Baaghi TV

Tag: احتساب

  • عمران خان کو بھاگنے نہیں دینا ،حمزہ شہباز کا اعلان

    عمران خان کو بھاگنے نہیں دینا ،حمزہ شہباز کا اعلان

    عمران خان کو بھاگنے نہیں دینا ،حمزہ شہباز کا اعلان

    بینکنگ کورٹ لاہور میں منی لانڈرنگ سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور حمزہ شہبازبینکنگ کورٹ لاہور میں پیش ہوئے جج محمد اسلم گوندل نے سماعت کی، ملزمان کی حاضری مکمل کی گئی ،وکیل ایف آئی سے نے کہا کہ جج چھٹی پر ہیں اس لیے چالان وہاں پیش ہونا ہے، عدالت نے کہا کہ عدالت نے آپ کو حکم دیا تھا کہ چالان پیش کریں،عدالت کا دائرہ اختیار کرنے کا معاملے پر فیصلہ کرنا ہے،پہلے آپ نے دائرہ اختیار چیلنج کیا اب چالان جمع کروانے کا کہہ رہے ہیں،آپ چالان جمع کروائیں ، وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ آپ کا حکم ہے تو اس عدالت میں چالان جمع کروا دیتے ہیں،آپ دائرہ اختیار کی درخواست پر پیر کو فیصلہ کر دیں، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ چالان عدالت نمبر ایک میں جمع کروائیں،شہبازشریف اور حمزہ شہبا جا سکتے ہیں،

    عدالت پیشی کے موقع پر حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کی طرف سے انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں،ہم نے عمران خان کو بھاگنے نہیں دینا ،عمران خان کا احتساب ہوگا ،ان کو علم نہیں غریب کس حال میں ہیں،جب فارن فنڈنگ کیس کھلے گا تو عمران خان کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی،عمران خان نے لوگوں کےساتھ کھلواڑ کیا، ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا ،مشیر خزانہ نے کہاہے کہ مہنگائی بڑھے گی،یہ کس نئے پاکستان کی بات کر رہے ہیں؟گرین لائن منصوبے کا افتتاح کرنے سے پہلے اپنے پیاروں سے پوچھ لینا چاہیے تھا کہ کس منصوبہ تھا،

    دوسری جانب ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس ،شہباز شریف کے جوابات نا مکمل ہیں ان سے مطمئن نہیں، شہباز شریف نے ایف آئی اے کو دیئے گئے جواب میں کہا کہ میرےخلاف مقد مہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا،ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم اورڈائریکٹر لاہور کا رویہ جارحانہ ہے،شوگر مل اور خاندانی کاروبار بیوی بچوں کی ملکیت ہیں، بیوی بچے شئیر ہولڈرز، ڈائریکٹر ز ہیں اور وہ عاقل بالغ اور جوابدہ ہیں،مجھ پرمقدمہ بطور اپوزیشن لیڈر آواز دبانے کی سازش ہے،

    @MumtaazAwan

    شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

    کن گراونڈز پر گرفتاری درکار ہے بتایا جائے؟ شہباز شریف کے وکیل کی عدالت سے استدعا

    عدالت میں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری پیش،شہباز شریف کے وکیل نے کی سیاسی گفتگو

    شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، سی سی پی او لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم حکم دے دیا

    شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،تحریری حکم نامہ جاری

    اگلا سال الیکشن کا ہے،مریم نواز نے عدالت سے کس کو دیا پیغام؟

    منی لانڈرنگ کیس،شہباز شریف پر فرد جرم کب عائد ہو گی؟ عدالت نے طلب کر لیا

    جج صاحب، جیل میں کون میرے پاس آیا اور میری ڈیمانڈ کیا تھی؟ شہباز شریف عدالت میں روپڑے

    شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو ملی خوشخبری

    شہباز شریف کی اہلیہ نے 13 ماہ بعد ایسا کام کیا کہ سب دیکھتے رہ گئے

    دوران تفتیش ایف آئی اے ایک آدمی پر چلاتا رہا مجھ سے بات نہیں کی،شہباز شریف

  • وزیراعظم کے خطاب کے ایک ہی روز بعد عوام پر بجلی بم گرا دیا گیا،سلیم مانڈوی والا

    وزیراعظم کے خطاب کے ایک ہی روز بعد عوام پر بجلی بم گرا دیا گیا،سلیم مانڈوی والا

    وزیراعظم کے خطاب کے ایک ہی روز بعد عوام پر بجلی بم گرا دیا گیا،سلیم مانڈوی والا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کومسترد کردیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں 4 روپے 74 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی گئی،وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان سستا ترین ملک بن گیا ہے،وزیراعظم کے خطاب کے ایک ہی روز بعد عوام پر بجلی بم گرادیا گیا، حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن واپس لے،

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی نااہلی کی وجہ سے بجلی صارفین کو60 ارب روپے اضافی ادا کرنے ہوں گے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیپرا کا بھی کہنا ہے کہ موثر پاور پلانٹس کو استعمال نہیں کیا جارہا،مہنگے ایچ ایس ڈی اورآر ایف اوپر مبنی پاور پلانٹس استعمال کیے جا تے ہیں، ظالم حکومت بے حسی کے ریکارڈ توڑ چکی ہے آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ کیا گیا ہے عمران خان کہتے تھے کہ بجلی کی قیمت بڑھانے والا وزیراعظم چور ہوتا ہے پاکستان میں سستی ترین حکومت عوام کے لیے تاریخ کی مہنگی ترین حکومت ثابت ہوئی ہے مافیاز کی جیبیں بھرنے والی حکومت کے خلاف ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا سروے چارج شیٹ ہے

    ن لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حماد اظہر اورشوکت ترین کے درمیان مباحثہ کی ضرورت ہے،حماد اظہر اورشوکت ترین کہتے ہیں ہم نے ضرورت کے مطابق گیس درآمد نہیں کی حکومت چوتھے موسم سرما میں مناسب گیس فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے،حکومت کو کم از کم ہمیں تفریح فراہم کرنا چاہیے،ایک بحث آپ اور نیب کے درمیان بھی ہونی چاہیے،

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں مہنگائی کے خلاف قرارداد پیش کر دی گئی ہے ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے نتیجہ عوام فاقوں اورخودکشیوں پر مجبور ہیں۔انرجی کا بحرا ن بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے،ڈالر،بجلی گیس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، مہنگائی, بے روزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی اور نہ ہی کوئی مستقبل کی منصوبہ بندی ہے ہر روز بگڑتے حالات تقاضا کررہے ہیں کہ آنکھیں کھول کر دیکھا جائے، ملک اور عوام کا سوچا جائے ۔وقت نے ثابت کیا کہ نوازشریف کے بجلی و گیس کے طویل المدتی معاہدے درست فیصلہ تھا ۔حکومت صرف عوام کو لوٹ رہی ہے، یہ سلسلہ یوںہی جاری رہا تو تباہ حال معیشت میں قوم پیٹ پر پتھرباندھ کر روئے گی،توانائی کی قیمت میں بتدریج اضافہ مہنگائی سے مرتی عوام پر ایک ناقابل برداشت بوجھ ثابت ہوگا،قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ابجلی کی قیمتوں اورشیا خوردونوش کی قیمتوں میں کمی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب ڈیلی ویجز پر کام کررہے ہیں،شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کیا ملک میں کوئی غیر متنازعہ آدمی نہیں ؟احتساب کا ادارہ خود حساب نہیں دے رہا،چیئرمین نیب کمیٹی میں کہتے ہیں سیشن ان کیمرا ہو،انصاف کا نظام سب کو نظر آنا چاہیے،اپوزیشن کو دبانے کے لیے بے بنیاد کیسز بنائے جارہے ہیں 6 اکتوبر کو چیئرمین نیب ریٹائرڈ ہوئے کسی سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی،عدالتوں میں کیمرے لگاکرعوام کو کارروائی براہ راست دکھائی جائے،سب عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں،اس کاذمہ دار کون ہے؟ آج وزیراعظم گرین لائن منصوبے کا افتتاح کررہے ہیں نام نہاد احتساب کرنیوالوں کا بھی احتساب دیکھیں گے،ایک نہ ایک دن انصاف ضرور ہوگا

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 200 ممالک میں سے مہنگائی میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے،غریب کو تباہ کردیا گیا ہے، مہنگائی کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا، حکومت نے 18 ترجمان رکھے ہوئے ہیں، جنہیں پاکستان کے عوام بھی نہیں جانتے وہ حکومتی ترجمان ہیں،حکومتی ترجمان گالی گلوچ کے پیسے لیتے ہیں ، سلیکٹڈ حکمران عوام کی پروا نہیں کرتے،گھی کی قیمت میں 58فیصد اضافہ ہوچکاہے، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں دیگر ممالک میں اضافہ کیوں نہیں ہوا؟ عوام کے ساتھ کیا ہورہاہے ، حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں، چیئرمین نیب کی آنکھیں اور کان بند ہیں،

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    میرا بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا،یہ کس قربانی کی بات کرتے ہیں،زرتاج گل

    وزیراعظم کے خواتین کے ریپ بارے بیان پر زرتاج گل بھی بول پڑیں

    سینما کے مالک کا بیٹا اب وزیر اعظم پر تنقید کرتا ہے،زرتاج گل

    اقوام متحدہ کی ماحولیات کانفرنس کے دوران زرتاج گل نے کیا "گُل ” کھلا دیئے؟

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے خلاف نیب ریفرنسز پرعدالتی ریمارکس ہمارے موقف کی تائید ہے ،آصف علی زرداری پر بغیر ثبوت کے ریفرنس بنائے گئے،یہی سوال کرتے ہیں جب ثبوت نہیں تو ریفرنس کس کے کہنے پر بنائے جاتے ہیں؟تعجب کی بات ہے کہ عدالت ثبوت مانگ رہی، نیب کے پاس آصف زرداری کے خلاف ثبوت ہے تو پیش کیوں نہیں کیے جاتے؟آصف علی زرداری 12 سال جیل کاٹ چکے،نیب اور حکومت گٹھ جوڑ اب بے نقاب ہو چکا ہے،

  • غلطی ہوئی  تو ہم اس وقت کے چیئرمین نیب کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں گے،عدالت

    غلطی ہوئی تو ہم اس وقت کے چیئرمین نیب کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں گے،عدالت

    غلطی ہوئی تو ہم اس وقت کے چیئرمین نیب کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں گے،عدالت
    سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب ریفرنسز سے بریت کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب پر شدید اظہار برہمی کیا، نیب نے عدالت سے وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ آصف علی زرداری کو پہلے احتساب عدالت نے ریفرنس میں سزا سنائی، سپریم کورٹ نے سزا کالعدم قرار دیکر کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا،بدقسمتی سے آصف زرداری کے خلاف ریفرنسز کا ریکارڈ ہی غائب ہو گیا، احتساب عدالت نے نیب کو ریکارڈ فراہم کرنے کیلئے مواقع دیے،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے کس گراؤنڈ پر آصف علی زرداری کا کیس ریمانڈ کیا، پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ بدقسمتی سے وہ ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسارکیا کہ سپریم کورٹ کا ریکارڈ بھی غائب ہو گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ نیب ہیں پہلے یہ بتائیں کہ ریکارڈ کدھر سے غائب ہوا، پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ریکارڈ لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ کو بھیجا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ریکارڈ سپریم کورٹ سے غائب ہوا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹ اور احتساب عدالتوں کو دیکھنا ہو گا کہ ریکارڈ کہاں ہے، پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ کوئی پتہ نہیں چل رہا کہ ریکارڈ کہاں سے غائب ہو گیا،

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسا نہیں ہوتا، ریکارڈ جہاں جاتا ہے وہ رجسٹر پر نوٹ کیا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے سزا کالعدم قرار دیا، اپیل تب ہی سنی جب ریکارڈ وہاں موجود تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ایک چیز تو طے ہے کہ ریکارڈ مسنگ ہے، پھر احتساب عدالت کیا کرتی، ارسس ٹریکٹر ریفرنس تو میرٹ پر خارج کیا گیا جس میں کک بیکس کا الزام تھا، ارسس ٹریکٹر ریفرنس میں آصف علی زرداری کو خصوصی طور پر میرٹ پر بری کیا گیا، احتساب عدالت نے قرار دیا کہ نیب کچھ بھی ثابت نہیں کر سکا،جو گراؤنڈ احتساب عدالت نے لکھیں ان میں سے بتائیں کونسی غلط ہے، پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ 2006 میں آصف علی زرداری کے خلاف اس ریفرنس کی کارروائی روک دی گئی،بعد میں پھر فوری طور پر ریفرنس پر سماعت شروع ہوئی اور بریت کی درخواست دائر ہوئی،ہماری استدعا ہے کہ نیب کی یہ اپیل نمٹا دی جائے،

    آصف رداری کے خلاف بغیر شواہد ریفرنس بنانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی اہم ترین آبزرویشنزسامنے آئی ہے جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ 7سال ہو گئے، نیب یہ بتائے کہ اپیل چلانا چاہتا ہے یا نہیں، نیب پر اسی لیے پولیٹکل انجینئرنگ کا الزام ہے کہ اس کے پاس کوئی کیس ہوتا ہی نہیں کیوں نہ نیب کو عدالتی وقت ضائع کرنے پر ذمہ دار قرار دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب یہ مان لے کہ تب ریفرنسز بناتے ہوئے ہم سے غلطی ہوئی تھی،اگر غلطی ہوئی تھی تو ہم اس وقت کے چیئرمین نیب کو بھی ذمہ دار ٹھہرائیں گے،نیب سب کا احتساب کرتا ہے، نیب کا بھی احتساب ہونا چاہیے، پھر اس بات کو درست مان لیا جائے کہ نیب سیاست کیلئے استعمال ہوتا ہے،کیا آپکو معلوم ہے کہ نیب کے اقدامات کا معیشت پر کتنا اثر ہوتا ہے، اگر ہمیں لگا کہ نیب کی نیت درست نہیں ہے تو پھر عدالت معاملے کو چھوڑے گی نہیں، فیصلے کے مطابق نیب احتساب عدالت میں کوئی ثبوت اور شواہد پیش نہیں کر سکا تھا،قانون کے مطابق غلط ریفرنس بنانے پر نیب کے خلاف کارروائی ہوتی ہے،اگر نیب اپنی اپیل پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکا تو ہم نیب کے خلاف کارروائی کرینگے،

    جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے کس کے کہنے پر آصف زرداری کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب ایک شخص کی ہتک عزت کر رہا ہے تو اس پر نیب کا احتساب ہونا چاہیے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بھروانہ صاحب، مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آیا آپ کہہ کیا رہے ہیں اور چاہتے کیا ہیں، پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب اس اپیل کو آگے نہیں چلانا چاہتا، عدالت اپیل نمٹا دے،بصورت دیگر عدالت ہمیں ریکارڈ تلاش کرنے کا موقع دے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب عوام کا وقت ضائع کر رہا ہے، سات سال ہو چکے اور نیب کوئی چیز نہیں لا سکے، ہم اگلے سال تک ملتوی کر دیں، جسٹس نور الحق قریشی صاحب بھی نیب سے کہتے تھے کوئی دستاویز تو دیدیں، آج سالوں بعد بھی آپ سے عدالت وہی مطالبہ کر رہی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب سب کا احتساب کرتا ہے نیب کا احتساب کون کریگا، نیب کے پاس کچھ ہوتا نہیں ہے اور پھر سب عدالتوں پر ڈال دیتے ہیں، پراسیکیوٹر جنرل نیب اپیلوں کا جائزہ لیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کریں،

    حدیث اور سائنس کی روشنی میں کرونا وائرس 12مئی کے بعد ختم ہوجائے گا؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    پیپلز پارٹی بمقابلہ اے آروائی ،مبشر لقمان اصل حقیقت منظر عام پر لے آئے

    جماعت اسلامی کیخلاف پروگرام پر انکی طرف سے کیا ردعمل آتا ہے؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    آسمان سے اہم پیغام آگیا،سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی،سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خبر آ گئی، آصف زرداری زندہ ہیں یا نہیں؟ سنئے حقیقت مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خوشخبری، پاکستان کی قسمت جاگنے والی ہے، کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    یوٹرن لیا پھر بھی احتساب عدالت نے دیا آصف زرداری کو بڑا جھٹکا

    پارک لین ریفرنس،فرد جرم سے بچنے کا آخری حربہ ناکام،آصف زرداری پر فرد جرم عائد

    فرد جرم عائد ہونے کے بعد جج اور سابق صدر آصف زرداری میں ہوئی بحث

    میں نے یہ کام کیا اسلئے میرے خلاف مقدمات بنائے جا رہے ہیں، آصف زرداری

    وکلا کی غیر موجودگی میں زرداری پر فرد جرم،پیپلز پارٹی کا خدشات کا اظہار،شیری رحمان بول پڑیں

  • وہ سمجھتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھا ہوں تو محترم رہوں گا ایسا نہیں ہو گا،سلیم مانڈوی والا

    وہ سمجھتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھا ہوں تو محترم رہوں گا ایسا نہیں ہو گا،سلیم مانڈوی والا

    وہ سمجھتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھا ہوں تو محترم رہوں گا ایسا نہیں ہو گا،سلیم مانڈوی والا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے سفیر نیب کی کارروائیوں کو انتقامی قرار دے رہے ہیں

    سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ نیب جب تک ایوان کو جواب دہ نہیں ہوگا یہ کارروائیاں نہیں روک سکتی،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر میں نیب سے جواب مانگنے کی ہمت نہیں ،نیب کا راستہ روکے بنا ملک ترقی نہیں کر سکتا نیب ملک کی تباہی کی وجہ ہے سفیر کہتے ہیں نیب کو اپوزیشن کے خلاف استعمال ہوتا دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے، ابھی کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ نیب کو سیدھا کرنے کے لئے کتنے آرڈیننس لائیں گے، آخر نیب کا خراب ہے، دیکھتے رہیں ہوتا کیا ہے،چیئرمین نیب زبردستی بیٹھے ہیں کہ میرے لئے آرڈیننس نکالو، ریٹائرڈ سپریم کورٹ کے جج کو اس قسم کی چیزیں زیب نہیں دیتی لیکن شاید وہ سمجھتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھا ہوں تو محترم رہوں گا لیکن وہ خود کو بدنام کروا رہے ہیں، مجھے لیٹر کا جواب دیا گیاکہ ہم پارلیمنٹ کی عزت کرتے ہیں اور جب پارلیمنٹ میں‌ جواب دہ ہونا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ مجھے پارلیمنٹ میں نہ بلائیں، میں چیلنج کرتا ہوں سامنے آ کر بات کریں،جن لوگوں نے نیب کی وجہ سے خود کشیاں کیں انکی انکوائری ہونی چاہئے، کون ذمہ دار ہے انکا،

    سلیم مانڈوی والا کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی کیسز بندکر دیئے گئے اس کا بھی احتساب ہو گا کہ صرف حکومتی کیوں بند ہوئے کس کے آرڈر پر بند ہوئے،یہ چیزیں پاکستان کی ساکھ کو خراب کر رہی ہیں،اپوزیشن رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا مگر جرم نہیں بتایا گیا،انکی ساری فائلیں ہمارے پاس ہیں ، وقت آنے پر سپیکر اور چیئرمین سینیٹ میں جب اتنا دم آئے گاکہ ذمہ داروں کو بلایا جائے پھر پتہ چلے گا، کہ کیا ہوتا ہے ان سے پوچھا جائے کہ انکی کرپشن بھی سامنے لائی جائے، ایک گریڈ 19 کا آفیسر بچوں کو کیسے باہر پڑھا رہا ہے

    قبل ازیں احتساب عدالت اسلام آباد میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا کڈنی ہلز ریفرنس کی سماعت ہوئی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی ،سلیم مانڈوی والا عدالت کے روبرو پیش ہوئے،نیب نے سلیم مانڈوی والا کی بریت کی درخواست کی مخالفت کی،سلیم مانڈوی والا کے وکیل کی جانب سے نیب کے جواب پر دلائل دیئے گئے اور کہا گیا کہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد ریفرنس نیب کے درائرہ اختیار میں نہیں آتا، ترمیمی آرڈیننس کے بعد پرائیویٹ ٹرانزیکشن نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں،اگر ٹیکسیشن سے متعلق معاملہ ہوتا تو نیب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، عدالت نے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کر لیے کیس کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ الیکشن کے لئے کتنے ریٹس لگے؟ وزیراعظم نے کیا حکم دیا؟

    حکومت کے ساتھ پیپلز پارٹی کی ڈیل ہو رہی ہے یا نہیں؟ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا اہم انکشاف

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے عدالت میں کیا درخواست دائر کر دی؟

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بریت کی درخواست کی دائر

  • احتساب کا منہ زور گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے، جاوید ہاشمی بھی میدان میں آگئے

    احتساب کا منہ زور گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے، جاوید ہاشمی بھی میدان میں آگئے

    (نعمان بھٹہ نمائندہ باغی ٹی وی) جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ نیب کے یکطرفہ احتساب کا منہ زرو گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے یہ سلیکٹڈ احتساب کا طریقہ کار ہےسب کاروائیوں کا مقصد ن لیگ کو ختم کرنا اور نئی پارٹی بنانا تھی۔سنیئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ ایسی پارٹی بنانا چاہتے تھے جو انکی ساری باتوں کو عملی جامہ پہنائے اس لئےمشرف کے ساتھ رہنے والی ساری قوتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتا ہوں یہ تجربہ پہلے ہی ناکام ہوچکا باربار کیوں دہرا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو ایک وعدہ معاف کے کہنے پر گرفتار کیا گیاایک نہیں اور کئی گرفتاریاں ہونگی۔آج پیپلز پارٹی کے لوگوں کو بھی ویسے ہی ہراساں کیا جارہا ہے جیسے مشرف دور میں کیا گیا۔

    احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو سیکنڈل کے حوالے سے جاوید ہاشمی کا کہناتھا کہ جج کی ویڈیو جس نے بھی بنائی اس میں جج موجود تو ہےجب شہباز شریف نے جج سے بات کی تھی تو جج بھی گیا تھا اور زرداری صاحب کی سزا بھی ختم ہوئی تھی ۔اب جب ویڈیو پکڑی گئی جج کی پاور واپس لے لی گئی تو سب سے پہلے نواز شریف کی سزا ختم ہونی چاہیئے تھی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی شخص کی آزادی کو سلب نہ ہونے دے سپریم کورٹ کو نواز شریف کی سزا ختم کردینی چاہیے۔مخدوم جاوید ہاشمی کا مزجد کہناتھا کہ نیب نے اتنے لوگوں کو گرفتار کیا برآمد کچھ نہیں ہواگرفتاریاں کی ہیں تو کچھ برآمد کریں تاکہ اس سے ملک میں مہنگائی میں کمی آئے۔

  • کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.

    اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.

    کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.

    جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.

    مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.

    آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.

    دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.

    مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.

    دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.

    یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد

  • تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہےتبدیلی زندگی کی علامت ہے۔ تبدیلی ایک مستقل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ وقت، موسم انسان، معاشرہ اور اقوام سب تبدیلی کا مظہر ہیں۔ عمرانی لحاظ سے تبدیلی سوچ و فکر کے زاویہ اور طرز عمل کے تبدیل ہونے کا نام ہے۔ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ بعض تبدیلیاں عارضی اور وقتی ہوتی ہیں اور کچھ تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔ بہت سے مواقع پر ہم تبدیلی کا محرک ہوتے ہیں اور کسی موقع پر ہمیں تبدیلی کے زیرِ اثر خود کو تبدیلی کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ بعض تبدیلیاں اس قدر مستقل اور باقاعدہ ہوتی ہیں کہ ہم انہیں تبدیلیوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ پھر یہ تبدیلیاں لوگوں کی زندگی پر مختلف طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور ہر ایک کی حساسیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد اس قدر ذکی الحس ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ ہونے والی تبدیلیوں کا پیشگی اندازہ کر لیتے ہیں اور کچھ اس قدر غیر حساس ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی تبدیلی کو محسوس نہیں کر پاتے۔
    اقوام اور معاشرے افراد سے وجود میں آتے ہیں اور افراد میں انفرادی و اجتماعی تبدیلیاں ہی قوم میں تبدیلی لاتی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کا اصول بھی یاد رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک افراد تبدیلی کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مد نظر رہے کہ تبدیلی محض ہمارے منصوبہ، عمل اور فکر سے نہیں آنی بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر حاکم وقت یا کسی ادارے کا سربراہ اپنے ملک یا ادارے میں اصطلاحات چاہتا ہے تو اس کے لیے جہاں اس کی منصوبہ بندی اور اس کے مطابق لیے گئے اقدامات اہم ہیں وہیں اس کی اور قوم کی انفرادی و مجموعی سوچ بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
    تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو خیر القرون میں ہم ایک ایسا فکر انگیز واقعہ دیکھتے ہیں کہ جب حکمران قوم کی فلاح و بہبود اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے رات کی تاریکی میں شہر کی گلیوں میں گشت کرتا ہے اور ایک گھر کے باہر سے گزرتے ہوئے اس کی سماعت سے پر فکر الفاظ ٹکراتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک لڑکی کے ہیں جو اپنی والدہ کا دودھ میں پانی ملانے کا حکم بجا نہیں لاتی اور بتاتی ہے کہ خلیفہ نے اس کام سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لڑکی کا اگلا جملہ ہماری عقل کے بند دریچوں کو وا کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ماں نے بیٹی سے کہا کہ خلیفہ کب ہمیں دیکھ رہا ہے تو دانا و زیرک اور خوفِ خدا رکھنے والی لڑکی نے جواب دیا کہ اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔
    بس اس ایک جملے سے تبدیلی کا اصل محرک معلوم ہو جاتا ہے۔ ذرا غور تو کریں وہ کیا چیز تھی جس نے اس لڑکی کو ملاوٹ کے اس عمل سے روکا اور وہ کون سی قوت تھی جس نے لڑکی کو انکار کرنے کی اخلاقی جرأت دی؟
    جواب واضح ہے، خوفِ خدا اور بلا تفریق و تمیز احتساب کا احساس۔
    اب ہم دیکھتے ہیں وطن عزیز میں تبدیلی کے خواب کو۔ یقیناً حاکمِ وقت تبدیلی کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی لیے جا رہے ہیں۔ مگر گزارش ہے کہ آپ جس قدر بھی احتساب اور قانون کے عمل کو سخت، شفاف اور مستعد کر لیں، چیک اینڈ بیلنس پر سو فیصد عملدرآمد مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جتنے بھی ادارے اور ضابطے بنا لیں جب تک احساس ذمہ داری بیدار نہیں ہوتا حقیقی معنوں میں تبدیلی ناپید رہے گی۔ انفرادی اور مجموعی طور پر خوفِ خدا، تقویٰ اور احتساب کا احساس پیدا کیے بغیر تبدیلی کے اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔
    حکمران سے لے کر وطن کے ہر شہری کو یہ احساس بیدار کرنا ہو گا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ بے شک اللہ کا خوف ہی حکمت و دانائی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کی علامت ہے۔

  • خوشحال پاکستان، مگر کیسے؟ ؟؟ محمد عبداللہ گِل

    خوشحال پاکستان، مگر کیسے؟ ؟؟ محمد عبداللہ گِل

    "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ”
    یہ ایک نہایت ہی اہم مقولہ ہے اس میں فرد کی ترقی سے لے کر قوم کی ترقی تک کا راز مضمر ہے ۔ ایک قوم کی ترقی شخصی ترقی پر منحصر ہوتی ہے ۔ایک قوم اس وقت ترقی یافتہ ہوتی ہے جب اس کی عوام پرجوش ،باشعور اور باکردار ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ عوام جذبہ کے ساتھ بغیر کسی انعام و اکرام کے لالچ سے محنت کرتے ہیں تو قوم ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ پاکستان جو کہ اسلامی ملک ہے اس میں قانون اسلام کا ہے ۔ 14 اگست1947ء کو معرض وجود میں آیا ۔اگر تاریخ پاکستان کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے سب سے پہلا کام قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح نے ہر فرد کی کردار سازی کی پھر 1940ء کو قرارداد پاکستان پیش کی ۔پھر سات سال ہی میں آزادی مل گئی۔پاکستان بننے کے بعد مختلف حکومتیں آئیں ۔سیاست کی گئی۔پاکستان ترقی یافتہ اس لیے نہیں کہ یہاں حکمران اچھے نہیں آئے یہ عموما سمجھا جاتا ہے ۔لیکن ایسا ہرگز نہیں عوام جیسی ہوتی ہے ویسا ہی حکمران ان ہر حکومت کرتا ہے۔حکمران انھی عوام میں سے ہوتے ہیں مریخ سے تو نہیں آتے۔پاکستان ترقی یافتہ اس لیے نہیں کہ ہماری عوام کو شعور ہی نہیں ۔ہمارے اندر سے "اپنی مدد آپ” کا جذبہ اٹھ گیا ہے ۔اپنی مدد آپ وہ اصول ہے اگر ایک شخص اس کو اپنا لے تو وہ ترقی یافتہ بن جاتا ہے اور اگر قوم کی قوم اس کو اپنا لے تو قوم ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کا غیر ترقی یافتہ ہونے میں جدھر تک حکمرانوں کی بے بسی شامل ہے اتنا ہی قصور عوام کا ہے ہماری عوام میں قومی حمیّت رفع دفع ہو چکی ہے ۔آج مملکت پاکستان میں عوام یہ تو کہتی ہیں کہ فلاں حکمران کرپشن کرتا ہے جس کی وجہ سے ہم معاشی بدحالی کا شکار ہے ۔یہ بالکل صحیح ہے لیکن عوام خود کو نہیں جانچتے کہ آج ایک ریڑھی والے کو دیکھا جائے تو وہ پھل دیتا ہے اور چپکے سے صحیح پھلوں کے ساتھ خراب پھل بھی ڈال دیتا ہے ۔یہ بھی کرپشن ہے ۔اسی طرح چھوٹے ملازم چپڑاسی سے لے کر پارلیمنٹ میں بیٹھے حکمران تک سب کرپشن کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ پاکستان کی معاشی بدحالی کے باعث حکمران بے بس ہیں وہ دوسرے ملکوں سے قرض لیتے ہیں تو عالمی اداروں کی مشکل شرائط ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
    قومی ترقی کی تعریف سر سید احمد خان نے یوں کی :-
    "قومی ترقی شخصی ترقی،شخصی محنت ،شخصی خودارادیت ،شخصی صلاحیت کا مجموعہ ہے ”
    اسی طرح قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے :-
    "انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے ”
    اگر قرآن کی اس آیت پر غور کیا جائے تو واضح ہے کہ اگر پاکستانی قوم اپنی ترقی کے لیے کوشش کرے تو انھیں یہ ترقی ضرور ملے گی ۔آج ہم نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا اور پستی کی طرف چلے گئے۔
    حکمران کی ذمہ داری ہوتی کہ وہ عوام کا جذبہ بڑھائیں۔ عوام کو ملکی ترقی کی طرف راغب کریں ۔لیکن ہمارے ہاں تو حکمرانی کا دستور ہی کچھ اور ہے ۔سیاستدان عوام کی کردار سازی کی طرف توجہ بالکل ختم کر چکے ہیں ۔اگر پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا تو اسی وقت کہ پہلے عوام کی کردار سازی کی جائے ان کو ملکی ترقی میں حصہ لینے کے لیے آمادہ کیا جائے اس کے بعد سیاستدان اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو ملک پاکستان ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ حکمرانوں سے لے کر عوام تک سب کو جذبہ "اپنی مدد آپ” کے تحت کام کرنا چاہیے۔ اور پوری قوم کو متحد ہو جانا چاہیے یہ سیاسی انتقامات چھوڑ دینے چاہئیں۔ اسی طرح آج مسلمانان پاکستان کو چاہیے کہ تفرقہ بازی سے باز آ جائیں۔ اور ہر قسم کی تفریق اور گروہ بندی سے دور رہیں۔ تو ملک ترقی یافتہ بن جائے گا ۔
    اے میرے عزیز ہم وطنو! ہمیں ملک کی ترقی کے لیے تگ و دو شروع کر دینی چاہیے۔ بہت سی اقوام ہمارے بعد وجود میں آئیں اور آج ہم سے آگے ہیں۔ ہمیں پرعزم ہو کر دلجمعی سے متحد ہو کر یکسوئی سے عمل کی ضرورت ہے یقیناً جلد ہی ہم ترقی یافتہ اقوام میں سر فہرست ہوں گے۔

  • ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم

    ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم

    پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی جو خواب وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے قوم کو دکھایا یقیناً ہر محب وطن پاکستانی کی دیرینہ خواہش ہے۔ اسی کو خان صاحب نئے پاکستان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس مستقل مزاجی سے اس نئے پاکستان کی طرف سفر جاری ہے یقیناً عنقریب ہم اپنی منزل کو پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کے بہت سے اچھے اقدامات میں سے ایک عوامی رائے کو سننا اور قابل عمل بات کو اختیار کرنا بھی ہے اور یہ ان کی عوامی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بھی ہے اور ان کے
    مزاج میں رعونت و تکبر کے نہ ہونے کی علامت بھی۔
    گزشتہ دنوں پی ٹی آئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ اور اس کے بعد نشر کیے جانے والے وزیراعظم کے خطاب پر بہت سے ناقدین اور مبصرین نے تبصرہ کیا۔ مگر اکثر لوگ اس میں منفی نکات ہی ڈھونڈتے رہے۔ تنقید بذات خود بری نہیں ہے کیونکہ اس سے اصلاح کا موقع ملتا ہے مگر تنقید برائے تنقید اور ذاتی ناپسند پر مبنی تنقید سے سوائے وقت اور توانائی کے ضیاع کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی لیے ہم اس فضول بحث میں پڑ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
    قریباً پون صدی سے اہلیان پاکستان ایسی قیادت کی تلاش میں تھے جو ملک خداداد میں بلاتفریق احتساب اور قانون کی بالادستی قائم کر سکے۔ اور اس عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری بھی رکھ سکے۔ یقینی طور پر جب بات ہو احتساب اور قانونی بالادستی کی تو بہت سے افراد مخالفت پر اتر آتے ہیں اور ان کی مخالفت کو پس انداز کرتے ہوئے اپنے مقصد پر چلتے رہنے سے ہی کامیابی ممکن ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت وہ واحد جمہوری حکومت ہے جس نے اس اہم ترین امر کو یقینی بنایا۔ ملک کی کئی طاقتور اور با اثر شخصیات جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھ کر مطلق العنانی کے گھمنڈ میں مبتلا تھیں آج احتساب کے شکنجے اور قانون کے کٹہرے میں ہیں۔ ملکی صورتحال روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ اور حکومت کی ملک دوست پالیسیوں کے سبب فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں دونوں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے پر عزم ہیں۔ افواج پاکستان نے شبانہ روز اپنی جان پر کھیل کر اور رگ جاں اس دھرتی پر قربان کرتے ہوئے اس وطن کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنا رکھا ہے اور حاکم وقت بھی اپنے عزائم میں مخلص اور ثابت قدم ہے۔ قوم پرامید رہے کہ جلد پاکستان ریاست مدینہ کا عملی نمونہ ہو گا۔ وہ ریاست مدینہ جس کی داغ بیل نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اسے دنیا کی طاقتور ترین ریاست بنایا۔

  • احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان

    احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان

    وہ ایک جاگیردار اور جاگیردار کا بیٹا تھا۔ شنید ہے بچپن میں کبھی کسی فلم یا ڈرامے کا کردار بھی بنا اور لڑکپن میں سینما ہال کے باہر ٹکٹیں بھی بلیک میں فروخت کیں۔ جوانی میں قدم رکھا تو اس وقت کے سب سے بڑے پاکستانی سیاستدان (ذوالفقار علی بھٹو) کی بیٹی (محترمہ بینظیر بھٹو) کو اُچک لیا۔ کچھ لوگ اسے ڈاکو بھی کہتے ہیں اس بات میں تو سچائی کا علم نہیں البتہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی ہی اہلیہ کے دور حکومت میں ایام زندگی جیل کی کال کوٹھری میں گزارے۔ جس کا دو مرتبہ کی منتخب وزیراعظم (بینظیر بھٹو) اور ملک کی اہم سیاسی جماعت کی سربراہ کا شوہر ہونے کے باوجود کوئی سیاسی کردار نہیں تھا۔ مرحومہ جب جلاوطنی کی زندگی گزار کر واپس آ رہی تھی اور کراچی میں آمد کے ساتھ ہی محترمہ پر خود کش حملہ ہوا جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں گئیں۔ اور پھر خطرے کو دیکھنے کے باوجود مرحومہ نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی یہاں تک کہ راولپنڈی میں ایک اور مہلک حملہ ہوا اور محترمہ اس حملہ میں جاں بحق ہو گئیں تو یہ شخص باہر بیٹھ کر سب کچھ (پلاننگ) دیکھ رہا تھا۔ لوگ جس شخص کو قاتل سمجھ رہے تھے وہ شخص محترمہ بینظیر بھٹو کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ ہی ٹسوے بہاتے ہوئے وطن واپس آ پہنچا اور ساتھ ہی ایک خفیہ خط نکال لایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ میرے بعد آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ 2007 کے عام انتخابات میں بینظیر بھٹو کے نام پر پڑنے والے ووٹ کا خوب فائدہ اٹھایا گیا ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد محترمہ کے قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے کمال چالاکی سے محترمہ کے معتمد ساتھیوں کو بطور خاص ٹھکانے لگا دیا گیا۔ شدید مخالف حزب اختلاف کو بھی خوب مہارت سے ڈیل کیا۔ جو جس پر خوش ہوا اسے اس ضمانت پر دے دیا گیا کہ میری کرسی کو کوئی گرزند نہ پہنچ پاۓ۔ اس تمام عرصہ میں کرپشن اور بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، ملکی شرح نمو زوال پذیر ہوئی، برآمدات و درآمدات میں وسیع خلیج پیدا ہونے کے باعث ڈالر کو پر لگ گئے، قومی اداروں کو خوب نقصان پہنچایا گیا ریلوے، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل مل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں، عدلیہ سے پنگے بازی اور فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے، حسین حقانی جیسے غدار کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا اور میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا، سیاست پوری طرح کاروبار کی شکل اختیار کر گئی مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بچہ بچہ واقف ہوا اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی اور زرداری صاحب کا مشہور زمانہ قول "جمہوریت بہترین انتقام ہے” واقعی ریاست اور عوام سے انتقام لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگلی حکومت "ن” لیگ کی آئی تو مسٹر ٹین پرسنٹ نے بظاہر اپنے حریف کے ہر مشکل وقت میں (اندر خانے) خوب یاری نبھائی۔ ہر بار میثاق جمہوریت کا راگ الاپا، وقتاً فوقتاً سندھ کارڈ بھی کھیلا۔ ایان علی، منی لانڈرنگ، فالودے اور سبزی والوں کے ناموں پر کروڑوں اربوں روپوں کی ٹرانزکشن سمیت سینکڑوں بے نامی اور فیک بینک اکاؤنٹ ظاہر ہونے کے بعد جب متعلقہ حکام نے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا تو یہی صاحب دھمکیاں دینے پر آ گئے۔ کبھی فوج اور عدالتوں کو بڑھکیں لگائی کہ "وہ تین سال کے لیے آتے ہیں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے” اور کبھی "میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا” جیسے جملے کسے۔ وفاقی احتساب کے ادارے نیب کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا! "چیرمین نیب کی کیا حیثیت ہے اسکی کیا مجال ہے جو میرے اوپر کیسس بنواۓ”
    پھر یوں گویا ہوئے کہ نیب کو میں تھکا دوں گا۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
    بار بار ضمانتیں ہوتی رہی اور آج جب ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تو پھر پوری دنیا نے زرداری کو بھیگی بلی بنا دیکھا۔ گرفتاری کی ویڈیو دیکھ کر بلاول کی ہنسی بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے۔ شائد اپنی والدہ کے قاتل پکڑے جانے کی خوشی ہو واللہ اعلم
    نواز شریف اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے اب زرداری صاحب بھی جیل روانہ ہو چکے ہیں جو شاید میاں صاحب کی تنہائی کے ساتھی بنیں گے۔ بار بار کمینی مسکراہٹ کے ساتھ گیارہ سال جیل میں گزارنے کو بطور فخریہ بتانے اور پھر اس بات پر اترانے والوں کے جیالوں کو سوچنا چاہئے کہ جیلوں سے عزت دار لوگ ڈرتے ہیں چوروں ڈاکوؤں کو اس کی عادت ہوتی ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اصل امتحان اب عوام کا بھی ہے کہ وہ ان چوروں ڈاکوؤں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہ بنیں۔ احتسابی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلا تفریق احتساب کا عمل اب رکنا نہیں چاہیے۔