Baaghi TV

Tag: ابن فاضل

  • خشک آلوؤں کا چورا (potato flakes) — ابن فاضل

    خشک آلوؤں کا چورا (potato flakes) — ابن فاضل

    پاکستان میں اوسطاً پچاس لاکھ ٹن آلو پیدا ہوتا ہے جبکہ ہمارا استعمال تیس لاکھ ٹن سالانہ کے قریب ہے. پچھلے سال ہم نے تقریباً چھ لاکھ ٹن آلو برآمد کیے. اس حساب سے اگلے سال کے بیج کو چھوڑ کر کوئی سات سے دس لاکھ ٹن آلو ہمارے پاس سالانہ وافر ہوتا ہے. جس کا بیشتر حصہ یقیناً ضائع ہوتا ہوگا. آلو کے موسم میں آلو کی اس بہتات کہ وجہ سے موسم میں اس کے منڈی میں نرخ دس روپے فی کلو تک چلے جاتے ہیں.

    دوسری طرف آپ جان کر حیران ہوں گے کہ سال دوہزار انیس میں دنیا بھر میں چھ ارب ڈالر کا آلوؤں کا چورا بکا. آلوؤں کا چورا یعنی (potato flakes ) ہر اس کام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس کیلئے تازہ آلوؤں کی پیسٹ استعمال ہوتی ہے. اس سے آلو کے کباب اور چپس تو بنائے ہی جاتے ہیں ساتھ ہی ہر قسم کے شوربہ کو گاڑھا کرنے کے لیے، دودھ اور مشروبات کو گاڑھا کرنے کے لیے، آئس کریم اور چاکلیٹ وغیرہ کی شکل اور ذائقہ بہتر کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.

    مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت میں سینکڑوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں سالانہ لاکھوں ٹن خشک آلوؤں کا چورا بنا کر دنیا بھر کے ممالک کو برآمد کررہی ہیں. ستم بالائے ستم یہ کہ بھارت سے درآمدات پر پابندی سے پہلے پاکستانی تاجران بھی سینکڑوں ٹن سالانہ خشک آلوؤں کا چورا سالانہ بھارت سے منگواتے رہے. ( دستاویزات تصاویر میں). جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کے ننانوے فیصد لوگ آلوؤں کی اس بیش قدر مصنوعہ کے نام سے بھی واقف نہیں. جبکہ لاکھوں ٹن آلو سالانہ ضائع ہورہے ہیں.

    آلو میں اوسطاً پچہتر فیصد نمی ہوتی ہے. یوں اگر آلوؤں کو خشک کیا جائے تو چار کلوگرام آلو سے ایک کلو آلو کے فلیکس بنائے جاسکتے ہیں. پچھلے سال سیزن میں انکی تھوک کی قیمت دس روپے کلو گرام تھی. اس سال اگر بیس بھی رہے تو گویا اسی روپے کے خام مال سے ایک کلو چورا تیار ہوجائے گا. اگر اتنا فی کلوگرام بنانے کا خرچ بھی آئے (جو کہ ہر صورت اس سے کم آئے گا). تو بھی قریب اسی فیصد منافع پر برآمد کیا جاسکتا ہے. کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت ایک اعشاریہ تین ڈالر سے ایک اعشاریہ پانچ ڈالر تک ہوتی ہے. گویا کم ازکم تین سو روپے فی کلوگرام.

    یوں تو اس کے درمیانے سائز کے پلانٹ پانچ سے آٹھ ٹن روزانہ استعداد کے ہوتے ہیں. جن کی لاگت دس کروڑ سے بیس کروڑ تک ہوتی ہے. اور اوسطاً پچیس فیصد ریٹ آو ریٹرن پر چلتے ہیں. مگر میرے خیال میں اسے بہت آرام سے گھریلو صنعت کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے.

    آلو سے چورا بنانا انتہائی آسان عمل ہے. انہیں چھیل کاٹ کر ابال لیں. اچھی طرح ابلے آلوؤں کو پیس کر پیسٹ بنالیں. اس پیسٹ کو فیکٹریوں میں تو سٹین لیس سٹیل کے گھومتے ہوئے رولز پر کہ جن کے اندر سے بھاپ گذاری جارہی ہوتی ہے، چپکا کر خشک کیا جاتا ہے. انہیں potato drum dryers کہتے ہیں. یہ چھوٹے پیمانے پر بھی بنائے جاسکتے ہیں. لیکن اس پیسٹ کو ڈی ہائیڈریٹر کی ٹرے پر باریک تہہ کی صورت میں لگا کر خشک کرنے سے بھی چورا حاصل کیا جاسکتا ہے. پہلے اس سے باریک پاپڑ نما چیز بنے گی جسے تھوڑا سا پیسنے پر چورا بن جائے گا. گھر میں خواتین فارغ وقت میں دس بیس کلو چورا روزانہ بنا سکتی ہیں. جس سے انکو ہزار سے دوہزار کی فالتو آمدنی ہونے کی توقع ہے.

    اسی طرح کچھ کسان مل کرکم سرمایہ سے چار پانچ سو کلو روزانہ کے یونٹ لگا سکتے ہیں. آلو برآمدگان خشک آلو کے چورے کے بھی آرڈر پکڑیں. اور ان چھوٹی فیکٹریوں سے معیاری مال لیکر باہر بھجوائیں. جو تاجران باہر سے منگوا کر پاکستانی ہوٹلوں اور فوڈ کمپنیوں کو سپلائی کررہے تھے وہ بھی مقامی لوگوں سے مال خریدیں. یقین کریں دو چار سال میں اربوں روپے کی نئی صنعت کھڑی ہوجائے گی جس سے ہزاروں لوگوں کو باعزت روزگار ملے گا.. انشاءاللہ.

  • کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    کامیابی کا کھویا — ابن فاضل

    مانسہرہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر، قومی شاہراہ سے آٹھ دس کلومیٹر اندر دشوار گذار پہاڑی راستہ پر واقعہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے. بفہ.. یہاں ایک صاحب ایک قسم کی مٹھائی بناتے ہیں جسے یہ لوگ کھویا کہتے ہیں. دودھ کی ربڑی کو دیسی گھی میں پکانے کے بعد مناسب مقدار میں شکر شامل کرکے ایک دانے دار براؤن سی حلوہ نما یہ مٹھائی بہت ہی خوش ذائقہ ہوتی ہے.

    لوگوں میں اس کی پسندیدگی کا یہ عالم ہے کہ بغیر پیشگی بکنگ اس کی دستیابی ناممکن ہے. حالانکہ منوں کے حساب سے روزانہ بنایا جاتا ہے. ملک کے طول وعرض سے لوگ بطور سوغات اسے منگواتے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی بجھواتے ہیں. پچھلے دنوں مانسہرہ جانا ہوا تو جی میں آئی کہ تھوڑا سا کھویا ہم بھی لیجائیں. ایک دوست کو لینے کے لئے بھیجا. معلوم ہوا کہ ایڈوانس بکنگ کے بغیر آئے ہیں اس لیے نہیں مل سکتا. بہر حال بمشکل تمام کچھ مذاکرات کے بعد کسی اور گاہک کے بڑے آرڈر میں سے کچھ ڈبے ہمارے حصہ میں آئے.

    اب دیکھیں کہ کیسی حوصلہ افزا کامیابی کی داستان ہے. کسی بھی بڑے شہر سے دور، دشوار گزار پہاڑوں کے درمیان اس صاحب ہنر نے اپنی سوچ اور محنت سے کیسا راستہ نکالا. اس مشکل کے باوجود کہ اس مٹھائی کی تیاری کےلیے دودھ بھی مقامی طور پر دستیاب نہیں، ساہیوال کے نواح سے منگوایا جاتا ہے. اس خطے میں جہاں نوے فیصد لوگ مواقع اور وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں اس صاحب عمل نے ایسی مثال قائم کردی ہے کہ ناکامی کے دیگر تمام نوحے تن آسانی اور غیر عملیت پسندی کا شاخسانہ لگنے لگے ہیں.

    پیغام بڑا سادہ اور واضح ہے. بے شک مسائل ہوتے ہیں. بے شک وسائل اور مواقع کی عدم دستیابی اور معاشرتی منفی رویوں کے سپیڈ بریکر موجود ہیں. مگر مستقل مزاجی، محنت اور حکمت سے راستہ بنانے والے منزل پا ہی لیتے ہیں. اگر آپ کی مایوسی کی وجہ بھی وسائل اور مواقع ہیں تو ازسر نو غور کی صلاح دی جاتی ہے.

  • خان صاحب کا ورلڈ ریکارڈ — ابن فاضل

    خان صاحب کا ورلڈ ریکارڈ — ابن فاضل

    آئن سٹائن نے جب نظریہ نسبیت theory of relativity پیش کیا تو اس کی بہت دھوم تھی. دور دور سے یونیورسٹیوں کے اساتذہ انہیں اپنے ہاں بلاتے اور نظریہ بیان کرنے کی دعوت دیتے، اس پر سوال جواب کرتے.

    ایک روز وہ حسب معمول کسی دور دراز سفر پر تھے. راستے میں ان کا ڈرائیور کہتا، سر یہ جو آپ لیکچر دیتے ہیں میں نے اتنی بار سن لیا ہے کہ مجھے سارے کا سارا لفظ بہ لفظ ازبر ہوگیا ہے. اگر آپ چاہیں تو آج لیکچر میں دے سکتا ہوں. آئن سٹائن نے کہا کہ سناؤ تو ذرا..

    ڈرائیور نے واقعی حرف بہ حرف درست سنادیا. بیسویں صدی کے اوائل میں ابھی ٹیلی ویژن وغیرہ تو تھا نہیں صرف اخبار میں ایک آدھ بار تصویر چھپی ہوگی. لہذا بہت کم لوگوں نے انہیں دیکھ رکھا تھا.

    سو یونیورسٹی پہنچنے سے پہلے آئن سٹائن صاحب ڈرائیور بن گئے اور ڈرائیور صاحب آئن سٹائن. لوگوں نے ڈرائیور کی بہت آو بھگت کی اس نے بھی بہت مزے سے لیکچر دیا. جب سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو تو وہ ایک سوال پر پھنس گیا مگر گھبرایا نہیں.. کہتا یہ تو بہت آسان سوال ہے اس کا جواب تو میرا ڈرائیور بھی دے سکتا ہے… اور پھر ڈرائیور نے جواب دے بھی دیا.

    یونیورسٹی کے زمانے میں کسی استاد سے سنا یہ واقعہ آج خان صاحب کی تقریر سنتے ہوئے یاد آیا.. میرا خیال ہے اگر ایک ہی تقریر بار بار کرنے پر کوئی گینئس بک کا ورلڈ ریکارڈ ہوتا تو خان صاحب وہ آئن سٹائن سے چھین چکے ہوتے. ایک ہی تقریر بار بار سننے کا ریکارڈ البتہ ان کے پیروکاروں سے شاید ہی کوئی چھین سکے.

  • ایک بے کار سا مشورہ —- ابن فاضل

    ایک بے کار سا مشورہ —- ابن فاضل

    اوپن مارکیٹ ڈالر ڈھائی سو میں بھی نہیں ملتا. اور ذہین حکومت سرکاری نرخ دوسو پچیس پر باندھ کر مطمئن ہے. باہر کے ملکوں سے پاکستان رقم بھیجنے والوں کو بینک سے ہزار ڈالر کے عوض سوا دولاکھ ملیں اور دیگر ذرائع سے بھیجیں تو ڈھائی لاکھ ملیں تو کم ہی محب وطن ایسے ہوں گے جو اتنا نقصان کرکے بھی بینک سے بھیجیں.. یہی وجہ ہے کہ ترسیلات زر پچھلے سال کے مقابلے میں بہت کم رہ رہی ہیں. یہ عمل تجارتی خسارے میں اضافے کا باعث ہے.

    صورت حال یہ ہے کہ سرکار کے پاس زرمبادلہ کی قلت کے باعث صنعت کے لیے ناگزیر سامان کی درآمد پر بھی کہیں اعلانیہ اور کہیں غیر اعلانیہ پابندی لگائی جاچکی ہے.ٹریکٹر ساز اور کاریں بنانے والے ادارے اور ان پر منحصر ساری صنعت شدید مالی بحران سے دوچار ہے. لاکھوں لوگوں بے روزگار ہونے جارہے ہیں. اور اس بحران کی مدت کتنی ہے اور حل کیا ہے کسی کونہیں معلوم. مستقبل کے حالات کا سوچ کر بھی خوف آرہا ہے.

    ایسے میں ہمارے ذہن میں ایک حل آرہا تھا سوچا آپ کے ساتھ سانجھ کرلیں شاید کوئی بہتری کی صورت نکل آئے. بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں چند میدانوں میں جیسے، ہاؤسنگ، فوڈ ویلیو ایڈیشن ،اور انجینئرنگ وغیرہ کی صنعت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے. ان کے لیے خصوصی سرمایہ کاری اکاؤنٹ کھولیں جاسکتے ہیں . جن میں سرمایہ بھیجنے پر انہوں مارکیٹ ریٹ سے پچیس تیس روپے فی ڈالر زیادہ رقم دی جائے.مگر شرط یہی ہوگی کہ یہ رقوم یہاں جائدادیں بنانے کے لیے نہیں بلکہ صنعتیں لگانے پر صرف ہوگی.

    دس ارب ڈالرز کے بدلے ڈھائی، تین سو ارب روپے فالتو دینا پڑیں گے جس سے شاید انفلیشن تو تھوڑا سا بڑھے گا مگر دس ارب ڈالر ایک دم آنے سے جو ملکی صورتحال میں یک دم بہتری آئے گی، غیر یقینی صورتحال کے خاتمہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے وہ اس سے کہیں زیادہ فائدہ کا باعث ہوں گے.

    لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک وقتی حل ہے. مستقل بنیادوں پرمعاشی استحکام کے لئے ہمیں سب سے پہلے غیر یقینی صورتحال کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا پڑے گا. کسی طور ساری بڑی جماعتیں کسی طاقتور گارنٹر کی موجودگی میں ایک چارٹر آو اکانومی پر متفق ہوجائیں تاکہ ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو نہ چھیڑا جاسکے. اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر منیر نیازی کا شعر دریا کی جگہ بحران لگا کر پڑھیں.

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو
    دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

  • اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    کھانا ہر انسان کی مادی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہاں تو فون کی بیٹری، وائی فائی سگنلز کے بعد انسان کو سب سے زیادہ فکر دو وقت کی روٹی کی ہی ہوتی ہے، البتہ جو قومیں روٹی نہیں کھاتیں ، ان کے ہاں پتہ نہیں دو وقت کی ‘کیا’ کی فکر ہوتی ہوگی ۔ شاید چینی ایسا کہتے ہوں ‘بھئی اپنی تودو وقت کی نوڈلز بمشکل پوری ہوتی ہیں’ ۔ انگریز ماں شاید ایسے اپنے بچے کو دعا دیتی ہوگی ‘وے پیٹر… گاڈ کرے تجھے دو وقت کا برگر آسانی سے ملنا شروع ہو جائے ‘

    ہمارے محلہ کے عظیم ماہرِ معیشت و پکوائی ،بشیر تندور والے کا کہنا ہے کہ ستر فیصد لوگوں کی اسی فیصد تگ ودو روٹی کمانے کے لئے ہوتی ہے جبکہ ان کا نوے فیصد بجٹ ‘سالن’ کھا جاتا ہے۔ قریب یہی نسبت سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں ہے ۔ ادھر روٹی کا بھی عجیب معاملہ ہے، اکثر لوگوں کو کہتے سنا ‘بھئی آج سالن بہت لذیذ تھا میں تین روٹیاں کھا گیا’ حیرت ہوتی ہے ۔بھئی اگر سالن لذیذ تھا تو سالن زیادہ کھائیں نا روٹی بیچاری کا کیا قصور ہے ۔

    کھانے میں، کمزور کا حق اور سرکار کے مال کے بعد شہد ، دہی اور ماں کی گالیاں سب سے زود ہضم غذائیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جینے کے لیے کھاتے ہیں اور باقی کھانے کے لیے جیتے ہیں ۔ اسی لیے شاید کچھ لوگ بہت سلیقہ سے اور منتخب کھانا کھاتے ہیں ان کو عرفِ عام میں مہذب یا غیرملکی کہتے ہیں ۔اور دیگر کھانے پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں گویا کھانا کھا نہیں رہے فتح کر رہے ہوں۔ زیادہ کھانے والوں میں بھینسیں، بٹ، اہلیانِ گوجرانوالہ مولوی اور سیاستدان مشہور ہیں، جبکہ کم کھانے والوں میں، ماڈلز، چڑیاں ، ستر سی سی موٹر سائیکل اورموٹروے پولیس شہرت رکھتے ہیں۔

    کھانے کے معاملہ میں ہرایک کا انتخاب مختلف ہے ۔ کچھ قومیں صرف گوشت نہیں کھاتیں، جبکہ کچھ صرف گوشت کھانا چاہتی ہیں چاہے کسی بھی جانور ۔ خود ہمارے حلقہ احباب میں کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں گوشت ہو چاہے لگڑ بگڑ کا ہی ہو۔ ایسے لوگوں کی خواہش اور فرمائش پر ہی شاید مہربانوں نے گدھے کے گوشت کو رواج دیا۔ گو اطباء اس بات پر بضد ہیں کہ غذائی اعتبار سے گدھے کے گوشت میں کوئی کمی نہیں ، البتہ دانشورانِ ملت کا خیال ہے کہ اس کے مسلسل استعمال سے دانائی جاتی رہتی ہے ۔ قابل خرگوشوی اس انکشاف پر چنداں پریشان نہیں، فرماتے ہیں کہ ہم نے دانائی کا کرنا بھی کیا ہے، ہمیں کونسا لیپ ٹاپ اور ہوائی جہاز بنانا ہیں، آجا کے ہم نے فرقے ہی بنانے ہیں، اور وہ دانائی کے بغیر عمدہ اور کثرت سے بنتے ہیں ۔

    خود قابل خرگوشوی سے اگر پوچھا جائے کہ انہیں کھانے میں کیا پسند ہے تو کہیں گے اس کا انحصار اس بات پر ہےکہ پکا کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر انڈے آلوپکے ہیں تو انہیں انڈے پسند ہیں، اور اگر آلو بینگن پکے ہیں تو آلو، اور اگر بینگن اروی پکی ہو تو انہیں اچار پسند ہے ۔ چاول کے متعلق ان کی رائے ہے کہ یہ اگانے اور برآمد کرنے کی شے ہے پکانے کی نہیں ۔

    دنیا کا سب سے آسان کام کھانا ہے اور سب سے مشکل پکانا، اور اس سے بھی مشکل یہ فیصلہ کرنا کہ ‘اج کیہہ پکائیے ‘ ۔گمانِ فاضل ہے کہ خواتین میں ‘کہاں سے لیا’، اور ‘کتنے کا ہے’ کہ بعد سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ‘اج کیہہ پکائیے ‘ہی ہے۔ بلکہ ہمارے خیال میں تو خواتین کی تعلیم میں امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ ایک مضمون ‘اج کیہہ پکائیے’ بھی ہونا چاہئے ۔ بلکہ ہم اہل علم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حوالہ سے موبائل اپلیکیشن اور ویب سائٹس کا اجرا کریں جو اس دیرینہ مسئلہ پر موسم اور ماحول کے تناظر میں ان کی درست راہنمائی کرسکیں ۔

    کھانے کی ضد اور وجہ ہے بھوک ساحر لدھیانوی کہتے ہیں

    بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

    بات صرف آداب تک ہی نہیں رکتی صاحب بھوک چوریاں کروا سکتی ہے، ڈاکے پڑوا سکتی ہے، غیرت و حمیت کا سودا کروا سکتی ہے یہاں تک کہ عزتیں نیلام کروا سکتی ہے، گویا بھوک انسانوں سے کچھ بھی کرواسکتی ہے۔ قرآن پاک میں بھوکے کو کھانے کھلانے کی اتنی بار تاکید کی گئی ہے کہ ہمیں حیرت سے اسکی بابت استادِ محترم سے پوچھنا پڑا کہ ایسا کیوں ہے۔ فرمایا اس لیے کہ بھوک دن کئی بار لگتی ہے ۔ اگر قران پاک کو بغور دیکھیں تو جہاں متعدد بار کھانا کھلانے کی تاکید کی گئی وہیں پر اس بات کا حکم بھی ہے کہ اوروں کو اس جانب ترغیب دلائی جائے ۔ بلکہ سورۃ الحاقہ میں اللہ کریم جہنمیوں کے جرائم گنواتے ہوئے کہتے ہیں

    وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡن ۔

    کہ یہ شخص لوگوں کو کھانا کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا ۔ اسی طرح سورۃ فجر میں اللہ کریم باغیوں اورسرکشوں کی نشانیاں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾

    اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتے .

    اور سورۃ الماعون میں تو حد ہی کردی ۔ کہ وہ شخص روزِ قیامت کا ہی منکر ہے جو نمازوں میں غفلت برتتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ سو برادرانِ اسلام یاد رہے کہ صرف غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانے سے ہی فرض ادا نہیں ہوتا اس کی ہمہ وقت ترغیب بھی ضروری ہے ۔اور میں نے آپ کو ترغیب دے دی ۔

  • کالے چاولوں کی چمک — ابن فاضل

    کالے چاولوں کی چمک — ابن فاضل

    کالی گھٹاؤں، کالی زلفوں اور کالے گلاب سے تو سب آشنا ہیں. مگر آج ہم آپ کو متعارف کرواتے ہیں کالے چاولوں سے… جی ہاں کالے چاول. Black rice. قدیم زمانے سے اہل چین کے ہاں کالے چاولوں کی کاشت کی جاتی رہی. جانے کیسے چین کے شاہی خاندان کے لوگ ان کالے چاولوں کی غذائی خوبیوں سے واقف ہوئے کہ انہوں نے اس کی کاشت اور استعمال کو صرف شاہی خاندان تک محدود کردیا. اسی وجہ سے انہیں ممنوعہ چاول forbidden rice بھی کہا جاتا ہے.

    کچھ عرصہ قبل جب جدید سائنس نے مختلف اجناس کے غذائی اجزاء کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کالے چاولوں میں اینٹی آکسیڈنٹس اور فائٹو کیمکلز کی مقدار بہت زیادہ ہے. بلکہ سب سے زیادہ کارآمد اینٹی آکسیڈنٹ اور نیوٹراسیوٹیکل کیمیائی مرکب اینتھوسائیانین کی سب سے زیادہ مقدار کالے چاولوں میں پائی جاتی ہے.

    اینتھوسائیانین بنیادی طور پر پھلوں میں پایا جانے والی گہرا جامنی رنگ ہوتا ہے جسے پھلوں سے سادہ کیمیائی عمل سے علیحدہ کیا جاتا ہے. یہ وہ مرکب ہے جس کا مستقل استعمال دائمی امراض کے خاتمے کے لئے بیحد مفید ہے. حتی کہ بہت سے اقسام کے کینسر کے خلیے بھی اینتھوسائیانین کے استعمال سے ختم ہوجاتے ہیں. اس وجہ سے پوری دنیا میں اینتھوسائیانین کی مانگ اور قیمت فروخت بہت زیادہ ہے.

    کالے چاولوں میں اس جامنی اینتھوسائیانین کی اس قدر زیادہ مقدار ہوتی ہے کہ وہ کالے نظر آتے ہیں. جب کہ پکنے کے بعد یہ گہرے جامنی ہی دکھائی دیتے ہیں. اس زبردست دریافت کے بعد دنیا بھر میں کالے چاولوں کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے. خطے میں چین کے بعد سب سے پہلے تھائی لینڈ میں اس کی کاشت شروع ہوئی. پھر فلپائن اور سال 2011 میں بھارت میں آسام میں ایک کسان نے اس کی کاشت کا کامیاب تجربہ کیا. اس وقت سے اب تک بھارت میں آسام، اڑیسہ اور ارد گرد کے علاقوں میں ہزاروں ایکڑ پر سالانہ کالے چاولوں کی کاشت کی جا رہی ہے.

    سال 2017 میں بھارتی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں اس کی کاشت کا میابی سے کی گئی. یہاں اس کی فی ایکڑ پیداوار تیس سے پینتیس من حاصل کی گئی. عام چاول کی نسبت کالے چاول کی قیمت فروخت بہت زیادہ ہے. بھارت میں اس کی تھوک میں فروخت ساڑھے تین سو روپے بھارتی فی کلوگرام ہوتی ہے. یعنی پاکستانی آٹھ سو روپے فی کلو. اور اگر یہ کھاد اور کرم کش ادویات کے بغیر یعنی آرگینک طریقے سے اگایا گیا ہوتو اس کی قیمت فروخت پانچ سو روپے بھارتی یعنی ساڑھے گیارہ سو روپے پاکستانی فی کلوگرام ہوتی ہے.

    آسان الفاظ میں اگر عام طریقہ سے بھی اگایا جائے تو فی ایکڑ دس لاکھ روپے کی فصل حاصل کی جاسکتی ہے. پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں جہاں کچھ علاقے چاول کی کاشت کے انتہائی موزوں ہیں عین ممکن ہے کہ اس کی فی ایکڑ پیداوار اور معیار اور بھی شاندارہو. جس کی قیمت عالمی منڈی میں اور بھی زیادہ ہو. ہم نہ صرف کالے چاول براہ راست فروخت کرسکتے ہیں بلکہ اس میں امسے اینتھوسائیانین ایکسٹریکٹ کرکے بھی مہنگے داموں بیچ کر بہت سا زرمبادلہ کما سکتے ہیں.

    بات پھر وہی ذرا سا غوروخوض کی عادت ہو، تھوڑا ترقی کا شوق اور آرزو ہو تو خوشحالی کے سینکڑوں راستے اور ہزاروں منزلیں ہماری منتظر ہیں.