Baaghi TV

Tag: اثاثے

  • بھارت: دنیا کے امیر ترین مندرکے کتنی دولت؟ ٹرسٹ نے 100 سال بعد اثاثے ظاہر کر دیئے

    بھارت: دنیا کے امیر ترین مندرکے کتنی دولت؟ ٹرسٹ نے 100 سال بعد اثاثے ظاہر کر دیئے

    نئی دہلی: دنیا کے امیر ترین مندر کے ٹرسٹ نے تقریباً 100 سال کے بعد اپنے اثاثے ظاہر کر دیئے-

    باغی ٹی وی : بی بی سی نے بھارت کی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ مندر کے ٹرسٹ نے تقریباً 100 سال کے بعد اپنے اثاثے ظاہر کیے ہیں جس کے تحت مندر کا 125 ارب روپیہ اور 10 ٹن سونا بینکوں میں موجود ہے جب کہ 300 ارب روپے کی نقد رقم بھی مندر کے پاس ہے اثاثوں کی مالیت کے لحاظ سے یہ دنیا کا امیر ترین مندر قرار دیا جا رہا ہے۔

    قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کی پُراسرار گرفتاری

    دنیا کا امیر مندر بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں موجود ہے جسے تروپتی مندر کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے عقیدت مندوں کی جانب سے مندروں میں کھانے پینے کی اشیا سے لے کر روپے پیسے، قیمتی زیورات اور سونا چاندی بطور نذرانے پیش کیے جاتے ہیں۔

    اخبار کے مطابق مندر کے تروملا تروپتی دیوستھانم (ٹی ٹی ڈی) ٹرسٹ نے بتایا ہے کہ اس کے پاس 10.3 ٹن سونا اور بینکوں میں 5,300 کروڑ روپے ہیں 2019 میں اس کے مختلف بینکوں میں 13,025 کروڑ روپے کے فکسڈ ڈیپازٹ تھے جو اب بڑھ کر 15,938 کروڑ روپے ہو گئے ہیں مندر کی پورے ملک میں 960 پراپرٹیز ہیں جب کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران اس سرمایہ کاری میں 2,900 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    بھارتی خبررساں ادارے دی منٹ کے مطابق تروپتی مندر کی کل مالیت 30 ارب امریکی ڈالرز ہے جو بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی وپرو، کھانے و مشروبات کی کمپنی نیسلے اور تیل کی سرکاری کمپنی سے زیادہ ہے مندر کے ٹی ٹی ڈی ٹرسٹ کا قیام سنہ 1933 میں عمل میں آیا تھا اور اس کے بعد سے اس نے پہلی بار اپنی دولت کی تفصیلات پیش کی ہیں۔

    بابا گرونانک کے 553 ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات گرودوارہ جنم استھان میں جاری…

    مندر کے ایک اہلکار نے دی منٹ کو بتایا کہ ٹی ٹی ڈی امیر سے امیر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ پہاڑ پر قائم اس مندر میں عقیدت مندوں کی طرف سے نقد اور سونے کی پیشکش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ شرح سود میں اضافے کے باعث بینکوں میں جمع فکسڈ ڈپازٹ سے بھی زیادہ آمدنی ہو رہی ہے۔

    ٹی ٹی ڈی آندھرا پردیش، تمل ناڈو، تلنگانہ، اڈیشہ، ہریانہ، مہاراشٹر اور نئی دہلی میں بڑی تعداد میں مندروں کے انتظام کی نگرانی بھی کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ 2011 میں بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں سولہویں صدی کے ایک مندر کے تہہ خانے سے اربوں روپے کی مالیت کے ہیرے اور جواہرات دریافت ہوئے تھے، پدمنابھا سوامی نامی یہ مندر ریاست کے دارالحکومت ترووننتھا پورم میں واقع ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مندر کے چار تہہ خانوں میں سے دو 130 سالوں سے نہیں کھولے گئے تھے لیکن سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد سات افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نے اندر جا کر نوادرات کا جائزہ لیا تھا لیکن بھارتی حکام کی جانب سے مندر میں موجود نوادرات کی مالیت کی بابت کچھ نہیں بتایا گیا ہے مگر اطلاعات کے تحت مندر کے اندر تقریباً 25 ارب روپے کے قیمتی ہیرے جواہرات موجود ہیں۔

    ٹوئٹر نے بھارت میں 90 فیصد سے زائد عملے کو نوکری سے فارغ کر دیا

  • امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل کرنے کا اعلان

    امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل کرنے کا اعلان

    امریکا نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ایک نئے سوئس ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالر منتقل کیا جائے گا جو طالبان کے زیر کنٹرول نہیں ہوں گے، جس سے گرتی ہوئی تباہ حال معیشت مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ٹرسٹیز بورڈ کے ماتحت افغان فنڈ سے ملک بجلی جیسی اہم درآمدات کی ادائیگی کر سکتا ہے، اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں کو قرض کی ادائیگی، ترقیاتی امداد کے لیے افغانستان کی اہلیت کا تحفظ اور نئی کرنسی کی پرنٹنگ کے لیے بھی فنڈز فراہم کر سکتا ہے۔

    برطانیہ میں مہنگائی 14 سال کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

    امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان فنڈ کو محفوظ رکھا جائے گا اور مخصوص 3.5 ارب ڈالر کا اجرا ملکی معیشت میں زیادہ سے زیادہ استحکام لانے کے لیے مددگار ہو گا۔

    امریکی حکام نے کہا کہ افغان مرکزی بینک میں اس وقت تک رقم منتقل نہیں کی جائے گی جسے ڈی اے بی کہا جاتا ہے جب تک اس میں سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوتی، جہاں بینک کے اعلیٰ طالبان عہدیداروں کے حوالے سے سفارتی تعطل بھی پیدا ہوا تھا کیونکہ ان میں سے دو عہدیدار ایسے ہیں، جن پر اقوام متحدہ اور امریکا کی پابندی عائد ہے اور منی لانڈرنگ کے خلاف حفاظتی اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔

    امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے مرکزی بینک کے سپریم کونسل کو ایک خط میں لکھا کہ جب تک شرائط مکمل نہیں کی جاتیں ڈی اے بی (افغان سینٹرل بینک) میں فنڈ منتقل کرنا ناقابل فہم خطرہ ہوگا اور افغان عوام کی مدد خطرے میں پڑے گی۔

    ڈی اے بی نے کہا کہ مرکزی بینک کے ذخائر افغان عوام کے ہیں اور ان کا مقصد کرنسی کے استحکام، مالیاتی نظام کی مضبوطی اور بین الاقوامی تجارت میں سہولت فراہم کرنا ہے –

    ڈی اے بی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر متعلقہ اہداف کے لیے ذخائر کی تفویض، استعمال یا منتقلی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ڈی اے بی کے لیے ناقابل قبول ہے۔

    اسکاٹ لینڈ میں شہنشاہیت کے خلاف مظاہرے، جمہوریت کا پول کھل گیا

    جنیوا میں قائم نیا فنڈ کا اکاؤنٹ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) میں ہے اور یہ فنڈ مرکزی بینکوں کو مالی خدمات فراہم کرتا ہے۔

    بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی آئی ایس افغانستان کے لوگوں کے لیے فنڈ کے ساتھ صارفین کے تحت تعلقات بنا رہا ہے، جس کا کردار فنڈ کے انتظام یا فیصلہ سازی میں شامل کیے بغیر فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کو بینکنگ خدمات فراہم کرنے اور ان پر عمل درآمد تک محدود ہے اور وہ تمام قابل اطلاق پابندیوں اور ضوابط کی تعمیل کرے گا۔

    سوئس حکومت نے کہا کہ وہ اس فاؤنڈیشن کی حمایت کرے گی جس نے واشنگٹن کو مالیاتی اور ترقیاتی مہارت فراہم کرکے قائم کرنے میں مدد کی تھی۔ اس نے وزارت خارجہ کی اہلکار الیگزینڈرا بومن کو بورڈ کی نمائندہ نامزد کیا۔

    اقوام متحدہ کے مطابق اس فنڈ سے گرتی ہوئی معیشت کے سنگین مسائل حل نہیں ہوں گے سنگین معاشی اور انسانی بحرانوں کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ سردیوں کا موسم آنے کو ہے اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کے 4 کروڑ آبادی کا تقریباً نصف حصہ شدید بھوک اور افلاس کا شکار ہے۔

    طالبان کا سب سے بڑا مالی چیلنج مالی امداد کی تلافی کرنے کے لیے نیا سرمایہ پیدا کرنا ہے، جس پر حکومتی اخراجات کا 75 فیصد تک خرچ ہوتا جو کہ دو دہائیوں تک رہنے والی جنگ کے خاتمے پر امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد اگست 2021 میں کابل پر طالبان کی واپسی کے ساتھ ہی امریکا اور دیگر عطیہ دہندگان نے امداد روک دی تھی۔

    طالبان حکومت کا پنجشیر میں 40 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نئے فنڈ کے حوالے سے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی معیشت کو سنگین ساختی مسائل کا سامنا ہے جس میں طالبان کے قبضے کے بعد اضافہ ہوگیا ہے۔

    معاشی بحران کی وجوہات میں دہائیوں پر محیط جنگ، خشک سالی، عالمی وبا کورونا، بے تحاشا بدعنوانی، اور عالمی بینکوں سے افغانستان کے سینٹرل بینک کا منقطع ہونا شامل ہیں۔

    اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں کو بتایا کہ 3.5 بلین ڈالر ابھی نئے فنڈ میں جمع ہونا باقی ہیں، لیکن منتقلی "جلد سے جلد” ہو جائے گی۔

    نئے فنڈ کا قیام امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ، سوئٹززلینڈ اور دیگر فریقین کے درمیان مذاکرات کے دو مہینوں بعد عمل میں آیا ہے جہاں طالبان نے امریکا کی طرف سے منجمد کیے گئے 7 ارب ڈالر افغان مرکزی بینک میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

    یہ بات چیت کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو افغان طالبان کی طرف سے مبینہ طور پر پناہ دینے 31 جولائی کو ان کے کابل سیف ہاؤس پر سی آئی اے کے ڈرون حملےمیں مارے جانے پرامریکی غصے کے باوجود اور انسانی حقوق بالخصوص بچیوں کے سیکنڈری اسکول بند کرکے تعیلم کے حق سے محروم رکھنے پر عالمی برادری اور امریکی ناراضی کے باوجود بھی جاری رہی-

    رواں برس فروری میں امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانسان کے عوام کو سہولیات دینے کے لیے 3.5 ارب ڈالر نئے ٹرسٹ فنڈ میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    افغانستان کے دیگر 3.5 ارب ڈالر 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر حملوں کے حوالے طالبان کے خلاف جاری مقدمات پر خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ بقیہ رقم پر عدالت فیصلہ دے سکتی ہے جس کے بعد وہ نئے فنڈ میں منتقل کر دیے جائیں گے۔

    افغان مرکزی بینک کے دیگر 2 ارب ڈالر کے اثاثے یورپی اور اماراتی بینکوں میں منجمد ہیں اور وہ بھی اس نئے فنڈ میں منتقل کئے جا سکتے ہیں-

    امریکی حکام نے کہا کہ اس فنڈ کی نگرانی ایک بورڈ کرے گا جس میں امریکی حکومت کے نمائندے، سوئٹزرلینڈ میں امریکی سفیر اسکاٹ ملر، سوئس حکومت کے نمائندے، افغان مرکزی بینک کے سابق سربراہ اور سابق وزیر خزانہ انور احدی اور ایک امریکی ماہر تعلیم شاہ محرابی شامل ہیں جو ڈی اے بی سپریم کونسل میں شامل ہیں۔

    امریکی ریاست اوریگن کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو،86 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر…

  • امریکہ نے افغانستان کے اثاثے بحال کرنے سے انکار کردیا

    امریکہ نے افغانستان کے اثاثے بحال کرنے سے انکار کردیا

    امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر افغان سینٹرل بینک کے اثاثوں میں 7 بلین ڈالر جاری کرنے کی مخالفت کی اور فنڈز منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے پہلے مذاکرات میں پیش رفت دیکھنے کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی معطل کر دیے ہیں۔یہ فیصلہ جنگ زدہ ملک کے امریکہ میں مقیم اثاثوں سے متعلق ہے، جنہیں بائیڈن کی انتظامیہ نے گزشتہ سال افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد منجمد کر دیا تھا۔

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    وال سٹریٹ جنرل نے کہا کہ فنڈز جاری کرنے سے انکار "افغانستان میں معاشی بحالی کی امیدوں کو ایک دھچکا ہے کیونکہ لاکھوں افراد کو طالبان کی حکمرانی کے ایک سال تک فاقہ کشی کا سامنا ہے۔”

    ابھی پچھلے ہفتے ہی، امریکہ، برطانیہ اور پانچ دیگر ممالک کے 70 ممتاز ماہرین اقتصادیات اور ماہرین تعلیم کے ایک گروپ نے ایک کھلا خط جاری کیا جس میں واشنگٹن سے اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس میں "افغانستان میں رونما ہونے والی معاشی اور انسانی تباہی” اور امریکہ کے کردار کا حوالہ دیا گیا۔

    افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی: سابق سربراہ امریکی سینٹ کام

    افغانستان کے لیے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خصوصی نمائندے، تھامس ویسٹ نے ڈبلیو ایس جے کو بتایا، "ہم افغان سینٹرل بینک کی دوبارہ سرمایہ کاری کو قریب المدت آپشن کے طور پر نہیں دیکھتے،” انہوں نے مزید کہا، "ہمیں یقین نہیں ہے کہ اس ادارے کے پاس تحفظات ہیں اور ذمہ داری سے اثاثوں کا انتظام کرنے کے لیے جگہ جگہ نگرانی ضروری ہے

    افغانستان کے لیے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خصوصی نمائندے، تھامس ویسٹ نے مزید کہا کہ "یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو طالبان کی جانب سے پناہ دینے سے دہشت گرد گروپوں کو فنڈز کی منتقلی کے حوالے سے ہمارے گہرے خدشات کو تقویت ملتی ہے۔”ایک سال قبل طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد افغان مرکزی بینک کے تقریباً 10 بلین ڈالر کے اثاثے بیرون ملک منجمد کر دیے گئے تھے۔

    افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک سال مکمل،ری پبلکن پارٹی کی جوبائیڈن انتظامیہ

    امریکہ ان فنڈز کا بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے، تقریباً 7 بلین ڈالر، اور وہ افغانستان میں انسانی امداد کے لیے تقریباً 3.5 بلین ڈالر کی رہائی کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔ بائیڈن نے فروری میں ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے کہ بقیہ 3.5 بلین ڈالر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کے لیے فنڈ کے طور پر مختص کیے جائیں۔

  • مراد سعید کے پاس گھر نہیں، شہباز شریف بیٹے کے مقروض،بلاول کے اثاثے بھی سامنے آ گئے

    مراد سعید کے پاس گھر نہیں، شہباز شریف بیٹے کے مقروض،بلاول کے اثاثے بھی سامنے آ گئے

    مراد سعید کے پاس گھر نہیں، شہباز شریف بیٹے کے مقروض،بلاول کے اثاثے بھی سامنے آ گئے

    الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کے 2021 کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں

    وزیراعظم شہباز شریف 24 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، وزیراعظم شہباز شریف 14 کروڑ روپے سے زائد کے مقروض ہیں شہباز شریف نے سلمان شہباز سے 6 کروڑ روپےسے زائد کا قرض لے رکھا ہے، شہباز شریف کے پاس 2گاڑیاں، بینک بیلنس 2 کروڑروپے سے زائد کا ہے،شہباز شریف بیرون ملک 13 کروڑ 74 لاکھ روپے کے اثاثوں کے بھی مالک ہیں

    شہباز شریف نے بیویوں نصرت شہباز اور تہمینہ درانی کے اثاثے بھی ڈکلیئر کر دیئے، شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز 23 کروڑ روپے کے اثاثوں کی مالک ہیں شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کے اثاثوں کی ملکیت 57 لاکھ 60 ہزار ہےشہباز شریف کے اثاثوں میں 2020 کی نسبت 2021 میں 3 لاکھ روپے کی کمی آ ئی ،

    الیکشن کمیشن نے وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں وزیرخارجہ بلاول بھٹو ایک ارب 60 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں، بلاول بھٹو کے ذمہ 3 لاکھ 34 ہزارروپے واجب الادا ہیں بلاول بھٹو نے بیرون ملک اپنے کاروبار بھی ظاہر کیے بلاول بھٹو کا بینک بیلنس 12 کروڑ روپے سے زائد کا ہے،

    آصف علی زرداری 71 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں آصف زرداری کا بیرون ملک کوئی کاروبار نہیں ہے،

    پی ٹی آئی کے مراد سعید کا کوئی اپنا گھر نہیں، مراد سعید کے پاس ایک گاڑی اور 15 تولہ سونا ہے،مراد سعید کے اکاونٹس میں 29 لاکھ 63 ہزار سے زائد رقم ہے، عمر ایوب ایک ارب 19 کروڑ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں عمر ایوب کے ذمہ 11 لاکھ 55 ہزار روپے واجب الادا ہیں عمر ایوب نے بیرون ملک بزنس کی تفصیلات بھی جمع کرائیں،اسد قیصر ساڑھے 8 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک، ایک کروڑ 17 لاکھ سے زائد کے مقروض ہیں،سابق اسپیکر اسد قیصر کے پاس 6 کروڑ 72 لاکھ سے زائد کی جائیداد ہے اسد قیصر نے 58 لاکھ روپے کا بزنس ظاہر کیا ہے،اسد قیصر ایک گاڑی کے مالک، 96 لاکھ سے زائد رقم بینک بیلنس کے مالک ہیں

    پرویز خٹک 16 کروڑ 71 لاکھ کے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں،پرویز خٹک3 کروڑ روپے بینک بیلنس اور 2 کروڑ 56 لاکھ روپے کے مقروض ہیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کے 2021 کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں

  • عمران خان کے 2020 کی نسبت 2021 کے اثاثوں میں 6 کروڑروپے سے زائد کا اضافہ

    عمران خان کے 2020 کی نسبت 2021 کے اثاثوں میں 6 کروڑروپے سے زائد کا اضافہ

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کے 2021 کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں

    عمران خان کے 2020 کی نسبت 2021 کے اثاثوں میں 6 کروڑروپے سے زائد کا اضافہ ہوا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 14 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں ،عمران خان کے 2020 میں اثاثوں کی کل مالیت 8 کروڑ سے زائد تھی،عمران خان پر 2020 میں 7 کروڑ روپے سے زائد کا قرض تھا، 2020میں قرض کی رقم شامل کر کے اثاثوں کی مالیت 15 کروڑ روپے سے زائد تھی، 2021کےاثاثوں کے مطابق عمران خان کے ذمہ کچھ واجب الادا نہیں،عمران خان نے زمان پارک، میانوالی اور بھکر میں وراثتی زمین ظاہر کیں،

    چیئرمین تحریک انصاف نے بنی گالا گھر کو گفٹ ظاہر کیا ہے،عمران خان گرینڈ حیات اسلام آباد ٹاور میں ایک کروڑ 19 لاکھ روپے فلیٹ کے مالک ہیں عمران خان کا اندرون یا بیرون ملک کوئی کاروبار نہیں،نہ ہی کوئی ذاتی گاڑی ہے،عمران خان کا بینک بیلنس 6 کروڑ 3 لاکھ روپےسے زائد ہے، عمران خان کے 2 ڈالرز اکاونٹس میں 3 لاکھ 29 ہزار ڈالرز ہیں، عمران خان کے ذمہ 2020 میں 7 کروڑ روپے واجب الادا، 2021 میں کوئی قرض نہیں عمران خان نے گزشتہ سال کا 7 کروڑ روپے قرض ادا کر دیا

    عمران خان نے اثاثوں میں 2 لاکھ روپے مالیت کی 4 بکریاں بھی ظاہر کی ہیں،چیئرمین تحریک انصاف کے پاس 5 لاکھ مالیت کا فرنیچر ہے، عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جمع کرائی بشریٰ بی بی کے پاس 431 کینال کی پاکپتن میں دو مختلف زمینیں ہیں، بشریٰ بی بی بنی گالا اسلام آباد میں 3 کینال کے گھر کی مالک ہیں،

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • نیب ملازمین اور  انکے اہلخانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب

    نیب ملازمین اور انکے اہلخانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے قومی احتساب بیورو کے تمام سابق اور موجودہ ڈائریکٹرز، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب کے سابق چیئرمین کہتے رہے اب تک 820 ارب روپے ریکور کر چکے ہیں لیکن سیکرٹری خزانہ نے قومی خزانے میں 15 ارب روپے جمع کرائے جانے کی تصدیق کی ہے.

    قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ایک اکاؤنٹ میں ریکوری کا پیسہ ہوتا ہے، کسی فریق کا کیس فائنل ہونے تک پیسے آفس فنڈ میں رکھے جاتے ہیں، اب بھی بینک میں کچھ ارب روپے موجود ہیں، آڈٹ کرانے کو تیار ہیں جو پیسے نیب سے آئے ان کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو بھی ریکوری ہو جائیں، اس کا آڈٹ ہو گا۔

    آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ قومی خزانے میں نیب کی ریکورکردہ رقم کا 2، 3 فیصد ہی جاتاہے۔ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا ملک میں اتنی کرپشن ہوئی ہے کسی نے تو کی ہے، اوپرسے تو نہیں آئی؟ ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کے تما م موجودہ اور سابق ڈائریکٹرز ، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات ایک ماہ میں طلب کرلیں۔

    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہاکہ اب احتساب کا بھی احتساب ہوگا، نیب حکام کے زیر استعمال گاڑیوں اور مراعات کی تفصیلات بھی دی جائیں، نیب حکام کا تحفہ قبول کرنا بھی کرپشن ہے، کوئی افسر اخلاقی طور پر اچھا نہیں ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھاکہ نیب کیس ثابت نہ کرنے پر کسی سے معافی نہیں مانگتا۔

    کمیٹی کی جانب سے نیب ملازمین کو پرفارما بھر کر دینے کے معاملے پر ڈی جی نیب کراچی کی نور عالم خان سے بحث ہوئی ہے۔ ڈی جی نیب کراچی نے کہا کہ آپ جو پرفارما بھیجنے کا کہہ رہے ہیں وہ ملزمان سے تحقیقات کیلئے ہوتا ہے، افسران کی ذلت ہوگی اور ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ نور عالم نے کہاکہ نیب یہ پرفارما سیاست دان کو بھرنے کیلئے بھی کہتا ہے، کیا اس کی عزت نہیں؟

    پی اے سی کی نیب بننے سے اب تک نیب کے تمام ملازمین،ان کے ماں باپ اوربہن بھائیوں کے تمام اثاثہ جات کا آڈٹ کرنے کی ہدایت کی اور ایک ماہ میں نیب ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات سمیت تمام تفصیلات پی اے سی کوجمع کروانے اور میڈیا کے ذریعے پبلک کرانے کی بھی ہدایت کی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس 7 اب جولائی کو دوبارہ ہو گا۔

  • افغان اثاثے امریکیوں میں تقسیم کرنا”ڈاکے”سے کم نہیں‌

    افغان اثاثے امریکیوں میں تقسیم کرنا”ڈاکے”سے کم نہیں‌

    بیجنگ: افغان اثاثے امریکیوں میں تقسیم کرنا”ڈاکے”سے کم نہیں‌ ،اطلاعات کے مطابق چین نے افغانستان کے منجمد اثاثوں کو نائن الیون متاثرین میں تقسیم کرنے کے فیصلے کو ”ڈاکہ“ قرار دے دیا۔

    امریکیوں کے ہاتھوں افغانستان کے اثاثوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان چینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی اقدام شرمناک اور اخلاقی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔

    ادھر اسی حوالے سے چین نے کہا کہ امریکا افغانستان کے تمام اثاثے جلد از جلد بحال کرے، امریکا، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک کے عوام کا بھی ازالہ کرے جن کا امریکی فوجی کارروائیوں میں جانی نقصان ہوا۔

    خیال رہے کہ امریکا نے افغان منجمد اثاثوں میں سے 7 بلین ڈالرز ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 7 بلین ڈالرز میں سے 3.5 افغانستان میں انسانی امداد اور 3.5 بلین ڈالرز نائن الیون متاثرین کو دی جائے گی۔پاکستان نے بھی جو بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان کے تمام اثاثے فوری طور ہر بحال کیے جائیں۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعے کے روز ایک صدارتی حکمنامہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت امریکی بنکوں میں منجمد افغانستان کے سات بلین ڈالر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ افغانستان کے اندر انسانی بحران کے لیے رقم فراہم کی جا سکے اور نائن الیون کے دہشگردی کے واقعے کے متاثرین کی مالی اعانت کے لیے بھی فنڈ قائم کیا جا سکے۔ امریکہ میں تجزیہ کار اس پیش رفت کو مثبت قرار دے رہے ہیں جبکہ طالبان نے اس اقدام کو افغانستان کے پیسے کی چوری قرار دیا ہے۔

    صدر بائیڈن کی طرف سے جمعے کو جاری کردہ حکم نامے میں امریکہ کے مالیاتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے عوام کی امداد اور بنیادی ضروریات کے لیے 3.5 ارب ڈالر تک رسائی میں سہولت فراہم کریں۔ باقی کے 3.5 بلین ڈالر امریکہ کے اندر موجود رہیں گے اور اس رقم کو نائن الیون کے دہشتگرد حملے کے امریکی متاثرین کی طرف سے دائر مقدے میں ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    افغانستان کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ اور شورش زدہ ملک کے باہر کی دنیا میں زیادہ تر امریکہ کے اندر موجود اثاثے اس وقت منجمد کر دیے گئے تھے جب طالبان نے اگست میں کابل کا کنٹرول سنبھالا اور امریکی افواج کا انخلا عمل میں آیا تھا۔

    وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ یہ صدارتی حکمنامہ افغانستان کے عوام تک فنڈ کی ترسیل کے لیے ایک راستہ فراہم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور اس سے یہ رقوم ، بیان کے مطابق، طالبان کے بد نیت عناصر کے ہاتھوں سے دور رکھی جائیں گی۔

    افغانستان میں کووڈ نائنٹین کے پھیلاو کے سبب خراب ہوتی ہوئی صورتحال، صحت کی سہولیات کے فقدان اور خشک سالی اور قحط کے سبب عوام کی پریشانی اور مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    صدارتی حکم نامے کے اجرا سے پہلے انتظامیہ کے دو عہدیداروں نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نائین الیون کے دہشتگرد حملے کے متاثرین نے عدالت میں طالبان کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور انتظامیہ نے افغانستان کے اثاثوں میں شامل ساڑھے تین ارب ڈالر کا فنڈ اس لیے قائم کیا ہے کہ عدالت کی طرف سے اگر معاوضے کی ادائیگی کا حکم آتا ہے تو اس کے لیے ایک فنڈ پہلے قائم ہو۔

    طالبان نے صدر بائیڈن کے اس حکمنامے کو افغان عوام کے پیسے کی چوری قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ میں تھنک ٹینکس کے ساتھ وابستہ ماہرین فیصلے کو سراہ رہے ہیں کہ اس سے مشکلات سے دوچار افغانستان کے عوام کو فوری ریلیف دیا جا سکے گا۔

    فغانستان کے عوام کا وہ پیسہ چوری کرنا جو امریکہ کے اندر منجمد تھا ایک انتہائی ہیچ قدم ہوگا، جو کسی بھی ملک کی اخلاقی اور انسانی معیار سے گری ہوئی حرکت کے مترادف ہے۔ فتح اور شکست انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن کسی بھی ملک کے لیے بڑی اورہتک آمیزبات وہ ہوتی ہے جب وہ عسکری لحاظ سے ہی نہیں بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی مات کھا جائے ‘‘

  • منجمد اکاؤنٹس بحال:پی آئی اے سُکھ کا سانس لے لیا

    منجمد اکاؤنٹس بحال:پی آئی اے سُکھ کا سانس لے لیا

    اسلام آباد : منجمد اکاؤنٹس بحال:پی آئی اے سُکھ کا سانس لے لیا،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے قومی ایئرلائن کے منجمد کیے گئے اکاؤنٹس کو غیر منجمد کر دیا۔

    یہ پیش رفت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے سی ای او ارشد ملک کی چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

    سی ای او ارشدملک نے کہا کہ پی آئی اے نامساعدحالات کے باوجود واجبات ادائیگی کرتی رہےگی بقایاجات ادائیگی کیلئےحکومت سےکابینہ فیصلےکےتحت رہنمائی لی جائے گی۔سی ای او کی یقین دہانیوں پر ایف بی آر نے فوری اقدام کرتے ہوئے پی آئی اے کے منجمد کیے گئے اکاؤنٹس کو غیر منجمد کر دیا۔

    واضح رہے کہ ایف بی آر نے ٹیکٹس پر فیڈریل ایکسائز ڈیوٹی ادا نہ کرنے پر پی آئی اے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے تھے ایف بی آر ذرائع کے مطابق پی آئی اے نے پچھلے 2 سال سے ٹکٹ پر وصول کیے جانے والی ایف ای ڈی جمع نہیں کرائی۔

    ایف بی آر کی جانب سے قومی ایئر لائن کے اکاؤنٹس کی بندش پر ترجمان پی آئی اے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹیکس کی مطلوب رقم 2016 سے 2020 تک کی ہے، جب کہ اس ضمن میں کابینہ کا اصلاحات تک 2016 سے 2020 کی رقم منجمد رکھنے کا فیصلہ موجود ہے۔

    پی آئی اے ترجمان نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے اکاؤنٹ منجمد کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے فیصلے سے متضاد ہے، یہ فیصلہ پی آئی اے کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش ہے، اور یہ اقدام ادارے کی بین الاقوامی سطح پر بھی سبکی کا باعث بنے گا۔