Baaghi TV

Tag: اثاثہ جات کیس

  • شہباز شریف اثاثہ جات کیس: ڈیلی میل اپنی بات پر قائم ،جواب عدالت میں جمع کرادیا

    شہباز شریف اثاثہ جات کیس: ڈیلی میل اپنی بات پر قائم ،جواب عدالت میں جمع کرادیا

    برطانوی اخبار ڈیلی میل شہباز شریف اور ان کے داماد سے متعلق چھپنے والی خبر پر قائم ہے اور اس نے شواہد عدالت میں جمع کرادیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی عدالت میں ڈیلی میل نے 49 صفحات پر مبنی جواب قومی احتساب بیورو (نیب) کے شہباز شریف پر دائر ریفرنس سے متعلق ہے ڈیلی میل کے جواب میں شہباز شریف، اُن کے خاندان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات اور شریف فیملی کے ملازمین کے بیانات شامل ہیں۔

    برطانوی اخبار نے اپنے جواب میں دبئی اور پاکستان میں بینکوں میں پیسے جمع کروانے والے درجنوں ملازمین کے نام شامل کیے ہیں۔

    ڈیلی میل کیس:شہباز شریف کے بارے میں سخت ریمارکس نہیں دینے چاہیں تھے:لندن ہائی کورٹ

    ڈیلی میل نے جواب میں کہا کہ شہباز شریف کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان کے اثاثوں میں نمایاں اضافہ ہوا اخبار نے شواہد میں رمضان شوگر ملز کا تذکرہ بھی کیا اور عدالت کو بتایا کہ مضمون چھاپنے سے پہلے شریف فیملی کا موقف لیا گیا۔

    ڈیلی میل کے مطابق ڈیوڈ روز نے دو بار سلیمان شہباز سے بات کی، مریم اورنگزیب اور اعظم تارڑ نے بھی جواب نہیں دیئے۔

    ڈیلی میل کی خبر، پوچھنا تھا مقدمہ کیلئے شہباز شریف نے لیگل ٹیم پیدل روانہ کی، شہباز گل

    ڈیلی میل نے شہباز شریف کے داماد علی عمران سے متعلق جواب بھی عدالت میں جمع کروایا دیا اور دعویٰ کیا کہ شہباز شریف اور اُن کے داماد سے متعلق شائع الزامات پر قائم ہیں، علی عمران کے اثاثے شریف فیملی میں شادی کے بعد بڑھے۔

    ڈیلی میل کیس: شہباز شریف نے لندن جانے کےلیےگھوڑا کرائے پر لے لیا

    واضح رہے کہ ڈیلی میل ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ شہباز شریف نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اپنے دورِ حکومت کے دوران زلزلہ متاثرین کی برطانوی امداد میں سے کچھ رقم شہباز شریف اور علی عمران یوسف نے غبن کیا اور منی لانڈرنگ سے بیرونِ ملک بھجوائی ہائی کورٹ کے جج سر میتھیو نکلائن نے ابتدائی سماعت میں مضمون کو انتہائی ہتک آمیز قرار دیا تھا۔

    شہباز شریف کو برطانوی صحافی نے ایک بار پھر کھری کھری سنا دیں

    مقدمہ دائر کرنے کے بعد اپنے وکیل کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ ‘یقین ہے کہ ہمیں عدالت سے انصاف ملے گا انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ میرے خلاف یہ آرٹیکل سیاسی مقاصد کے لیے لکھا گیا تھا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کی ہدایت پر جھوٹی خبر شائع کی گئی،عدالت میں حقائق سامنے لا کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دیں گے مقدمہ دائر ہونے کے بعد کوئنز بینچ ڈویژن نے اخبار اور صحافی کو نوٹس جاری کیا تھا۔

    شہباز شریف نے ڈیلی میل پر مقدمہ کی بجائے آئیں، بائیں، شائیں کا خط لکھ دیا، ڈاکٹر شہباز گل

  • پرویز مشرف اثاثہ جات کیس: نیب چیئرمین کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پرویز مشرف اثاثہ جات کیس: نیب چیئرمین کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پرویز مشرف اثاثہ جات کیس سے متعلق نیب چیئرمین کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) آمر صدر ریٹائر جنرل پرویز مشرف کے اپنے دور اقتدار میں مبینہ کرپشن کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے خلاف توہین عدالت کی سماعت پیر کو کرے گا۔

    پب جی گیم پر”پابندی”کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق چیف جسٹس آئی ایچ سی اطہر من اللہ اور جسٹس اعجاز اسحاق خان پر مشتمل بینچ کیس کی سماعت کرے گااسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 جنوری 2018 کو فیصلہ دیا تھا کہ نیب کرپشن کے الزامات میں ریٹائرڈ جنرلز کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

    اس فیصلے سے قومی احتساب بیورو کے آرڈیننس (این اے او) 1999 میں موجود تذبذب دور ہوگیا تھا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر شکایات کے باوجود بھی انسداد کرپشن کے نگران ہمیشہ آرمی کے ریٹائرڈ افسران کے خلاف کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔

    کراچی:ضلع وسطی میں 2 ماہ میں غیر قانونی تعمیرات ختم کرانے اورمتعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے…

    بینچ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل انعام الرحیم کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کررہا ہےجس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنے ذرائع آمدن سے زائد اثاثے ظاہر کیے ہیں درخواست میں نیب سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

    انعام الرحیم نے 9 سال قبل ان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب نے ریٹائرڈ جنرل پر لگائے گئے آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات تحقیقات شروع کی تھی، بعد ازاں 2013 میں بیورو نے انعام الرحیم کو آگاہ کیا کہ اختیارات کی کمی کی وجہ سے شکایت پر کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

    تاہم، فروری 2018 میں جاری کیے گئے تاریخی فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ’ بیورو کے پاس درخواست گزار کی شکایت پر غور کرنے کے کا اختیار موجود ہے اور غور و غوض کے بعد اگر یہ رائے سامنے آئے کہ آرڈیننس 1999 کے تحت بادی النظر جرم بنایا گیا ہے تو یہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تحقیقات کرتے ہوئے ضروری اقدامات اٹھائے۔

    ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پٹرول میں اضافے کا امکان

    درخواست گزار نے دلیل دی کہ جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر مملکت ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت اٹھائے گئے حلف کا غلط استعمال کیا۔

    جبکہ دسمبر 2019 میں پرویز مشرف کی قانونی ٹیم نے کہا تھا کہ پاک فوج کے سابق سربراہ کو ٹھیک طریقے سے سنا نہیں گیا اور انہیں انصاف نہیں ملا ہے۔
    جنرل پرویز مشرف کی قانونی ٹیم کی جانب سے سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے مقدمے میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا ہائی ٹریزن کے حوالے سے دو قوانین موجود ہیں جن کو ٹھیک طریقے سے مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 77 سال کی عمر میں سابق صدر کی عدم موجودگی میں اچانک فیصلہ آیا۔سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ کبھی جنرل پرویز مشرف کو اشتہاری بنایا گیا اور کبھی کیس کھولے گئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر جنرل پرویز مشرف کو سنا جاتا تو ایسا فیصلہ نہ آتا خیال رہے کہ سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دیا گیا تھاعدالت نے آئین سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر مختصر فیصلہ سنایا تھا-

    بلدیاتی بل میں ترمیم:وزیراعلی سندھ نےکابینہ اجلاس طلب کر لیا