Baaghi TV

Tag: ابوبکر قدوسی

  • حضور  ﷺ  آپ سا کوئی نہیں — ابو بکر قدوسی

    حضور ﷺ آپ سا کوئی نہیں — ابو بکر قدوسی

    اس کو بہت دن سے تلاش تھی ، تلاش کہ ماہ کنعان کے بعد چاند کدھر کو نکلا ۔ تلاش ، کہ اس دور ابراہیم کس گھر میں اترے ، تلاش کہ اب کے سراج منیر کس بستی کے افق پر طلوع ہوتا ہے ……..سو تلاش میں وہ بارہا ہمارے حضور کے ہاں بھی چلا آتا …

    ہر دن اس کے اندر روشنیوں کا شہر آباد ہو رہا تھا ….. لیکن کچھ بے کلی کہ پرکھوں کے اور نسلوں کے عقاید آسانی سے بدلنا کہاں ممکن ہوتا ہے ؟

    سو تلاش مزید تلاش میں بدل رہی تھی ……

    ایک روز مجلس جمی تھی کہ دور دراز سے ایک آدمی ہمارے حضور کی مجلس میں آیا – اس نے آن کے اپنا بتایا اور قبیلے کے حالات سنائے ..اور عرض کی کہ :

    ” حضور ، ہمارے علاقے میں قحط سالی ہے ، میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اسلام قبول کر لو اللہ بہت رزق دے گا …مجھے ڈر ہے کہ پیٹ کی آگ ان کو مرتد نہ کر دے کہ ایمان ابھی کمزور ہے اور دل کچے ….سو حضور اگر کچھ عنایت ہو جاے تو بستی کا ایمان سلامت رہ جائے گا ”
    آپ صلی اللہ علیه وسلم نے پاس موجود سیدنا علی کی طرف نگاہ کی کہ نگاہوں میں سوال تھا کہ بیت المال میں کچھ ہے اور سیدنا علی کی خاموشی نے سب کچھ واضح کر دیا کہ گو دامن دل تو ایمان سے معمور ہے لیکن جیب خالی ہے ……

    ماحول میں خاموشی نے اس کی تلاش کو موقع دے دیا ..جی یہ زید بن سعنہ تھے ..کہ جن کو تلاش لیے لیے پھرتی تھی …جھٹ سے پیشکش کی کہ :

    "جناب فلاں باغ کی کھجوریں میرے نام کیجئے کہ پکنے پر میری ہوں گی اور قیمت مجھ سے ابھی لیجئے اور اپنی ضرورت پوری کیجئے ”

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا اور بس یہ تبدیلی کی کہ :

    ” کسی باغ کی مخصوص نھیں ہوں گی لیکن کھجوریں ، جہاں سے ممکن ہوا ، آپ کو مل جائیں گی ”

    سودا ہو گیا …لیکن یہ کھجوروں کا سودا نہیں تھا بلکہ کھجوروں سے بڑھ کے سودا ہوا تھا …..

    سونے کے اسی دینار زید نے نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم کے ہاتھ رکھے ، معاہدہ کیا اور آپ نے سونے کے دینار ان صاحب کو دیئے کہ جلدی اپنی قوم کے پاس جائیں اور ان کی مدد کریں ……

    دن گزرتے گئے کہ دنوں نے تو گذرنا ہی ہوتا ہے …

    ایک روز صاحب وحی اپنے دونوں دوستوں کے ساتھ بقیع کے قبرستان کسی جنازے میں گئے ..تدفین ہو چکی کہ کسی نے آپ کے کندھے کو چھوا ..لیکن یہ محض چھونا نہ تھا ، قیامت ہو گئی کہ چھونا شدید جھٹکے میں بدل گیا …زید نے آپ کی کندھے کی چادر کو کھینچا اور اس قردر زور سے کھینچا کہ گردن کو رگڑتے ہوے اس کے ہاتھ میں ا گئی …مگر صاحب وحی اس افتاد پر گھبرائے نہ الجھے …حیرت ضرور رہی ہو گی کہ آخر مجلس میں موصوف کا آنا جانا تھا لیکن ابھی کچھ اور بھی باقی تھا –

    زید نے نے بہت تلخ رو ہو کے کہا :

    "اد ما علیک من حق و من دین یا محمد ! فواللہ ما علمتکم یا بنی عبد المطلب ، اعلی مطلا فی ادا الحقوق و سداد الدیون ”

    یہ لفظ نہ تھے گویا سیسہ تھا کہ پگھلا ہوا ہو اور کانوں میں اترا جا رہا ہو ….سچی بات ہے اگر کوئی مجھ سے ایسا کہے تو اگر میں بدزبانی نہ بھی کروں شائد کوئی شے ضرور اس کو دے ماروں ……لیکن آمنہ کے معصوم پر جانے کیا کیا مصیبتیں ٹوٹی تھیں کہ دل ٹہر چکا تھا ، ابھی کل کی ہی تو بات تھی کہ مکے میں لوگ ان کو مجنون تک کہہ چھوڑتے تھے ، تب کیسے نہ دل کٹ کٹ جاتا ہو گا ..آج ہم معمولی سی مصیبت کو لے کر کے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ، کبھی آنسو کبھی شکوہ ، کبھی زمانے کی شکایت …جی زید نے کہا :

    ” محمد میرا قرضہ واپس کر ، اللہ کی قسم تم جو عبد المطلب کی اولاد ہو نا ، جان بوجھ کے حقوق اور قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہو ”
    جن کندھے سیے چادر اتری ، وہ تو مسکراتے رہ گئے لیکن ساتھی غضب ناک ہو گیے ….سیدنا عمر طیش میں گئے ، بہت کچھ کہہ ڈالا ، قریب تھا کہ ہاتھ اٹھا لیتے کہ صاحب وحی نے روک دیا :

    "عمر دھیرج دھیرج …ایسی بات تو نہ کہو …. تمہیں تو مجھ سے کہنا چاہیے تھا کہ میں اس کا قرض ادا کرتا اور اس کو کہا ہوتا کہ عمدہ طور پر تقاضا کرتا ”

    پھر سیدنا عمر کو ہی حکم دیا کہ ان صاحب کو لے جا کے ان کا قرض ادا کیجئے اور ہاں یہ بھی حکم تھا کہ بیس صاع بڑھا کے دیجئے گا کہ :
    "یہ اس "زیادتی ” کا بدل ہے جو دھکمی کی صورت آپ نے کی ہے ”

    جی ہاں سیدنا عمر کی تلخ نوائی کا "قرض ” بھی ساتھ ہی ساتھ چکا دیا …کبھی آپ نے اس سنت پر عمل کیا ہے کہ کوئی آپ سے تلخ تر ہو کے بات کرے اور آپ اپنے الفاظ کا بھی جرمانہ ساتھ ہی ساتھ ادا کرتے جائیں …..؟

    سیدنا عمر ان صاحب کو ساتھ لے کے بیت المال کو چلے اور حسب حکم قرض سے پچاس کلو کھجور مزید ادا کر دیں ….

    پلٹ کے مگر زید نے جب کہا :

    "عمر آپ مجھے جانتے ہیں ؟”

    تو اجنبیت بھری نظروں نے آپ نے نفی میں سر ہلا دیا …

    "عمر میں زید بن سعنہ ہوں ”

    اب حیران ہونے کی باری سیدنا عمر کی تھی .

    ".ارے وہی زید کہ مشہور یہودی عالم …”

    "ہاں ہاں ، وہی ہوں نا میں ”

    "اچھے عالم ہو …صاحب علم ہو اور صاحب وحی سے یوں بدزبانی ”

    "اسی لیے تو کی نا کہ عالم ہوں ”

    سیدنا عمر کی حیرت دو چند .

    "بھلا یہ کیا بات کہ عالم ہوں اس لیے بدزبانی کی ”

    "سنیے جناب عمر ////// مدتوں سے تلاش میں تھا ، کھوج تھی کہ دل کو بے چین کیے دے رہی تھی ….آرزو کہ اس بار بھی چاند اسحاق کی بالیں پہ چمکے …. لیکن مقدر آل اسمٰعیل کے روشن تر تھے …خیر دل کو سمجھایا اور ہر طرح سے دیکھا ، پرکھا ، اور جانچا …یہی خبر ہوئی کہ یہی ہیں ہاں یہی آخری نبی ہیں …ایک آخری آزمائش کو مگر دل چاہا کہ ان کا حلم دیکھا جائے کہ آخری نبی کی نشانی ان کا صبر ، حلم بھی ہو گا …..آخری دو نشانیاں ہاں سیدنا عمر آخری دو نشانیوں کی تلاش تھی …کہ ان کا تحمل ان کے غصے پر غالب ہو گا اور یہ کہ جیسے ان کے ساتھ بدزبانی کی جائے گی تحمل کا سیلاب امڈتا چلا جایے گا …جی میرے دوست آج یہ بھی دیکھ لیا ….چلیے عمر آئیے حضور کی جانب چلتے ہیں کہ ہمارے حضور سا کوئی نہیں ”

    "اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمد رسول اللہ "

  • لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    کبھی کوئی چائے والا اور کبھی پتی والا ۔۔۔اور کبھی کوئی پیپسی اور آج لاہور دا پاوا ۔۔۔۔۔۔۔

    افسوس اس قوم کے رہنماؤں نے اس قوم کو کھیل تماشے اور بےکار امور کے نشے میں یوں مبتلاء کیا کہ ان کو اپنی منزل بھول گئی ۔۔۔

    خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
    آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی

    ہر طرف ایک مجہول اور نامعقول شخص کے منہ سے نکلے فضول الفاظ کی تکرار ہے ، اور اچھے خاصے سنجیدہ دوست بھی اس بربادی وقت اور فکر کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں ۔۔۔۔

    کہنے کو ہم رہنما اسلامی ملک ہیں ، خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہم سے سب پوچھ کے منزل سفر طے کریں کہ ہم دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہیں اور سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ پوری قوم کی زبان اور حواس پر ایک مجہول جملہ جاری وساری ہے ۔۔۔۔ایسا جملہ کہ جس کا معانی تلاش کیا جائے تو شائد لفظ ” نامعقولیت ” سے ہی ادا ہو پائے ۔۔۔۔

    تکلیف اس امر کی ہے کہ لہو و لعب کی رسیا اس جہالت کو ہر دوسرے ہفتے ایسی کسی جہالت کی تلاش ہوتی ہے۔ ۔۔اور جب ایسی کوئی جہالت مل جاتی ہے تو سوشل میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سب اس جہالت کو ماتھے کا جھومر بنائے ناچ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔

    ایسا شخص کہ جس کی گفتگو کے سبب اسے کسی پڑھی لکھی مجلس میں جگہ نہ ملے اس کے انٹرویو چل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
    کیا ترقی چاہنے والی اقوام کے یہی طور طریقے ہوتے ہیں ؟ ۔حقیقت یہ ہے کہ ہم قوم نہیں نرا ہجوم ہیں ، بےہنگم اور تالیاں پیٹنے والا غیر سنجیدہ ہجوم ۔۔۔۔۔

    اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے کہ جب ملک بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ، کہ آج دیوالیہ ہوا کہ آج ، اور قوم کے بڑے چھوٹے سب ہاہا ہوہو کر رہے ہیں ۔۔یعنی جس وقت پوری قوم کو فکرمندی سے آنے والے دنوں کا سوچنا چاہیے اس وقت یہاں غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے ۔۔۔۔

  • کیا احادیث میں عریانیت پائی جاتی ہے ؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا احادیث میں عریانیت پائی جاتی ہے ؟ — ابو بکر قدوسی

    آپ احباب نے بہت سے ناقدین کی زبان اور تحریر میں یہ اعتراض ضرور سنا یا پڑھا ہو گا ۔۔۔لیکن اس اعتراض میں وہی بودا پن پایا جاتا ہے کہ جو ان "کرم فرماؤں ” کے باقی اعتراضات میں موجود ہے ۔۔۔

    پہلی بات یہ ہے کہ احادیث میں جنسی مسائل کو ایک خاص حد سے زیادہ کھلے انداز میں بیان ہی نہیں کیا گیا ۔۔یہ جو شور کیا جاتا ہے کہ عریانیت ہے ، محض مبالغہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔۔۔

    دوسرا سوال ان احباب سے یہ ہے کہ جب جنسی مسائل ، سیکس کی حدود و قیود اور غسل جنابت کے فرض ہونے کی صورتیں بیان کرنا ہوں گی تو کون سی زبان لکھی جائے گی ؟

    اصل میں ہم سب کی نفسیات میں مقامی سوچ اتنی غالب ہے کہ شرم حقائق کو بھی چھپا لیتی ہے ۔۔جبکہ سیکس ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو کھانے کی بھوک کی طرح ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہے ۔۔لیکن جھوٹی شرم و حیا ہمیں مسلہ پوچھنے سے روک دیتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام عمر غسل جنابت کا درست طریقہ بھی جان نہیں پاتے ۔۔۔سیکس کے بہت سے حرام و حلال سے نا آشنا رہتے ہیں ، بہت سے امور جو جائز ہیں ان سے مقامی بے کار شرم و حیا کے سبب لطف اندوز نہیں ہو پاتے ۔۔۔۔اور بہت سے حرام کام کرتے ہیں اور جانتے ہی نہیں کہ یہ درست نہیں ۔۔۔

    ایک اور عجیب بات ہے کہ یہ معترضین حضرات قران کی ان آیت پر خاموش رہتے ہیں کہ جن اسی اسلوب میں انسانی تخلیق اور بعض مسائل کا ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔قران میں ہے :

    سورہ واقعہ میں ہے :

    فَرَاَيْتُـمْ مَّا تُمْنُـوْنَ (58)
    بھلا دیکھو (تو) (منی) جو تم ٹپکاتے ہو

    اَاَنْتُـمْ تَخْلُقُوْنَهٝٓ اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ (59)
    کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں۔

    سورہ الطارق میں ہے :

    فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (5)
    پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔

    خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ (6)
    ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

    يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ (7)
    جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔

    اِنَّهٝ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ (8)

    سورہ التحریم میں ہے :

    وَمَرْيَـمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِىٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُـتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِيْنَ (12)
    اور مریم عمران کی بیٹی (کی مثال بیان کرتا ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی
    سورہ القیامہ میں ہے

    اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْـرَكَ سُدًى (36)
    کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔

    اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى (37)
    کیا وہ ٹپکتی منی کی ایک بوند نہ تھا۔

    دیکھئے کس بے تکلفانہ انداز میں تخلیق انسانی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور انسان کو غور فکر کی دعوت دی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔اور جب ان مراحل کے نتیجے میں ضروریات طہارت کا ذکر آتا ہے تو احباب کو برہنگی کا دکھ ستانے لگتا ہے ۔۔۔سوال شروع ہو جاتے ہیں کہ

    ” جی مولوی صاحب اپنی چھوٹی بیٹی کو یہ احادیث سنا سکتے ہیں ”

    بھائی بچہ تو پھر یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ ” مَّآءٍ دَافِقٍ ” کیا ہے ؟

    یہ پانی کیوں کر اچھلتا ہے اور کہاں کے چشمے سے نکلتا ہے ؟

    اور ہاں قران میں عورتوں کو کھیتی بھی تو کہا گیا ہے ۔۔۔اب بچوں کے سامنے ذرا اس آیت کی شرح کر دیجئے ۔ ۔

    نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّـٰى شِئْتُـمْ (223)
    تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ۔۔۔۔

    کوئی صاحب اس آیت کی شرح نہیں صرف ترجمہ کریں اور پھر احادیث پر اعتراض کو انصاف کے میزان میں رکھ کر غور کریں تو یقینا درست فیصلے پر پہنچ جائیں گے ۔۔۔

    احباب ! وہ درست راہ یہی ہے کہ بے مقصد اور بے جا قسم کی حساسیت غیر متوازن رویہ ہے ۔۔۔

    عربوں کا معاشرہ ہماری نسبت کہیں زیادہ ان معاملات میں حقیقت پسند اور صاف گو ہے ۔۔۔۔اور انکی زبان کی فصاحت بھی انکو ایسے معاملات کو بیان کرنے کے لیے بہت آسانی مہیا کرتی ہے ۔۔

    آب آپ صحیح مسلم کی اس حدیث کو دیکھ لیجئے کہ جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وجوب غسل کی صورت پوچھی گئی ۔ کیسے خوبصورت کنائے اور اشارے میں جماع کی صورت بیان کی گئی اور مسلہ بھی بتا دیا گیا ۔۔حدیث کے الفاظ ہیں :

    اذا جلس بین شعبھا الاربع و مس الختان الختان فقد وجب الغسل
    یعنی جب مرد عورت کی چاروں شاخوں میں بیٹھ جائے ۔۔اور ختنے سے ختنہ مل جائے ۔ ۔ . تب غسل واجب ہو جائے گا ۔۔۔

    کیا اس سے زیادہ اور حیا دار الفاظ سے اس منظر کا بیان ممکن تھا ؟

    اسی طرح ایک جگہ زنا کے جرم کی تفتیش مقصود تھی تو حدیث میں انسانی آلات تناسل کا ذکر کرنے کی بجائے سرمہ دانی کو بطور مثال بیان کیا گیا ۔۔۔کہ جسے اس کا دخول ہوتا ہے کیا ویسے ہوا تو سزا دی جائے ۔۔۔

    اس کے بعد کون سی عریانیت کا شور کیا جاتا ہے ؟

    ایک اور اہم معامله یہ بھی ہے کہ ایسی احادیث بغرض تعلیم کتب میں بیان کی گئی ہیں نہ بطور افسانہ ۔۔۔۔

    کبھی آپ میڈیکل کالج جائیں ۔۔یا بایو لوجی کے طلبا کی کتب اٹھائیں جن میں انسانی آلات تناسل کی باقاعدہ تصاویر بنی ہوتی ہیں ۔۔۔۔اور استاد دوران لیکچر بورڈ پر بھی کبھی ایسی تصاویر بنا چھوڑتا ہے ۔۔۔وہاں بچے اور بچیاں سب باہم مل بیٹھ پڑھتے ہیں ۔۔۔۔اس پر کیا کہیں گے ؟

    چلتے ہوئے ایک سچا واقعہ سن لیجئے ۔۔حرم شریف کے صحن میں ایک حاملہ عرب عورت اپنے چھے سات برس کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔میری اہلیہ اس کے بچے کی طرف متوجہ ہوئی اور معصوم سے بچے سے پیار بھرے سوال جواب شروع کر دیے ساتھ اسکی ماں بھی شریک گفتگو رہی ۔۔. . بچے سے پوچھا گیا کہ کتنے بہن بھائی ہو ۔۔۔تو اس نے تعداد بتائی اور ماں کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ایک آنے والا ہے اور یہاں ہے ۔۔۔۔سمجھانا یہ مقصود ہے کہ عربوں کا معاشرہ ہماری نسبت ان معاملات میں زیادہ حقیقت پسند اور فطری رجحانات کا حامل ہے ۔۔۔

    اور کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں آخری شریعت کے نزول کے مقاصد میں ایک یہ پہلو بھی رہا ہو گا کہ وہ ہر ہر پہلو پر سوال کرتے اور پھر جواب ہمارے لیے تعلیم کا سبب ہو گئے ۔۔۔۔ہمارے ہاں اسلام نازل ہوتا تو اس "شرما شرمی” میں کسی کو غسل کا طریقہ بھی شائد معلوم نہ ہوتا ۔۔۔۔

  • بھلا استاد ایسے  بھی  مہربان  ہوتے  ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بھلا استاد ایسے بھی مہربان ہوتے ہیں؟ — ابوبکر قدوسی

    بہتے آنسو راستے بھر میں یاد آتے رہے ، سوچ اور حیرت ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھی – یہی حیرت کہ بھلا استاد ایسے مہربان بھی ہوتے ہیں اور یہی سوچ کہ ہاں استاد ایسے ہی مہربان ہوتے ہیں –

    برس گزرے تقی الدین وطن سے نکلے تھے ، سفر ایسے جیسے زندگی کا لازمہ ہو چکا ، حصول علم کا شوق سفر کی ہر منزل آسان کیے دیتا تھا ، نہ سفر ختم اور نہ علم کی کوئی حد – اسی شوق نے تقی الدین ہلالی کو مبارک پور آنے پر مجبور کر دیا – کیونکہ مبارک پور میں ان دنوں علم کا چاند نکلا تھا – جی ہاں مولانا عبد الرحمان مبارک پوری کا دیس مبارک پور تھا –

    مہمان پار پردیس سے علم م کی "اور” چلا آیا تو استاد کا بھی اس کی غریب الوطنی پر دل پسیج گیا – بہت محبت اور اصرار کے ساتھ گھر میں رکھا – شیخ تقی الدین ہلالی جتنا عرصہ مبارکپور رہے حضرت الاُستاد کے ہاں ہی رہے خود کہتے ہیں کہ :

    ” نہ مجھے کسی ہوٹل جانا پڑا نہ کبھی کھانا خریدنے کی نوبت آئی "-

    مہمان بہت دن رہا لیکن اک روز جانا تو تھا سو رخصتی کا وقت آ گیا – تقی الدین نے فیصلہ کیا کہ ٹرین سے اعظم گڑھ کو جایا جائے اور پھر آگے کی منزلیں – استاد محترم نے کہا کہ :

    ” ایسے نہیں ، رک جائیے کچھ روز میں ہمارے دو آدمی بیل گاڑی سے سفر پر جانے والے ہیں آپ ان کے ساتھ جائیے گا "-

    جانے والے دونوں افراد آدھی رات میں سفر کو نکلنے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے – شاگرد نے عشاء کی نماز پڑھی اور رخصت چاہی کہ رات گئے ملنا کیسے ہو گا ، اس لیے استاد محترم کو ابھی مل لیا جائے – دل میں اک کسک بھی تھی کہ جانے اب ملاقات ہو نا ہو –
    گزرے ایام ، علم کی مجلسیں ، استاد کی رفاقتیں ، شفقتیں سب اداس کیے دے رہی تھیں ، لیکن جانا تو تھا – استاد کہنے لگے
    "ایسے نہیں ، وقت رخصت میں خود آوں گا ” –

    شاگرد نے ہزار کہا "حضرت رہنے دیجئے آدھی رات کا وقت زحمت ہو گی نیند سے اٹھیں گے "- لیکن لاستاد نہ مانے –

    رات بھیگ رہی تھی ، چاندنی پھیل رہی تھی ، ستارے اس کی روشنی میں ماند ماند سے تھے – مسافر کی رخصتی کا وقت ہوا تو سامان اٹھائے مسجد کے حجرے سے باہر نکلا – کچھ ہی قدم آگے بڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے چاندنی ہر طرف محبت کی خوشبو پھیلا رہی ہو – مولانا مبارک پوری منتظر کھڑے تھے –

    مولانا شاگرد کو ساتھ لے کر گاڑی کی طرف چلے ، گاڑی والے دونوں صاحب منتظر تھے – وقت رخصت استاد نے تقی الدین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ، دعائیں تھی کہ ماحول کو معطر کیے جا رہی تھیں :

    "استودع اللہ دینک امانتک و خواتیم عملک ، زودک اللہ التقوی و یسرک الخیر اینما توجہت ”

    پھر ہولے سے شاگرد کے ہاتھ میں کچھ روپے تھما دئیے ، تقی الدین ہچکچا گئے ، اور کچھ شرما گئے کہ علم کا خزانہ تو دے دیا بھلا اس کی کیا حاجت – لیکن استاد محترم کا تقاضا آنسوں کی صورت آنکھوں سے نکل اٹھا ، مولانا مبارک پوری زار و قطار رو دئیے – بہتے آنسوں سے تکرار کہ

    ” رکھ لو ، رکھ لو ” – شیخ تقی الدین ہلالی لکھتے ہیں کہ :

    میں نے روپیہ لے لیا ، ان کا رونا دیکھ کر میں بدن پر کپکی طاری ہو گئی ، میں شرمندہ بھی تھا کہ روپے لوٹانے نے ان پر رقت طاری کر دی ” –

    لیکن شیخ تقی الدین کو نہیں معلوم تھا کہ روپے لوٹانا ان آنسوؤں کا سبب نہ تھا ، ہم ہندوستانی محبت میں ایسے ہی جذباتی ہوتے ہیں ، استاد اداس ہوے جا رہے تھے کہ ایسا لائق شاگرد جانے کب ملے –

    تقی الدین نے ان سے معافی چاہی ، لیکن یہ کوئی ناراضی کے آنسو تو نہ تھے یہ تو محبت کے آنسو تھے کہ جو خود سے چلے آتے ہیں اور اپنا وجود منواتے ہیں ، بہتے ہیں اور بہا لے جاتے ہیں –

    شگرد رخصت ہوا ، چاند بھی ڈوب چلا ، ستارے مدھم مدھم سا گیت گاتے اپنی منزلوں کی طرف نکل گئے – مسافر کا پہلا پڑاؤ آ گیا ، فجر کا وقت تھا ، مسافر نماز کے لیے رکا ، امامت کو کھڑا تھا ، دونوں ساتھی پیچھے تھے –

    لطف کرم کی برسات جو عرصہ برسی اور جس کی انتہا آج آخری رات مسافر نے دیکھی ، اس کو بے چین کیے دے رہی تھی –

    دل پر رقت تھی کہ جیسے باہر ہی نکل آئے گا – قرأت شروع کی اور پھر آنسوؤں کی برسات نے کچھ پڑھنے نہ دیا –

  • جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا!!! — ابوبکر قدوسی

    جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا!!! — ابوبکر قدوسی

    اللہ تعالیٰ ہمارے دوستوں کی "فرصت” میں برکت دے کہ بیشتر اوقات گرمئی مجلس قائم رکھتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ” اشو ” کھڑا رہتا ہے ، تکلیف مگر اس امر کی ہے کہ انتہائی ذمے دار اور باصلاحیت احبابِ علم جب ‘نان اشوز” کو "اشوز” بناتے ہیں ، تو دراصل یہ بھی قوم کی تربیت میں خرابی کی ایک صورت بن جاتی ہے ۔ اور نقصان اس کا یہ ہوتا ہے کہ قیمتی وقت اور صلاحیتیں ان امور میں ضائع ہوتی ہیں کہ جن سے ہزار گنا اہم معاملات ان صاحبانِ تحریر و تقریر کے منتظر رہتے رہتے تھک کر سو جاتے ہیں ۔

    اڑتے اڑتے آس کا پنچھی دور افق میں ڈوب گیا
    روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی

    احباب گرامی قدر ! یہ امر بذات خود افسوس ناک ہے کہ کل سے انتہائی قیمتی وقت اور صلاحیتیں راجہ ضیاء صاحب کی ایک ہال میں داخلے کی ویڈیو کی نذر ہو رہی ہیں ۔میں نے کل دو دو جملوں پر مشتمل اگرچہ مزاحیہ انداز میں پوسٹ کیں تو اس کا مقصود بھہ یہی تھا کہ دوستو ! یہ معاملہ محض اس قدر توجہ طلب ہے کہ آدھ جملے میں بات ختم کی جائے ، لیکن احباب جب تک طول شب ہجراں ماپ نہ لیں اور محبوب کی زلف دراز تر کا آخری سرا دریافت نہ کر لیں ، کب چین پاتے ہیں ۔ میں تو پھر کہتا ہوں کہ بھائی سب فرصت کی باتیں ہیں ۔

    میرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

    اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ کیا راجہ صاحب کا عمل درست ہے ؟ تو عرض ہے کہ داعی کا بلاشبہ ایک مقام ہوتا ہے اور ایک وقار ہوتا ہے ، میں خود کبھی اس انداز کو اختیار نہ کروں جو انہوں نے کیا ہے ۔

    لیکن !

    اگر کر لیا تو شریعت کے حلال و حرام کے کس ضابطے کی نفی ہو گئی تھی کہ ہمارے معزز دوست دن بھر اس پر طویل مضمون نگاری کرتے رہے ۔

    مجھے ہرگز آپ احباب کی نیت پر شبہ نہیں ، بلاشک آپ نے دعوت دین کے وقار کی خاطر یہ سب لکھا لیکن ایسا ہی ہے کہ ڈاکٹر کہے کہ
    "مریض کو پینا ڈول کی ایک گولی دے دیجیے”

    اب گھر کے اگر گیارہ افراد ہیں تو ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی پینا ڈول دینا فرض جان کر یہ ” خدمت ” سرانجام دے رہا ہے ۔ مریض نے خاک صحت مند ہونا ہے ۔

    میرے بھائی ! لباس ، سواری ، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا انسانی کا ذاتی اختیار ہے ، پابندی صرف حلال و حرام امور کی کی جائے گی ۔ حلال کے دائرے میں اچھے برے کی تحدید ہر بندے کا اپنا اختیار ہے ۔

    مجھے یاد ہے کہ حضرت حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری رحمہ اللہ تہہ بند پہنا کرتے تھے ، جب علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کا حادثہ ہوا لارنس روڈ کی انتظامیہ نے چاہا کہ کچھ عرصہ آپ وہاں خطبہء جمعہ ارشاد فرمائیں ، اور تہہ بند کی جگہ شلوار پہن لیں ۔۔۔۔ ان کو منانا ایک مشکل مرحلہ تھا اور خود ان کے لیے بھی بہت مشکل تھا ان کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ جینز پہن کر جمعہ پڑھا رہے ہیں ۔۔۔۔
    جبکہ اگر وہ تہہ بند پہن کر آتے تو شائد وہاں حاضرین کو کچھ عجیب لگتا ۔۔۔جبکہ فرق صرف حاضرین کی سوچ کا تھا ۔۔۔۔۔۔
    اب جس ماحول میں انہوں نے اپنی ہیوی بائیک سیدھی ہال کے اندر لا کھڑی کی وہاں یہ کچھ عجیب نہیں تھا بلکہ سب نے گرمجوشی سے استقبال کیا ، جبکہ اسی ہال میں اگر ہمارے کوئی بزرگ تہہ بند پہن کر چکے جاتے تو ہورے ہال میں چہ میگوئیاں شروع ہو جانی تھیں ۔۔۔۔ اسی طرح عجیب و غریب لگنا تھا جیسے آج آپ کو عجیب لگ رہا ہے ، اور عین ممکن تھا کہ کوئی جدید ترین داعی تب ادھر کہتا کہ یہ داعی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ تہہ بند پہن کر بیکن ہاؤس ، لمز ،ایل جی ایس ، اور نسٹ کے طلبہ کو خطاب کرنے چلا آئے ۔۔۔۔۔
    سو احباب :

    ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ نان اشوز کو اشوز نہ بنایا کیجیے ، حقیقی مسائل آپ کی راہ تکتے تکتے سو جاتے ہیں اور آپ کو ان غیر حقیقی مسائل سے فرصت نہیں ملتی ۔۔۔۔

    اور آخری بات۔۔۔۔یہ لوگ اس میدان میں کام کر رہے ہیں کہ جہاں کوئی آپ کی بات سنتا بھی نہیں ہے ، جس روز آپ اس میدان میں یوں جا نکلیں گے کہ آپ کو سنا جائے ، لوگ روایت سے جڑے اہل علم کی بات سنیں اور سمجھیں تو یقین کیجیے تب ہم ضرور ان ” ماڈرن داعیوں ” کی اسی طور ” اصلاح ” میں آپ کے قدم بقدم ہوں گے ۔۔۔

    لیکن بصد افسوس کہ آپ کی جماعتوں کے ایجنڈے اور سوچ و فکر کے دائرے میں وہ طبقات تو آتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔پھر ایسی تنقید تو وہی ہو گی کہ ” کھیلنا ہے نہ کھیلنے دینا ہے” ۔

    ذرا کوئی صاحب مجھے بتائیں کہ کبھی کسی مذہبی جماعت کی عاملہ کے اجلاس میں نوجوان طبقے میں پھیلتے الحاد بارے فکرمندی ایجنڈے کا حصہ بنی ؟

    نوجوانوں کے فکری انتشار پر کوئی لائحہ عمل طے کیا گیا ؟

    سیکولرزم کی یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی صورت زیر بحث آئی ؟

    اگر کسی جماعت اجلاس میں ایسا کچھ ایجنڈے پر آیا تو ہمیں بھی بتائیے گا ۔

    اور یہ بھی جان لیجیے کہ جن کو کام کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ دوسروں سے کام لے لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لمحہ فکریہ تو آپ کے لیے ہے کہ یہ کام آپ کیوں نہ کر پائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟