Baaghi TV

Tag: آیت اللہ خامنہ ای

  • شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تاریخ طے

    شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تاریخ طے

    تہران: ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے عمل کا باقاعدہ آغاز4 جولائی کو تہران سے ہوگا، جہاں عوام اورسرکاری شخصیات کوآخری دیدارکا موقع فراہم کیا جائے گا، بعد ازاں انکے جسد خاکی کومختلف مراحل سے گزارنے کے بعد مشہد منتقل کیا جائے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تدفین کی مرکزی تقریب 9 جولائی کو مشہد میں منعقد ہوگی، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے،حکام کی جانب سے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جبکہ ملک بھر میں مختلف مذہبی اور سرکاری تقریبات کے انعقاد کی بھی اطلاعات ہیں، آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق شیڈول سامنے آنے کے بعد ایران سمیت دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کی توجہ اس تاریخی موقع پر مرکوز ہو گئی ہے۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کی  تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات کا اعلان کر دیا ہے۔

    ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تہران سمیت تین بڑے شہروں میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای کی تدفین کے سلسلے میں تین روزہ عوامی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی –

    تہران کی بلدیہ کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ الوداعی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں، نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، تقریبات کے حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم ان کے ذوالحج کے آخری دنوں یا محرم الحرام کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے تہران میں الوداعی اور جنازے کی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، اسی پیش نظر شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر معمولی انتظامات کر رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی اس مقصد کے لیے مشہد میں بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی سرکاری تدفین کو غیر معمولی حالات اور سکیورٹی وجوہات کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔

  • ایران دشمنوں کو بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،خامنہ ای

    ایران دشمنوں کو بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،خامنہ ای

    تہران: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران دشمنوں کو بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران دشمنوں کو بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور امریکہ اسرائیل کے جرائم میں ساتھی ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ قومی اتحاد اور عوامی عزم کو قائم رکھنا سب سے اہم فریضہ ہے، اور ایرانی قوم کسی بھی میدان میں کمزور فریق کے طور پر سامنے نہیں آئے گی،سفارتی اور عسکری میدانوں میں پوری تیاری کے ساتھ داخل ہوں گے، ایرانی قوم کے پاس منطق بھی ہے اور طاقت بھی، اسی لیے ہم کسی بھی میدان میں کمزور نہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ تہران امریکہ سے جوہری مذاکرات میں شامل ہونے کی امید کر رہا ہے لیکن انہیں کوئی جلدی نہیں کر ہے،ٹرمپ نے پٹسبرگ کے دورے سے واشنگٹن واپس پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "وہ بات کرنا چاہیں گے لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں ہے کیونکہ ہم نے ان کی ایٹمی تنصیبات ختم کر دی ہیں۔”

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز فون پر گفتگو میں ایران سے جوہری معاہدہ طے کرنے کے لیے اگست کا آخر ڈی فیکٹو ڈیڈلائن کے طور پر طے کرنے پر اتفاق کیا یہ بیان اسی دوران سامنے آیا ہے۔

  • آیت اللہ خامنہ ای 22 دن سے منظر عام سے غائب

    آیت اللہ خامنہ ای 22 دن سے منظر عام سے غائب

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس سال اپنی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی محرم کی اعلیٰ سطحی تقریب میں شریک نہیں ہوئے، جو کہ ان کی مسلسل 22 روزہ غیر موجودگی کا تسلسل ہے۔

    برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ تقریب امام خمینی حسینیہ میں منعقد ہوئی جہاں وہ ہر سال شرکت کیا کرتے تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی اس تقریب میں غیر حاضری نے ان کی صحت اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی کشیدگی جاری ہے اور وہ کسی بھی عوامی تقریب میں نظر نہیں آ رہے۔ماضی میں صرف COVID-19 کے دوران تقریب عوام کے بغیر منعقد ہوئی تھی، لیکن اس وقت بھی آیت اللہ خامنہ ای نے اکیلے شرکت کی تھی۔ تاہم اس سال وہ مکمل طور پر غیر حاضر رہے۔

    مزید یہ کہ اسرائیلی حملوں کے بعد شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے جنازوں میں بھی سپریم لیڈر کی غیر حاضری معمول سے ہٹ کر سمجھی جا رہی ہے۔ رواں سال کی تقریب میں فوجی، عدلیہ اور انتظامیہ کے سربراہان سمیت بچوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی، جنہوں نے شہدا کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

    سرکاری سطح پر آیت اللہ خامنہ ای کی صحت یا سیکیورٹی خدشات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مبصرین کے مطابق ان کی مسلسل غیر موجودگی سخت سیکیورٹی خطرات یا ممکنہ صحت کے مسائل کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔

    حنیف عباسی کی خواجہ آصف پر تنقید، "ہائبرڈ نظام” کا بیانیہ مسترد

    2025 میں 8,500 کاروباری صارفین سائبر حملوں کا شکار ہوئے

    بلوچستان اور آزاد کشمیر ،دانش اسکولز کے لیے 19 ارب 25 کروڑ روپے منظور

    کراچی میں ٹرک کی زد میں آکر 3 سالہ بچہ جاں بحق، ڈرائیور فرار

  • سعودی وزیردفاع نے خامنہ ای کو شاہ سلمان کا پیغام پہنچا دیا

    سعودی وزیردفاع نے خامنہ ای کو شاہ سلمان کا پیغام پہنچا دیا

    سعودی وزیر دفاع نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے، اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام پہنچایا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان وفد کے ہمراہ ایران پہنچے، اور انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو پہنچایا تاہم پیغام کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی کہ سپریم لیڈڑ نے ریاض کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تہران کی آمادگی کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے دوران ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کا دوسرا دور روم میں منعقد ہورہا ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے ملاقات میں خامنہ ای کے حوالے سے کہا،’ ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں۔’واضح رہے کہ ایران اور سعودی عرب نے برسوں کی کشیدگی کے بعد 2023 میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔

    کراچی سمیت سندھ میں بدستور گرمی جاری

    ڈی آئی خان، خفیہ اطلاع پر آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک

    جی ڈی اے نے عمرکوٹ کےضمنی انتخابات کا رزلٹ مسترد کردیا

  • بھارت کو کشمیر کے معاملہ پر انصاف کرنا پڑے گا ، آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک پیغام

    بھارت کو کشمیر کے معاملہ پر انصاف کرنا پڑے گا ، آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک پیغام

    تہران : ایران نے ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے معاملہ پر بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے منصفانہ پالیسی اختیار کرے۔یہ پیغام ایران کے رہبر ابرصغیر کی تقسیم کے وقت برطانیہ جان بوجھ کر خطے میں ایک زخم چھوڑ گیا جس کی وجہ سے کشمیر میں تنازع جاری رہا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی اور کابینہ ارکان سے ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ایران کے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں لیکن ہم بھارت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کشمیر سے متعلق منصفانہ پالیسی اپنائے اور کشمیریوں کے استحصال کو روکے۔

    آیت اللہ خامنہ ای کا ایرانی کابینہ کے ممبران سے کہنا تھا کہ پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر برطانوی راج کے شیطانی اقدامات کا نتیجہ ہے، پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کو طول دینے کیلئے برطانیہ نے جان بوجھ کر اسے غیرحل شدہ چھوڑا۔