Baaghi TV

Tag: ا

  • سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    ممبئی کی عدالت میں 16 جنوری کو سیف علی خان پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار بنگلہ دیشی شخص کی سماعت کے دوران ایک انوکھا منظر دیکھنے کو ملا، جب دو وکلا اس ملزم کی نمائندگی کرنے کے لئے آپس میں جھگڑنے لگے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزم، محمد شریف الاسلام شہزاد، کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزم کے خلاف کیس کی سنگینی کے باوجود وکلا کے درمیان نمائندگی کی جنگ نے عدالت کی ماحول میں تھوڑی دیر کے لیے ہلچل مچادی۔مقامی عدالت کے جج نے دونوں وکلا کو مشورہ دیا کہ وہ مل کر کیس کی نمائندگی کریں۔ جج کا کہنا تھا: "تم دونوں مل کر اس ملزم کی نمائندگی کر سکتے ہو۔” اس کے بعد دونوں وکلا نے اس تجویز پر رضامندی ظاہر کی اور کیس کی سماعت جاری رہی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 30 سالہ ملزم محمد شریف الاسلام شہزاد کو پولیس نے اتوار کی صبح تھانے سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق شہزاد نے 16 جنوری کی صبح سیف علی خان کے بانڈرا واقعہ اپارٹمنٹ میں چوری کی نیت سے گھس کر سیف علی خان کو چاقو کے وار سے زخمی کیا تھا۔عدالت میں جب شہزاد کو پیش کیا گیا تو اسے پوچھا گیا کہ کیا اس کے خلاف پولیس سے کوئی شکایت ہے، جس پر اس نے منفی جواب دیا۔ اس کے بعد ملزم کو عدالتی کمرے کے پیچھے والے حصے میں رکھا گیا جہاں اس کے وکلا کی لڑائی شروع ہوئی۔

    اس تمام صورتحال کے بعد، جج نے دونوں وکلا کو ایک ساتھ کیس کی نمائندگی کرنے کی تجویز دی تاکہ عدالت کی کارروائی میں خلل نہ پڑے۔ دونوں وکلا نے اس تجویز پر اتفاق کیا اور کیس کی سماعت جاری رکھی۔عدالت نے بعد ازاں ملزم کو پانچ دنوں کے لیے پولیس کی حراست میں بھیج دیا۔

    پولیس کے مطابق، سیف علی خان پر حملے کے وقت کئی افراد کو مشتبہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا جو سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ سیف علی خان پر حملہ 16 جنوری کی صبح 2:30 بجے اس وقت ہوا جب وہ اپنے اپارٹمنٹ میں سو رہے تھے۔ ملزم نے انہیں متعدد بار چاقو کے وار سے زخمی کیا۔سیف علی خان کو فوراً لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ایمرجنسی سرجری کی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق، وہ جلد صحتیاب ہو کر اسپتال سے فارغ ہو سکتے ہیں۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ ملزم شہزاد کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور وہ پچھلے پانچ ماہ سے ممبئی میں مقیم تھا،

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے ہیں

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 18 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے ڈی-8 سمٹ میں شریک ہوں گے اس سمٹ کا موضوع ‘یوتھ میں سرمایہ کاری اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی حمایت ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت طرازی، اور کاروبار کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔سمٹ کے دوران ایک خاص سیشن غزہ اور لبنان میں انسانی بحران پر بات کرے گا، جس میں اس خطے کے موجودہ حالات اور انسانی امداد کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سیشن میں مصر، پاکستان اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی رہنما شرکت کریں گے۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیاں بھی اس سمٹ میں شریک ہوں گے، جو ایران کی طرف سے ایک نیا سفارتی قدم ہے۔ یہ ایران کے کسی صدر کا مصر کا پہلا دورہ ہوگا، جو ایک دہائی سے زیادہ کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ مصر اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ دہائیوں میں کشیدہ رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے خاص طور پر غزہ کے بحران کے دوران باہمی تعلقات میں بہتری کی کوشش کی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اکتوبر میں مصر کا دورہ کیا تھا، جب کہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العتی نے جولائی میں تہران کا دورہ کر کے مسعود پزشکیاں کی حلف برداری میں شرکت کی تھی۔ ایران اس سمٹ کے دوران دیگر شریک ممالک کے ساتھ علاقائی اور دو طرفہ امور پر بات چیت کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے بتایا کہ ایران اپنے شراکت داروں کے ساتھ سمٹ کے موقع پر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کرے گا، جن میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے علاوہ دیگر علاقائی مسائل بھی شامل ہوں گے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سمٹ میں ڈی-8 وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف بھی 11ویں ڈی-8 سمٹ اور غزہ و لبنان پر خصوصی سیشن میں شریک ہوں گے۔ سمٹ کے دوران دونوں پاکستانی رہنما مختلف ملکوں کے رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ پاکستان کے اقتصادی مفادات اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔یہ سمٹ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ترقی کے امکانات پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

  • پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ ملنے پر توہین عدالت کی درخواست خارج

    پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ ملنے پر توہین عدالت کی درخواست خارج

    اسلام آبادہائیکورٹ،پی ٹی آئی جلسے کا این اوسی معطلی سے متعلق توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آبادہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی، پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں کہا کہ پولیس نے ڈپٹی کمشنر دفتر سے عامر مغل کو گرفتار کیا، عامر مغل کو اٹھانے کے پورے دن تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ہے تو متعلقہ فورم پر جائیں، یہ توہینِ عدالت تو نہیں بنتی،

    وکیل شعیب شاہین نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری آرڈر پڑھ کرسنایا اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں نوٹیفکیشن پیش کیا، ڈپٹی کمشنر نے جلسے کی پچھلی رات ڈیڑھ بجے مجھے جلسہ معطلی کا نوٹیفکیشن بھیجا، ہم پھر آج ہی رٹ پٹیشن دائر کرینگے، یہ لوگ بدنیتی کر رہے ہیں اور ہمیں کچھ نہیں کرنے دے رہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ دِلوں کاحال اللہ جانتا ہے، ہم نے تو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں،ڈپٹی کمشنر نے ایک آرڈر کیا چیف کمشنر نے اسے ختم کر دیا، آپ چیف کمشنر کے آرڈر کے خلاف درخواست دائر کریں، سیاسی معاملہ طریقہ کار کو تبدیل تو نہیں کر دے گا،

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • بلاول شادی کب کر رہے؟ خود ہی بتا دیا

    بلاول شادی کب کر رہے؟ خود ہی بتا دیا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے نامزد امیدوار بلاول زرداری نے اپنی شادی بارے خود ہی خبر دے دی

    نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بلاول نے اپنی شادی بارے سوالات کے جوابات دیئے،بلاول زرداری سے جب انکی شادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ "اس وقت شادی کا امکان نہیں، کم از کم الیکشن تک تو میری شادی نہیں دیکھ سکتے” بلاول سے جب محبت بارے سوال کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا آپکو کبھی محبت ہوئی، بلاول نے جواب دیا ” یہ چیز تو ابھی آگے جا کر ہونی ہے”۔

    بلاول زرداری نے عمران خان بارے سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کو نفرت کی سیاست چھوڑ کر جمہوری سیاست کی طرف آنا چاہئے، پاکستانی قوم اس وقت جن مسائل اور مشکلات میں مبتلا ہے، اس کو دیکھ کر میرا دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات سب سے زیادہ مایوس کن ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر 2023 میں یہ خبر آئی تھی کی بلاول کے لئے دلہن تلاش کر لی گئی ہے ، انکی منگنی کراچی یا یو اے ای میں ہو گی،تاہم حتمی امکان سامنے نہیں آ سکا، یہ کہا گیا تھا کہ بلاول کے لئے دلہن انکی بہنوں آصفہ اور بختاور نے پسند کی ہے،بختاور کے سسر محمود نے بھی اس ضمن میں مدد کی ،یہ بھی کہا گیا تھا کہ بلاول کی ہونیوالی بیوی کا تعلق سندھ سے ہے اور لڑکی کا خاندان متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے،تاہم ا ب دیکھتے ہیں بلاول وزیراعظم کے خواہشمند ہیں وہ پہلے وزیراعظم کی شیروانی پہنتے ہیں یا دلہا کی؟

    واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان نے 2019 میں پیشگوئی کی تھی کہ بلاول وزیر اعظم بننے کے بعد شادی کر لیں گے۔

    اس سے قبل 2016 میں بلاول بھٹو نے اپنی ہونے والی دلہن کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ  میری شادی اس لڑکی سے ہوگی جو سب سے پہلے میری بہنوں کا دل جیتے، مجھے اس حوالے سے بہنوں کو اعتماد میں لینا ہوگا‘جبکہ میری بہنوں کا دل جیتنا کسی بھی لڑکی کے لیے کافی مشکل کام ہوگا۔

    جبکہ جے یو آئی ف کے رہنما اور سینیٹر حافظ حمداللہ نے 2016 میں بلاول بھٹو کو شادی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بلاول بھٹو جتنی جلدی شادی کر سکتے ہیں کرلیں، نکاح مولانا فضل الرحمان سے پڑھوائیں انہوں نےکہا تھا کہ بلاول بھٹوسوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کیونکہ شادی عمرانی معاہدہ ہے، وہ 4 چیزوں نسب، مال، خوبصورتی اور دین داری کو سامنے رکھ کر شادی کریں۔

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 1947 سے آج تک کے قانون کے مطابق مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزار پر ہی ہوتا ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ عدالت پارلیمان کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو منظور کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت موجود ممبران کی عددی تعداد ہونی چاہئے، نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ممبران کی درست تعداد بتا دوں گا، آج تک کوئی قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوا کہ اسے اکثریتی ممبران نے منظور نہیں کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک سوال ہے، جذباتی نا ہوں، وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ ممبران پارلیمنٹ آئین کے مطابق فیصلے کرنے کا حلف لیتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام فیصلے ملکی سلامتی، ترقی و بہتری کے لیے کریں گے، کیا ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے برخلاف قانون سازی ممبران پارلیمنٹ کے حلف کی خلاف ورزی تصور ہوگی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی عدالت ممبران پارلیمنٹ کی نیت کا تعین نہیں کر سکتی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اور ممبران کے حلف میں بس یہی فرق ہے کہ ججز قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف لیتے ہیں، ججز ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے مطابق فیصلوں کا حلف نہیں لیتے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ججز آئین و قانون کے مطابق فیصلوں کے پابند ہیں،ممبران پارلیمنٹ کی منظور شدہ قانون سازی ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے حق میں ہی تصور ہوتی ہے، امریکی سپریم کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ مقننہ کے پاس احمقانہ قانون سازی کا ہر حق موجود ہے،امریکی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ جہنم بھی جائیں تو ان کی مدد کریں گے، کسی برے یا احمقانہ قانون سازی پر بھی عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا،کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • اشرف غنی کے تاخیری حربے از عدنان عادل

    اشرف غنی طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان سے مصالحتی عمل میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث گزشتہ ہفتہ افغان طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ قیدیوں کی رہائی پر بات چیت ختم کردی اور ان کا وفد افغان دارلحکومت سے واپس قطر روانہ ہوگیا۔تئیس مارچ کو امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپوکابل گئے تھے جہاں انہوں نے اشرف غنی کو صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ طالبان سے مصالحتی معاہدہ پر عملدرآمد کریں ورنہ امریکہ یکطرفہ طور پر اپنی تمام افواج افغانستان سے نکال لے گا اور انکی حکومت کو ایک ارب ڈالر کی وہ امداد نہیں دے گا جسکا وعدہ کیا گیا تھا۔ امریکہ کی اس تنبیہ کے باوجود اشرف غنی نے طالبان سے حالیہ بات چیت میں سخت روّیہ اختیار کیا اور اُن پندرہ سینئرطالبان کمانڈروں کو قید سے رہا کرنے سے انکار کردیاجس کامطالبہ طالبان کررہے تھے۔ حالانکہ طالبان نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی بار کابل انتظامیہ کے وجود کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس سے بات چیت شروع کی تھی۔ مائک پومپیو کے کابل میں ناکام مشن کے بعد امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیا کے لیے نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھی چند روز پہلے تنبیہ کے انداز میں یہ بیان دیا کہ امریکہ افغانستان کو اسی صورت میں مالی امداد دے گا جب وہاں تمام فریقوں پر مشتمل حکومت قائم ہوگی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس کا لب و لہجہ خاصا سخت تھا۔ اس پیغام کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ اب بین الاقوامی امداد دینے والے افغانستان میں پہلے کی طرح کام نہیںکریں گے۔ عالمی امدادسب فریقوں پر مشتمل حکومت کو ہی دی جائے گی۔اس اعتبار سے ایلس ویلز کی تنبیہ پومپیو سے بھی ایک قدم آگے تھی کہ انہوں نے نہ صرف امریکی امداد بلکہ تمام عالمی امداد کو افغان امن عمل اور وسیع البنیاد حکومت کے قیام سے مشروط کردیا۔یہ امریکی وارننگ اس لیے بہت اہمیت رکھتی ہے کہ افغانستان حکومت کا اسّی فیصد سے زیادہ بجٹ بیرونی امداد پر مشتمل ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک گزشتہ اٹھارہ برسوں میں کابل حکومت کو براہ راست ایک سو چالیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم دے چکے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو کااپنی فوجیں افغانستان میں رکھنے پر جو اخراجات ہوئے وہ اس کے سوا ہیں۔ ان حالات میں اشرف غنی کا طالبان سے مذاکرات میں ہٹ دھری پر مبنی روّیہ بلاوجہ نہیں ہے۔ جب انتیس فروری کو امریکہ اور طالبان نے قطر میں امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے ۔اس سے اشرف غنی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ مستقبل میں افغانستان میں طالبان کو اپنا بڑااتحادی اور شریک کار بنانا چاہتی ہے۔امریکہ افغانستان میںجو وسیع البنیاد حکومت بنانے کی بات کررہا ہے اس میں طالبان غالب ہونگے ۔

    اشرف غنی اور ان کی اتحادی لبرل اشرافیہ اقتدار میں جونئیرحصہ دار ہونگے۔ امریکہ کے طالبان سے معاہدہ کے نتیجہ میں بھارت کو بھی بڑا دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ وہ امریکہ کا شریک کار بن کر افغانستان اور وسط ایشیا میں اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا۔بھارت کی پالیسی یہ رہی ہے کہ کابل میں ایسی حکومت قائم رہے جو علاقائی سیاست میںاس کی حامی اور پاکستان کی مخالف ہو‘ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں اس کی مددگار ہو۔امریکی پالیسی میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار کم سے کم رہ جائے گا جبکہ پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہوجائے گا۔ امریکہ اور طالبان معاہدہ صرف افغانستان نہیں بلکہ علاقائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اس معاہدہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ امریکہ کی وسط ایشیائی تزویراتی پالیسی میںبھارت کی جگہ پاکستان کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔ بھارت کے لیے یہ ایک بڑا صدمہ ہے۔ اسی لیے بھارت طالبان کے خلاف اشرف غنی حکومت کی بھرپور مدد کررہا ہے۔ بھارت کا کابل کی لبرل اشرافیہ میں گہرا اثر و رسوخ ہے جس پر وہ بھاری سرمایہ کاری کرتا ہے۔اشرف غنی کے ارد گرد جو لوگ ہیں انکے دہلی کے حکمرانوں سے گہرے روابط ہیں۔موجودہ حالات میں ان دونوں کا مشترک مفاد یہ ہے کہ طالبان کو کابل میں حکومت بنانے کا موقع نہ مل سکے۔ مصالحتی عمل کو اتنا طویل اور پیچیدہ بنادیا جائے کہ امریکہ اور طالبان کا امن معاہدہ غیر مؤثر ہوجائے۔ یہ دونوں پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے افغانستان میں طویل مدتی‘ تزویراتی مفادات ہیں۔ وہ اگر یکطرفہ طور پر فوجوں کا انخلا کرے گا ،تو اسکے خطہ میں مفادات اور اسکی ساکھ کو سخت نقصان پہنچے گا ۔اس لیے صدر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل نہیں کرسکیں گے۔ بھارت سفارتی سطح پر ہر وہ کوشش کرے گا جس سے صدر ٹرمپ کواپنی دھمکی پر عمل کرنے سے کچھ عرصہ کے لیے باز رکھا جاسکے۔

    منصوبہ یہ ہے کہ وسیع البنیاد حکومت کے قیام میں کم سے کم اتنی تاخیر ہو جائے کہ اس سال نومبر میںامریکہ کے صدارتی الیکشن گزر جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن ہار جائیںاور نیا ڈیموکریٹک صدرانکی پالیسی جاری نہ رکھے‘ طالبان سے معاہدہ توڑ دے۔یوں ایک بار پھر بھارت اور افغان لبرل اشرافیہ کا گٹھ جوڑکابل پر براجمان رہے۔ تاریخی حقیقت ہے کہ ڈیموکریٹ صدورپاکستان کی بجائے بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں ۔ امریکہ اور طالبان کے معاہدہ کے بعد بھارت نے اشرف غنی کو ڈٹ جانے کی تھپکی دی ہے جس سے اُن کے حوصلے بلند ہوئے ہیں ورنہ وہ اور افغان لبرل اشرافیہ اس پوزیشن میں نہیں کہ ایک دن بھی امریکی امداد کے بغیر گزارہ کرسکیں‘ نہ وہ امریکی افواج کی مدد کے بغیر طالبان کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔اگلے چند مہینوں میں واضح ہوجائے گا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے افغان منصوبہ پرکس قدر ثابت قدمی سے عمل کرتی ہے اور طالبان غنی انتظامیہ پر اپنا دباؤ کس قدر بڑھاتے ہیں۔

    عدنان عادل