Baaghi TV

Tag: احمد الشرع

  • شام کے عبوری لیڈر  احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    شام کے عبوری لیڈر احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    دمشق: بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹنے والی فورسز کے سربراہ اور ملک کے عبوری رہنما احمد الشرع کا کہنا ہے کہ شام میں انتخابات کے انعقاد میں 4 سال لگ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد الشرع کا کہنا تھا شام میں آئین کی تیاری میں 3 سال تک لگ سکتے ہیں اور انتخابات کے انعقاد میں 4 سال لگ سکتے ہیں قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا اعلان کریں گے،شام کے روس کے ساتھ اسٹریٹجک مفادات ہیں، ہم نہیں چاہتے روس شام سے تعلقات کو غیر موزوں طریقے سے چھوڑ دے شام کی وزارت دفاع کرد فورسز کو اپنی صفوں میں ضم کرے گی، امید ہے ٹرمپ انتظامیہ شام پر سے پابندیاں اٹھا لے گی۔

    دوسری جانب شامی انٹیلی جنس سروس کے نئے سربراہ انس خطاب نے اپنے عہدے پر تعیناتی کے بعد اپنے پہلے بیان میں اعلان کیا ہے کہ تمام شاخوں کو تحلیل کرنے کے بعد سکیورٹی ادارے کو دوبارہ تشکیل دیا جائے گا شامی عوام پچھلی حکومت کی ناانصافی اور ظلم کا شکار ہو چکے ہیں۔

    شام کے عبوری لیڈر احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    شام کے اخبار "الوطن” نے ان کے پہلے کے بیانات کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تمام فرقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے ہمارے قابل فخر لوگ سابق حکومت کی ناانصافیوں اور ظلم و ستم سے بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔ سابق حکومت کی مختلف سکیورٹی سروسز نے زمین پر تباہی مچا دی تھی اور انہوں نے لوگوں کو مختلف سانحات سے گزارا تھا۔

    شامی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس حوالے سے صرف اللہ ہی کا شکر ہے کہ شام کا بابرکت انقلاب 13 سال کی قربانیوں کے بعد فتح یاب ہوگیا۔ اس دوران شام کے سپوتوں نے لگن، صبر اور استقامت کا نمونہ پیش کیا۔

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟
    گزشتہ منگل کو نئی حکومت کے ایک اجلاس کے دوران ایک معاہدہ طے پا گیا تھا جس میں تمام دھڑوں کو تحلیل کرنے اور انہیں وزارت دفاع کی چھتری میں ضم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا انتظامیہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ قدم عسکری ادارے کی تنظیم نو اور ملک میں فوجی اور سیکورٹی فیصلہ سازی کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے فریم ورک کے تحت آتا ہے

    واضح رہے کہ شام میں اپوزیشن فورسز نے چند روز کے بعد ملک کے بڑے شہروں پر قبضہ کرتے ہوئے سابق صدر بشار الاسد کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا، بشار الاسد اپنی فیملی کے ساتھ روس فرار ہو گئے تھے جہاں انہوں نے سیاسی پناہ لے لی ہے۔

    عطاء اللہ تارڑ نے کے پی حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کردیا

  • مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا،احمد الشرع

    مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا،احمد الشرع

    دمشق:شام کے نئے رہنما احمد الشرع نے کہا ہے کہ مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: شام میں جنرل کمان نے اعلان کیا کہ احمد الشرع نے فوجی گروپوں سے ملاقات کی اور عسکری ادارے کی شکل کے بارے میں بات چیت کی ہے، ان دھڑوں کو وزارت دفاع کے زیر انتظام نئی فوج کے ایک ادارے میں ضم کر دیا جائے گا۔

    قبل ازیں احمد الشرع نے کہا تھا کہ تمام دھڑوں کو تحلیل کر دیا جائے گا اور شامی ریاست کے سوا کسی کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں ہوگا اور شام میں اب جبری بھرتی نہیں ہو گی، انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ شام میں تنخواہوں میں 400 فیصد اضافہ کرنے کے لیے کام کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

    "العربیہ” کے مطابق احمد الشرع نے زور دیا تھا کہ شام افغانستان میں تبدیل نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا ملک جنگ سے تھک چکا ہے اور شام سے اس کے پڑوسیوں یا مغرب کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے انہوں نے دمشق پر سے تمام امریکی اور یورپی پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا تھا تاکہ شام دوبارہ اٹھ سکے۔

    انہوں نے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ کی درجہ بندی کے مطابق ’’ھیئہ تحریر الشام‘‘ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے احمد الشرع نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کے کسی بھی جز کو خارج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں کے اتحاد پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ 27 نومبر کو شام میں مسلح گروپوں نے اپنی کارروائیاں شروع کی تھیں اور پھر 8دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت کو الٹ دیا تھا۔