"خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ”
یہ ایک نہایت ہی اہم مقولہ ہے اس میں فرد کی ترقی سے لے کر قوم کی ترقی تک کا راز مضمر ہے ۔ ایک قوم کی ترقی شخصی ترقی پر منحصر ہوتی ہے ۔ایک قوم اس وقت ترقی یافتہ ہوتی ہے جب اس کی عوام پرجوش ،باشعور اور باکردار ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ عوام جذبہ کے ساتھ بغیر کسی انعام و اکرام کے لالچ سے محنت کرتے ہیں تو قوم ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ پاکستان جو کہ اسلامی ملک ہے اس میں قانون اسلام کا ہے ۔ 14 اگست1947ء کو معرض وجود میں آیا ۔اگر تاریخ پاکستان کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے سب سے پہلا کام قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح نے ہر فرد کی کردار سازی کی پھر 1940ء کو قرارداد پاکستان پیش کی ۔پھر سات سال ہی میں آزادی مل گئی۔پاکستان بننے کے بعد مختلف حکومتیں آئیں ۔سیاست کی گئی۔پاکستان ترقی یافتہ اس لیے نہیں کہ یہاں حکمران اچھے نہیں آئے یہ عموما سمجھا جاتا ہے ۔لیکن ایسا ہرگز نہیں عوام جیسی ہوتی ہے ویسا ہی حکمران ان ہر حکومت کرتا ہے۔حکمران انھی عوام میں سے ہوتے ہیں مریخ سے تو نہیں آتے۔پاکستان ترقی یافتہ اس لیے نہیں کہ ہماری عوام کو شعور ہی نہیں ۔ہمارے اندر سے "اپنی مدد آپ” کا جذبہ اٹھ گیا ہے ۔اپنی مدد آپ وہ اصول ہے اگر ایک شخص اس کو اپنا لے تو وہ ترقی یافتہ بن جاتا ہے اور اگر قوم کی قوم اس کو اپنا لے تو قوم ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کا غیر ترقی یافتہ ہونے میں جدھر تک حکمرانوں کی بے بسی شامل ہے اتنا ہی قصور عوام کا ہے ہماری عوام میں قومی حمیّت رفع دفع ہو چکی ہے ۔آج مملکت پاکستان میں عوام یہ تو کہتی ہیں کہ فلاں حکمران کرپشن کرتا ہے جس کی وجہ سے ہم معاشی بدحالی کا شکار ہے ۔یہ بالکل صحیح ہے لیکن عوام خود کو نہیں جانچتے کہ آج ایک ریڑھی والے کو دیکھا جائے تو وہ پھل دیتا ہے اور چپکے سے صحیح پھلوں کے ساتھ خراب پھل بھی ڈال دیتا ہے ۔یہ بھی کرپشن ہے ۔اسی طرح چھوٹے ملازم چپڑاسی سے لے کر پارلیمنٹ میں بیٹھے حکمران تک سب کرپشن کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ پاکستان کی معاشی بدحالی کے باعث حکمران بے بس ہیں وہ دوسرے ملکوں سے قرض لیتے ہیں تو عالمی اداروں کی مشکل شرائط ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
قومی ترقی کی تعریف سر سید احمد خان نے یوں کی :-
"قومی ترقی شخصی ترقی،شخصی محنت ،شخصی خودارادیت ،شخصی صلاحیت کا مجموعہ ہے ”
اسی طرح قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے :-
"انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے ”
اگر قرآن کی اس آیت پر غور کیا جائے تو واضح ہے کہ اگر پاکستانی قوم اپنی ترقی کے لیے کوشش کرے تو انھیں یہ ترقی ضرور ملے گی ۔آج ہم نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا اور پستی کی طرف چلے گئے۔
حکمران کی ذمہ داری ہوتی کہ وہ عوام کا جذبہ بڑھائیں۔ عوام کو ملکی ترقی کی طرف راغب کریں ۔لیکن ہمارے ہاں تو حکمرانی کا دستور ہی کچھ اور ہے ۔سیاستدان عوام کی کردار سازی کی طرف توجہ بالکل ختم کر چکے ہیں ۔اگر پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا تو اسی وقت کہ پہلے عوام کی کردار سازی کی جائے ان کو ملکی ترقی میں حصہ لینے کے لیے آمادہ کیا جائے اس کے بعد سیاستدان اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو ملک پاکستان ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ حکمرانوں سے لے کر عوام تک سب کو جذبہ "اپنی مدد آپ” کے تحت کام کرنا چاہیے۔ اور پوری قوم کو متحد ہو جانا چاہیے یہ سیاسی انتقامات چھوڑ دینے چاہئیں۔ اسی طرح آج مسلمانان پاکستان کو چاہیے کہ تفرقہ بازی سے باز آ جائیں۔ اور ہر قسم کی تفریق اور گروہ بندی سے دور رہیں۔ تو ملک ترقی یافتہ بن جائے گا ۔
اے میرے عزیز ہم وطنو! ہمیں ملک کی ترقی کے لیے تگ و دو شروع کر دینی چاہیے۔ بہت سی اقوام ہمارے بعد وجود میں آئیں اور آج ہم سے آگے ہیں۔ ہمیں پرعزم ہو کر دلجمعی سے متحد ہو کر یکسوئی سے عمل کی ضرورت ہے یقیناً جلد ہی ہم ترقی یافتہ اقوام میں سر فہرست ہوں گے۔
Tag: اتفاق و رواداری
-

خوشحال پاکستان، مگر کیسے؟ ؟؟ محمد عبداللہ گِل
-

ہم کیا کر رہے ہیں؟؟؟ بنت مہر
حکایات بوستان سعدی میں شیخ سعدی ؒ بیان کرتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی کےاکثر درباری اس بات پر بہت تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ وہ اپنے غلام ایاز پر اس قدر فریفتہ ہے انہیں ایاز میں ایسی کوئی خوبی نظر نہ آتی تھی جو اسے دوسروں سے ممتاز کر کے سلطان کی سلطان کی توجہ کا مستحق بناتی ہو سلطان کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو اس نے فیصلہ کیا کہ مناسب موقع پر اس اعتراض کا جواب دوں گا اور اتفاق سے جلد ہی ایسا موقع پیدا ہو گیا ایک دن دوران سفر لدے ہوئے ایک اونٹ کا پاؤں پھسلا تو وہ زمین پر گر گیا اور اس پر لدا ہوا سارا سامان بکھر گیا سلطان نے حکم دیا کہ اس بکھرے ہوئے سامان میں سے جو شخص جو چیز اٹھائے وہ اسی کی ہو جائے گی یہ حکم دے کر سلطان آگے بڑھ گیا اور اس کے تمام ہمراہی سامان لوٹنے میں مصروف ہو گئے بس ایک ایاز اس کے ساتھ رہا ۔محمود نے پوچھا ایاز تم نے بھی کچھ حاصل کیا ؟ اس نے ادب سے جواب دیا میں تو حضور کے جلو میں تھا اب سلطان نے حاسد درباریوں کو بتایا کہ ایاز کی یہی خوبی ہے جس نے اسے ہماری نظروں میں معتبر بنایا ہے۔حضرت سعدی یہ حکایت بیان کرنے کے بعد توجہ دلاتے ہیں کہ انسان کو اسی انداز سے اللہ سے اپنا رشتہ استوار کرنا چاہیے کہ اس کے سوا کسی کا خیال دل میں نہ رہے
کچھ یہی مثال صادق آتی ہے اسلام کی ان شاخوں پہ جنہیں ہم فرقوں کا نام دیکر اپنی انا اور نفرت کی بھینٹ چڑھا کر فرقہ وارانہ فسادات پھیلاتے ہیں اور اسلام کے اصل مقصد سے دور ہوتے جارہے ہیں کوئی فرقہ عاشق رسول کہلاتا ہے تو کوئی توحیدی فرقہ کے نام سے مشہور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عشق رسولﷺ سے سرشار دل میں رسولﷺ کے خیال کے علاوہ کوئی خیال دل میں کیسے سما سکتا ہے؟ یااہل توحید اللہ پاک کی وحدانیت سے ہٹ کر فرقہ واریت پہ کیونکر لب کشائی کر سکتا ہے اللہ اور نبیﷺ سے رشتہ رکھنے والوں کے دل میں اس کے علاوہ کوئی خیال نہ آئے یہی تو حقیقی محبت ہے لیکن صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے ہم ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں برداشت اور احترام کے فقدان کے باعث ایک دوسرے پر کافر کافر کے فقرے کسے جاتے ہیں ایک دوسرے کے مسلکی عقائد کا مذاق بنایا جاتا ہے اور اس کے لیے گالم گلوچ سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا یہاں تک کہ مسجد کے منبر و محراب پر بیٹھ کر بھی محبتیں بانٹنے کی بجائے فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دیا جاتا ہےحالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اتفاق و یگانگت سے رہنا ہی اسلام کی خوبصورتی ہے جیسا کہ سورۃ الحجرات آیت نمبر 10 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
"یقینا تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں”
جب کسی ملک پر بیرونی طاقتیں حملہ آور ہوتی ہیں تو پورا ملک متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرتا ہے لیکن جب اس ملک کے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیےنفرت و بیزاری کے جذبات پروان چڑھنے لگیں تو پھر کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی اسی طرح مسلمانوں کے فرقہ وارانہ فسادات کا اسلام دشمن عناصر نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور فرقہ وارانہ فسادات کی جو چنگاری کچھ شدت پسندوں نے لگائی تھی اسلام دشمن عناصر نے اس چنگاری کو بھڑکا کر شعلے کی شکل دے دی ایک دوسرے پر کافر کافر کی صدائیں بلند کرتے ہم لوگ پیارے آقاﷺ کی گئی تلقین کو بھول گئے جو خطبہ حجتہ الوادع کے موقع پر ان الفاظ میں کی گئی
"لوگو تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو”
فرقہ واریت کی آڑ میں دوسروں کی عزتیں اچھالتے ہوئے ہم اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی تعلیمات کو فراموش کر گئے ایک بزرگ سے فرقہ واریت کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ فرقوں کے ذریعےاللہ پاک نے اپنے محبو بﷺ کی سنتوں کو زندہ رکھنے کا سبب بنایا ہوا ہے اور غور کیا جائے تو ایسا ہی ہے کہ ہر فرقہ کسی ایک سنت پر سختی سے کاربند ہے اور یہی فرقوں کی اصل خوبصورتی ہے جسے ہم اپنے رویوں اور نفرتوں کے زہر سے فسادات کی بدصورتی میں تبدیل کر چکے ہیں کیا کبھی کوئی مرد آہن آئے گا جو ہمیں نفرتوں کی اس دلدل سے نکال کراپنے عقائد دل میں رکھتے ہوئے دوسروں کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے اتفاق و محبت سے جینا سکھائے گا یا ہم یونہی اسلام کی خوبصورتی کو مسخ کرتے رہیں گے؟اسے تم اس طرح پوجو اسے تم اس طرح چاہو
وہی منزل وہی مقصد وہی مطلوب بن جائے
نہ مانگو اس سے کچھ اس کے سوا شرط وفا یہ ہے
وہ محبوب حقیقی اس طرح محبوب بن جائے