Baaghi TV

Tag: احتجاج

  • دیپالپور: بیوی نے ساتھیوں کیساتھ ملکر خاوند کو قتل کردیا. جرم چھپانے کے لیے ڈرامہ رچایا جارہا ہے. لواحقین کا دعویٰ

    دیپالپور: بیوی نے ساتھیوں کیساتھ ملکر خاوند کو قتل کردیا. جرم چھپانے کے لیے ڈرامہ رچایا جارہا ہے. لواحقین کا دعویٰ

    اوکاڑہ(علی حسین) دیپالپور میں تاج کالونی کے رہائشی مظہر فرید کو اسکی بیوی عابدہ بی بی نے اپنے ہمسایے ساتھیوں فوجی لطیف اور نامعلوم افراد کیساتھ مل کر قتل کردیا. قتل گھریلو ناچاکی کی بنا پر کیا گیا. مذکورہ الزام مقتول مظہرفرید کے والد نے لگایا ہے. مقتول کے والد کے مطابق 18 مئی 2020 کو قتل کیا گیا اور ہمیں بتایا گیا کہ مقتول دماغ کی شریان پھٹ جانیکی وجہ سے فوت ہوا ہے جبکہ ہمارا جائے وقوعہ پر پہنچنے سے پہلے ہی مظہرفرید کی میت کو لالہ زار کالونی دیپالپور عابدہ بی بی کے میکے پہنچا دیا گیا. مقتول کے والد کے بقول اس کے بیٹے مظہر فرید کی کنپٹی پر سوجھن تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے جن سے خون بہہ رہا تھا.کرونا اور رمضان المبارک کی وجہ سے لوگوں کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوے اسی روز 18.05.2020 کو شام 07.30 بجے بغیر پوسٹ ماٹم کے ہی متوفی مظہرفرید کو دفنا دیا گیا. عابدہ بی بی اپنے شوہر کی میت پر ایک آنسو بھی نہ بہا سکی بلکہ تیسرے ہی دن گاؤں سے بغیر عدت گزارے اپنے میکے چلی گئ اور اس کے گلے پر ناخن کے نشانات دیکھے گئے. تو ہمیں یقین ہو گیا متوفی مظہر فرید کو قتل کیا گیا ہے. متوفی کی بیٹی مشال سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا جب میرے پاپا گرے تو میں اندر کمرے میں تھی میں باہر آئی تو میرے پاپا فوت ہوگئےتھے. خون آلود کپڑے ہمارا ہمسایہ فوجی ڈاکٹر اور میری والدہ تبدیل کر رہے تھے. تاج کالونی سے کپڑے بھی بچی مشال کی نشان دہی پر برآمد کر لئےگئے ہیں.جبکہ ہمسائے فوجی نامی شخص سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ 11سے 12 بجے دن میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑا تھا متوفی مظہر فریدنے اپنےگھر کے صحن سے مجھے ہاتھ ہلایا تو میں نے اس کا جواب دیا عین اس وقت اس کی شریان پھٹی اور گر گیا بچی مشال نے میرے گھر سے مجھے بلایا میں نے جا کر دیکھا تو وہ مر چکا تھا. ہم نے ایس .ایچ.او. تھانہ دیپالپور سٹی کودرخوست کی ہے اور اس کے ساتھ ہی قبر کشائی کے لئے درخواست علاقہ مجسٹریٹ دیپالپور کو بھی دی ہے تاکہ قبر کشائی کے بعد مزید حقیقت سامنے آ سکے. ملزمان قبر کشائی رکوانے کے لیے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں. میری وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب سے انصاف کی اپیل ہے ہم غریب لوگ ہیں ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے ہمیں انصاف دیلایا جاے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دیلای جاے تاکہ انصاف ہو سکے.

  • قصور میں ڈاکٹرز بھی میدان میں

    قصور میں ڈاکٹرز بھی میدان میں

    قصور میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس کا احتجاج شروع اوپی ڈی بند مریض پریشان
    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں احتجاج شروع گیا ہے جس میں کل لاہور میں ہوئی وکلاء گردی کے احتجاج میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن قصور اور پیرا میڈیکس نے وکلاء کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے ڈاکٹرز نے او پی ڈی کا مکمل بائیکاٹ کیا اور وکلاء کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کے وکلاء کا ہسپتال میں داخلہ بند کیا جائے اور وزیر صحت ڈاکٹر یسمین راشد استعفی دیں
    جبکہ مریض اور لواحقین سخت پریشان ہیں

  • راولپنڈی سلطان پورہ کے باسی کیوں سڑک پر آگئے جانیئے

    راولپنڈی سلطان پورہ کے باسی کیوں سڑک پر آگئے جانیئے

    راولپنڈی_ شہر کے ہر کونے سے پانی دوپانی دو کی سدا بلند ہو رہی ہیں واسا حکام اور منتخب نمائندے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں شدید گرمی کے موسم میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ان خیالات کا اظہار ظہیراحمداعوان چئیرمین سٹیزن ایکشن کیمٹی وراہنما تحریک انصاف نے سلطان پورہ کے دورے کے موقع پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے شہر میں پانی کی شدید قلت کے مسئلے پر احتجاجی دستخطی مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں تک شہریوں کی آواز پہنچانا ہے۔

    دور قدیم میں لوگ پانی کی وجہ سے نقل مکانی کرتے تھے جہاں پانی قریب ہوتا وہاں ڈیرے ڈالے جاتے تھے اب شہری گھر کرایہ یا خریدنے سے پہلے معلومات لیتے ہیں کہ اس علاقے میں پانی کی قلت تو نہیں۔


    منتخب نمائندوں نے الیکشن میں بڑے بڑے حسین خواب دیکھائے تھے لیکن الیکشن جیتنے کے بعد زاتی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ہم چیف جسٹس آف پاکستان وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ راولپنڈی کے شہریوں کو بنیادی حقوق دلوائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لیں سکیں۔اس موقع پر حاجی اول خان صدر سلطان پورہ ویلفیر سوسائٹی،بابرزمان قریشی کونسلر،حاجی نصیر بھٹی کونسلر،اصلاح الدین خان صدر انصاف ورکرز اتحاد،حاجی منان خان،لیاقت خان شینواری نے بھی خطاب کیا۔

  • جنیوا میں اقوام متحدہ کے سامنے کشمیریوں کا بڑا مظاہرہ

    جنیوا میں اقوام متحدہ کے سامنے کشمیریوں کا بڑا مظاہرہ

    جنیوا- (نمائندہ خصوصی) یورپ بھر میں بسنے والی کشمیری کمیونٹی کا سینکڑوں کی تعداد میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے سامنے کشمیر میں انڈیا کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔

    تفصیلات کے مطابق جنیوا سوئیزرلینڈ کے شہر جنیوا میں سینکڑوں یورپین کشمیری شہری اور مختلف کشمیری تنظیموں کے رہنماء اقوام متحدہ کے سامنے جمع ہوئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا. کشمیریوں کا اقوام متحدہ کے سامنے مظاہرے میں انسانی حقوق کے علمبردار اقوام متحدہ سے مطالبہ کہ کشمیریوں کو انڈیا کی دہشت گردی سے آزاد کروایاجائے اور کشمیر میں جو ظلم انڈین فوج نہتے کشمیریوں پر کر رہی ہے اسکو رُکوایا جائے.

    کشمیری رہنماؤں نے مزید کہا اگر اقوام متحدہ کشمیر میں انڈین دہشت گردی کو نہیں روک رہی جس کی وجہ سے کشمیری نوجوان اپنے حقوق کے لیےبندوق اٹھا کر تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔احتجاجی مظاہرے میں شریک لوگوں نے انڈیا کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر آزادی کشمیر کی تحریریں آویزاں تھی اور اقوام متحدہ کے مردہ ضمیر جگانے کے لئے مظاہرہ دو گھنٹے تک جاری رہا.

    احتجاجی مظاہرے میں شریک کشمیریوں نے پاکستان کے پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے اور مظاہرے کے شرکا کشمیر بنے گا پاکستان اور بھارت مخالف نعرے بلند کرتے رہے۔کشمیری رہنماؤں کا اپنے خطابات میں مزید کہنا تھا آزادی کشمیر تک ہم ہر فورم اور ہر سطح پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف دلاتے رہیں گے.

  • بلا عنوان ۔۔۔ محمد ساجد

    بلا عنوان ۔۔۔ محمد ساجد

    کچھ دنوں سے مختلف ممالک( امریکہ، جرمنی، آسٹریلیا) میں احتجاج ہو رہا ہے۔ جن میں خڑ کمر، وزیرستان میں فوج اور پی ٹی ایم کے جوانوں کے درمیان جھڑپ میں جاں بحق ہونے والے ‘معصوم افراد’ کیلئے انصاف کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو اسلحہ تک اٹھانے کی طیش دی جا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ ‘لر او بر یو افغان’ کے نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان احتجاجوں میں کثیر تعداد افغانستان کے پشتونوں کی ہوتی ہیں۔ جو کہ ان کہ بولنے کے انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ فوجی جوان بھی اس واقعے میں رحلت کر گئے ہیں وہ کسی کے دم کرنے سے، کوئی جادوئی کلمات پڑھنے سے یا صرف ‘معصوم افراد’ کی لعن طعن والی احتجاج سے اپنی سانسوں پر قابو نہ رکھ پائے۔ کیا مومن، شہریت اور انسانی حقوق کے اعلی درجوں پر صرف ‘معصوم لوگ’ ہی فائز تھےکہ صرف ان کے لیے احتجاج جائز ہے؟ کیا اس دوران ‘معصوم افراد’ کی معصومانہ ذہنیت کو تشدد کی ترغیب کی بجائے کتاب یا سپارہ کی تلقین نہیں کی جاسکتی تھی؟
    سچائی کے حوالے سے لفظ ‘معصوم’ کی تعریف ‘مخلص’ بنتی ہیں کہ جس نے اپنے اندر کے ڈوئلٹی کو روک رکھا ہو، اسے ختم کر دیا ہو، اندر کے ہر باطل کو مٹا دیا ہو، اندر کا ہر پوشیدہ منکشف کر دیا ہو، ہر باطن ظاہر کر دیا ہو اور اپنے اندر کے ہر پر تشدد اجتماع کو روک رکھا ہو۔
    اج کل پشتون پیشہ ور سیاسی لیڈران نوجوان نسل کو تاریخ دیکھنے کی تلقین کرتے کرتے نہیں تھکتے اور بیانیہ ہوتا ہے کہ پشتون کو فلاں جگہ استعمال کیا گیا، فلاں جگہ پشتون کے حقوق چھینے گئے۔ فلاں سن میں پشتونوں کو مذہب اور بہادری کے نام پر استعمال کیا گیا۔ پھر جب نوجوان پشتون نسل نے تاریخ دیکھنا شروع کی تو ان کو پتہ چلا 1979 سے آگے کی بھی تاریخ خصوصا پاکستان اور افغانستان کی۔ پاکستان میں "پختونستان” کے علمبرداروں میں ایک ریڈیکل نیشنلسٹ محمود خان اچکزئی آج تک "پختونستان” کے خدوحال اور مستقبل بیان نہیں کر سکا کہ پختونستان کا تصور ایک الگ صوبہ کا ہے یا ایک الگ خودمختار ریاست کا۔ محمود خان خود پانچ ہزار سال سے پشتون ہیں انہوں نے ان پشتونوں کیلئے جو بھارت اور بخارا سمرقند میں رہائش پزیر ہیں، کیا اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں پشتون جو محنت مزدوری اور تعلیم کی غرض سے دنیا میں پھیلے ہیں ان کے حقوق کیلئے اب تک کیا کامیابیاں حاصل کیں ہیں؟
    افغانستان، پاکستان تعلقات پر از سر نو نظر ثانی کی جائے تو علاوہ طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت کے، باوجود دو مسلمان پڑوسی ہونے کے، دونوں ریاستوں کے معاملات کھبی صحیح موڑ پر نہیں آئے ہیں۔ بنیادی طور پر ستر سال سے افغانستان حکمران کے ذہنیت پر اہمیت کے حامل دو وہم سوار ہو چکے ہیں۔
    پہلا یہ کہ پاکستان ایک کمزور ریاست ہیں، جو کھبی مستحکم نہیں ہو سکتی، آج یا کل ٹوٹنے والی ہیں۔ افغان حکمران اس وہم کو سچ سمجھتے آرہے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کے ٹوٹنے سے پہلے افغانستان کو کچھ متعین کردہ علاقوں پر دھاوا بول کر اس پر ایک عوامی رائے ہموار کرنی چاہیے۔ تاکہ بوقت توڑ پھوڑ ان علاقوں پر قابض ہوا جاسکے۔ اسی وہمی سوچ کے تحت ایک تصوراتی نام "پختونستان” تشکیل دیا گیا۔ اس پلان کی تشکیل کے لئے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ثبوت 1947 سے 1979 کی تاریخ کے اوراق پر نمایاں طور پر موجود ہیں۔ کنگ محمد ظاہر شاہ سے لے کر خفیط اللہ آمین تک سب پختونستان کی سیاست کرکے افغانستان پر حکمران رہے ہیں اور ایک دوسرے کا تختہ الٹنے کی بھی یہی وجہ بتاتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کسی فورم پر افغانستان حکمرانوں کو اس مسئلے پر مدعو کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو افغان حکومت نے ٹال مٹول کا مظاہرہ کیا ہے۔
    دوسرا یہ کہ برصغیر کی تقیسیم کے دوران جو دو ریاستیں واقع پزیر ہوئیں دونوں کے سیاسی نظام کی بنیاد عوامی جمہوریت کو رکھا گیا۔ افغانستان کے سیاسی خدوخال اس کے بالکل برعکس تھے۔ اس وقت افغانستان میں آٹوکریسی(autocracy) تھی۔افغانستان کے ہر اس دور کے آٹوکریٹ کی ذاتی فوج ہوتی تھی ۔وار لاڈزم کا بول بالا ہوتا تھا۔ مرکزی حکومت کمزور چلی آ رہی تھی۔ ان خاندانوں کی اکثریت پشتون نسل میں ہی رہی ہے۔ لہذا افغانستان نے، جو کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہی برطانوی ایمپائر کی امداد پر چل رہا تھا، پاکستان کے قیام کو اپنے لیے مسائل میں اضافہ تصور کیا۔ کیونکہ افغانستان میں پشتون حکمران کے لیے جمہوری نظام کسی خطرے سے کم نہیں تھا۔
    عین اس وقت جب مسائل اپنی شدت کے باوجود ایک موڑ لے رہے تھے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات تعلیم، صحت اور رہائش کی بحالی کا کام جاری تھا ایک علاقائی لسانی گروپ نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا اور بنا کسی معاش کے، بنا کسی سوچ و بچار کے معجزاتی طور پر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر مفلوج کر کے رکھ دیا۔ جی ہاں انہوں نے اپنا نام پشتون تحفظ تحریک رکھ دیا، اور کہا گیا کہ یہ پشتونوں کے حقوق کا تخفظ کریں گے۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پشتون استعمال ہوئے یہ ان کا حق ریاست سے مانگتے ہیں لیکن ریاست کے ساتھ بات چیت کے میز پر آنے کے لیے اپنا اصولی موقف واضح نہیں اور جبر یہ کہ نعرے بازی فوج، اس کے ‘موجودہ’ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے خلاف کرتے ہیں۔ خود کو غیر سیاسی تنظیم بتایا کرتے ہیں لیکن کثیر اوقات کی ملاقاتیں، تعلقات اور لوبنگ بہادر راؤ انوار کے ابو کے اصلی بیٹے، ‘جاگ پنجابی جاگ’ کی چہیتی اور ‘لر و بر’ کے ہیروز کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کیا وجہ ہیں کہ افغانستان کے تعلیم یافتہ پشتون بیرون ممالک میں اس تحریک کے حق میں پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوگئے جبکہ اپنے اصل قابض دشمنوں کے سامنے چپ سادھ لی۔ ایسا کیوں ہوتا ہیں کہ اگر کوئی پشتون فوجی افغان بارڈر پر مارا جاتا ہیں تو ان کے حق کے لیے افغانستان ریاست یا ان کی فوج کے خلاف کسی بھی ملک میں کوئی پشتون ان کے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کرتا۔ افغان حکومت نے آج تک کتنے پشتونوں کو قتل کیا ہے، اغواء کیا ہیں کوئی پشتون تحریک کا راہنما یا خود افغانستان کے پشتون اپنی حکومت وقت سے سوال کرکے ان کے خلاف کیوں نہیں اٹھتے؟
    ان سوالوں کے جوابات انتہائی سادہ اور آسان ہیں جوکہ اس تحریک کے ‘پاکستانی رہنماؤں’ کو اس وطن کے باقی پشتونوں کو دینے میں دیر ہو رہی ہے۔