں کا ہجوم لگ گیا جو تیز رفتار ٹرینوں کے ذریعے جنازے گاہ پہنچنا چاہتے تھے۔

    سرکاری شیڈول کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا جسدِ خاکی تین دن تک تہران کے مصلیٰ میں رہے گا جہاں چار جولائی کی صبح سے پانچ جولائی کی رات تک عوام کے لیے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں تہران میں مرکزی نمازِ جنازہ اور بڑے جلوس کے بعد چھ جولائی کو جنازے کا جلوس قم روانہ ہوگا، جہاں سا ت جولائی کو جمکران مسجد میں ایک بڑے عالمِ دین نمازِ جنازہ پڑھائیں گے۔

    عراق میں ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری نے بتایا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی سات جولائی کی شام کو عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں آٹھ جولائی کی صبح نجف میں اور سہ پہر چار بجے کربلا میں بڑے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے ان تمام مقامات سے گزارنے کے بعد نو جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے مزار کے احاطے میں ان کی تدفین کی جائے گی، جہاں ڈیڑھ سے دو کروڑ تک لوگوں کے جمع ہونے کی امید ہے۔

  • امریکا چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا ،ٹرمپ

    امریکا چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا ،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اگر چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا –

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ ہفتے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر ملاقات متوقع ہے امریکی اخبار ایکسیوئس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار قرار دیا تاہم اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے،دوسری جانب نیتن یاہو کے دفتر نے بھی جمعہ کے روز ہونے والی اس ٹیلی فونک گفتگو اور جلد ملاقات پر اتفاق کی تصدیق کی ہے۔

    ’ایکسیوئس‘ کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے انتہائی اہم بیانات دیے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکا اگر چاہتا تو آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے موقع پر پوری ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا اور ہم ایک ہی حملے میں سب کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ انہوں نے حملہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے کوئی نہ بچتا انہوں نے جوہری مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے صبر کا مظاہرہ کیا کیونکہ ایران اس وقت معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے واشنگٹن اور تہران نے قطر میں جاری جوہری مذاکرات کو ایک ہفتے کے لیے عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کے بعد سفارتی عمل دوبارہ شروع ہو سکے اس وقفے کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

    ایکسیوئس کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان یہ متوقع ملاقات رواں سال فروری میں وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی آخری ملاقات کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی فروری کی ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم نے مبینہ طور پر ایران کے خلاف مشترکہ امریکی،اسرائیلی فوجی کارروائی کا ایک خفیہ منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے معاملات پر دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

    ایکسیوئس کی رپورٹ میں ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے کئی قریبی مشیر سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو نے خطے کی صورتحال اور اہم پیش رفت کے بارے میں غلط اندازے لگائے عہدیدار کے بقول ٹرمپ کے مشیروں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو تقریباً ہر معاملے میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔

  • شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تاریخ طے

    شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تاریخ طے

    تہران: ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے عمل کا باقاعدہ آغاز4 جولائی کو تہران سے ہوگا، جہاں عوام اورسرکاری شخصیات کوآخری دیدارکا موقع فراہم کیا جائے گا، بعد ازاں انکے جسد خاکی کومختلف مراحل سے گزارنے کے بعد مشہد منتقل کیا جائے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تدفین کی مرکزی تقریب 9 جولائی کو مشہد میں منعقد ہوگی، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے،حکام کی جانب سے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جبکہ ملک بھر میں مختلف مذہبی اور سرکاری تقریبات کے انعقاد کی بھی اطلاعات ہیں، آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق شیڈول سامنے آنے کے بعد ایران سمیت دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کی توجہ اس تاریخی موقع پر مرکوز ہو گئی ہے۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کی  تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات کا اعلان کر دیا ہے۔

    ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تہران سمیت تین بڑے شہروں میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای کی تدفین کے سلسلے میں تین روزہ عوامی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی –

    تہران کی بلدیہ کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ الوداعی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں، نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، تقریبات کے حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم ان کے ذوالحج کے آخری دنوں یا محرم الحرام کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے تہران میں الوداعی اور جنازے کی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، اسی پیش نظر شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر معمولی انتظامات کر رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی اس مقصد کے لیے مشہد میں بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی سرکاری تدفین کو غیر معمولی حالات اور سکیورٹی وجوہات کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔

  • ایران دشمنوں کو بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،خامنہ ای

    ایران دشمنوں کو بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،خامنہ ای

    تہران: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران دشمنوں کو بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران دشمنوں کو بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور امریکہ اسرائیل کے جرائم میں ساتھی ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ قومی اتحاد اور عوامی عزم کو قائم رکھنا سب سے اہم فریضہ ہے، اور ایرانی قوم کسی بھی میدان میں کمزور فریق کے طور پر سامنے نہیں آئے گی،سفارتی اور عسکری میدانوں میں پوری تیاری کے ساتھ داخل ہوں گے، ایرانی قوم کے پاس منطق بھی ہے اور طاقت بھی، اسی لیے ہم کسی بھی میدان میں کمزور نہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ تہران امریکہ سے جوہری مذاکرات میں شامل ہونے کی امید کر رہا ہے لیکن انہیں کوئی جلدی نہیں کر ہے،ٹرمپ نے پٹسبرگ کے دورے سے واشنگٹن واپس پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "وہ بات کرنا چاہیں گے لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں ہے کیونکہ ہم نے ان کی ایٹمی تنصیبات ختم کر دی ہیں۔”

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز فون پر گفتگو میں ایران سے جوہری معاہدہ طے کرنے کے لیے اگست کا آخر ڈی فیکٹو ڈیڈلائن کے طور پر طے کرنے پر اتفاق کیا یہ بیان اسی دوران سامنے آیا ہے۔

  • آیت اللہ خامنہ ای 22 دن سے منظر عام سے غائب

    آیت اللہ خامنہ ای 22 دن سے منظر عام سے غائب

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس سال اپنی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی محرم کی اعلیٰ سطحی تقریب میں شریک نہیں ہوئے، جو کہ ان کی مسلسل 22 روزہ غیر موجودگی کا تسلسل ہے۔

    برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ تقریب امام خمینی حسینیہ میں منعقد ہوئی جہاں وہ ہر سال شرکت کیا کرتے تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی اس تقریب میں غیر حاضری نے ان کی صحت اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی کشیدگی جاری ہے اور وہ کسی بھی عوامی تقریب میں نظر نہیں آ رہے۔ماضی میں صرف COVID-19 کے دوران تقریب عوام کے بغیر منعقد ہوئی تھی، لیکن اس وقت بھی آیت اللہ خامنہ ای نے اکیلے شرکت کی تھی۔ تاہم اس سال وہ مکمل طور پر غیر حاضر رہے۔

    مزید یہ کہ اسرائیلی حملوں کے بعد شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے جنازوں میں بھی سپریم لیڈر کی غیر حاضری معمول سے ہٹ کر سمجھی جا رہی ہے۔ رواں سال کی تقریب میں فوجی، عدلیہ اور انتظامیہ کے سربراہان سمیت بچوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی، جنہوں نے شہدا کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

    سرکاری سطح پر آیت اللہ خامنہ ای کی صحت یا سیکیورٹی خدشات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مبصرین کے مطابق ان کی مسلسل غیر موجودگی سخت سیکیورٹی خطرات یا ممکنہ صحت کے مسائل کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔

    حنیف عباسی کی خواجہ آصف پر تنقید، "ہائبرڈ نظام” کا بیانیہ مسترد

    2025 میں 8,500 کاروباری صارفین سائبر حملوں کا شکار ہوئے

    بلوچستان اور آزاد کشمیر ،دانش اسکولز کے لیے 19 ارب 25 کروڑ روپے منظور

    کراچی میں ٹرک کی زد میں آکر 3 سالہ بچہ جاں بحق، ڈرائیور فرار

  • سعودی وزیردفاع نے خامنہ ای کو شاہ سلمان کا پیغام پہنچا دیا

    سعودی وزیردفاع نے خامنہ ای کو شاہ سلمان کا پیغام پہنچا دیا

    سعودی وزیر دفاع نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے، اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام پہنچایا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان وفد کے ہمراہ ایران پہنچے، اور انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو پہنچایا تاہم پیغام کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی کہ سپریم لیڈڑ نے ریاض کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تہران کی آمادگی کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے دوران ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کا دوسرا دور روم میں منعقد ہورہا ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے ملاقات میں خامنہ ای کے حوالے سے کہا،’ ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں۔’واضح رہے کہ ایران اور سعودی عرب نے برسوں کی کشیدگی کے بعد 2023 میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔

    کراچی سمیت سندھ میں بدستور گرمی جاری

    ڈی آئی خان، خفیہ اطلاع پر آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک

    جی ڈی اے نے عمرکوٹ کےضمنی انتخابات کا رزلٹ مسترد کردیا

  • بھارت کو کشمیر کے معاملہ پر انصاف کرنا پڑے گا ، آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک پیغام

    بھارت کو کشمیر کے معاملہ پر انصاف کرنا پڑے گا ، آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک پیغام

    تہران : ایران نے ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے معاملہ پر بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے منصفانہ پالیسی اختیار کرے۔یہ پیغام ایران کے رہبر ابرصغیر کی تقسیم کے وقت برطانیہ جان بوجھ کر خطے میں ایک زخم چھوڑ گیا جس کی وجہ سے کشمیر میں تنازع جاری رہا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی اور کابینہ ارکان سے ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ایران کے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں لیکن ہم بھارت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کشمیر سے متعلق منصفانہ پالیسی اپنائے اور کشمیریوں کے استحصال کو روکے۔

    آیت اللہ خامنہ ای کا ایرانی کابینہ کے ممبران سے کہنا تھا کہ پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر برطانوی راج کے شیطانی اقدامات کا نتیجہ ہے، پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کو طول دینے کیلئے برطانیہ نے جان بوجھ کر اسے غیرحل شدہ چھوڑا۔