Baaghi TV

Tag: احساس

  • وزیراعلیٰ پنجاب سے  ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی ملاقات،احساس پروگرام کادائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی ملاقات،احساس پروگرام کادائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی سے پنجاب احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ملاقات کی،ملاقات میں پنجاب میں احساس پروگرام کادائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا.

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت فی خاندان ماہانہ سبسڈی میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت مستحق خاندان آٹا،گھی اور دالیں مارکیٹ سے 40فیصد سستی خرید سکیں گے، وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام کااجراء جلد کرنے کی ہدایت کی.

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیر انتظام چلنے والے فلاحی اداروں میں رہائش پذیر بچوں، بچیوں اور بزرگوں کیلئے کھانے کی فی کس رقم دوگنا کرنے کی منظوری بھی دے دی.

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ مہنگائی اور کھانے کے معیار و مقدار کو بہتر بنانے کیلئے فلاحی اداروں میں رہائش پذیر افراد کیلئے کھانے کی فی کس رقم میں اضافہ کیا ہے۔کھانے کی فی کس رقم میں اضافے سے ایسے افراد کو معیاری اور وافر کھانا مل سکے گا۔ احساس بل پنجاب اسمبلی میں جلد پیش کیاجائے گا۔

    جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے فلاحی منصوبے متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے.چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ پنجاب احساس پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب میں خواتین کیلئے ویلفیئر پراجیکٹس شروع کئے جائیں گے۔ Stunting سے بچاؤ کے لئے حاملہ خواتین کو وظائف دئیے جائیں گے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی سپیشل سرکاری ملازمین کے لئے نئی ہاؤسنگ پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کی.چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ سپیشل سرکاری ملازمین کے لئے ہاؤسنگ الاٹمنٹ پالیسی کے تحت5فیصد ہارڈ شپ کوٹہ مختص کیاجائے گا۔ سپیشل افراد کے لئے پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن میں کوٹہ متعارف کرایا جائے گا۔ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سپیشل افراد کو سبسڈی دینے کے لئے 50کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے۔

    ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پنجاب احساس پروگرام کے تحت مختلف ویلفیئر پراجیکٹس پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی ،چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے.

  • پنجاب میں احساس راشن رعایت پروگرام شروع کرنے کی منظوری

    پنجاب میں احساس راشن رعایت پروگرام شروع کرنے کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے پنجاب میں احساس راشن رعایت پروگرام شروع کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے کی بجائے 1500روپے دینے کا فیصلہ کیاہے اور احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو آٹا،دالیں اورگھی سستے داموں ملے گا۔

    شیریں مزاری کاامریکی حکام کےپاکستان کےحساس علاقوں کےدورے پرشکوہ،سوشل میڈیاصارفین کی تنقید

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام پر عملدر آمد کیلئے وزارتی سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔سٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر ہوں گی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ احساس راشن رعایت پروگرام کے حوالے سے ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا جائے گااوراحساس راشن رعایت پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے موثر مانیٹرنگ نظام تشکیل دیا جائے گا۔

     

    غلامی نامنظور اور سازش اپنی جگہ،عطیہ کیسے ٹھکراوں،یہ ہے عمران خان

     

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے احساس پروگراموں کے لئے احساس ایکٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی احساس ایکٹ کو اسمبلی سے منظورکرائیں گے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجاکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اورتمام پروگراموں کو یکجاکیاجائے۔

     

    ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

     

    انہوں نے کہا کہ احساس ہی انسانیت ہے- سماجی اورمعاشرتی تحفظ سے محروم افراد فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ احساس راشن رعایت پروگرام غربت کے خاتمے اورفلاحی ریاست کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس راشن رعایت پروگرام،احساس کارڈاوراحساس تحفظ پروگرام کے خدوخال کے بارے میں بریفنگ دی۔صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد،ڈاکٹر ثانیہ نشتر،مشیرعمر سرفراز چیمہ،رکن قومی اسمبلی مونس الہی،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر،چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات،ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122اورمتعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

  • احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے پہلےفیزمیں 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم

    احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے پہلےفیزمیں 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر نصیب اللہ بازئی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے بجٹ، صوبہ اور ضلع وار نقد رقوم کی تقسیم اور مستقبل کے پروگرام، سینیٹر مشتاق احمد خان کے پاکستان پوورٹی ایلیوی ایشن فنڈ(Pakistan Poverty Alleviation Fund) کی کارکردگی کے حوالے سے 12 نومبر 2021کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملے کے علاوہ رقیہ بی بی کی بسپ (BISP ) سے مالی امدادکی عدم فراہمی کے حوالے سے عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
    پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کے آغاز کا اعلان

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین و اراکین کمیٹی نے ورکنگ پیپر کی تاخیر سے فراہمی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ورکنگ پیپر رولز کے مطابق 48 گھنٹے پہلے فراہم کیے جائیں تاکہ اراکین کمیٹی ان کا جائزہ لے کر معاملات پر بحث کر سکیں۔

    قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری وزارت غربت میں کمی وسماجی تحفظ اور سیکرٹری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے بجٹ، صوبہ اور ضلع وار نقد رقوم کی تقسیم اور مستقبل کے پروگرام کے بارے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ ایمرجنسی کیش پروگرام کا پہلا مرحلہ اپریل سے ستمبر2020 کو منعقد ہوا تھا جس کیلئے 16.9 ملین مالی معاونت حاصل کرنے والے خاندانوں کی شناخت کی گئی تھی اور اس کیلئے 203 ارب روپے کابجٹ مختص کیا گیا تھا۔

     

    یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

     

    ایک خاندان کو 12 ہزار روپے ایمرجنسی کیش امداد فراہم کرنی تھی۔ اس پروگرام کے تحت 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔نادرا سے بائیومیٹرک تصدیق کے بعد لوگوں کو امداد فراہم کی گئی اور اس کیلئے سرکاری عمارتوں میں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے امدادی کارروائی عمل میں لائی گئی۔امداد کیلئے دو بینکوں سے مدد حاصل کی گئی اور پوائنٹ آف سیل پر بائیو میٹرک کی ڈوائس بھی فراہم کی گئی تاکہ لو گ آسانی سے امداد حاصل کر سکیں۔

     

    ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ

     

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ افراد جن کے فنگر پرنٹس کے مسائل تھے انہیں بینکوں سے امداد فراہم کی گئی۔ایمرجنسی کیش پروگرام فیز II- کے تحت 4 ملین لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا جس کیلئے 48 ارب روپے مختص کیے گئے۔فیز II- کے تحت31.75 ارب روپے 2.53 ملین خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔اس کا طریقہ کار بھی فیزI- کی طرح تھا اور پی ایم ٹی سکور 29.01 سے37 والوں کو اہل قرار دیا گیا تھا۔ یہ پروگرام اپریل 2022 میں ختم کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کرونا وباکی وجہ سے لوگوں کو بے شمار روزگار کے مسائل تھے مارکیٹیں بند کر دی گئی تھیں جس کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت انتہائی خراب ہو گئی تھی۔

    حکومت کے احسن اقدام کی وجہ سے بے شمار لوگوں کو ریلیف ملا۔اراکین کمیٹی نے ایجنٹوں کے ذریعے خواتین کو پورے پیسے نہ ملنے کے معاملات بھی اٹھائے جس پر سیکرٹری بسپ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پولیس اور ایف آئی اے کے ساتھ مل کر کارروائی عمل میں لائی گئی اور لوگوں کو پیسے بھی واپس دلوائے۔ انہوں نے کہاکہ امداد کا کام پوسٹ آفس سے شروع ہوا تھا وہاں سے بھی یہ شکایات ملی تھیں پھر ٹیکنالوجی کی طرف گئے اور اب بائیومیٹرک پر آ گئے ہیں اس میں مسائل کی وجہ سے اب ایک نئے میکنزم کی طرف جا رہے ہیں جس سے لوگوں کو بغیر مسائل کے آسانی سے امداد میسر ہو سکے گئی۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ لوگ جو سروے میں شامل نہیں ہو سکے وہ نادرا میں قائم دفاتر میں اپنی رجسٹریشن کرائی شامل کر لئے جائیں گے۔سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس راشن رعائت پروگرام کیلئے دن رات محنت کر کے 12 ملین غریب ترین لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا تھا جن کو کریانہ اور فیول کیلئے بھی سبسڈی فراہم کی جا سکتی تھی۔ اس پروگرام کا ڈیٹا مرتب کرنے کیلئے دن رات میٹنگز کر کے سروے مکمل کرایا تھا اس کی پیش رفت بارے آگاہ کریں جس پر کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس پروگرام کے تحت صوبہ پنجاب اور کے پی کے میں کام ہوا تھا مگرصوبہ خیبر پختونخوا نے پروگرام کے نام کی وجہ سے اس کو واپس لے لیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سرانجام دینے چاہیں اور اس ایسے معاملات کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی یکساں پالیسی اور موقف ہونا چاہیے یہ غریب خاندانوں کی مالی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے متعلق ہے۔ہم سب کو مل کر اس پر کام کرنا چاہیے۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے جو کام کیے تھے وہ لائق تحسین ہیں اس معاملے کو ایوان بالاء کے اجلاس میں اٹھایا جائے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر نصیب اللہ بازئی چیئرمین سینیٹ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائیں اور ان سے اجازت لے کر صوبائی حکومت اور متعلقہ وزیرکے ساتھ مشاورت کر کے معاملے کو آگے بڑھائیں۔چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ یہ معاملہ غریب عوام سے متعلق ہے اور ملک میں جس قدر مہنگائی ہو چکی ہے غریب عوام کے مسائل سن کر خوف طاری ہو جاتا ہے لوگوں کو ریلیف فراہم کر کے ان کی زندگیاں آسان بنائی جائیں۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان کے ایجنڈے کے حوالے سے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ چونکہ ورکنگ پیپر آج صبح ملے ہیں انہیں پڑھ نہیں سکا تو معاملے پر بات نہیں ہو سکتی بہتر یہی ہے کہ آئندہ اجلاس تک یہ ایجنڈا موخر کیا جائے اور ورکنگ پیپر کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    رقیہ بی بی کی عوامی عرضداشت کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیاکہ کہ انہیں امداد فراہم کی گئی مگر آخری سروے کے مطابق ان کا پی ایم ٹی سکور 42.51 ہے جس کے تحت رقیہ کو اگلی مالی امداد نہیں دی گئی البتہ وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت انہیں 7 ہزار روپے کی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہاکہ یونیورسٹیوں میں طلبہ کو وظائف کیلئے امداد کی تقسیم کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ فراہم کی جائے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سیمی ایزدی، کیشو بائی، مولوی فیض محمد، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، مشتاق احمد خان کے علاوہ سیکرٹری وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تخفیف غربت وسماجی تحفظ،سیکرٹری بسپ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

    احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

    لاہور:احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کے مقالے کی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد جو کہ ماس کمونیکیشن کے طالب علم انہوں نے احساس پروگرام کی افادیت کے حوالےسے کچھ چیزیں بیان کی ہیں ، ان کا کہنا ہےکہ جوحقائق اس وقت احساس پروگرام کی افادیت کو ثابت کرنےکےلیے پیش کیے جارہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ،ان کا کہنا تھا کہ فیس بک کے ایک صارف کی طرف سے جواس قسم کے حقائق پیش کیے گئے ان میں غلط بیانی کی گئی ہے

    احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ لوگوں کومستفید کریں گے، ثانیہ نشتر

    رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ جیسا کہ پہلے دعوی کیا گیا تھا کہ یہ حقائق پرمبنی رپورٹ ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ مصنفین نے غربت کے خاتمے میں خان کی پالیسیوں کی تعریف کی، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ جیسا کہ فیس بک صارف جواد ملک نے لکھا، "مطالعہ اسٹینفورڈ کا اپنا نہیں ہے،یہ کہ ایک غیرملکی مصنف، ڈیلیوری ایسوسی ایٹس، کی طرف سے حقائق پیش کیئے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود احساس پروگرام کے حوالے سے ایک متعلقہ عنصرہے

    وزیراعظم کے احساس پروگرام کو دنیا بھر میں سراہا گیا یے،بلال غفار

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی اپنی تازہ ترین تقریر میں اسٹینفورڈ کی تحقیق کا حوالہ دیا، جب کہ اسے فیس بک صارف کے دعوے کے مطابق شائع بھی نہیں کیا گیا۔

     

    رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسری جانب یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے احساس پروگرام کو بل گیٹس جیسے بہت سے لوگوں نے سراہا اور پاکستان میں غربت کے بڑے مسائل کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اس پروگرام کی افادیت کو تسلیم کیا

    *وزیر اعظم کا احساس پروگرام بنا امید سحر*

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں ملک سے غربت کے خاتمے اور غریب کو معاشی طور پر سہارا دینے کیلئے متعارف کروائے گئے "احساس پروگرام” کے حوالے سے دنیا مثالیں دینا شروع ہوگئی ہے۔

    امریکہ کی عالمی شہریت یافتہ یونیورسٹی "سٹینفورڈ”نے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں دنیا کواحساس پروگرام کی مثال دے کر کہا گیا ہے کہ دنیا اس پروگرام سے غربت کے خاتمے کا طریقہ کار سیکھ سکتی ہے۔

    مقالہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے کمزور ترین طبقے کو اوپر لانے کیلئے احساس پروگرام دنیا کا ایک بہترین پروگرام بن کر سامنے آیا ہے۔

    سٹینفورڈ یونیورسٹی نے حکومت پاکستان کی جانب سے 2018 کے بعد کورونا بحران کےدنوں میں متعارف کروائے گئے احساس پروگرام کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ مقالہ شائع کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے کے ایک جامع اور مربوط ہدف میں معاشی طور پر کمزور پاکستانیوں کو مدد کا نظام متعارف کروایا گیا، جس میں غیر مشروط نقد رقم کی منتقلی، ٹارگٹڈ سبسڈی، اور صحت اور غذائیت کی کوریج میں اضافہ شامل ہے۔

    سٹینفورڈ یونیورسٹی کے مقالے میں کہا گیا ہے ہم دنیا بھر کے ممالک میں متعارف کروائی گئی پالیسیوں اور پرواگرامز کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں سے بہترین اصلاحات کو عالمی پالیسی سازوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، ہم جن اصلاحات کو چنتے ہیں ان میں خاص طور پر اچھی قیادت، مضبوط اداروں کی تعمیر، ٹیکنالوجی کے موثراستعمال، انسداد غربت کیلئے مربوط نظام جیسے پروگرامز شامل ہیں۔

    مقالے میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام پر تجزیے کے دوران ثابت ہوا ہے کہ اس پروگرام کی کامیابی نے شفافیت، شفافیت ،استفادہ کنندگان اور پروگرام کے منتظمین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 2018میں ملک کے کمزور ترین طبقے کو معاشی طورپر مستحکم کرنے کیلئے "احساس پروگرام” متعارف کروایا تھا جس کے ذریعے ایک منظم نظام کے ذریعے لوگوں کی نقد رقم، تین وقت کے کھانے، رہائش کیلئے پناہ گاہوں اورٹارگٹڈ سبسڈی جیسے اقدامات سے مدد کی گئی۔

  • احساس راشن رعایت:کس کس کوہوگا فائدہ یہ بھی اعلان کردیاگیا

    احساس راشن رعایت:کس کس کوہوگا فائدہ یہ بھی اعلان کردیاگیا

    اسلام آباد: احساس راشن رعایت:کس کس کوہوگا فائدہ یہ بھی اعلان کردیاگیا،اطلاعات کے مطابق حکومت نے احساس راشن رعایت میں کریانہ مالکان کے لیے 8 فی صد کمیشن کی منظوری دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور عمر ایوب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایک نکاتی ایجنڈے پر ہی غور کیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں احساس راشن رعایت میں کریانہ مالکان کے لیے 8 فی صد کمیشن کی منظوری دی گئی ہے، کریانہ مالکان کو ہر سیل پر سبسڈی رقم کے ساتھ 8 فی صد کمیشن بھی دیا جائے گا۔

    وزیر اعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے بتایا کہ خصوصی راشن کمیشن کا مقصد کریانہ مالکان کی حوصلہ افزائی ہے، اس پروگرام پر عمل درآمد نیشنل بینک کے اشتراک سے ہو رہا ہے، کریانہ مالکان کوفی سہ ماہی بذریعہ قرعہ اندازی انعامات دیے جائیں گے۔ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ انعامات میں گاڑیاں، موٹر سائیکلز، موبائل فونز اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

    انھوں نے بتایا کریانہ مالکان کی رجسٹریشن بذریعہ ویب پورٹل جاری ہے، چھوٹے بڑے سب کریانہ مالکان اس پروگرام میں رجسٹر ہو سکتے ہیں، پروگرام میں شمولیت کے لیے کریانہ مالکان کا بینک اکاؤنٹ اور اینڈرائڈ فون ضروری ہے۔

    معاون خصوصی نے کہا کہ نیشنل بینک کی شاخوں میں کریانہ مالکان کے اکاؤنٹ کھولے جا رہے ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کریانہ مالکان نے دھڑا دھڑ اپنے اکاونٹ نیشنل بینک میں‌ کھولنے کے لیے اپلائی کرلیا ہے اوربہت بڑی تعداد اس کھیل میں‌شامل ہوجائے گی

  • احساس میں بے احساس ٹولہ گرفتار

    احساس میں بے احساس ٹولہ گرفتار

    قصور
    احساس پروگرام کی رقم خواتین سے ہتھیانے والے دو مزید ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا
    تفصیلات کے مطابق احساس پروگرام مرکز گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز میں موجود دو ریٹیلرز سلیم اور تنویر نے خاتون کے اکاؤنٹ کی کل رقم بقایا جات سمیت مبلغ 21 ہزار بائیو میٹرک مشین کے ذریعے نکال لی اور 12 ہزار خاتون کے حوالے کئے اور 9 ہزار روپے دھوکہ دہی سے ہتھیا لیے جس پر ایس ایچ او اے ڈویژن وحید عارف نے دونوں ملزمان کے قبضہ سے خاتون کی رقم 9 ہزار روپے برآمد کر کے متاثرہ خاتون کے حوالے کر دی جبکہ دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا ہے یاد رہے قصور پولیس نے گزشتہ چار روز کے دوران ضلع بھر میں احساس پروگرام مراکز پر دھوکہ دہی کرنے والے 16 ملزمان کو حراست لیکر مقدمات درج کیے گئے ہیں.