Baaghi TV

Tag: ابو بکر قدوسی

  • عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    انہوں نے اپنا ” عورت پن ” خود ختم کیا اور برابر کے حقوق کا نعرہ لگایا بلکہ فیمنزم کے نام پر اس برابری کے حصول کے لیے تحریک بپا کی ۔

    اس کے بعد یہ خواتین کس برتے پر خود کے لیے الگ سے عزت و احترام کا تقاضا کرتی ہیں ؟

    ان کا یہ مطالبہ بذات خود ان کے ایجنڈے کی نفی ہے ، لیکن کند ذہنی کے سبب سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ آٹھ مارچ کو عورت مارچ کے نام پر اکٹھ کر کے اور مطالبوں کے نام پر بےہودگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ” اضافی ” عزت و احترام کا انہیں کوئی حق نہیں ہے ۔

    ” لیڈیز فرسٹ ” اس کے بعد کہنا سیدھی سیدھی ” دھاندلی ” ہے ۔

    اگلا سوال ، کہ کیا اضافی عزت و احترام کا تقاضا کسی کا بنتا بھی ہے یا نہیں تو عرض ہے بلکہ ان کا بنتا ہے کہ جو واقعتاً معزز خواتین ہیں ، مذہب اور معاشرے کی درست تقسیم کو دل و جان سے قبول کرتی ہیں جوابی طور پر انہیں بسا اوقات مردوں سے بھی زیادہ عزت سے نوازا جائے گا ۔۔۔۔کہ ہمارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مرگ پر ان کے بارے میں فرمان تھا کہ ان کا خیال کرنا ۔

    سو !

    سو ہم جب کبھی بازار میں نکلیں گے تو بارش دھوپ میں واحد چھتری ان کے سر پر تانیں گے اور خود دھوپ بارش سہیں گے ، ہم دن بھر جون جولائی کی گرمیوں میں محنت کر کے ان معزز خواتین کے لیے ٹھنڈی چھت ، ائیر کنڈیشنر ، پنکھے ، ائیر کولر فراہم کریں گے کہ یہ معزز خواتین ہیں ، ہم دن میں بازاروں کا غیر معیاری کھانا ، کھا کر انہیں گھر میں بہترین خوراک فراہم کریں گے ، ہم اپنے کپڑے سستے سستے سے بنائیں گے اور انہیں ہزاروں روپے کے برانڈڈ کپڑے اور وہ بھی الماری بھر بھر کر بنوا کر دیں گے ۔۔۔

    ہم ویگنوں سے لٹک کر سفر کر لیں گے اور ان کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے لاکھ لاکھ بلکہ کئی کئی ملین روپے کی بالیاں بندے کانوں میں بنوا کر دیں کہ یہ بقول رسول ہاشمی نازک آبگینے ہیں سو ان کا دل بھی تو خوش کرنا ہے ۔۔۔۔ یہ معزز خواتین ہیں ۔

    لیکن !

    جنہوں نے خود اپنا عورت پن ختم کیا وہ کیونکر ایسا اضافی اور خصوصی سلوک مانگتی ہیں ؟

    وہ ویگنوں سے لٹکیں پھر بات کریں ۔۔۔۔۔۔

    خصوصی سلوک و حقوق و حیثیت کی حق دار تو وہ معزز خواتین ہیں کہ جو خاص رہیں ، جو عام ہو گئیں وہ کیونکر طلب گار ہیں ۔۔۔۔۔

  • آپ کا خاوند ، آپ کے گھر کی چھت!!! — ابو بکر قدوسی

    آپ کا خاوند ، آپ کے گھر کی چھت!!! — ابو بکر قدوسی

    کبھی سوچا تو ہو گا کہ روٹھتا ہے ، الجھتا ہے ، جھگڑتا ہے لیکن ایسا کیا ہے کہ ہمیشہ لوٹ کے آ جاتا ہے – بہت مضبوط دکھائی دیتا ہے ، اک دیوار کی مانند گھر کے گھر کو حصار باندھے سنبھالے رکھتا ہے ، لیکن ایسا کمزور سا ہوتا ہے کہ سوہنی کا اپنا کچا گھڑا بھی کیا کمزور ہو گا ، ایک دم سے ڈھے جاتا ہے – کبھی سوچیے تو سہی کہ کس ناز سے کہا گیا کہ :

    وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا.
    بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی.

    جانتے ہیں یہ ناز سے کہا گیا جملہ مرد کی اس کمزوری کا جیتا جاگتا نشان ہے کہ وہ ہمیشہ ہار جاتا ہے –

    میں روز وہاں سے گزرتا ہوں ، بہت بار انکھوں میں پانی اترنے لگتا ہے لیکن اشارے کی بتی سبز ہو جاتی ہے – ایک چوراہے پر رات کو وہ فٹ پاتھ پر بیٹھی ہوتی ہے – ساتھ میں اس کے دو بیٹے ہوتے ہیں ، جو سات آٹھ برس کے رہے ہوں گے – ایک دم بہت پیارے بچے ہیں ، ایسے کہ دیکھتے ہی ان پر پیار آ جائے – میں کوئی ایسا پارسا نہیں کہ راہ چلتی عورت کو دیکھ کے اندھا ہو جاتا ہوں ، لیکن ایسا بھی نہیں کہ گھر چھوڑنے چلا جاؤں – لیکن اس خاتون کو میں نے بہت بار غور سے دیکھا ، بہت اہتمام سے نقاب کیا ہوتا ہے ، انکھیاں بھی بہت حد تک چھپی ہوئی سو ایسی راکھ کو کیا کریدا جا سکتا ہے اور کیا ڈھونڈا جا سکتا ہے ؟؟ –

    پھر میں اس کے بہت معصوم سے بچوں کو دیکھتا ہوں اور تب تک دیکھتا ہوں جب تک ٹریفک کی بتی سبز نہیں ہو جاتی –

    پیارے بچے کپڑے کا رومال لیے قطار اندر قطار گاڑیوں کے آگے پیچھے بھاگتے ہیں . اشارہ کھلنے سے پہلے ان کو کچھ بیچنا ہوتا ہے ، بہت سے لوگ ان کو پیسے دے کے آگے بڑھ جاتے ہیں – ایک روز کسی نے پولیسٹر کیا نیا لحاف پکڑا دیا . ایسا خوش کہ ہفت اقلیم کی دولت مل گئی -اس ایک آدھ منٹ میں میں مجھے یہی خیال آ رہا ہوتا ہے کہ اس گھر کی دیوار کیا ہوئی ، حصار کہاں گیا ، ان بچوں کا باپ کیا ہوا …کہ یہ سڑک پر آ گئے –

    معلوم ہے کہ بچے باپ کے بنا "رل” جاتے ہیں ، عورت کا اپنا سائبان دور ہواؤں میں بکھر جاتا ہے – زمانے کی تیز آندھیاں اس کے دامن کو ریگ گذار بنا چھوڑتی ہیں –

    اسی سڑک پر فیملی کورٹ ہے کبھی صبح کے وقت یہاں سے گزریئے – بہت سی مائیں اپنے بوڑھے باپوں کو ساتھ لیے اپنے طلاق کے مقدماٹکی تاریخ پر چلی آ رہی ہوتی ہیں – ساتھ میں بچے اس لیے کہ عدالت میں ان کے باپ منتظر ہوتے ہیں – کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بچہ باپ کے پاس اور ماں کے آنسو جگر کو چھلنی کر رہے ہوتے ہیں –

    برا ہو اہل مغرب کی تھذیب کا کہ اس کے اثرات نے ہمارے اس سادہ سادہ سے اور آسان سے معاشرے کو برباد کر دیا ، گھرانے اور گھروندے ٹوٹ ، بکھر رہے ہیں – اس کا بنیادی سبب یہی نا قدر شناسی ہے اک دوسرے سے حقوق ، عزت سے اعراض ہے اور اپنے "زور بازو ” پر ضرورت سے زیادہ مان ہے – اس جملے اور سوچ نے برباد کر کے رکھ دیا کہ ” میں عورت ہوں لیکن کسی سے کیا کم ہوں "-

    خاوند ، محض بچوں کا باپ نہیں ہوتا ، نہ عورت کا شوہر ، اک حصار ہوتا ہے – جب رخصت ہوتا ہے تو سب کچھ بکھر جاتا ہے – چھت کے بنا کسی گھر کا تصور کیجئے ، دیواریں کاٹ کھانے کو دوڑیں گی –

    بہت شکوے ہوتے ہیں ، شکایت ہوتی ہیں ، بہت لاپرواہ ایسے کہ کبھی بہتے آنسوں کو بھی بھول جائیں اور کبھی معمولی سے دکھ پر خود بھی رو اٹھیں – لیکن ہمیشہ لوٹ کے بھی آتے ہیں اور چھت بھی بنے رہتے ہیں –

    چھت کی کہی کچھ ایسی غلط تو نہ کہی – اچھا ذرا تصور کیجئے نا – ایک گھر ہے اچھا سا دروازہ ، مکمل تیار دیواریں ، لیکن ان پر چھت نہیں ، ہے نا ایک دم ویرانی کا تصور –

    بھلے کوئی اس چھت کی جانچ نہ کر پائے ، لیکن مصائب کی بارش ہو یا وقت کی تیز دھوپ ان کو روکتی ضرور ہے – بہت اچھا نہیں ہوتا ، بے حس ، لاپرواہ ، دکھ کو نہ جاننے والا ، کبھی کبھی کٹھور دل ….. لیکن پلٹتا ہے تو ہمیشہ سائبان بن جاتا ہے –

    بہت کم حوصلہ ہوتا ہے ، لیکن ایسا حوصلے والا کہ کبھی کبھی آپ کی حد سے بڑھی ہوئی تلخ نوائی کو یوں ہنس کے سہہ جاتا ہے کہ بعد میں خود بھی حیران سا رہتا ہے –

    اچھا ! ظرف کا ممکن ہے کم ہو ، لیکن ایسا مضبوط "ظرف ” ہوتا ہے کہ آپ توڑ کے خود بھی ٹوٹ جائیں – اور جانتے ہیں ؟

    قیمتی اور مضبوط برتن جب ٹوٹتے ہیں تو جڑتے ہی نہیں – سو ان کو گنوایا نہ کیجئے ، ان کی قدر کیا کیجئے

  • نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہوگی؟ — ابو بکر قدوسی

    نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہوگی؟ — ابو بکر قدوسی

    غامدی صاحب سے سوال پوچھا گیا،

    نیل پالش لگی ہو تو وضو کی کیا صورت ہو گی ۔۔۔۔ تو انہوں نے پہلے ایک اصول بیان کیا کہ

    "اس سے ملتا جلتا کوئی واقعہ ماضی میں گزرا ہو گا تو اس سے استدلال کیا جائے گا”

    اور اس کے بعد محترم نے جرابوں پر مسح کے حکم کو دلیل بناتے ہوئے ” اجتہاد” کیا کہ نیل پالش لگی ہو تو وضو نماز سب ہو جائے گا ۔۔یعنی جب نیل پالش لگے ناخنوں سے گزرے گا تو یہ ایک طرح کا مسح ہو جائے گا ۔

    ان کا مزید فرمانا تھا کہ عورت جب تک نیل پالش نہیں اتارتی تو ” مسحے ” کی یہ صورت یعنی اجازت قائم رہے گی ۔ یعنی سال بھر بھی اگر وہ نیل پالش نہیں اتارتی تو اس کے اوپر ہی اوپر وضو کرتی رہے ۔۔۔ان کا موقف آپ کمنٹس میں دیے گئے لنک پر براہ راست بھی سن سکتے ہیں

    ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر کسی جدید مسلے پر کسی قدیم واقعے سے استدلال کرنا یے تو موصوف نے ان واضح اور صحیح احادیث سے استدلال کیوں نہیں کیا کہ جو اس معاملے میں زیادہ قرین قیاس ہے کہ

    نبی ﷺ کا فرمان ہے :

    عن عبدِالله بنِ عَمرو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ مِنْ مَكَّةَ إِلَى المَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ العَصْرِ، فَتَوَضَّؤُوا وَهُمْ عِجَالٌ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ، وَأعْقَابُهُمْ تَلُوحُ لَمْ يَمَسَّهَا المَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ: «وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أسْبِغُوا الوُضُوءَ. (مسلم :241)

    ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کو واپس لوٹے یہاں تک کہ جس وقت ہم پانی پر پہنچے جو راستہ میں تھا تو کچھ لوگوں نے نماز عصر کے لیے وضو کرنے میں جلدی کی اور وہ لوگ بہت جلدی کرنے والے تھے ، چنانچہ جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں (خشک رہ جانے کی وجہ سے) کیونکہ ان تک پانی نہیں پہنچا تھا (ان خشک ایڑیوں کو دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ کی صورت میں ہلاکت ہے، مکمل طور پر وضو کرو۔

    اس حدیث میں اعضائے وضو کے کسی حصے کے خشک رہ جانے کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہہ کی اور ظاہر سی بات یہ ہے کہ تنبیہ کا سبب لاپروائی کے سبب ایسا کرنا ہے ، اور نیل پالش کا لگا ہونا تو اس سے بھی آگے کی صورت ہے ۔یعنی خاتون کو باقاعدہ علم ہے کہ اس کے ہاتھ کے ناخن بسبب رکاوٹ کے خشک ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ یہ وضو ہو جائے ۔

    اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ ایک صاحب کا ناخن جتنا حصہ خشک رہ گیا تو آپ نے انہیں دوبارہ وضو کرنے کا حکم دیا ۔۔۔۔
    رأى رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ رجلًا توضَّأَ فترَكَ موضعَ الظُّفرِ على قدمِهِ فأمرَهُ أن يعيدَ الوضوءَ والصَّلاةَ قالَ فرجعَ(صحيح ابن ماجه:546)
    رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اپنے پیر پہ ناخن کے برابر حصہ چھوڑ دیا ۔(یعنی ناخن کے برابر پیر پہ خشک رہ گیا)۔ آپ نے اسے وضو اورنماز لوٹانے کا حکم دیا۔

    یہ بھی یقیناً اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا اہتمام رہا ہو گا کہ حدیث میں ناخن بھر جگہ کا لفظ استعمال ہوا ، یقیناً اللہ سبحانہ وتعالی کو علم تھا کہ آنے والے زمانے میں لوگ آئیں گے اور ناخن بھر جگہ کی رعایت مانگیں گے اور دینے والے انہیں جواز عطا کریں گے ۔۔۔۔

    اب آتے ہیں غامدی صاحب کے مسح کے استدلال کی طرف کہ ان کا فرمانا ہے کہ وضو کر کے نیل پالش لگائی جائے تو مسح کیا جا سکتا ۔۔
    حقیقت یہ ہے کہ وضو کر کے مسح کرنا بالکل ایک الگ معاملہ ہے جس کے احکام واضح ہیں ، اور دل چسپ معاملہ یہ ہے کہ غامدی صاحب اس سے بھی غلط استنباط کر رہے کہ اس میں واضح حکم ہے کہ ایک روز کے لیے مسح کر سکتے ہیں یعنی پانچ نمازیں ۔۔

    جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلّى الله عليه وسلّم- ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ. يعني في المسح عَلَى الخُفَّيْن،،(مسلم برقم:۲۷۶)
    حدیث:رسول اللہﷺنے موزوں پر مسح کے لئے تین دن اور تین رات مسافر کے لئے اور ایک دن اور ایک رات مقیم کے لئے متعین فرمایا ۔
    ۔۔اور موصوف نیل پالش والی خواتین کو لامحدود وقت کے لیے رخصت دے رہے ہیں کہ جب کبھی زندگی میں نیل پالش اتاریں گی تب دوبارہ وضو کر کے لگا لیں ۔۔۔۔۔وگرنہ اس کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے ۔۔

    اب سوال یہ ہے کہ جرابوں کے مسح سے غامدی صاحب نے ناخنوں کا ” مسح ” کا جواز کشید کیا تو اس حدیث سے مدت کیوں نہ کشید کی اور یہاں ذاتی طور پر ” شریعت سازی” کرتے ہوئے نیل پالش لگا کر ” مسح ” کرنے کی مدت کو لامحدود کر دیا ، سوال یہ ہے کہ سوائے ذاتی رائے کو دین بنانے کے اس کی کیا دلیل ہے ؟

    آپ سن لیجیے کہ محترم فرماتے ہیں کہ جب تک نیل پالش نہ اتارے تب تک ناخنوں کا یہ مسح چلتا رہے گا ۔

  • میٹھا میٹھا زہر!!! — ابو بکر قدوسی

    میٹھا میٹھا زہر!!! — ابو بکر قدوسی

    ایک صاحب کی چند برس پہلے سوال جواب کی نشست تھی ، خاتون نے سوال پوچھا کہ کیا مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔ تو آسان سا جواب تھا کہ جو شریعت محمد رسول اللہ پر نازل ہوئی ہے اس میں کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔ لیکن ایسے جواب سے موصوف مفتی کی روشن خیالی متاثر ہوتی تھی سو انہوں نے اس خاتون کو میٹھا زہر کھلا دیا ۔

    ان کا جواب یہ تھا کہ شریعت نے شرک سے شادی کو حرام قرار دیا ہے ۔ بظاہر یہ بڑا اچھا جواب ہے اور بہت سے لوگ لوگ اس جواب کے اندر چھپا زہر کھا جائیں اور ان کو معلوم بھی نہ ہو کہ انہوں نے کیا کھایا ہے ۔

    اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس میں زہر کیا ہے ۔ زہر اس میں یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو کہے کہ

    "وہ اللہ کے سوا سوا کسی کو خالق مانتا ہے نہ اس کے سوا کسی کی عبادت کو درست سمجھتا ہے ، لیکن (محمد) کو نبی نہیں مانتا , نہ وہ اللہ کے پیغمبر تھے اور نہ ہی وہ سچے تھے ”

    تو اوپر بیان کردہ اصول کے تحت ایسے شخص سے بھی مسلمان عورت شادی کر سکتی ہے ، کیونکہ یہ شخص مشرک نہیں ہے یا اس دعویٰ واحدانیت پر ایمان کا ہے۔۔۔۔

    یاد رہے کہ وہ سوال کرنے والی خاتون یورپ کے کسی ملک کی مقیم تھی اور اس نے اس سوال کا پس منظر بھی بتایا تھا ۔ اور اس جواب کے تحت خاتون کے لئے راستہ کافی آسان ہوگیا تھا ۔ یہ ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے کے اشارہ ابرو کو دیکھ کر ایسا جواب دے دیا جائے کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔

    جبکہ دین نے اسلام عوام ایسی مداہنت کا ہرگز قائل نہیں نہیں ، وہ صاف سیدھی بات کرتا ہے اور سیدھی بات کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
    اسلام رویے میں نرمی کا قائل ہے نہ کہ لوگوں کے چہرے دیکھ کر اصولوں کو نرم کر لینے کا نام۔۔۔

  • کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟  — ابو بکر قدوسی

    کیا اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا؟ — ابو بکر قدوسی

    یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوئی لوگوں کو کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت ہی نہیں دیا ، ایسا ہرگز نہیں ہے ۔

    اسلام نے بس اتنا کیا ہے کہ انتخاب حاکم کی حد تک مختلف آپشنز کو کھلا رکھا ، لیکن اس حاکم کو بھی طریق حکومت میں ہرگز مادر پدر آزاد نہیں چھوڑا ۔

    اور حاکم کا اگر عوامی انتخاب کیا جائے گا تو اس میں بھی لوگوں کو پابند کیا اور نظائر سے واضح کیا کہ معیار کیا ہونا چاہیے ۔

    اور کوئی حاکم انتخاب کے بغیر بھی سریر آرائے سلطنت ہو جاتا ہے تو اسے پابند رکھا کہ وہ ان امور کا خیال رکھے گا ۔یہی وجہ تھی کہ اموی اور عباسی دور حکومت میں ہرگز خلیفہ یا بادشاہ کی زبان سے نکلے الفاظ کو قانون نہیں سمجھا جاتا تھا جیسا کہ بعد میں عثمانی دور میں اور ہمارے ہاں برصغیر کی بادشاہت میں نظر آتا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ان ابتدائی ادوار میں خلیفہ کے کسی اقدام کو اگر کسی نے چیلنج کیا ، یا اس کے دربار میں روکا اور ٹوکا تو بنیاد قران و سنت کے احکام کو ہی بنایا ۔

    اسی طرح اگر جمہوریت میں حکمران کا انتخاب ہوتا ہے تو بھی عوام اور حکام اس انتخاب میں مکمل آزاد نہیں ہیں ۔ بطور مثال ایک ضابطہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک معزز بزرگ نے کسی علاقے کی امارت طلب کی تو آپ نے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ ہم طلب پر عہدے نہیں دیتے ۔۔۔۔یوں یہ اصول طے پا گیا کہ طلبگار کو عہدہ دینا خلاف ضابطہ ہے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ نظام امارت و حکومت کا مکمل طریقہ اسلام کے ہاں موجود ہے ۔

    اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اسلام نے کوئی نظامِ حکومت نہیں دیا ۔

    اسلام نے جزیات تک پر بحث کی ہے اور یہ تک طے کر دیا ہے کہ حاکم کا لباس کیسا ہو گا ، اسے عوام کے سامنے کیسے جانا ہے ، ملکی خزانے کے ساتھ اس کا رشتہ کیا ہو گا ، اور اس کی ذمے داری کہاں سے کہاں تک ہو گی ، عوام کے حقوق اس پر کیا ہوں گے اور مملکت پر کیا ۔

  • کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    مذہبی طور پر مخلوط معاشروں کا بہرحال یہ المیہ ہوتا ہے کہ وہاں دوسرے مذاہب کے اثرات قبول کیے جاتے ہیں – ہمارے برصغیر میں ہندووں کی بہت سی عادات اور عقائد کو ہمارے لوگوں نے کم علمی کے سبب اپنا معمول بنا لیا – اس کمزوری سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم کو خود اپنے دین اور اس کی تعلیمات کا مکمل معلوم ہو –

    بائبل عہد قدیم کے مطابق عورت حائضہ عورت ناپاک ہوتی ہے جس برتن کو چھوٙئے وہ برتن توڑ دیا جائے جس بستر پر بیٹھے وہ بستر ناپاک جس کپڑے کو چھوئے وہ کپڑا ناپاک ایام حیض کے بعد غسل اور دو قمریوں کی قربانی گذرانے کے بعد پاک ہوتی ۔۔۔

    عرب کے یہود میں عورت کے حیض کے دن اس کو اچھوت بنا دیتے تھے ، اس کا کھانا پینا اور رہنا سہنا سب الگ کر دیا جاتا – یہی صورت ہمارے ہندستان میں ہندوں میں موجود رہی ہے ۔ہندووں میں بھی ان ایام میں عورت کو الگ کر دیا جاتا ہے ۔۔۔۔

    پاکستان میں گلگت کے ساتھ ملحق کافرستان کہلانے والے علاقے میں مقامی قبائل آباد ہیں ، جو ایام حیض میں عورتوں کے لئے الگ ایک مخصوص عمارت میں عورتوں بیٹیوں کو بھیج دیتے ہیں ۔

    دو برس پہلے بی بی سی اردو پر ایک خاتون کی کہانی نے عورت کی اس تذلیل کو ان لفظوں میں بیان کیا ، آپ اس کو پڑھیے ، آپ حیران ہو جائیں گے – خاتون کہتی ہیں :

    مجھے 12 برس کی عمر میں حیض آئے۔ میری ماں اور بھابھیاں حیض کے دنوں میں گھر سے باہر بنی مٹی کی ایک جھونپڑی میں رہا کرتی تھیں اس لیے میں نے بھی وہاں جانا شروع کر دیا۔ میں ہمیشہ ڈرتی تھی کہ جانے یہاں کیا ہوگا کیونکہ مجھے کیڑے مکوڑوں اور جنگلی جانوروں سے ڈر لگتا تھا۔

    مجھے بتایا گیا تھا کہ اِن دنوں میں کتابوں کو ہاتھ لگانا گناہ ہے اس لیے میں اپنے حیض کے دنوں میں سکول ہی نہیں جاتی تھی۔

    آج بھی حیض والی عورتوں کو مویشیوں کے باڑے میں جانے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ ان دنوں میں دودھ ، مکھن اور دہی استعمال نہیں کر سکتیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا جب مجھے اپنے ہی گھر کے باڑے میں جانے نہیں دیا گیا۔ حیض کے دوران لوگ آپ کو کھانا بھی ہاتھ میں نہیں دیتے بلکہ آپ کے سامنے پھینک جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان دنوں میں آپ کو اپنے سے بڑوں کو چھونا بھی نہیں چاہیے۔”

    اسی تہذیب نے یہاں مسلمانوں کو بھی متاثر کیا …ابھی کچھ دن پہلے ایک دوست نے بتایا کہ ان کے علاقے میں حالت حیض کی صورت میں عورت کو کسی حد تک اچھوت ہی سمجھ لیا جاتا ہے اسی طرح ایک دوست نے بتایا کہ بچے کی پیدائش پر پلید سمجھتے ہیں چالیس دن تک اس کے ساتھ ہاتھ تک نہیں ملاتے سر پر ہاتھ نہیں رکھتے ۔۔یعنی حیرت ہے کہ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش کی صورت میں بھی اس کو اچھوت سمجھ لیا جاتا ہے -اور بعض علاقوں میں چالیس دن تک عورت کا بستر ، برتن اور چارپائی غرض ہر شے الگ کر دی جاتی ہے – حالانکہ ان دنوں میں عورت زیادہ معزز ہوتی ہے ، اس کی تکریم معمول سے زیادہ کرنی چاہیے اور ان دنوں میں ہی اس کو آپ کی محبت ، ہمدردی اور ساتھ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے –

    کیونکہ : زچگی کی صورت میں ویسے ہی وہ ایک بڑی تکلیف سے گزر چکی ہوتی ہے ، ایسے میں اسے پل پل آپ کے پیار کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ آپ اسے اچھوت بنا دیں – ویسے بھی آپ جو اولاد کو ترس رہے ہوتے ہیں اور کبھی تو بیٹے کی خواہش میں مرے جا رہے ہوتے ہیں اور اس نے آپ کی خواہش کو اپنایت سے اپنے اندر چھپا لیا – آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے نو ماہ کی اذیت برداشت کی ہوتی ہے اور آپ اسے تنہا کر دیتے ہیں –

    اسی طرح حالت حیض میں بھی عورت آپ کی محبت کی معمول سے زیادہ حق دار ہوتی ہے کیونکہ وہ دن رات آپ کے خدمت میں کمربستہ ہوتی ہے ، آپ کے بچے پالتی ہے ، آپ کا کھانا بناتی ہے ، اور اگر ورکنگ وومن ہے تو کسی نہ کسی طور آپ کے حصہ کا کام بھی کرتی ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے عورت کو وراثت ملے ، یا خاوند کی کمائی سے کچھ بچا پائے یا نوکری کر کے تنخواہ لائے …. آخر گھر میں ہی خرچ کرتی ہے …تو ان مشکل دنوں میں وہ آپ کے ساتھ کی ضرورت مند ہوتی ہے جہاں تک ہمارے دین کا تعلق ہے اس کی تعلیمات ان دنوں کے حوالے سے بہت واضح اور روشن ہیں.

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب عورت حیض سے ہوتی تو یہودی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے اور نہ اس کے ساتھ گھروں میں اکٹھے رہتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "حائضہ سے ہر کام کرو سوائے جماع کے”۔
    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:302]

    دیکھا جائے تو یہ حدیث ہر معاملے کو واضح کر رہی ہے کہ سوائے ہم بستری کے ان ایام میں ان کے ساتھ ہر معاملہ جائز ہے – ایک یہ جہالت بھی پائی جاتی ہے کہ ان ایام میں بیوی کے جسمانی طور پر پاس جانا بھی گناہ ہے حالانکہ گناہ صرف ہم بستری یعنی صحبت ہے – اس کے علاوہ آپ اپنی بیوی سے محبت والے دیگر معاملات کر سکتے ہیں – میں پہلے لکھ چکا ہوں یہ دن عورت کے نارمل دن نہیں ہوتے اس کو ان دنوں میں زیادہ محبت کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ توجہ کی بھی …..اور محبت کا بہترین اظہار جسمانی قرب ہوتا ہے ..اور ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیه وسلم سے زیادہ کون نفسیات انسانی کو سمجھ سکتا تھا ..سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :

    ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ‘حالت حیض میں’ ازار باندھنے کا حکم دیتے، سو میں ازار باندھتی۔ آپ مجھے گلے لگاتے تھے اور میں حیض والی ہوتی تھی۔”

    [صحیح البخاری، الحیض، باب مباشرۃ الحائض، حدیث:300، وصحیح مسلم، الحیض، باب مباشرۃ الحائض فوق الازار، حدیث:293]
    ایک اور حدیث میں ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ‘میں اپنی اعتکاف گاہ’ سے مجھے بوریا پکڑانے کا حکم دیا۔ میں نے کہا کہ میں حائضہ ہوں۔

    آپ نے فرمایا:

    "تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔”

    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:298]

    اور میاں بیوی کی محبت اور پیار کی اس سے زیادہ کیا تصویر کشی ہو سکتی ہے ، اور شوہر کی توجہ کا مظہر اس سے زیادہ کیا انداز ہو سکتا ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کو تکیہ بنا کر قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تھے، حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

    [صحیح البخاری، الحیض، باب قراء ۃ الرجل فی حجر امراتہ وھی حائض، حدیث:297، وصحیح مسلم، الحیض ، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:301]

    یہ تمام احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ دن عورت کو معزز اور محترم بناتے ہیں نہ کہ اچھوت –

    ایک واحد معاملہ اور پابندی ضرور ہے کہ ان ایام میں عورت عبادت کے لیے مسجد میں نہیں آ سکتی تو بھی اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں بلکہ ایک طرح کی سہولت ہے کہ ان دنوں میں تو عورت گھر میں بھی کسی بھی قسم کی فرض عبادت سے آزاد ہوتی ہے –

    لیکن اس خون کو نجاست ضرور قرار دیا گیا اسی سبب مسجد میں آنا بھی ممنوع ہے .

  • ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    دو ماہ سے ایران میں خواتین کا احتجاج بلکہ خونی احتجاج جاری ہے جس میں ابھی تک بیسیوں شہری جان ہار گئے ہیں۔۔۔۔

    نوجوان خاتون "مہسا امینی” کے مظلومانہ قتل سے شروع ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے ۔اور آج ایران کے مذہبی رہنما اور رہبر خمینی کی سابقہ رہائش گاہ پر مظاہرین چڑھ دوڑے اور وہاں کچھ حصے کو آگ لگا دی ،اگرچہ ایرانی حکومت نے کسی نقصان کی تردید کی ہے ۔۔۔۔۔

    دو ماہ سے جاری اس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا آغاز خواتین کے مظاہروں سے ہوا جو "زن ، زمین ، آزادی” کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں ۔ یہ خواتین مظاہروں میں اپنے حجاب جلاتی ہیں اور بال کاٹتی ہیں ، اور یوں ایران میں عائد مذہبی پابندیوں کی خلاف ورزی کر کے حکومتی احکامات سے بغاوت کا اظہار کرتی ہیں ۔

    بظاہر یہ لبرل ایران اور سخت گیر مذہبی انتظامیہ کا مقابلہ ہے ، لیکن حقیقتاً یہ لوگوں کا غبار ہے کہ جو سخت پابندیوں کا ردعمل ہے ۔

    گو دو ماہ سے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں ، لیکن نہتے مظاہرین کے مقابل حکومتی مشینری کی کامیابی کے امکانات ہمیشہ زیادہ ہوتے لیکن کبھی کبھی عوامی جدوجہد پچھاڑ بھی دیا کرتی ہیں جس کی موجودہ دور میں بیسیووں مثالیں موجود ہیں ۔۔۔ایرانی حکومت کے لیے اس میں ابھی تک طمانیت کا پہلو صرف یہ ہے کہ قلیل واقعات کے سوا مظاہرین کی طرف سے مسلح بغاوت کے انداز میں کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ابھی تک اس احتجاج میں ایران مخالف طاقتوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے ۔۔

    بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آس پاس کی آمریتیں ساری ایران دشمنی کے باوجود چاہتی ہیں کہ عوامی بغاوت کی کامیابی کا پیغام ان کے ملکوں کے عوام کو نہ جائے ۔

    اگر ایران اس عوامی بغاوت پر قابو بھی پا لیتا ہے تو بھی اس کے لیے اس میں سبق ہے کہ اب اس کی قیادت انقلاب دوسرے ملکوں میں ایکسپورٹ کرنے کی بجائے اپنی جنگوں کو سمیٹنا شروع کرے۔ اور ملک میں موجود اپنے عوام کی اقتصادی اور معاشی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دے ۔۔۔۔کہ ملکوں کی بقاء عوام کے اطمینان میں ہوتی ہے۔۔۔۔

  • وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی!!! — ابو بکر قدوسی

    وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی!!! — ابو بکر قدوسی

    تحریک آزادی ہند میں کلیدی اور قائدانہ کردار دینی قیادت کا تھا جو بدقسمتی سے پاکستان میں ایک خاص متعصب گروہ کے سبب پس منظر میں چلا گیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دراندازوں نے ہندستان پر قبضہ کیا تو مزاحمت کار افراد کی قیادت دینی پس منظر کے حاملین نے کی ، یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان مزاحمت کاروں میں ہر مذہب و طبقہ فکر کے لوگ شامل تھے ، یعنی مسلمان اور غیر مسلم ۔

    اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے جلد بعد عسکری مزاحمت اپنے اختتام کو پہنچی اور ہندستان پر انگریزوں کا قبضہ مستحکم ہوتا چلا گیا ، حتیٰ کہ ہندستان میں انگریز کسی حد تک پرسکون طور پر حکومت کرنے لگے ۔

    لیکن آزادی کی تڑپ قلب و اذہان میں زندہ تھی ، سو یہ عسکری جدوجہد سیاسی تگ و تاز میں بدل گئی جس کا پہلا مرحلہ یہ تھا کہ انگریزی حکومت میں رہتے ہوئے ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کیے جائیں ۔ ابتداء میں کانگرس کے مقاصد بھی محض نئے حاکموں کا اعتماد حاصل کرنا اور ان کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنا تھا ، جو بعد میں آئینی طور پر شہری حقوق کے حصول میں بدل گئے اور جب انگریز پہلی جنگ عظیم میں الجھ کر کچھ کمزور ہوئے تو اہداف آزادی کی تحریک میں بدل گئے ۔۔

    حتیٰ کہ دوسری جنگ عظیم میں باوجود فتح کے انگریزوں کی معاشی حالت کی خرابی اور عسکری کمزوری نے مکمل آزادی کی لگن مقامی سیاسی جماعتوں میں پیدا کر دی ۔۔۔یعنی یہ ان کو اب ممکن نظر آنے لگا ۔

    مسلم لیگ کا قیام ابتدائی طور پر صرف اسی نظام میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا تحفظ تھا اور ابتدا میں کانگرس سے الگ کوئی سیاسی اہداف بھی نہ تھے اور اس کو چیلنج بھی نہیں کر رہے تھے لیکن جلد ہی وہ متحارب جماعت بن گئی ۔۔۔۔بدقسمتی سے تحریک پاکستان سے پہلے محض تحریک آزادی کو فوکس کیا جائے تو مسلم لیگ کا کوئی نمایاں کردار دکھائی نہیں دیتا ، یہی وجہ تھی کہ آزادی کی لگن اور تڑپ کے حاملین مذہبی رہنما لیگ سے دور ہی دور تھے ۔۔۔۔۔اور یہ ایسی تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی ہمارے پاکستان میں تحریک آزادی جیسا کوئی بھولا ہوا باب ہو جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

    یہ چند لائنیں ہرگز اس تاریخ کا احاطہ نہیں کر سکتیں لیکن اختصار مطلوب ہے ۔۔۔۔

    مسلم لیگ کی سیاست تو۔ انیس سو چھے میں شروع ہو گئی تھی ، لیکن اس کا فوکس بہت محدود تھا جس میں صرف مسلم حقوق کی بات تھی ہندوستان کی آزادی سے زیادہ اس کی سیاست کانگرس کا مقابلہ بن کر رہ گئی تھی ، جو بعد میں مطالبہ پاکستان کے بعد مزید ہی یک نکاتی ہو گئی ۔۔۔۔اب مسلم لیگ کا اول و آخر مقصد ہندوستان سے دو علاقوں کو الگ کر کے پاکستان بنانا تھا جبکہ اس کے مقابل کانگرس پورے ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی ۔۔۔

    یہاں درست نادرست کی بحث نہیں کر رہا صرف دونوں جماعتوں کی سوچ و فکر اور اہداف کا احاطہ کرنا مقصود ہے ۔

    حقوق کی جنگ جب الگ وطن کے حصول میں بدل گئی تو بھی مذہبی افراد کی اکثریت متحدہ ہندوستان کی حامی تھی ، لیکن حالات جوں جوں کشیدہ ہو رہے تھے ، مسلم لیگ کی مقبولیت اور تعداد بڑھ رہی تھی ۔اور یہ تقسیم ، توڑ پھوڑ و آمد سارے مسالک میں تھی ۔

    اب اہم ترین بات یاد رکھیئے کہ دونوں طرف کے لوگ اسلام ، ملک اور قوم کے ساتھ مخلص تھے اور انتہائی دیانتداری سے اپنے نظریات پر ڈٹے ہوئے تھے ، دوسرے لفظوں میں یہ ایک اجتہادی اختلاف تھا جس میں دونوں فریق اخلاص پر قائم تھے ۔

    اس لیے کسی جماعت کے ساتھ رشتہ ہرگز باعثِ فخر نہیں ہے ۔ہاں جب کبھی ہندستان کی پچھلی نصف صدی سے جاری توڑ پھوڑ کا عمل ختم ہو جائے گا اور ٹوٹی کشتی پار لگے گی تو تاریخ کا طالب علم دو ٹوک فیصلہ کر سکے گا کہ کون سا فریق حق پر تھا اور کامیاب رہا ؟
    ابھی تو سفر جاری ہے ، اور بحث کے نکات و دلائل موجود ۔۔۔۔ہاں میری نظر میں متحدہ قومیت والوں کے دلائل کا پلڑا بھاری ہے ۔

    کل سے ہمارے اہل حدیث احباب میں بعض شخصیات کے حوالے سے بھی ایک بحث جاری ہے کہ کون کون سا بزرگ کس جماعت کا حامی تھا اور کون مخالف ۔

    لمبا موضوع ہے ، لیکن مختصراً بتاتا چلوں کہ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی تو مسلم لیگ کے اتنے شدید حامی تھے کہ مولانا ابوالقاسم فاروقی لکھتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو جیسے مسلمان سمجھنے میں بھی مشکل کا شکار ہوتے تھے کہ مسلم لیگ میں شامل نہ ہوں ۔۔۔۔یہاں مبالغہ ان کے مزاج کی شدت کو ظاہر کرنے کے واسطے ہے ۔

    جبکہ مولانا اسماعیل سلفی تو آخر دم تک کانگرسی سوچ یعنی متحدہ ہندوستان کے حامی تھے ۔

    مولانا داؤد غزنوی البتہ پاکستان بننے سے قریب سال بھر پہلے مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ یہ حالات کا جبر تھا جس کی تفصیل کا محل نہیں ہے ۔

    مولانا ثناء اللہ امرتسری پہلے کانگریس کے حامی تھے اور ساتھ ہی ساتھ جمیتہ علمائے ہند کے نائب صدر تھے ، اور جمیعت علمائے ہند کا سیاسی موقف واضح ہے جس میں کوئی ابہام نہیں نہ قابلِ بحث ۔۔۔۔۔البتہ امرتسر میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے آل انڈیا اجلاس کی میزبانی اور صدارت بھی آپ نے کی تھی جو تقسیمِ وطن ہندوستان سے صرف سال بھر پہلے ہوا ، جبکہ انیس سو پینتالیس میں تو مولانا جمیت علمائے ہند کے نائب صدر تھے ۔۔۔۔یعنی یہ اکھاڑ پچھاڑ سب آخری سو برسوں میں ہوئی کہ جب تقسیم ہند ہونا صاف دکھائی دینے لگا اور سلامتی کا راستہ کچھ اور نظر نہ آ رہا تھا ۔

    چلتے چلتے یاد آیا کہ مولانا کا ایک ہی اکلوتا بیٹا تھا جو فسادات میں شہید ہوئے ، مولانا کا پریس لٹ گیا ، قیمتی لائبریری کو آگ لگا دی گئی ۔۔۔لٹے پٹے پاکستان آئے ، آ کر مسجد چینیاں والی میں قیام کیا ، مولانا میر سیالکوٹی ، مولانا داؤد غزنوی اور غالباً مولانا عطاء اللہ سب آپ کے گرد بیٹھے ان کے دکھ میں غم زدہ تھے۔ ۔۔۔۔۔محفل پر غم کے بادل تھے مولانا کی حالت کے سبب کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہو رہی تھی ۔۔۔۔مولانا ہی بولے "ابراہیم یہ تھا تمہارا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔”

    یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ اہل حدیث جماعت کے اس دور میں اور بھی بڑے بزرگ تھے جو اس وقت اساطین علم و فضل تھے اور ان کی اکثریت کو مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں تھا.

    اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر مسلک کی یہی کہانی ہے ۔۔۔۔۔اور جبر یہ ہے کہ ہندستان میں ہر گروہ کے حاملین اپنے اکابرین کو متحدہ ہندوستان کا حامی اور پاکستان میں تحریک پاکستان کا مرکزی کردار ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔ ۔۔

    برادران ، یہ وہی حالات کا جبر ہے کہ جس کا سامنا ہمارے بزرگ ستر برس پہلے کر رہے تھے اور ہم آج بھی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

    البتہ برادرم فیصل افضل شیخ صاحب کے حوالے سے جو بحث جاری ہے اس میں ان سے تسامح ہوا ، اس مسلم لیگ کو موجودہ مسلم لیگ سے جوڑنا ہرگز درست نہیں ہے ۔بطور مثال اگر آج تحریک انصاف اپنا نام مسلم لیگ رکھ لے تو کیا اسے بھی جناح کی مسلم لیگ کا تسلسل سمجھا جائے گا ؟

    یا مسلم لیگ کے اور بھی گروپ ہیں ، ان کو تو یہ حق دینا چاہیئے …

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہی وہ مسلم لیگ ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔