Baaghi TV

Tag: ابھی نندن

  • بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ

    بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ

    اسلام آباد:بھارت کوکسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے:پاکستان کی بھارت کو وارننگ .اطلاعات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفط کے عزم کا اعادہ کرتا ہے بھارت کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنا چاہیے۔

    یاد رہے کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے تین سال مکمل ہونے پر دفترخارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کےتحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور علاقائی امن واستحکام کا حامی ہے۔

    ترجمان کے مطابق بھارت کیخلاف پاکستان کے ردعمل کو3برس مکمل ہوگئے ہیں، بھارت نے 26 فروری 2019 کوپاکستانی حدود میں فضائی حملہ کیا تو بھارت کی اس مذموم کوشش کو ہماری بہادرمسلح افواج نےناکام بنایا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے اپنی خودمختاری کا تحفظ اورانتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اگلے ہی دن 27 فروری 2019 کو پھر2بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی طیاروں کے دوبارہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاک فضائیہ کے طیاروں نے دونوں بھارتی طیاروں کو مارگرایا۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کو آئندہ کسی بھی مہم جوئی سےبازرہناچاہیے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کشمیر کے حوالے سے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر تنازع کےپرامن حل کےلیےاپنےعزم پرزوردیتےہیں۔

    ادھر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک اور اپنی قوم کی سلامتی کے لیے پرعزم اور غیر متزلزل ہیں، 27 فروری 2019 کو بھارت کو ثابت کرکے دکھایا۔ مذاکرات کو کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات کو کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے، ہم نے 27 فروری 2019 کو بھارت کو ثابت کرکے دکھایا جب اس نے حملے کا انتخاب کیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کی حمایت سے ہماری مسلح افواج ہر سطح پر جارحیت کا جواب دیں گی اور غالب آئیں گی۔

  • پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی تیسری سالگرہ پرملی نغمہ جاری کردیا

    پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی تیسری سالگرہ پرملی نغمہ جاری کردیا

    کراچی: پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 3 برس مکمل ہونے پر ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نیا ملی نغمہ جاری کردیا۔

    نغمہ ملک کے مایہ ناز گلوکار ساحر علی بگا نے گایا ہے جبکہ اس کی عکس بندی پاکستان کے معروف ہدایت کار زوہیب قاضی نے کی ہے۔ یہ ترانہ پاک فضائیہ کے ان سپوتوں کی جرات و بہادری کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے دشمن کے ساتھ 2019 میں پیش آنے والے فضائی معرکے میں بہادری کی نئی داستان رقم کی اور ملک و قوم کا وقار بلند کیا۔

    بھارتی غرور کو خاک میں ملانے کے آج سرپرائز ڈے کی تیسری سالگرہ ہے، 2019 میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے 27 فروری کو دو بھارتی جہازوں کو تباہ کیا تھا۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے مارگرائے جانے والے جنگی جہاز کے ٹکڑے پی اے ایف میوزیم میں موجود ہیں۔

     

    تین سال قبل 27 فروری کو پاکستان کے جری ہوابازوں نے بھارت کے نام نہاد سورماوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا کر پھر تاریخ رقم کر دی تھی۔ دو بھارتی جنگی جہاززمین بوس ہوئے جبکہ بھارتی ہوا باز ابھینندن گرفتار کر لیا گیا تھا، اس معرکے سے منسوب پاک فضائیہ کی جنگی گیلری آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں ابھینندن کے زیراستعمال یونیفارم اور جنگی ہوابازی میں استعمال ہونے والا سامان دشمن کی پسپائی کی داستان سنا رہا ہے۔

     

     

    گیلری کی ایک دیوار پر ابھینندن کے طیارے کو مارگرانے والے ونگ کمانڈر نعمان علی خان، بھارت کے دوسرے جہاز کو مارگرانے والے سکوارڈن لیڈر حسن صدیقی جبکہ بھارت کے خلاف اہم مشن میں شامل گروپ کیپٹن فہیم خان کی تصاویر آویزاں ہیں۔

    ستائس فروری کو پاک فضائیہ کی جرات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین جنگوں کے دوران پاکستان ائیرفورس کی جانب سے دشمن ملک کے ہوابازوں کوناکوں چنے چبوانے اورانھیں کاری ضرب لگانے کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔

  • ‏پاکستان کےبھارت کیخلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے3سال مکمل

    ‏پاکستان کےبھارت کیخلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے3سال مکمل

    اسلام آباد :پاک فضائیہ کا 27 فروری 2019 کا ” آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” بھارتی ایئر فورس کے دو طیاروں کو مار گرانے اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کے تین سال گزرنے کے بعد بھی بھارتی ایئر فورس کے لئے مسلسل ہزیمت اور عبرت کا باعث ہے جس نے نہ صرف پاک فضائیہ کی بھارتی ائیر فورس پر فضائی برتری کو ثابت کیا بلکہ اس کارروائی کے دوران ایٹمی اسلحہ سے لیس بھارت کی فوجی کمزوریاں بھی بری طرح بے نقاب ہوئیں۔

    ۔بھارت کی جانب سے 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے اندر حملہ کرنے کی ناکام کوشش نے پاک فضائیہ کی فوجی اور تکنیکی برتری قائم کی اور ہندوستانی فوجی طاقت کے بت کو پاش پاش کر دیا۔14 فروری 2019 کو ایک نوجوان کشمیری لڑکے نے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم سے تنگ آکر بارود سے بھری گاڑی پلوامہ میں بھارتی پیرا ملٹری پولیس کی 78 بسوں کے قافلے پر چڑھا دی جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوگئے۔ حملے کے چند لمحوں بعد ہی بھارتی میڈیا اور حکومت نے کسی بھی قسم کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان پر الزام لگا دیا۔

    وزیر اعظم عمران خان نے دہلی کی جانب سے قابل عمل ثبوت فراہم کرنے کی شرط پر اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر حملہ کیا گیا تو پاکستان جوابی کارروائی کرے گا۔

    اس کے باوجود بھارت نے سرحد پار سے پاکستانی حدود میں ایک خیالی دہشت گردی کے تربیتی کیمپ پر فضائی حملہ کرنے کا انتخاب کیا۔بھارتی فوج کے سرحد پار ہدف پر حملہ کرنے اور خبر لیک ہونے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے بھارتی حکام نے بالاکوٹ پر حملے کو آپریشن بندرکا نام دیا۔

    لفظ “بندر” کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ ہندو مذہب میں بندروں کو ایک مقدس مقام حاصل ہے اور یہ ہندو مذہب کے مذہبی افسانوں میں ایک کہانی کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں ہنومان، ایک دیوتا جو بندر سے مشابہت ظاہر کرتا ہے ۔ خفیہ طور پر لنکا میں داخل ہوا اور اسے زمین پر جلا دیا۔ 26 فروری 2019 کوبھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ کے قریب پاکستان کے اندر حملہ کیا، جس میں ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جسے ہندوستان نے عسکریت پسندوں کے کیمپ کے طور پر پیش کیا اور 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا لیکن دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے ۔

    اس آپریشن کو ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹم کی مدد حاصل تھی۔ وہ بموں پر سمیلیٹر اور پری فیڈ کوآرڈینیٹس پر مشق کرنے کے باوجود اپنے پے لوڈ کو ہدف پر پہنچانے میں ناکام رہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق 26 فروری 2019 کو صبح 3.45 بجے اس وقت کے بھارتی ایئر چیف بی ایس دھنوا نے ایک محفوظ فکسڈ لائن نیٹ ورک پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کو ٹیلی فون کیا اور کہا بندر مارا گی۔

    لیکن دن کے اختتام پر، حقیقت نے ثابت کیا کہ اس نے صرف انہیں بندر بنایا ہے۔فضائی حملہ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ بھارت نے بلاجواز جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جس کا پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر جواب دے گا، مسلح افواج اور پاکستانی عوام ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہیں۔

    بھارتی فضائیہ نے ایک پہاڑی کے قریب اپنا پے لوڈ پھینکا جس میں ایک کوا ہلاک ہوا اور پائن کے قیمتی درختوں کو نقصان پہنچا جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے بار ہا کہا کہ انہیں اس سے دکھ پہنچا ہے کیونکہ یہ درخت ان کے دل کے بہت قریب تھے ۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کے حملے کی ناکام کوشش کے بعد جلی ہوئی زمین اور درختوں سے متاثر ہونے والی جگہ کا ملٹری اتاشی اور غیر ملکی میڈیا نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مقامی گائوں کے بچوں کے قریبی مدرسے میں بھی گئے جو کہ خوش قسمت تھے کہ بھارتی لاپرواہی سے بچ گئے۔

    بھارت نے دعویٰٰ کیا کہ اس کی فضائیہ 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ پاکستان اور کئی بین الاقوامی مبصرین نے اس دعوے کی نفی کی ہے کیونکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور بم واضح طور پر ہدف سے دور گرے تھے جو درحقیقت دہشت گردوں کا کیمپ نہیں تھا بلکہ گائوں کے بچوں کے لیے ایک عام دینی مدرسہ تھا۔لندن میں مقیم جینز انفارمیشن گروپ کے تجزیہ کار راہول بیدی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ پاکستان کسی عسکریت پسند گروپ کی طرح پراکسی کے ذریعے نہیں بلکہ روایتی طور پر رد عمل ظاہرکرنے کا پابند ہے ۔

    وہ کہاں اور کب رد عمل کا اظہار کرتے ہیں جو صرف پاکستانی جانتے ہیں۔اخبار نے کہا کہ کہ اس موسم بہار میں بھارت میں انتخابات کے دوران اوربھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو دوبارہ انتخابی معرکے کا سامنا ہے، ووٹرز نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کشمیر کے حملے کا جواب طاقت سے دے۔ بیدی نے کہا انہوں نے جو مارا وہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں۔

    یہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی علامت ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کو انتخابات سے پہلے ہندوستان کی طرف سے کچھ قابلِ عمل اقدام دکھانا تھا۔بیدی نے کہا کہ انہوں نے جو مارا وہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں۔

    یہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی علامت ہے۔بھارتی وزیراعظم مودی کو انتخابات سے پہلے ہندوستان کی طرف سے کچھ قابلِ عمل اقدام دکھانا تھا۔ پاکستان ایئر فورس نے 27 فروری 2019 کو جوابی حملہ شروع کیا جس کا مقصد بنیادی طور پر پاکستان کے عزم کا مظاہرہ کرنا تھا۔ زمین پر جانی نقصان سے بچنے کے لیے احتیاط سے فضائی حملہ کیا گیا ۔

    مختصر فضائی تصادم کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی ایئرفورس کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ایس یو 30کا ملبہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گرا اور اس کا پائلٹ ہلاک ہو گیا، جبکہ میگ21 کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھمان جن کا طیارہ پاکستان کی حدود میں گرا زندہ پکڑ لیا گیا۔

    بڑے دشمن کے خلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں پاک فضائیہ کی کامیابی کو اب ہر سال سرپرائز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔کئی گھنٹوں بعد پریشان بھارتی ایئر فورس نے سپائیڈر ایئر ڈیفنس سسٹم والے اپنے ہی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جس میں بھارتی ایئرفورس کے چھ اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گیا۔

    ہندوستان نے دعوی کیا کہ اس کے ایک مگ 21 نے پاکستان کے ایف16 طیارے کو مار گرایا تھا جس کی تردید بھی بااثر فارن پالیسی میگزین نے امریکی محکمہ دفاع (ڈی او ڈی )کے عہدیداروں کے انٹرویوز کی بنیاد پر کی تھی جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ کوئی ایف16 لاپتہ نہیں ہوا تھا۔

    میگزین کے مطابق، پاکستان نے اس واقعے کے بعد امریکہ کو اپنے ایف-16 طیاروں کی جسمانی طور پر گنتی کرنے کے لیے مدعو کیا ،جیسا کہ اینڈ یوزر معاہدے کے حصے کے طور پرجب کہ غیر ملکی فوجیوں کی فروخت کے معاہدے کو حتمی شکل دینے پر دستخط کیے گئے۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ تنازعہ کی وجہ سے کچھ طیارے فوری طور پر معائنہ کے لیے دستیاب نہیں تھے، اس لیے امریکی اہلکاروں کو تمام جیٹ طیاروں کا حساب دینے میں چند ہفتے لگے۔

    لیکن اب گنتی مکمل ہو چکی ہے اور تمام طیارے موجود تھے اور ان کا حساب لیا گیا تھا، اہلکار نے کہا۔جہاں ایک طرف بھارت کی جانب سے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا اور اسے نئی اقدار قرار دیا جا رہا تھا، لیکن دوسری طرف بھارت کی سینئر قیادت نے ناکامی کا ذمہ دار رافیل جیسے طیارے کی عدم دستیابی کو قرار دیا جس کے مطابق ان کے نزدیک بالاکوٹ حملے کا نتیجہ بدل جاتا۔یہاں تک کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ایئر فورس کی ناکامی کا اعتراف کیا اور انڈیا ٹوڈے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا ہندوستان کہہ رہا ہے کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

    پاکستان کے ردعمل کا مقصد جنگ کو روکنا اور نیوکلیئر ڈیٹرنس قائم کرنا تھا، جس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کشیدگی کی شدت کو مزید نہ بڑھا سکا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس تصادم نے پاک فضائیہ کی بھارتی فضائیہ پر فضائی برتری ثابت کر دی بلکہ دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس طاقتوں کے درمیان روایتی تذویراتی توازن کو بھی بحال کیا۔27 فروری کو پاک فوج کے میڈیا ونگ نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے ایل او سی پر چھ اہداف کو نشانہ بنایا۔

    میجر جنرل عبدالغفور نے اسے کسی فوجی ہدف پر حملہ نہ کرنے اور کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کا ایک شعوری فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر منتخب کیے گئے اہداف میں سے ایک ملٹری ایڈمنسٹریٹو کمپلیکس تھا، تاہم پی اے ایف کمانڈ نے اسے نشانہ بنانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ہمارے اہداف میں کامیابی کے نتیجہ میں کوئی انسانی زندگی متاثر نہیں ہوئی۔

    ہم نے اپنی حدود میں رہ کر چھ اہداف کولاک کیا اور ہم نے حملہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ حملوںکا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ہمارے پاس جواب دینے کی صلاحیت اور ارادہ ہے، لیکن ہم نے سوچ سمجھ کرکشیدگی کے راستے سے گریز کیا۔پاکستان جنگ پر زور نہیں دے رہا۔ ہم نے اپنے اہداف کو کھلی فضا میں رکھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم آسانی سے اصل اہداف حاصل کر سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔

    ایک دن بعد وزیراعظم عمران خان نے 28 فروری 2019 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں کل اعلان کرتا ہوں کہ امن کی ہماری خواہش اور مذاکرات کے لیے پہلے قدم کے طور پر پاکستان ہماری تحویل میں موجود بھارتی فضائیہ کے افسر کو کل رہا کرے گا۔

    ان کے اس فیصلے کو سرکردہ عالمی رہنماں نے امن کی خواہش قرار دیا۔ونگ کمانڈر ابھی نندن کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا جنیوا کنونشن کے مطابق، نیا لباس اورچائے کا مشہور کپ فراہم کیا گیا، جس پر انہوں نے تبصرہ کیا تھا،چائے لاجواب تھی۔ انہیں یکم مارچ 2019 کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔

    دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے معتبر روایتی ردعمل ہیں – جسے ‘Quid Pro۔ Quo Plus’ کی پالیسی کے نام سے جانا جاتا ہے، جس نے نہ صرف پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس کی ساکھ کو تقویت دی ہے بلکہ روایتی ڈیٹرنس پر اعتماد بحال کرنے میں بھی مدد کی ہے۔

    فروری 2019 میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں ذلت کا سامنا کرنے کے بعدبھارت نے یہ سمجھے بغیر کہ یہ دراصل مشین کے پیچھے آدمی ہے اور اس کے مضبوط اعصاب اہم ہیں۔ ایک بار پھرہتھیاروں اور گولہ بارود کی خریداری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بہترین خلاصہ پیش کیا ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں ایک خون آلود ناک دیا اور یہ اب بھی انہیں تکلیف دے رہا ہے۔

  • بھارت نے کوئی حرکت کی تو انجام بہت برا ہو گی، پاکستان کی وارننگ

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو للکارتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تواسے فوری طور پر مناسب جواب ملے گا۔ ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیا کے سامنے ہے اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں.انہوں نے کہا کہ کورونا کےبعد پوری دنیا کو اس کی توقع تھی کہ بھارت کشمیر میں نرمی کرےگالیکن بد قسمتی سےایسا نہیں ہوابلکہ بھارت نے پاکستان کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیں. انہوں نے کہا کہ خطے میں بھارت ایڈ ونچر کرنا چاہتا ہے جب کہ حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ امن کیلئے سازگار ماحول قائم کیا جائے. وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل میں چینی سفیر کی ہلاکت پر ابھی کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا. انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لائے ہیں جب کہ بیرون ملک موجود ایک لاکھ 10 ہزار افراد واپس آنا چاہتے ہیں، باہر سے آنے والوں کو قرنطینہ کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ان کی وطن واپسی سے قبل ہم قرنطینہ کی گنجائش بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • بھارت ابھی نندن کو ’’ویر چکر‘‘ تمغہ دینے کا اعلان کرکے چکر دینے کی کوشش کرنے لگا

    بھارت ابھی نندن کو ’’ویر چکر‘‘ تمغہ دینے کا اعلان کرکے چکر دینے کی کوشش کرنے لگا

    دہلی: بھارت نے اپنے یوم آزادی جسے پاکستانی اور کشمیری یوم سیاہ قرار دیتے ہیں کے موقع پر ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھما کو دوسرا بڑا فوجی اعزاز ’’ویر چکر‘‘ دینے کا اعلان کر دیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ائیر فورس کے ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھما کے جہاز کو پاکستان کی فضائیہ نے 27 فروری کو لائن آف کنٹرول پر مار گرایا تھا، اور انہیں گرفتار کیا تھا۔بھارتی پائلٹ کو 60 گھنٹے تحویل میں رکھنے کے بعد پاکستان نے خیرسگالی کے جذبے کے تحت ہمسائیہ ملک کے حوالے کیا تھا۔

    بھارتی میڈیا نے کہ انکشاف کیا تھا مطابق پاکستان سے واپسی پر ابھی نندن کو فرائض کی ادئیگی سے روک دیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ونگ کمانڈر کے طبی ٹیسٹ کلیٔر کرنے کے بعد فلائنگ ڈیوٹی میں دوبارہ شامل کیا جائے گا۔بھارتی پائلٹ اپنے تباہ شدہ طیارے سے پیرا شوٹ کے ذریعے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے تاہم اس دوران وہ زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں نے انہیں گرفتار کر کے پاکستانی حکام کے حوالے کیا تھا۔

    یاد رہے کہ ابھی نندن کی گرفتاری اور رہائی کے بعد بھارت میں کئی طرح کے جسماتی اور ذہنی ٹیسٹ سے گزرنا پڑا تھا۔پاکستان سے واپسی پر بھارتی پائلٹ نے کہا تھا کہ پاکستانی حکام نے ان پر جسمانی تشدد نہیں کیا، لیکن ان کو مبینہ طور پر ’’ذہنی اذیت‘‘ کا نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کے مطابق بھارت ان حالات کے موقع پر یہ انعام دے کرانڈین فضائیہ کو حوصلہ دینے کی کوشش کررہا ہے

  • بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ویسے تو بھارت خطے میں ایشین ٹائیگر بن کر نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی ناکوں چنے چبوانے کا خواہشمند ہے مگر زمینی حقیقت پر غور کیا جائے تو حقائق اس کے بلکل برعکس ہیں۔ بھارتی الیکشن ہوں یا پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار۔ بھارت نے ہمیشہ بمبئی حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پلوامہ جیسے گھناونے کھیل کھیلے اور اس کے فورا بعد بھارتی میڈیا اپنے ٹوپی ڈرامے شروع کر دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھارت کو دنیا کی ہیبت ناک جنگی طاقت اور تیسری بڑی فوجی قوت قرار دیتا ہے۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    1948 کی کشمیر جنگ ہو ۔ 1965 کی جنگ ہو۔ کارگل ہو۔ سرحدی جھڑپیں ہوں یا حالیہ فلاپ ایئر سڑائکس بھارتی فوج کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ہے ۔ یہاں تک کہ جنگ کے محاذ پر بھی مار کھائی اور انفارمیشن وار فیر میں بھی مار کھائی۔ بھارتی فوج کے پاس موجود اسلحہ نہ صرف میوزیم میں رکھنے کے قابل ہے بلکہ بھارتی فوجی خود بھی بدحالی کا شکار ہے. یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اوسطا سالانہ 113 اور ماہانہ 9 اہلکاراپنی زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ ان کی کسمپرسی اور مورال کا فقدان ہے۔ اکثر بھارتی فوجیوں کو جنگی محاذ پر کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی تک نہیں مل پاتی ۔ بھارتی ہواباز پاکستانی ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کا سامنا کرنے سے ایسے گھبراتے ہیں جیسے کوا غلیل سے ۔ کبھی انکا سربجیت پکڑا جاتا ہے تو کبھی ابھی نندن چائے پینے یہاں چلا آتاہے۔کیونکہ
    The tea is fantastic
    بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے روز اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ اتنے فوجی فلاں نہتے نوجوان نے مار دیے ۔ توکبھی فوج کے کمیپوں میں گھس کر مجاہدین نے قیامت برپا کر دی۔ جوکہ بزدل بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے ذلت آمیز سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کے چالیس فیصد میزائل تجربات کی ناکامیاں ان کی نا اہلیوں کا واضح ثبوت ہیں۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    کاش ۔۔۔ پاکستان کو عبرتناک سبق کی دھمکیاں دینے والا بھارتی میڈیا خواب خرگوش سے باہر آ کر پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے کرشمات دیکھے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گےاور یہی میزائل ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔دہلی،کولکتہ ، مدراس ، ممبئی سمیت شاید ہی بھارت کا کوئی شہر۔ قصبہ ۔ ٹکڑا یا جزیرہ ہو جو پاکستانی میزائلوں کی زد میں نہ ہو۔ بھارت کی
    Cold start doctrine کو پہلے ہی پاکستانیtactical nuclear arms کی بدولت
    old start doctrine بن چکی ہے ۔ جس کا اعتراف بھارتی فوج کے چیف وی کے سنگھ پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ پاکستانی مسلح افواج کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی راز نہیں ۔ پاکستانی فوج کے اخراجات بھارتی فوج کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔ مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا روایتی دشمن بھارت کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ پاک فوج ہمیشہ سرخرو ہوئی ہے۔ جس طرح پاک فوج نے سوات۔ شمالی اور جنوبی وزیر ستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا ہے پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاک افواج ایک battle hardened فوج ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ماہرین کے مطابق اگر بڑی جنگ چھڑ جائے تو بھارت جنگ میں مصروف اپنی فوج کو زیادہ سے زیادہ 10 روز تک اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرسکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد اسلحہ اور آلات بہت پرانے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے جہاز اڑتے تابوت ہیں جواکثر اپنے وزن سے آپ ہی گرتے رہتے ہیں . یہ جہاز کسی بھی لحاظ سے ایف سولہ تو ایک طرف جے ایف 17تھنڈر کا ہی مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین پائیلٹ موجود ہیں۔ ہیومن ریسورس اور ٹریننگ کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کی فوج کا کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    اگر بھارتی نیوی پر نظر ڈالی جائے تو آپ کو آئے روز خبریں ملیں گی کہ وہ اپنے ہی جہاز اور آبدوزوں کو اُڑانے میں مصروف ہیں۔ کبھی بھارتی نیوی کے شرمناک اسکینڈل سامنے آتے ہیں تو کبھی انکی کھڑی نیوکلیئر آبدوز چھوٹی سی غلطی کے سبب سمندر برد ہو جاتی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتااور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ بلوچستان میں دہشتگردی ہو یا عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کروانے کی سازش ہر معاملے کے پیچھے بھارت ہی نظر آتا ہے ۔ ان تمام محاذوں پر بھی بھارت کے مقدر میں سبکی ہی ہے ۔ اس سال کے آغاز میں بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ
    ” انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا”
    بے شک اس فوج کی وجہ سے ہی یہ ملک محفوظ اور قائم ودائم ہے ۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • ابھی نندن نہیں ،نندن کی موچھوں کو” قومی موچھیں” قرار دے کر ہی اعزاز دے دیں. کانگریسی رکن کی ڈھٹائی

    ابھی نندن نہیں ،نندن کی موچھوں کو” قومی موچھیں” قرار دے کر ہی اعزاز دے دیں. کانگریسی رکن کی ڈھٹائی

    نئی دہلی :پاکستان کی سر زمین میں گھسنے والے بھارتی فضائیہ کے در انداز ونگ کمانڈر ابھی نندن کے جنگی طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد اور پھر نندن کی پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں گرفتاری کے زخم کو بھارتی ابھی نہیں‌بھولے .اطلاعات کے مطابق لوک سبھا میں کانگریسی رہنما ادھیررنجن چوہدری نے ایک عجیب مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ابھی نندن کو حوصلہ بندھانے کے لیے اس کی موچھوں کو ہی کوئی نہ کوئی اعزاز دے .اپنی تجویز میں رنجن چوہدری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے اور ان کی مونچھوں کو ’قومی مونچھ‘ قرار دیا جانا چاہیے۔‘‘

    خیال رہے کہ بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک کے دوران ابھینندن کے طیارہ کو پاکستان نے مار گرایا تھا جس میں وہ زخمی ہو کر وہ پاکستانی حدود میں جا گرے تھے جس کے بعد انہیں پروٹوکول کے تحت واپس ہندوستان بھیج دیا گیا تھا ، چونکہ یہ معاملہ الیکشن کے دوران پیش آیا تھا اس لئے بی جے پی نے اس معاملہ کو اچھالتے ہوئے اس کا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش تھی ، اور انہیں اس میں بڑی حد تک کامیابی بھی ملی تھی

  • بالاکوٹ میں بھارتی فضائی آپریشن "بندر”کی عجیب وجہ تسمیہ سامنے آگئی

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائی آپریشن "بندر”کی عجیب وجہ تسمیہ سامنے آگئی

    نئی دلی:26فروری کو بھارت کی طرف سے پاکستان کے علاقہ بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کے آپریشن "بندر”کی عجیب وجہ تسمیہ سامنے آگئی. بھارتی خبر ایجنسی اے این آئی نے انڈین ایئر فورس کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس آپریشن کو بندر کا نام اس لیے دیا گیا تھا کیونکہ بندر کی ہندو مذہب کی جنگی تاریخ میں بہت اہمیت ہے۔ آپریشن کا نام ’بندر‘ رکھنے کے پیچھے یہ منطق کار فرما تھی کہ ہندوﺅں کے بھگوان رام کی فوج کے سپہ سالار ہنومان تھے جو کہ ایک بندر تھے اور انہوں نے ہی راون کی لنکا میں آگ لگائی تھی اس لیے اس آپریشن کا نام بھی بندر رکھا گیا تھا۔

    یار رہے کہ 26 فروری کوبھارت کی جانب سے پلوامہ حملے کے بعد 26 فروری کو جب بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں دخل اندازی کی تو وہ بالاکوٹ تک پہنچ گئے تھے لیکن پاک فضائیہ نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس کے باعث انڈین طیاروں کو واپس بھاگنا پڑا۔ بھارتی طیارے جاتے ہوئے اپنا پے لوڈ جابہ کے مقام پر گراگئے تھے جس کے باعث چند درخت اور ایک کوا ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی حملے سے اگلے روز پاکستان نے جوابی کارروائی میں بھارت کے 2 طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ انڈین ایئر فورس کا ایک ہیلی کاپٹر اپنے ہی میزائل سے تباہ ہوگیا تھا۔

  • بھارتی میڈیا جھوٹ کا پلندہ،اپنی ناکامیاں چپھانے کے لیے پاکستان کے دفاعی بجٹ پر جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے. آئی ایس پی آر

    بھارتی میڈیا جھوٹ کا پلندہ،اپنی ناکامیاں چپھانے کے لیے پاکستان کے دفاعی بجٹ پر جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے. آئی ایس پی آر

    راوالپنڈی:بھارتی میڈیا پاکستان کے دفاعی بجٹ سے متعلق جھوٹی خبرین پھیلا رہا ہے. بھارت اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے اس قسم کے غلط پراپیگنڈے کر رہا ہے. آئی ایس پی آر نے بھارتی میڈیا پر پاکستان کے دفاعی بجٹ پر نشر ہونے والی جھوٹی خبروں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو پہلے 27 فروری والے واقعہ کو بھولنا نہیں چاہیے جب خطے کی دو بڑی فوجی طاقتوں کی صلاحیت کا امتحان تھا اور پاکستان نے بھارت کو بہت موثر جواب دیکر اپنی فوجی صلاحیت ثابت کردی تھی. بھارت یہ نہ بھولے کہ پاکستانی قوم اپنی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہیں. بھارتی میڈیا پاکستان کے اندرونی معاملات سے متعلق زہر افشانی کرنے کی بجائے پہلے اپنے اندرونی حالات پر توجہ دے.

    یاد رہے کہ اس سال 27 فروری کو پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرنے والی بھارتی فوج کے دو جنگی طیارے مار گرائے تھے اور ان میں سے ایک کے پائیلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا .تاہم اگلے ہی روز وزیر اعظم پاکستان نے خیر سگالی اور خطے میں امن کی خاطر بھارتی پائیلٹ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا جسے عالمی دنیا میں بہت سراہا گیا.