Baaghi TV

Tag: احتجاج

  • بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا  کہا ہے،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا کہا ہے،علیمہ خان

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا ہی کہا ہے،انہوں نے علی امین گنڈا پور اور بیرسٹرگوہر کو مذاکرات کی اجازت دی ہے

    باغی ٹی وی: اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان کا کہنا تھاکہ آج بانی پی ٹی آئی سے طویل ملاقات ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور اور بیرسٹرگوہر کو مذاکرات کی اجازت دی ہے، انہوں نے دونوں رہنماؤں کواپنے مطالبات پرمذاکرات کی اجازت دی ہے بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کی اجازت مانگی ہے، 24 نومبر پاکستان کیلئے اہم دن ہے، 8فروری کی طرح 24 نومبر کو بھی نکلیں۔

    علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے ہمارا احتجاج پرُامن ہوگا، مینڈیٹ کی واپسی، کارکنوں، رہنماؤں کی رہائی اورجمہوریت کی بحالی کیلئے مذاکرات کاکہاگیا اور جمعرات تک کا وقت دیا ہے،چوری شدہ مینڈیٹ واپس ہوتاہےتو 24 نومبرکا احتجاج جشن میں تبدیل ہوجائےگا، بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا ہی کہا ہے، حکومت تو خود کہتی ہے اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، حکومت والے تو ٹی وی پرکہہ رہےہیں ہمارےہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔

    انہو ں نے کہا کہ جب جماعتوں نےکہہ دیا ہمارےہاتھ میں کچھ نہیں پھرانہیں سےمذاکرات کریں گےجن کے ہاتھ میں ہے، بانی پی ٹی آئی نے یہی کہا ہے پریکٹیکل چیز ہے اور حالات بھی اس وقت یہی ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے رہنماؤں نے 24 نومبر کو احتجاج کی کال پر کھل کر اختلاف کردیا پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پنجاب کے رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اراکین نے شکوے کیے کہ پشاور میں ہونے والا اجلاس پنجاب کا تھا مگر پنجاب کے رہنماؤں کو نظر انداز کیا گیا، علی امین گنڈا پور نے حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کو پنجاب کے حوالے بات ہی نہیں کرنے دی۔

    ارکان نے شکوہ کیا کہ پنجاب میں کیا مشکلات ہیں، احتجاج کے حوالے سے پلاننگ پر کوئی بات چیت نہیں کی گئی، کارکنوں اکٹھا کرکے اسلام آباد لے جانے میں مشکلات ہیں، پنجاب میں کرایہ پر گاڑیاں ہی نہیں مل رہیں جب کہ ٹرانسپورٹرز بھی گاڑی دینے کو تیار نہیں ہیں،احتجاج کے حوالے سے پنجاب کے رہنماؤں سے مشاورت کی جاتی تو بہتر ہوتا۔

  • 24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

    24 نومبر کی احتجاجی کال، وزارت داخلہ نےسخت ترین اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے

    وفاقی دارالحکومت میں ڈپٹی کمشنر نے احتجاج کے پیش نظر 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے متعلقہ سکیورٹی اداروں کو مکمل تیاری کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، شر پسندی میں ملوث افراد کیخلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں تمام سرکاری اور اہم عمارتوں کی سکیورٹی کیلئے سخت ترین حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وزارت داخلہ نے جڑواں شہروں میں سکیورٹی کیلئے بھاری نفری تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے

    وفاقی دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں افغان مہاجرین کیمپوں کی جیو فنسنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے احتجاج کے دوران شر پسندی کرنے والے طالب علموں کی تعلیمی اسناد اور داخلے منسوخ کرنے کے فیصلے پر غورکیاگیا،احتجاج میں شامل شر پسند افراد کے پاسپورٹ ، شناختی کارڈ منسوخ اور سم بلاک کرنے کا بھی فیصلہ زیر غورآیا، دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمنٹے کیلئے مشکوک مقامات کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے،

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    سابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو مذاکرات کی اجازت دے دی

    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے علی امین کو کہا ہے کہ اگر مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو یہ زیادہ بہتر ہے اس لیے میں نے علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کی اجازت دی ہے۔لیکن 24 نومبر کا ہمارا احتجاج فائنل ہے جب تک ہماری ڈیمانڈز پوری نہیں ہوں گی احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عمران خان نے علی امین گنڈا پور سے ملاقات کے دوران مذاکرات کی خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ علی امین گنڈاپور مجھ سے مذاکرات کی اجازت لینے آئے تھے علی امین نے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے معاملات حل ہوں تو اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟عمران خان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے پارٹی سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا گیا ہوگا اسی لیے مجھ سے اجازت مانگنے آئے تھے،

    دوسری جانب اڈیالہ جیل ،عمران خان ،بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،وکلاء صفائی نے 16 گواہان کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس میں بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی درخواست دائر کر دی،احتساب عدالت نے وکلاء صفائی کی گواہان طلب کرنے کی درخواست کو مناسب وقت پر سماعت کے لئے رکھ لیاعدالت نے سماعت کل 20 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان سے 342 کےسوالناموں پر جواب طلب کر لیا،

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • کچھ نہیں ہونا، اندر خانے لیٹے ہوئے، گنڈا پور کس کا پیغام لے کر گیا،فیصل واوڈا

    کچھ نہیں ہونا، اندر خانے لیٹے ہوئے، گنڈا پور کس کا پیغام لے کر گیا،فیصل واوڈا

    آزادسینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ عمران خان کو بچانے کے لئے اب اُن کے پاس کوئی ساتھی نہ رہا، یہ سب ڈرامے باز اور کمپرومائزڈ لوگ ہیں، پروٹوکول بھی آ گیا، ہوٹر بھی آ گیا، یہ اندر خانے غریب کو مروانے کےلئے ڈرامہ کررہے ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اس بات پر یقین کرنا پڑ رہا ہے کہ رجیم چینج میں واقعی مداخلت ہوئی. کیونکہ اب امریکی کانگریس بھی پاکستان کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے،اب امریکہ میدان میں آ گیا کہ ہیومن رائٹس وائلشن ہو رہی، امریکہ کو کشمیر میں فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی، یہ لوگ انسانی حقوق کے چمپئین بنے ہوئے ہیں،یہ ایک نئی مداخلت ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی،میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا حامی ہوں ، میں پاکستان کے سیاستدان کی طرح ٹویٹ کر کے ڈیلیٹ نہیں کرتا، اگر آپ نے چمپئین بننا ہے تو مکمل بنیں ، دیکھیں کوئٹہ میں کیا ہوا، آپ چاہتے کیا ہیں کیا آپ بانی پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں یا مخالف ،اب آپ پاکستان کی سیاست میں برائے راست مداخلت کر رہے ، اندر خانے آج بھی بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات تو ہو رہے ہیں، آج گنڈاپور کس کا پیغام لے کر اڈیالہ جیل گئے ؟،لاشوں پر سیاست کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے،پانچ سات ہزار آدمی خیبر پختونخوا سے لا کر اسلام آباد پر چڑھائی کی باتکر رہے ہیں،یہ حکومت مجھے پسند نہیں ، یہ حکومت کی کم عقلی ہے کہ یہ ہینڈل ہی نہیں کرسکتے ،خیبرپختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے، بھارت کا نہیں، اگر وہاں بھی ہمیں لگا کہ ملک کےخلاف سازش ہو رہی ہے تو وہاں بھی ریڈ ہو جائے گی، آپ الزام لگائیں گے کہ ماسک والے آ گئے، ڈالے آ گئے، جائو جو الزام لگانا ہے لگائو، پرابلم یہ ہے کہ فرسٹریشن ہے، پی ٹی آئی کا یہ اس سال آخری رائونڈ ہے، 24 نومبر کو بھی کچھ نہیں ہوگا،24 نومبر کو پانی کا بلبلا بننے جا رہا ہے، کچھ بھی نہیں ہونا، اندر خانے لیٹے ہوئے ہیں، گنڈا پور کس کا پیغام لے کر گیا، آپ اپنے بچے لائیں، کسی کا باپ کھڑا ہو گیا ہے، کسی کی ماں، کسی کا بیٹا، کسی کی بیٹی، کسی کی بیوی کھڑی ہو گئی، پٹواریوں سے گھٹیا سیاست کر رہے ہیں

    فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی چل رہی ہے اور عمران خان کیلئے سب ڈرامہ کررہے ہیں، بیرون ملک سےبھی پاکستانی معلامات میں مداخلت کی جارہی ہے،فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے توکسی نےخط نہیں لکھا، آپ خود کو سپرپاور کہتے ہیں، میری نظر میں آپ زیرو پاورہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں آپ اسلحہ باردو چھوڑ کرچلے گئے،کوئٹہ میں دہشت گردی کا اتنا بڑا سانحہ ہوا، امریکا بتائے بانی پی ٹی آئی کا فائدہ کررہا ہے یا نقصان،ہمارے ہاں روز کوئی ایک نیا میچ شروع ہو جاتا، میں پی ٹی آئی کا پرانا ورکر رہ چکا ہوں، اس ملک میں لیڈروں کی لاش پر سیاست ہوتی رہی ،پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کمپرومائزڈ ہے ،

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

  • پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    پی ٹی آئی پنجاب کے رہنماؤں کے احتجاج کی کال پر تحفظات سامنے آگئے ۔

    پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، اس ضمن میں بشریٰ بی بی متحرک ہیں، بشریٰ بی بی پشاور میں اجلاسوں کی صدارت کر رہی ہیں اور پارٹی رہنماؤں کو بندے لانے کا ٹاسک دے رہی ہیں تو دوسری جانب اراکین کے احتجاج کے حوالہ سے شکوے بھی سامنے آئے ہیں، اراکین کا کہنا ہے کہ پشاور اجلاس پنجاب کا تھا مگر پنجاب کے رہنماوں کو نظر انداز کیا گیا ،علی امین گنڈا پور نے حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کو پنجاب کے حوالے سے بات ہی نہیں کرنے دی گئی، پنجاب میں کیا مشکلات ہیں احتجاج کے حوالے سے کیا پلاننگ ہوگی بات چیت ہی نہیں کی گئی ،کارکنوں کو اکٹھا کرنے اور اسلام آباد لیجانے میں بھی مشکلات ہیں، پنجاب میں تو کرایہ پر گاڑیاں ہی نہیں مل رہی کوئی ٹرانسپورٹ گاڑی دینے کو تیار نہیں،احتجاج کے حوالے سے پنجاب کے رہنماوں سے مشاورت کی جاتی تو بہتر ہوتا،پنجاب کے کئی اراکین نے بشریٰ بی بی کے پشاور میں منعقدہ اجلاس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ بشریٰ بی بی کے احکامات کی بجائے ہم بانی پی ٹی آئی کے احکامات مانیں گے اور احتجاج میں ضرور جائیں گے لیکن بشریٰ بی بی کو رپورٹ نہیں کریں گے،

    دوسری جانب حکومت نے تحریک انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو اسلام آباد مارچ کی کال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں شروع کردی ہیں، وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔،اسلام آباد پولیس نے 22 نومبر سے رینجرز اور ایف سی کے9 ہزار اہلکار مانگ لیے ہیں جب کہ پولیس حکام کی جانب سے اینٹی رائٹس کٹس بھی طلب کی گئی ہیں،اسلام آباد میں 2 ماہ کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت 5 یا اس سے زائد افراد کے تمام عوامی اجتماعات، جلوسوں، ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی عائد ہوگی۔

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سینئر صحافی و اینکر غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ میری اطلاع کیمطابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور آج ابتدائی ایک پیغام لے کر عمران خان سے اڈیالہ میں اس وقت ملاقات کر رہے ہیں۔ ایسے پیغامات مزید بھی پہنچائے جا سکتے ہیں۔ اور جیسا کہ کل بھی میں نے خبر دی تھی کہ عین ممکن ہے 24 نومبر کا پی ٹی آئی احتجاج کینسل/موخر ہو جائے۔ فیس سیونگ کیلئے کچھ یقین دہانیاں کچھ دیگر معاملات ہو سکتے ہیں؛ یا ٹوکن احتجاج۔ کل بیرسٹر گوہر نے بھی کہہ دیا کہ مطالبات ماننے کی یقین دہانی ہو تو احتجاج ختم کیا جا سکتا ہے۔ کل بھی میں نے خبر دی، آج بھی اس خبر کو نوٹ کر لیں۔ آئندہ کی پیش رفت بھی جلد آپ کے سامنے لاوں گی۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی جو ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی، ملاقات میں 24 نومبر احتجاج سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی کانفرنس روم میں ہونے والی دونوں شخصیات کی اہم ملاقات کی وجہ سے عدالتی کارروائی بھی متاثر ہوئی،وزیراعلیٰ کے پی کے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایپکس کمیٹی اجلاس، 24 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج اور دیگر امور پر بات چیت کی، ملاقات ختم ہونے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا میڈیا سے کوئی بات کیے بغیر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے،

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • پیٹرول بم پھینکنا ، گاڑیاں جلانا اب پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکا،شازیہ مری

    پیٹرول بم پھینکنا ، گاڑیاں جلانا اب پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکا،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ ایک بار پھر ملک میں انشار پھیلانے کی کال دی گئی ہے جس کی شدید مزمت کرتے ہیں،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو استحکام اور اتحاد کی ضرورت ہے, انتشار اور تقسیم کی نہیں ،پرامن احتجاج کے نام پر پیٹرول بم پھینکنا ، گاڑیاں جلانا اب پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکا ہے،ہمیں احتجاج سے مسئلہ نہیں، انتشار اور نفرت کی سیاست کرنے پر افسوس ہوتاہے، یوٹرن، جھوٹ ،الزامات، دنگا فساد اور لشکر کشی اس ٹولے کا وطیرہ بن چکا ہے،پی ٹی آئی میں جو سمجھدار لوگ تھے وہ خاموش اور غیر ذمہ دار لوگوں کو پارٹی کی باگ دوڑ دیدی گئی ہے،ایسے عناصر ملک نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی خوشنودی میں لگے ہیں جو اپنی ذات کی خاطر کچھ بھی کرسکتاہے،ہمارے لئے ملک اہم ہے،کوئی سیاسی جماعت ملک سے بالاتر نہیں،یہ لوگ حکومت میں تھے تو ملک کو نقصان پہنچایا اور اب اپوزیشن میں بھی بیٹھ کر بھی عوام کی کوئی فکر نہیں،چیئرمین پی پی پی نے تو مشورہ بھی دیا تھا کہ اپنے مقدمے عدالتوں میں لڑیں اور کچھ عوام کا سوچیں،آج ایک ضدی اور گھمنڈی شخص کو خوش کرنے کے لیئے ملک کو بار بار نقصان پہنچایا جا رہا ہے، اوورسیز پاکستانی ملک کا سرمایہ ہیں، انہیں گمراہ کیا جارہا ہے، عمران نیازی اپنے بچوں کو عیش و عشرت میں رکھ کر اس قوم کے بچوں کو گمراہ کررہا ہے، ہم سب کو مل کر پاکستان کی ترقی اور سالمیت میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، جب ملک ترقی کریگا تب ہم سب ترقی کرینگے،

    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ پی پی پی کی قیادت اور کارکنان نے بےشمار تکلیفیں برداشت کی ہیں مگر انتشار نہیں پھیلایا،ہم نے آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر ملک کی ساکھ کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا، صدر آصف زرداری نے “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگایا تو چیئرمین بلاول بھٹو نے سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا، ہماری قیادت نے سخت ترین جیل کاٹی، صدر زرداری نے بےگناہ 13 سال کی جیل کاٹی،پی ٹی آئی بتائے جیل میں ہر قسم کی سہولت کتنے قیدیوں کو ملتی ہے؟ پاکستان میں استحکام کی خاطر ہمیں اتحاد اور امن کو فروغ دینا ہوگا، سیاست کو خدمت سمجھتے ہوئے ہمارے بڑوں ایک الگ ملک حاصل کیا،اس وقت ملک کو ہر پاکستانی بھائی، بہن، بزرگ، بیٹی اور بیٹے کی ضرورت ہے، پاکستان میں امن اور خوشحالی کی خاطر ہمیں مل کر نفرت، انتشار اور تقسیم کا خاتمہ کرنا ہوگا،

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • بشریٰ کا حکم،پارٹی ٹکٹ،عہدے 24 نومبر احتجاج کی کامیابی سے مشروط

    بشریٰ کا حکم،پارٹی ٹکٹ،عہدے 24 نومبر احتجاج کی کامیابی سے مشروط

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی ٹکٹ اور عہدے 24 نومبر کے احتجاج میں فعال کردار ادا کرنے سے مشروط کر دیے۔

    ذرائع کے مطابق،بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ احتجاج میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد کو پارٹی ٹکٹ اور عہدے دیے جائیں گے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ہر صورت اسلام آباد پہنچنا یقینی بنایا جائے۔اس بیان پر پی ٹی آئی اراکین، وزرا، اور رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے وضاحت کرتے ہوئے کہابشریٰ بی بی نے کسی کو عہدوں یا ٹکٹوں کی پیشکش نہیں کی اور نہ کوئی شرط رکھی ہے۔تحریکیں جذبے سے چلتی ہیں، لالچ سے نہیں۔پی ٹی آئی کے کارکن ہمیشہ بغیر کسی لالچ کے تحریکوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما ارباب عاصم کا کہنا تھاہم پارٹی میں عہدوں کے لیے شامل نہیں ہوئے۔قربانی اور محنت کرنے والے کارکنوں کو آگے لانے کا اصول پارٹی کے بانی چیئرمین کا ہے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں احتجاج کی تیاریوں سے متعلق اجلاسوں میں 10 اراکین نے شرکت نہیں کی۔عاطف خان اور جنید اکبر سمیت 5 ایم این ایز کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔مالاکنڈ، مردان، سوات، نوشہرہ، اور صوابی کے 4 ایم پی ایز بھی اجلاس سے غیر حاضر رہے۔رکن قومی اسمبلی عاطف خان نے کہا کہ میسج ملا تھا لیکن اجلاس میں شرکت ضروری نہیں تھی۔احتجاج کے لیے کارکن نکالنا زیادہ اہم ہے۔مردان میں ہوں اور احتجاج کے اخراجات خود برداشت کروں گا۔جنید اکبر نے کہا کہ اجلاس میں شرکت ضروری نہیں تھی، لیکن اسلام آباد ضرور جائیں گے۔پارٹی سے جڑے ہیں اور احتجاج میں فعال رہیں گے۔

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • مطالبات پورے ہونے تک اسلام آباد میں بیٹھیں گے،  شیخ وقاص اکرم

    مطالبات پورے ہونے تک اسلام آباد میں بیٹھیں گے، شیخ وقاص اکرم

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے کہا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک اسلام آباد میں بیٹھیں گے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں سراسر بے بنیاد ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی پارٹی میں کوئی کردار لینے جا رہی ہےبانی پی ٹی آئی سے آخری بار جیل میں ملاقات ان کی اہلیہ بشری بی بی کی ہوئی تھی انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام دیا جبکہ گزشتہ روز کا اجلاس بیرسٹر گوہر کی صدارت میں ہوا تھا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے پی سے قافلوں کو لیڈ کریں گےمرکزی سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی نے کہا کہ ہر ضلع سے لوگ احتجاج کے لیے نکلیں گےجب تک مطالبات پورے نہیں ہوں گے اسلام آباد میں بیٹھے رہیں گےپہلے مطالبات مانیں گے پھر حکومت سے کوئی دوسری بات کریں گے، ہم تو اب مذاکرات کرنا بھی نہیں چاہتے، ہم بھر پور احتجاج کریں گے-

    شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ڈو اور ڈائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کی جان لینے جا رہے ہیں بلکہ ہمارا احتجاج پُرامن ہوگا، ہمارے لوگ کوئی مسلح تو نہیں ہوں گے ، کفن باندھنے کا مطلب سفید رنگ کا کپڑا ہے جو کہ امن کی علامت ہے،پوری تیاری کر کے آ ئیں، میرے پاس ہمارے ہر احتجاج کا ڈیٹا موجود ہے، جو زیادہ بندے نکالے گا وہی زیادہ محبت کا حق دار ہو گا اور اسی حساب سے کل کو اسے ذمہ داری دی جائے گی،احتجاج کی دعوت عوام کو ہے پی ٹی آئی کے کروڑوں ووٹرز کو احتجاج کی دعوت دے رہے ہیں، یہ سب ووٹرز 24 نومبر کو سرپرائز دیں گے۔

  • 24 نومبر احتجاج کی کال،بشریٰ بی بی متحرک،اراکین پنجاب اسمبلی کو بلا لیا

    24 نومبر احتجاج کی کال،بشریٰ بی بی متحرک،اراکین پنجاب اسمبلی کو بلا لیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی کال پر 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی کو کل پشاور طلب کرلیا گیا

    تحریک انصاف کے چوبیس نومبر کے احتجاج کے حوالے سے مشاورت ہوگی،عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی بانی پی ٹی آئی کا اہم پیغام بھی اراکین اسمبلی کو پہنچائیں گی،وزیر اعلیٰ کے پی کے سے بھی احتجاج کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی، بشریٰ بی بی اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات بھی دیں گی، پنجاب کے اراکین اسمبلی کو پشاور پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے

    دوسری جانب چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی کال پر پوری دنیا میں احتجاج نظر آئے گا، احتجاج میں سب لوگ شریک ہوں گے،یہ عمران خان کا حکم ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں نکلنا ہے،24 نومبر کو احتجاج ہو گا جس کے لئے سب نکلیں،

    علاوہ ازیں حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی احتجاج کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے،پتہ چل گیا کہ فیض حمید بھی پکڑے گئے، اسکے بعد سارا تکیہ منصور علی شاہ پر آ گیا، لیکن 26 ویں ترمیم کے بعد انکی امیدوں پر پانی پھر گیا، پی ٹی آئی کا میڈیا، سوشل میڈیا چلانے والے لوگ ٹرمپ کارڈ چلا رہے ہیں لیکن اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہونےوالا

    دوسری جانب پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی ذات کی خاطر جیل میں قید نہیں ہے، عمران خان قوم کے بچوں کے مستبقل کے لئے جیل میں قید ہے۔ 24 نومبر کو کپتان نے کال دے دی ہے۔ پوری قوم نے 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچنا ہے۔ عالم اسلام کے عظیم لیڈر عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالب علموں، مزدوروں، لیڈرز، ورکرز، ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔ ہمیں عمران خان سمیت دیگر سیاسی قائدین کو جھوٹے کیسز سے آزادی دلوانی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے لئے اسلام آباد پہنچنا ہے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کےلئے اسلام آباد پہنچنا ہے۔ عوام کے مینڈیٹ کی بحالی کے لئے اسلام آباد پہنچنا ہے، فارم 47 کی ناجائز حکومت کے خاتمے کے لئے اسلام آباد پہنچنا ہے۔ ہم پر امن لوگ ہیں ہم نے اپنا آئینی اور قانونی حق ادا کرنا ہے۔ سندھ کے ہر شہر سے ورکرز اسلام آباد پہنچیں۔

    تحریک انصاف نے 24 نومبر کو احتجاج کی کال دی، علیمہ خان نے اعلان کیا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے تائید کی، بانی پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کےبانی اپنے حواس کھو بیٹھے ہیںَ 26 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ،یہ دو تہائی اکثریت سے پاس ہوئی اور خاتمے کے لئے بھی دو تہائی اکثریت چاہئے ہو گی، آئین بحال ہے، عدالتیں کام کر رہی ہیں،آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات شفاف ہوئے تھے، تمام حکومتیں کام کر رہی ہیں، قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ عمران کا اپنی رہائی کا مطالبہ ہے، عمران سیاسی قیدی نہیں بلکہ توشہ خانہ،نومئی کے مقدمات میں قید ہے، دراصل 24 نومبر کا احتجاج عمران خان کی جانب سے نومئی کا واقعہ دوبارہ دہرانے کی ہی ایک کڑی ہے.حکومت کو اس احتجاج کے حوالہ سے کسی قسم کی نرمی نہیں دکھانی چاہئے.

  • عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد احتجاج کی کال دے دی

    عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد احتجاج کی کال دے دی

    سابق وزیراعظم عمران خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی کال دے دی

    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے تصدیق کی کہ 24 نومبر کو عمران خان نے اسلام آباد کے لئے کال دی ہے، پاکستان اور دنیا بھر میں احتجاج جاری رہے گا عمران خان نے ایک ایک کارکن کو مخاطب ہو کر کہا ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد کے لئے نکلیں،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ 8 فروری کو عوام جمہوریت میں انقلاب لیکر آئے، 8 فروری سے پہلے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان لیا گیا، 8 فروری کو عوام نے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کیا کہ ان کو ظلم کا نظامِ قبول نہیں، 8 فروری کو عوام نے طاقتور سے طاقت چھین لی اور اصل جمہوریت کی بنیاد رکھی، 9 فروری کو مینڈیٹ چوری کر لیا گیا،چوری شدہ مینڈیٹ گنے چنے لوگوں کو دے دیا گیا، ان لوگوں کو نیشنل اسمبلی میں بیٹھا کر وہ کیا گیا جو ان کا دل چاہتا تھا، 26 ویں ترمیم کے ذریعے عوام کے حقوق چھین لیے گئے، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ وکلا سپریم کورٹ کیلئے نکلیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ سول سوسائٹی ، کسان ، طلبہ احتجاج کیلئے نکلیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ چوری شدہ مینڈیٹ ، ناحق گرفتار لوگوں ، 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کیلئے لوگ نکلیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ آج قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ انھوں نے مارشل لاء کے نیچے رہنا ہے یا آزادی میں، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دی ہے،

    دوسری جانب وکیل فیصل چودھری کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اسلام آباد مارچ کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے، عمران خان نے کمیٹی کے نام منظر عام پر لانے سے انکار کیا ہے، 24نومبر کو احتجاج کا مرکز اسلام آباد ہوگا، احتجاج پاکستان اور پوری دنیا میں ہوگا، احتجاج تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے،عمران خان نے کہاکہ احتجاج کی یہ فائنل کال ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ 26ویں ترمیم واپس لی جائے،ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے،،بغیرٹرائل گرفتار لوگوں کو رہا کیا جائے،،احتجاج میں پی ٹی آئی کی پوری لیڈرشپ نکلے گی،ساری پارٹی کو پتہ ہے کہ کس نے کیا کرنا ہے،احتجاج ختم کرنے کااختیار ایک کمیٹی کو ہوگا۔

    یہ احتجاج تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک مطالبات تسلیم نہیں کر لیا جاتے،فائنل احتجاج 24 نومبر ہفتے کے روز سے شروع ہوگا ،احتجاج میں پی ٹی آئی کی پوری لیڈرشپ نکلے گی ،علی امین گنڈاپور بھی قافلہ لے کر خیبر پختونخواہ سے نکلے گا

    واپسی نہیں ہو گئی،جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے تیاریاں مکمل ہیں، علیمہ خان نے تاریخ کا علان کر دیا ہے،اس بار کوئی واپسی نہیں ہو گئی،جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے واپسی نہیں ہو گی،ہماری تیاری پہلے سے ہی ہے، اس بار دیکھیں گے کہ ہماری واپسی مطالبات پورے ہونے پر ہی ہو گی،

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی