Baaghi TV

Tag: اتحاد

  • پاکستان اورچین کا اتحاد مضبوط لیکن چین کےمخالفین بالخصوص امریکا پاکستان سے مکمل اتحاد سے گریز کر سکتا ہے،امریکی رپورٹ

    پاکستان اورچین کا اتحاد مضبوط لیکن چین کےمخالفین بالخصوص امریکا پاکستان سے مکمل اتحاد سے گریز کر سکتا ہے،امریکی رپورٹ

    واشنگٹن: امریکا نے چین-پاکستان ملٹری تعلقات کا مستقبل‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹ یوایس انسٹیٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) سے منسلک سیمیرپی لالوانی نے تیار کی ہے، یہ ادارہ کانگریشنل مینڈیٹ کے ساتھ ایک وفاقی ادارہ ہے۔

    رپورٹ میں ’چین-پاکستان ملٹری تعلقات کا مستقبل‘ کے عنوان سے رپورٹ میں چین-پاکستان تعلقات کی موجودہ صورت حال کو ’مضبوط اتحاد‘ سے تعبیر کیا گیا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں یہ اتحاد بھرپور نہیں ہوسکتا، جس کی وجہ چین کے اپنے غلط اقدامات یا تعلقات معطل کرنے کے لیے مخالفین کے جارحانہ اقدامات ہوسکتے ہیں پاکستان اور چین کا آپس میں مضبوط اتحاد ہے لیکن بیجنگ کے مخالفین خاص کر امریکا ان سے مکمل اتحاد سے گریز کرسکتا ہے۔

    زلمے خلیل زاد کے عمران خان کے حق میں بیانات ،امریکہ کا لاتعلقی کا اظہار

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلی دہائی کے دوران جنوبی ایشیا میں جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں، امریکہ اور چین کے تیز مقابلے، چین-بھارت تعلقات میں تیزی سے گراوٹ، اور 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء نے چینی اور پاکستانی فوجوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا ہے دونوں ممالک کی فوجیں اور بحریہ تیزی سے سامان کا اشتراک کر رہی ہیں، زیادہ جدید ترین مشترکہ مشقوں میں مشغول ہو رہی ہیں، اور عملے اور افسروں کے تبادلے کے ذریعے بات چیت کر رہی ہیں۔

    مذکورہ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ 2015 میں تجزیہ کاروں نے مختلف وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان اور چین کے ملٹری تعلقات میں کمی آئے گی لیکن اسی برس صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور ایک فلیگ شپ منصوبہ سی پیک متعارف کروایا اور پاکستان کو 8 آبدوزیں فروخت کرنے کا اعلان کیا۔

    پاکستانی نژاد حمزہ یوسف اسکاٹ لینڈ کے پہلے مسلمان نئے فرسٹ منسٹر منتخب ہوگئے

    رپورٹ کے مصنف سمیر لالوانی نے لکھا کہ چین کے باضابطہ اتحاد سے دور رہنے کے باوجود، چین پاکستان فوجی شراکت داری گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں طور پر گہرا ہوا ہے، جو کہ اتحاد کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم، فوجی اتحاد کی طرف پیش رفت ناگزیر نہیں ہے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے چین پاکستان کا سب سے اہم دفاعی شراکت دار ہے۔ بیجنگ پاکستان کے روایتی ہتھیاروں اور اسٹریٹجک پلیٹ فارمز کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے-

    سمیرلالوانی نے لکھا کہ اب ایک دہائی سے کم عرصے میں چین-پاکستان ملٹری تعلقات قسط وار شراکت سے مضبوط اتحاد کی طرف بڑھے ہیں پاکستان کے اکثر دفاعی آلات زیادہ تر چینی ہیں، خاص طور پر ہائر-اینڈ کمبیٹ اسٹرائیک اور پاور پروجیکشن کی صلاحتیں شامل ہیں اور پاکستان مسلسل امریکا اور یورپین پلیٹ فارمز سے الگ ہو رہا ہے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مضبوط تعلق کو ایک بھرپور تعلق بننا ہے، ایک اشارہ یہ ہوگا کہ بیجنگ کی جانب سے پاکستان کو مزید فوجی امداد دی جائے اور حساس نظام تک رسائی ملے جیسا کہ جے-20 فائٹر یا نیوکلیئر-پاور کی حامل آبدوز ہے۔

    سمیرلالوانی نے کہا کہ دوسرا نکتہ یہ ہوگا کہ ان کی فوجیں مشترکہ پیس ٹائم مشن اپنائیں تاکہ چین-بھارت یا پاکستان-بھارت سرحدی بحران کے دوران ایک دوسرے کی مدد کی جاسکے آخری اشارہ چین کی بحریہ میری ٹائم جاسوسی آلات گوادر میں نصب کرنے کا ہوسکتا ہے۔

    مصنف نے لکھا کہ سویلین اور عسکری دونوں قیادت نے واضح طور پر انکار کیا ہے کہ پاکستان کسی طرح چین کے کیمپ میں نہیں جا رہا ہے اور اس دباؤ کو بھی کم کردیا ہے جس میں تعلقات کے لیے چین اور مغرب میں کسی کے انتخاب پر زور دیا جاتا تھا چین اور پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی ماحول میں اختلاف کے کئی ایسے نکات ہیں جو ان کے ملٹری تعلقات کو موجودہ رفتار سے سست یا واپس کر سکتے ہیں۔

    مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں فوٹوگرافی کیلئے اصول متعارف

    چین کی جانب سے پاکستان کے مغربی ساحل سے بحر ہند پر فوجی طاقت پیش کرنےکے امکانات بڑھ رہےہیں پاکستان کے سٹریٹجک حلقوں میں چینی اڈے کو معنی خیز حمایت حاصل ہے جنگ کے وقت کی ہنگامی بنیادوں میں بحری رسائی کو اپ گریڈ کرنے میں مادی اور سیاسی رکاوٹیں وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان نکات کے حوالے سے بتایا گیا کہ سیاسی طور پر صوبے سنکیانگ میں مسلمان قبیلہ ایغور کے ساتھ چین کا رویہ پاکستان کے ساتھ عوامی اختلاف کی وجہ سے تعلقات پر اثراندازہوسکتا ہےچین اس وقت پاکستان کی معیشت کو رقم دے رہا ہے یا پاکستان کی قیمت پر ایران میں معاشی اور ملٹری سرمایہ کاری میں سرگرم ہے۔

    بی بی سی نے 82 سال مسلسل نشریات کے بعد فارسی ریڈیو بند کردیا

  • حکومتی اتحاد نے عمران خان کی تقریر کی مشترکہ مذمت کردی

    حکومتی اتحاد نے عمران خان کی تقریر کی مشترکہ مذمت کردی

    حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں اسلام آباد میں عمران خان کےخطاب کی شدید مذمت کی ہے۔

    حکومتی اتحاد کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف نائن پارک اسلام آباد میں عمران خان کےخطاب کی شدید میں مذمت کرتے ہیں،چیئرمین تحریک انصاف نے ایک خاتون مجسٹریٹ کا نام لے کر اسے دھمکی دی، آئی جی اور ڈی جی آئی پولیس اسلام آباد کو مخاطب کرکے ڈرانے کی کوشش کی۔حکومتی اتحاد کا کہنا ہےکہ یہ دھمکیاں کھلی غنڈہ گردی اور لاقانونیت ہے، غدار فارن ایڈڈ جماعت اور فارن فنڈنگ لینے والا اس کا چیئرمین ہے، انہوں نے پاک فوج میں بغاوت کی سازش کی ہے۔

    غداری کے مقدمہ میں گرفتار شہبازگل کے حق میں ریلی مسترد،عمران کی سرعام دھمکیاں

    حکومتی اتحاد نے مطالبہ کیا ہےکہ وفاقی وزیرداخلہ دھمکیاں دینے پر عمران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں، عمران خان کو آئین اور قانون کا پابند بنایا جائے۔

     

    دھمکیاں،اسلام آباد پولیس کا عمران خان کی سیکیورٹی ڈیوٹی دینے سے انکار

     

    امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ طاقتور قوتیں سمجھتی ہیں نظام ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ مرکزی مجلس عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1973سے لے کر آج تک ایک بھی اسلامی قانون سازی نہیں ہوئی۔ ایسی جماعتوں کو مسلط کردیا جاتا ہے جنہیں قرآن وسنت سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، ایک وقت تھا جب پاکستان نے چین کو قرضہ دیا آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔

    پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ طاقتور قوتیں سمجھتی ہیں نظام ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ ہماری تنقید خیر خواہی کی بنیاد پر ہے۔ آئی ایم ایف نے گلے سے پکڑا ہوا ہے اپنی شرائط منوانا رہا ہے ۔اس حد تک آزاد قوم ہیں 14 اگست تک جشن آزادی منا لیتے ہیں۔ جشن آزادی میں منعقدہ تقریبات میں اسلامی چہرہ نہیں دکھایا جاتا۔ بیرونی ایجنٹے پر کمپرومائز نہیں کیا۔

     

    شہباز گل پر قانو ن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشدد کیا گیا، عمران خان

     

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے قلیل المدت منصوبہ بندی پر نظر رکھنی ہوگی۔ پارلیمنٹ میں فیصلے موجود طاقت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ عمران کہتا ہے مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں، صبح ایک بیان شام کو دوسرا بیان دے دیتا ہے، پنجاب ضمنی الیکشن میں کامیابی نیازی بیانیے کی مقبولیت کی دلیل نہیں۔

    فاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان پہلے بھی اپنے بیانات سے لاتعلقی ظاہر کرچکے، اُن کا موقف کل پھر بدل جائے گا،نجی ٹی وی کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کو الزام لگاتے 22 سال ہوگئے، یہ ہر بار نئی پلاننگ کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جس ویڈیو کی بات کر رہے ہیں، وہ چکوال کی ہے، جس میں موجود شخص شہباز گل نہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پولیس نے بھی کہ دیا کہ شہباز گل پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا، سوال تو یہ ہے کہ عمران خان نے ویڈیو دینے والوں سے پوچھا کہ کس کی ویڈیو ہے؟اُن کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی قیادت سے ملنے وکلاء کورٹ آرڈر لے کر آتے تھے، عمران خان بھی کورٹ سے آرڈر لیں اور شہباز گل سے مل لیں۔

    مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ آپ کہو دروازے کھل جائیں تو ایسا نہیں ہو سکتا، عمران خان پروپیگنڈا شہباز گل کے بیان سے توجہ ہٹانے کے لیے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس عمران خان کے ماتحت ہے، ڈاکٹرز نے شہباز گل کو فٹ قرار دیا ہے۔

    وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جھوٹا اور ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔جیکب آباد میں میڈیا سے گفتگو میں امتیاز شیخ نے کہا کہ سندھ کے عوام سمیت کوئی بھی عمران خان پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ وہ یوٹرن کے ماہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دراصل عمران خان ایک جھوٹا آدمی ہے، ان پر کسی کو اعتبار نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، تم پر کیس کریں گے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مجسٹریٹ زیبا چوہدری آپ کو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا، کیس کرنا ہے تم پر بھی، مجسٹریٹ کو پتہ تھا کہ شہباز پر تشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دے دیا، بڑے ادب سے سپریم کورٹ کوکہتا ہوں قانون کی حکمرانی پر عمل درآمد آپ کا کام ہے۔

  • این اے 245 کا ضمنی انتخاب،جی ڈی اے نے فاروق ستار کی حمایت کا اعلان کر دیا

    این اے 245 کا ضمنی انتخاب،جی ڈی اے نے فاروق ستار کی حمایت کا اعلان کر دیا

    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور ایم کیو ایم بحالی کمیٹی نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل انتخابی اتحاد کرلیا جبکہ جی ڈی اے نے این اے 245 پر ہونے والی ضمنی انتخاب میں ڈاکٹر فاروق ستار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے فنکشنل لیگ ہاؤس کراچی میں جی ڈی اے کے سیکرٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم، سید محمد اسماعیل شاہ راشدی، ایم پی اے حسنین مرزا سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔

    بعد ازاں پریس کانفرنس کے دوران جی ڈی اے کے سیکرٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے بلدیاتی انتخابات سے فرار چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی سے جی ڈی اے کا بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتحاد ہوا ہے، ایک دوسرے کے سامنے امیدوار کھڑے نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این اے 245 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ڈاکٹر فاروق ستار سے بہتر کوئی امیدوار نہیں لہٰذا جی ڈی اے انہیں بھرپور سپورٹ کرے گی۔اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 15 سالوں سے حکمرانی کرتے ہوئے ایک جماعت نے سندھ کو تباہ کردیا ہے،سندھ کی عوام کو مزید تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے جسے ناکام بنادیں گے۔

    دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کےکنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ دوبارہ مردم شماری میں ہمیں ٹھیک نہ گِنا گیا تو سڑکوں پر آکے خود کو گِنوائیں گے، اس ضمنی الیکشن میں ڈنڈی ماری گئی تو ڈنڈے لے کر نکلیں گے۔کراچی کے علاقے جمشید روڈ پر این اے 245 کے مرکزی الیکشن آفس کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اس ضمنی الیکشن میں ڈنڈی ماری گئی تو ڈنڈے لے کر نکلیں گے، غیرجمہوری طاقتوں کی خواہش ہےکہ کراچی کا مینڈیٹ تقسیم رہے۔

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ شہرمیں جعلی نظریات کی بنیاد پرووٹ تقسیم ہوا، ہمارا ووٹ بینک چرایا گیا، ہم پر غلط نتیجے تھوپے گئے، اس لیے عوام سیاسی نظام سے غیر متعلق ہو رہے ہیں، ووٹ کی عزت کو عوام اپنے ہاتھوں سے بچائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ پی ٹی آئی ناکام ہوگیا، تحریک انصاف آئندہ اقتدار میں آئے تو ایم کیوایم کے بغیر حکومت بنائے۔

    تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ان کا کہنا تھا کہ کوئی مقدس گائے نہیں سب کے ساتھ یکساں سلوک کیاجائے، ایسانہیں ہوسکتا کہ کچھ لوگوں کو ہر غلط کام کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔

  • عید  کا  پیغام، پروفیسر زید حارث

    عید کا پیغام، پروفیسر زید حارث

    اللہ تعالی کے بندوں کو ایک پر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں ۔ ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون: اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت و تعب والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پہ شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت ومودت کی خوبصورت لڑی میں پرو دیا۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لئے جس کے لئے کہ یہ دن واقعی جہنم سے آزادی کا دن قرار پا گیا ۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروا لئے۔جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا ۔جس کو رمضان نے حلیم و بردباری، عفو ودرگزر، تواضع و عاجزی اورعبادت و ریاضت کا پابند بنا دیا۔ جس روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہو گئیں اور جو یہ سب نہ کما سکا وہ اپنا محاسبہ کر لے ۔ ابھی زندگی کی رونق باقی ہے۔ابھی سانس چل رہے ہیں ۔ ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔ صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیج بویا جا چکا ہے۔ عید کا دن مساکین وفقراء کے لئے خیر کاپیغام لے کر آیا ہے۔ہر روزے دار اپنے روزے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک ایسا کام کرے گا کہ اس کے روزے کی کمی بھی پوری ہو جائے اور مسلمانوں کے معاشرے کا ہر فرد اس خوشی میں بھی شریک ہو جائے۔

    وہ فطرانہ ادا کرے گا جس کا ایک بنیادی مقصد حدیث میں کچھ یوں بیان کیا گیا کہ (طعمة المساكين) مساكین کے لئے کھانا بن جائے۔معزز مائیں اور بہنیں یاد رکھیں کہ یہ عید کا دن صرف میرے اور آپ کی تزیین وزیبائش کے لئے نہیں ہے ، ہم ایسے دین کے ماننے والے ہیں جو ہمیں اپنی ذات سے زیادہ دوسرے کی خواہش کے احترام کی تربیت دیتا ہے۔وہ مسکین جو آپ کے نئے کپڑے اور خوبصورت حالت وہیئت کو دیکھ کر آپ سے حسد شروع کر دیتا ہے خدارا اس کی مدد کر کے، اس کو اپنی خوشی میں شریک کر کے اس کو حسد سے محفوظ کیجئے اور اس کی دعاؤں کے مستحق بن جائیے جو کہیں بھی آپ کے لئے ایک مضبوط قلعہ ثابت ہو سکتی ہیں ۔عید کا پیغام ہے کہ ہم نے جس طرح رمضان میں اللہ کے حکم پہ حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام کیے رکھا ،اب سرکش شیطانوں کے کھل جانے پہ کہیں ہم اپنے لئے حرام کو بھی حلال نہ کر لیں ۔عید کے تین دنوں میں رشتہ دار و اقارب کی دعوتوں پہ اسراف سے اجتناب کیجئے ۔ سارا مہینہ تو ہم اس بات پہ خوش رہے کہ شیطانوں کو جکڑ دیا گیا ہے لیکن ان تین دن کی دعوتوں کہیں ہم اس آیت کا مصداق تو نہیں بن جاتے "إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين” یقینا فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔رمضان نے شیطان سے نفرت کا جو جذبہ پیدا کیا تھا۔ اپنے عمل اور کردار سے اس نفرت کا ثبوت دیجئے۔ دعوت ضرور کیجئے لیکن اعتدال اور میانہ روی کا دامن نہ چھوٹنے پائے اور اپنے دستر خوانوں پہ مساکین کی جگہ ضرور رکھئے ۔اللہ ان میں برکتیں ڈال دے گا۔عید الفطر کا ایک اہم پیغام کہ تمام مسلمانوں کو ایک میدان میں جمع کر کے،عورتوں کو بھی نماز عید میں شامل ہونے کا حکم دے کر، نماز نہ پڑھنے والی عورتوں کو بھی مسلمانوں کی عید گاہ میں پہنچنے کا حکم دے کر اتفاق واتحاد کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔اتفاق واتحاد کی ایک اعلی مثا ل پیدا کرنی ہے۔باہمی کدورتیں اور نفرتیں، قبائلی و علاقائی تعصبات، مسلکی وسیاسی تفریقات اور افتراقات کو بھلا کر ایک میدان میں اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے ۔اس قدر خوبصورت معاشرتی اقدار رکھنے والے دین کے پیروکار عید کے اس پر مسرت موقع پہ لسانیت و قومیت کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ایک اسلامی ملک کے تشخص کو مسخ کرنا چاہتے ہیں یا اپنے کامل دین اسلام کی خوبصورت تصویر کو دنیا میں بدنما کرنا چاہتے ہیں یا ملک و ملت کے دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں؟ آئیے رمضان کے آخر میں عید کے پر مسرت موقع پہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اپنی قوم کے سر کو فخر سے بلند کیجیے۔