Baaghi TV

Tag: اتحادی

  • اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا ، اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ سیاسی قائدین کے درمیان مشاورت جاری ہے ،کچھ وقت مزید دیا جائے،

    سپریم کورٹ میں کیس کی دوبارہ سماعت چار بجے ہونی تھی،تا ہم ابھی تک دوبارہ سماعت شروع نہیں ہو سکی،

    قبل ازیں انتخابات ایک ہی روز کرانے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مولا کریم لمبی حکمت دے تا کہ صحیح فیصلے کر سکیں،ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر اور ہمارے جانے کے بعد اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے،سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ نے نیک کام شروع کیا اللہ اس میں برکت ڈالے عدالت اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالے گی،صف اول کی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے،قوم میں اضطراب ہے،سیاسی قیادت مسئلہ حل کرے تو سکون ہو جائے گا،عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں بنتی ہیں، سیاسی قائدین افہام و تفہیم سے مسلہ حل کریں تو برکت ہو گی

    اٹارنی جنرل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شاہ خاور نے عدالت میں کہا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادت عدالت میں موجود ہے مناسب ہو گا عدالت تمام قائدین کو سن لے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے الیکشن ایک ہی دن ہوں، چیف جسٹس عمر رطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کا تشریف لانے پر مشکور ہوں،

    پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ عدالت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں ، ملک نے آئین کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے،ہمیشہ راستہ نکالنے اور آئین کے مطابق چلنے کی کوشش کی،قوم نے آپ کا فیصلہ قبول کیا ہے، دیکھتے ہیں کی حکومت کا کیا نقطہ نظر ہے، ہماری جماعت آئین کے تحفظ پر آپ کے ساتھ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع کی بھی یہی استدعا ہے کہ الیکشن ایک دن میں ہوں، درخواست گزار بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایک ساتھ الیکشن ہوں، اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ اٹھایا لیکن سیاست کی نظر ہوگیا،فاروق نائیک بھی چاہتے تھے لیکن بائیکاٹ ہوگیا،اخبار کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائد بھی مذاکرات کو سراہتے ہیں،ن لیگ نے بھی مذاکرات کی تجویز کو سراہا ہے، آج 29 ویں رمضان ہے، ہمارے سامنے ایک بریفنگ دی گئی ، درخواست گزار بھی ایک ہی دن میں الیکشن چاہتے ہیں ،وزارت دفاع نے بھی بہت اچھی بریفنگ دی ،فاروق ایچ نائیک نے بھی کہا تھا کہ ایک ساتھ انتحابات ہوں،آصف زرداری کے مشکور ہیں انھوں نے ہماری تجویز سے اتفاق کیا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق، قمر زمان کائرہ، طارق بشیر چیمہ بھی آئے ہیں،ایم کیو ایم سے صابر قائم خانی، ایاز صادق اور بی این ہی بھی موجود ہیں،حکومتی سیاسی اتحاد کا مشترکہ مؤقف ہے کہ 90 دن میں انتخابات کا وقت گزر چکا ہے، عدالت دو مرتبہ 90دن سے تاریخ آگے بڑھا چکی ہے ،سیاسی جماعتیں پہلے ہی ایک ساتھ انتخابات کام شروع کر چکی ہے ،بلاول بھٹو نے اسی سلسلے میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی، عید کے فوری بعد سیاسی ڈاٸیلاگ حکومتی اتحاد کے اندر مکمل کرینگے،پی ٹی آٸی سے پھر مذاکرات کرینگے تاکہ ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو ،ہماری کوشش ہوگی کہ ان ڈاٸیلاگ سے سیاسی اتفاق رائے پیداہو ،الیکشن جتنی جلدی مکمن ہو ایک ہی دن ہونے چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کسی ادارے کی مداخلت کے بغیر الیکشن ہونے چاہیں،

    ن لیگی رہنما، خواجہ سعد رفیق نے عدالت میں کہا کہ ہم قیادت کے مشورے کے آپ کے سامنے آئے ہیں، ملک میں انتشار اور اضطراب نہیں ہونا چاھیے، یقین رکھتے ہیں کہ ایک ہی دن الیکشن ہونے چاھیے، ہم مقابلے پر نہیں مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، ہم سیاسی لوگوں کو مزاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاھیے ہم نے عید کے بعد اتحادیوں کا اجلاسں بلایا ہے، اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ریاستی اداروں کا وقت ضائع کرنے کی بجائے سیاست دانوں کو خود بات کرنی چاہیئے، عدالت میں بھی اپوزیشن کے ساتھ بغلگیر ہوئے ہیں، میڈیا پر ہونے والے جھگڑے اتنے سنگین نہیں ہوتے جتنے لگتے ہیں،

    ایاز صادق بی این پی منگل کی نمائندگی کے لئے روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ بی این پی والے چاغی میں تھے اس لیئے مجھے پیش ہونے کا کہا گیا، پی ٹی آئی سے ذاتی حیثیت میں رابطہ رہتا ہے آئندہ بھی رہے گا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے قمر ذمان کائرہ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی گفتگو سے مکمل اتفاق کرتا ہوں تلخی بہت زیادہ ہے، وجوہات سے پورا ملک آگاہ ہے، بطور سیاسی جماعت حکومتی اتحادی سے پہلے بات کا آغاز کیا، جب ملک میں تلخیاں بڑھیں تو بیٹھ کر سیاسی قوتوں کو حل نکالنا پڑا، پیپلز پارٹی کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں، کوشش ہے کہ جلد از جلد انتخابات پر اتفاقِ رائے ہوجائے، عدالت اور قوم کو یقین دہانی کراتے ہیں ملک کیلئے بہتر فیصلے کریں گے،

    طارق بشیر چیمہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، مجھے چوہدری شجاعت نے پیش ہونے کا حکم دیا تھا، پہلے دن سے مزاکرت کا عمل شروع ہو ، ملک میں ایک دن میں الیکشن ہونا چاہیئے۔ یہ بہت سے اختلافات کو ختم کردیگا ،یقین دلاتا ہوں کہ ایک دن الیکشن کرانے کی سپورٹ کرتے ہیں ، آپ فیصلہ کرینگے تو اس پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن اگر ہم کرینگے تو پھر سب کے لئے بہتر ہوگا ، عدالت کا فیصلہ کسی کو اچھا لگے گا کسی کو برا، سیاسی قائدین کا مشترکہ فیصلہ قوم کو قبول ہوگا،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آگئے۔ اور کہا کہ کسی کی خواہش کا نہیں آئین کا تابع ہوں، سپریم کورٹ نے انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، عدالت نے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ اور ائین کا تحفظ کیا تلخی کی بجائے اگے بڑھنے کیلئے آئے ہیں، سیاسی قوتوں نے ملکر ملک کو دلدل سے نکالنا ہے،پارٹی کا نقطہ نظر ہیش کرچکا ہوں، ایک سیاسی پہلو ہے دوسرا قانونی،آئین 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے واضح ہے،مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ، مذاکرات آئین سے بالا نہیں ہو سکتے ،عدالت نے زمینی حقائق کے مطابق 14 مئی کی تاریخ دی ،مذاکرات تو کئی ماہ اور سال چل سکتے ہیں، حکومت کا یہ تاخیری حربہ تو نہیں ہے۔ اعتماد کا فقدان ہے ،حکومت اپنی تجاویز دے جائزہ لیں گے ، عمران خان کی طرف سے کہتے ہیں کہ راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے ، عدالت نے 27 اپریل تک فنڈز فراہمی کا حکم دیا ، عدالتی حکم پر پہلے بھی فنڈز ریلیز نہیں کیئے گئے، پارلیمنٹ کی قرارداد آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتی، مناسب تجاویز دی گئیں تو راستہ نکالیں گے، انتشار چاہتے ہیں نہ ہی آئین کا انکار،

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    سعد رفیق دوبارہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ عدالت کو ڈیبیٹ کلب نہیں بنانا چاہتے، مل بیٹھیں گے تو سوال جواب کریں گے، عدلیہ اور ملک کے لیے جیلیں کاٹی ہیں ماریں بھی کھائی ہیں، آئینی مدت سے ایک دن بھی زیادہ رہنے کے قائل نہیں ہیں ،۔قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالت میں ٹاک شو یا مکالمہ نہیں کرنا چاہتے۔ ملک میں ایک ساتھ بھی الیکشن ہوئے اور مقررہ تاریخ سے اگے بھی گئے آئین بنانے والے اسکے محافظ ہیں ، آئین سے باہر جانے والوں کے سامنے کھڑے ہیں ،قمر الزمان کائرہ نے عدالت میں کہا کہ تلخ باتیں یہاں کرنا بہتر نہیں،شاہ محمود قریشی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جواب الجواب ہم بھی دے سکتے ہیں

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عدالت میں کہا کہ قوم عدالتی فیصلوں کو سلام پیش کرتی ہے۔عدالت کا فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ ہوگا۔ یہ نہ ہو مذاکرات میں چھوٹی اور بڑی عید اکھٹی ہوجائے۔سیاستدان مذاکرات کا مخالف نہیں ہوتا۔ لیکن مذاکرات با معنی ہونے چاہیں ایک قابل احترام شخصیت نے آج بائیکاٹ کیا ہے ،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ میں کہا کہ قوم کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں کل پاک افغان بارڈر پر تھا، پوری رات سفر کر کے عدالت پہنچا ہوں، قرآن کریم کی تلاوت سے عدالتی کاروائی کا آغاز کرنے پر مشکور ہوں، اللہ کا حکم ہے اجتماعی معاملات میں مذاکرات کرو، اللہ کا حکم ہے یکسوئی ہوجائے تو اللہ پر اعتماد کرو، مذاکرات کرنا آپشن نہیں اللہ کا حکم ہے ، آئین اتفاق رائے کی بنیاد پر وجود میں ایا ہے، آج بھی آئین ملک کو بچا سکتا ہے، آئین کی حفاظت کرنا ملک کی حفاظت کرنا یے،دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے، 1977 میں نتائج تسلیم نہیں کیے گئے اور احتجاج شروع ہوگیا، 1977 میں سعودی سفیر اور امریکی سفیر نے مذاکرات کی کوشش کی تھی،مذاکرات ناکام ہوئے تو مارشل لاء لگ گیا، 90 کی دہائی میں ن لیگ اور پی پی پی کی لڑائی سے مارشل لاء لگا، آج ہمیں اسی منظر نامے کا سامنا ہے،امریکہ ایران اور سعودی عرب اب پاکستان میں دلچسپی نہیں لے رہے،اپنا گھر خود سیاستدانوں نے ٹھیک کرنا ہے، نیلسن منڈیلا کیساتھ ڈیکلار نے تیس سال لڑائی کے بعد مذاکرات کیے گئے ، نیلسن منڈیلا نے اپنے ایک بیٹے کا نام ڈیکلار رکھا ،پاکستان جہموری جدوجہد کے نتیجے میں بنا کسی جنرل نے نہیں بنایا ،آمریت نہ ہوتی تو ملک نہ ڈوبنا ، خیبر پختونخواہ میں کسی نے پی ٹی آئی سے استعفی دینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا ، دونوں صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے پر عوام حیران ہے ، خیبر پختون خواہ والوں نے خلاف روایت دوسری مرتبہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا

    سراج الحق نے سپریم کورٹ میں اپنے موقف میں کہا کہ میں نے وزیراعظم اور عمران خان سے ملاقات کی،مسائل کا حل صرف الیکشن ہیں، اور کوئی راستہ نہیں، عمران خان کو کہا نہیں چاہتا ملک میں 10 سال مارشل لاء لگے،عمران خان نے کہا میری عمر اس سے زیادہ نہیں، میں بھی یہ نہیں چاہتا، کسی کی ذاتی خواہش پر الیکشن نہیں ہوسکتے،90 دن سے الیکشن 105 دن پر آ گئے، اگر 105 دن ہوسکتے ہیں تو 205 دن بھی ہوسکتے ہیں، میڈیا نے پوچھا کیا آپ کو اسٹیبلشمنٹ نے اشارہ کیا ہے، میرا مؤقف ہے عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کو سیاست سے دور ہونا چاہیے، ہر کسی کو اپنے مؤقف سے ایک قدم ہیچھے ہٹنا ہوگا، مسائل کی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر سیاسی نہیں ہوئے،سیاسی جماعتیں کبھی الیکشن سے نہیں بھاگتیں، ہمارا موقف کبھی ایک کو اچھا لگتا ہے کبھی دوسری جماعت کو،سیاسی لڑائی کا نقصان عوام کو ہے جو ٹرکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ،ایک کلو آٹے کے لیے لوگ محتاج ہیں، ایک من آٹے کی قیمت 6500 ہو گئی ہےلوگوں کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہو چکی ہے ہمیں نگران حکومتوں نے ڈسا ہے تو منتخب حکومت کیسے شفاف انتخابات کرا سکتی ہے؟

    سراج الحق نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پشتو میں جواب دیا کہ پشتو سمجھتا ہوں، ہم پر لیبل نہ لگائیں، ہم پاکستانی ہیں، سراج الحق نے عدالت میں کہا کہ گندم کی کٹائی اور حج کا سیزن گزرنے دیا جائے، بڑی عید کے بعد مناسب تاریخ پر الیکشن ہونا مناسب ہوگا، عدالت یہ معاملہ سیاست دانوں پر چھوڑے اور خود کو سرخرو کرے،عدالت پنجاب میں الیکشن کا شیڈول دے چکی ہے،

    عمران خان کے وکیل سلیمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عید کی چھٹیوں میں ذمان پارک میں آپریشن کا خطرہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کاروائی میں آپریشن کا معاملہ نہیں دیکھ سکتے،اپ نے متعلقہ عدالت سے رجوع کر رکھا ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے تاحال حکم جاری نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم آ جائے گا، ایک تجویز ہے کہ عدالت کاروائی آج ختم کردے، تمام سیاسی قائدین نے آج آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے،آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے،آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی، آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اس کی تشریح نہیں کی گئی،
    الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا،13 دن کی تاخیر ہوئی تب عدالت نے حکم دیا، الیکشن کمیشن شیڈول میں تبدیلی کے لیے بااختیار ہے، پولنگ کا دن تبدیل کیے بغیر الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن رجوع کرے عدالت مؤقف سن لے گی

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دے دیا، عدالت نے عید کے بعد کا وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی اور سیاسی جماعتوں کو فوری طور پر بیٹھنے کا حکم دے دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ 14 مئی ہے، 1970 اور 71 کے نتائج سب کے سامنے ہیں، عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے، سراج الحق، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے،بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے، ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی، حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کوئی اور تھی، ہم 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے رہے ، 14 مئی کی تاریخ برقرار ہے اور رہے گی ،یاد رکھنا چاہیئے کہ عدالتی فیصلہ موجود ہے، یقین ہے کہ کوئی رکن اسمبلی عدالتی فیصلے کے خلاف نہیں جانا چاہتا، آج کسی سیاسی لیڈر نے فیصلے کو غلط نہیں کہا، مذاکرات میں ہٹ دھرمی نہیں ہو سکتی ،دو طرفہ لین دین سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں، گزارش ہو گی کہ پارٹی سربراہان عید کے بعد نہیں آج بیٹھیں، جولائی میں بڑی عید ہو گی اس کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں،عید کے بعد انتخابات کی تجویز سراج الحق کی ہے

  • نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا جائے،حکومتی اتحادی جماعتوں کا اعلامیہ

    نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا جائے،حکومتی اتحادی جماعتوں کا اعلامیہ

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حکومت کی اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں ملک میں تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں باہمی مشاورت کے بعد ملک میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی کے لئے ’نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔


    اجلاس میں سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی جبکہ لواحقین سے دلی رنج وغم اورافسوس کا اظہار کیاگیا۔ اجلاس نے قرار دیا کہ 60 سال میں ایسی تباہی نہیں ہوئی جو حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ملک بھر بالخصوص صوبہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان میں ہوئی ہے۔

    اجلاس نے وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف کے لئے ہنگامی اقدامات ، سیلاب زدہ علاقوں کے مسلسل دوروںاور بلاتعطل معاونت کی فراہمی کی انتھک کوششوں کو سراہا۔ وفاق کی جانب سے فوری طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ’این۔ڈی۔ایم۔اے‘ کو 5 ارب روپے کے اجرائ، صوبہ سندھ کے لئے 15 ارب، صوبہ بلوچستان کو 10 ارب کی خصوصی گرانٹ کے علاوہ ہر جاں بحق فرد کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے دینے ، زخمیوں، مکانات سمیت دیگر نقصانات پر زرتلافی کی ادائیگی پر خراج تحسین پیش کیاگیا۔ اجلاس نے اس امداد کے علاوہ فوری طور پر سیلاب سے متاثرہ ہر شخص کو 25000 ہزار روپے نقد رقم کی فراہمی کے وزیراعظم کے اقدام کی پرزور تحسین کی گئی۔

    اجلاس نے سیلاب زدہ علاقوں میں مظلوم اہل وطن کی دادرسی اور دیکھ بھال کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں ، مرکزی اور صوبائی اداروں، آرمی، نیوی، فضائیہ سمیت ہنگامی امداد کی فراہمی میں برسرپیکار تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سیلاب میں گھرے عوام کی دن رات مدد کے قومی جذبے کو سلام پیش کیا۔ اجلاس نے قدرتی آفت سے نبردآزما ہونے میں انٹرنیشنل پارٹنرز، بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ، ترقیاتی اداروں بالخصوص دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ سیلاب زدگان کی امداداور بحالی کے عمل میں وہ بھرپور معاونت کریں گے۔

    اجلاس نے سیلاب متاثرین سے مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس پختہ عزم کا اظہار کیاکہ اتحادی جماعتوں کی حکومت اپنے سیلاب متاثرہ بھائیوں، بہنوں اور بچوں کی دوبارہ اُن کے گھروں میں آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھے گی ، انہیں تنہانہیں چھوڑے گی اور ان کی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔ اِن شاءاللہ

    اجلاس نے اس تجویز کی تائید کی کہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی سطح پر تعمیر نو کا جامع پلان مرتب کیاجائے۔ وفاقی حکومت کی راہنمائی میں صوبائی حکومتوں اور اداروں کی مشاورت سے نقصانات کے حتمی تخمینے کا کام شفاف انداز میں مکمل کیاجائے اورساتھ ہی ساتھ متاثرین کی دوبارہ آبادکاری کے لئے وقت کے واضح تعین کے ساتھ موثرمنصوبہ بندی کی جائے۔

    اجلاس نے اس تجویز کی بھی تائید کی کہ موسمی تغیرات سے لاحق خطرات اور موجودہ حالات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کے لئے جامع حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ پیشگی تیاری یقینی بنانے کی حتی المقدور کوشش کی جاسکے۔ دریاﺅں اور آبی گزرگاہوں میں غیرقانونی تعمیرات کو ختم کرنے کے علاوہ انتظامی مشینری کی صلاحیت اور استدادکار بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ سیلابی پانی کو محفوظ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے۔

    اجلاس نے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے وزیراعظم ریلیف فنڈ2022قائم کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اندرون وبیرون ملک سے عطیات جمع کرنے کے لئے بھرپور مہم چلانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس ضمن میں حکومتی، جماعتی اور انفرادی سطح پر تحریک چلائی جائے گی تاکہ مخیر حضرات، اداروں، انٹرنیشنل پارٹنرز اور دوست ممالک کے تعاون سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔

  • حکومتی اتحادیوں  اور پی ڈی ایم قائدین کی آج لاہور میں اہم بیٹھک

    حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم قائدین کی آج لاہور میں اہم بیٹھک

    وزیراعظم شہباز شریف نے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اجلاس آج ماڈل ٹاون لاہور میں بلا لیا ہے ، اجلاس میں شرکت کیلئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کراچی سے لاہور پہنچ گئے .

    اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی کے لیے اتحادی جماعتوں کے رہنماوں سے مشاورت کی جائے گی ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس آج دوپہر ہو گا ،وزیراعظم نے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر دعوت دی ہے .

    96 ایچ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین مجموعی ملکی صورتحال کا جائزہ لیں گے ،حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کے اجلاس میں اہم امور پر مشاورت ہوگی.

    قبل ازیں اغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ، سردار ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی کی مرکزی قیادت کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات اور آئندہ کی حکمت عملی اور حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ بچانے کے لئے حکمت عملی پرمشاورت کی گئی.زرائع کے مطابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے قبل ازوقت انتخابات نہ کرانےکا فیصلہ کرلیا۔

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے بعد بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سی ای سی کے اجلاس میں سیاسی صورت حال پر بات ہوئی، پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرےگی، سی ای سی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے، قیادت آج لاہور میں اتحادیوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرےگی۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہونے والے اجلاس میں انتخابی اصلاحات پر مشاورت ہوگی، پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے فیصلہ کیا ہے الیکشن اپنے وقت پر ہوں۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونگے اوروفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے.

    انہوں نےکہا کہ عمران خان مسٹر ایکس اور مسٹر وائی سے معافی مانگیں، پنجاب میں ضمنی الیکشن جیت کر بھی عمران ہارگیا۔ الیکشن میں عمران خان نے الیکشن کمیشن کو متنازع بنایا۔

  • پیپلز پارٹی کا اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ،زرداری لاہور پہنچ گئے

    پیپلز پارٹی کا اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ،زرداری لاہور پہنچ گئے

    پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے آصف زرداری لاہور پہنچ گئے.پیپاپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونگے اور وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے

    پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے بعد بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سی ای سی کے اجلاس میں سیاسی صورت حال پر بات ہوئی، پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرےگی، سی ای سی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے، قیادت آج لاہور میں اتحادیوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرےگی۔ان کا کہنا تھا کہ کل لاہور میں ہونے والے اجلاس میں انتخابی اصلاحات پر مشاورت ہوگی، پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے فیصلہ کیا ہے الیکشن اپنے وقت پر ہوں۔

    انہوں نےکہا کہ عمران خان مسٹر ایکس اور مسٹر وائی سے معافی مانگیں، پنجاب میں ضمنی الیکشن جیت کر بھی عمران ہارگیا۔ الیکشن میں عمران خان نے الیکشن کمیشن کو متنازع بنایا۔

    قبل ازیں پی ڈی ایم کے رہنماوں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، سابق صدر مملکت اور پیپلزپارتی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ٹیلی فونک گفتگو کی جس کے دوران تینوں رہنماؤں نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ن لیگی امیدواروں کی شکست کا جائزہ لیا۔

    باغی ٹی ؤی کے مطابق ٹیلی فون پر رابطے میں تینوں رہنماوں نے پنجاب اور مرکز میں آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ تینوں نے موقف اختیار کیا کہ عوام نے بڑھتی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بدلہ لیا۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کا کہنا تھا کہ میں تو شروع دن سے ہی حکومت لینے کے حق میں نہیں تھا۔ تینوں رہنماؤں نے جلد عام انتخابات کروانے سے متعلق تجاویز پر غور کیا اور طے کیا کہ اتحادیوں کی مشاورت سے تفصیلی لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے باوجود پارٹی رہنماؤں اور ورکرز کاشکریہ ادا کیا ہے،انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے پارٹی کیلئے بہترین انتخابی مہم چلائی، پر امن انتخابات کے انعقاد پر وزیرِ اعلی حمزہ شہباز کی قیادت میں پنجاب حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔

    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ضمنی انتخابات میں شکست کی رپورٹ پیش کردی گئی، عوام نے منحرف ارکان کو قبول نہیں کیا، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے جیسی وجوہات شکست کا باعث بنیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ، سردار ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

  • روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    کیف:روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس،اطلاعات کے مطابق روس کے خلاف یورپی اتحاد بڑا سرگرم دکھائی دیتا ہے اور شاید یہی وجہ ہےکہ جرمن چانسلر اولاف شولز، فرانسیسی صدر میکرون سمیت اطالوی وزیراعظم ماریو دراگی بذریعہ ٹرین یوکرینی دارالحکومت کیف پہنچ گئے ہیں۔ روس یوکرین جنگ کے تناظر میں ان رہنماؤں کے اقدامات پر یوکرینی صدر تنقید کرتے آئے ہیں۔

    یوکرینی دارالحکومت کیف میں تعینات فرانسیسی سفیر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر شائع کی ہے۔ اس تصویر میں تینوں یورپی رہنما ایک ٹرین میں موجود ہیں۔ تصویر کے کیپشن میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ رہنما کیف جارہے ہیں۔ بعدازاں، فرانسیسی صدارتی دفتر نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ رہنما گزشتہ رات کی ٹرین سے یوکرینی دارالحکومت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

    یوکرین میں جاری جنگ اور سلامتی کی صورتحال کے باعث اس دورے کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

    30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے،عمران خان

    مذکورہ بالا تینوں یورپی رہنماؤں کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب یوکرین نے ایک بار پھر جنوب اور مشرق میں روس کی پیشقدمی کو روکنے کے لیے مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے درخواست کی ہے۔

    اس تناظر میں یوکرینی افواج کی قیادت کرنے والے میجر جنرل دمیترو مارچینکو نے کہا ہے کہ اگر انہیں صحیح ہتھیار بروقت فراہم کیے جائیں تو یوکرینی فوج روس کے خلاف فتح حاصل کر سکتی ہے۔

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    تینوں یورپی رہنماؤں کے دورہ کیف کا انتظام کرنے میں کئی ہفتے لگے ہیں کیوںکہ یوکرین میں ان پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ تنقید کی وجہ ان کا یوکرین جنگ کے جواب میں فوری طور پر وہ دوستانہ ردعمل ظاہر نہیں کیا جو امریکہ کا یوکرین کے لیے تھا۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

  • آصف زرداری کا حکومتی اتحادی سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ

    آصف زرداری کا حکومتی اتحادی سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر اورسابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومتی جماعتوں کے سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ دیا.

    زرداری ہاؤس اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں ہونے والے عشائیے میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، زرائع کے مطابق قومی حکومت کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہارکیا.

    اعشائیہ میں شامل حکومتی سیاسی جماعتوں کے تمام رہنماؤں نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی کاوشوں کو بھی سراہا. عشائیے میں شریک حکومتی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ملک کو ملکر تمام قسم کے بحرانوں سے نکالیں پر اتفاق کیا

    ذرائع کے مطابق عشائیے کے موقع پر بجٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ، اتحادی رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشورے بھی دئیے،جس پر وزیراعظم نے عملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی.

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قرنطینہ میں ہونے کی وجہ سے عشائیے میں شرکت نہیں کی.

    عشائیے میں وزیراعظم شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، چوہدری شجاعت حسین، خالد مقبول صدیقی ، شاہزین بگٹی، خالد مگسی، اسلم بھوتانی، آغا حسن بلوچ، ایمل ولی خان، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور ،غفور حیدری، فیصل سبزواری، چوہدری یاسین، چوہدری سالک حسین، اسرار ترین، سردار ایاز صادق، رانا ثنااللہ ودیگر رہنماوں نے شرکت کی.

  • عمران خان کا پیغام پہنچایا گیا تو علیم خان نے کیا دیا جواب؟

    عمران خان کا پیغام پہنچایا گیا تو علیم خان نے کیا دیا جواب؟

    عمران خان کا پیغام پہنچایا گیا تو علیم خان نے کیا دیا جواب؟

    علیم خان کے خلاف وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کھل کر میدان میں آگئے،عثمان بزدار نے وزیراعظم کو پیغام بھجوا دیا کہ علیم خان بطور وزیر اعلی قبول نہیں، پرویز الہی کو منصب دیا جائے یا میرے پاس رہنے دیا جائے،عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کے بھی علیم خان مخالف جذبات ہیں،

    دوسری جانب پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار نے وزارت اعلیٰ کے حوالے سے قیادت کو کوئی پیغام نہیں دیا،اس حوالے سے مختلف چینلز پر نشر ہونے والی خبر بے بنیاد اورمن گھڑت ہے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے علیم خان کیخلاف بھی کوئی بیان نہیں دیا وزیراعلیٰ نے چودھری پرویز الہٰی کو منصب دینے یا اپنے پاس رکھنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کسی کی مخالفت یا حمایت کا اعلان نہیں کیا وزیراعلیٰ عثمان بزدار کووزیراعظم عمران خان کی قیادت پر بھر پور اعتماد ہے،

    قبل ازیں ترین گروپ کا عون چودھری کی رہائش گاہ پر ہنگامی اجلاس ہوا،وفاقی وزیر پرویز خٹک کے ترین گروپ سے رابطے کےبعد ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا اجلاس میں جہانگیر ترین کی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت ہوئی،آئندہ کے لیے سیاسی لائحہ عمل طے کیا جائےگا ،اہم فیصلے متوقع ہیں

    گورنر سندھ عمران اسماعیل اوروفاقی وزیر فواد چودھری کی علیم خان کی رہائشگاہ پرآمد ہوئی ہے ،ملاقات میں گورنر سندھ اور فوادچودھری نےعلیم خان کو وزیراعظم کا پیغام پہنچایا ،ملاقات میں علیم خان نے جہانگیر ترین سے مشاورت تک وقت مانگ لیا،فواد چودھری اور عمران اسماعیل کی آج پہلے وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوئی تھی

    وزیراعظم عمران خان نے ترین گروپ کے ارکان اسمبلی کو آج ملاقات کیلئے بلا لیا ہے وزیراعظم ملاقات میں ارکان قومی اسمبلی کے تحفظات سنیں گے اور انہیں دور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب بھی ملاقات میں ہوں گے، ملاقات میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک بھی شریک ہوں گے، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوگی

    دوسری جانب وزیراعظم نے یوٹیوبر کو بھی بلا لیا ہے، یوٹیوبر کو وزیراعطم عمران خان بریف کریں گے کہ اب آنے والے دنوں میں کیا کرنیوالے ہیں، وزیراعظم یوٹیوبر کو کہیں گے کہ وہ یوٹیوب پر بتائیں کہ عمران خان گھبرائے ہوئے نہیں ہیں، پی ٹی آئی کی حمایت میں بولنے والے یوٹیوبر کو فوری طلب کیا گیا ہے، دوسری جانب پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کوبھی متحرک کیا جا رہا ہے کہ ٹویٹر پر وزیراعظم کے حق میں ٹرینڈ کریں

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے گورنرسندھ اوروفاقی وزیر فواد چودھری کی ملاقات ہوئی ہے ،ملاقا ت میں وزیراعظم کو علیم خان سے بات چیت اورتحفظات سے آگاہ کیاگیا جہانگیر ترین گروپ کے رہنما علیم خان اسلام آباد میں موجود ہیں علیم خان گزشتہ رات لاہور سے اسلام آباد پہنچے علیم خان کی آمادگی پر وزیراعظم عمران خان سے انکی ملاقات کروائی جائے گی،علیم خان نے گورنر سندھ کوتحفظات سے آگاہ کیاتھا

    علیم خان کا آئندہ چند روز میں برطانیہ جانے کا امکان ہے علیم خان جہانگیرترین کی خیریت بھی دریافت کریں گے علیم خان کا برطانیہ میں اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا بھی امکان ہے، علیم خان کی لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کا امکان ہے

    گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ علیم خان،جہانگیر ترین اور باقی دوست پارٹی کا اثاثہ ہیں نہیں لگتا کہ کوئی ایسی مجبوری یا دوری اتنی ہو جائے کہ قریب بھی نہیں آ سکیں حالات ٹھیک ہو جائیں گےآج بیٹھ کر معاملات سے نمٹ لیں گے عمران خان کیلئے ان کے دل میں اتنی ہی محبت ہے جتنی کل تھی

    عامر کیانی کا کہناتھا کہ علیم خان سے تحفظات پر تفصیلی بات ہوئی ہے ، علیم خان پارٹی کے وفادار کارکن ہیں ، ملاقات کیلئے کیا مطالبات آئے ہیں وہ ابھی بتا نہیں سکتے ، آج وزیراعظم سے ملاقات میں تمام معاملات سے آگاہ کریں گے ۔

    دوسری جانب ق لیگ نے بھی گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان پر واضح کر دیا ہے انہیں علیم خان وزیراعلیٰ قبول نہیں، مسلم لیگ(ق) کے سینئر رہنماؤں نے علیم خان کا نام بطور وزیراعلیٰ مسترد کردیا اور کہا علیم خان سے بہتر ہے، عثمان بزدار وزیراعلیٰ رہیں۔ تین سینئر وزراء نے مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی اور طارق بشیر چیمہ سے ملاقات کی۔

    قبل ازیں ترین گروپ اراکین کاعون چودھری کی رہائشگاہ پر مشاورتی اجلاس ہوا عون چودھری نے گورنر سندھ سے ہونیوالی ملاقات سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا،ممبر ترین گروپ کا کہنا ہے کہ ترین گروپ متحد ہے،ہم کسی سے رابطہ نہیں کر رہے،فیصل حیات کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا،حتمی فیصلہ جہانگیر ترین کریں گے،

    علیم خان نے ترین گروپ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جد وجہد میں ہم سب ایک دوسرے کے ہم سفر رہے ہیں 11سال پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوا ہم نے اکٹھا وقت گزارا ہے،ہم نے وہ وقت بھی گزارا ہے جب ہم اپوزیشن میں تھے،عہدوں کے بغیر اور ساتھ بھی وقت گزارا ہے اسحاق خاکوانی بڑے ہیں انہوں ہمیشہ بڑے ہونے کا ثبوت دیا

    دوسری جانب اتحادیوں کو منانے کی کوشش جاری ہے، وزیر اعظم عمران خان کل کراچی کا ایک روزہ دورہ کریں گے وزیر اعظم عمران خان دورہ کراچی کے دوران نائن زیرو جائیں گے وزیر اعظم عمران خان سے کراچی میں ارکان اسمبلی ملاقاتیں کریں گے

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    کھلاڑیوں کا کمال،بزدار آؤٹ ہونے لگے، چودھریوں کے ہاتھ بھی خالی رہ جانیکا امکان

    بزدار کی کرسی بچانے کی بھی کوششیں جاری،وزراء متحرک

    تحریک عدم اعتماد 48 گھنٹے سے پہلے آجائے گی،مولانا فضل الرحمان

  • جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ،مولانا فضل الرحمان

    جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ،مولانا فضل الرحمان

    جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایم کیو ایم رہنماوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بلدیاتی الیکشن کی مہم شروع کرنی چاہیے،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی صوبائی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ آئین سے متصادم قانون سازی کرے، پوری ہمت کے ساتھ پبلک میں جانا چاہیے،ان کے عزائم کو شکست دینے کیلئے عوام میں جانا ضروری ہے، سیاست خواہشات کی بنیاد پر نہیں ہو سکتی ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ،ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے، آئین کے اندر رہتے ہوئے ملکی نظام چلانا ہے،گزشتہ 4سال سے ملک پیچھے کی طرف جارہا ہے،فیصلہ اتحادیوں نے کرنا ہے ہم توخیرخواہی کا پیغام ہی دے سکتے ہیں،کارنرمیٹنگزہوں گی،ریلی نہیں نکال رہے،الیکشن کمیشن کےاحکامات پرعمل کریں گے،

    https://twitter.com/munirshah83/status/1489570758993268736

    ایم کیو ایم رہنما عامر خان کا کہنا تھا کہ 22اگست کو ایم کیو ایم پاکستان نے بہت سوچ سمجھ کر علیحدگی کا فیصلہ کیا ملک کے خلاف جو بھی بات کرے گا ہم اس کا ساتھ نہیں دے سکتے، ہم کسی کی بھی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں، ہم جمہوریت کو بچانے کیلئے اس حکومت میں شامل ہوئے تھے،آنے والے الیکشن میں کارکردگی بنیاد پر فیصلہ ہوگا،حکومت میں ہمارا شیئر صرف ایک وزیر کا ہے، ہم اتنا ہی بوجھ اٹھائیں گے جتنا حکومت میں ہمارا شیئر ہے، مولانا صاحب کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ان کے پاس آئے تھے، ہم ماضی میں بھی حکومتوں کا حصہ رہے، وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے ہم نےمظاہرہ کیا،ہم صرف کراچی کی نہیں پورے سندھ کی بات کررہے تھے، کالے قانون کے خلاف احتجاج کیا تو سندھ حکومت نے لاٹھی چارج کیا،ایم کیوایم نے سندھ حکومت کے کالے قانون کیخلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی،اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے،مظاہرے میں ہمارے ایک ساتھی کی شہادت بھی ہوئی،

    قبل ازین مولانا فضل الرحمان کی ایم کیو ایم کے وفد کے ساتھ ملاقات ہوئی،ایم کیو ایم کے وفد میں عامر خان، وسیم اختر سمیت دیگر شامل تھے جے یوآئی کے مولانا اسعد محمود، سینیٹر کامران مرتضی ملاقات میں موجود تھے ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال پر مشاورت کی گئی.

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    زرداری نے کہا تھا پی ٹی آئی کا جنم خیبر پختونخوا سے ہوا،وہیں دفن ہو گی

    نہیں دیکھیں گے کہ کس کا بھائی ڈی ایس پی ہے یا اے سی،چیف الیکشن کمشنر برہم

    خواتین کو پولنگ سٹیشنز سے اغواء کرنا انتہائی سنگین واقعہ ہے،چیف الیکشن کمشنر برہم

    پی ٹی آئی کے ساتھ کے پی میں جو ہوا وہ پورے ملک میں ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    چمن ضرورجائیں گے،موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے ،مولانا فضل الرحمان

    ناجائز حکمران کا انجام بھی اشرف غنی جیسا ہو گا،مولانا فضل الرحمان

  • اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے؟ شیخ رشید نے بڑوں کی امید پر پھیرا پانی

    اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے؟ شیخ رشید نے بڑوں کی امید پر پھیرا پانی

    اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے؟ شیخ رشید نے بڑوں کی امید پر پھیرا پانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ہر پارٹی چاہتی ہے اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے ،

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے زیر تعمیر ماں اور بچہ ہسپتال نزد ٹی بی سینٹر راولپنڈی کا دورہ کیا،وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور راشد شفیق بھی وزیر داخلہ کے ہمراہ تھے، اس موقع پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ لگتا تھا نالہ لئی میرے مرنے کے بعد بنے گا ،اب خواب پورا ہوا ،نوازشریف کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا وزیراعظم سے کہا ہے کہ ماں بچہ اسپتال کو ہر صورت تعمیر کرنا ہے عمران خان کا ایجنڈا مہنگائی کا خاتمہ ہے تین لوگ یہاں ہیں ،سیاسی تابوت کو اٹھانے کے چار پائے چاہیے ہوتے ہیں نالہ لئی مکمل ہوگیا تو شہر کی تاریخ بدل جائے گی،اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ ہے وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہوگی

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ ہم عمران خان کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں،عمران خان کی قیادت میں کام کرتے رہیں گے،عمران خان ڈنکے کی چوٹ پر پانچ سال پورے کریں گے اور پھر زور دار الیکشن لڑیں گے ،ہم ایسے اتحادی ہیں جو ہر حال میں انکے ساتھ ہیں، روز ناراض ہونے والے نہیں، الیکشن جیت، ہار کا نام ہے، ساری زندگی علماء کرام کے ساتھ رہا ہوں تمام مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ، اسلامی نطام کا حامی ہوں، علماء کرام کا احترام کرتا ہوں، پانچویں سال میں عمران خان مہنگائی ختم کرے گا،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایک ماہ سے پھنسا ہوا، آنا ہے تو آؤ، شیخ ہونے کے باوجود ٹکٹ دیتا ہوں، شیخ نقصان نہیں کرتے ، بتائیں نواز شریف کس دن آنا چاہتے ہیں، پاکستان کی عظیم افواج اور ادارے پاکستان کے لئے زندہ ہیں اور کام کرتے ہیں حکومتیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں، یہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، جن کے پیٹ میں درد ہے وہ لائیو نہیں بتا سکتا،اتحادی جماعتیں ناراض ہوتی ہیں، انکو بھی ناراض ہونا چاہئے، منی بجٹ جب بھی ہو ،کوئی قیامت نہیں آ جائے گی، منی بجٹ پاس ہو گا اور یہ اسلئے ہے تا کہ روپے کی قیمت پر کنٹرول کیا جائے،رافیل کے توڑ میں جے ایس 10فلائنگ پریڈ کرے گا اپوزیشن مارچ ضرور کرے لیکن مارچ میں نہیں ،اپنے فیصلے پرنظر ثانی کرے،

    ایک اور یوٹرن، ساتھ شیخ رشید نے اسلام آباد والوں کو خوشخبری بھی سنا دی

    سعد رضوی سے بھی بات ہورہی،وزیراعظم کیا اعلان کرنیوالے ہیں،شیخ رشید نے بتا دیا

    معاملے کو بہتر انداز سے سلجھایا گیا،شیخ رشید

    شیخ رشید نے لاہور بیٹھ کر اسلام آباد والوں کو سنائی خوشخبری

    لڑکے نالائق،لڑکیاں آگے،اب یہ کام کرنے کو دل نہیں کرتا، شیخ رشید

    23 مارچ کو مارچ کی کال بڑی غلطی ہے ،شیخ رشید کی اپوزیشن کو وارننگ

    شیخ رشید کی نواز شریف کو آفر، پی ڈی ایم سے تاریخ بدلنے کی اپیل

    مرنے کے بعد سیاسی مخالفین میرا کفن کھول کر دیکھیں گے مرا ہے کہ نہیں،شیخ رشید