بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ایک 19 سالہ لڑکی کو 23 افراد نے 6 دن تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا-
بھارتی میڈیا کے مطابق وارانسی کے علاقے لال پور کی رہائشی 19 سالہ لڑکی 29 مارچ کو ایک دوست سے ملنے گئی تھی جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہوگئی تھی،گھر والوں نے 4 اپریل کو پولیس میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی اسی دن لڑکی کو پنڈے پور چوراہے پر بدترین حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا،متاثرہ لڑکی کسی طرح قریبی دوست کے گھر پہنچی جہاں سے اسے گھر پہنچایا گیا، بعد ازاں اس نے اپنی والدہ کو پورے واقعے سے آگاہ کیا جس پر پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔
لڑکی کے بیان کےمطابق اس کیساتھ حقہ بار، ہوٹل، لاج اور گیسٹ ہاؤس میں 6 دن تک 23 مختلف لوگوں نے نشہ دے کر اجتما عی زیادتی کی۔ پولیس نے اس کیس میں 23 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
وارانسی پولیس کے سینئر افسر چندرکانت مینا نے بتایا کہ ابتدائی طور پر نہ تو متاثرہ لڑکی اور نہ ہی اس کے گھر والوں نے جنسی زیادتی کی شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اجتماعی زیادتی کی شکایت 6 اپریل کو درج کی گئی‘‘۔
اپنے پارلیمانی حلقے وارانسی پہنچنے پر وزیراعظم نریندر مودی نے پولیس کو واقعے کے ملزمان کے خلاف ’’فوری اور سخت کارروائی‘‘ کا حکم دیا ہے، یوپی حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے واقعے کے مجرموں کے خلاف سخت ترین کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
اس کیس میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کے تحت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جن میں اجتماعی زیادتی، عورت کی عصمت دری کی کوشش، زہر دے کر نقصان پہنچانے کی کوشش، غلط طور پر روکے رکھنا اور مجرمانہ دھمکیاں شامل ہیں۔
وارانسی کے کمشنر آف پولیس موہت اگروال نے بتایا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور اب تک 12 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ باقی 11 نامعلوم مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کےلیے چھاپے جاری ہیں۔
بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک انتہائی لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون کو اس کے سسرال والوں نے جہیز نہ لانے کی پاداش میں ایچ آئی وی سے متاثرہ انجکشن لگادیا۔
متاثرہ خاتون کے والد کے مطابق، ان کی بیٹی سونل سینی کی شادی 15 فروری 2023 کو اتراکھنڈ کے ہریدوار سے تعلق رکھنے والے ابھیشیک عرف سچن سے ہوئی تھی۔ شادی میں دولہے کے اہل خانہ کو کار اور 15 لاکھ روپے نقد بطور جہیز دیے گئے، مگر وہ اس سے بھی خوش نہ ہوئے اور بعد میں اسکارپیو ایس یو وی اور 25 لاکھ روپے کا مزید مطالبہ کرنے لگے۔جب لڑکی کے والدین نے مزید جہیز دینے سے انکار کیا تو سسرال والوں نے سونل کو گھر سے نکال دیا۔ بعد ازاں پنچایت کی مداخلت سے اسے واپس سسرال بھیجا گیا، مگر وہاں بھی اسے شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
خاتون کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ سسرال والوں نے اسے ایچ آئی وی سے متاثرہ انجکشن دے کر جان سے مارنے کی کوشش کی۔کچھ عرصے بعد جب خاتون کی طبیعت بگڑنے لگی تو والدین اسے اسپتال لے گئے، جہاں میڈیکل رپورٹس میں اس کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا انکشاف ہوا۔ حیران کن طور پر جب اس کے شوہر ابھیشیک کا ٹیسٹ کیا گیا تو وہ ایچ آئی وی منفی پایا گیا، جس سے اس بھیانک سازش کا انکشاف ہوا۔متاثرہ خاندان نے جب پولیس سے شکایت کی تو ابتدائی طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس کے بعد انہوں نے مقامی عدالت سے رجوع کیا۔
عدالت کے حکم پر گنگوہ کوتوالی پولیس نے ابھیشیک عرف سچن، اس کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف جہیز کے لیے ہراسانی، حملہ، اور قتل کی کوشش جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔یہ واقعہ نہ صرف جہیز کی لعنت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرتا ہے بلکہ بھارت میں خواتین پر ہونے والے مظالم کی سنگین صورتحال کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں ایک شادی میں اچانک چیتا گھس آیا تو شہر میں ہنگامہ مچ گیا۔ لوگوں میں دہشت پھیل گئی۔ باراتیوں نے کھانا چھوڑ کر دوڑیں لگادیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بدھیشور ایم ایم لان میں ہونے والی شادی کے شرکا اپنی جان بچانے کے لیے سڑکوں پر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ایک خوفزدہ شخص نے تو چھت سے ہی چھلانگ لگا دی جس سے وہ بُری طرح زخمی ہو گیا۔اطلاع ملنے پر ڈی ایف او ڈاکٹر ستیش پانڈے سمیت محکمہ جنگلات کی ٹیم موقع پر پہنچی اور کافی جدوجہد کے بعد تیندوے کو پکڑا جا سکا۔ آدھی رات تک چلنے والے تیندوے کے ریسکیو آپریشن میں کئی دفعہ تو لگا چیتا سب کو زخمی کرکے بھاگ جائےگا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی پولیس اور محکمہ جنگلات کی ٹیم سیڑھیوں پر تیندوے کو اسپاٹ کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے تو تیندوا سامنے آ کر ان کو کھدیڑ دیتا ہے۔اس کے بعد وہ سب سے آگے چل رہے محکمہ جنلات کے ایک ملازم پر حملہ کر دیتا ہے اور اس کے ہاتھ سے رائفل چھین کر گرا دیتا ہے، تقریباً 8 گھنٹوں تک چلی اس تگ و دو کے بعد جمعرات کی صبح 4 بجے آخر کار تیندوے کو پکڑ لیا گیا۔
بھارتی ریاست اتر پردیش میں ٹرین میں 11 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے ملزم کو لوگوں نے تشدد کرکے ہلاک کردیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق بھارتی ریلوے میں کام کرنے والے ایک 34 سالہ پرشانت کمار نامی شخص نے لکھنؤ اور کانپور کے درمیان چلنے والی ٹرین میں مسافروں نے 11 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی، جسے لوگوں نے پکڑ لیا اور اسے تشدد کرکے ہلاک کردیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پرشانت کمار بچی کے اہلخانہ کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوا تھا، اس نے دوران سفر 11 سالہ لڑکی کو اپنی برتھ دینے کی پیشکش کی اور اس کے بعد بچی کے ساتھ اس کی والدہ کی غیر موجودگی میں جنسی زیادتی کی، متاثرہ لڑکی نے واقعہ کے بارے میں اپنے گھر والوں اور دیگر مسافروں کو بتایا، جس پر مشتعل مسافروں نے ملزم پر تشدد کیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کی والدہ نے پرشانت کمار کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروائی تھی۔
غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ پایا
ہمیں یہ زعم تھا کہ بارش میں اپنا سر نہ بھیگے گا
زبیر رضوی
معروف شاعر سید زبیر رضوی 15 اپریل 1935ء کو امروہہ (اتر پردیش) میں ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے ساتھ 30 سال تک کام کیا۔ انہوں نے دہلی اردو اکیڈمی کے سیکریٹری کے طور پر بھی دو سال تک خدمات انجام دیں21؍فروری 2016ء کو زبیرؔ رضوی انتقال کر گئے۔
ان کے دیگر مجموعہ کلام یہ ہیں:
لہر لہر ندیا گہری (مجموعہ کی نظمیں)، کشتِ دیوار، مسافتِ شب، پرانی بات ہے، دھوپ کا سائباں ، انگلیاں فگار اپنی، وغیرہ شامل ہیں۔ وہ اعلیٰ اردو میگزین "ذہنِ جدید” کے ایڈیٹر تھے۔
بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام
زبیرؔ رضوی کے چند منتخب اشعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر ادھر سے مقابل کو یوں نہ گھائل کر
وہ سنگ پھینک کہ بے ساختہ نشانہ لگے
—
اپنی پہچان کے سب رنگ مٹا دو نہ کہیں
خود کو اتنا غمِ جاناں سے شناسا نہ کرو
—
بھٹک جاتی ہیں تم سے دور چہروں کے تعاقب میں
جو تم چاہو مری آنکھوں پہ اپنی انگلیاں رکھ دو
—
پرانے لوگ دریاؤں میں نیکی ڈال آتے تھے
ہمارے دور کا انسان نیکی کر کے چیخے گا
—
دل کو رنجیدہ کرو آنکھ کو پر نم کر لو
مرنے والے کا کوئی دیر تو ماتم کر لو
—
تم جہاں اپنی مسافت کے نشاں چھوڑ گئے
وہ گزر گاہ مری ذات کا ویرانہ تھا
—
تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا
مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا
—
زندگی جن کی رفاقت پہ بہت نازاں تھی
ان سے بچھڑی تو کوئی آنکھ میں آنسو بھی نہیں
—
سخن کے کچھ تو گہر میں بھی نذر کرتا چلوں
عجب نہیں کہ کریں یاد ماہ و سال مجھے
—
شام کی دہلیز پر ٹھہری ہوئی یادیں زبیرؔ
غم کی محرابوں کے دھندلے آئینے چمکا گئیں
—
عجیب لوگ تھے خاموش رہ کے جیتے تھے
دلوں میں حرمتِ سنگِ صدا کے ہوتے ہوئے
—
غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ پایا
ہمیں یہ زعم تھا بارش میں اپنا سر نہ بھیگے گا
—
گلابوں کے ہونٹوں پہ لب رکھ رہا ہوں
اسے دیر تک سوچنا چاہتا ہوں
—
نئے گھروں میں نہ روزن تھے اور نہ محرابیں
پرندے لوٹ گئے اپنے آشیاں لے کر
—
کوئی ٹوٹا ہوا رشتہ نہ دامن سے الجھ جائے
تمہارے ساتھ پہلی بار بازاروں میں نکلا ہوں
—
کہاں پہ ٹوٹا تھا ربط کلام یاد نہیں
حیات دور تلک ہم سے ہم کلام آئی
—
ہم نے پائی ہے ان اشعار پہ بھی داد زبیرؔ
جن میں اس شوخ کی تعریف کے پہلو بھی نہیں
—
تھا حرفِ شوقِ صید ہوا کون لے گیا
میں جس کو سن سکوں وہ صدا کون لے گیا
—
کبھی خرد سے کبھی دل سے دوستی کر لی
نہ پوچھ کیسے بسر ہم نے زندگی کر لی
—
تشبیہوں کے رنگِ محل میں کوئی نہ تجھ کو جان سکا
گیت سنا کر غزلیں کہہ کر دیوانے کہلائے ہم
—
یہ زمیں ٹوٹے ہوئے چاند کی کھیتی ہے زبیرؔ
میری راتوں میں بپا کوئی بھی عالم کر لو
بھارت میں اتر پردیش حکومت کی ایک اعلیٰ بیوروکریٹ جیوتی موریہ کی چونکا دینے والی کہانی سوشل میڈیا پرٹرینڈ کررہی ہے ۔
بریلی کی سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) پر بدعنوانی کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر آلوک ورما کو دھوکہ دینے کا الزام ہے جو ریاست کے پنچایت راج میں درجہ چہارم کے ملازم ہیں۔ آلوک ورما نے اپنی بیوی کی تعلیم کے لیے مالی اعانت کے علاوہ بھرپور تعاون کیا جس سے جیوتی کو سول سروس کا امتحان پاس کرنے میں مدد ملی۔
اسکینڈل کیا ہے؟
جیوتی موریہ کی شادی بریلی ضلع کے رہنے والے آلوک ورما کے ساتھ 2010 ہوئی جو ریاست کے پنچایت راج ڈیپارٹمنٹ میں صفائی ملازم ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اجیوتی اپنی تعلیم کو آگے بڑھانا چاہتی تھی اور ریاستی سول سروس کا امتحان پاس کرکے سول سرونٹ بننے کا خواب دیکھتی تھی جیوتی کے شوہر اور سسرال والوں نے اس کے خوابوں کی حمایت کرتے ہوئے پڑھائی کا خرچ اٹھایا اور آخر کار اس نے2015 میں پی سی ایس کا امتحان پاس کیا اور ایس ڈی ایم بریلی تعینات ہوگئی۔
جیوتی نے 2015 میں جڑواں بچیوں کو جنم دیا تھا اور ان کے شوہر کے مطابق یہ جوڑا 2020 تک خوشی خوشی زندگی گزار رہا تھا لیکن جلد ہی حالات بدترین ہو گئے جب آلوک کو علم ہوا کہ جیوتی کی کسی افسرکے ساتھ دوستی ہے اور وہ اسے دھوکہ دے رہی ہے۔
اس انکشاف نے آلوک کو حیرت میں ڈال دیا کیونکہ وہ اپنی بیوی کی اعلٰی تعلیم مکمل کرنے اور سرکاری ملازم بننے کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے سالوں سے شدید محنت کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے پڑھائی کیلئے جیوتی کو پریاگ راج کے ایک اہم کوچنگ سینٹر میں بھی داخل کرایا تھا ، لیکن کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد جیوتی نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کو دھوکہ دیا۔
آلوک ورما نے اپنی اہلیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے غیر قانونی تعلقات کو ختم کرے تاکہ وہ پھر سے ایک ہوجائیں تاہم ایس ڈی ایم نے مبینہ طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اور شوہر اور سسرال والوں پر جہیز کا مطالبہ کرنے کا الزام لگایا جس کی وجہ سے آلوک کو اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
In Bihar, husband stopped wife's #studies, and said that there is no need to become another Jyoti Maurya!
After the Maurya husband-wife dispute in UP, there is a lot of panic among the husbands of the country.!
آلوک ورما نے اپنی اہلیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے غیر قانونی تعلقات کو ختم کرے تاکہ وہ پھر سے ایک ہوجائیں تاہم ایس ڈی ایم نے مبینہ طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اور شوہر اور سسرال والوں پر جہیز کا مطالبہ کرنے کا الزام لگایا جس کی وجہ سے آلوک کو اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
https://twitter.com/onlyrajnish/status/1675702150691713024?s=20
ایک حالیہ بیان میں، جیوتی موریہ نے دعویٰ کیا کہ آلوک سے شادی کرنے کے لیے اسے دھوکہ دیا گیا تھا جس نے اس وقت پنچایت راج محکمہ میں گرام پنچایت افسر ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعد میں، جب یہ محسوس ہوا کہ اس کے ساتھ جھوٹ بولا گیا ہے اور الوک درحقیقت 4ویں کلاس کا ملازم ہے، جو مذکورہ محکمے میں جھاڑو دینے والا کام کر رہا ہے، اس نے اپنے فیصلے پر افسوس کیا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔
دریں اثنا، آلوک ورما نے الزام لگایا ہے کہ جب سے وہ جیوتی کی بے وفائی اور بدعنوانی کے بارے میں منظر عام پر آیا تھا تب سے بیوی اسے قتل کرنے کی سازش کر رہی تھی۔
ورما نے اپنی بیوی کے مبینہ عاشق کے خلاف پریاگ راج اور نیشنل گارڈ ہیڈ کوارٹر میں شکایت درج کروائی تھی لیکن مبینہ طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے اس شخص کو عوام میں جانے پر مجبور کیا گیا۔
کرپشن کی ’ڈائری‘
آلوک ورما نے اپنی بیوی کا دعویٰ کیا ہےجیوتی موریا کرپٹ افسر ہیں اور کمیشن کی شکل میں رشوت لیتی ہیں۔ ورما نے جیوتی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے ساتھ میڈیا سے رابطہ کیا اور ثبوت کے طور پر، ایک ڈائری فراہم کی جس میں ایس ڈی ایم کی غیر قانونی کمائی کے بارے میں مکمل تفصیلات موجود تھیں جو ماہانہ وصولیوں میں 6 لاکھ روپے بنتی ہیں۔
ورما کی فراہم کردہ ڈائری میں بیان کردہ تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جیوتی کی بدعنوانی کی کہانی 2019 کے اوائل میں شروع ہوئی جب وہ کوشامبی ٹی سب ڈویژن میں پروبیشنری آفیسر کے طور پر تعینات تھیں اور ماہانہ بنیادوں پر کمیشن کی شکل میں رشوت وصول کرتی تھیں۔
مبینہ نوٹ بک میں درج تفصیلات کے مطابق، جیوتی موریہ نے مبینہ طور پر اکتوبر 2021 میں رشوت کے طور پر 604,000 روپے وصول کیے۔ ڈائری میں ہر ماہ سپلائی انسپکٹر اور مارکیٹنگ انسپکٹر کو بالترتیب 15,000 اور 16,000 روپے کی ادائیگیاں بھی دکھائی گئیں ریاستی حکومت نے خاتون کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
آلوک ورما نے الزام لگایا ہے کہ جیوتی نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اسے نہیں چھوڑتی تو وہ اسے جان سے مار دے گی، جب کہ ایس ڈی ایم نے اس کے شوہر اور اس کے سسرال والوں پر جہیز کے لیے اس کا ذہنی استحصال کرنے کا الزام لگایا ہے۔
جیوتی موریہ کون ہیں؟
1987 میں پیدا ہونے والی جیوتی اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں پیدا ہوئی اور پرورش پائی۔ اس نے اپنی ابتدائی تعلیم ضلع کے ایک مقامی اسکول سے مکمل کی اور گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ریاست کے پی سی ایس امتحان کی تیاری شروع کی۔
2015 میں، جیوتی نے آخر کار اپنا خواب پورا کیا اور فلائنگ کلرز کے ساتھ PCS ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی، ریاست بھر میں 16 ویں رینک اور خواتین میں تیسرا رینک حاصل کیا۔ بعد میں انہیں ایس ڈی ایم بریلی کے طور پر تعینات کیا گیا جیوتی موریا نے 2010 میں آلوک ورما سے شادی کی اور 2015 میں پی سی ایس کے امتحانات کی تیاری شروع کر دی اس کے شوہر اور سسرال والوں نے جذباتی اور مالی طور پر ہر قدم پر اس کا ساتھ دیا۔
یہ تنازع سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہے کہ یہاں تک کہ بھوجپوری سنیما جو بنیادی طور پر اپنی بہترین موسیقی کے لئے جانا جاتا ہے ، نے صورتحال پر ایک گانا بنا ڈالا،اس گانے کا نام جیوتی کے عہدے سے مطابقت کے ساتھ ’بیوفا ایس ڈی ایم جیوتی موریہ‘ رکھا گیا ہے۔ گانا بھوجپوری گلوکار موہت بلوا نے گایا ہے جنہوں نے اس کے بول بھی لکھے ہیں۔ موسیقی سنیل راج نے دی ہے۔گانے میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح عہدہ ملنے کے بعد لوگ بے وفا ہو جاتے ہیں گانے میں مزید پیغام دیا گیا ہے کہ خود کو کسی کے لیے اتنا وقف نہ کریں کہ وہ آپ کو تنہا کردے، آپ کے خاندان کو تباہ کرتے ہوئے معاشرے میں آپ کی ساکھ تباہ کردے۔
بھارتی ریاست اترپردیش میں قائم تاریخی مسجد کو سڑک چوڑی کرنے کے بہانے شہید کردیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
باغی ٹی وی: اترپردیش میں الہٰ آباد کے علاقے ہندیا میں 16 ویں صدی میں تعمیر کی گئی تاریخی شاہی مسجد کو شہید کردیا گیا۔ ٹوئٹر پر بھارتی پروفیسر اور یونیسکو کے چیئرپرسن اشوک سوائیں کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں یوپی کی ایک سڑک پر قائم مسجد کو ہیوی مشینری کے ذریعے شہید کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اشوک سوائیں نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ مسجد کو بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک سڑک چوڑی کرنے کے لیے شہید کیا گیا ہے۔
Shahi Masjid martyred in Handia, Allahabad, Uttar Pradesh!! Construction was done during time of Sher Shah Suri, demolition was done in presence of Public Works Department for widening of GT Road!
Imam Md Babul Hussain said the matter in lower court was listed for January 16th!! pic.twitter.com/yGt99eaZ4b
دوسری جانب مسلم اسپیس نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بتا یا گیا کہ یو پی کے شہر الہ آباد کے ہنڈیا نامی گاؤں میں واقع شاہی مسجد کو شہید کردیا گیا ہے، مسجد شیر شاہ سوری کے دور سے قائم تھی۔
اس حوالے سے امام مسجد کا کہنا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا اور 16 جنوری کو کیس کی سماعت ہونی تھی۔
مقامی مسلم تنظیم کے عہدیدار نے بتایا کہ عدالت میں سماعت کے لیے تاریخ مقرر ہونے کے باوجود گزشتہ روز پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ نے اہلکاروں نے بھاری مشینری کے ذریعے مسجد کو سڑک چوڑا کرنے کے بہانے شہید کردیا۔
پیپلز یونین فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق صرف گجرات میں 500 کے قریب مساجد اور عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا جس سے بھارت کے سیکولر اسٹیٹ ہونے کا نام نہاد دعویٰ بے نقاب ہوگیا۔
نئی دہلی: بھارتی ریاست اترپردیش میں آٹھویں جماعت کے طالب علم نے گھر میں داخل ہوکر زبردستی چاقو کے زور پر چھٹی کلاس کی لڑکی کی مانگ میں سندور بھر دیا۔
باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے مہاراج گنج ضلع میں طالب علم اپنے ایک دوست کے ہمراہ لڑکی کے گھر پہنچا اور دیوار پھلانگ اندر داخل ہوا۔اُس وقت لڑکی گھر کی صفائی کر رہی تھی دوست نے لڑکی کی گردن پر تیز دھار چاقو رکھا اور لڑکے نے لڑکی کی مانگ میں سندور بھردیا جب تک شور شرابہ سن کر اہل خانہ آتے لڑکے فرار ہوگئے۔
لڑکی کے والد نے توہین آمیز رویہ، دھمکیاں دینے، اور ویوئیر ازم کے الزام میں اور پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنسز ایکٹ 2012 کے تحت ایف آئی آر درج کرائی جس پر پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے موٹر سائیکل کا پتہ لگایا اور اس کی مدد سے لڑکوں تک پہنچ گئی پولیس نے 16 سالہ لڑکے کو حراست میں لے لیا ہے۔
مہاراج گنج کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر روی کمار رائے نے بتایا کہ لڑکا اپنے ایک دوست کے ساتھ 14 سالہ لڑکی کے گھر پہنچا دونوں لڑکوں کو گرفتار کرکے بچوں کی جیل منتقل کردیا گیا۔ لڑکے کا کہنا ہے کہ اس فعل پر کوئی پچھتاوا نہیں وہ اس لڑکی سے محبت کرتا تھا اور اسی سے شادی بھی کرنا چاہتا تھا۔
دوسری جانب لڑکی کے والد نے پولیس کو بتایا یہ لڑکا اسکول میں بھی بچی کو تنگ کرتا تھا جس پر ہم نے اسکول ہی تبدیل کروادیا تھا لیکن وہ اب گھر آن دھمکا۔