Baaghi TV

Tag: احد چیمہ

  • ایچی سن کالج،گورنر پنجاب کا حکمنامہ،شہباز شریف کے قریبی احد چیمہ کے بیٹوں کی فیس معاف

    ایچی سن کالج،گورنر پنجاب کا حکمنامہ،شہباز شریف کے قریبی احد چیمہ کے بیٹوں کی فیس معاف

    ایچی سن کالج، قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دی گئیں، وزیراعظم کے قریبی دوست اور سابق وفاقی وزیر احد چیمہ کے بیٹوں کی فیس بورڈ آف گورنرکے اجلاس کے بغیر ہی معاف کر دی گئیں، گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ہدایت نامہ جاری کر دیا

    لاہور کے معروف تعلیمی ادارے ایچی سن کالج میں سیکنڈل سامنے آیاہے، وزیراعظم کا قریبی دوست ہونے کا فائدہ دوست کے بچوں کو بھی مل گیا، ایچی سن کالج میں وزیراعظم شہباز شریف کے انتہائی قریبی دوست،اور سابق وفاقی وزیر احد چیمہ کے بیٹوں کی فیسیں معاف کی گئی ہیں، باخبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس نہ ہوا اور نہ ہی بورڈ آف گورنر کے اراکین سے مشاورت کی گئی، گورنرپنجاب میاں بلیغ الرحمان جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات پر احد چیمہ کے بیٹوں کی فیسیں معاف کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، احد چیمہ کے بیٹوں عیسیٰ احد چیمہ اور مصطفیٰ احد چیمہ کے لئے فیس معافی کی حکم نامہ گورنر پنجاب نے جاری کیاہے

    بچوں کی فیس معافی کی درخواست احد چیمہ کی اہلیہ صائمہ نے دی تھی، صائمہ نے درخواست ایچی سن کالج کو دی ، درخواست پر غور کے لئے بورڈ آف گورنر کے کئی اجلاس ہوئے جس میں فیس معافی کی درخواست پر غور کیا گیا تا ہم کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا جس کے بعد گورنر پنجاب نے خود ایکشن لیا اور احد چیمہ کی اہلیہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے دو بیٹوں کی فیس معاف کر دی،گورنر پنجاب نے بورڈ آف گورنرز سے حتمی مشاورت کے بغیر نوٹس لیتے ہوئے اس خود فیصلہ لیا ،اگرچہ کالج کے پرنسپل اور بورڈ آف گورنر کے اراکین اس بات پر متفق نہیں تھے کہ بچوں کی فیس معاف کی جائے،

    ایچ سن کالج میں گورنر پنجاب کے اس فیصلے سے نہ صرف کالج کو نقصا ن ہو گا بلکہ ایک نیا پنڈورہ باکس کھلے گا کہ وزیراعظم کے قریبی دوست کے بچوں کی فیسیں معاف کر دی گئیں تو دوسرے بچے جو وہاں زیر تعلیم ہیں انکا کیا قصور ہے، باخبر ذرائع کے مطابق سالانہ 20 کے قریب فیس معافی کی درخواستیں کالج کو موصول ہوتی ہیں لیکن کسی طالب علم کی فیس معاف نہیں کی جاتی، اور جب وزیراعظم کے دوست احدچیمہ کے بیٹوں کی درخواست پر پرنسپل نے فیصلہ نہ کیا تو گورنر پنجاب نے تمام تر ضابطے بالائے طاق رکھ کر یک جنبش فیس معافی کا حکم نامہ جاری کر دیا.

    21 مارچ کو گورنر پنجاب سیکرٹریٹ سے ایک مراسلہ جاری ہوا ،غلام حسن سیکشن آفیسر یونیورسٹریز نے مراسلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ "عیسیٰ احد چیمہ اور مصطفیٰ احد چیمہ کے لیے فیس معاف” اس مراسلے میں گورنر پنجاب کی جانب سے احد چیمہ کے بچوں کے فیس معافی کی پوری کارگزاری لکھی گئی کہ احد چیمہ کے اہلیہ نے کہا کہ وہ ملازمت کی وجہ سے اسلام آباد منتقل ہو گئیں اور دو الگ الگ کالج میں فیس دینے کی استطاعت نہیں رکھتی اسلئے انکی فیس معاف کی جائے، انکی غیر حاضریوں کو چھٹیاں مانا جائے ، اس درخواست پر گورنر نے اپنا حکمنامہ سنایا.

    مراسلے میں کہا گیا کہ مجھے 21.03.2024 کو منظور شدہ آرڈر کی ایک کاپی کے ساتھ آگے بھیجنے کی ہدایت کی گئی،مسز صائمہ احد چیمہ،جو منسٹرز انکلیو اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں ،سیکشن آفیسر (UNIV-III) سیکشن آفیسر (یونیورسٹیز-III) گورنر سیکرٹریٹ پنجاب لاہورکی جانب سے مراسلہ میں کہا گیا کہ میری حیثیت میں صدر، بورڈ آف گورنرز، ایچی سن کالج، لاہور ، مورخہ 04.10.2022 (اس کے بعد 01.06.2023 کو یاد دہانی) اور مورخہ 17.08.2023 کو میرے سامنے دوپیشیاں ہوئیں، جس کے تحت عیسیٰ احد چیمہ (K4-20243) اور مصطفیٰ احد چیمہ (K2-220779) کی والدہ صائمہ احد چیمہ نے درخواست کی کہ پرنسپل، ایچی سن کالج لاہور، سیٹوں کی بکنگ اور غیر حاضری کی چھٹی کے بارے میں فیصلہ کریں۔ صائمہ نے درخواست کی کہ اس نے کالج کے پرنسپل سے بار بار خطوط اور ای میلز کے ذریعے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے اسے لاہور سے اسلام آباد منتقل ہونا پڑا۔ اس نے عرض کیا کہ محدود وسائل کے ساتھ ایک تنخواہ دار فرد ہونے کی وجہ سے وہ اپنے دو بیٹوں کی دو مختلف اسکولوں بشمول کالج میں ٹیوشن فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔اسلام آباد کے اسکول میں، جہاں اس کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گا۔

    صائمہ احد چیمہ کی درخواست پر 4 اکتوبر 2022 کو فیصلہ ہوا کہ غور کے لئے 11 اکتوبر 2022 کو اجلاس بلایا جائے، 11 اکتوبر کو اجلاس ہوا جس میں پرنسپل نے کہا کہ فیس معافی کے فیصلے سے کالج کی آمدنی کو نقصان ہو گا، بورڈ آف گورنر نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی، 14 اکتوبر 2022، کو کالج کے حکام نے عیسیٰ احد چیمہ کو مستقل طور پرنکالنے کا فیصلہ سنا دیاکیونکہ اسکی فیسوں کی ادائیگی نہیں کی گئی تھی۔ مذکورہ مسئلہ کو بورڈ آف گورنر کے سامنے رکھا گیا تھا۔اس کا اجلاس 01.12.2022 کو ہوا، اور مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث کے بعد، اراکین نے متفقہ طور پر اس سہولت کی توسیع کے خیال کی حمایت کی،چیئر نے انتظامی کمیٹی کو مشورہ دیا کہ وہ بورڈ آف گورنر کے فیصلے اور اصولی منظوری کو عملی جامہ پہنانے کے طریقہ کار کی سفارش کرے اور مجوزہ پالیسی بورڈ کو اس پر غور کے لیے پیش کرے۔اور اسی وجہ سے، انتظامی کمیٹی نے اس پر غور کیا۔ لیکن کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے میں ناکام رہا۔اور انتظامی کمیٹی نے اس معاملے کو دوبارہ اپنے اجلاس میں اٹھایا،13.02.2023 کو منعقدہ اجلاس میں لیکن ایک بار پھرکسی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا اور کہا گیا کہ اس معاملے کو بورڈ آف گورنر کے ذریعہ بحث اور مناسب فیصلہ کے لئے رکھا جائے، اور حقیقت یہ ہے کہ انتظامی کمیٹی،متعدد میٹنگز اور تفصیلی غور و خوض کے باوجود، تقریباً دو سال گزر جانے کے باوجود، کسی بھی معاملے پر اصولی فیصلہ کے لیے کوئی پالیسی اور طریقہ کار وضع کرنے میں ناکام رہی اور نمائندہ کو عبوری اشتہار فراہم کرنے کے لیے، میں نے، بورڈ آف گورنر کے صدر کی حیثیت سے، 09.06.2023 کو ایک حکم جاری کیا، جس کے تحت،کالج کے پرنسپل کو ہدایت کی گئی کہ وہ کوئی منفی اقدام نہ کریں، غیر حاضری / فیس کی مشروط چھٹی سے متعلق کسی بھی معاملے کے ساتھ آگے بڑھیں۔اس پالیسی کے بعد سے محترمہ صائمہ کے دو لڑکوں سمیت طلباءکو رعایت ملی، فیصٌہ ماضی میں اس طرح کے معاملات میں صائمہ کے لڑکوں سمیت کسی بھی کارروائی کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ،

    17.08.2023 کے خط کے ذریعے محترمہ صائمہ نے کہا کہ ان کے چھوٹے بیٹے یعنی مصطفی احد چیمہ (K2-220779) کو بھی کالج سے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے نکال دیا گیا۔ پنجاب ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ری کنسٹی ٹیوشن) ایکٹ، 2021 کے سیکشن 5 (3) کے تحت میرے دفتر میں حاصل اختیارات کی بنا پر، کالج کی پرنسپل کو ہدایت کی گئی، کہ 01.12.2023، کی مشروط چھٹی سے متعلق معاملے کا مکمل ریکارڈ پیش کریں،عیسیٰ احد چیمہ (K4-20243) اور مصطفیٰ احد چیمہ (K2-220779) کی غیر حاضری ، فیس میں رعایت اور واپسی کا بتائیں تاہم کالج کے پرنسپل نے مورخہ 04.12.2023 کے خط کے ذریعے انکار کر دیا۔

    بورڈ آف گورنر کے ایک نامور ممبر نے خط لکھا جس میں انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔کالج کے پرنسپل کی طرف سے اپنایا گیا انداز اور بورڈ آف گورنر کے صدر کے قانونی احکامات کی تعمیل سے انکار کیا گیا، وہ پرنسپل کی جانب سے قانون کو نظر انداز کرنے پر بھی سخت ناراض تھے۔ انہوں نے درخواست کی کہ بورڈ کا غیر معمولی اجلاس طلب کیا جائے۔اور یہ کہ معاملہ کوبورڈ آف گورنر کے سامنے غور و فکر کے لیے رکھا جائے۔ اسی مناسبت سے بورڈ آف گورنر کا ایک غیر معمولی اجلاس بلایا گیا۔16.02.2024 کو میرے دفتر میں اجلاس ہوا جس میں پرنسپل نے شرکت نہ کی،ایک کے علاوہ تمام بورڈ آف گورنر کے ممبران نےتشویش کا اظہار کیا۔بورڈ آف گورنر نے پرنسپل کے جواب پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد، اور آڈی الٹرم پارٹم کے اصول کے حوالے سے، فیصلہ کیا کہ بورڈ آف گورنر کے تین ارکان پر مشتمل ایک سماعت کمیٹی تشکیل دی جائے،
    سماعت کمیٹی نے بورڈ آف گورنر کی جانب سے، 26.02.2024 کو کالج کے پرنسپل کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کیا، اور ان کا موقف سنا اور ریکارڈ کیا۔ سماعت کی کارروائی کے منٹس ریکارڈ کیے گئے اور وہی میرے سامنے پیش کیے گئے۔ ان منٹس اور سماعت کی کارروائی کا ریکارڈ بورڈ آف گورنر کے سامنے پیش کرنے کے لیے، اس پر غور کرنے اور مناسب فیصلے کے لیے، ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

    05.03.2024 کو ہونے والی بورڈ آف گورنر میٹنگ کو میری مصروفیات کی وجہ سے بعد کی تاریخ کے لیے ملتوی کر دی گئی کیونکہ اسی دن پنجاب کی صوبائی کابینہ کے اراکین کی تقریب حلف برداری متوقع تھی،میرے دفتر کی طرف سے قانونی طور پر جاری کردہ ایک قانونی حکم پر پرنسپل کے جواب کی موزونیت اور قانونی حیثیت کے بارے میں، میں نے اپنے سامنے اس معاملے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے کہ میں نے پنجاب ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ری کنسٹی ٹیوشن) ایکٹ، 2021 کے سیکشن 5 (3) کے تحت نوٹس لیا ہے۔ ; اور معاملے کا ایک بار اور ہمیشہ کے لیے تعین کریں، جیسا کہ قانون نے فراہم کیا ہے۔ صائمہ کی سماعت کے لیے نوٹس 11.03.2022 کو جاری کیا گیا، کہ وہ 16 مارچ کو پیش ہوں، صائمہ احد چیمہ 16.03.2024 کو میرے سامنے پیش ہوئیں، اور انہوں نے اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سرکاری ملازم تھیں،جون 2022 میں لاہور سے اسلام آباد منتقل ہو گئیں اس کے دونوں بچےنابالغ تھے، وہ انہیں لاہور میں بغیر نگرانی کے نہیں چھوڑ سکتی تھیں، اور اس نے درخواست دی۔ان دونوں کے لیے نشستوں کی بکنگ اور غیر حاضری کی چھٹی کے لیے۔ تاہم، بعد میں کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ انکی غیر حاضری لگ چکی ہے،اسکے دونوں بیٹوں کو واپس لیا جائے گا تاہم اسے مکمل ٹیوشن فیس ادا کرنی پڑے گی۔ان کی غیر موجودگی کی مدت کے دوران صائمہ احد چیمہ نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم اور تنخواہ دار فرد، وہ دو جگہ ٹیوشن فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی ،صائمہ نے مزید بتایا کہ کالج سے ان کے بیٹوں کو نکالنے کے احکامات اس کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی اور من مانی طریقے سے منظور کیا گیا۔

    صائمہ احد چیمہ کی طرف سے کی گئی مختلف نمائندگیاں، سماعت کمیٹی کی رپورٹ، اورسیکشن 5 (3) کے تحت مجھے حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ صائمہ کو سنا،پنجاب ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ری کنسٹی ٹیوشن) ایکٹ 2021، بطور گورنرپنجاب ، بی او جی کے صدر، میں نے درج ذیل فیصلے کیے ہیں،والدین کی لاہور سے باہر منتقلی کے حالات مناسب ہونے کی ضرورت ہے۔مثالی طور پر کیس ٹو کیس کی بنیاد پر سمجھا جاتا ہے۔ اگر والدین ذاتی یا پیشہ ورانہ وابستگیوں کی وجہ سے، اسٹیشن سے باہر جانے پر مجبور ہیں تو انکے اسکول کے لیے ٹیوشن فیس جمع کرکے ان کو مالی نقصان پہنچتا ہے،جس میں ان کے بچے فی الحال شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ غیر حاضری کی چھٹی کے دوران 100% ٹیوشن فیس کی ادائیگی غیر منصفانہ معلوم ہوتی ہے۔بورڈ آف گورنر کو یہ اطلاع دی گئی کہ کالج کو مختلف طلباء کی طرف سے غیر حاضری کی چھٹی کے لیے سالانہ تقریباً 20 درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ ایک ایسے اسکول میں جس میں 3000 طلباء ہیں اتنی کم تعداد کو غیر حاضری کی چھٹی کی اجازت دیتا ہے، کالج اپنی میرٹ پالیسی کے مطابق کسی بھی طالب علم کو داخلہ دیتا ہے۔ ان طلباء کے والدین مختلف سماجی اور پیشہ ورانہ پس منظر سے آتے ہیں۔ اور اس طرح، تمام والدین کے پاس ایک ہی وقت میں دو اسکولوں کو فیس ادا کرنے کی مالی صلاحیت نہیں ہے، اگر وہ اپنے بچے کے لیے غیر حاضری کی چھٹی چاہتے ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے یہ جائز اور معقول ہے کہ اگر اسے شہر سے باہر جانا پڑے تو ٹیوشن فیس کی مکمل چھوٹ کا مطالبہ کریں۔ اگرچہ ایگزیکٹو کمیٹی کوئی پالیسی یا عملی پیش نہیں کر سکی
    غیر حاضری کی چھٹی کے دوران طلباء کو ٹیوشن فیس میں چھوٹ کیسے اور کتنی دی جائے، یہ ایک ریکارڈ کی بات ہے کہ بورڈ آف گورنر نے اتفاق رائے سے اور متفقہ طور پر ایسے طلباء کو فیس کی معافی کے تصور سے اتفاق کیا جنہیں عارضی طور پر مجبور ، ناگزیر حالات کے تحت کسی دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا ہے،اس لیے، پیش کردہ وجوہات اور بنیادوں کے پیش نظر، میں محترمہ صائمہ کی طرف سے غیر حاضری کی چھٹی دینے کے لیے دائر کردہ درخواستوں کو قبول کرتا ہوں۔عیسیٰ احد چیمہ (K4-20243) اور مصطفی احد چیمہ (K2-220779) کو مکمل فیس معافی کے ساتھ، تین سال کی مدت کے لیے، 18.08.2022 سے، یا جب وہ ایچی سن کالج، لاہور میں دوبارہ شامل ہوں،




    واضح رہے کہ احد چیمہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رہے ہیں، بعد ازاں نگران حکومت میں بھی انہیں عہدہ دیا گیا تھا تا ہم الیکشن کمیشن کے حکم پر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا احد چیمہ کے خلاف نیب میں بھی ریفرنس دائر ہوا تھا وہ گرفتار بھی رہے تا ہم عدالت نے انہیں نیب ریفرنس سے بری کر دیا تھا

  • نگران  وزیراعظم کے مشیر    احد چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    نگران وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    اسلام آباد:نگران وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ احد چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی نگران وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر احدچیمہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری صدرمملکت کو ارسال کی تھی۔
    https://x.com/PresOfPakistan/status/1739288283715195287?s=20
    ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری آئین کے آرٹیکل 48 ایک کے تحت نگران وزیراعظم کی ایڈوائس پر دی۔
    https://x.com/PresOfPakistan/status/1739288278740660490?s=20
    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے نگران وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانےکا حکم دیا تھاالیکشن کمیشن نے انہیں ہٹانے سے متعلق عملدرآمد رپورٹ مانگی تھی اور رپورٹ نہ ملنے پر نوٹس لیا تھا جس پر کل سماعت ہونی ہے۔

    دریں اثنا آج الیکشن کمیشن کے احکامات پر آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان اور ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے جس کے بعد وزیراعظم آفس نے نئے ڈی سی اور آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کےلیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے افسروں کے نام مانگ لیے ہیں ،وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی منظوری کے لیے افسران کا پینل تجویز کیا جائے۔

  • الیکشن کمیشن کا نگراں وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم

    الیکشن کمیشن کا نگراں وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم

    الیکشن کمیشن نے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن نے احد چیمہ کو فوری مشیر کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو حکم دیا ہے کہ احد چیمہ کو فوری مشیرکے عہدے الگ کردیاجائے احد چیمہ گزشتہ کابینہ کا حصہ رہے ہیں، اور وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں فواد حسن فواد سے متعلق 21 دسمبر کو مزید سماعت کی جائےگی۔

    ٹی 20 سیریز : نیوزی لینڈ کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی …

    انٹرا پارٹی انتخابات، آپ کے جواب کو سن کر جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، چیف …

  • احتساب عدالت نے احد چیمہ کو ریفرنس سے بری کر دیا

    احتساب عدالت نے احد چیمہ کو ریفرنس سے بری کر دیا

    احتساب عدالت لاہور،احتساب عدالت میں مشیر وزیراعظم احد چیمہ کے خلاف امدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے مشیر وزیراعظم احد چیمہ کو بری کر دیا،عدالت نے احد چیمہ کی بریت کی درخواست کو منظور کر لیا,عدالت نے گزشتہ سماعت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،احتساب عدالت کے جج ملک علی ذولقرنین اعوان نے فیصلہ سنایا،احد چیمہ کے وکلاء کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کی گئی تھی،نیب کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی

    عدالتی فیصلہ کے بعد عدالت سے باہر نکلتے ہوئے احد چیمہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج انصاف ملا آج بڑی خوشی کا دن ہے، جب یہ سب ہو رہا تھا تو سول سیکریٹریٹ افسران نے مجھ پر اعتماد کیا، چیئرمین نیب کی بات خوش آئند ہے جہاں غلطی ہو اس کو تسلیم کیا جائے، ادارے کے سربراہ کا کام ہے غلطی کو درست کیا جائے

    محنتی سرکاری افسران کو سیاسی بنیادوں پر جھوٹے مقدمات میں الجھا یا گیا،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم شہباز شریف نےاحد چیمہ کی بریت پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ احد چیمہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس سے بریت پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،چیمہ صاحب جیسے انتہائی قابل اور محنتی سرکاری افسران کو سیاسی بنیادوں پر جھوٹے مقدمات میں الجھا یا گیا، نہ صرف احد چیمہ، ان کی والدہ مرحومہ، اور بچوں کو نا قابل برداشت تکلیف پہنچائی گئی ،بیوروکریسی میں دل لگی سے کام کرنے والے افسران کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی، امید ہے کہ آج کے انصاف پر مبنی فیصلے سے ایک مثبت روایت دوبارہ سے قائم ہو گی،

    احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر نیب کی جمع کرائی گئی رپورٹ سامنے آ گئی،نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ احد چیمہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کانیب ریفرنس نہیں بنتا۔ احد چیمہ کے تمام اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں۔احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں نے اپنی ذاتی انکم سے پراپرٹیز بنائیں۔ احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں کی پراپرٹیز کو احد چیمہ سے لنک نہیں کیا جا سکتا۔ احد چیمہ کے رشتہ داروں سعدیہ منصور،منصور احمد اور نازیہ اشرف کے اکاونٹس احد چیمہ کے بے نامی اکاونٹس نہیں۔ری انوسٹی گیشن کے مطابق احد چیمہ کی کل آمدن 213 ملین اور اخراجات 131 ملین ہیں۔ احد چیمہ کے بنائے گئے اثاثے انکی آمدن کے مطابق ہی ہیں۔ری انوسٹی گیشن کے دوران احد چیمہ نے اپنی انکم اور منافع سے متعلق ریکارڈ نیب کو فراہم کیا۔

    احد چیمہ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریکارڈ کی تصدیق کی گئی، ریکارڈ درست ثابت ہوا۔ احد چیمہ کے اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں،نیب کیس نہیں بنتا۔

    احسن اقبال کے خلاف ریفرنس کب تک دائر کیا جائے؟ عدالت نے نیب کو بڑا حکم دے دیا

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

  • نیب نے احد چیمہ کو کلین چٹ دے دی

    نیب نے احد چیمہ کو کلین چٹ دے دی

    نیب نے وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں کلین چٹ دے دی۔

    احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر نیب کی جمع کرائی گئی رپورٹ سامنے آ گئی،نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ احد چیمہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کانیب ریفرنس نہیں بنتا۔ احد چیمہ کے تمام اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں۔احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں نے اپنی ذاتی انکم سے پراپرٹیز بنائیں۔ احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں کی پراپرٹیز کو احد چیمہ سے لنک نہیں کیا جا سکتا۔ احد چیمہ کے رشتہ داروں سعدیہ منصور،منصور احمد اور نازیہ اشرف کے اکاونٹس احد چیمہ کے بے نامی اکاونٹس نہیں۔ری انوسٹی گیشن کے مطابق احد چیمہ کی کل آمدن 213 ملین اور اخراجات 131 ملین ہیں۔ احد چیمہ کے بنائے گئے اثاثے انکی آمدن کے مطابق ہی ہیں۔ری انوسٹی گیشن کے دوران احد چیمہ نے اپنی انکم اور منافع سے متعلق ریکارڈ نیب کو فراہم کیا۔

    احد چیمہ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریکارڈ کی تصدیق کی گئی، ریکارڈ درست ثابت ہوا۔ احد چیمہ کے اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں،نیب کیس نہیں بنتا۔نیب نے احتساب عدالت سے احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی استدعا کردی

    احسن اقبال کے خلاف ریفرنس کب تک دائر کیا جائے؟ عدالت نے نیب کو بڑا حکم دے دیا

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

  • الیکشن کمیشن،نگراں حکومت میں جانبدار وزراء کیخلاف درخواست قابل سماعت قرار

    الیکشن کمیشن،نگراں حکومت میں جانبدار وزراء کیخلاف درخواست قابل سماعت قرار

    حکومت میں جانبدار وفاقی وزرا اور وزیراعظم کے سیکرٹریز کو عہدے سے ہٹانے کا کیس، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

    نگراں حکومت میں جانبدار وزراء کیخلاف درخواست قابل سماعت قرار دے دی گئی،الیکشن کمیشن نے فواد حسن فواد احد چیمہ توقیر شاہ کو ہٹانےکی درخواست کو قابل سماعت قرار دیدیا،الیکشن کمیشن نے تینوں کو نوٹس جاری کردیا گیا،الیکشن کمیشن نے فواد حسن فواد،احد چیمہ توقیر شاہ کو 26 اکتوبر کو طلب کرلیا.

    درخواست گزار نے نگران وفاقی وزیر فواد حسن فواد، مشیر احد چیمہ کو ہٹانے کی درخواست کی تھی۔درخواست میں استدعاء کی گئی ہے کہ وزیر اعظم کے سیکرٹری توقیر شاہ سابق وزیر اعظم کے سیکرٹری رہے، آرٹیکل 218 کے مطابق نگران سیٹ اپ غیر جانبدار ہونا چاہیے،الیکشن کمیشن نے درخواست پر 10 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیاتھا۔

    اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا بل 2020 قائمہ کمیٹی نے کیا مسترد

    سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق عملدرآمد کیس کی سماعت،عدالت کا بڑا حکم

    سپریم کورٹ میں فراڈ کرنیوالے نے چیف جسٹس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے، کیا کہا؟

    سپریم کورٹ نے قتل کے 80 سال کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری پر فیصلہ سنا دیا

  • تین سال ایک شخص کواندررکھا اوراب کہہ رہے کیس نہیں بنتا،سپریم کورٹ نیب پر برہم

    تین سال ایک شخص کواندررکھا اوراب کہہ رہے کیس نہیں بنتا،سپریم کورٹ نیب پر برہم

    سپریم کورٹ میں احد چیمہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت نیب کی جانب سے تحریری استدعا کی گئی، نیب نے موقف اختیار کیا کہ دوبارہ تحقیقات میں احد چیمہ کے خلاف نیب کا کیس نہیں بنتا ، سپریم کورٹ نیب پر برہم ہو گئی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین سال ایک شخص کو اندر رکھا اور اب کہہ رہے ہیں کیس نہیں بنتا ،نیب اپنا کنڈکٹ دیکھے نیب کو جرمانہ کیوں نہ کیا جائے ہائیکورٹ کا فیصلہ تفصیلی تھا پھر بھی سپریم میں درخواست دائر کی گئی ،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سالوں تحقیقات کرنے کے بعد کہتے ہیں کیس نہیں بنتا ،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کسی شخص کو تین سال اندر رکھنے کا کوئی مداوا ہو سکتا ہے؟

    جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا کیس نہیں ،پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر کیس واپس لیتے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اج اس کیس کو مثال بناتے ہوئے جرمانہ کیوں نہ کیا جائے ؟ٹرائل کورٹ میں نیب نے 24 بار التوا مانگا، جسٹس جمال خان نے کہا کہ نیب مقدمات سے بری ہونے والے ملزمان نیب کے خلاف مقدمہ کیوں نہ دائر کریں، جو پسندیدہ بن جاتا ہے اسکا کیس واپس لے لیا جاتا ہے، چیرمین نیب کے پاس اتنے لامحدود اختیارات کیسے ہیں ؟ احد چیمہ ابھی کہاں ہیں، پراسیکوٹر نیب نے عدالت میں کہا کہ ابھی احد چیمہ وزیر بنے چکے ،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو وہ بھی آپکے پسندیدہ ہو گئے ہوں گے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا احد چیمہ کے خلاف پہلی تحقیقات جانبدار تھیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب میں ترامیم کر کے ضمانت دی گئی جو اچھا ہے، نیب کسی کو فوری گرفتار نہیں کرسکتا

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    احد چیمہ کا حالیہ بیان سنا ؟ کیا آپکو معلوم ہے کہ نیب نے کتنا نقصان پہنچایا ہے؟ عدالت

    واضح رہے کہ نیب نے احد چیمہ کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہوا تھا، نیب ریفرنس کے مطابق احد چیمہ نے اندرون و بیرون ملک اربوں روپے کے ناجائز اثاثہ بنائے،احد چیمہ کے اثاثہ جات کی مارکیٹ اربوں روپے کے قریب ہے،احد چیمہ نے فیملی ممبران کے نام بے نامی جائیدادیں بنائیں، احد چیمہ کے اثاثہ جات کی مارکیٹ ویلیو600 ملین کے قریب ہے، احد چیمہ نے اہلیہ صائمہ احد، والدہ نصرت افزا، بھائی احمد سعود اور بہن سعدیہ منصور کے نام جائیدادیں بنائیں،

  • شریف برادران کے چہتے احد چیمہ بھی گئے ، نیب نے کامیابی کا اعلان کردیا

    شریف برادران کے چہتے احد چیمہ بھی گئے ، نیب نے کامیابی کا اعلان کردیا

    شریف برادران کے چہتے احد چیمہ بھی گئے ، نیب نے کامیابی کا اعلان کردیا ، ذرائع کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار سابق ڈی جی ایل ڈی اے ملزم احد خان چیمہ کیخلاف اربوں روپے مالیت کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹ فوری تحویل میں لینے کے احکامات جاری کر دیئے۔

    ذرائع کے مطابق نیب کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ کی لاہور کے مختلف موضع جات میں کروڑوں روپے مالیت کی سینکڑوں کنال اراضی کی تفصیلات متعلقہ ڈی سی آفس کو فراہم کر دی گئیں تاکہ کارروائی کا فوری آغاز کیا جا سکے۔

    تفصیلات کے مطابق بینک الفلاح ایمپلائیز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15-15 مرلہ کے 2 پلاٹ، گلبرگ ریذیڈینشیاء اسلام آباد میں قائم آئی بی ایمپلائیز کوآپریٹو سوسائٹی میں موجود 1 پلاٹ، ایف آئی اے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں موجود 2 پلاٹ، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی میں 4 پلاٹ، فیصل ریزیڈینشیاء اسلام آباد میں 3 پلاٹ فریز کی گئی جائیدادوں میں شامل ہیں۔ احد خان چیمہ کے نام سے ہل لاک ویو اسلام آباد میں موجود اپارٹمنٹ بھی فریز کر دیا گیا ہے۔