Baaghi TV

Tag: احتجاج

  • ایسا علاج ہو گا کہ دوبارہ اسلام آباد کا نام نہیں لیں گے،حنا پرویز بٹ

    ایسا علاج ہو گا کہ دوبارہ اسلام آباد کا نام نہیں لیں گے،حنا پرویز بٹ

    مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے پی ٹی آئی کے حوالے سے ایک سخت بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اس بار پی ٹی آئی کا ایسا علاج کیا جائے گا کہ وہ دوبارہ کبھی اسلام آباد کا رخ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گی۔

    اپنے بیان میں حنا پرویز بٹ نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "یہ جماعت ہر بار جب کوئی غیر ملکی سربراہ پاکستان آنے والا ہوتا ہے، اپنے سیاسی تھیٹر کا آغاز کر دیتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں بھی رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔” پی ٹی آئی کا طرزِ سیاست ملکی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ جماعت صرف افراتفری اور انتشار پیدا کرنے کی سیاست کرتی ہے۔ حنا پرویز بٹ کے مطابق، پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی اور رویے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جماعت پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے۔

    حنا پرویزبٹ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور دیگر حکومتی جماعتیں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کو ایک "غیر ذمہ دارانہ” عمل قرار دے رہی ہیں۔حنا پرویز بٹ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے خلاف سخت حکمت عملی اپنانے کے لیے تیار ہے تاکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • امن و امان  خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    امن و امان خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ،وزیر داخلہ کا پولیس کو حکم

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والےکسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے علی الصبح پولیس لائنز اسلام آباد کا دورہ کیا اور قیام امن کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانفشانی کی تعریف کی،اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس، چیف کمشنر، ڈی آئی جی اور پولیس افسران کی بڑی تعداد بھی پولیس لائنز میں موجود تھی،پولیس لائنز میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کل بیلاروس کا وفد اور 25 نومبر کو بیلاروس کے صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، دورے کے پیش نظر اسلام آباد کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہے، پولیس فورس نے ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرنا ہے اور امن کو یقینی بنانا ہے، اسلام آباد کے امن و امان کو خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ہے، اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا،ہمیں آپ اور آپ کی زندگیاں بہت عزیز ہیں، دوران ڈیوٹی تمام حفاظتی سامان پہننا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں، پولیس فورس نے ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس پہن کر فرائض سرانجام دینے ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کسی کو اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے، امن و امان کو قائم رکھنے اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا ہے

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پہلا رابطہ ہوا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے موجودہ صورتحال پر گفتگو کی،محسن نقوی نے کہا، کسی جلوس،دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔بیلا روس کا وفد آ رہا ہے،محسن نقوی کے رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ پارٹی مشاورت کے بعد آپ کو حتمی رائے سے آگاہ کروں گا۔باخبر ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے تحریک انصاف کل ڈی چوک میں احتجاج پر بضد ہے،حکومت نےایف نائن، سنگجانی میں احتجاج اور دھرنے کی پیشکش کی ہے،تاہم پی ٹی آئی نے انکار کر دیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد کب داخل ہونا؟ پروگرام طے ہو گیا
    پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔ قیادت کے ساتھ علیمہ خان، عظمیٰ خان، اور رانی خان بھی موجود ہوں گی۔

    تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کا اہم اجلاس ہوا، جس کی علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے صدارت کی،اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج ہر صورت ہوگا، ڈی چوک پر دھرنا ہوگا، تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی، اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 22اور 23 نومبر کی درمیانی رات کو منعقد ہوا، اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق ہماری پُرامن احتجاجی تحریک کا آغاز مورخہ 24 نومبر کو پاکستان بھر کے ہر شہر سے ہو گا،قافلے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرینگے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں کر لئے جاتے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ پاکستان بھر میں بے گناہ قید پارٹی کے لیڈران، کارکنان اور عمران خان کی رہائی ، 26 ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ، 8 فروری کے الیکشن کے حقیقی مینڈیٹ کی بحالی،پولیٹیکل کمیٹی نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اوردہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس بھی لیا اور معاملات کے فوری حل کے زمرے میں حکومتی بے حسی اور بے بسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،پولیٹیکل کمیٹی نے پارٹی کے کارکنان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کی کہ وہ پر امن احتجاج میں جوق در جوق شرکت کر کے اسے کامیاب بنائیں۔ تاکہ پاکستان میں آئین اور قانون کے مطابق جمہوری دور کا آغاز ہو سکے۔ ریاست کے عوام کا اعتماد بحال ہو اور ایک بہتر مستقبل کی نوید سنائی دے۔

    موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات
    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج ،وزارت داخلہ نے موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات پی ٹی اے کو صادر کر دیئے،میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ہی وزارت داخلہ سے خط موصول ہوگیا تھا،آج موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق ہے،فی الحال صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اتوار کو موبائل، انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کا احکامات دیئے جائینگے، ذرائع پی ٹی اے

    سابق صدر عارف علوی کی تقریر
    پشاور میں سابق صدر عارف علوی نے پی ٹی آئی کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر پاکستانی کے دل میں ایک امید کی طرح دھڑک رہے ہیں، اور ان کی محبت عوام کے دل سے ختم کرنا ناممکن ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد آئین، قانون، اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے اور وہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

    موٹرویز اور ٹرانسپورٹ کی بندش
    ملک کی مختلف موٹرویز بشمول پشاور-اسلام آباد اور لاہور-اسلام آباد کو مرمت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق یہ بندش 23 نومبر کی رات 8 بجے سے نافذ ہوگی۔ لاہور کی رنگ روڈ کو بھی 2 دن کے لیے احتجاج کے پیش نظر صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    عوامی مشکلات
    ٹرانسپورٹ اڈوں اور موٹرویز کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق روزانہ ایک لاکھ 30 ہزار افراد اسلام آباد آتے جاتے ہیں، اور بندش کے سبب مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہوگا۔ اسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی متاثر ہوگا، جس سے یومیہ 4 سے 5 کروڑ روپے کا نقصان متوقع ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک بند کر کے ہمارا احتجاج پہلے ہی کامیاب بنادیا ہے، وفاق اور پنجاب حکومت نے بوکھلاہٹ میں موٹروے اور شاہراہیں بند کردیں، پنجاب بھر میں دفعہ 144کا نفاذ، ہوٹلوں اور لاری اڈوں کی بندش ثبوت ہے کہ حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ ہم ابھی 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریوں کےمراحل میں ہیں، حکومت نے ملک بند کرکے ہمارااحتجاج خود ہی کامیاب بنادیا۔ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، حکومت ملک بند کرکے عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ہیں، جیل میں قید ایک شخص نے احتجاج سے قبل ہی حکمرانوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    24 نومبر کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں میٹرو سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کے پیش نظر 23 نومبر کو میٹروبس سروس آئی جے پی تا پاک سیکرٹریٹ مکمل بند رہے گی تاہم راولپنڈی میں میٹروبس سروس بحال رہے گی،راولپنڈی صدر اسٹیشن تا فیض آباد تک میٹروبس سروس چلے گی البتہ 24 نومبر کو جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند رہے گی

    پی ٹی آئی احتجاج، لاہور،اسلام آباد،اہم شاہراہیں بند،کاروبار بند،شہریوں کو مشکلات
    پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، موٹرویز سمیت کئی اہم شاہراہیں بند کردی گئیں،راولپنڈی اور اسلام آباد کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاہور اور فیصل آباد سے وفاقی دارالحکومت کو آنے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں،اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں داخل ہونے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے،فیض آباد سمیت 6 مقامات کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، فیض آباد، آئی جے پی روڈ، روات ٹی چوک، کیرج فیکٹری، مندرہ اور ٹیکسلا روڈ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کچہری چوک کو یکطرفہ ٹریفک کے طور پر چلایا جائے گا،

    لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کرکے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ ، بابو صابو انٹر چینج ، سگیاں پل ، شاہدرہ چوک بھی بند کر دی گئی ہے جبکہ رنگ روڈ کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے،فیصل آباد شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں، موٹروے ایم 5، سکھر سے رحیم یار خان تک بند کر دی گئی ہے،اسلام آباد میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے رینجرز اور ایف سی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنےکی ہدایت کر دی ہے،اسلام آباد کے تمام تھانوں میں گرفتار افراد کو رکھنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ قیدی وینزبھی اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں،پنجاب بھر میں آج سے 25 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد رہے گی۔

    صدر، اے ٹی ڈبلیو اے بلو ایریا راجہ حسن اختر کا کہنا ہے کہ تمام بزنس کمیونٹی کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بلو ایریا میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حکم کے مطابق، تمام دکانیں، دفاتر، ریسٹورینٹس اور کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔دفعہ 144 نافذ ہے،صرف میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔تمام کاروباری افراد سے گزارش ہے کہ اپنے کاروبار بند رکھیں اور گھروں میں آرام کریں۔

    پی ٹی آئی نے احتجاج کے لیے اپوزیشن اتحاد سے کوئی رابطہ یا مشاورت نہیں کی،پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما نے اپوزیشن کی کسی بھی جماعت سے کوئی بات چیت نہیں کی،اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اسلام آباد سے واپس کوئٹہ روانہ ہو گئے،بی این پی سربراہ اختر مینگل دبئی میں ہیں، ان سے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، علامہ ناصر عباس بیرون ملک دورے کی وجہ سے احتجاج کا حصہ نہیں ہوں گے

    اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان احتجاج کے لیے پرعزم ،تیاریاں مکمل ہونے کا عندیہ دے دیا ،ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری مکمل تیاری ہے ہر صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے،میں اپنے حلقے میانوالی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچوں گا، ٹک ٹاکر حکومت نے ہمیشہ ہمارے پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی ہے، پانی پی ٹی ائی کی فائنل کال ہے کل پورا پاکستان اسلام آباد جائے گا ، میانوالی کی عوام تیار ہے ہمارے کچھ لوگ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں کچھ کل قافلوں کی صورت میں جائیں گے،حکومت جتنی مرضی رکاوٹیں کھڑی کر دے ہم رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام اباد پہنچیں گے،بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،

    عارف علوی کی کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل،بولے،تشدد ہمیشہ پولیس کرتی
    پی ٹی آئی رہنما ،سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کے اعلان اور تیاری کے حوالہ سے میری درخواست پوری قوم سے یہ ہے کہ پر امن رہیئے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے جلسے جلوسوں میں پر امن رہی ہے۔ تشدد ہمیشہ پولیس نے کیا۔ دنیا کی پچھلی صدی کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ پر امن عوام پر جب پولس آنسو گیس یا لاٹھی سے حملہ کرتی ہے تو پھر عوام ایسے ظالمانہ مار پیٹ کے بعد سنگ و خشت کا سہارا لیتے ہیں۔ تشدد کے بہانے “پرچم دروغ” کا استعمال ہم نے 9مئی کے دن دیکھا جس کے زہریلے انڈے اور بچے آج بھی نمودار ہو رہے ہیں۔پر امن رہیئے اور اللہ پر بھروسہ کریئے۔ وہی خدا ہے جو اس ملک کے محکوم و مظلوم عوام کو آزادی سے ہمکنار کرے گا۔ انشاللہ

  • احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہمیشہ سے واضح ہے، احتجاج بنیادی جمہوری حق ہے لیکن احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی،الجہاد کے نعرے الارمنگ ہیں، احتجاج کو احتجاج رہنا چاہئے، اجازت لیں اور پرامن احتجاج کریں، اپنے سپورٹر کویقین دلائیں کہ پرامن احتجاج ہو گالیکن جو الجہاد کے نعرے لگ رہے ہیں احتجاج کے نام پر ،یہ صورتحال صحیح نہیں ہے،ایک طرف جہاد کے نعرے،اس طرح کی صورتحال میں کھل کر بات کرنی چاہئے، ہم سب پاکستانی ہیں، سب کو امن عزیز ہے، سب کو ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرنا ہے، بیلا روس کے وفد نے پاکستان کا دورہ کرنا ہے، مذاکرات ،بات چیت اور مفاہمت سے ہی معاملات سلجھتے ہیں ، تحریک انصاف کو اپنے رویئے میں اعتدال اور بہتری لانے کی ضرورت ہے، اگر سیاسی جماعتوں کو سائیڈ پر رکھ کر کہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کریں گے تو یہ درست نہیں، عمران خان کی حکومت میں پارلیمان چلتا رہا، طریقہ کار یہی ہے کہ دلوں میں وسعت پیدا کریں، تنگی،انتشار نکال دیں،میرے علم میں مذاکرات کے بارے میں کچھ نہیں ہے، گفتگو، بات چیت یہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، پارلیمنٹ میں تحریک انصاف سمیت سب جماعتیں ساتھ بیٹھتی ہیں،گفتگو کرتے ہیں، کچھ چیزوں پر اتفاق ہوتا ہے، یہ واحد راستہ ہے، الجہاد کے نعرے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، اور حکومت سے اجازت نہیں لی، بشریٰ بی بی متحرک ہیں تو وہیں علی امین گنڈا پور بھی سرکاری وسائل ایک بار پھر احتجاج میں جھونکنے کے لئے تیار ہیں.

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پاکستان تحریک انصاف کو 24 نومبر کو ہونے والے احتجاجی مارچ کے لیے ایک بڑا دھچکا لگا ہے،  وفاقی وزارت داخلہ نے سخت اقدامات کرتے ہوئے سرکاری مشینری، سرکاری افرادی قوت، اور عوامی وسائل کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    وزارت داخلہ نے اس حوالے سے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو ایک باضابطہ مراسلہ جاری کیا ہے۔ مراسلے میں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے سرکاری وسائل کو احتجاجی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی مشینری، گاڑیاں، اور دیگر وسائل کو لانگ مارچ کے لیے فراہم نہ کریں۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو متحرک رہنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    تحریک انصاف اپنے احتجاجی مظاہروں کے لیے خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں سے کارکنوں کی بڑی تعداد کو متحرک کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، اس حکومتی اقدام کے بعد مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ماضی کی طرح اب بھی سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر لشکر کشی کا ارادہ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت کو خط لکھا ہے،اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف اس پابندی کے باوجود اپنے احتجاج کو کامیاب بنا سکے گی؟ یا حکومت کے اقدامات اسے کمزور کر دیں گے؟ آنے والے دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو احتجاج، 23 نومبر سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس جزوی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس اسلام آباد، کے پی اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں معطل کی جا سکتی ہے،پی ٹی اے کی جانب سے 22 نومبر سے موبائل انٹرنیٹ سروس پر فائر وال ایکٹیو کر دی جائے گی، فائر وال ایکٹیو ہونے سے انٹرنیٹ سروس سلو جبکہ سوشل میڈیا ایپز پر ویڈیوز، آڈیوز ڈؤان لوڈ نہیں ہو سکیں گی،احتجاج کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے کسی بھی وقت مخصوص مقامات پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کہتے ہیں کہ 24 نومبر احتجاج کےلئے ہم نے حکمت عملی تبدیل کی ہوئی ہے، پشاور، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ کے کارکن صوابی سے اسلام آباد جائیں گے، باقی اضلاع کے کارکن مختلف روٹس سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے

    علاوہ ازیں تحریکِ انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے خصوصی اسکواڈ تیارکیا ہے، اسکواڈ میں پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے 9 ہزار کارکنان شامل ہوں گے، صوبائی وزیر مینا خان اور معاونِ خصوصی سہیل آفریدی اس اسکواڈ کی قیادت کریں گے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پی ٹی آئی پشاور کے اجلاس میں اسکواڈ کو جہادی قرار دیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اسکواڈ سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خصوصی اسکواڈ مرکزی قافلے کے آگے ہو گا اور اس اسکواڈ کو شیلنگ سے بچاؤ کا سامان بھی دے دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے راولپنڈی میں کنٹینرز کا جال بچھا دیا گیا، دفعہ 144نافذ کی گئی ہے، راولپنڈی میں 26 نومبر تک دفعہ 144 نافذ، ہر قسم کے جلسے جلوس،ریلیوں اور 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، تو ہیں پی ٹی آئی جلسے کو روکنے کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد جانے سے روکنے کے لئے راولپنڈی کو 50 مختلف مکامات سے بند کرنے منصوبہ بنا لیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر پولیس اہلکار نے تصدیق کی کہ راولپنڈی کو 50 پوائنٹس سے مال بردار کنٹینرز، اور خاردار تاروں سے سیل کر دیا جائے گا کیونکہ ایلیٹ فورس کے کمانڈوز سمیت ضلعی پولیس کو تعینات کیا جائے گا اور کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    علاوہ ازیں وزارت داخلہ پاکستان نے چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ 24 نومبر کے احتجاج میں کوئی بھی سرکاری مشینری، لوگ یا پیسہ استعمال نہیں ہو گا

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ کل عمران خان کو ریلیف ملا ہے،باقی کیسز میں بھی ملے گا،قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے اور ریلیف مل جائے گا،پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، باقی کیسز میں بھی ریلیف ملے گا،

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • زیادہ ورکرز جمع نہیں کر سکیں گے،قیادت کی عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست

    زیادہ ورکرز جمع نہیں کر سکیں گے،قیادت کی عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس لینےکی درخواست کی ہے۔

    با غی ٹی وی :ذرائع کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور گزشتہ روز مذاکرات کا پروپوزل لے کر اڈیالہ جیل پہنچے،بانی پی ٹی آئی نے پروپوزل میں شامل کچھ چیزوں پر اعتراض اٹھایا بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کے پروپوزل پر مزید بات چیت کیلئے وقت مانگا ہے جبکہ مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے بانی پی ٹی آئی نے دونوں رہنماؤں کو گرین سگنل دے دیا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ آج کی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات میں پیشرفت سے آگاہ کیا گیا بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا مذاکرات کے عمل کو ابتدائی مرحلے میں حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیامذاکرات میں مزید پیشرفت کے بعد 24 نومبر کے احتجاج سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

    جبکہ بانی پی ٹی آئی نے آج ہونے والی ملاقات میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو بات چیت میں پہل کرنےکا حکم دیا، بیرسٹرگوہر اور علی امین گنڈاپور نے 24 نومبر کی کال واپس لینےکی درخواست کی، بیرسٹرگوہرکا مؤقف تھا کہ احتجاج سے ملکی معیشت کو نقصان ہوگا، حکومت سے بات کرنی چاہیے۔

    ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نےکہا کہ جتنا کریک ڈاؤن ہو رہا ہے زیادہ ورکرز کو جمع نہیں کرسکیں گےکریک ڈاؤن اور وسیع تر ملکی مفاد میں کال واپس لینی چاہیے،سردیوں کے باعث ورکرز کو دھرنے پر بٹھانےمیں مشکلات آسکتی ہیں، بیرسٹرگوہر نے عاطف خان اور علی امین کی لڑائی کی تفصیلات سے بھی عمران خان کو آگاہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کے لیے علی امین گنڈاپور کو ٹاسک دیا گیا ہے جب کہ حکومتی شخصیات سے روابط کے لیے بیرسٹرگوہر کو ٹاسک دے دیا گیا۔

    دوسری جانب بیرسٹرگوہر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں مذاکرات سے متعلق گفتگو کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت سے مذاکرات یا رابطوں سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی، ملاقات میں تمام گفتگو علی امین گنڈاپور نے کی، ہم نے احتجاج کی کال واپس لینےکی درخواست نہیں کی۔

  • خیبر پختونخوا حکومت کی کوششیں انتشار پھیلانے پر مبنی ہیں،شیری رحمان

    خیبر پختونخوا حکومت کی کوششیں انتشار پھیلانے پر مبنی ہیں،شیری رحمان

    پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے تحریک انصاف کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان آج بھی اداروں سے مذاکرات کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہ مذاکرات کی نہیں ڈیل کی درخواست ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اب تو عالمی اخبارات بھی لکھ رہے ہیں کہ عمران خان اداروں سے ڈیل چاہتے ہیں، پی ٹی آئی کا احتجاج پُرامن ہے تو اسلام آباد انتظامیہ سے اجازت کیوں نہیں لی گئی؟ الٹا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے، یہ کسی بھی حوالے سے پُرامن سیاسی احتجاج اور اجتماع کا ارادہ نہیں رکھتے،کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت ایک بار پھر اسلام آباد پر یلغار کی تیاری میں مصروف ہے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے،صوبے میں امن و ترقی کے بجائے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کوششیں انتشار پھیلانے پر مبنی ہیں۔

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

    ملتان ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک بار پھر انتشار اور تشدد کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے، پی ٹی آئی نے ابھی تک نومئی سے کچھ نہیں سیکھا، کیا اب بھی ان کو لگتا ہے کہ دھمکیوں، تشدد اور انتشار کی سیاست میں کوئی جگہ ہے، ہمارے قائدین نے بھی جیل کاٹی ہے، ہم نے کبھی یہ دھمکی نہیں دی کہ ہم جتھوں اور تشدد سے اپنے قائدین کو رہا کرائیں گے، اداروں نے ان سے بات کرنے سے انکار کیا تو یہ پھر دھونس دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔کیا تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں؟ ملزمان کو جتھوں کی مدد سے چھڑانے کی دھمکی سیاسی جماعتیں نہیں مسلح گروہ دیتے ہیں،

  • 24 نومبر احتجاج، پی ٹی آئی نے جڑوں شہروں کیلئے کمیٹی بنا دی

    24 نومبر احتجاج، پی ٹی آئی نے جڑوں شہروں کیلئے کمیٹی بنا دی

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جڑواں شہروں کے لیے کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کردی گئی

    اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے 12 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے،اسلام آباد سے عامر مغل، شیر افضل مروت ، شعیب شاہین ، سید علی بخاری ، قاضی تنویر اور ملک عامر کمیٹی میں شامل ہیں،راولپنڈی کی کوارڈینیشن کمیٹی میں سیمابیہ طاہر ، شہریار ریاض ، امیر افضل ، عقیل خان ، راجہ بشارت اور چوہدری اجمل صابر شامل ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف فردوس شمیم نقوی کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے،کمیٹی 24 نومبر کے احتجاج کے لئے قائم کی گئی ہے جو جڑواں شہروں میں احتجاج کے معاملات کو دیکھے گی

    دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے تیاریاں شروع کردیں،پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور چھٹی پرگئے اہلکار واپس بلا لیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے 8 ہزار پولیس اہلکار پنجاب، کشمیر اور سندھ سے مانگ لیے، پولیس کو آنسو گیس شیل، ربڑ کی گولیاں اور اینٹی رائٹ کٹس مہیا کر دی گئیں۔

    دوسرے صوبوں کے پولیس اہلکار 21 نومبر کی رات اسلام آباد رپورٹ کریں گے، وفاقی دارالحکومت میں رینجرز اور ایف سی اہلکار پہلے ہی تعینات ہیں، اسلام آباد کے گردونواح میں کنٹینرز پہنچانے کا کام شروع ہوگیا ہے-

    24 نومبراحتجاج: جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا،عمران خان

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • 24 نومبراحتجاج: جو  باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا،عمران خان

    24 نومبراحتجاج: جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا،عمران خان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے کہاہے کہ پارٹی میں کوئی کتنا ہی پرانا ہو جو 24 نومبر کے احتجاج کیلئے باہر نہ نکلا تو وہ پارٹی سے باہر ہوگا ۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کے مطابق بانی پی ٹی آئی نےکہا ہے کہ طاقتور حلقے جس کسی کو آگے کریں گے، پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کمیٹی ان سے تین مطالبات پر مذاکرات کرے گی کمیٹی تین مطالبات ‏26 ویں آئینی ترمیم کے خاتمے اور آئین کی بحالی کے علاوہ ‏مینڈیٹ کی واپسی اور ‏تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی پر بات کرے گی۔

    پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہےکہ عمران خان نےکہا ہےکہ اگر تمام مسائل مذاکرات سے حل ہوں تو اس سے اچھی کیا بات ہوگی، مطالبا ت کی منظوری تک احتجاج اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا ، 24 نومبرکا احتجاج نہ مؤخر ہوگا نہ معطل ہوگا، 24 نومبرکو جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائےگا، پارٹی میں چاہے کوئی کتنا بھی پرانا ہو باہر نہ نکلا تو اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

    واضح رہے کہ آج وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل جا کر 2 گھنٹے تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی تھی، ملاقات میں 24 نومبر کے احتجاج اور حکومت سے پی ٹی آئی کے مذاکرات پر بات کی گئی۔