امریکی ایئرلائنز کو صرف میرٹ پر پائلٹس بھرتی کرنے کی ہدایت
امریکہ کے محکمۂ ٹرانسپورٹیشن نے تمام کمرشل ایئرلائنز کو ہدایت کی ہے کہ پائلٹس کی بھرتی کے عمل میں صرف میرٹ کی بنیاد کو یقینی بنایا جائے اور نسل یا جنس کو انتخاب کا معیار نہ بنایا جائے۔ یہ ہدایت فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے نئے آپریشنز اسپیسفکیشن کے ذریعے جاری کی گئی۔ محکمۂ ٹرانسپورٹیشن کے مطابق ایئرلائنز کو باقاعدہ سرٹیفائی کرنا ہوگا کہ پائلٹ سلیکشن میں ڈائیورسٹی، ایکویٹی اینڈ اِنکلوژن سے متعلق تمام طریقۂ کار ختم کر دیے گئے ہیں۔ ہدایت پر عمل نہ کرنے والی ایئرلائنز کو وفاقی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محکمۂ ٹرانسپورٹیشن کے سیکریٹری نے بیان میں کہا کہ مسافروں کو یقین ہونا چاہیے کہ جہاز کے کنٹرول پر موجود پائلٹ مکمل طور پر اہل اور سب سے بہتر صلاحیت کا حامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے لیے پائلٹ کی قابلیت اہم ہے، نہ کہ اس کی ظاہری شناخت۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریٹر نے اس اقدام کو فضائی تحفظ سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں جانوں کی ذمہ داری سنبھالنے والے فرد کا انتخاب خالصتاً پیشہ ورانہ اہلیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایوی ایشن کے شعبے میں بھرتیوں کے طریقۂ کار پر توجہ ایک مہلک فضائی حادثے کے بعد تیز کی، جس میں ایک آرمی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور ایک ریجنل مسافر طیارے کے درمیان تصادم میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حادثے کے بعد صدر ٹرمپ پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ محکمۂ ٹرانسپورٹیشن کا کہنا ہے کہ نئی ہدایت کا مقصد ایئرلائنز کے بھرتی نظام میں شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی اداروں اور ریگولیٹڈ صنعتوں میں DEI اقدامات کے ازسرنو جائزے کی وسیع پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔





